کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

اکیلا گھر

سید اسد علی


میرے گھر میں بھوت کا سایہ ہے۔ اور سایہ ہے تو یقیناً وہ  وجود بھی ہو گا جو اس کا باعث ہے۔ مگر میں نے اسے کبھی دیکھا نہیں۔ بہت بار ایسا ہوا کہ میں دروازے کے قریب سرسراتے اس سائے کے پیچھے بھاگا، کہ دیکھوں اس کے قدموں سے ملا کون ہے؟مگر شاید وہ جسم بہت بڑا ہے کیونکہ میں جتنا بھی بھاگا اس سیاہ وجود کے دوسرے سرے تک نہیں پہنچ سکا۔ بہرحال میرے قریب والے سرے سے تو وہ خاصا جسیم نظر آتا ہے۔ پر سائے اس معاملے میں تو دھوکہ دے ہی جاتے ہیں۔ کبھی تو چوہے کا سایہ ہاتھی سے بڑا دکھتا ہے اور کبھی ہاتھی کا سایہ بھی نظر نہیں آتا۔ اس میں سارا کھیل روشنی کا ہے۔ اب میرے ان مختصر، گھٹن زدہ کمروں میں وہ کونسا سورج ہے جو ایک جسم سے اتنا بڑا سایہ پیدا کر رہا ہے؟یہاں سے ہی میں سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ وہ کوئی بھوت ہی ہو گا۔ پر بھوت ہے تو جیسا کہ تصور کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس ماورائی طاقتیں بھی ہوں گی۔ پلک جھپکنے میں وہ دنیا کے اس کونے کی خبر لا سکے گا وغیرہ۔ لیکن یہ تو سارا دن اس

٭٭a vast deep oc پروفائل سےبیدسیلن زدہ فلیٹ میں پڑا رہتا ہے کسی بوڑھے بیمار کتے کی مانند۔ بس میری آہٹ سن کر ایک کمرے سے دوسرے میں یا کچن، باتھ روم میں سرسراتا رہتا ہے۔ اگر وہ ان لامحدود طاقتوں کے ایک ہزارویں حصے کا بھی مالک ہے تو یہ بڑی معمولی بات ہو گی کہ وہ اپنا وقت یوں مجھ جیسے عام سے انسان کو خوفزدہ کرنے یا پھر چڑانے میں صرف کر رہا ہے۔ اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یا تو وہ سب قصے کہانیاں فرضی ہیں، یا پھر یہ میرے والا کوئی بہت بیکار قسم کا بھوت ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ میری طرح یہ بھی بس تنہائی پسند ہو۔ مجھے اس پر اعتراض نہیں ہے کہ وہ ایسا کیوں ہے؟مگر سوال یہ ہے کہ وہ میرے گھر میں کیوں دندناتا پھر رہا ہے؟

مجھے ٹھیک سے یاد تو نہیں کہ کب مجھے پہلی بار یہ احساس ہوا کہ جیسے کوئی اور بھی ہے یہاں؟شاید جب میں نے کافکا کی کتاب کو بستر کی بجائے میز پر پڑے پایا۔ یہ بات تو طے ہے کہ میں خود کو کبھی میز، کرسی پر بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور نہیں کر سکا (اگرچہ اس کے لئے میں نے کوشش بھی بہت کی)۔ ہاں البتہ یہ ممکن ہے کہ سونے سے پہلے میں نے کتاب کو پہلو میں رکھنے کی بجائے میز پر پھینک دیا ہو۔

