کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

The Break down

سید اسد علی


یہ کہانی بہت الجھی ہوئی ہے۔ شاید اس لئے کہ یہ میری زندگی کی کہانی ہے اور زندگی بھی وہ جو ہزاروں آغازوں میں بٹی ہوئی ہو۔ یہ کوئی سیدھی لکیر نہیں ہے، یہ تو بادلوں میں بنی اشکال کی طرح ہے۔ مبہم، پیچیدہ، گنجلک اور ناقابل اعتبار۔ میں آپ کو کیسے سمجھاؤں وہ معمہ جسے میں خود بھی حل نہیں کر سکا؟شاید آسان طریقہ یہی ہے کہ حقائق کے دفاتر کو بیچ کی میز پر رکھ دیں، کچھ اس طرح کہ ہمارے ہاتھ ان کی گہرائیوں کی کھوج کریں اور آنکھیں ایک دوسرے کے چہرے پر پیوست رہیں۔ جہاں کہیں سانسیں بوجھل ہونے لگیں، آنکھوں کے کونوں میں جگنو چمکنے لگیں یا پھر گالوں پر سرخی دوڑنے لگے۔۔۔۔۔ ہم سمجھ جائیں گے کہ کوئی معانی، کوئی اسرار گرفت میں آ گیا ہے۔ اتنی توجہ، اتنی قربت میں بھلا کہاں چھپا سکیں گے ہم کسی راز کو؟

تو میں ایک بڑے سادہ انداز میں آغاز کرتا ہوں۔ میرا  ایک مسئلہ ہے اور کسی نئی بیماری کی طرح یہ مجھے ناقابل فہم اور نہ حل ہونے والا لگتا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میں اس کے بارے میں کیا کروں؟سوائے اس کے کہ کچھ اور خوفزدہ ہو جاؤں۔۔۔۔ خوف اور میں بہت دیر سے انگلی پکڑے ساتھ چلے آ رہے ہیں۔ یہ وہ سادہ سی سنسنی نہیں ہے جو آپ اندھیروں میں گھومتے ہوئے یا پھر بلا تحاشہ بھونکتے کتے کو دیکھ کر محسوس کرتے ہو۔

نہیں جناب میں ایسی چیزوں سے کبھی بھی خوفزدہ نہیں رہا۔ بھلا وہ بھوت جو خود کسی انجانے خوف سے پرانے گھروں میں دبکا بیٹھا ہو، وہ اندھیرا جو دو روپے کی موم بتی سے چھٹ جائے، وہ کتا جو ادھ کھائی ہڈی سے بہل جائے۔۔۔۔۔ مجھے کیسے ڈرا سکتے ہیں؟

مگر وہ کتا جو تازہ گوشت سے بھی بہل نہ سکے، وہ بھوت جو نئے گھروں میں رقصاں ہو اور وہ اندھیرا جو ہزاروں وولٹ کے بلب لگانے سے بھی دور نہ ہو۔۔۔۔ خوف کی ایک ممکن وجہ ہو سکتے ہیں۔

گو ایسا ہوتا نہیں۔ یہ کردار ہمیں عام زندگی میں نہیں ملتے۔ چاہے میں ہزاروں دفعہ اپنے کیلکولیٹر پر دو جمع دو کروں جواب چار ہی آتا ہے، پانچ کبھی نہیں آتا۔ جب بھی اپنی دائیں جیب میں ہاتھ ڈالوں تو گاڑی کی چابی ہی نکلتی ہے، سانپ کبھی نہیں نکلا۔ علتو معلول کے اس نظام کو میں نے لاکھوں مرتبہ آزمایا مگر اس لمحے کا خوف کبھی میرے دل سے نہ نکل سکا جب یہ ٹوٹ جائے گا۔ یہ خوف بہت مبہم انداز میں شروع ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ یہ آپ کی پوری زندگی پہ چھاتا چلا جاتا ہے اور پھر ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جب آپ مزید خوفزدہ نہیں ہو سکتے۔ آپ کہتے ہو کہ بس بہت ہو چکا۔

