کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

اندھیروں کی کہانی

سید اسد علی


میں اس کہانی کو کہاں سے شروع کروں کہ کوئی سرا میرے ہاتھ نہیں آتا۔ کبھی سوچتا ہوں کہ شاید کوئی آغاز ہے بھی اس کا کہ نہیں؟یہ اندھیرے کی طرح ہے۔ ذرا آنکھ اٹھا کر افق سے ابھرتے ہوئے سورج کو دیکھو۔ روشنی کے پرامید پیامبر کس دھوم سے اندھیرے کو کھاتے چلے جا رہے ہیں۔ اپنے مرکز، اپنے سورج سے نکل کر۔ مگر ایک لمحے کو سوچو کہ اس اندھیرے کا مرکز کہاں ہے؟

شاید اسی سورج میں؟

مگر وہ تو روشنی ہے؟؟؟

یہ کہانی اندھیروں کی کہانی ہے، ان اندھیروں کی جن کی پہچان صرف روشنیوں کا عدم وجود ہے۔

تو پھر میں اسے کہاں سے شروع کروں؟

ایک کتا تھا جو بچوں کے پھینکے پتھروں سے بنے زخم چاٹتا تھا اور سمجھ میں آنے والی آواز میں ہولے ہولے روتا تھا۔

ایک مزدور تھا جو پسینہ بہاتا تھا اور مر جاتا تھا۔ پھر کسی اندھیری کوٹھڑی میں پیدا ہوتا اور مر جاتا، صدیوں سے اس کا یہی چلن تھا۔

یا پھر ایک بیٹی ہے کسی کی جسے پاگل کر دینے والی بھوک نے بازار میں لا کھڑا کیا ہے(اور بھوک صرف روٹی کی تو نہیں ہوتی، خوابوں کی بھی ہوتی ہےاب اس کی ایک ایک ادا کے خریدار ہیں مگر کوئی  بھی ایسا نہیں جو اسے بیٹی کہے۔

ایک کتا، ایک مزدور، ایک طوائف۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی کہانی کے لئے کوئی اچھا آغاز نہیں۔

میں اس کہانی کو کہاں سے شروع کروں؟

چلو یوں کرتے ہیں جیسے زندگی کی ہے۔ کوئی آغاز، کوئی انجام، کوئی راہگذر، کوئی ہمسفر کچھ نہیں۔ بس درد ہے کوئی جو بے دوا ہوا جاتا ہے۔

تو ایک کتا، ایک مزدور اور ایک طوائف سبھی رہتے تھے اور روتے تھے اس شہر کے اندر جس میں، میں رہتا تھا اور اس رات میں سڑک پر سویا۔ دریا کنارے میلوں تلک پھیلا وہ فٹ پاتھ جس کے قریب پتھر کی بنچ تھی، پہلی ہی نظر میں مجھے اپنا لگا۔ جب میں بنچ پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا تو لگا جیسے مجھے گھر مل گیا ہو۔ ایسا ہوتا ہے۔ جب لامحدود  فطرت کے سامنے انسان خود کو بے حقیقت لگنے لگے تو وہ کسی آنچل، کسی گھر، کسی مقصد میں منہ چھپا کر بیٹھ رہتا ہے۔ ریت میں سر دبائے شتر مرغ کی طرح وہ خود کو بہت محفوظ سمجھتا ہے۔ میں بہت دیر شاید یونہی پڑا رہتا کہ ایک ہلکی سی آہٹ نے مجھے متوجہ کیا۔ وہ ایک بد رنگ، مرنجان اور میلا سا کتا تھا، جو بڑی بے یقینی اور غصیلی نگاہوں سے مجھے دیکھتا تھا۔ کچھ یوں جیسے کوئی رات گئے اپنے بستر پر کسی اجنبی کو دیکھ لے۔ مجھ سے پہلے یہ بنچ شاید اس غریب کا بسیرا تھی۔

اس ایک لمحے کے بعد جس میں ہم دونوں نے ایک دوسرے کو بھانپ لیا میں نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا۔

’’یہ اب میرا گھر ہے، میں نے سب کچھ دے کر اسے خرید لیا ہے۔ ‘‘

مگر وہ اسی انداز میں مجھے تکتا رہا۔ اس کی ابھری پسلیوں سے اچھلتا دل صاف محسوس ہو رہا تھا۔ وہ مجھ سے خوفزدہ تھا اور مجھے ڈرانا بھی چاہتا تھا، اس لئے دھیرے دھیرے غرانے لگا۔ مگر وہ مجھے کیا ڈراتا؟میں تو پہلے ہی جہاں بھر کے خوف سے دبک کر یہاں بیٹھا تھا۔ اب یہاں سے اٹھ کر کہاں جاتا۔ تنگ آ کر میں نے اسے ایک چھوٹا سا پتھر دے مارا اور پھر جیسے کوئی بہت بڑا شیش محل ٹوٹ گیا ہو، جس سے اس کی روح لہو لہو ہو گئی ہو۔ وہ اداس، بہت اداس ہو گیا۔ پھر ہارے ہوئے جواری کی طرح وہ لڑکھڑاتے قدم اٹھاتا میری طرف بڑھا اور اب کہ اس کے انداز میں کچھ تھا کہ میں اسے نہیں روک سکا۔ اس نے بنچ کے قریب کچی زمین پر پنجے مارے اور تھوڑی دیر میں ایک بوسیدہ سی ہڈی منہ میں دابے وہ وہاں سے چلا گیا۔ گھر خالی ہو چکا تھا نئے مکین کے لئے۔ میں نے صرف یہی سوچا کہ جس دن مجھے جانا ہو گا تو میرے پاس شاید کوئی ہڈی بھی نہ ہو۔

