کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دو لمحوں کے خواب

سید اسد علی


اسے میری کہانی سننے کا کوئی حق نہیں جس کے پہلو میں کسی دل نے کبھی ڈیرا نہیں ڈالا۔ جس کی آنکھوں میں خوابوں نے سویرا نہیں پھونکا وہ بھلا بخت کے اندھیرے آسماں پر ڈولتا کیسے دیکھے گا مجھے۔ میرے پیر پاتال سی گہرائیوں میں تھے کہ نصیب تھا میرا اور آنکھیں نقرئی ستاروں پر کہ ہر خواب بہت عجیب تھا میرا۔ میرے پر نہیں تھے مگر کھلی فضاؤں میں  اڑنے کا شوق نہیں جنون تھا مجھ کو۔ اسی لئے ایک شب اپنی بستی وحشت کی سب سے اونچی چٹان پر جا کھڑا ہوا، بازوؤں کو پھیلا لیا اور ایک مجنونانہ قہقہے کی گونج میں کود پڑا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میرے پر نہیں ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اب سنگلاخ، پتھریلی چٹانوں سے ٹکرانا مقدر ٹھہر رہا ہے۔ میں مطمئن تھا کہ کبھی کبھی خواب منزلوں سے، زندگی سے بہت اہم ہو جاتے ہیں۔ مجھے خبر نہیں کہ کب میں زمیں سے آ ٹکرایا۔ میں تو ان لمحوں کے خمار میں ہوں (ان دو لمحوں کے) جن میں میرے قدموں نے اس زمین سے سارے رشتے توڑ ڈالے، جس پر کسی بے رحم نے مجھ جیسے کھلونوں سے ایک پلے لینڈ بنایا تھا۔ اس زمین سے جو آوارہ کتے کی طرح ہر معصوم راہگیر پر بھونکتی ہے، اپنے نوکیلے دانتوں کو زندگی کے پیروں میں گاڑ دیتی ہے۔ اس زمین سے جس پر خوابوں کی کھیتی خواہ لہو سے بھی سینچو فصل عذابوں کی ہی کٹتی ہے۔ یہ  دو لمحے میری ساری زندگی سے اہم ہیں۔ سو میری کہانی بس ان دو لمحوں کی کہانی ہے۔ اور مجھے معاف کرتے رہنا جب جب میری زبان بہکنے لگے، جب جب میرا خرد لڑکھڑانے لگے۔ آخر کو میں نشے میں ہوں اپنی عمر بھر کے خوابوں کے۔

میرے گھر میں ہر اس روز روٹی پکتی جب ہم بھوک سے تھک جاتے اور ہم بڑے کم ظرف تھے۔ ایک پہر کے فاقے پر ہماری زبانیں باہر نکل آتیں، ہونٹوں پر پیڑی جمنے لگتی، پیشانی پر جیسے آگ لگ جاتی اور آنکھوں کی آگ بجھنے لگتی۔ مجھے اس چہرے کی بے بسی یاد ہے(اس مہربان چہرے کی جسے کچھ دیر تو میلے، بیسیوں چھیدوں والے دوپٹے میں چھپایا جاتا، جس کے کچھ شریر سے چھید مجھے اس کے آنسو دکھاتے اور کچھ بے پرواہ سی درزیں اس کے جوان، شفاف چہرے پر نہ نظر آنے والی جھریاں)۔ میں سوچتا تھا کہ اٹھوں اور کچھ چپکے سے اس کا ہاتھ تھام لوں۔ جب وہ دوپٹے کو ہٹا کر مجھے دیکھے  تو اس کی آنکھوں میں چھلکنے والے سارے موتی میں اپنے دامن میں چھپا لوں اور پھر انہیں اس کے کسی لمبے سے بال میں پرو دوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر دیکھوں کہ چمکتی دکانوں میں بیٹھنے والے کیسے قیمت ادا کر پاتے ہیں میری اس مالا کی۔ جی میں آتا  کہ آج دنیا کو اس کی بے قدری دکھا ہی دوں۔ سو اٹھنے کی کوشش کرتا مگر بھوک کا بھاری پتھر سینے پر کلبلانے لگتا، مجھے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوتا۔ میں واپس گر جاتا۔ پھر بہت سے چھوٹے چھوٹے ہاتھ مجھے اپنے جسم پر رینگتے محسوس ہوتے۔ میں نظر نہ بھی ڈالتا تو بھی سوال تو سن سکتا تھا۔ جذبات کو آنکھوں، کانوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دل کو مضبوط کرتا اور کہتا

