کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

اللہ مسبب الاسباب ہے

سید اسد علی


شاہ صاحب بڑی قناعت پسند طبیعت کے مالک تھے۔ تمام عمر  انہوں نے اپنی سرکاری ملازمت کو بڑی ایمانداری سے نبھایا۔ بیوی بھی وفا شعار، عقلمند اور خدمت گذار ملی۔ اس لئے ان کی ساری زندگی ایک پر سکون ماحول میں بسر ہوئی۔ نماز کے بعد ہمیشہ دیر تک مصلے پر بیٹھے دعا مانگتے رہتے مگر اپنے لئے انہوں نے سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق کے سوا کبھی کچھ نہ مانگا۔ ان کی دعائیں ہمیشہ دوسروں کے لئے ہوتیں۔ مظلوموں اور دکھی لوگوں کے لئے۔

کئی دفعہ ان کی بیوی صفیہ گلہ بھی کرتی کہ آپ کو مجھ سے، اس گھر سے محبت نہیں ہے جبھی تو ہمارے لئے کچھ نہیں مانگتے۔ وہ ہمیشہ مسکرا دیتے اور کہتے

’’پر سب کچھ تو ہے ہمارے پاس۔ ہمیں اور کس چیز کی ضرورت ہے؟‘‘

زندگی یوں ہی گذرتی رہی۔ ان کی بیٹی اب جوان ہو رہی تھی۔ صفیہ اب دبے دبے انداز میں فکر کا اظہار بھی کرنے لگی تھی مگر شاہ صاحب ہمیشہ مطمئن نظر آتے۔ انہیں اللہ پر بے حد توکل تھا۔ پھر ایک اچھا رشتہ آیا اور جھٹ شادی کی باتیں ہونے لگیں۔ شاہ صاحب نے کہا کہ دیکھو میں نہ کہتا تھا کہ اللہ بڑا مسبب الاسباب ہے۔

گرچہ شاہ صاحب کی آمدنی ہمیشہ سے محدود ہی تھی مگر وہ فضول خرچ ہرگز نہ تھے۔ صفیہ بیگم بچی کے پیدائش کے دن سے اس وقت کے لئے پیسے جمع کر رہی تھیں۔ یہ پیسے شاہ صاحب اپنے بھائی کے پاس رکھوا دیتے۔ ان کی کپڑوں کی دکان تھی۔ شاہ صاحب کو اس رقم پر کاروبار میں ہونے والے منافع سے حصہ بھی مل جاتا اور وہ بینک میں ہونے والے سودی لین دین سے بھی بچ جاتے۔

اب بدقسمتی سے ان کے بھائی دل کے دورے سے جاں بحق ہو گئے۔ لکھت پڑھت تو دونوں بھائیوں کے بیچ تھی کوئی نہیں اور بھتیجوں نے باپ کے مرتے ہی آنکھیں ماتھے پر رکھ لیں۔ شاہ صاحب نے دو ایک بار تقاضہ کیا مگر اپنی وضع دار طبیعت اور ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے خاموش ہو کر بیٹھ رہے۔

اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ کبھی اس پیسے کے بارے میں سوچتے بھی نہ۔ پیسہ تھا ہی ایسی غیر اہم سی چیز ان کی زندگی میں۔ مگر سوال ان کی اکلوتی بیٹی کی خوشیوں کا تھا۔ اور ساتھ میں لڑکی کے سسرال والے بھلا ان باتوں کو کہاں سمجھتے تھے۔ ساری زندگی کسی سے ادھار وغیرہ کی نوبت نہ آئی تھی۔ اب کڑا وقت پڑا تو چاہا کہ کسی سے رقم پکڑ لیں اور پھر آہستہ آہستہ لوٹا دیں۔ مگر اب انہیں احساس ہوا کہ وہی لوگ، وہی رشتہ دار جو انہیں عقیدت سے سر آنکھوں پر بٹھاتے رہے، پیسہ مانگنے کا وقت آیا تو آنکھیں پھیر گئے۔ ہمارے معاشرے میں نیک اور ایماندار کی عزت تو سب کرتے ہیں پر اعتبار کوئی نہیں کرتا۔ یہاں اگر کسی کو تھانے دار بھرتی ہونے کے لئے رشوت دینا ہو تو لوگ گھر آ کر ادھار دے جاتے ہیں۔ جانتے ہیں کہ پوسٹنگ ہوتے ہی رقم سود سمیت واپس ہو جائے گی اور اوپر سے رسوخ علیحدہ۔ مگر ایک ایماندار سرکاری ملازم کہاں سے ادا کر پائے گا رقم؟ وہ یہ نہیں سوچتے کہ رقم واپس کرنے کے لئے رقم سے زیادہ نیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کیوں لاکھوں لوگ فنانس اور کواپریٹو کمپنیوں کے ہاتھوں لٹتے؟