یہ بہت بڑا شہر ہے۔ لوگ اتنے کہ گننے بیٹھو تو گن نہیں سکو اور اگر پرکھنا چاہو تو پاگل ہو جاؤ۔ مگر کوئی بھی اتنے لوگوں کو دیکھ کر پاگل نہیں ہوتا۔ سب کرتے کیا  ہیں کہ اس اتنے بڑے شہر کے اندر ایک چھوٹا سا شہر بنا لیتے ہیں۔ ایسا شہر جس کے لوگوں کو وہ جانتے ہیں، پہچانتے ہیں، گن سکتے ہیں، پرکھ سکتے ہیں۔ اس چھوٹے شہر کے باہر جو لوگ ہیں وہ گویا بت ہیں جو شہر کی رونمائی میں اضافہ کرتے ہیں، یا مشینیں  ہیں جو ادھر سے ادھر دوڑتی پھرتی ہیں۔ کتنا عجیب لگتا ہے کہ ایک تہذیب صدیوں کے بعد ایک بڑا شہر بنا تی ہے اور پھر اس میں بسنے والے عمارتوں کی بلندیاں دیکھ کر انگلیاں داب لیتے ہیں۔ کشادہ، چمکدار سڑکوں پر گاڑیاں دوڑا کر قہقہے لگاتے ہیں۔ اپنے محبت کر نے والوں کو آرام دہ گھر دکھا کر اتراتے ہیں اور پھر ایک لمحے میں بغیر سوچے سمجھے اس حیرت کدہ میں چھوٹے چھوٹے، معمولی سے شہر بن جاتے ہیں۔ ایک لمحے میں لاکھوں لوگوں کی نفی ہو جاتی ہے۔ وہ سحر، وہ غیر معمولی پن جو شہر پر چھایا تھا۔۔۔۔ چھٹ جاتا ہے۔ بڑی بڑی بلڈنگز میں بونوں کا ایک کارواں آ کر بس جاتا ہے۔ ان بونوں کے گھروں اور دل کی کھڑکیاں اتنی چھوٹی ہوتی ہیں کہ وہ شہر کو  مکمل کبھی دیکھ ہی نہیں سکتے۔

شہریوں کے دلوں میں چھوٹے چھوٹے سے خواب پلتے  ہیں اور شہر کی سڑکوں پر مایوسی کی حد تک پھسپھسے انقلاب جنم لیتے ہیں۔ سو بھیڑیں مل کر ایک بھیڑیا نہیں بن سکتیں  اور سب ادھر سے ادھر بھاگتی پھرتی ہیں، یہ سوچے بنا کہ گھاس چرنے کو تو عمر پڑی ہے۔ وہ بھاگتے ہوئے مرتی ہیں، خوف میں جیتی ہیں۔ مگر اتنا نہیں کر سکتیں کہ مرنے سے پہلے اسے ایک دھکا ہی مار دیں۔ دھکے کھانے کے بعد بھیڑیا کبھی  نہیں آئے گا۔ مگر یہ زندگی ہے۔ یہاں دو جمع دو چار کبھی نہیں ہوتا۔ اس مساوات کا جواب ہمیشہ ایک رہتا ہے۔ کروڑوں کے مجمع میں ہر شخص اکیلا ہے۔ بھیڑیا روز ایک بھیڑ کو لے جاتا ہے اور بھیڑیں چند لمحے بھاگ کر، تھوڑا ممیا کر گھاس چرنے میں لگ جاتی ہیں۔ میں ان ڈرپوک بھیڑوں سے شاید کچھ زیادہ expectکرنے لگا ہوں۔ مگر ایک کام تو وہ کر ہی سکتی ہیں۔ ہری بھری چراگاہ کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ آپ چرتے ہی چلے جاؤ اور کسی بھی بھیڑیے یا قصاب کے لئے نعمت بنتے جاؤ۔ یہ بات ذرا مشکل ہے اس لئے اسے سمجھنے کے لئے مجھے کچھ دور جانا  ہو گا۔

جہد، کوشش، محنت بہت خوبصورت الفاظ ہیں۔ انہیں اقدار اور اعتقادات کے جس معیار پر بھی پرکھا جائے ہمیشہ لائق تحسین ہی ٹھہرتے ہیں۔ مگر مجھے کہنے دیں کہ یہ ایک جال ہے، سراب ہے، چوہے دان ہے عقل والوں کے لئے اور موت ہے وجدان والوں کے لئے۔