مگر کتاب تو میز پر ایسے پڑی تھی جیسے کوئی پڑھتے پڑھتے بند کر گیا ہو۔ پھینکنے  اور اس حالت میں جو فرق ہے میں اس کو بخوبی محسوس کر سکتا ہوں۔ یہاں میں اس بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ مجھ جیسے آدمی کو جس کے گھر میں ہر چیز بکھری نظر آتی ہے، بھی احساس ترتیب رہتا ہے۔ بکھرا ہونا اور بے معنی ہونا دونوں مختلف چیزیں ہیں۔ میری قمیض زمین پر کیوں گری ہے؟کیونکہ میں کمرے میں آتے ہی اس کونے میں اپنے کپڑے تبدیل کرتا ہوں۔ اب کپڑے اتار کر زمین پر پھینک دینا بے ترتیبی ضرور ہے مگر ان کا اس مخصوص کونے میں گرا ہونا منطقی طور پر سمجھ میں آتا ہے۔ تو ایک ایسی ہی منطقی ترتیب میرے گھر میں بھی تھی جس میں ذرا سا بھی بگاڑ فوراً نظر میں آ جاتا ہے۔ اب فرض کریں کہ یہی بھوت کسی ایسے آدمی کے گھر میں ڈیرا جماتا جس کی ہر چیز قرینے سے لگی ہوتی۔ ایسے حالات میں اسے بے خبر رکھنا بہت ممکن تھا۔ دھونے کے بعد پلیٹ الماری میں جائے گی، پڑھنے کے بعد کتاب میز پر سلیقے سے رکھی ہو گی۔ ہر چیز کا ایک مخصوص مقام ہے اور وہ اتنا obviousہے کہ کوئی بھی اسے جان سکتا ہے۔ مگر میری ترتیب کو صرف میں ہی جان سکتا ہوں۔ تبھی تو میں چونک اٹھا، جب میں نے باربرا کورٹ لینڈ کے نئے تہلکہ خیز ناول کا اقتباس (جو ایک کتابچے کی صورت میں کوک کے ڈبے سے نکلا تھا) اپنی کھڑکی کے سامنے سڑک پر پایا۔ مانا کہ اس best-sellerناول کا اقتباس ہی اتنا لایعنی تھا کہ اسے سڑک پر کیا شہروں سے دور صحراؤں میں پھینک دینا چاہئے تھا۔ مگر مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ چند صفحے پلٹنے اور سطروں پر نظریں دوڑانے کے بعد میں نے اسے خاصی احتیاط کے ساتھ ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا تھا۔ اور مجھے یاد ہے کہ ایسے کتابچے کا گھر میں ہونا میرے لئے تکلیف دہ ضرور تھا پر اب کون اس سرد موسم میں بستر سے اٹھے، کھڑکی کھولے اور اسے باہر پھینک دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر یہ باہر سڑک پر تھا اور میری ردی کی ٹوکری میں کوئی اور کتابچہ نہ تھا۔ صاف ظاہر ہے کہ میرے جانے کے بعد اس نے اسے ٹوکری سے نکالا(دیکھنے میں سرورق خاصا جاذب نظر تھا) ، چند سطروں پر نظریں دوڑائیں، کچھ صفحے الٹے پلٹے۔ پھر تیز تیز قدموں سے چلتا کھڑکی تک گیا، پٹ کھولے اور تمام تر طاقت کے ساتھ اسے باہر پھینک دیا۔ یقیناً ایسا ہی ہوا ہو گا۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتاب کھڑکی سے بہت دور نہیں تھی اور اس بات کی تو میں قسم اٹھا نے پر  تیار ہوں کہ اسے بہت طاقت سے پھینکا گیا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو کیا وہ اتنا کمزور ہے؟کتنی مشکل ہوتی ہے گی اسے میرے آنے پر ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک جانے میں؟یہ سوچ کر میں نے بلا ضرورت کمروں میں گھومنا کم کر دیا۔ اور اگر گھومتا بھی تو بڑی کاہلی سے کہ میں اسے جلدی میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا تھا۔

