کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی

سید اسد علی


میرا تعلق شمالی پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں  پیر بلہ سے ہے۔ گاؤں کے اکثر لوگ رشتہ دار ہیں۔ ہمارا گاؤں پنجاب کے ان ہزاروں غیر اہم علاقوں میں سے ایک ہے، جو مختصر اتنا ہے کہ کبھی کبھار یونین کونسل کے نقشوں میں بھی اسے ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے اردگرد نسبتاً بڑے گاؤں ہیں۔ اس لئے اسے اکثر ان میں ملا دیا جاتا ہے۔ چھوٹا ہونے کے باوجود اس گاؤں میں، اس کے لوگوں میں، اس کے جانوروں میں، ہر چیز میں ایک خاص طرح کی انا ہے، انفرادیت ہے۔ آپ کسی مویشی منڈی چلے جاؤ۔ اتنے جانور کہ سر چکرا جائے۔ پر ایسے میں بھی پیر بلہ کا جانور سب سے الگ نظر آئے گا۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمارے جانور کچھ قد کاٹھ میں بڑے ہیں، یا ان کے رنگ صاف ہیں۔ بس سخت گرمی کے موسم میں جانوروں کو یکدم پانی دکھائے دے تو سب اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ ایسے میں جو جانور بے نیازی سے زمین پر پڑے گھاس پھوس کے ٹکڑوں پر منہ مارتا نظر آئے وہ یہیں کا ہو گا۔ یہی خوبی انسانوں میں بھی آ گئی ہے۔ ہمارے لوگ یوں تو اکثر گاؤں کی حدود سے کم ہی باہر نکلتے ہیں پر جب نکلیں تو خوب بن سنور کر نکلتے ہیں۔ ایسے کہ عام جاٹوں سے بڑے مختلف نظر آتے ہیں۔

پڑھنے لکھنے کا رواج یوں تو اس علاقے میں کم ہی تھا مگر اب کچھ عرصے سے بچے سکول جانے لگے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کو گاؤں چھوڑنے کی ضرورت پیش آنے لگی ہے۔ کچھ سال پہلے جب نور دین کے بیٹے نے ڈاکٹری پاس کی تو اسے گجرات میں نوکری ملی۔ اس نے باپ سے شہر منتقل ہونے کی اجازت چاہی۔ باپ نے صاف کہ دیا کہ

’’میاں تمہاری زندگی ہے۔ جو چاہے کرو اور پھر اللہ پاک کا بھی فرمان ہے کہ میری زمین میں پھیل جاؤ۔ سو میں تمہیں روکوں گا نہیں۔ بس سوچتا ہوں کہ اس گاؤں کے لوگوں کا بھی کچھ حق ہے تم پر۔ سو ایک سال تم مفت لوگوں کی خدمت کرو پھر جہاں چاہے چلے جاؤ۔ ‘‘

آفرین ہے اس بیٹے پر جس کے ماتھے پر ایک شکن بھی آئی ہو۔ ایک سال تک اس نے لوگوں کا دلجمعی سے علاج کیا۔ پھر سال کے بعد لوگوں نے آنسوؤں اور دعاؤں کے سائے میں اسے رخصت کر دیا۔ جاتے ہوئے یہ بھی وعدہ کر گیا کہ وقتاً فوقتاً گاؤں کی خدمت کو آتا رہے گا۔ پھر اس کے بعد تو اس چیز نے ایک مقدس روایت کی حیثیت اختیار کر لی۔ اب کوئی وکیل ہے تو پہلا سال گاؤں کے لوگوں کے مقدمے مفت لڑے، استاد ہے تو ایک سال تک بچوں کو مفت تعلیم دے۔

ایسے میں جس دن میں پنجاب یونیورسٹی سے اردو ادب میں ڈگری لے کر گھر پہنچا تو پورے گاؤں نے میری خوب خاطر مدارت کی۔ کچھ دن تو اسی پذیرائی میں گذر گئے۔ ایک صبح جو سو کر اٹھا تو ناشتے کے بعد ابا نے باہر چلنے کو کہا۔ ہم دونوں دیر تک کھیتوں کے کنارے ٹہلتے رہے۔ مختلف باتیں ہوئیں۔ پھر ابا نے پوچھا کہ میرا ارادہ کیا ہے؟

’’بس ابا شہر جاؤں گا۔ سوچ رہا ہوں کہ چھوٹا سا فلیٹ لے لوں۔ ‘‘میں ابھی شاید اور کچھ بولتا پر ابا نے ٹوک دیا

’’مجھے پنج سالہ منصوبے نہ سناؤ۔ صاف لفظوں میں بتاؤ کہ آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے؟‘‘

’’بس ابا میں لکھنا چاہتا ہوں۔ ‘‘

’’پر بیٹا یہ تو کوئی کام نہ ہوا؟‘‘

’’ارے نہیں ابا۔۔۔۔۔۔۔۔ شہر میں بڑی عزت ہوتی ہے لکھنے والوں کی۔ بڑے بڑے سرکاری افسروں اور ڈاکٹروں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں یہ لوگ۔ ‘‘میں نے کہا۔

’’اچھا۔۔ چل رب تجھے خوش رکھے۔ پر تجھے گاؤں کا قاعدہ تو معلوم ہی ہے۔ پہلا سال گاؤں کے واسطے۔ ‘‘

میں تھوڑا گڑبڑا گیا۔

’’پر میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ادھر کیا کر سکتا ہوں؟‘‘

’’وہی جو تو نے کرنا ہے۔ کہانیاں لکھ۔ ‘‘ابا نے جھلا کر کہا۔

’’پر اس چھوٹے سے گاؤں میں، میں کونسی کہانیاں لکھ سکوں گا۔ بڑی کہانیاں، بڑے شہروں میں ہوتی ہیں ابا۔۔۔ یہ میری عمر کے بڑے اہم سال ہیں۔ مجھے جانے دو تاکہ میں وہاں رہ کر کچھ کر سکوں۔ ‘‘