شاہ صاحب مایوس ہونے والے تو نہ تھے مگر انہیں دکھ ضرور ہوا۔ انہوں نے آفس سے ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی رقم نکلوانے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ اس میں کئی مہینے درکار ہیں۔ اگر جلدی چاہیے تو متعلقہ محکمے میں رشوت دینی پڑے گی۔

’’اب اتنی جلدی تو ہے نہیں کہ جہنم سے ہی گذر جائیں۔ ‘‘شاہ صاحب نے اپنے اسی شگفتہ لہجے میں کہا۔ لیکن جیسے جیسے شادی کے دن قریب آ رہے تھے پریشانی بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ ایک رات صفیہ نے کہا

’’اب کیا ہو گا؟‘‘

’’اللہ مسبب الاسباب ہے۔ ‘‘

’’آپ دعا بھی تو نہیں مانگتے اللہ سے؟‘‘

’’آج تک ان چیزوں کے لئے دعا کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ پر اب مانگوں گا۔ ‘‘

اس رات عشاء کے بعد شاہ صاحب بڑی دیر تک مصلے پر بیٹھے رہے۔ انہوں نے شادی کے تمام اخراجات کا حساب لگا کر دیکھا کہ انہیں  تقریباً تین لاکھ کی ضرورت تھی۔ اس لئے انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ انہیں یہ پیسے مل جائیں۔

اگلا دن معمول کے مطابق گزرا۔ ہاں دفتر میں کچھ کام زیادہ ہونے کی وجہ سے نکلتے ہوئے کافی دیر ہو گئی۔ ویسے انہوں نے صفیہ کو فون کر دیا تھا مگر اس طرح رات دس بجے گھر لوٹنے کا ان کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ سردیوں میں تو سر شام ہی سڑکیں سنسان ہو جاتی ہیں۔ تھوڑی دیر تک بس سٹاپ پر کھڑے رہے مگر سواریاں نہ ہونے کی وجہ سے شاید بس والوں نے بھی اس گھاٹے کے چکر کی بجائے گھر جانے کو ترجیح دی تھی۔ خیر اب پیدل چلنے کے سوا کوئی راستہ نہ تھا۔ گھر بہت دور نہ تھا۔ غالباً آدھ گھنٹے میں پہنچ جاتے۔

ابھی تھوڑی دور پہنچے کہ سڑک پر کوئی سیاہ رنگ کی شئے گری نظر آئی۔ قریب جا کر دیکھا تو ایک بریف کیس تھا۔ بادی النظر میں تو لگتا تھا جیسے اسے چلتی گاڑی سے پھینکا گیا ہے یا پھر ہو سکتا ہے کہ کسی موٹر سائیکل والے کا گر گیا ہو۔ اگرچہ ایسا بریف کیس مشکوک سامان کے زمرے میں آتا تھا۔ ایسی چیزیں دہشت گرد استعمال کر سکتے ہیں مگر دہشت گردوں کو بھلا اس ویران جگہ پر بریف کیس پھینکنے سے کیا ملنے والا تھا؟ضرور یہ کسی کا غلطی سے گر گیا ہو گا۔

انہوں نے اسے اٹھایا اور کھولا تاکہ شاید کوئی نام پتہ مل جائے۔ وہ اندر سے  تقریباً خالی ہی تھا۔ بس ایک کونے میں ایک خاکی لفافہ دھرا تھا۔ لفافہ کھولا تو ان کا جی دہل گیا۔ وہ نوٹوں سے بھرا تھا۔ ہزار ہزار کے نوٹ تھے۔ یقیناً لاکھوں میں تھے۔ اب تو وہ سٹپٹائے کہ کسی کا بھاری نقصان ہو جائے گا اور پھر کوئی اتہ پتہ بھی نہیں۔ اس لئے وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے کہ اگر کوئی شخص اسے ڈھونڈتا آئے تو اس کی امانت اس کے سپرد کر سکیں۔ ایک دفعہ تو جی میں آئی کہ کہاں اس رات گئے شدید سردی میں یہاں بیٹھا رہوں؟گھر چلتا ہوں اور صبح تھانے میں جمع کروا دوں گا۔ پر پھر جب اس شخص کی کیفیت کا سوچا جو اتنی بڑی رقم کھو چکا تھا تو انتظار کرنے کو ہی ترجیح دی۔

