کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

جہلم اور تارو

راجندر سنگھ بیدی


ڈھوک عبد الاحد کے پچھم کی طرف کھاڑی کی جانب سے آنے والی بھیگی ہوئی ہواؤں کی عین زد میں چند ٹوٹے پھوٹے مکان تھے۔ سماج کے غریب طبقے کے لوگوں کو اس جگہ اکٹھا کر کے ،اِن کے علاقے کو ٹھٹّی کا نام دے دیا تھا۔ ٹھٹّی کے باسی اپنی محنت کشی اور مصائب سے پُر زندگی کے باوجود خوش اور مطمئن رہتے تھے۔ آئے دِن اِن کے ہاں کوئی نہ کوئی تقریب ہوتی۔ وگرنہ بھوت نکالنے کے لیے تھالیوں کے کوٹے جانے کی آواز اور دف کی چوٹ تو اکثر سنائی دیتی۔ یہاں ایک ایسی مخلوق بستی تھی جو دنیا کی چوٹیں سہتی ہوئی بھی مُڑ مُڑ کر دنیا کو دعائے خیر دیتی ہے۔ کام اِس کا ہے ایک اَنتھک خدمت گزاری۔ شاعر کی مانند اپنے محنت کش کام سے، جس کا نعم البدل کبھی بھی کوئی ادا نہیں کرسکا— وہ ایک دلی شغف رکھتی ہے۔ اس کی آنکھیں تو کھلی ہوتی ہیں، لیکن شکایت کے لب بند۔ یہ لوگ پیتے ہیں، لیکن غم کو غلط کرنے کے لیے نہیں اور عموماً غیر قانونی طور پر کماد میں چھپ کر کشید کرتے ہیں۔ پکڑے جاتے ہیں۔ قید ہوتی ہے۔ لیکن پھر بھی ایسا کرنے سے چوکتے نہیں۔ کبھی کبھی بیساکھی یا رنگ پور کا میلہ [کے مِیلے] میں یہ لوگ پھُنمیاں، بھنگڑا، جھُمّر، لُڈّی اور اِس قسم کے مستانہ دیہاتی ناچ ناچتے ہوئے، الغوزے بجاتے ہوئے، ایک ہاتھ کو کان پر رکھ لیتے ہیں اور گلے کی رگوں کو پورے زور سے پھُلاتے ہوئے گاتے ہیں۔ لاٹ مُلکھ دامور مورنسی1 جے خوشیاں2 وچ آ جاوے بتّی چک3 تے صوبے سارے میرے ناں لوا جاوے رشتے داراں4 آ پنیاں نوں بانْہوں پھڑکے تار دیاں ٹھیکہ دار5 بشن سنگھ نوں پھاہے لا کے مار دیاں اس وقت متمدّن انسان، جو کہ اپنی مہذّب لیکن دُکھوں سے بھری ہوئی زندگی سے فرار ہو کر اپنی اسی محروم الارث اولاد کے پاس آ کر کھڑا ہوتا ہے، وہ حیرت سے چند لمحات کے لیے انگلیاں منھ میں ڈال کر سوچتا ہے۔ کیا ہم لوگوں نے اِنھیں اپنی میراث سے محروم کر دیا ہے یا اِن لوگوں نے ہمیں اپنی میراث سے! پھُوس کی اِن جھونپڑیوں اور خستہ حالت کچّے مکانوں میں دو پکّی اینٹ کے مکان نمایاں نظر آتے تھے۔ ایک مکان داروغہ قدرت اللہ کا تھا۔ جب لوگوں کو اِن سے [پر؟] بہت پیار آتا ، تو وہ ناچنے کی بجائے داروغہ میں الف کے تکلّف کو برطرف کرتے ہوئے بے تحاشا دروغا جی، دروغاجی پکارنے لگتے۔ دروغا کے لفظ سے یوں سمجھائی دیتا ،جیسے صرف و نحو کے کسی اناڑی طالب علم نے اسمِ تصغیر کی مشق کرتے ہوئے کھاٹ سے کھٹولا ، ٹٹو سے ٹٹوا، مرد سے مردُوا اور دروغ سے دروغا بنا لیا تھا ۔ جدّت تو بہت تھی، لیکن فقط اتنی سی کسر تھی کہ اسمِ تصغیر کی رو سے اگر دروغا کا کوئی مفہوم نکل سکتا تھا تو وہ چھوٹے جھوٹے کا تھا۔ حالاں کہ وہ ایک عظیم الشان جھوٹے تھے۔ ان میں سے بعض اس قدر معصوم تھے کہ وہ دروغ کا مطلب نہیں سمجھتے تھے۔ اِس میں طرفین کو فائدہ تھا… دراصل قدرت اللہ کو یہ نام اللہ کی قدرت نے ودیعت کیا تھا۔ زبان کر کے مکر جانا، رشوت ستانی کے لیے باپو کی بیکری کی روٹی میں خواہ مخواہ نقص بینی کرنا، اُن کا خاص مشغلہ تھا… اور داڑھی اُن کی بالکل شرعی تھی! داروغہ جی کے مکان کی بغل میں ایک لمبا چوڑا احاطہ تھا۔ اس کے اندر ایک بڑا وسیع مرغی خانہ تھا، جس میں ولایتی قسم کے مرغ بھی تھے اور بڑی رقم صرف کر کے کھاڑی کے اُس پار سے منگوائے گئے تھے۔ اِس مرغی خانے کے مالک ڈھوک کے بڑے شاہ (بینکر) دیوان مُنّی ڈبّی تھے۔ ان کا اصلی نام تو دیوان چند اور پھر دیوان چند شاہ تھا، لیکن بعد میں یہ دیوان مُنّی ڈبّی کے نام سے ہی مشہور ہو گئے۔ مُنّی ڈبّی کا مطلب ہے پون پڑوپی1 ۔ روایت ہے کہ جب دیوان چند شاہ صاحب ابھی سود کھانے والے شاہ نہیں ہوئے تھے، یعنی فقط دیوان چند بلکہ دیوانے اور او دیوانے ہوتے تھے، تو ان کی روز مرّہ کی ضروریات اور چھوٹے موٹے کپڑے کی بھی دُکان تھی۔ جب گرد نواح کے گانووں سے عورتیں اجناس لے کر اُس کے عوض میں چیزیں خریدنے آتیں، تو خواہ وہ سیر ہی جنس لاتیں، دیوان مُنّی ڈبّی اُسے اتنے فنی کمال سے تولتے کہ وہ پاؤ پڑوپی ہی ثابت ہوتیں (جس میں عورتیں مستثنیات ہیں) اس لیے بدصورت عورتوں نے اسے یہ خوب صورت نام دے دیا تھا۔ قصبے میں دو تین بیکریوں کے کھُل جانے سے انڈوں کی بِکری ہونے لگی تھی اور اب تو انڈوں کا نکاس اتنا زیادہ ہو گیا تھا کہ نہ صرف بابو وغیرہ ہی وہاں سے انڈے خریدتے، بلکہ کھاڑی کے دوسری طرف شہر کو بھی بھیجے جاتے تھے۔ پکّی اینٹ کا سب سے اونچا مکان نبی بخش کا تھا، جو کہ اُس نے اپنی چہیتی جہلم کے اصرار پر بنوایا تھا۔ نبی کی عمر چوّن پچپن برس کے قریب تھی۔ وہ اُن کشتیوں کا واحد مالک تھا جن میں مال و اسباب اور مسافروں کو کھاڑی کے اِس کنارے سے دوسرے کنارے اور دوسرے کنارے سے اِس کنارے تک لانے اور لے جانے کا اُسے سرکاری طور پر ٹھیکا ملا ہوا تھا۔ ہر سال نبی بخش بوڑد کے ممبروں کو کھِلا پلا کر اپنا کام بنا لیا کرتا۔ دوسرے کنارے کے بابو لوگ اِس کشتی کو ’’فیری‘‘ کہتے تھے۔ اور یہ نام نہ صرف نبی بخش کو بلکہ سب گانْو والوں کو حفظ ہو گیا تھا۔ وہ اُسے کشتی کے بجائے فیری ہی کہنے لگے تھے۔ … تو وہ مکان نبی بخش نے جہلم کے لیے بنوایا۔ اوپر چوبارے پر جہلم کے بیٹھنے کے لیے ایک خوب صورت دریچہ بھی بنوا دیا۔ اور دریچے کے پاس ایک کالی ہانڈی لٹکا دی۔ جہلم نبی بخش کی چوتھی بیوی تھی۔ اِس سے پہلے اُس کی تین بیویاں مر چکی تھیں۔ باپو کا خیال تھا کہ نبی بخش منگلیک تھا۔ تیسری بیوی کے فوت ہونے تک نبی بخش اس بات کو نہ مانا۔ لیکن اس کے بعد اُس نے سوچا کہ ہندو عورتیں بھی تو پیروں کے مزار پر جا کر اولاد کے لیے اپنی چوٹی کے بال باندھ آتی ہیں۔ منّتیں مانتی ہیں، اِس لیے اُس نے چپ چاپ اوپائے کروا لیا۔ چونکہ فیری سے اچھّی خاصی آمدنی ہو جاتی تھی، اس لیے چوتھی بیوی کی تلاش میں اُسے کوئی بھی دقّت پیش نہ آئی۔ جہلم کے ماچھی (ماہی گیر) والدین نے ایک سو پندرہ روپئے آٹھ آنے نقد یک مشت اور سال بھر فیری پر مُفت مچھلیاں پکڑنے کے عوض اپنی منجھلی بیٹی کو نبی بخش کے ہاتھ بیچ دیا۔ نبی بخش کو یہ سودا مہنگا پڑا۔ اب شادی کو چار سال ہو گئے تھے اور ابھی تک جہلم کا باپ اُسی کی فیری میں مچھلیاں پکڑتا۔ اُسی کی کمائی میں ہاتھ بٹاتا۔ اور جہلم ،جس کی عمر بیس اِکیس سال سے زیادہ نہ تھی اور جو شکل سے اُس کی پوتی دکھائی دیتی تھی،اُس سے نفرت کرتی تھی اور بڑی حسرت سے نو عمر چھوکروں کو دیکھا کرتی۔ خاص طور پر تارُو کو۔ لوگ اِس بات پر حیران تھے کہ چار برس کے گزر جانے پر بھی جہلم زندہ تھی۔ وہ اوپائے کے متعلق کچھ نہیں جانتے تھے۔ تارُو کے گھر میں بھی، جب اِس ضمن میں بات ہوتی، تو باپو بڑے زور سے مُکاّ گھما کر کہتا ’’اوجی میں سمجھتا ہوں جہلم خود بھی تو منگلیک ہے نا۔ اور جو سانپ کو سانپ لڑے[ڈسے؟] تو بِس کس کو چڑھے؟۔‘‘ جہلم ایک چھوٹے سے قد کی، پتلی سی خوب صورت عورت تھی۔ بچپن میں باپ کے ساتھ کھاڑی کی دھوپ دیکھنے سے اُس کا رنگ پکّا ہو گیا تھا۔ اُس کے ہونٹوں میں موٹائی کی جھلک تھی اور اُن پر چھوٹی چھوٹی لکیریں عمداً [کذا] پڑی ہوئی تھیں، جس طرح جونک کی پشت پر ہوتی ہیں اور   حسبِ ضرورت سمٹ سکتی ہیں یا پھیل جاتی ہیں۔وہ لب گیلے ہوتے تھے تو اچھّے دکھائی دیتے تھے اور جب سوکھے ہوتے تو پھر… پھر اور بھی اچھّے دکھائی دیتے۔ ایک قسم کی غنودگی سے پٹی ہوئی آنکھوں اور گھنے ابروؤں کے بالوں نے خود ہی اپنے تیر اور ترکش کو چھپا لیا تھا۔ آنکھوں میں دراصل ایک ہمیشہ شبابی، شرابی کیفیت تھی جو پل بھر میں اضطرابی ہو جاتی، اور آنکھیں بہت تیزی سے پپوٹوں میں حرکت کرنے لگتیں۔ گویا کسی کھوئی ہوئی چیز کی تلاش کر رہی ہوں۔ جہلم کے بال بھورے تھے اور روکھے۔ ان میں سے وہ ایک لٹ علاحدہ کر کے عمداً منھ پر ڈال لیتی تھی۔ بچپن میں وہ بہت سیدھی سادی تھی۔ لیکن زمانے نے اُسے بہت کچھ سکھا دیا تھا۔ اب وہ اپنے شباب کے ساتھ کی گئی بے انصافی کا بدلہ لینا چاہتی تھی۔ لوگوں کا خیال تھا کہ تارو کو جہلم کی نگاہوں نے پالا ہے۔ گویا تارو نے ماں کا دودھ تو پیا ہی نہیں۔ اس لیے لوگ تارو کو زبانی پیار کرتے، لیکن دل سے کوستے تھے۔ تارو کے متعلق اُن کا خیال محض ایک حسین تخیل تھا،کیوں کہ تارو جہلم سے نفرت کرتا تھا۔ تارو1 میں جنسی جذبہ سنِ بلوغ سے بہت پہلے بیدار ہو چکا تھا۔ وہ پتلی، نازک اندام عورتوں کی بجائے قدرے موٹی اور گدرائے ہوئے جسم کی عورتوں کو پسند کرتا تھا۔ وہ گوشت کا قائل تھا۔ سب سے عجیب بات یہ تھی کہ وہ نوخیز اور کنواری لڑکیوں پر ، درمیانی عمر کی شادی شدہ عورتوں کو ترجیح دیتا۔ سامنے سے آتی ہوئی عورت اُسے کبھی بھی متاثر نہیں کرتی تھی۔ وہ عموماً عورتوں کو پشت کی جانب سے دیکھنا پسند کرتا۔ وہ اکثر سب سے لمبی گلی کے موڑ پر کھڑا ہو کر جاتی ہوئی عورت کے نشو و نما پائے ہوئے کولھوں کو اُس کی رفتار کے ساتھ ہلتے ہوئے دیکھتا اور اُس وقت تک دیکھتا رہتا ،جب تک کہ وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتی۔ اس کے بعد تارو کو دل کی دھک دھک کی آواز سنائی دیتی، یا منھ کو گیلا کرنے کے لیے پانی کے ایک گھونٹ کی ضرورت محسوس ہوتی۔ تارو جہلم کو محض اِس لیے ناپسند کرتا تھا کہ وہ پتلی تھی اور عمر کی چھوٹی اور پیٹھ کی طرف سے تو وہ ایک کم سِن بچّی دکھائی دیتی تھی۔ البتّہ جہلم، تارو کو کھلاتی بہت تھی۔ وہ مُنّی ڈبّی کے، یعنی اُس کی مرغیوں کے انڈے چُرا لاتی اور گھی میں بھون دیتی۔ جب تارو سارا دن بیکری میں جان مارنے کے بعد تھک ٹوٹ کر چُور، اُس راستے سے گھر جاتا ،تو اُسے بلا کر کھلا دیتی۔باوجود نفرت کے تارو ،جہلم کے ہاں کیوں جاتا، اِس کی وجہ تارو کا بچپن تھی۔ وہ کھانے کے معاملے میں کمزور واقع ہوا تھا۔ جب کبھی اُسے کھانے کا خیال آتا، تو وہ نفرت اور نتیجہ دونوں کی پروا نہ کرتا۔ جہلم اُس کے بچپن سے واقف تھی اور اُسے اپنے فن کے متعلق ضرورت سے زیادہ خوش فہمی تھی۔ اُس دن تارو ،باپو کی دھمکی کی وجہ سے اُس راستے سے نہ گزرا۔ جہلم اپنی چارپائی پر پڑی پہلو بدلتی رہی، حتّی کہ بہت اندھیرا ہو گیا۔ اور ہر روز شام کو کھاڑی کی جانب سے آنے والی بھیگی ہوئی ہوائیں دروازوں سے ٹکرانے لگیں۔ روشن دان کے ایک چھوٹے سے خانے میں کوئی جانور اس طور پر مر گیا تھا کہ اُس میں سے گزرتی ہوئی ہوا سیٹی بجاتی تھی اور یہی نبی بخش کے آنے کا الارم ہوتا تھا۔ تھوڑی دیر میں دروازہ پٹ سے کھُلا اور نبی بخش اندر داخل ہوا۔ اُس نے پینس کی چادر کو اُتار، کنڈے دیوار کے ساتھ رکھے اور آتش دان کے قریب کھڑا ہو کر جہلم کو دیکھنے لگا۔ کچھ دیر کے بعد آگے بڑھا اور اُس کے کندھے کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولا۔ ’’سو رہی ہے نبّو؟1 ‘‘ جہلم سو نہیں رہی تھی، لیکن سونے کے انداز سے پہلو بدلتے اور جمائی لیتے ہوئے بولی۔ ’’ہاں، ہاں۔‘‘ نبی بخش نے پیار سے اُس کے جسم پر ہاتھ پھیرا۔ اور پُچکارتے ہوئے بولا ’’مجھے بھوک لگ رہی ہے، لیکن تم سو رہی ہو، میں خود ہی کھانا نکال لوں گا‘‘ اور پھر خود ہی معترض ہوتے ہوئے کہنے لگا ’’اوہ ! میں کتنا تنگ کرتا ہوں نبّو کو…‘‘ نبی بخش کی آواز میں پدرانہ شفقت تھی۔ اس سے جہلم محظوظ ہوئے بغیر نہ رہ سکتی تھی۔ گو وہ خاوند کے طور پر اُس سے نفرت کرتی تھی، لیکن باپ کے طور پر اُس پر فدا تھی۔ اِس وقت وہ محبت بھری نگاہ سے بوڑھے کی سب حرکتوں کو دیکھتی رہی۔ نبی بخش آتش دان کے قریب کھڑا ہو گیا اور چھینکے پر روٹیاں ٹٹولنے لگا۔ کچھ دیر بعد اُس نے دو تازی اور دو باسی روٹیاں نکالیں۔ بٹھل میں سے پیاز اور نمک لیا۔ پھر اُس کی نظر ٹوکری کے قریب رکابی میں بھُنے ہوئے انڈوں پر جا پڑی۔ نبی بخش نے اس میں سے کچھ منھ میں ڈال لیے۔ جہلم نے منع نہیں کیا۔ اب تارو تو آئے گا نہیں۔ بوڑھے نے سوچا، کتنی محبت سے انڈے بنائے ہیں میری بنّو نے میرے لیے۔ اس کے بعد اُس نے دوسرا چمچہ منھ میں ڈالا۔ وہ اتنا لذیذ تھا کہ وہ پھر اپنی نبّو کو پیار کرنے کے لیے مجبور ہو گیا۔ اور جب وہ جہلم کو پیار کر رہا تھا ، تو جہلم کا جی چاہا کہ وہ مچل جائے۔ بچّوں کی طرح کوئی ضد کرے۔ یہی کہہ دے۔ اکیلے اکیلے کھا رہے ہونا۔ پوچھا تک نہیں۔ پھر نبی تیسرا چمچہ اُس کے منھ میں ڈالے گا۔ پھر پانچواں پھر ساتواں… اور آملیٹ سی ختم ہو جائے گی۔ پھر تارو نہ ہو گا تو کیا ہو گا؟ کھاڑی کی طرف سے آنے والی ہوا دروازوں کو بہ دستور تھپ تھپا رہی تھی۔ دروازے پر ایک ہلکا سا کھٹکا ہوا۔ جہلم جانتی تھی۔ اس کا کیا مطلب ہے— تارو! اُس نے گھبرا کر آتش دان کے قریب خالی پڑی ہوئی رکابی کو دیکھا۔ اور اُس کے ہونٹ سوکھنے لگے۔ یہ بہت اچھی بات تھی… اور بوڑھا اِس وقت سونے کے لیے اپنے گرم و نرم بسترے میں داخل ہو چکا تھا۔ جہلم ایک مصنوعی انگڑائی لے کر اٹھی اور نبی بخش کے بستر پر جھکتے ہوئے بولی۔ ’’سوجاؤ۔ سو رہے ہونا۔ جگانا مت مجھے… اوئی اللہ، صبح سے سر میں درد ہو رہا ہے— کچھ آنکھ لگ جائے تو …‘‘ نبی بخش نے پھر اُسی لہجہ میں کہا۔ ’’میں کیوں جگانے لگا اپنی نبّو کو۔‘‘ ’’میں دیا بجھا دوں نا۔‘‘ ’’ہاں بجھا دو —لوٹا رکھ دیا سرہانے؟‘‘ ’’رکھ دیا۔‘‘ جہلم نے دِیے کو ایک ہاتھ مارا اور تاریکی چاروں کونوں میں پھیلی گئی۔ اُس نے دِیا سلائی کو ہاتھ میں لیا۔ آہستہ سے دروازہ کھولا۔ باہر نکلی۔ باہر سے ہی دروازے کی زنجیر چڑھا دی۔ اب اُس کے قریب تارو کھڑا تھا۔ جہلم نے کئی دفعہ اُسے رات کو آنے کے لیے کہا تھا۔ دن کو لوگ دیکھ لیتے ہیں۔ لیکن تارو لاکھ ذہین تھا ،پھر بھی بچّہ تھا۔ وہ جانتی تھی آج اِتنی رات گئے اُس کے یہاں آنے کا کیا مطلب ہے۔ جہلم کی رگوں میں خون دوڑنے لگا۔ تارو شروع سے بے اعتنا رہا تھا۔ آج خود بخود ہی چلا آیا۔ تارو نے اندھیرے میں جہلم کے ہاتھوں کو پکڑا۔ ہاتھوں میں دیا سلائی کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ معاً جہلم کا خیال رکابی کی طرف چلا گیا۔ اِس سے پہلے جو اُس کی زبان کو تالا لگ گیا تھا۔ اُس کی کُنجی مل گئی۔ وہ بولی ۔ آج تمھاری چیز بڈّھے نے کھا لی ہے۔ تارو!‘‘ ’’میں آج کھانے نہیں آیا۔‘‘ جہلم کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ اُس نے محسوس کیا، تارو کے ہاتھ اُس کی نسبت بہت ٹھنڈے تھے۔ اور تارو پر کچھ اضطراب اور بے دلی کی سی کیفیت چھائی ہوئی تھی۔ جہلم بولی۔ ’’بہت تھک گئے ہو آج؟‘‘ ’’نہیں ، یوں تو آج دوپہر سے کوئی کام نہیں۔‘‘ ’’تو کیا ہے پھر؟‘‘ ’’لکھمی نے پکوڑیاں لینے بھیجا ہے—— جلدی ہے مجھے نبّو۔‘‘ جہلم کو اِس نام سے سخت نفرت پیدا ہوئی۔ لیکن وہ خاموش رہی۔ اُس کا دل بُجھ سا گیا۔ تو آخر تارو اپنی بھابی کے کسی کام پر آیا ہے لیکن … شاید اُسے اپنے آنے کی کوئی وجہ تو بیان کرنی ہے ہی نا۔۔ وہ پُر شِکوہ انداز سے بولی۔ ’’لوگ ہم پر الزام لگاتے ہیں۔‘‘ ’’کس بات کا؟‘‘ ’’یہی، ملنے کا… عورتیں کہتی میں تو تارو سے بہت رات گئے ملتی ہے۔‘‘ تارو اِس کنائے کو سمجھ کر کانپ اُٹھا، اور بولا ’’مجھے جانا ہے۔ ایک بات پوچھتا ہوں تم سے۔‘‘ جہلم نے جی ہی جی میں ایک کاہش سی محسوس کرتے ہوئے کہا ’’کہو۔‘‘ تارو بولا ’’میں پوچھتا ہوں——وہ لج لجے بالوں والا خوب صورت کالا کُتّا، جس کی تم اُس روز اتنی تعریف کر رہی تھیں کسی کا ہے؟‘‘ ——————   ڈھوک عبد الاحد، دوسرا کنارہ اور بیکری ڈھوک کے ٹیلے پر چڑھنے سے پشت کی جانب ایک پورا اور مدوّر منظر کھل جاتا ہے۔ یوں دکھائی دیتا ہے جیسے قدرت نے جادو کی چھڑی سے تین چھوٹے چھوٹے خوب صورت گانووں کی تخلیق کر دی ہو، یا ایک بڑا گھڑیال اور اس کے دو چھوٹے چھوٹے بچّے پانی سے نکل کر دھوپ تاپنے کے لیے کنارے کی خوب صورت اور چمکیلی ریت پر لیٹ گئے ہوں۔ ڈھوک عبد الاحد کا قصبہ، کھنگواڑی اور بٹّی نور بیگ کے گانو ایک دوسرے سے تھوڑے فاصلے پر واقع ، سرسبز و شاداب درختوں میں گھرے ہوئے باغِ عدن کے حسین ما بقی، ایک بے ربط سی مساوی الثاقین مثلّث کے کونے بنتے ہیں۔ کھاڑی کے جوار بھاٹے کے عین زد میں واقع، لیکن حیرت انگیز طور پر بچی ہوئی کھنگواڑی اور بٹّی کی جھونپڑیاں ٹیلے پر سے بالشتیوں کے محلوں کا دھوکا دیتی ہیں۔ اِن گانووں کا فاصلے کی قربت ہی کی وجہ سے تعلق نہیں، بلکہ اگر ڈھوک میں پیدا ہونے والی ناجو، کھنگواڑی کے کسی جاٹ کی بیوی ہو جاتی، تو ڈھوک کا کوئی گوجر، کھنگواڑی کی مہذان کا بہنوئی بن بیٹھتا ہے۔ اور اس طرح ہر روز ڈھوک، کھنگواڑی اور بٹّی کے کسانوں کی بہو بیٹیاں تحصیل کے آوے کے نیم پختہ برتنوں میں چھلکتی ہوئی چھاچھ لیے، سر پر برتنوں کا وزن درست کرتی ہوئی، ایک دم میکے سے سسرال اور سسرال سے میکے چلی جاتی ہیں۔ باجرے کے کسی کھیت کے کنارے اُن کا ملاپ ہو جاتا ہے پھر وہ آپس میں بڑے لطیف ٹھٹھّے کرتی ہیں۔ کبھی کبھی اپنے کسی باہمی رشتے دار کی کم ظرفی کا طول و طویل قصّہ چھیڑ کر ایک دوسرے کو طعنے دیتی ہیں۔ وہ گاجر سے لڑتی ہیں اور مولی سے مان جاتی ہیں۔ پھر ایک طرف سے ’’ہٹ ہٹ‘‘ کی آواز آتی ہے۔ —لکھا سنگھ اور اس کا بھائی شیرو ہل چلا رہے ہیں۔ ’’ہٹ ہٹ!‘‘ لکھا سنگھ نے اپنے لج لجے پَلّو کو ایک بڑی سی گانٹھ دے کر کمر کے پیچھے کس لیا ہے۔ اگرچہ پنجاب کے دیہاتی پیمانے کے مطابق، سورج سوا نیزے پر اُتر آیا ہے، لیکن لکھا سنگھ قریب ہی اُگے ہوئے شیشم کی جاں بخش اوٹ کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ وہ دھوپ میں ننگا کھڑا ہل کی ہتھّی پر اپنی بساط سے زیادہ زور ڈالتا ہے، تاکہ پھال دور تک زمیں دوز ہوتی چلی جائے۔ سورج کی گرمی سے اُس کی آنکھوں کے ڈورے پھول جاتے ہیں۔ پنڈلیوں اور بازوؤں پر رگیں اُبھر آتی ہیں۔ چہرے کے آڑے ترچھے خطوط میں سے پسینہ بہہ بہہ کر داڑھی میں بڑے بڑے قطروں کی صورت میں اَٹکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ پھر وہی ’’ہٹ ہٹ‘‘ کی آواز دُہرائی جاتی ہے، اور بیلوں کی مریل سی جوڑی مُڑ کر زمین پر پڑتی ہوئی مستطیلوں کے اندر ایک اور کا اضافہ کر دیتی ہے— اور لکھاسنگھ کی محنت کا اجر شہری لے جاتے ہیں۔ اور وہاں سے مانچسٹر اور برمنگھم والے۔ لکھّا اور اُس کے بچّوں کے پیٹ توے کے مانند پشت سے لگ رہے ہیں۔ خدا معلوم اِس پر بھی وہ کیوں خوش ہیں اور غیر جوں جوں ان کی محنت کے اجر کو لیتے ہیں، اُن کی ہوس رانی بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ جب تلک لکھّا کے گندم کے تمام خوشے کا نگیاری1 میں تبدیل نہیں ہو جاتے، یا جب تک اُس کے کھیت کے گندم کے ایک خوشے میں پچّیس تیس بالیاں اور اُن بالیوں میں ایک تندرست دانہ بھی اُن کے لیے بچ رہتا ہے، وہ شکایت نہیں کرتا۔ البّتہ جب کبھی لگان ملبہ2 کا ذکر آتا ہے تو وہ ببراکالی3 کی طرح خوف ناک بن جاتا ہے۔ پھر اُسے گورو کے باغ کا مورچا یاد آتا ہے، جس میں اُس نے ایک سو چار لاٹھیاں کھائی تھیں اور تب کہیں گرا تھا۔ اُس کی ہمت پر بیٹی صاحب بھی عش عش کر اُٹھا تھا اور اسپتال کی تمام نرسیں اُس کے قد آور جسم کو باری باری دیکھنے آئی تھیں۔ اس وقت لکھا سنگھ آٹھ دس گالیاں سناتا ہے۔ نصف ملکی خادموں کو اور نصف سرکار کو اور اس کے اعضا حرکتِ عمل کے لیے پھڑکنے لگتے ہیں۔ آخر اس کا جوش اُداسی میں تبدیل ہو جاتا ہے اور وہ ہَل کی ہتھّی چھوڑ کر شیشم کی جاں بخش اوٹ میں بیٹھ جاتا ہے۔ اپنے بکھرے ہوئے کیشوں میں سے جوئیں نکال کر مارتا ہے اور پھر ناچار وارثؔ کا سہارا لیتا ہے۔ چھالے 4 پئے نے ہتھ تے پیر پھُٹے سانوں داہی دا کم نہ آؤندا ای راتیں دُکھاں دے نال نہ نیند پیندی دن روونے نال دہاوندا ای کھاڑی کے اِس کنارے، ڈھوک کے اِس ٹیلے کے اوپر کھڑے ہونے سے کھاڑی کا دوسرا کنارہ بہت دور ایک دھُندمیں لپٹا ہوا نظر آتا تھا۔ دوسرے کنارے پر اور اُس سے پرے کیا ہے، یہ دیہات کے بہت سے لوگ نہیں جانتے تھے۔ وہ لکھا ، شیرا اور اس کے بہت سے بھائیوں کی طرح محنت کشی کے باوجود اپنا اجر نہ پاکر اپنی اِس حالت کو کبھی کانگریس کے ستیہ گرہ اور کبھی سرکار کی سخت گیری پر محمول کرتے اور دونوں کو بے تحاشا گالیاں دیتے اور ایسا کرنے میں اُنھیں مساوات کا خاص خیال رہتا۔ آخر میں وارثؔ ہی پر قناعت ہوتی۔ بہت ہوتا تو ’’قادر یار‘‘ بھی ہو جاتا۔ کھاڑی کے آسمان پر وہی پرند دکھائی دیتے جن کے پروں کے کھلنے کے لیے اِس بے ربط مثلّث پر کا آسمان ناکافی تھا۔ کنارے پر وہی یا چک (دان لیوا) منڈلاتے، جن کے دامن کی وسعتوں کے لیے ادھر کا دان تھوڑا تھا۔ سندر ، سوہن اور تارو، دوسرے کنارے کے متعلق کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور نہ ہی انھیں جاننے کی ضرورت محسوس ہوئی تھی۔ یہی گانو ان کی کل کائنات تھی۔ بیکری کا کام اتنا زیادہ تھا کہ اُس پر سے ایک پل بھر کی فرصت نہ ملتی تھی۔ البتہ باپو بیکری کی روٹیوں اور بسکٹوں کے سلسلے میں کئی مرتبہ دوسرے کنارے پر گئے تھے اور اکثر اُس پار کے بہت سے واقعات تینوں بھائیوں، بہنوں اور اس کی ماں کو سنایا کرتے تھے۔ بنتو کو کچھ سمجھ نہ آتی اور امّاں فقط ایک تسکین کا سانس لیتی، جس کا مطلب ہوتا ’’میں تو خوش ہوں کہ طوفان کے باوجود تم اس نامراد کھاڑی سے صحیح سلامت واپس آ گئے۔‘‘ تینوں بھائیوں کا تخیّل بیدار ہو جاتا، اور بسا اوقات جب وہ بیکری کے دوزخ نما چولھے میں سے اپنی آخری ڈبل روٹی نکالتے تو فوراً کھاڑی کے کنارے پر جا کھڑے ہوتے، اور مستفسرانہ نگاہوں سے فیری میں سے اترنے والے مال و اسباب، مسافروں کے رنگ روپ، چال ڈھال اور وضع قطع کا معائنہ کرتے۔ ٹیلے پر سے اُس پار، حدِّ نگاہ سے ورے، انھیں صرف ایک نقرئی سی لکیر سورج کی شعاعوں میں چمکتی ہوئی نظر آتی جو کہ دن ڈھلے پر دھُند کے ایک کثیف سے پردے کے پیچھے غائب ہو جاتی۔ شاید وہ لکیر پانی کی ایک ندی تھی، جو کہ ڈھوک عبد الاحد کے شمال میں میلوں دور کھاڑی سے علاحدہ ہو کر دوسرے کنارے کے ساتھ ساتھ بہہ رہی تھی۔ دوسرا کنارہ ہمیشہ پُر اسرار ہوتا ہے، اور اِس لیے انسان کا مطمحِ نظر ۔ انسان ہمیشہ پہنچ سے باہر چیز کا مشتاق ہے۔ اِس کی زندگی کے بہت سے رومان کا فلسفہ بھی یہی ہے۔ زندگی کے دوسرے کنارے پر کیا ہے؟ یہ زید جانتا ہے نہ بکر ——راستے میں موت حائل ہے…… ڈھوک عبد الاحد کے ٹیلے پر کھڑے ہو کر دھُندلے دکھائی دینے والے دوسرے کنارے پر کیا تھا؟ یہ اُن تینوں بھائیوں میں سے ایک بھی نہ جانتا تھا — راستے میں موت کی سی ذخّار کھاڑی حائل تھی۔ —————   دوپہر ، ایک بجے کا عالم—— باپو اور تینوں بھائی بیکری میں کام کر رہے تھے۔ تنّور کی تیز جوالا سے اُن کے بدن پھُنک رہے تھے۔ آنکھوں میں ڈورے اُبھر آئے تھے اور بدن پر رگوں کا جال دکھائی دینے لگا تھا۔ باپو ابھی ابھی فیئر1 سے راکھ سمیٹ کر ایک کونے میں ڈال آیا تھا۔ اگرچہ تنّور صرف چھے پترّوں2 ہی کا تھا، تاہم کچھ اِس ڈھب سے بنایا گیا تھا کہ ضرورت سے زیادہ لکڑیاں سماجائیں اور ایندھن کا خرچ زیادہ ہونے کے علاوہ راکھ بھی زیادہ بنتی تھی، اور اُسے سمیٹتے ہوئے بھیروں کی طرح کا کالا سروپ ہو جاتا۔ اسی وجہ سے تارو فیئر کے پاس تک نہیں پھٹکتا تھا۔ اور نہ ہی وہ دُکان کو صاف کرنے کا غلیظ کام کرتا۔ تارو کے دونوں بھائی، بھابی لکھمی ، بہن برّ [کذا]، تارو کی اِس شوقین مزاجی سے بہت جلتے تھے، لیکن کچھ کر نہیں سکتے تھے۔ ہاں بہت ہوا تو ان سب نے مِل جُل کر تارو کو ’’لاٹ‘‘ کا خطاب دے دیا۔ باپو کے انداز کے مطابق راکھ سمیٹنا ایک بڑی مہم تھی جو اُس نے سر کر ڈالی۔ اب وہ کسی نہ کسی بہانے سے اُسے جتانا چاہتا تھا۔ اگر تینوں بھائیوں میں سے ایک بھی باپو کی محنت کا اعتراف کر لیتا ،تو اُسے بولنے کی نوبت ہی نہ آتی۔ لیکن سب اپنے اپنے خیالات اور اپنے اپنے کاموں میں مستغرق تھے۔ اچانک سندر بولا۔ ’’باپو!‘‘ باپو جو گھوما تو ایک دم چکّر کاٹ گیا۔ بولا ’’کیا ہوا؟‘‘ سندر نے پیشانی پر سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا ’’میں تو ناحق ڈرتا تھا، ننھّے کے چولے پر پچاس سے اوپر ایک نہیں کھلنے کا۔