ابا کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گذر گیا۔ اس نے مجھے ایک کٹے ہوئے درخت کے تنے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ پھر کچھ دیر خاموش رہا جیسے بولنے کے لئے الفاظ اکٹھے کر رہا ہو۔

’’تیرا دادا۔۔۔۔ انگریزوں کی فوج میں سپاہی تھا۔ ان کے ساتھ اس نے پتہ نہیں کتنے ملکوں کی سیر کی۔ کہتا تھا کہ چار سال سمجھو ریل گاڑی اور جہاز میں ہی گذر گئے۔ پہاڑ، ریگستان، سمندر، میدان، جنگل۔۔۔۔۔ کہاں کہاں نہیں گیا۔ بولتا تھا کہ موسم بدلتے رہے، آدمیوں کے قد اور رنگ بدلتے رہے۔ پر جہاں بھی گیا زندگی کی کہانی نہیں بدلی۔ وہی لوگ، وہی کام، وہی لالچ، وہی پیار۔۔۔۔۔۔ بولتا تھا کہ ہم سب لوگ ایک عجیب ڈور سے بندھے ہوئے ہیں۔۔۔ میں نے وہ علاقے، وہ لوگ، وہ منظر کبھی نہیں دیکھے اور سچ پوچھو تو کبھی دیکھنے کی خواہش بھی نہیں ہوئی۔ کیونکہ جانتا ہوں کہ آدمی چھوٹے بڑے نہیں ہوتے ان کا فاصلہ ہمیں ان کو چھوٹا بڑا دکھاتا ہے۔ اگر تو سچ مچ کہانیاں لکھ سکتا ہے تو یقین کر تو یہاں بھی لکھ لے گا۔ ‘‘

میں لا جواب سا ہو گیا۔ گو کہنے کو تو میرے پاس بھی بہت کچھ تھا۔ بہت بار چاہا کہ ابا سے کہوں کہ زمانہ بہت بدل گیا  ہے۔ بہت خیال ہوا کہ انہیں جتلاؤں کہ جس علاقے کے لوگ گائے بھینسوں سے اوپر کی سوچ نہیں سکتے وہاں کونسا لافانی ادب تخلیق ہو سکتا ہے؟پر میں خاموش رہا۔ ابا کافی دیر میری طرف دیکھتا رہا پھر مایوس انداز میں آہستہ آہستہ چلتا گاؤں کی طرف چلا گیا۔ کہنے کو تو میں اب بھی مرے مرے انداز میں اس کے پیچھے چل رہا تھا مگر میں اس سے بہت دور تھا۔

اس رات میں بہت دیر تک جاگتا رہا۔ میں چھت پر لیٹا تھا اور میرے سامنے ہزاروں ستارے تھے۔ لیکن میرے ذہن میں شہر کے پوش علاقے میں لئے ایک فلیٹ کا منظر تھا(جو کبھی کبھی کسی فیشن ایبل گھر میں paying guest  کے منظر سے بدل جاتا)۔ کمرے میں جا بجا کتابیں اور کاغذات بکھرے تھے۔ الجھے الجھے بالوں، کثرتِ سیگرٹ نوشی سے کالے ہونٹوں اور مدقوق چہروں والے دانشوروں کا ایک جمگھٹا تھا۔ میں جن کی توجہ کا مرکز تھا۔ وہ سب میری تحریر کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے، ملکی مسائل کا جائزہ لے رہے تھے، معاشرے کو بدلنے کی بات کر رہے تھے اور پھر ایسے میں کتوں کے بھونکنے نے مجھے اپنے خیالوں سے چونکا دیا۔ میرے آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ یونیورسٹی کے سب دوست، اساتذہ یاد آنے لگے۔ یونیورسٹی چھوڑنے کا وقت ایک طالب علم کی زندگی کا سب سے بہترین وقت ہوتا ہے۔ وہ بے حد پر جوش ہوتا ہے، دنوں میں سب کچھ کر ڈالنا چاہتا ہے، آسمان کو چھو لینا چاہتا ہے۔۔۔۔ اور ایسے میں اگر کوئی اسے کہے کہ ابھی نہیں۔ ابھی ایک سال ٹھہر جاؤ۔۔۔۔۔۔ کوئی انتظار کرے تو کیسے؟

پر پھر بڑے لوگ یاد آئے۔ استاد اللہ بخش کی پینٹگنز جن میں گاؤں کے عام سے مناظر جاوداں ہو گئے تھے، پریم چند کے افسانے، احمد ندیم قاسمی کے کردار۔ تو بڑی کہانیاں چھوٹے موضوعات پر بھی لکھی جا سکتی ہیں۔۔۔۔ کیا کریں کہ بڑا شہر ان کے لیئے لاکھ زرخیز سہی۔ میں تمام رات سوچتا رہا اور موذن کی پہلی آواز کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔ میری ماں اس وقت نلکے پر کھڑی وضو کو پانی بھر رہی تھی۔

’’اماں۔۔۔۔۔ میں پہلا سال یہیں رکوں گا۔ ابا کو بتا دینا۔۔۔ اور ہاں وہ چوبارے کا کمرہ بھی صاف کروا کر میری سب کتابیں وہاں لگوا دینا۔ ‘ ‘میری ماں کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ لگی مجھے دعائیں دینے اور میں ایک نئے عزم کے ساتھ مسجد کی طرف چل پڑا۔

٭٭

 

کہنے کو تو میں رک گیا تھا اور گاؤں کے لوگوں نے بظاہر خوشی کا اظہار بھی کیا تھا۔ پر چونکہ وہ لوگ ابھی تک کچھ صحیح سمجھ نہ سکے تھے کہ میں کیا کروں گا اس لئے بات کرنے میں وہ کچھ محتاط سے تھے۔ اس شام چوپال میں کچھ لوگوں نے تو یہاں تک کہ دیا ابا سے کہ تیرے لڑکے کو کام نہ کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ اب بھلا کہانیاں لکھنا بھی کوئی کام ہوتا ہے؟ اس موقع پر ابا کچھ لاجواب سا ہو گیا، تو فرمانبردار بیٹے کی طرح میں آگے بڑھا۔ گلا صاف کیا اور لیڈرانہ انداز میں کہا۔