’’بھوک لگی ہے۔ کیا تو نہیں سمجھتی؟‘‘

میرے بعد چند اور معصوم کراہیں بلند ہوتیں

’’روٹی۔۔۔۔۔۔ دودھ۔۔۔۔۔۔۔ بھوک۔۔۔۔۔۔۔ ماں ‘‘

وہ گھبرا جاتی، دوپٹہ ہٹاتی، سرخ آنکھوں سے مجھے دیکھتی۔ اس کی آنکھیں عجیب آنکھیں تھیں۔ گہری، باتیں کرتی ہوئی۔ وہ مجھ سے کہتی

’’تو بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو تو سمجھتا ہے، بڑا ہو گیا ہے۔ روٹی تیرے گھر کے صحن میں تو نہیں اگتی کہ ہاتھ بڑھاؤں اور تجھے لا دوں۔ یہ تو بازار میں بکتی ہے اور جو شئے بازار میں چلی جائے بڑی قیمت دینی پڑتی ہے اسکی۔ زندگی کی، عزت کی، خوابوں کی قیمت۔ مجھے لگتا ہے کہ بھوک اس سے ہلکی ہے۔ تھوڑا صبر کر لو۔ بس ایک رات ہی تو ہے‘‘

وہ کہتی کہتی خاموش ہو جاتی۔ پھر اپنے الفاظ کو بے تاثیر دیکھ کر رونے لگتی اور سسکتی

’’راتوں کو باہر نہیں نکلتے اجالے روٹھ جاتے ہیں۔ اندھیرے میں بازار نہیں جاتے۔۔۔۔۔ ان دیکھی چڑیلوں کی طرح بازار گھر میں آ جاتے ہیں۔ اس کی ضد نہ کرو جسے تم  اٹھا نہ سکو۔ ‘‘

میں مگر جیسے ان آنکھوں کی طرف دیکھنا ہی چھوڑ دیتا۔ شاید محبت بہت بعد کا جذبہ ہے۔ وہ میرے قریب آتی۔ میرے میل سے جکڑے بالوں میں انگلیاں پھیرنے کی کوشش کرتی تو میں اس کا ہاتھ جھٹک دیتا۔ وہ تیزی سے اٹھتی اور کہیں چلی جاتی۔

میں نہیں جانتا تھا کہ کہاں مگر جب رات گئے وہ واپس آتی تو اس کے ہاتھ میں روٹی ہوتی، دودھ ہوتا، کھانے کے بعد میں اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کی نرم انگلیاں اپنے کھردرے بالوں میں پھیرتا اور وہ تھکے تھکے سے لہجے میں میرا سر سہلا کر کہتی

’’جو چیز بازار میں چلی جائے بڑی قیمت دینی پڑتی ہے اس کی اور افسوس کہ روٹی بازار میں بکتی ہے۔ ‘‘

زندگی اگر محض چلتی سانسوں اور نوالوں کے نگلنے کا نام ہے تو پھر ہم جی رہے تھے۔ صبح سے شام تک وہ کام کرتی۔ جب آتی تو اس کے ہاتھوں میں چند مڑے تڑے نوٹ ہوتے اور جسم میں پہلے سے کہیں کم زندگی۔ یوں لگتا تھا کہ اس کے جسم میں کوئی چھید ہے جس سے غیر محسوس طور پر وہ تھوڑی تھوڑی زندگی کھو رہی ہے۔ چند نوٹوں کے بدلے اتنی قربانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر ہم خوش تھے کہ اب اسے روٹی لینے بازار میں نہیں جانا پڑتا۔ کتنی عجیب ہے یہ دنیا کہ چند نوٹ ہوں تو بازار گھر میں آ جاتا ہے اور نہ ہوں تو گھر بازار میں۔ پھر بھی یہ نوٹ کم تھے۔ سوچتا ہوں کہ پیسہ ہمیشہ کم ہی ہوتا ہے اور پھر پسینے کے ترازو پر تلا پیسہ تو بہت ہی کم ہوتا ہے۔ بھلا پسینے کا وزن ہی کتنا ہوتا ہے۔ اس کے دن رات کام کے باوجود بھی وہ دن آتے جب ہمیں بھوکا سونا پڑتا اور کبھی جب گڑیا کی دوا  آ جائے، میرا کرتہ لینا پڑے، مینا کو جوتا چاہیے ہو تو فاقے بڑھ جاتے  اور ہم بے جان ہو کر چار پائیوں پر گر جاتے۔ کوئی بھی کسی سے بات نہ کرتا۔ وہ بہت دیر پلو میں منہ چھپائے روتی رہتی پھر بازار میں چلی جاتی اور اس شب لوٹنے پر مجھے کہتی

