کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

تُلا دَان

راجندر سنگھ بیدی


دھوبی کے گھر کہیں گورا چٹا چھوکرا پیدا ہو جائے تواس کا نام بابو رکھ دیتے ہیں۔ سادھورام کے گھر بابو نے جنم لیا اور یہ صرف بابو کی شکل و صورت پر ہی موقوف نہیں تھا، جب وہ بڑا ہوا تو اس کی تمام عادتیں بابوؤں جیسی تھیں۔ ماں کو حقارت سے’’اے یو‘‘ اور باپ کو ’’چل بے‘‘ کہنا اُس نے نہ جانے کہاں سے سیکھ لیا تھا۔ وہ اُس کی رعونت سے بھری ہوئی آواز، پھونک پھونک کر پانو رکھنا، جوتوں سمیت چوکے میں چلے جانا، دودھ کے ساتھ بالائی نہ کھانا، سبھی صفات بابوؤں والی ہی تو تھیں۔ جب وہ تحکمانہ انداز سے بولتا اور چل بے کہتا۔ تو سادھورام’’خی خیبالکل بابو، کہہ کر اپنے زرد دانت نکال دیتا اور پھر خاموش ہو جاتا۔ بابو جب سکھ نندن، امرت اور دوسرے امیر زادوں میں کھیلتا تو کسی کو معلوم نہ ہوتا کہ یہ اُس مالا کا منکا نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایشور نے سب جیو جنتو کو ننگا کر کے اس دنیا بھیج دیا ہے۔ کوئی بولی ٹھولی نہیں دی۔ یہ نادار لکھ پتی ، مہا براہمن، بھنوٹ، ہریجن، لنگوا فرنیکا سب کچھ بعد میں لوگوں نے خود ہی ایجاد کیا ہے۔ بدھئی کے پُردا میں سکھ نندن کے ماں باپ کھاتے پیتے آدمی تھے اور سادھورام اور دوسرے آدمی انھیں کھاتے پیتے دیکھنے والے … سکھ نندن کا جنم دن آیا تو پُردا کے بڑے بڑے نیتا گگن دیو بھنڈاری، ڈال چند، گنپت مہا براہمن وغیرہ کھانے پر مدعو کیے گئے۔ ڈال چند اور گنپت مہا براہمن دونوں موٹے آدمی تھے اور قریب قریب ہر ایک دعوت میں دیکھے جاتے تھے۔ اُن کی اُبھری ہوئی توند کے نیچے پتلی سی دھوتی میں لنگوٹ، بھاری بھرکم جسم پر ہلکا سا جنیؤ، لمبی چوٹی، چندن کا ٹیکا دیکھ کر بابو جلتا تھا، اور بھلا یہ بھی کوئی جلنے کی بات تھی۔ شاید ایک ننّھا سا نازک بدن بابو بننے کے بعد انسان ایک بد زیب بے ڈول سا پنڈت بننا چاہتا ہے… اور پنڈت بننے کے بعد ایک پست ضمیر گناہ گار انسان اور اچھوت… ڈال چند اور گنپت مہا براہمن کے چلن کے متعلق بہت سی باتیں مشہور تھیں ۔ یہ انسانی فطرت کی نیرنگی ہر جگہ کرشمے دکھاتی ہے۔ بابو نے دیکھا،جہاں بھنڈاری اور مہا براہمن ، بھنوٹ آئے ہوئے تھے، وہاں عمداں مراثن، ہرکھُو ، جڑئی دادا کارندے اور دو تین جھوٹی پتّلیں اور دونے اٹھانے والے جھیور بھی دکھائی دے رہے تھے۔ جب دس پندرہ آدمی کھانے سے فارغ ہو جاتے تو جھیور پتّلوں اور دونوں سے بچی کھچی چیزیں ایک جگہ اکٹھی کرتے۔ جمعدارنی صحن میں ایک جگہ چادر کا ایک پلّو بچھائے بیٹھی تھی۔ وہ سب بچی کھچی چیزیں، حلوہ، دال، توڑے ہوئے لقمے، پکوڑیاں، ملے ہوئے آلو مٹر اور چاول اُس بچھی ہوئی چادر یا ایلومینیم کے ایک بڑے سے زنگ آلودہ تسلّے میں ڈال دیتے۔ اُس کے سامنے سب چیزیں کھچڑی دیکھ کر بابو نہ رہ سکا۔ بولا۔ ’’جمعدارنی… کیسے کھاؤ گی یہ سب چیزیں؟‘‘ جمعدارنی ہنس پڑی، ناک سکیڑتی ہوئی بولی۔ ’’جیسے تم روٹی کھاتے ہو۔‘‘ اس عجیب اور سادہ سے جواب سے بابو کی رعونت کو ٹھیس لگی۔ بولا ’’کتنی ناسمجھ ہو تم … اتنی سی بات نہ سمجھیں۔ تبھی تو تم لوگ جوتوں میں بیٹھنے کے لائق ہو۔‘‘ ح لال خوری کی اکڑ زبان زد عوام ہے۔ ماتھے پر تیور چڑھاتے ہوئے جمعدارنی بولی۔ ’’اور تم تو عرش پر بیٹھنے کے لائق ہوہے نا؟‘‘ ’’یوں ہی خفا ہو گئیں تم تو‘‘ ۔ بابو بولا ۔’’میرا مطلب تھا۔ سالن میں حلوہ، پکوڑیوں میں آلومٹر، پلاؤ میں فرنی، یہ تمام چیزیں کھچڑی نہیں بن گئیں کیا؟‘‘ جمعدارنی نے کوئی جواب نہ دیا۔ بھنڈاری اور مہا براہمن کو اچھی جگہ پر بٹھایا گیا۔ وہ سادھوؤں کی سی رودرکش کی مالا گلے میں ڈالے کنکھیوں سے بار بار عمداں اور جمعدارنی کی طرف دیکھتے رہے۔ عمداں، جمعدارنی کے قریب ہی بیٹھی تھی۔ ہرکھُو، جڑئی، دادا دھوپ میں بیٹھے ہوئے کھاتے پیتے آدمیوں کا منھ دیکھ رہے تھے۔ کب وہ سب کھاچکیں تو اُنھیں بھی کچھ میسّر ہو۔ بابو نے دیکھا، عمداں کے قریب ہی ایندھن کی اوٹ میں اُس کی اپنی ماں بیٹھی تھی۔ اس کے قریب برتن مانجھنے کے لیے راکھ اور نیم سوختہ اوپلے پڑے تھے اور راکھ سے اس کا لہنگا خراب ہو رہا تھا۔ قمیص بھی خراب ہو رہی تھی۔ خیر! قمیص کی تو کوئی بات نہ تھی۔ وہ تو کسی کی تھی اور دھلنے کے لیے آئی تھی۔ ایک دفعہ دھوکر بابو کی ماں نے پہن لی، تو کچھ بگڑ نہیں گیا۔ پرماتما بھلا کرے بادلوں کا کہ ان ہی کی مہربانی سے ایسا موقع میسّر ہوا۔ جب اپنے دوست سکھی نندن کو ملنے کے لیے بابو نے آگے بڑھنا چاہا تو ایک شخص نے اُسے چپت دکھا کر وہیں روک دیا۔ اور کہا ۔ ’’خبردار! دھوبی کے بچے … دیکھتا نہیں کدھر جا رہا ہے۔‘‘ بابو تھم گیا۔ سوچنے لگا ۔ کہ اُس کے ساتھ لڑے یا نہ لڑے۔ جھیور کا تنومند جسم دیکھ کر دب گیا اور یوں بھی وہ ابھی بچہ تھا۔ بھلا اتنے بڑے آدمی کا کیا مقابلہ کرے گا۔ اُس نے ایک اُداس اچٹتی ہوئی نظر سے اچھی جگہ بیٹھ کر کھانے والوں اور نیم سوختہ اوپلوں کی راکھ اور جوتوں میں پڑے ہوئے انسانوں کو دیکھا۔ اور دل میں کہا، اگرچہ سب ننگے پیدا ہوئے ہیں، مگر ایک کارندے اور براہمن میں کتنا فرق ہے۔ پھر دل میں کہنے لگا۔ سکھ نندن اور بابو میں کتنا فرق ہے، اور ہلکی سی ایک ٹیس اُس کے کلیجہ میں اُٹھی۔ حقیقت تو بابو کے سامنے تھی۔ مگر اتنی مکروہ شکل میں کہ وہ خود اُسے دیکھنے سے گھبراتا تھا۔ بابو دل ہی دل میں کہنے لگا۔ ہم لوگوں کے وجود ہی سے تو یہ لوگ جیتے ہیں۔ دن کی طرح اُجلے اُجلے کپڑے پہنتے ہیں …‘‘ دراصل بابو کو بھوک لگ رہی تھی۔ وہی پکوڑیوں، حلوہ مانڈے کے خیال میں۔ مکروہ حقیقت تو کیا وہ اپنے وجود سے بھی بے نیاز ہو گیا۔ گرم گرم پوریوں کی صبر آزما خوشبو اس کے دماغ میں بسی جا رہی تھی۔ اچانک اُس کی نظر عمداں پر پڑی۔ عمداں کی نظر بھی ٹوکری میں گھی میں بسی ہوئی پوریوں کے ساتھ ساتھ جاتی تھی۔ جب سکھ نندن کی ماں قریب سے گزری تو اُس کو متوجہ کرنے کے لیے عمداں بولی۔ ’’ججمانی … ذرا حلوائی کو ڈانٹو تو … اے دیکھتیں نہیں۔ کتنا گھی بہہ رہا ہے جمین (زمین)پر۔‘‘ ججمانی کڑک کر بولی۔ ’’ارے او کشنو … حلوائی کو کہنا۔ ذرا پوریاں کڑاہی میں دبائے رکھے۔‘‘ بابو ہنسنے لگا۔ عمداں کچھ شرمندہ سی ہو گئی۔ بابو جانتا تھا کہ عمداں وہ سب باتیں محض اس وجہ سے کہہ رہی ہے کہ اُس کا اپنا جی پوریاں کھانے کو بہت چاہتا ہے۔ گو ججمانی کی توجہ کو کھینچنے والے فقرے سے اُس کی خواہش کا پتہ نہیں چلتا۔ وہ متعجب تھا اور سوچ رہا تھا کہ جس طرح اُس نے عمداں کے اُن غیر متعلق لفظوں میں چھپے ہوئے اصلی مطلب کو پالیا ہے، کیا ایسا بھی ممکن ہے کہ اُس کی خاموشی میں کوئی اُس کی بات کو پالے۔ آخر خاموشی گفتگو سے زیادہ معنی خیز ہوتی ہے۔ اُس وقت سکھ نندن تُل رہا تھا۔ خوبصورت ترازو کے ایک پلڑے میں چاروں طرف دیکھ مسکراتا جا رہا تھا۔ دوسری طرف گندم کا انبار لگا تھا۔ گندم کے علاوہ چاول باسمتی، چنے، اُڑد، موٹے ماش اور دوسری اس قسم کی اجناس بھی موجود تھیں۔ سکھ نندن کو تول تول کر لوگوں میں اجناس بانٹی جا رہی تھیں۔ بابو کی ماں نے بھی پلّو بچھایا۔ اُسے گندم کی دھڑی مل گئی۔ وہ سکھ نندن کی درازیِ عمر کی دعائیں مانگتی ہوئی اُٹھ بیٹھی۔ بابو نے نفرت سے اپنی ماں کی طرف دیکھا ۔گویا کہہ رہا ہو، چھی! تمھیں کپڑوں کی دھلائی پر قناعت ہی نہیں، تبھی تو ہر ایک کی میل نکالنے کا کام ایشور نے تمھارے سپرد کر دیا ہے، اور تم بھی جمعدارنی کی طرح جوتوں میں بیٹھنے کے لائق ہو۔ تمھاری کوکھ سے پیدا ہو جانے والے بابو کو چلچلاتی دھوپ میں کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ آگے بڑھنے پر لوگ اُسے چپت دکھاتے ہیں۔ ہائے! تیری یہ پھٹی ہوئی، بے قناعت آنکھیں، گندم سے نہیں قبر کی مٹی سے پُر ہوں گی۔ قریب سے ماں گزری تو بابو بولا۔ ’’اے بُو!‘‘ پھر سوچنے لگا۔ رام جانے میرا جنم دن کیوں نہیں آتا۔ میری ماں مجھے کبھی نہیں تولتی۔ جب سُکھ نندن کو اُس کے جنم دن کے موقع پر تول کر اجناس کا دان کیا جاتا ہے، تو اُس کی سبھی مصیبتیں ٹل جاتی ہیں۔ اُسے سردی میں برف سے زیادہ ٹھنڈے پانی اور گرمیوں میں بھیجا جلا دینے والی دھوپ میں کھڑا نہیں ہونا پڑتا۔ بالوں میں لگانے کے لیے خاص لکھنؤ سے منگوایا ہوا آملے کا تیل ملتا ہے۔ جیب پیسوں سے بھری رہتی ہے۔ بخلاف اُس کے میں تمام دن صابن کی جھاگ بناتا رہتا ہوں۔ سُکھ نندن اس لیے صابن کے بلبلوں کو پسند کرتا ہے کہ وہ بلبلے اور اُن میں چمکنے والے رنگ اُسے ہر روز نہیں دیکھنے پڑتے ، یوں کپڑے نہیں دھونے ہوتے … سُکھی کی دنیا کو کتنی ضرورت ہے۔ خاص کر اُس کے ماں باپ کو۔ میرے ماں باپ کو میری ذرا بھی ضرورت نہیں ۔ورنہ وہ مجھے بھی جنم دن کے موقع پر یوں ہی تولتے۔ اور جب سے ننھی پیدا ہو گئی ہے… کہتے ہیں بلا ضرورت دنیا میں بھی کوئی پیدا نہیں ہوا۔ یہ باتھو، جو نالی کے کنارے اُگ رہا ہے، بظاہر ایک فضول سا پودا ہے۔ جب اُس کی بھجیا بنتی ہے تو مزا ہی آ جاتا ہے… اور پوریاں! بابو کی ماں نے آواز دی۔ ’’بابو … ارے او بابو۔‘‘ اس وقت سکھ نندن، بابو کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ اب بابو کو اُمید بندھی کہ وہ خوب ضیافت اُڑا سکے گا۔ بابو اُس چُبھنے والی دھوپ کو بھی بھول گیا جو برسات کے بعد تھوڑے عرصہ کے لیے نکلتی ہے اور اسی عرصہ میں اپنی تب و تاب ختم کر دینا چاہتی ہے۔ اُس نے ماں کی آواز پر کان نہ دھرا اور کان دھرتا بھی کیوں؟ ماں کو اس کی کیا ضرورت تھی۔ ضرورت ہوتی تو وہ اس کا جنم دن نہ مناتی۔ وہ تو شاید اس دن کو کوستی ہو گی جس دن وہ پیدا ہو گیا … اگرچہ باتھو کی بھجیا بڑی ذائقہ دار ہوتی ہے۔ ’’بابو … ارے او بابو کے بچے۔ آتا کیوں نہیں؟‘‘ بابو کی ماں کی آواز آئی۔ ’’بابو جاؤ … ابھی میں نہیں آسکتا۔‘‘ سکھ نندن نے کہا۔ اور پھر ایک مغرورانہ انداز سے اپنے زر د و خستہ کوٹ اور بابو کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔ ’’کل آنا بھائی … دیکھتے نہیں ہو، آج مجھے فرصت ہے؟ جاؤ۔‘‘ عمداں کو پوریاں مل گئی تھیں۔ وہ ججمانی کو فرشی سلام کر رہی تھی۔ بابو نے سوچا تھا کہ شاید مسکراتا ہوا سکھی نندن اُس کی خاموشی میں اس کے من کی بات پالے گا۔ مگر سکھ نندن کو آج بابو کا خیال کہاں آتا تھا۔ آج ہر چھوٹے بڑے کو سکھی کی ضرورت تھی۔ لیکن سکھی کو کسی کی ضرورت نہ تھی۔ اپنی عظمت اور بابو کے سادہ اور بوسیدہ، ٹاٹ کے سے کپڑوں کو دیکھ کر وہ شاید اُس سے نفرت کرنے لگا تھا۔ اپنی عدیم الفرصتی کا اظہار کرتے ہوئے اُس نے گویا بابو کی رہی سہی رعونت کو مٹی میں ملادیا۔ پھر بابو کی ماں کی کرخت آواز آئی۔ ’’بابو … تیرا ستیا ناس، طون (طاعون) مارے … گھُس جائے تیرے پیٹ میں ماتا کالی … آتا کیوں نہیں۔ دو سو کپڑے پڑے ہیں … لمبر گیر نے دالے۔ میں تو رو رہی ہوں تیری جان کو …‘‘ بابو کو یہ محسوس ہوا کہ نہ صرف سکھ نندن نے اُس کے جذبات کو ٹھیس لگائی ہے اور وہ اُس کے ساتھ کبھی نہیں کھیلے گا، بلکہ اُس کی ماں ،جس کے پیٹ سے وہ ناحق پیدا ہوا تھا، وہی عورت جس سے اُسے دنیا میں سب سے زیادہ پیار کی توقع ہے، وہ اُس سے ایسا سلوک کرتی ہے۔ کاش! میں اس دنیا میں پیدا ہی نہ ہوتا۔ اگر ہوتا تو یوں بابو نہ ہوتا۔ میری مٹی یوں خراب نہ ہوتی۔ آخر میں سکھی سے شکل اور عقل میں بڑھ چڑھ کر نہیں؟ سکھ نندن کے جنم دن کو ایک مہینہ ہو گیا۔ تُلا دان کو آئی ہوئی گندم پسی۔ پس کر اس کی روٹی بنی۔ بابو کے ماں باپ نے کھائی۔ مگر بابو نے وہ روٹی کھانے سے انکار کر دیا۔ جتنی دیر تلا دان کا آٹا گھر میں رہا، وہ روٹی اپنے چچا کے ہاں کھاتا رہا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ جس طرح مانگے تانگے کی چیزیں کھا کھا کر اُس کے ماں باپ کی ذہنیت غلامانہ ہو گئی ہے، وہ روٹی کھا کر اُس میں بھی وہ بات آ جائے۔ گاڑھے پسینہ کی کمائی ہوئی روٹی سے تو دودھ ٹپکتا ہے۔ مگر حرام کی کمائی سے خون … اور غلامی خون بن کر اُس کے رگ و ریشہ میں سما جائے، یہ کبھی نہ ہو گا۔ سادھو رام حیران تھا۔ بابو کی ماں حیران تھی۔ چچا جس پر اُس کی روٹی کا بوجھ جبراً پڑ گیا تھا، حیران تھے۔ چچی ناک بھوں چڑھاتی تھی، اور جب گھر میں اس انوکھے بائیکاٹ کا چرچا ہوتا تو سادھورام یکدم کپڑوں پر ’’لمبرگیر نے‘ چھوڑ دیتا اور زرد زرد دانت نکالتے ہوئے کہتا۔ ’’خی خی… بابو ہے نا۔‘‘ سکھ نندن نے اب بابو میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھی۔ بابو جس کا کام سے جی اُچاٹ رہتا تھا، اب دن بھر گھاٹ پر اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتا۔ بابو اب اس کے ساتھ نہیں کھیلتا تھا۔ ہریا کے تالاب کے کنارے ایک بڑی سی کروٹن چپل پر وہ اور اُس کے دو ایک ساتھی اسکول کے وقت کے بعد ’کان پتہ‘ کھیلا کرتے تھے۔ اب وہ جگہ بالکل سونی پڑی رہتی تھی۔ قریب بیٹھے ہوئے ایک سادھو جن کی کٹیا میں بچے اپنے بستے رکھ دیتے تھے۔ کبھی کبھی چرس کا ایک لمبا کش لگاتے ہوئے پوچھ لیتے۔ ’’بیٹا! اب کیوں نہیں آتے کھیلنے کو۔‘‘ اور سکھی نندن کہتا ۔ ’’بابو ناراض ہو گیا ہے باوا…‘‘ پھر مہاتما جی ہنستے اور چرس کا ایک دم اُلٹا دینے والا کش لگاتے اور کھانستے ہوئے کہتے۔ ’’اوہوں … ہوں… واہ رے پٹھے … آخر بابو جو ہوا تُو!‘‘ اُس وقت سکھی نندن غرور سے کہتا ’’اکڑتا ہے