’’بھائیو۔۔۔ مجھے پتہ ہے کہ آپ لوگ میرے بارے میں شکوک میں مبتلا ہو۔ اور میں بھی کوئی بڑا بول نہیں بولنا چاہتا۔ سچی بات اتنی ہے کہ میں اس گاؤں سے بڑی محبت کرتا ہوں اور دوسرا یہ کہ اگر میری کہانی کامیاب ہو گئی تو آج نہیں آنے والے سو سالوں میں بھی لوگ اس گاؤں کو، اس کے لوگوں کو بھولیں گے نہیں۔ رانجھے کے تخت ہزارہ کی طرح یہ گاؤں بھی کتابوں اور ذہنوں میں نقش ہو جائے گا۔ ‘‘

لوگ تھوڑی دیر تو خاموش رہے۔ مگر جب حافظ صاحب نے میرا ہاتھ پکڑ کر لوگوں کو بتایا کہ گاؤں کے کسی لڑکے نے آج تک انہیں مایوس نہیں کیا اور مجھ سے تو انہیں بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ تو اس نے شکوک کی فضا دور کر دی اور گاؤں کے  تقریباً سب لوگوں نے مجھے اپنے پورے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ اس شام چوپال سے میں ایک کامیاب انسان کی طرح نکلا۔

ویسے یہ کوئی بہت آسان کام نہ تھا۔ میں ہمیشہ سے بہت idealistرہا ہوں۔ میں جب کسی نئی جماعت میں جاتا تو ایک لمحے کے واسطے بھی کبھی نہ سوچتا کہ میں اول کے سوا بھی کوئی پوزیشن لے سکتا ہوں۔ ایسے ہی اگر میں کہانی لکھنے کا سوچ رہا تھا تو کچھ ایسا نہیں تھا کہ میں چھوٹا موٹا کمرشل ادیب بننا چاہتا تھا، ایسا بھی نہیں تھا کہ میں قاسمی یا منٹو بننے پر مطمئن ہو جاتا۔ میں اپنی تحریروں کے ذریعے

بہت آگے جانا چاہتا تھا۔ ایک منزل جس پر کافکا، ٹیگور اور گوئٹے بھی گرد راہ معلوم ہوں۔ میں اس سے کم پر سمجھوتا نہیں کر سکتا تھا۔ سو یہ تھا میں اور اس چھوٹے سے گاؤں سے مجھے آغاز کرنا تھا اپنے اس بیکراں سفر کا۔

بہرحال میں نے اپنے کام کا آغاز بڑے منظم انداز میں کیا۔ بالکل جیسے میں ہر نئے تعلیمی سال میں کیا کرتا تھا۔ تمام کتابوں کو اکھٹا کرنا، الٹنا پلٹنا، پرانے امتحانی پرچہ جات دیکھنا اور اس سب کی روشنی میں ایک قابل عمل مگر دشوار گیم پلان بنانا۔ میں ایسے پلان پر کبھی ایک ہفتہ بھی نہ چل سکا۔ یوں پڑھنے بیٹھتا تو دس دن کا کام ایک دن میں ختم کر ڈالتا اور پھر خود کو ملامت کرتا کہ آخر ایسا آسان ٹارگٹ ہی کیوں چنا، مگر پھر ہفتوں گزر جاتے اور طبیعت پڑھائی کی طرف مائل ہی نہ ہوتی۔ یہاں بھی میں نے اپنے کام کو زبان و ادب، زمینی حقائق اور کہانی کے انتخاب صورت میں تقسیم کیا۔ اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بارے میں بھی کچھ بیان کر دیا جائے۔

زبانو ادب سے میری مراد بہرحال یہی تھی کہ فنی طور پر میری کہانی میں کوئی سقم نہ ہو۔ اس کے واسطے میرے ذہن میں دو راستے تھے۔ ایک تو پھر سے گرائمر کے اصولوں پر نظر ڈالنا اور دوسرا اعلیٰ ادب کا مطالعہ کرنا۔ گرائمر یوں تو اردو ادب میں ایم اے کرنے کے بعد سمجھا جاتا ہے کہ طالب علم جانتا ہی ہو گا اور خاص طور پر جو اہل زبان بھی ہو مگر جو حضرات ہمارے تعلیمی نظام کو جانتے ہیں انہیں یہ سن کر حیرت نہ ہو گی۔ دوسرا ملکیو غیر ملکی ادب کے مطالعے سے یہ مقصود تھا کہ کسی ایسے موضوع پر قلم نہ اٹھایا جائے جس پر پہلے لکھا جا چکا ہو، ساتھ میں دیکھا جائے کہ دیگر ادباء کیسے لکھتے ہیں وغیرہ۔ اس کے لئے میں نے ایک طویل لسٹ کتابوں کی تیار کی جنہیں اس سال میں پڑھنا تھا۔ دیکھا جاتا تو اتنی تیاری پی ایچ ڈی کے لئے بھی کافی ہوتی۔

دوسرے حصے کا تعلق اس علاقے کے حقائق سے تھا۔ یوں تو میں یہیں پلا بڑھا تھا مگر ایک کامیاب کہانی نگار کے لئے اپنے موضوع کا جزئیاتی علم بھی ضروری ہوتا ہے۔ بغیر اس کے وہ اپنے موضوع سے انصاف نہیں کر سکتا۔ اس لئے میں نے چہل قدمی شروع کی تاکہ گاؤں کا کوئی چپہ میری نظروں سے اوجھل نہ رہ سکے، گھنٹوں کھڑا رہ کر لوگوں کو کام کرتے دیکھتا، بڑھے بوڑھوں کے لمبے انٹرویو کیے تاکہ اس علاقے کی تاریخ اور اہم واقعات سے شناسائی ہو سکے۔ اور تو اور علاقے میں چلنے والی ہوا کی سمت، خوشبوؤں کے منبع، جانوروں کے خصائل جیسی چیزوں کے متعلق بھی مکمل معلومات حاصل کرنے کی سعی میں تھا۔