میرے اردگرد ایک ہجوم ہے تابناک چہروں اور روشن آنکھوں والے کامیاب لوگوں کا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو لوح ایام پر آزادی کی تحریر رقم کرتے ہیں، وہ دیوانے جو انسانوں کے قدموں کو ستاروں کی طرف لے جا رہے ہیں، وہ اہل جنوں جو محبت کرتے ہیں، وہ متقی جن کی پیشانیاں سجدوں سے منور ہیں اور اہل دولت کہ جن کی دسترس میں وہ سارے خواب ہیں جن کی تعبیریں سراب نہیں ہوتیں۔

ایک دوسرا گروہ ہے ملگجے چہروں اور بجھی آنکھوں والے ناکام لوگوں کا۔ ان کے چہروں کے عضلات کھچے رہتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں خون تمنا کے سوا کوئی رنگ نہیں اور ہاتھوں میں فکر فردا کے سوا کوئی اثاثہ نہیں۔ وہ لوگ جو تاریک راہوں میں مارے گئے، جن کی محبتیں بازار میں نیلام ہوئیں، جن کی وحشتیں انہیں اندھیرے کھدروں میں دبکنے نہیں دیتیں اور سڑکوں، دریاؤں، صحراؤں میں حقیر جانوروں کی طرح مرنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

ایک طرف جگمگاتے خواب ہیں اور دوسری طرف تعفن زدہ لاشیں۔ اور۔۔۔۔۔۔ اس ہجوم بیکراں میں ایک نئی زندگی جنم لیتی ہے۔ وہ زندگی جسے جسم اس کے اجداد دیتے ہیں، عقل ملتی ہے تاریخ انسانی سے اور وجدان فطرت کی دین ہے۔ اپنی شفاف، معصوم آنکھوں سے وہ اس دنیا کو دیکھتی ہے۔ جسم اور اس کے حواس کو حقائق اکھٹا کرنے والے آلات سمجھو، عقل ان کو پرکھنے کے لئے میزان کی طرح ہے اور وجدان اک احساسِ محض ہے، کچھ کھونے کا۔ یہ ہیں اس معصوم کے سارے ہتھیار جسے اس دنیا میں پھینکا گیا ہے۔

پھر ہر کوئی اس کی قوت برداشت کو آزماتا ہے۔ ان میں دوسری speciesکا ایک طوفان بلا خیز بھی ہے جسکے لبوں پر

 survival of fittestکے رجز ہیں اور فطرت نام کا ایک دیو ہزار پا بھی جسے لاشیئت کی طرف سفر کر نے کا جنون ہے۔ اور ان سب سے خطرناک وہ دشمن جو ہماری رگوں میں گھس بیٹھا ہے۔ اسے تہذیب کہ لو، immitation، یا محفوظ راستہ  مگر میں اسے کھونٹے سے بندھی رسی کی طرح جانتا ہوں، جسکے ہوتے ہوئے ہمارا ہر سفر ایک محدود دائرے کے سوا کچھ نہیں۔ یہ سب مل کر زندگی کو یہ باور کرا دیتے ہیں کہ بہت بڑی کوشش ہی وہ واحد راستہ ہے کہ تم اس کائنات میں surviveکر سکو۔ شاید اب بھی وجدان کا کوئی گوشہ ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دے مگر کامیابیوں کا نشہ squareکرنے کے انداز میں بڑھتا ہے اور احساس زیاں کو یوں جانیں جیسے موجیں چلتی ہیں۔ یہ آہستہ آہستہ فراز کی طرف جاتا ہے اور ایک انتہائی مقام کو چھونے کے بعد گہرائیوں میں کھونے لگتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ یہ cycleکتنا بڑا ہے مگر سائنسی تحقیق سے ثابت ہے کہ موجوں کی صورت میں سفر کرنے والے اجسام اپنے جلو میں کس قدر طاقت لے کر چلتے ہیں۔

تو پھر زندگی کے گرد اس سراب جسے ہندو mythologyمیں مایا کہا جاتا ہے، کا گھیرا تنگ ہو جاتا ہے۔ اس دوڑ میں کچھ کامیاب ہوتے ہیں اور کچھ ناکام۔ مگر اصل کھیل اس جیت ہار سے ماورا ہے۔

جیسے ایک بہت بڑا سمندر ہے۔ اتنا کہ اس کے کناروں کی کچھ خبر نہیں۔ اور ہم سب اس کے کہیں بیچ میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ یہاں موجوں، گرداب، typhoonsکو فطرت سمجھ لیں۔ ان بے شمار اجسام میں اگر کوئی چیز مشترک ہے تو وہ ہے کوشش۔ کچھ جو تیرنا نہیں جانتے، یا بھاری موجوں کے تلے دب جاتے ہیں، یا پھر جن کی ٹانگ کسی سمندری جانور نے اندر کھینچ لی وہ تڑپتے ہوئے ڈوب جاتے ہیں۔ ان لوگوں کی آنکھوں میں خوف ہوتا ہے، چہروں پہ بے بسی۔ یہ سب دنیا میں ناکام لوگوں کی طرح ہیں۔