اب بیٹھے تو احساس ہوا کہ سردی کتنی شدید تھی۔ پہلے تو چل رہے تھے اس لئے جسم گرم تھا۔ پھر صفیہ کی پریشانی کا خیال بھی تھا۔ ایسے میں دور سے سیٹی کی آواز سنائی دی۔ کوئی دھیمے سروں میں کسی پرانے گانے کی دھن بجاتا آ رہا تھا۔ ایک دفعہ تو جی خوش ہوا کہ شاید بریف کیس کا مالک ہی آر ہا ہو۔ پھر جی میں آئی کہ وہ بھلا کیوں بے فکری سے سیٹیاں بجاتا آنے لگا۔ قریب آیا تو دیکھا کہ وہ کوئی طالب علم تھا جو شاید فلم کا آخری شو دیکھ کر آ رہا تھا۔ شاہ صاحب کو بیٹھے دیکھ کر ٹھٹھکا۔

’’کیا ہوا؟خیریت تو ہے‘‘

’’ہاں اللہ کا شکر ہے۔ بس کسی کا انتظار ہے۔ ‘ ‘انہوں نے کہا۔

’’انتظار بری چیز ہے۔ فلم میں بھی ہیرو انتظار کرتا رہ گیا اور ہیروئن کسی دوسرے کے ساتھ چلی گئی۔ ‘‘

’’ہاں ایسا بھی ہوتا ہے۔ پر میں اس قسم کے انتظار کی عمر سے گذر گیا ہوں۔ ‘‘

’’شاید آپ سچ کہتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر میرے نزدیک انتظار کا عمر سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کا تعلق تو امید سے ہے اور امید کوئی کبھی بھی، کسی بھی عمر میں توڑ سکتا ہے۔ پرانے درخت کو کاٹتے ہوئے زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔۔۔۔ بہرحال چلتا ہوں۔ ‘‘

وہ مسکراتا، سیٹی بجاتا اپنے راستے پر ہو لیا۔ اور شاہ صاحب پنے کوٹ کو سمیٹ کر کچھ اور سکڑ گئے۔ وقت بڑی آہستہ آہستہ گذرتا رہا۔ رات کے دو بجے تک ایک سائیکل والے اور دو بھاگتے کتوں کے سوا کوئی ادھر سے نہ گذرا۔ سائیکل والا اپنی دھن میں تھا۔ انہوں نے اس وجہ سے اسے آواز دے ڈالی کہ کہیں انہیں پریشانی میں دیکھ ہی نہ پایا ہو۔ آواز سننے پر وہ سائیکل پر تن کر بیٹھ گیا اور زور زور سے پیڈل مارتا، ہوا ہو گیا۔ شاید وہ منہ میں کچھ قرآنی آیات بھی پڑھ رہا تھا۔ شاہ صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ انہوں نے سوچا کہ اب بھوتوں کے قصے سنانے والوں میں ایک اور چشم دید قصہ گو کا اضافہ ہو جائے گا۔ وہ جو ایسی ساعتوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا چاہیے کہ آدمی پتھر کا ہو جاتا ہے۔ وہ شاید اس لئے تھا کہ کوئی بھوتوں کی اصلیت نہ جان سکے۔ پیچھے مڑ کر دیکھنے والے کہانی کے طلسم سے باہر نکل جاتے ہیں۔ قصہ گو کے کسی کام کے نہیں رہتے۔

اب شاہ صاحب کا جسم بھی جواب دے رہا تھا، ہونٹوں پر کپکپی طاری ہو رہی تھی۔ یہی سوچا کہ اس سے پہلے کہ وہ واقعی بھوت بن جائیں انہیں چلنا  چاہیے۔ اگر ان صاحب کو آنا ہوتا تو اب تک آ جاتے۔ اور پھر اب تو صفیہ بھی نفل پڑھ پڑھ کر تھک چکی ہو گی۔ سو وہ وہاں سے چل پڑے۔ گھر کا دروازہ پہلی دستک پر یوں کھل گیا جیسے صفیہ دہلیز سے ہی لگی کھڑی ہو۔ شاہ صاحب کو بخیریت دیکھ کر اس کے چہرے پر اطمینان کی ایک لہر دوڑ گئی۔