’’جو چیز بازار میں چلی جائے بڑی قیمت دینی پڑتی ہے اس کی اور افسوس کہ روٹی بازار میں بکتی ہے۔ ‘‘

میں نے سنا تھا کہ ستم کشوں کی کہانی کبھی بدلتی نہیں۔ یہاں تک کہ موت کے بعد بھی ان کی اولاد اسے جاری رکھتی ہے۔ مگر  میری کہانی بدل گئی۔ ایک شب ماں تھکی آئی اور ہمیں حسرت سے خود کی طرف دیکھتا محسوس کر کر اس نے بے بسی سے دیکھا اور اب کے دوپٹے کے پلو میں منہ چھپانے کی بجائے مصلے پر جا بیٹھی۔ وہ آج بھی رو رہی تھی مگر بہت مختلف۔ پہلے اس کے آنسو جھیل کی طرح پرسکون تھے، ہمارے وقت کی طرح ٹھہرے ہوئے تھے مگر آج سمندر کی طرح پر شور، ہمارے مقدر کی طرح منہ زور تھے۔ ہم تینوں حیرانی سے اسے دیکھتے رہے۔ وہ آج بازار کیوں نہیں جاتی؟بھوک لگی ہے۔ مگر وہ ہماری سوچوں سے بے پرواہ روتی رہی۔ یہاں تک کہ گڑیا نے اس کا شانہ تھام لیا۔ اس نے گڑیا  کو اپنی بانہوں میں اٹھا لیا۔ پھر اٹھی اور ہمارے اکلوتے کمرے میں گئی۔ وہ ہمارے واحد دھلے ہوئے کپڑے لے آئی۔ سب کو اس نے اپنے ہاتھوں سے تیار کیا، کنگھی کی، آنکھوں میں سرمہ لگایا۔

’’ہم کہیں جا رہے ہیں؟‘‘

مینا نے پوچھا تو ماں تھوڑا سا مسکرائی۔ ہاں اس مسکراہٹ کے بہت قریب  کوئی دکھ جیسے انگڑائیاں لے رہا تھا۔

’’ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک جگہ ہے۔ جہاں بہت سے کھانے ہیں، پہننے کو کپڑے ہیں، کھلونے ہیں۔ بہت کچھ ہے۔ تم میرے ساتھ آؤ‘ ‘

اس نے گڑیا کو اٹھا لیا اور میں اور مینا اس کے پہلوں سے لگے اس کے ساتھ چلنے لگے۔ وہ سر اٹھائے چلی جا رہی تھی۔ ایسے میں مینا نے سرگوشی کی

’’ہم بازار جا رہے ہیں ‘‘

میں کچھ نہیں سمجھ رہا تھا سو بولا

’’کاش‘‘

مگر وہ کوئی اور جگہ تھی۔ ویران سی دریا کے کنارے۔ اس نے ہم تینوں کو اپنے سینے سے لگایا اور پھر بہت دیر چومتی رہی۔

’’ماں !!‘‘

میں نے اسے چونکا دیا۔ وہ مسکرائی۔ گڑیا اور مینا کو اس نے خود کے قریب کر لیا۔ پھر میری طرف دیکھا۔

’’دیکھو!! دور شہر کی روشنیاں نظر آ رہی ہیں اور وہ شہر تیرا ہے۔ تو ابھی میری باتوں کو سمجھ نہ سکے گا مگر یاد رکھ تجھے اب اس شہر میں اکیلے رہنا ہے جس میں تیری ماں کے لئے کوئی جگہ نہ تھی۔ تجھے اس گھر کو جس کی بنیادوں میں بھوک بھری ہے روٹی سے بھرنا ہے۔۔۔۔۔۔ یہ کام کر تو شاید میں بھی سکتی تھی مگر کچھ چیزیں زندگی، اس بھوک سے بڑی ہوتی ہیں۔ تو سمجھتا ہے روٹی کی قیمت کیا ہوتی ہے؟عورت کے لئے عزت اور آدمی کے لئے انا۔ عزت چھوڑ دو تو انسان اپنی زندہ آنکھوں کے سامنے گلنے سڑنے لگتا ہے۔ ہاں مگر انا  نہ رہے تو سب سے پہلے آنکھیں ہی مردہ ہو جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ سو زیادہ تکلیف نہیں ہوتی۔ ‘‘