ہمارے بیچ ایک خاموش سمجھوتہ سا ہو گیا تھا۔ جیسے کپڑے تبدیل کرتے ہوئے میں assumeکر لیتا کہ اس نے یقیناً آنکھیں بند کر لیں ہوں گی، یا پھر دوسرے کمرے میں چلا گیا ہو گا۔ اسی طرح اگر صبح کے اخبار میں کوئی دلچسپ خبر ہوتی تو میں اسے با اواز بلند پڑھتا تا کہ اسے اس خبر کے لئے بہت انتظار نہ کرنا پڑے(میں نہیں چاہتا تھا کہ کسی دن وہ بیتاب ہو کر میرے ہاتھ سے اخبار ہی چھین لے)۔ اخبار کی دو کاپیاں لینے کے بارے میں بھی سوچا پر پھر خیال بدل دیا۔ اس سے اسے بھی احساس ہو جائے گا جیسے میں اس کی موجودگی سے باخبر ہوں اور یہ جو چھپنے والا بھیس اس نے اتنے دن سے بدل رکھا ہے ایک مذاق بن کر رہ جائے گا۔ پھر اخبار پھینکنے والا بھی چونک تو ضرور پڑے گا۔ اور مجھے کہنے دیں کہ اس قسم کی اپارٹمنٹ بلڈنگز میں مجھ جیسے آدمی کو بہت محتاط ہو کر رہنا پڑتا ہے۔ جہاں لوگ پالتو جانوروں کا وجود برداشت نہیں کرتے وہاں ایک بھوت کا خیال بھی کھلبلی مچا سکتا ہے۔ بستر پر صبح سے شام تک میرا قبضہ ہوتا اور دن میں اس کا۔ ایک دن جلدی گھر آنے کے باوجود میں گھنٹوں بلا ضرورت  ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھا رہا کیونکہ میں اس کی نیند خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔

مجھے مابعد طبیعات کے مسائل اور ماورائے عقل چیزوں میں کبھی دلچسپی نہیں رہی۔ اس لئے شاید مجھے جاننے والوں کو یہ دیکھ کر بہت حیرت ہو گی کہ میں ایک بھوت پر یقین کرنے لگا ہوں (ویسے مجھے جاننے والا ہے ہی کون پر فرض کریں کہ۔۔۔۔۔۔)۔ اس میں سب کھیل محسوسات کا ہے۔ اور محسوسات عقل سے پہلے آتے ہیں۔ جب ایک parameciumروشنی کی تلاش میں سفر کرتا ہے تو اسے کسی عقل کی ضرورت نہیں ہوتی، ایسے ہی چھوئی موئی کا ہاتھ لگانے پر سکڑ جانا یا پھر خوفزدہ جانوروں کا بے تحاشا بھاگنا۔ یہ سب اعمال محض محسوسات کی وجہ سے ہیں اور زندگی کے ایسے ادنی طبقات میں بھی نظر آتے ہیں جہاں عقل کا تصور محال ہے۔ تو میں اس پر یقین کرتا ہوں کیونکہ میں اسے محسوس کرتا ہوں، کمروں میں ادھر سے ادھر سرسراتا ہوا پاتا ہوں۔ رہی بات اسے سمجھنے کی، تو کسی نے کب کسی کو سمجھا ہے؟کسی نے تمام عمر ایک شیر کو سدھانے میں لگا دی اور ایک دن  شیر نے اسی کا بھیجا کھا لیا۔ کسی نے اپنے سارے خلوص اور دیوانگی کے ساتھ ایک عورت کو چاہا اور ایک دن اس کو بستر میں کسی اور کے ساتھ پایا۔ تو جب آپ معمولی چیزوں  جیسے کتا، بندر وغیرہ  کو نہیں سمجھ سکتے تو مجھے اسے سمجھنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟بس وہ ہے کیونکہ میں اسے محسوس کرتا ہوں۔ پر محسوس تو میں خدا کو بھی کرتا ہوں۔ میں اس کی تنبیہی آواز سنتا ہوں جب جب کسی آنکھ میں میری وجہ سے آنسو آتے ہیں۔ میں اسے دیکھ سکتا ہوں جب گہرے طوفانوں میں جہاز کے بچنے کی کوئی امید نہ رہے، میں اس کی کی خوشبو محسوس کرتا ہوں جب باغ میں موتیا کے بہت سارے پھول کھلے ہوں۔ تو کیا اس سب کا مطلب ہے کہ خدا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