ایسے میں لوگ شیروں کی کچھاروں میں کود پڑتے ہیں، ہنستے ہنستے اپنی صلیبوں کو اٹھا لیتے ہیں، خود کو بلند و بالا عمارات سے گرا دیتے ہیں اور چلا چلا کر یہ کہتے ہیں کہ اب مجھے اور خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی ایک ایسے ہی بے مہر لمحے کا قصہ ہے جب میں خوف کی صورت میں اپنی آخری پناہ گاہ، مہربان دوست سے بھی محروم ہو گیا۔ اور اصل خطرہ تو اب شروع ہوا تھا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے روزانہ رات کو لیٹتے ہوئے بھیڑیوں کی howlingآپ کو سونے نہ دے اور پھر ایک رات اکتا کر آپ گھر کا دروازہ ہی کھول ڈالو۔ دروازہ جو آپ اور لاتعداد عفریتوں کے بیچ آخری پردہ تھا۔ اب آپ کسی چیز کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہو تو یقیناً اس کی قیمت تو چکانا پڑے گی۔ میں اس میں چھپے خطرات سے آگاہ تھا پر کبھی کبھار آپ بس، گھر میں دبکے نہیں رہ سکتے۔

یہ سب بڑی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے شروع ہوا۔ چیزیں جنہیں آپ آسانی سے نظر انداز کر سکتے ہو اور کبھی اچھے موڈ میں ہو تو ان پر جی کھول کر ہنس بھی سکتے ہو۔ جیسے کہ اس دن میں نے سبزی فروش کو مردہ مولیاں بیچتے دیکھا۔ یہاں میں گلی سڑی کی بات نہیں کر رہا ہوں کیونکہ ان میں بھی ایک قسم کی زندگی ہوتی ہے۔ اس زندگی کو آپ محسوس کر سکتے ہو اور اگر آپ کا تخیل طاقتور ہے تو دیکھ بھی سکتے ہو۔ مگر وہ تو پتھروں کی طرح مردہ تھیں (اور کچھ پتھر بھی تو ایسے ہوتے ہیں جن میں زندگی کی علامات مل سکتی ہیں)۔ آپ جتنی چاہے کوشش کرو، خود کو یقین نہیں دلا سکتے کہ یہ مولیاں ہی ہیں۔ اگرچہ یہ ان جیسی نظر آتی ہیں۔ مگر ان میں ایک سرد پن، ایک جامد پن سا ہے۔ مجھے لگ رہا ہے کہ شاید میں خود کو صحیح سمجھا نہ سکوں۔ پر سمجھا سکنے کا دعوی میں نے کیا ہی کب تھا؟

سو ایک مسئلہ تھا کہ میں غیر منطقی چیزیں دیکھتا تھا۔ میں علت و معلول کے قانون کو ٹوٹتے دیکھتا تھا۔ اور یہ اتنی بار ہوتا کہ میرا اعتبار ہر چیز سے اٹھتا چلا جا رہا تھا۔ اگر آپ مجھے کچھ عرصہ پہلے ملے ہوتے تو بہت مختلف پاتے۔ میں کبھی بھی معجزوں، جادو اور ارواح جیسی چیزوں پر یقین کرنے والا نہیں رہا۔ میری تربیت سائنسی اور منطقی انداز میں ہوئی ہے۔ ایسا نہیں تھا کہ میں انہیں ناممکن سمجھتا تھا۔ بس کچھ یوں تھا کہ یہ سب میرے لئے بے پناہ غیر اہم تھیں۔ ایک سائنسی انداز میں تخلیق کی ہوئی کائنات میں مجھے ان کی کوئی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ خدا ہے اور ہر شئے کے خالق کی حیثیت سے اس کا وجود تسلیم کئے بنا کوئی چارہ نہیں ہے مگر کتنا غیر خدائی طرز عمل ہو گا اس کا کہ وہ ہمیں متاثر کرنے یا جھنجھلاہٹ میں مبتلا کرنے کو ایسے شعبدے کرتا پھرے۔ اور یوں زندگیوں کو اور قابل رحم بنا دے۔