وہ رکی تو جیسے بجلی کڑک کر کہیں کھو جائے اور پھر ایک برسات کا پانی میرے دل کی دھرتی پر سیلاب لے آیا۔ میں بہ جاتا مگر اس نے زور سے مجھے اپنے سینے سے بھینچ لیا۔

’’دنیا کی کوئی ماں اپنے بیٹے کو برا نہیں بنانا چاہتی مگر دیکھ تو۔۔۔۔۔۔ تیری ماں کتنی تھک گئی ہے۔ وہ تیری بجھتی آنکھوں میں اپنی آخری سانسوں کو بھی ٹوٹتا نہیں دیکھنا چاہتی۔ ‘‘

اس کے بعد وہ رکی نہیں۔ گڑیا اور مینا کو اپنی بانہوں میں چھپائے دریا کے پاس چلی گئی۔ میں دوڑتا ہوا کنارے پر آیا۔ دیکھا تو تین ہاتھ پانی سے نکل کر مجھے بتا رہے تھے کہ

’’ہم بہت مزے میں ہیں۔ ‘‘

میں چند قدم اور آگے بڑھا مگر نجانے کیوں رک گیا۔ میں صرف ایک لمحے کو رکا تھا کہ شاید کچھ سوچ سکوں مگر بھول گیا تھا کہ کچھ لمحے ٹھہر جاتے ہیں۔ وہ لمحہ بھی ٹھہر گیا۔ وہ ہاتھ بہتے بہتے دور چلے گئے اور میں واپس آ گیا کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح۔

میں واپس گھر نہیں گیا۔ بس سوچنے لگا کہ اب زندگی کے بازار میں میرے لیے کوئی نہیں بکے گا اور میں اس بھوک سے آوارہ کتے کی طرح مارا جاؤں گا۔

’’نہیں ‘‘

میرا دل تڑپ رہا تھا۔

’’میرے پاس خواب ہیں، زندگی ہے۔ میں ضرور جاؤں گا اور اگر لکھنے والا میرے مقدر میں بھوک لکھتا ہے تو میں اس بھوک کو کھا جاؤں گا‘‘

میں یونہی سڑکوں پر گھومنے لگا۔ اس وقت تک جب میرے قدم لڑکھڑانے نہ لگے۔ جب تک میں منہ کھول کر ہانپنے نہ لگا۔ میں ایک سفید روشنی  والے کھمبے کے پاس بیٹھ گیا۔ ذرا دیر گذری کہ ایک بوڑھا آہستہ آہستہ چلتا میرے قریب آیا۔ میں نے بیٹھے بیٹھے سوال کیا

’’بازار کہاں ہے؟‘‘

بوڑھا ایک لمحے کو تو ٹھٹھکا، عینک سیدھی کر کر ناک پر جمائی، گہری نظروں سے میرا جائزہ لیا۔ پھر نجانے مجھے کوئی بھوت سمجھا۔ یا اس خیال سے کہ بے سہارا لڑکے کی سنبھالنا نہ پڑ جائے، وہ کچھ بڑبڑاتا ہوا چل پڑا۔ شاید کوئی دعا پڑھ رہا تھا۔ میں کسی پر ہنسنے کے لئے ابھی بہت چھوٹا تھا مگر میں بہت ہنسا۔ اتنا کہ میرے تھکے پیر بھی ہنسنے لگے، اتنا کہ میرا روتا دل بھی قہقہے لگانے لگا۔ میں اٹھا اور اس طرف چل دیا جہاں سے بوڑھا آیا تھا۔