’’میں تو پریشان ہو گئی تھی۔ اتنی دیر تو آپ نے کبھی نہ کی۔ ‘‘

’’بھئی اندر آنے دو تو بتاتا ہوں کہ کیا ہوا؟‘‘شاہ صاحب بشاشت سے مسکراتے ہوئے اندر داخل ہوئے اور صفیہ ان کے کرسی پر بیٹھتے ہی پانی کا گلاس لے آئی۔

’’نہیں بھئی۔۔۔ سردی سے قلفی جم رہی ہے۔ چائے چاہیئے۔ پر ایسا کرو کہ پہلے کھانا ہی لے آؤ۔ ‘‘

’’ہاں ضرور۔۔۔۔۔ تیار ہی ہے۔ ‘‘وہ کچن کی طرف دوڑی۔ کھانے اور چائے کے بعد اس نے پھر سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ انہوں نے سب تفصیل بتائی تو وہ ہنس پڑی۔

’’لو۔۔۔ بس یہ بات تھی۔ وہیں سردی میں کھڑے ہونے کی کیا ضرورت تھی۔ صبح دے دینا تھا تھانے میں۔ پر پہلے کھول کر دیکھ لو کہ شاید کوئی پتہ وغیرہ مل جائے۔ ‘‘

شاہ صاحب نے اب کے ایک مرتبہ پھر اسے کھولا۔ خوب دیکھا بھالا۔ سوائے لفافے کے بریف کیس میں کچھ بھی نہ تھا۔ رقم گڈیوں کی صورت میں تھی اور وہ پورے تین لاکھ تھی۔

’’ہائے اتنی بڑی رقم کوئی ایسے ہی پھینک گیا؟‘‘

’’تبھی تو بیوقوفوں کی طرح بیٹھا رہا اتنی دیر۔ ‘‘شاہ صاحب نے کہا۔

’’اچھا کیا۔۔۔۔ پر اب ان کا کیا کرو گے؟‘‘اس نے تجسس سے پوچھا۔

’’بھئی کرنا کیا ہے؟صبح تھانے میں جاؤں گا اور ذمہ داری ختم۔ ‘‘

’’اب اگر تم یہ سوچ رہے ہو کہ تھانے والے مالک کو ڈھونڈ کر پوری رقم ادا کر دیں گے، تو تم بہت بھولے ہو۔ ‘‘

’’ہاں کہتی تو تم ٹھیک ہو۔ پر اب اس کے سوا اور راستہ کیا ہے؟اور یوں بھی خواہ مخواہ کی بدگمانی اچھی نہیں ہوتی۔ پولیس میں اچھے لوگ بھی ہیں۔ ‘‘شاہ صاحب نے اسے سمجھایا۔

’’ہاں ہاں۔۔۔ بدگمان تو میں ہی ہوں۔ ساری دنیا تو جھک مارتی ہے نہ۔ اور یہ جو پولیس کی رشوت کے قصے ہیں ان کا کیا؟میں تو کہتی ہوں کہ اللہ نے ہماری بچی کی شادی کے لئے غیبی مدد کی ہے۔ یاد ہے کہ کل ہی تو تم دعا کر رہے تھے کہ اگر تین لاکھ مل جائیں تو سارا مسئلہ حل ہو جائے۔ دیکھ لو پورے تین لاکھ ہیں۔ ‘‘

شاہ صاحب جھلا گئے۔

’’صفیہ مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔ ٹھیک ہے کہ ہمیں پیسوں کی ضرورت ہے۔ پر اگر اللہ کو دینے ہوں گے تو وہ جائز طریقے سے دے گا، جنہیں میں سر اٹھا کر وصول کر سکوں۔ کہ یہ میرے مالک کی عنایت ہیں۔ ان کو لینے سے تو میں اپنے آپ سے بھی نظر نہ ملا سکوں گا۔ ‘‘