اس ہجوم میں ایک دوسرا گروہ بھی ہے۔ یہ لوگ بلا کے خوش قسمت اور ماہر تیراک ہیں۔ ان کے مضبوط بازو اور امیدوں سے دمکتے چہرے انہیں دور لے جا رہے ہیں۔ ڈوبنے والے حسرت سے دیکھتے ہیں کہ وہ گئے منزل پہ پہنچنے والے۔ مگر ایک چیز جو کوئی نہیں دیکھتا اور جو پانی میں گھٹ گھٹ کر آتی موت سے زیادہ خوفناک ہے۔ وہ یہ ہے کہ جیسے جیسے یہ کامیاب لوگ بڑھتے جا رہے ہیں، وسیع سمندر میں وہ اکیلے ہوتے جا رہے ہیں۔   ایک دن ان میں سے ہر کوئی تا حد نظر پھیلے سمندر کے بیچ خود کو تنہا محسوس کرتا ہے اور بہت ڈر جاتا ہے۔ مگر جسم میں ا بھی جان باقی ہے تو وہ ہار کیسے مانے۔ پھر وہ دن آتا ہے جب وجود کی برداشت ختم ہو جاتی ہے۔ پیڑی جمے پیاسے ہونٹ اور تھکن سے چور بدن کوشش ترک کر دیتا ہے۔ سمندر بڑی بے رحمی سے اس کامیاب اور با ہمت تیراک کو اپنی دلدل سی گہرائیوں میں اتار لیتا ہے۔ تو کامیاب اور ناکام کے بیچ فرق صرف ایک چیختی، چلاتی پر ہجوم اور ایک ٹھٹھکی، ٹھہری، اکیلی موت کا ہے۔

 

چھوٹے تالاب اور بڑی مچھلی میں

زندگی کی محبوسی مشترک ٹھہری

تھکی تھکی، مضمحل سانسوں

اور تڑپتی موت کی گھٹن کے بیچ

فیصلہ کرنے کو کوئی

چھوٹی مچھلی

کتنی آزاد ہوا کرتی ہے

 

یہاں مجھ سے مت پوچھو کہ صحیح اور غلط کون ہے۔ میری طرف ان نظروں سے نہیں دیکھو کہ میں جانتا ہوں سمندر کے پرے کسی منزل کے بارے میں۔ مگر میں دیکھتا ہوں ایک شخص جو ہاتھ پیر نہیں چلا رہا ہے۔ جس کے چہرے پر مسکراہٹ ہے اور جو چیختے، تڑپتے ہجوم کے بیچ خاموشی سے floatکر رہا ہے اور جو صرف ایک بات سوچتا ہے۔ کہ اگر اس سمندر سے نکلنا ممکن نہیں تو ہم یہاں کیوں ہیں؟کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارا  امتحان اس سمندر سے نکلنے سے سوا کچھ اور ہو؟شاید ڈوب جانا ہی کلید کامیابی ہو؟

اسے کوئی جلدی نہیں ہے۔ زندہ رہنے کے لئے اسے بے پناہ طاقت سے ہاتھ پاؤں نہیں چلانے۔ اسے تو صحیح سمت میں بس ایک قدم اٹھانا ہے۔ وقت ایسا ہے کہ شاید کھیل کے قوانین کو ہی بدلنا پڑے۔ سو وہ خاموشی سے سوچتا ہے اور پھر ایک دن سمندر اسے بھی نگل لیتا ہے۔

یہ مثال بہت طویل ہوتی جا رہی ہے مگر میں ایک بات ضرور کہوں گا کہ اگر میں اس کھیل کا خالق ہوتا تو میرے لئے چیلنج یہ آخری شخص ہوتا جو اپنی بے نیازی، بے پروائی اور خاموشی سے یہ بتا رہا ہے کہ وہ مہرہ نہیں اپنی ذات میں ایک مکمل کھلاڑی ہے۔ کوئی سوچے تو اس شخص کے بارے میں جس نے میدان جنگ کو اپنا گھر بنا لیا ہو۔

بات بہت دور تک نکل گئی۔ میں ایک بڑے شہر میں تھا۔ اور مجھ سے پوچھو بڑا شہر کیسے بنتا ہے؟کروڑوں لوگوں کو چھوٹا بنا کر۔

وہ لاکھوں آنکھیں جو کائنات کی تسخیر جیسے بڑے بڑے خواب دیکھتی تھیں انہیں سمجھوتا کرنا پڑتا ہے ہر روز سو کیک بنانے پر، ہر صبح تین سو اخبار پھینکنے پر، ہر رات کسی بن چاہی بانہوں میں سونے پر اور جب بہت سے لوگ ایسا کرنے پر رضامند ہو جاتے ہیں تو ان چھوٹے چھوٹے حقیر ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک شہر وجود میں آتا ہے۔ مجھے انکار تھا۔۔۔۔۔۔۔