تھوڑی دیر میں، میں ایک عجیب جگہ جا پہنچا۔ وہ جگہ اتنی عجیب تھی کہ رات بھی گھبرا کہ تھوڑی دور کھڑی حیرت سے یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ شاید وہ ڈرتی تھی، تبھی بازار میں گھسنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی اس میں۔۔۔ اور میں۔۔۔ میں شاید رات سے بھی مشتاق تھا۔ سو قریب ہوتا گیا۔ قہقہے، چوڑیوں کی کھنک، تلے پکوانوں کی مہک اور منہ بسورتے بچے۔ میں دیکھتا دیکھتا بچوں پر آ کر ٹھہر گیا۔ عجیب بات ہے۔ اس قہقہے لگاتی دنیا میں بچے اکثر رو رہے تھے۔ شاید اس لئے کہ بچے جھوٹے قہقہے نہیں لگا سکتے یا پھر نجانے کیوں؟جب ہی میری ماں مجھے بازار نہیں لاتی تھی۔ وہ میرے آنسو نہیں دیکھ سکتی تھی نہ۔ میں بہت دیر جگمگاتی دکانوں کے قریب رہا۔ مجھے اب بھوک لگ رہی تھی۔ پہلے تو چہرہ زرد ہونے لگا، ہونٹوں پر پیڑیاں جمنے لگیں، آنکھیں بھی بس بجھنے کو ہی تھیں کہ خیال آیا۔ وہ جو، ان آنسوؤں سے پگھل جاتی تھی وہ ممتا تو ہواؤں میں بکھر گئی۔ اب کون آئے گا بھلا میرے آنسوؤں کو پونچھنے؟میرے پیٹ میں بہت درد ہو رہا تھا مگر آنکھیں صحراؤں کی طرح خشک تھیں۔ کیا جہاں آنسو پونچھنے والے نہیں ہوتے وہاں آنکھیں رویا نہیں کرتیں؟ رونے کا رشتہ غم سے ہے یا غمگسار سے؟میں پہلے ذرا سی بھوک پر چلا اٹھتا تھا مگر آج خاموش تھا۔ پتہ نہیں یہ ایک شام میں میں کتنا بڑا ہو گیا تھا؟

ایسے میں میری نظر ایک عورت پر پڑی جو اپنے سیاہ پرس سے کچھ نوٹ نکال کر ایک فقیر بچے کو دے رہی تھی۔ وہ بچہ اتنا خوش دکھائی دیتا تھا کہ میں سوچنے لگا۔ اگر کوئی اسے پوری کائنات بھی اٹھا کر دے ڈالے تو وہ اس سے زیادہ خوش بھلا کیا ہو گا؟یہ اور بات ہے کہ اتنی چھوٹی خوشیوں پر مطمئن ہونے والے کو بھلا کون ساری کائنات دیتا ہے۔ وہ نوٹ لے کر تیزی سے بھاگا مگر میلے کپڑوں میں ملبوس ایک ادھیڑ عمر آدمی نے اسے جکڑ لیا۔

’’بھاگتا ہے‘‘

’’نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تو آپ ہی کے پاس آ رہا تھا۔ ‘‘

اس آدمی نے نوٹ چھین لئے اور اسے پھر بازار میں دھکا دے دیا۔

میں نے اپنے اندر جھانکا۔ میں کبھی بھی وہ بچہ نہیں بن سکتا۔ مگر جینا تو تھا۔ سانس تو لینی تھی۔ اور میں کھلی فضا میں سانس لینے کو آگے بڑھا۔ پھر نجانے کیا ہوا۔ میں بھاگنے لگا خوفزدہ ہرنی کی طرح۔ ایک لمحے کو تو میں گھبرا گیا۔ پھر جو ذرا سنبھلا تو دیکھا کہ میں اس سیاہ پرس والی عورت سے ٹکرا رہا ہوں۔ میں نے نہیں چاہا مگر میرے ہاتھوں نے وہ پرس چھین لیا، میں نے حکم نہیں دیا مگر میرے پیر دوڑنے لگے۔ شاید کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے جسم پر ہماری بجائے بھوک حکم چلاتی ہے۔ میں بھاگا سڑک کی طرف۔ ایک سرخ کار(جس میں کوئی نوجوان دو نشیلی آنکھوں کے تصور میں کھویا ہوا تھا) میرے قریب آئی۔ میں چیخا اور شاید کار کے بریک بھی چرچرائے اور شاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر کیا ہوا مجھے خبر نہیں؟بہت ممکن ہے کہ وہ کار مجھ سے ٹکرا گئی ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں نکل بھاگا ہوں۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر کل، کسی آنے والے کل مجھے اس انجانی کار سے ٹکرانا ہی ہے۔ پر میں ابھی سے اس کے بارے میں کیوں سوچوں؟یوں کیوں نہ سوچوں کہ یہ جو بہت سے روپے ہیں، میں ان سے کھانا کھاؤں گا، کپڑے خریدوں گا، جوتے لوں گا اور دریا کے پانی پر تیرتی تین قبریں بناؤں گا۔ دو چھوٹی اور ایک بڑی۔ میری  ماں کے قد کے برابر۔ پتہ نہیں میں اور کیا کیا کر ڈالوں؟

میرے بھاگنے اور ٹکرانے کے بیچ بس دو لمحے ہیں اور مجھے ان دو لمحوں کے خواب دیکھنے کا پورا حق ہے۔ کیونکہ برسوں کی زندگی میں یہی دو لمحے تو میرے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭٭٭