صبح دفتر جانے سے پہلے شاہ صاحب نے پیسے تھانے میں جمع کروا دیے۔ تھانے والوں نے انہیں یقین دلایا کہ وہ مالک کو ڈھونڈنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ اور ساتھ میں ان کی ایمانداری کی تعریف بھی کی۔ دفتر میں سارا دن کوئی خاص بات نہ ہوئی سوائے اس کے کہ ایک ٹھیکیدار نے اپنی فائل چلانے کے عوض انہیں تین لاکھ روپے رشوت کی پیشکش کی۔ شاید وہ نیا آیا تھا۔ ورنہ محکمے میں سب جانتے تھے کہ شاہ صاحب غلط کام کسی بھی قیمت پر نہیں کرتے اور رشوت تو ناممکن۔ گھر پہنچے تو ان کی بیٹی رابعہ کا چہرہ تمتما رہا تھا۔ صفیہ بھی مسکرا رہی تھی۔

’’ارے بھئی کیا ہوا؟آج تم دونوں بہت خوش ہو۔ ‘‘

’’ابو۔ آپ سنو گے تو یقین نہیں کرو گے۔ پتہ ہے۔ آج گھی کا ڈبہ کھولا تو اس میں سے ہمارا انعام نکل آیا ہے۔ پورے تین لاکھ۔ ‘‘رابعہ نے خوشی سے بتایا۔

شاہ صاحب کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ سیدھے گئے اور سجدے میں گر گئے۔ وہ رو رہے تھے اور آہستہ آہستہ کہ رہے تھے۔

’’اے خدا !  میری آزمائش کب ختم ہو گی؟ کیا میری پوری زندگی بھی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں کہ مجھے تیری محبت کے سوا کچھ نہیں چاہیئے۔ پھر یہ ابتدائے سفر والے سراب کیوں دیکھ رہا ہوں میں؟‘‘

وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ آخر ان کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟پھر انہیں یاد آیا کہ’ ’جو دل خواہش کرے گا اللہ اسے آزمائش میں مبتلا کر دے گا۔ ‘‘

یہ خیال آتے ہی دل کو ذرا اطمینان ہو گیا۔ انہوں نے ایک مادی چیز کی فرمائش کر کر غلطی کی تھی۔ پر اب انہیں اس آزمائش میں کامیاب ہونا تھا۔ وہ کمرے سے نکلے تو رابعہ کا چہرہ اب تک چمک رہا تھا۔ وہ سمجھی کہ ابا سجدہ شکر ادا کر رہے تھے۔

’’بیٹی۔۔۔ ہم یہ پیسے نہیں رکھ سکتے۔ یہ جوا، لاٹری وغیرہ اسلام میں جائز نہیں ہیں۔ ‘‘

رابعہ کو لگا کہ ابا مذاق کر رہے ہیں۔ صفیہ البتہ انہیں اچھی طرح جانتی تھی۔ اس نے انہیں نرم کرنے کے لئے کہا۔

’’آپ صحیح کہ رہے ہو، پر ہم کہاں جوا کھیلنے کے واسطے گئے ہیں؟اور گھی تو وہی ہے جو ہم برسوں سے استعمال کر رہے ہیں۔ اب اگر اس میں سے انعام نکل آیا ہے تو رکھنے میں کیا حرج ہے؟ کیا خبر کہ خدا نے اسی راستے سے ہماری مدد کی ہو؟‘‘

’’نہیں صفیہ بیگم۔۔۔ اللہ کی مدد ایسے راستوں سے نہیں آتی۔ یہ تو آزمائش ہے ہمارے لئے۔ ‘‘

’’پر ہم نہیں لیں گے تو یہ رقم اس غیر ملکی کمپنی کے پاس پڑی رہ جائے گی۔ آپ یہ بھی تو سوچو۔ ‘‘

’’یہ جہنم کا ایندھن انہی کے پاس رہے تو اچھا ہے۔ ‘‘شاہ صاحب کے لہجے میں قطعیت تھی۔

’’اچھا تو پھر کسی غریب کو ہی دے دیں۔ یونہی تو اسے ضائع نہ کریں۔ ‘‘صفیہ نے آخری اپیل کی۔

’’جو میں اپنے لئے حرام سمجھتا ہوں اسے اپنے بھائیوں کو کیسے دے دوں؟‘‘

اس کے بعد اس موضوع پر بات نہیں ہوئی۔ صبح مسجد میں فجر کے بعد نکلنے لگے تو آغا صاحب نے شانہ پکڑ لیا۔