البتہ تیسرے حصے کے بارے میں میں خود بھی اتنا ہی لاعلم تھا جتنا کوئی ہو سکتا ہے۔ اب اسے سقراط کی زبان میں inspirationکہتا یا پھر کسی muse  والے قصے کو سچ سمجھ لیتا ایک برابر تھا۔ جانتا تھا تو صرف اتنا کہ میں جتنی چاہے ریسرچ کر لوں پھر بھی مجھے کہانی لکھنے کے لئے اس ایک لمحے کا ہی انتظار کرنا ہو گا۔ وہ لمحہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر میں اس لمحے کی وضاحت نہیں کر سکتا کیونکہ اگر وضاحت کرتا ہوں تو سمجھو میں اسے جانتا ہوں۔ اور اگر میں اسے جانتا ہوتا تو روز کوئی شاہکار نہ تخلیق کر لیتا؟میں بس اس لمحے کے لیے تیار رہ سکتا تھا۔ سو میں نے اپنا کام شروع کر دیا۔

صبح سورج نکلنے سے تھوڑا پہلے میں اٹھ بیٹھتا۔ ایک چھڑی ہاتھ میں لے کر گاؤں کی سیر کو نکل جاتا۔ کھیتوں، پگڈنڈیوں میں بڑی دیر تک گھومتا رہتا، سرسراتی فصلیں، پانی لگاتے کسان، رات بھر بول کر تھکے ہوئے جھینگر، پھر دور درختوں کی اوٹ سے شرماتے ہوئے جھانکنے والا سورج  اور اس کے بعد ہر شئے پر گویا ایک سنہری سی چادر پڑ جاتی۔ دن چڑھے میں گھر آتا۔ لسی، پراٹھوں کے بعد چوبارے پر جاتا اور کتابیں کھول لیتا۔ میرا یہ وقت عظیم شاہکاروں کے بیچ میں گذرتا۔ دوپہر کو ماں آواز دیتی تو چوبارے سے اترتا۔ ایسے میں ابا بھی آ جاتا۔ ہم مل کر کھانا کھاتے۔ کھانے کے بعد تھوڑا سا سستاتا پھر گاؤں میں نکل جاتا۔ لوگوں سے ملتا، شام کو چوپال میں بیٹھتا اور پھر رات گئے جب واپس آتا تو بیٹھ کر کچھ لکھنے کی کوشش کرتا۔ پر اس لمحے کی عدم موجودگی محسوس کر کر بستر پر پڑا رہتا۔

کچھ ہفتے تو اسی ڈرل میں گذر گئے اور پھر میں اکتا سا گیا، یا تھک گیا۔ آخر ایسی زندگی گذار سکتا تو پطرس کے الفاظ میں ’’دادا جان کے منظور نظر نہ ہوتے۔ ‘‘اب میں دن چڑھے اٹھتا، ناشتہ کرتا، کمرے میں آ کر کتابوں کے ورق الٹتا رہتا، کسی دوست کا خط آ جاتا تو جواب دے دیتا اور پھر گھنٹوں خلاؤں میں گھورتا رہتا، پر کچھ اس طرح کہ کان ہمیشہ نیچے سے بلائے جانے کی آواز پر لگے رہتے۔ دوپہر کے کھانے سے شام تک سوتا اور پھر آوارہ لونڈوں کے ساتھ نوجوان لڑکیوں کے جسموں کے پیچ و خم پر بحث کرتا اور رات گئے آ کر سو رہتا۔

اپنے دل کی حالت پر میں لاکھ پردہ ڈالتا پر یوں لگتا تھا جیسے گاؤں کے سب لوگ میری حالت جانتے تھے۔ کبھی کبھی مجھے لگتا جیسے میں بالکل شفاف ہو گیا ہوں اور سب لوگ میرے آر پار دیکھ سکتے ہیں۔ ان حالات میں جیسے میرا کوئی راز راز نہ تھا۔ میں خواہ مخواہ ہی لوگوں سے نظریں  چرائے پھرتا۔

ایک دن یونہی خاموشی سے لیٹا چھت کو تک رہا تھا کہ قدموں کی آواز سنائی دی۔ عام طور پر جب میں یہاں ہوتا تھا تو کوئی نہیں آتا تھا۔ وہ میری یکسوئی میں خلل ڈالنا نہیں چاہتے تھے۔ پر اب شاید ان کی نظر میں پانی سر سے گذرتا جا رہا تھا۔ اٹھ کر دیکھا تو ابا تھے۔ میں نے انہیں بیٹھنے کو کرسی پیش کی۔ پر وہ کھڑے رہے۔

’’میں نے تمہیں روک کر غلطی کی۔ تمہیں شہر ہی چلے جانا چاہیے تھا۔ ‘‘

’’میں کوشش تو کر رہا ہوں ‘‘میں نے شرمندہ انداز میں کہا۔

’’مجھے پتہ ہے پر تجھے روک کر غلطی کی میں نے۔ ‘‘اس کے بعد ہم دونوں تھوڑی دیر تک ایک دوسرے سے نظریں چرائے کھڑے رہے۔ ایسے میں اماں نے کھانے کے لیے پکارا اور میں نے گویا سکون کا سانس لیا۔

کھانے کے بعد میں گھر سے باہر نکل آیا۔ اب چلنے پر آیا تو گاؤں سے باہر نکل گیا۔ گاؤں کے باہر پیر بلہ کا چھوٹا سا مزار تھا۔ میں اس کے باہر بیٹھ گیا۔ بڑی دیر پریشان بیٹھا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا کروں؟۔۔ کیا خود سے گھڑ لوں اگر کوئی واقعہ نہیں ملتا؟آخر کیا لکھوں؟