مجھے تلاش تھی ایک گندے، بے جھاڑ بیاباں کی جس میں میری فطرت کی زنجیریں ہی میری چھلانگ کی حد ہوں اور جنہیں توڑنے میں میں لہو لہان ہوتا  رہوں مگرGod must have a sense of humorاور میں ایک بہت بڑے شہر میں لا پھینکا گیا۔

بڑا شہر جس میں بونے رہتے ہیں۔ اس کے ایک ڈربہ نما فلیٹ میں میں جمائیاں لیتے ہوئے اٹھتا ہوں۔ کپڑے تبدیل کر کر لفٹ کا رخ کرتا ہوں۔ لفٹ بوائے بڑے اخلاق سے سر جھکا کر مجھے گڈ مارننگ کہتا ہے۔ میں سر کو تھوڑا سا ہلا دیتا ہوں۔ الفاظ کبھی میرے لبوں سے نہیں نکلے۔ میرے لئے وہ اس لفٹ کا ایک حصہ ہے۔ ایک اور بت جو اس شہر میں رونمائی کے لئے استادہ ہے۔ ایک اور مشین جیسے کے یہ لفٹ۔ پھر میں کتنا بیوقوف لگوں گا ایک بت سے باتیں کرتے ہوئے۔ صبح کے وقت لفٹ ہمیشہ بھری ملتی ہے۔ لوگ بہت جلدی میں ہوتے ہیں۔ سب کی نظریں گھڑیوں پر ہوتی ہیں۔ عورتیں اکثر اپنے نچلے ہونٹ کو دانتوں میں کاٹتی ہوتی ہیں یا ہونٹوں کو سکیڑ کر لپ اسٹک درست کرنے کی کوشش میں ہوتی ہیں۔ اور مرد اپنا وقت جمائیوں کو روکنے میں صرف کرتے ہیں۔ یہ سب بھی بت ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں اس شہر میں نیا آیا تو انہیں جیتا جاگتا انسان سمجھ بیٹھا تھا۔ اس لئے جیسے ہی میں لفٹ میں گھستا تو چہرے پہ مسکراہٹ لا کر good morningکہتا۔ جواب ہمیشہ  دگنی شائستگی سے ملتا۔

’’کتنے مہربان لوگ ہیں اس شہر کے۔ ایک اجنبی کو یہاں کتنا کم وقت لگتا ہے adjustہونے میں؟‘‘

پھر میں ادھر ادھر کی کوئی بات کرتا۔ جیسے موسم کتنا خوشگوار ہے۔ جواب میں سر کی ہلکی سی جنبش ملتی۔ یا پھر کیسا محسوس کر رہے ہیں آپ؟ اور زبردست، never been better، جیسے جوابات ملتے۔ شروع کے کچھ دن تو میں ایک سرخوشی کے عالم میں تھا اس لئے کچھ محسوس نہ کر سکا۔ پھر ایک شرمندگی، ایک لاچارگی سی محسوس ہونے لگی۔ جیسے لندن کے مادام تساد میوزیم میں کسی مومی پتلے کو آپ تھوڑی دیر تک انسان سمجھ کر دیکھتے رہو اور کوئی بات بھی کر ڈالو اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک احساس کہ کوئی نہیں ہے۔ اور آپ کھسیا کر وہاں سے چل پڑو۔ تھوڑا مسکراتے ہوئے پر کچھ دور جا کر طبیعت پر بہت اداسی چھا جائے۔

یا پھر جیسے ایک معصوم بچہ بندر کے پنجرے کے باہر کھڑا ہو اور پکارے

’’چھلانگ لگاؤ‘‘

بندر ایک نظر اس کے چہرے  پر ڈالے اور چھلانگ لگا دے۔ اس جھولے سے اس جھولے تک۔ بچہ خوشی سے پاگل ہو جائے۔ کہ بندر تو اس کی زبان سمجھتا ہے۔ پھر بولے ’’میرے پاس آؤ۔ ‘‘

بندر چونک کر اس کی طرف دیکھے اور پھر چھلانگ لگا دے۔ اس جھولے سے اس جھولے تک۔

بندر اس کی زبان نہیں سمجھتا، اسے جانتا نہیں۔ وہ تو بس اس پنجرے میں ہے چھلانگ لگانے کے لئے۔ ایسے ہی یہ لوگ اس شہر میں ہیں لفٹ چلانے کے لئے، گیس بھرنے کے لئے، کافی دینے کے لئے۔ تو جب تک آپ انہیں ان کی مطلوبہ چیز بولو گے تو لگے گا کہ یہ آواز سنتے ہیں، سمجھتے ہیں اور  جواب دیتے ہیں۔ زندگی کے ہر معانی میں ایک جیتے جاگتے انسان ہیں۔ پر جس لمحے آپ ان سے کوئی اور سوال کرو۔ اس بندر کی طرح یہ ایک اور چھلانگ لگا دیں گے۔ کافی والا ایک اور کافی لا دے گا۔ گیس بھرنے والا پھر سے گیس بھرنے لگے گا یہاں تک کے آپ کے گیس ٹینک سے گیس باہر گرنے بھی لگے۔