پر یہی تو اس قصے کا سب سے مضحکہ خیز حصہ ہے۔ آپ گہرے تفکر کے بعد معلوم کرتے ہو کہ کوئی شئے کتنی ناممکن ہے اور پھر آپ کی آنکھوں کے سامنے وہ بڑے عام سے حالات میں وقوع پذیر ہو جاتی ہے۔ آغاز میں، میں نے انہیں نظر ا نداز کرنے کا طریقہ اپنایا۔ یہ میرے لئے ایسی ہی تھیں جیسے کسی شاہکار تصویر میں چند لا پرواہ چھوٹے چھوٹے سے برش سٹروک۔ جب آپ تصویر کو بحیثیت مجموعی دیکھتے ہو تو ہمیشہ ان سے نا اشنا رہتے ہو اور انہیں پاتے ہو تو صرف خورد بینی انداز میں ڈھونڈنے پر۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تصویر میں چھوٹے چھوٹے سے جھول موجود ہیں پر ہم انہیں اک شاہکار کی ستائش میں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ پر اس سے بھی بڑی حقیقت یہ ہے کہ تصویر خورد بینی مطالعہ کے لئے بنی ہی کہاں ہے؟تو چھوٹے موٹے عجیب واقعات کے ساتھ میں ایسے ہی نمٹتا رہا۔

کچھ دیر تو سب اچھا رہا مگر پھر ان واقعات کی تعداد اور شدت میں اضافہ ہونے لگا۔ اور آخر میں سب سے خوفناک بات ہوئی کہ میں انہیں ٹھیک کرنے کو نکل کھڑا ہوا۔ اب یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ گو دکھتا ضرور آسان ہے کہ بھلا کوشش کرنے میں کیا حرج ہے؟

پر ان فطری مظاہر میں ایک طرح کی زندگی ہے۔ اور میں یہاں dullنباتاتی زندگی کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ نہیں جناب!، میں با شعور زندگی کی بات کر رہا ہوں۔ آپ ان کی مدافعت کو محسوس کر سکتے ہو جب بھی کوئی تبدیلی ان کا رخ کرتی ہے۔ یہ منجمد ہو جائیں گے، خود کو معصوم اور بے ضرر شبیہوں میں چھپا لیں گے۔ حتی کہ ان کی شدت بھی کم ہو جائے گی اور پھر جب یہ ہمیں بے خبری میں پائیں گے تو پہلے سے بھی خوفناک طاقت سے اپنی گھات سے نکل آئیں گے۔ اب کے حملہ اتنا سخت ہو گا کہ آپ کی ساری زندگی الٹ پلٹ ہو جائے گی۔ اگر ایک دفعہ یہ شروع ہو جائے تو پھر واپسی کا کوئی راستہ نہیں رہتا۔

میں جانتا ہوں۔ میں سب جانتا ہوں کہ یہ خوف ہماری جبلت، ہمارے شعور میں چھپا ہے۔ لیکن میں سب کچھ داؤ پر لگا رہا ہوں کیونکہ میں اس انجانے وجود کی دیوانہ وار صداؤں سے اکتا گیا ہوں۔ اب چاہے کچھ بھی ہو جائے میں اپنا دروازہ کھول رہا ہوں اور اپنی سوچ اور حواس کی مدھم روشنی میں ہی اس درندے کو تلاش کر کے رہوں گا جس کی howlingنے میری نیندوں کو اڑا رکھا ہے۔

یہ کتاب میری اس تلاش کی داستان ہے۔ یہ کہانیاں اس بکھرے ہوئے معاشرے کے مختلف پہلو ہیں اور مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کو اہرام مصر یا تاج محل سا کوئی لازوال شاہکار نہیں دکھا سکا۔ مگر کیا کروں کہ مجھے ان کہی کو کہنا ہے، ان دیکھے کو دکھانا ہے اور ایک نہ سمجھ میں آنے والے عہد کی داستان رقم کرنا ہے۔ میں تو جیسے ایک inevitable junkyardمیں کھڑا ہوں، جہاں اکیسویں صدی کا ہر خواب ٹوٹتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ تہذیب کا یہ قبرستان بہت ڈراؤنا ہے اور جب خوف حد سے بڑھ جاتا ہے تو اس میں دوسروں کی شرکت لازم آتی ہے۔

مجھے یقین ہے کہ اس بہت بڑے خوف سے اس بھی بڑی امید پیدا ہو گی(کہ یہی اس نگر کا دستور ہے)۔ پر اس دن کے سواگت کے لئے ہمیں اپنی آنکھوں کو کھولنا ہو گا۔ آنکھیں جو ان دیکھے درندوں کے خوف سے بند کر رکھیں ہیں ہم نے۔ آنکھیں جنہیں کھولتے ہیں تو اندھیرے جسم کی ہر درز میں گھسے چلے جاتے ہیں اور آنکھیں جو اگر بند ہوں تو شام و سحر کی ہر تفریق مٹ جاتی ہے۔

٭٭٭