‘‘ گھر میں ننّھے پنجو کو چولا (قمیص) پہنوانے کی رسم ادا ہونے والی تھی۔ باپو یوں تو سناتن تھا اور رسوم و رواج کا دل دادہ۔ پھر پوتوں کو تو دادا لوگ بیٹوں سے سِوا چاہتے ہیں۔ مول سے بیاج پیارا ہوتا ہے۔ لیکن اس وقت باپو بے ڈر ہو رہا تھا۔ ہانپتے ہوئے بولا ’’کچھ کِیا بھی ہے… تم لوگوں نے صبح سے، یا …یا حرام کھانے پر کمر باندھ رکھی ہے۔ میں پوچھتا ہوں یہاں پنجو سے دلار ہو رہا ہے۔ یا…۔‘‘ سندر ڈرتے ڈرتے بولا ’’تو چولا ڈالنے کی رسم——‘‘ ’’ادا ہو گی اور اُس کا پاجامہ اُتارنے کی بھی…!‘‘ سندر چپ ہو گیا۔ اُس وقت تارو کے ہاتھ میں آ کرہ کانپ رہا تھا۔ پتّر پر چھے سانچے رکھے تھے اور اُس پر میدے کی ٹکیاں۔ یہ وزن اُس نازک بدن کے لیے زیادہ تھا۔ اُسے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے باپو بولا۔ ’’یہ کام ہو رہا ہے، حرام کار ؟‘‘ نتیجہ برعکس ہوا۔ تارو کے ہاتھ زیادہ کانپنے لگے۔ اور آ کرہ سنبھالنے کی کوشش میں زمین کے ساتھ جا لگے۔ سوہن جو اُس وقت انڈوں کے چھلکے اِکٹّھے کر رہا تھا، بولا۔ ’’کام کیوں کرے گا۔ لاٹ جو ٹھہرا۔‘‘ یہ باپو کی جلن پر تیل تھا۔ اُس وقت تارو نے انصاف طلب نگاہوں سے ایک ہی وقت میں باپو اور سوہن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’وزن بہت ہے، دیکھتے نہیں پتّر بھی ٹیڑھے ہو گئے ہیں۔‘‘ باپو نے غصّے سے اُچھلتے ہوئے کہا۔ ’’تو روٹی نہیں کھاتا… جہلم کے انڈے اور گھی بھی حرام کر رہا ہے، مسلمان کی اولاد!‘‘ ’’میں نے کب انڈے کھائے ہیں اُس کے، بہکا دیا تم لوگوں کو کسی نے۔‘‘ ’’تو اور کل رات تم اپنی ماں کے پاس گئے تھے؟‘‘ ’’کب؟‘‘ ’’جب لکھمی نے باہر بھیجا تھا۔‘‘ تارو کی نظروں میں بیکری کی آگ کھولنے لگی۔ اُس نے چپکے سے مان لیا۔ بولا، ’’ہاں گیا تھا، باپو۔‘‘ ’’میں نے تمھیں پرسوں منع نہیں کیا تھا، سور کے بچّے۔‘‘ تارو نے سہمے [سہمتے؟] ہوئے جواب دیا۔ ’’منع کیا تھا…۔‘‘ ——لیکن باپو نے قریب ہی پانی میں بھگوئی ہوئی بیت کی چھڑی اُٹھا لی۔ تارو کا دم رُک گیا۔ وہ ہٹ کر دیوار کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ جسم کمان کی طرح دُہرا ہونے لگا۔ شانے سکڑ گئے۔ سامنے باپو غُرّا رہا تھا۔ اس کا کالا رنگ اور بھی سیاہ ہو گیا تھا۔ جسم پر بال تن گئے تھے۔ تارو بولا۔ ’’لیکن، لیکن میں تو زلفُو (کُتّا) کے متعلق پوچھنے گیا تھا، یہ تو بری بات نہیں باپو… وہاں سے کچھ کھایا ہو تو گائے کا خون پیا ہو۔‘‘ بیت بے تحاشا تارو کے جسم کے ساتھ پیوست ہونے لگا۔ تارو راکھ میں پڑا تڑپ رہا تھا۔ اُس کے کپڑے غلیظ ہو گئے تھے، اور منھ سیاہ ہو چکا تھا۔ سر کے چمکتے ہوئے بالوں میں دھول پڑ گئی تھی۔ تارو کے خَنّے ٹھیک کرنے کے لیے ایک بیت کافی تھا۔ یا شاید دو۔ اِس پر سندر اور سوہن بھی خوش تھے۔ لیکن جب باپو نے اُسے تقریباً ادھ موا ہی کر دیا تو دونوں کے اوسان خطا ہو گئے۔ لیکن اُن میں سے کسی کو بھی چھُڑانے کی ہمت نہ پڑی۔ اب وہ دونوں، تینوں، دل سے رو رہے تھے۔ وہ تارو کے ہر کام میں حصّہ نہ لینے کے خلاف تو بہت تھے، لیکن اِس کا کیا علاج کہ اُن کے تحت الشعور میں ایک جذبہ تھا ،جس کے تحت وہ تارو کو اُسی طرح اُجلے اُجلے کپڑے پہنے، بال بنائے ، اور کنھیّا بنا ہوا ہی دیکھنا چاہتے تھے۔ اُسے لاٹ دیکھنا ہی پسند کرتے تھے…۔