بے معنی محبت کی کہانی۔۔۔۔ ایک لڑکی تھی

یا پھر کوئی دیو مالائی داستان۔۔۔ جیسے کوئی بولنے والا درخت تھا

کون پڑھے گا آخر اس قسم کی خرافات۔ ایک دفعہ تو جی میں آئی کہ کچھ بھی لکھ ڈالوں۔ آخر کو کون جان سکے گا؟اس گاؤں میں میری کہانی سمجھنے والا آخر ہے ہی کون؟اور کہانی چھپوانا کون سا مشکل کام ہے؟

اس خیال کے ساتھ میرے اندر جیسے ایک گہری اداسی چھا گئی۔ مختار مسعود کا لکھا جملہ ذہن میں گونجنے لگا۔

’’صفحات زندگی کے ہوں یا کتاب کے انہیں یونہی نہیں بھرنا چاہیے۔ ‘‘

میں نے انکار میں سر ہلا دیا۔ مجھے پورے گاؤں کے طعنوں کا نشانہ بننا قبول ہے پر اس طرح اپنی نظروں سے گر کر تو زندہ رہنا بھی بے فائدہ لگتا تھا۔

میں درخت کے نیچے سے اٹھا اور قریب ٹیلے پر بنے چھوٹے سے قبرستان میں پہنچ گیا۔ یہ کافی پرانا قبرستان تھا۔ اکثر قبریں خستہ حال تھیں۔ بہت سی قبروں پر تو کتبے بھی نہیں تھے۔ ایسے میں ایک قبر کے قریب سے گذرتے ہوئے میں رک گیا۔ یہ قبر نہیں بلکہ اس کے سرہانے بیری کا درخت تھا جس نے میرے قدم روکے۔ بچپن میں اکثر، میں یہاں آیا کرتا تھا۔ پتہ نہیں کیوں مجھے یہاں کے بیر کسی بھی دوسری بیری سے میٹھے لگتے تھے۔ اتنی مرتبہ میں اس بیری پر آیا پر کبھی بھی میں نے اس کے نیچے قبر کو غور سے نہ دیکھا۔ یہ ایک ٹوٹی پھوٹی قبر تھی جس پر جا بجا سرخ سوکھے ہوئے بیر گرے تھے۔ اس کے کنارے سنگ مرمر کا کوئی کتبہ بھی لگا تھا جس پر مٹی کی دبیز تہہ چڑھی ہوئی تھی۔ میں اس کے کنارے اکڑوں بیٹھ گیا اور ایک خشک شاخ کی مدد سے مٹی کو کھرچنے لگا۔ تھوڑی دیر میں میں اس پر لکھا پڑھنے کے قابل ہو گیا۔

        شاہ بانو

تاریخ وفات ۲۵اگست ۱۹۴۷

بیچاری قیام پاکستان کے بعد بہت تھوڑے دن جی سکی۔ نجانے کیوں مجھے تجسس سا ہو رہا تھا اس کے بارے میں جاننے کا۔ شاید اس لئے کہ وہ بھی میری طرح اسی مٹی کی پیداوار تھی، انہی گلیوں میں کھیل کر جوان ہوئی ہو گی، یا پھر کیا خبر وہ فسادات میں ماری گئی ہو اور میں اس کی کہانی لکھ سکوں۔

گاؤں واپس لوٹا تو ماسی رحمت نظر آئی۔ ماسی کی عمر ستر سے اوپر ہی تھی پر اب بھی اپنے سارے کام خود ہی کرتی تھی۔ وہ گاؤں کے بیچ میں ایک چھوٹے سے گھر میں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھی۔ اولاد اس کی کبھی ہوئی ہی نہیں پر ویسے اس کا تعلق ایک کھاتے پیتے گھر سے تھا اس لئے دیکھنے میں خوشحال ہی نظر آتی تھی۔

’’ماسی کیسی ہو؟‘‘

’’ٹھیک ہوں۔ تو سنا کیا ہو رہا ہے؟‘‘

’’بس گھوم پھر رہا  ہوں۔ ‘‘

’’چل اللہ تجھے خوش رکھے‘‘

’’ماسی ایک بات تو بتاؤ۔۔۔ یہ پاکستان بننے پر ہمارے گاؤں میں بھی کوئی فساد ہوا تھا کیا؟‘‘

’’نہیں پتر۔۔۔۔۔ ادھر تو امن ہی رہا تھا۔ سارا گاؤں مسلمانوں کا ہی تھا۔ پر تو کیوں پوچھ رہا ہے؟‘‘میں تھوڑا سا مایوس ہوا پر پھر بھی پوچھ لیا

’’یہ قبرستان میں بیری کے نیچے جو قبر ہے کس کی ہے؟‘‘

ماسی سوچ میں پڑ گئی۔ اب اس عمر میں یادداشت بھی کہاں رہ جاتی ہے۔

’’شاہ بانو نام ہے اس کا۔ ‘ ‘میں نے اس کو سوچنے میں مدد کرنے کی کوشش کی۔

’’اچھا شاہ بانو کا پوچھتے ہو۔۔۔۔ اور کون ہو گا بیری کی قبر والا۔ بڑی سوہنی لڑکی تھی۔ اتنی عمر میں اس سی زندہ دل اور خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی۔ پیر میں تو اس کے چکر تھا چکر۔ ہمیشہ بھاگتی رہتی۔ بیریوں پر سارا دن چڑھی رہتی۔ دوست تھی میری۔ ‘‘ماسی کا چہرہ تمتمانے لگا۔