پھر سارے رستے آپ اکیلے ہوتے ہو اور  دفتر میں بھی ادھر سے ادھر سب مشینیں گھومتی ہیں جو رٹے رٹائے الفاظ دہراتی  رہتی ہیں۔

’’کمپنی کی سیل گر رہی ہے‘‘                                                                                                  

advertising  بڑھا دو‘‘

’’مارکیٹ میں slumpہے‘‘

’’پورٹ فولیو diversifyکر لو‘‘

زندگی سے خالی سوالات اور ایسے ہی جوابات۔ مگر یہ جواب دینے والے اپنی مدد کے لئے

high speed laptops, projectors, graphicsایسے استعمال کرتے ہیں جیسے ان سے بڑا analystکوئی کہاں ہو گا؟پر جب ان شوخ figuresکی تہہ میں جھانکو تو خالی پن کا احساس ہو گا۔ آپ یہ محسوس کر کر بولنا چاہتے ہو کہ یہ سب ڈھونگ ہے تو ہر کوئی عجیب نظروں سے دیکھتا ہے۔

آپ انہیں حقیقت سمجھانا چاہتے ہو تو  وہ سمجھ نہیں پاتے۔ کیونکہ حقیقت ہمیشہ اتنی سادہ نہیں ہوتی کہ اسے خوبصورت گرافس یا آسان فارمولوں کی مدد سے سمجھا جا سکے۔ اس کے لئے دماغ چاہیے ہوتا ہے۔ کاغذ کے انباروں، گنجلک لکیروں کے بیچ اسے ڈھونڈنا پڑتا ہے۔

’’نہیں تمہاری بات clientکے پلے نہیں پڑے گی‘‘

’’تو پھر کیا کیا جائے؟‘‘

advertising"بڑھا دو‘‘

بندر ایک جھولے سے دوسرے جھولے پر چھلانگ لگا جاتا ہے اور میں پھر کھسیا جاتا ہوں۔

پھر شام ڈھلے جب گھر پہنچو تو بیوی سے لگاوٹ کی باتیں کرو۔ اپنے ہر عمل سے ظاہر کرو کہ آپ اس سے بے پناہ محبت کرتے ہو اور آپ میں sexکرنے کا وحشیانہ جذبہ موجود ہے۔ پھر اس سب کے بعد جب لفظ exhaustedبھی آپ کی حالت کو مکمل describeنہ کر سکے تو سونے کے لئے لیٹ جاؤ۔ آنکھیں موندنے سے پہلے ایک لمحہ سوچو

’’میں کیا کر رہا ہوں؟‘‘

اور پھر جسم کی تھکن روح کے سوال پر حاوی ہو جائے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الارم کی ٹوں، ٹوں کے ساتھ ایک اور دن، ایک اور چھلانگ۔

ہماری پیدائش کے ساتھ دنیا میں ایک سوال جنم لیتا ہے۔ وہ سوال بہت سیدھا سادا سا ہے۔ وہ سوال زندگی کا essenceہے۔ سوال اتنی بنیادی نوعیت کا ہے کہ اس کے بغیر لیا زندگی کا ہر سانس بے معنی ہے۔

’’ہم کون ہیں؟ یہاں کیوں ہیں؟‘‘

دیکھنے میں یہ بہت آسان ہے مگر صرف اس سوال سے بچنے کے لئے انسان نے کیا کچھ نہیں کیا؟مذہب بنائے اور beliefکو سوچ کا زنداں بنا دیا، قانون ایجاد کئے اور معاشرے کو فرد پر ہمیشہ کے لئے فوقیت دے دی، محبت کی اور خود فراموشی کو وہ قلعہ بنا لیا جس کی فصیلیں تازہ ہوا کو بھی اندر آنے کی اجازت نہیں دیتیں۔ میں کس کس چیز کا ذکر کروں؟یہ سب چیزیں anodynesہیں، ہر وہ چیز جو ہمیں حقیقت کے بارے میں سوچنے سے روکتی ہے میرے نزدیک ایک نشہ ہے اور نشہ خواہ کتنا بھی گہرا کیوں نہ ہو کسی ترشی، کسی حادثے سے رفو ہو جاتا ہے۔ مگر ہم کب تک کسی حادثے کے منتظر رہیں گے؟

میرے لئے آج کا دن کوئی حادثہ نہیں تھا۔ پر کبھی کبھی ایسا بھی تو ہوتا ہے کہ متلی کا احساس نشہ ہرن کر دے۔ اور یہ احساس تب تب ضرور ہوتا ہے جب آپ بے پناہ لایعنیت نگل لو۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ میں نے مہینوں کی محنت سے تیارکر دہ رپورٹ اپنے باس کی میز پر رکھی اور اس نے بڑے فخر سے میری طرف دیکھا۔ سمری پر سرسری نظر ڈال کر اس نے میری قابلیت اور محنت کی داد دی۔ پر اس سب کے بعد جب میں  باہر نکلنے لگا تو اس نے drawerسے چند کاغذات نکالے اور میری طرف بڑھائے، یہ کہ کر کہ بہت اہم ہیں ان پر آج ہی کام شروع کرنا ہے۔ مجھے متلی کا احساس ہونے لگا۔ آپ دن رات محنت کرتے ہو کس لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک کام ختم ہونے کے بعد دوسرا شروع کر سکو۔ یاجوج ماجوج کی دیوار کی طرح ایک بے معنیchallengeہمیشہ میرے سامنے کھڑا رہتا ہے۔ کاغذات مجھے ہاتھ میں انگاروں کی طرح محسوس ہو رہے تھے۔ میں نے باس کے کمرے سے نکلتے ہی وہ ڈسٹ بن میں پھینک دیے۔ میری سیکریٹری  نے حیران نظروں سے مجھے دیکھا۔