نہیں میں کچھ نہیں کہ سکتا۔ ان اربوں لوگوں کی طرح جن کی سوچ کی trailیہاں آ کر رک جاتی ہے یا وہ روک دیتے ہیں۔ ہمیں بس اتنا ہی خدا چاہیے ہوتا ہے جتنا وہ ہمیں تھوڑا motivateاور کچھmeditateکرنے کے لئے کافی ہو۔ اسے سے زیادہ خدا تو ہماری زندگیوں پہ چھاتا چلا جاتا ہے۔ وہ ایسی دلدل کی طرح ہے جس میں سوچنے والا بڑی تیزی سے اندر اترتا چلا جاتا ہے اور نہ سوچنے والا بڑی آہستگی سے، بڑے غیر محسوس انداز میں۔ جب اس دلدل کی گود ہی مقدر ٹھہری تو پھر یہ جھجکنا کیسا؟یا پھر جب دلدل کی گود میں اترنا ہی مقدر ہے تو پھر کیوں نہ ان چند لمحوں کو، جو ہمارے شعور کی پہلی صبح اور دلدل میں اترنے والی رات کے بیچ ہیں، بھرپور جی لیا جائے؟

پھر ایک شام میں گھر کو لوٹا تو میرے ساتھElenaبھی تھی۔ وہ ایک معمولی صورت کی سطحی سی عورت تھی۔ کسی pizza shopمیں کام کرتی تھی اور مہینوں  میں کبھی ایک مرتبہ جب شاید کوئی اور اس کے پاس نہیں ہوتا تھا تو وہ مجھے کال کر دیتی۔ اور میں ہمیشہ تیار ہی ہوتا تھا۔ اس لئے نہیں کہ میں کوئی بہت sexually activeقسم کا انسان تھا بلکہ کچھ یوں تھا کہ اس کے سوا اب میں کسی کو جانتا ہیں نہیں تھا۔ اور کسی نئے تعلق کا حوصلہ اور patienceاب میں خود میں نہیں پاتا تھا۔ اس بھوت کے بعد یہ پہلی بار تھی کہ وہ میرے گھر میں آ رہی تھی۔ میں نے آہستگی سے دروازہ کھولا۔ اور اگرچہ یہ تھوڑا نامناسب ہی لگتا تھا پر میں پہلے خود اندر داخل ہوا۔ سایہ آہستگی سے سرسراتا ہوا کچن میں چلا گیا۔ میرے پیچھے پیچھے Elenaبھی داخل ہوئی۔ اس کے چہرے پر ہلکی سی بیزاری تھی۔ آخر ایک اوسط درجے کا گھرSaturday nightکی خواب بھری آنکھوں کے لیئے خاصی تلخ سچائی تھی۔ وہ تیزی سے چلتی ہوئی کچن کی طرف گئی۔

’’بہت پیاس لگ رہی ہے‘‘۔

میں نے اسے روکنا چاہا اور پھر ارادہ ترک کر دیا۔ ساتھ ہی ایک عجیب سا احساس ہوا۔ اب اگر وہ کچن سے نکل کر اس کمرے میں آتا ہے تو میں یقیناً اسے دیکھ لوں گا اور اگر کچن میں رہتا ہے تو Elena۔ اس سے پہلے تو میں نے بس ایک سرسراتے ہوئے سائے کو ہی دیکھا تھا۔ میں نے بیتابی سے نظریں کچن کے دروازے پر جما دیں۔ اب کسی لمحے وہ آنے کو ہی تھا۔ مگر کچھ نہ ہوا۔ نہ Elenaکی کوئی چیخ اور نہ اضطرابی حالت میں حرکت کرتا ہوا وہ بھوت۔ وہ واپس آئی اور بستر پر گر گئی۔