’’اس کے بارے میں بتاؤ۔ کیا ہوا تھا اس کو؟‘‘

’’تو کیوں پوچھ رہا ہے؟‘‘

’’تو تو جانتی ہے کہ کہانی لکھ رہا ہوں ایسے میں پرانے قصے ٹٹولنے پڑتے ہیں۔ ‘‘

’’اس بیچاری کا کیا قصہ۔۔۔۔۔ اس نے تو دیکھا ہی کیا تھا۔ بس ایک ہوا کے جھونکے کی طرح آئی اور گذر گئی۔ بڑی خوبصورت لڑکی تھی، باپ بھائیوں کی لاڈلی۔ سارا دن کھیل کود میں لگی رہتی۔ اسے کسی نے کبھی روتے نہ دیکھا تھا۔ اور پھر ایک دن سنا کہ وہ بیمار ہے۔ اس کے گھر گئی تو دیکھا کہ وہ تو بستر سے لگی ہے۔ ایک دن میں گھل کر گویا آدھی رہ گئی تھی۔ مجھے دیکھ کر تھوڑا سا مسکرائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اپنے بھائی سے کہا کہ اس کی قبر پر بیری ضرور لگوانا۔ ہم سب نے اسے روکا کہ ایسی باتیں نہ سوچے پر وہ شاید جان گئی تھی کہ وقت آ گیا ہے۔ اسی شام وہ مر گئی۔ پتہ کچھ نہیں چلا کہ اسے کیا ہوا تھا؟لوگوں نے بڑی باتیں کیں۔ کسی نے کہا کہ اسے عشق ہو گیا تھا کسی پردیسی سے جو اسے چھوڑ گیا، کسی نے کہا کہ جن کا سایہ لگتا ہے۔ پر میرا دل کسی بات پر نہ ٹھہرا۔ اب قدرت کی رمزیں تو وہ ہی جانے۔ میں ابھی تک جیتی ہوں اور وہ۔۔۔۔۔۔ بس ہوا کا جھونکا تھی، آئی اور گذر گئی۔ ‘‘

میں ماسی سے اور کیا پوچھتا۔ موت ایک ایسی نگری ہے جس کے بارے میں ہم سب کو خاموش ہو جانا پڑتا ہے۔ ایک ایسا جہاں جانا تو سبھی کو ہے پر اس سے انوکھی چیز بھی کوئی نہیں۔

اس رات مجھے نیند نہیں آئی۔ رہ رہ کر ایک بھاگتی، کھلنڈری نوجوان لڑکی کا چہرہ نظروں کے سامنے گھومنے لگتا۔ میں لاکھ آنکھیں بند کرتا، لاکھ کروٹیں بدلتا پر وہ بھاگتی بھاگتی پھر سے سامنے آ جاتی۔ اور پھر وہ مجھے اپنی طرف توجہ کرتا نہ پا کر دکھی سی ہو گئی۔ مجھے ڈر لگا کہ کہیں دکھی ہو کر وہ اس دن کی طرح گھلنے ہی نہ لگے۔ میں پھر سے اسے مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا اس لئے بستر سے اٹھ کھڑا ہوا۔ پانی کے دو گلاس پئے اور ایک چھڑی لے کر باہر نکل آیا۔ ہم گاؤں والوں کے لئے رات میں باہر نکلنا کوئی عجیب بات نہیں ہوتی اور پھر آج تو چودہویں کی بدولت بڑی روشنی تھی۔

گاؤں سے نکلا تو وہ لڑکی میرے ساتھ ہو لی۔ وہ کبھی بھاگتی ہوئی آگے نکل جاتی اور پھر دوڑ کر واپس آتی، جیسے کچھ بتا رہی ہو۔ شاید یہ کہ آگے کتنا خوبصورت سماں ہے، شاید کسی درخت کی کھوہ میں طوطوں کے بچے دیکھ آئی تھی یا شاید کسی کھیت میں تربوز چوری کرنے کا سوچ رہی تھی۔ میں اس کی آواز نہیں سن سکتا تھا۔ بس اسے دیکھ سکتا تھا۔ چلتے چلتے ہم قبرستان کے نزدیک پہنچے تو اس کے چہرے پر خوف کے سائے لہرانے لگے۔ میں جا کر بیری کے اس درخت کے نیچے کھڑا ہو گیا اور وہ دور سے مجھے دیکھتی رہی۔ شاید وہ ڈر رہی تھی(سمجھ رہی تھی کہ میں کوئی بھوت ہوں جو یوں رات گئے قبرستان میں کھڑا ہوں) ، یا پھر وہ خود قبر میں لیٹے لیٹے اکتا گئی تھی اور اب وہاں نہیں جانا چاہتی تھی۔ وہ بہت دیر تک یونہی ساکت کھڑی رہی اور پھر صبح ہونے پر مجھے وہ کہیں نظر نہیں آئی۔ میں تھوڑی دیر تو یہی سمجھا کہ ضرور وہ کسی جھاڑی میں چھپی مجھے خوفزدہ کرنے والا کھیل کھیل رہی ہو گی۔ بہت آوازیں دیں، بہت تلاش کیا۔ اور آخر شام ہونے پر تھک ہار کر گھر واپس آ گیا۔

اب میں سونے کو ہی تھا کہ وہ چھم سے میرے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ میرے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ ہاتھ کے اشارے سے مجھے باہر بلا رہی تھی۔ ساری رات پھر میں اس کے ساتھ گلیوں اور کھیتوں میں پھرتا رہا۔ میں نے کئی بار اس سے بات کرنے کی کوشش کی مگر ہر بار وہ ہرن کی طرح قلانچیں بھرتی کہیں نکل جاتی۔ اس معصوم بچی کی طرح جو اپنے دوست کو وہ سب کچھ دکھا دینا چاہتی ہے جو اس کی چھوٹی سی دنیا میں ہے۔ اس نے اس رات مجھے دریا کے پانیوں میں تیرتا چاند دکھایا جو لہروں کے چلنے سے جھلملا رہا تھا، ایک لومڑی دکھائی جو بڑی ڈھٹائی سے ہمیں دیکھے جا رہی تھی، ہم نے پانی دینے کے لئے جانے والے کسانوں کو شی شی کی آوازیں نکال کر خوفزدہ بھی کیا اور۔۔۔۔۔۔۔ کیا کیا بتاؤں؟

وہ رات جیسے میں کسی خواب نگری میں تھا۔ کسی پرستان میں۔ جہاں ہر چیز بڑی ماورائی، بڑی دلفریب تھی۔ پچیس برسوں میں میں نے جو کچھ اس گاؤں کے بارے میں جانا تھا وہ سب گویا ایک پردہ تھا جس نے اصل گاؤں کو چھپا رکھا تھا۔ صبح ہونے کے ساتھ ہی وہ ہواؤں میں تحلیل ہو جاتی اور یہ سارا طلسم جیسے ٹوٹ جاتا۔