’’آپ ٹھیک تو ہیں؟‘‘

میں ٹھیک کہاں تھا۔ میں کچھ نہیں بولا۔ باہر نکل کر پارکنگ لاٹ میں جانے کی بجائے سڑک سے بس لے لی اور سیٹ پر آنکھیں بند کر کر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد موبائل فون بولا تو اسے بند کر کر سیٹ کے نیچے ڈال دیا۔ اور میں بس سے باہر نکل آیا۔ اب میں خود کو بہت ہلکا محسوس کر رہا تھا۔

تمام دن شہر میں یونہی بے مقصد گھومنے کے بعد اس بنچ کے پاس آ ٹھہرا۔ میں نے اپنا پرس نکالا اور پوری قوت سے اسے دریا میں پھینک دیا۔ کچھ یوں تھا جیسے اپنے پرس میں رکھے سارے روپوں، کریڈٹ کارڈوں اور ایک مشینی زندگی کے بدلے میں نے یہ نیا اور پرسکون گھر خرید لیا تھا۔ بس کاش میں اس آوارہ کتے کو اپنا گھر دے سکتا مگر وہ میرے بس میں نہ تھا اور ویسے بھی اس معصوم کے ساتھ میں یہ زیادتی کیسے کر سکتا تھا؟وہ کہیں نہ کہیں اپنی جگہ ڈھونڈ ہی لے گا۔ میں بنچ پر لیٹ گیا اور آنکھیں موند لیں۔

میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ کیا میرا انجام بھی ان پاگلوں سا ہونے والا ہے جو ننگ دھڑنگ سڑکوں پر پھرتے رہتے ہیں اور کسی دن ان کی اکڑی ہوئی لاش کسی گٹر کے کنارے نظر آتی ہے۔ مجھے اپنا آپ بے پناہ غیر اہم لگتا ہے۔ ہر چیز میرے سے بے حد بے نیاز ہے۔ میں ایک بہت بڑے کھیت کا ایک خوشہ ہوں یا پھر ایک سمندر کا کوئی اکیلا قطرہ۔ ایک شرمناک حد تک بے حقیقت ہوں۔ سو اگر کوئی مجھ سے بات کرتا بھی ہے تو با امر مجبوری، اگر کوئی میرے سامنے مسکراتا بھی ہے تو اس لئے نہیں کہ وہ مجھ سے مل کر خوش ہوا ہے اور نہ یوں ہے کہ وہ میرا دل رکھنا چاہتا ہے، بلکہ کچھ یوں ہے کہ وہ سب اداکاری کرتے ہیں۔ ایک بہت بڑے ڈرامے میں لکھے اپنے رول کو نبھاتے ہیں۔ میں ان کے لئے اسٹیج پر پڑی جیسے کوئی بے جان چیز ہوں جو انہیں مکالمے بولنے کے لئے back groundپیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔

یہ یقیناً بہت خوفزدہ کرنے والی بات تھی۔ آپ پرانے غیر آباد شہروں میں گھومتے ہو یا پھر کسی قبرستان کے پاس  سے گزرتے ہو تو ایک سرد لہر جسم میں دوڑنے لگتی ہے۔ یہ خوف کی بہت نچلی سطح ہے۔ اور یہ شہر اب اس سے گیا گذرا کیا ہو گا۔ مگر ایک دن یونہی آپ کو خبر ہو کہ اصل میں تو آپ بھی قبر میں ہو، یا پھر اس قدیم شہر کے ماضی میں بسنے والا کوئی شخص ہو(جیتے جاگتے انسان نہیں کوئی بھوت ہو)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتر آئی نہ دور افتاد خلاؤں کی سردی جسم میں۔

یہی احساس مجھے بھی ہوا۔ اس شہر میں آ کر میں بھی ایک بت بن گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ میں سب کچھ وہی کر رہا تھا جو یہ دوسرے لوگ میرے ساتھ کر رہے تھے۔ میں ان کے لئے ایک بت ہی تو تھا۔