’’میں ابھی آیا‘‘۔ کہ کر تیزی سے کچن میں گیا۔ وہ کہیں نہیں تھا۔

آخر وہ کہاں جا سکتا تھا؟

ایسے میں ایک چھوٹا سا دھبہ مجھے میز کے نیچے سرسراتا ہوا محسوس ہوا۔

’’ہوں تو جناب یہاں ہیں۔ چھوٹی سی میز ہے، خاصی تکلیف میں ہوں گے۔ ‘‘میں مسکراتا ہوا باہر نکل آیا۔

اس رات میں نے بڑی بے رحمی سے بہت بار کچن کا رخ کیا۔ کبھی پانی پینے کے بہانے، کبھی کچھ کھانے کے لیے، کبھی دبے پاؤں، کبھی تیزی سے پاؤں پٹختے ہوئے۔ اور ہر بار میں نے اسے ایک نئی تکلیف دی۔ میں یہ سب کیوں کر رہا تھا؟کیونکہ آج میں اکیلا نہیں تھا۔ میرے ساتھ کوئی تھا(خواہ ایک رات کے لیے ہی سہی)۔

وہ رات گزر گئی۔ ہر رات گزر ہی جایا کرتی ہے۔ مگر گزرا ہوا  وقت آنے والے لمحوں پر اپنے نقش  چھوڑ جاتا ہے۔ صبح بستر پر میں اکیلا تھا۔ اور یہ کوئی عجیب بات نہیں تھی۔ اگر اس کے الٹ ہوتا تو میں پریشان ہو تا۔ میں آہستگی سے اٹھا اور کچن میں گیا۔ آج مجھے کوئی سایہ سرسراتا ہوا محسوس نہیں ہوا۔ میں نے محتاط نظروں سے ہر سمت دیکھا مگر ایک روکھا پن، ایک نا آشنا ٭٭٭سا احساس، ایک خالی گھر  ے اسے خا ہر سمت رقصاں تھا۔ ایک بہت بڑی تنہائی ایک چھوٹے سے گھر میں، جیسے کوئی جن کسی بوتل میں۔ اور جن سے بھری بوتل تو میں بچپن میں خود کھوجتا رہا تھا۔ پھر میں آج اس قدر خوفزدہ کیوں ہو رہا تھا؟شاید اس لیے کہ اس جن کے ساتھ میں خود بھی بوتل میں تھا۔

اکیلا گھر جس کے کمروں میں جتنا بھاگو کوئی سایہ نہیں سرسراتا۔ اکیلا گھر جس میں صبح کو بلند آواز میں جیسی بھی خبر پڑھ کر سنا ڈالو کوئی کان اسے نہیں سنتا۔ اکیلا گھر جس میں ایک بوڑھی ہوتی ہوئی عورت کے قہقہوں کے سوا کوئی آواز نہیں گونجتی۔ اکیلا گھر جس کے کونے میں پڑے میز کے نیچے ایک سایہ بہت دنوں سے ٹھہرا ہے۔ وہ مجھ سے خوفزدہ ہے، ناراض  یا بے پرواہ۔ میں نہیں جانتا۔ میرے ایک مذاق نے اسے اتنا ڈرا دیا کہ اعتبار کا موسم لوٹنے میں نجانے کتنے زمانے لگیں؟میری ایک بھول نے اسے اتنا خفا کر دیا کہ پھر سے مان جانے میں شاید کیا کیا بہانے لگیں؟میرا تجسس بہت بڑا سہی مگر میرا انتظار اس سے بھی بڑا ہے۔ یہ ایک امید، کہ اس گھر میں کبھی کوئی سایہ لہرا سکے گا زندہ رہنے کا خاصہ معقول بہانہ ہے۔ اور پھر زندہ رہنے کے لئے اگر ایک معقول بہانہ مل جائے تو  اور چاہیے بھی کیا؟

٭٭٭