اب میں تمام دن شام ڈھلنے کا انتظار کرتا اور تمام شب نوخیز بچوں کی طرح اس کے ساتھ گھومتا رہتا۔ گاؤں کے لوگوں نے ابا سے کہنا شروع کر دیا تھا کہ میں پاگل ہو رہا ہوں۔ راتوں کو میرا جنون بہت بڑھ جاتا ہے۔ پگڈنڈیوں پر چلتے ہوئے میں دوستوں کو بھی نہیں پہچانتا، ہواؤں سے باتیں کرتا ہوں۔ میرے گھر والے بہت پریشان تھے۔ میں ان کو کیسے بتاتا کہ سب کچھ بہت ٹھیک تھا۔ میں بس ایک بیکراں زندگی کی کہانی لکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پر کہانی کیسے لکھتا۔ ہر رات وہ میرے سامنے ایک نئے، دلفریب رنگ میں آتی، کیا لکھتا کہ ابھی تو اس کی زندگی کی ساری پرتیں ہی کہاں کھلی تھیں میرے سامنے۔

ابا نے کہا ’’بیٹا شہر چلے جاؤ‘‘

’’میں ٹھیک ہوں۔ بہت مزے میں ہوں۔ ‘‘

پھر ایک شام جب ہم دونوں دریا کنارے لیٹے خاموشی سے سرکنڈوں کی سر سر سن رہے تھے۔ میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔ ان آنکھوں میں بڑی گہرائی تھی۔ میں اسے بہت دنوں سے جانتا تھا پر اس سے پہلے اس نے مجھے اپنی آنکھیں دیکھنے ہی کہاں دیں تھیں۔ وہ ہمیشہ بھاگتی ہوئی مجھے کچھ اور دکھانے لگتی۔ پر اس رات وہ کہیں نہیں گئی۔ اس کی آنکھوں میں ایک ہی سوال تھا

’’کیا تم میری کہانی لکھو سکو گے؟‘‘

کیا کوئی کسی کی کہانی لکھ سکتا ہے؟وہ بھی ایسی لڑکی کی کہانی جو نصف صدی قبل مٹی میں مل چکی ہو۔ کون پڑھے گا ایک ایسی لڑکی کی کہانی۔ مگر میں جانتا تھا کہ مجھے اس کی کہانی لکھنا ہو گی۔ اس لئے نہیں کہ میں اسے جانتا تھا بلکہ اس لئے کہ میں اسے جانے بغیر رہ نہیں سکتا تھا۔ مجھے پرواہ نہیں تھی کہ اس کہانی کا ادبی معیار کیا ہو گا، کوئی آغاز انجام بھی ہے اس کا یا نہیں، کوئی اسے چھاپے گا یا نہیں۔۔۔۔۔۔ کیونکہ یہ کہانی صرف میرے لئے تھی اور اس کے لئے تھی۔

’’میں تمہاری کہانی لکھوں گا۔ تم مجھے بتاؤ کہ اس رات کیا ہوا تھا۔ تمہارے جیسی لڑکی کیسے ایک رات میں ختم ہو گئی۔ ‘‘

اس کی آنکھوں میں بے اعتباری اتر آئی جیسے کہ رہی ہو کہ

’’یہ جو ہفتوں ہم ساتھ گھومے ہیں، یہ جو ان گنت لمحے ہمارے بیچ مشترک ہیں، یہ سب جو میری زندگی کا سرمایہ ہے۔۔۔۔ تم اس پر کیوں نہیں لکھ سکتے۔ وہ ایک غم جو میں پچاس سال پہلے سینے میں گھٹ کر لے گئی تھی بس اس سے کیوں دلچسپی ہے؟‘‘

پر میں جیسے اب اس کی آنکھوں اور شوخیوں سے اور بہلنے کا نہیں تھا۔ مجھے یقین تھا کہ اسی غم، اسی دکھ میں میرے ہر سوال کا جواب بھی ہے۔ ساتھ میں یہ احساس بھی تھا کہ جیسے کسی دیو کی جان طوطے میں ہوا کرتی تھی ایسے ہی شاید اس کی جان بھی اس راز میں ہو۔ مگر نجانے کیوں اس رات میں بہت بے رحم ہو گیا تھا۔ اس نے  میری توجہ پانی میں تیرتے سانپوں کی طرف دلانا چاہی مگر میں نے منہ پھیر لیا۔ جیسے کہ رہا ہوں کہ بہت کھیل ہو چکا۔ وہ بہت دیر ٹکٹکی باندھ کر مجھے دیکھتی رہی۔ اس کی آنکھوں میں بیچارگی تھی۔ جیسے کہ رہی ہو کہ ان کہی کو کیسے کہ دوں؟اس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے پر وہ پھر بھی کچھ نہیں بولی۔ میں اس رات صبح سے پہلے ہی گھر آ گیا۔

وہ اگلی شام میرے چوبارے پر آئی۔ ویسی ہی خاموش اور اداس۔ اس کی آنکھوں میں ویرانی تھی۔ وہ بہت کمزور نظر  آ رہی تھی۔ اتنی کہ اسے دروازے کی چوکھٹ کو پکڑ کر کھڑا ہونا پڑ رہا تھا۔ میں نے منہ دیوار کی طرف کر لیا۔ اور پھر تمام رات میں نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ بس جانتا تھا کہ دو بہت اداس آنکھیں تمام رات میرے جسم پر رینگتی رہیں۔