وہ رات قیامت کی رات تھی۔ اس رات میں نے بہت سوچا۔ اتنا کہ ساری زندگی میں کبھی نہ سوچا ہو گا۔ وہ باتیں بے دھڑک سوچ ڈالیں جن کا گمان بھی کبھی آ جاتا تو کانپ اٹھتا تھا۔ خدا، مذہب، رشتے، کائنات، اپنی ذات۔۔۔۔۔۔۔۔ اس رات میں کہاں کہاں نہیں گیا۔ اور جب صبح کا سورج ابھرا تو میں نے ایک فیصلہ کیا۔ میں خود کو کسی بھی کھیل کا مہرہ نہیں بننے دوں گا۔ میں بہت کام کر چکا ہوں۔ انسانیت کی immortalityکے لئے میں بہت قربانیاں دے چکا ہوں۔ میں نے صحراؤں کی تپتی ریت پر کسی فرعون کے لئے اہرام تعمیر کیے، میں نے اپنے جلتے لہو کی روشنی میں hamletاور مونا لیزا جیسے شاہکار تراشے، میں نے بے وفا عورتوں کی کوکھ میں ایک بے شعور نسل کا بیج رکھا۔ میں نے کیا کیا نہیں کیا؟انسانیت کے لیے اپنے آپ کو  مٹا دیا اور  اب ان ہزاروں برسوں کے بعد میری محنت اور قربانیوں کا یہ صلہ مل رہا ہے کہ میں اپنی بنائی ہوئی دنیا میں اجنبی اور بے حقیقت ہوں۔

بہت ہو چکا، اب فرمان پورے کرنے کی استطاعت ختم ہوئی۔ اب مجھے اپنا مقام ڈھونڈنا ہے۔ مگر میں کہاں سے شروع کروں؟

بات اس شہر کی نہیں، بات میرے حالات کی نہیں۔ بات اس سمت کی ہے جس میں ہم سب ہانکے جا رہے ہیں۔ کبھی ان کسانوں کو دیکھا ہے جو جنگلی سوروں کا شکار کرتے ہیں۔ یہ سور جو گنے کی قد آدم فصلوں میں گھسے بیٹھے ہوتے ہیں، ان کی تین طرف ہانکا لگایا جاتا ہے۔ بڑے بڑے ڈھول بجائے جاتے ہیں اور وہ سب اس شور سے گھبرا کر چوتھی سمت بھاگتے ہیں، جہاں خاموش شکاری اپنی بندوقوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ مرنے کے لئے بھاگا نہیں جا رہا ہوں۔ مگر باقی تین سمتوں میں سے کون سی سب سے محفوظ ہے اس کی خبر بھی نہیں ہے۔ یا پھر یوں کیا جائے۔ ڈر کر بھاگنے کی بجائے کسی خرگوش کے بچے کی طرح وہیں دبک جایا جائے۔ اس لمحے تک جب ہانکا لگانے والے چلے نہ جائیں۔ جب تک کسی ایک سمت میں جانا زیادہ محفوظ نہ ہو جائے۔ کچھ ٹہنیاں اپنے چہرے پر گرا لو، سانس کو ساکت کر لو، خاموشی سے پڑے رہو اور انتظار کرو۔ اگر ایسے میں کوئی وہاں آ بھی نکلے تو تھوتھنی کو ذرا جھکا کر آنکھوں میں میں محبت کے پیالے لے آؤ۔ شاید تمہیں چھوڑ دیا جائے۔

تو میں اس دن بنچ سے نہیں اٹھا اور اگلی رات بھی نہیں۔ بس خاموش پڑا رہا۔ اپنی ذات اور خوابوں کو کیمو فلاج کئے رہا۔ پھر شاید تیسرے دن ایک وین آئی اور مجھے ہسپتال لے گئی۔ انہوں نے بہت جتن کیے۔ میری بیوی، ماں باپ، دوست، سیکریٹری سب آئے۔ محبت بھرے لہجے میں مجھے پکارتے رہے۔ وہ سب پرانی باتیں یاد دلاتے رہے جن کا تصور ہی کبھی تنہائی میں میرے ہونٹوں پر ہنسی لا دیا کرتا تھا۔ مگر میں خاموش رہا۔ میں خوفزدہ تھا۔ ڈرتا تھا کہ یہ کوئی چال نہ ہو۔ یہ آوازیں، یہ چہرے ایک اور ہانکا نہ ہوں مجھے اس سمت بھگانے کے لئے جہاں سب بھاگنے والے گئے اور اب جن کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔

میں کسی سمت نہیں چلا تو انہوں نے مجھے پاگل خانے پہنچا دیا۔ وہاں میرے جیسے بہت سے تھے، جنہوں نے خود کو کیمو فلاج کر رکھا تھا۔ میں آج بھی ان اونچی دیواروں اور سفید کپڑے والوں کے بیچ دبکا سا رہتا ہوں۔ میری بیوی اب بھی کبھی کبھار آتی ہے۔ گھنٹوں اپنائیت کی باتیں کرتی رہتی ہے اور میں چپ چاپ کھڑا سنتا ہوں اور پھر رات کی تنہائی میں جب سب سو جاتے ہیں تو تکیہ منہ پر دے کر روتا ہوں۔ رونے سے شاید یوں لگتا ہے جیسے میں یہاں خوش نہیں ہوں مگر یہ اس وقت سے تو اچھا ہے جب رات بے پناہ تھکاوٹ اور بوریت کی وجہ سے آپ رو بھی نہ سکو۔

 ٭٭٭