میں دن چڑھے اٹھا۔ طبیعت میں بہت کسلمندی سی تھی۔ جیسے میں نے کچھ کھو دیا ہو۔ ناشتہ کرنے کو جی نہیں چاہا تو ٹہلتا ہوا قبرستان کی طرف چلا گیا۔ وہاں پہنچا تو ایک عجیب منظر سامنے تھا۔ رات کی رات میں وہ بیری کا درخت سوکھ گیا تھا۔ ایسا کہاں ہوتا ہے بھلا؟میں نے وہ سارا دن بڑی مشکل سے گذارا۔ شام ہوئی، پھر رات آئی مگر میں جس کا منتظر تھا وہ نہیں آئی۔ وہ رات بڑے کرب میں گزری۔ صبح پھر میں اس قبر پر گیا۔ اسے بہت آوازیں دیں۔ بہت پکارا

’’شاہ بانو !!! میں تو صرف تمہاری آواز سننا چاہتا تھا۔ میں تو صرف تمہاری خوشیوں کے ساتھ کرب کو بھی جاننا چاہتا تھا۔۔۔۔۔ واپس آ جاؤ۔ میں اب کبھی ایسی خواہش نہیں کروں گا۔ ‘‘

میں بڑی دیر تک چلاتا رہا پر کہیں دل کے کسی گوشے میں یہ جانتا تھا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ اس شام واپس آتے ہوئے میں نے ماسی رحمتے کو پھر دیکھا۔

’’پتر کیا حال بنا لیا ہے تو نے؟‘‘

’’ماسی میں ٹھیک ہوں۔ اچھا بھلا تو ہوں۔ ‘‘

’’تیری کہانی ہو گئی پوری؟‘‘

’’کہانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پتہ نہیں۔ پر تم مجھے شاہ بانو کے بارے میں بتاؤ۔ کیسی لڑکی تھی وہ؟کیا سوچتی تھی، تم لوگ آپس میں سہیلیاں تھیں نہ تو کیا باتیں کرتی تھی وہ تم سے؟‘‘

ماسی ہنس پڑی’ ’ اے لو۔۔۔۔ اس نے کیا بات کرنی تھی؟ وہ تو بول ہی نہیں سکتی تھی۔ پیدائشی گونگی تھی۔۔ پر اس کی آنکھیں بولتی تھیں اور میں سب سمجھ جاتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘

ماسی کے الفاظ ہوا میں بکھرتے چلے گئے۔ مجھے لگا جیسے کسی نے یکدم آسمان سے سارے بادل کھینچ لئے ہوں اور میں جسم چھیدتی ہوئی دھوپ میں اکیلا کھڑا ہوں۔ میں شاید بہت دیر تک اپنے قدموں پر کھڑا نہ رہ سکا اور پھر۔۔۔۔۔۔۔ میں نہیں جانتا کہ کیا ہوا؟جیسے کوئی بہت تیز آگ تھی، مجھے جس میں ڈال دیا گیا ہو۔ اور میں آنکھیں بند کئے چپ چاپ اس میں جلتا رہا۔ پھر سمے کی ہلکی ہلکی شبنم سے یہ  شعلے مدھم ہونے لگے۔ اب میں نے خوف سے کھنچی آنکھیں کھول ڈالیں۔ میں کسی ہسپتال میں تھا۔ میری ماں کمرے کے کونے میں بیٹھی تسبیح کے دانے پھیر رہی تھی۔ تھوڑی دیر میں پریشان صورت باپ بھی آ گیا۔ میری آنکھیں کھلی دیکھ کر وہ پہلے سجدے میں گر گیا۔ پھر میرے قریب آیا

’’بیٹا فکر نہ کرو، سب ٹھیک ہو گیا ہے۔ ‘‘

میں ہسپتال سے گھر نہیں گیا۔ ابا نے شہر میں میرے لئے کمرہ لے دیا تھا۔ وہیں ایک رات میں نے شاہ بانو کی کہانی لکھی۔ اس لڑکی کی کہانی جس کی آنکھوں میں ست رنگ خواب تیرتے تھے، وقت خود جس کے ہاتھوں کے محور پر گھومتا تھا، جس نے زندگی میں دوسروں کو صرف خوشیاں بانٹی تھیں اور جب غم کی باری آئی تو اس نے بڑی خاموشی سے اپنے سینے میں چھپا لیا۔ وہ کہانی بہت مقبول ہوئی۔ میں نے رسالے کی ایک کاپی ابا کو بھی بھیج دی کہ وہ بہرحال ہمارے گاؤں کی ہی کہانی تھی۔ اب ابا کو لوگوں کے سامنے سر جھکا کے چلنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اب کی بار وہ گاؤں سے آیا تو اس نے میرا ما تھا چوم لیا(حالانکہ وہ اس قسم کے expressive behaviorپر یقین نہیں رکھتا تھا۔) اس سے مجھے لگا کہ وہ کتنا خوش ہے۔

وہ اس رات بہت دیر تک میرے پاس بیٹھا رہا۔ گاؤں کی چھوٹی چھوٹی باتیں سناتا رہا۔

’’منشی جی کی بھینس کوئی کھول کر لے گیا۔۔ برکتے کا بیٹا امریکہ میں کسی گوری سے شادی کر رہا ہے، قبرستان میں لگا بیری کا درخت پھر سے ہرا ہو گیا۔۔۔ تجھے اس کے بیر بہت پسند تھے نہ۔۔۔۔ ‘‘

وہ نجانے کیا کیا بولتا رہا اور میں دیکھ رہا تھا گاؤں کی پگڈنڈی پر بھاگتی ایک خوبصورت لڑکی کو جس کی آنکھوں میں نقرئی خواب تھے اور جو اتنی خوبصورت تھی کہ اس کے واسطے کوئی استعارہ ممکن ہی نہ تھا۔

’’بابا اب کے میں بھی تمہارے ساتھ گاؤں چلوں گا۔ ‘‘میں نے پر اعتماد لہجے میں کہا۔

اس کے  چہرے پر ایک رنگ آ کر گذر گیا

’’ہاں ہاں۔۔۔۔۔۔۔ کیوں نہیں۔ وہاں تو سب تمہارا پوچھتے ہیں۔ ہم کل صبح ہی نکل چلیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘

وہ اب بھی بول رہا تھا مگر میں کچھ بھی سن نہیں رہا تھا۔

٭٭٭