’’شاہ صاحب کیا جلدی میں ہو؟‘‘

آغا صاحب بڑے نیک دل بزرگ تھے۔ ان کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ اور دل ایسا تھا کہ ہمیشہ غریبوں کے لئے تڑپتا رہتا۔ کئی بیواؤں اور یتیموں کے مہینے لگا رکھے تھے۔

’’ارے نہیں آغا صاحب۔ جلدی کاہے کی۔۔۔ بس گھر جا رہا تھا۔ ‘‘

’’اچھا بیٹھو تو ایک منٹ کو۔ ‘‘

دونوں ایک بند دکان کے تھڑے پر بیٹھ گئے۔ آغا صاحب نے کہا۔

’’آپ کی ایک امانت ہے ہمارے پاس۔ بس وہ آپ کو دینا چاہتے ہیں۔ ‘‘

’’امانت؟‘‘شاہ صاحب کا لہجہ استفہامیہ تھا۔

’’آغا صاحب نے ایک چھوٹا سا لفافہ ان کی طرف بڑھایا۔ اس میں تین لاکھ کا چیک ہے آپ کے لئے۔ ‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘شاہ صاحب گڑبڑا گئے۔

’’مجھے پتہ ہے کہ آپ حیران ہو رہے ہو گے۔ قصہ یہ ہے کہ رات سوتے ہوئے ایک بزرگ کو خواب میں دیکھا۔ انہوں نے مجھے تاکید کی کہ آپ کو تین لاکھ روپے دے دیے جائیں۔ سو میں حاضر ہو گیا۔ ویسے خیریت تو ہے نہ؟‘‘

’’مگر مجھے صدقات۔ زکواۃ سے کیا لینا دینا۔ مجھے یہ پیسے نہیں چاہیں۔ ‘‘شاہ صاحب نے لفافہ واپس کر دیا۔

’’آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔ یہ تو ایک تحفہ ہے، اسے ہدیہ عقیدت جانیں۔ اور پھر دولت کی حیثیت ہی کیا ہے؟اور اگر ایسا ناکارہ آلہ خدا کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے تو پھر اور کیا چاہیے؟‘‘

شاہ صاحب سوچ میں پڑ گئے۔ وہ جانتے تھے کہ آغا صاحب بڑے نیک شخص ہیں اور ان کی آمدنی بھی غالباً حلال پرہی مشتمل تھی۔ کوئی شرعی عذر بھی مانع نہیں تھا۔ پر دل نہیں مان رہا تھا۔ یہی انہوں نے آغا صاحب سے بھی کہ دیا۔

’’شاہ صاحب۔۔۔ اگر خدا کی رحمت دروازے پر دستک دے تو دیر نہیں کرنی چاہیے۔ ‘‘

’’میں یہ رقم نہیں لے سکتا۔ اس پر میرا کوئی حق نہیں بنتا۔ ‘‘

’’بندے کو کیا سمجھ کہ حق کیا ہے؟اور پھر بندے کا حق ہے ہی کیا؟سب تو اس کا فضل ہی ہے۔ تو پھر اللہ کی رحمت سے کیسا شرمانا؟‘‘آغا صاحب نے پھر سمجھانے کے انداز میں کہا۔

’’نہیں۔۔۔ میرا دل نہیں مانتا اور حکم ہے کہ جہاں شک ہو اسے چھوڑ دو۔ ‘‘شاہ صاحب کے لہجے میں قطیعت تھی۔

آغا صاحب جھلا گئے۔

’’بھئی مجھے تو سمجھ نہیں آتی کہ خدا آپ کی مدد کس طرح کرے؟ یہاں دنیا میں ہر کام وسیلوں سے ہی ہوتا ہے اور آپ ٹھہرے اس درجہ شکی مزاج۔ مجھے تو لگتا ہے کہ اگر خدا خود بھی زمین پر آ کر آپ کو یہ رقم دے تو بھی آپ نہ لینے کا کوئی نہ کوئی بہانہ بنا ہی لو گے۔ ‘‘

’’بالکل ایسا ہی ہے۔ کیونکہ وہ زمین پر آ ہی نہیں سکتا۔۔۔۔ جب کوئی آنکھ اسے دیکھ نہیں سکتی۔ اس جیسی کوئی شئے ہی نہیں۔ تو پھر وہ بھلا زمین پر کیسے آ سکتا ہے۔ ضرور یہ نظر کا دھوکا ہی ہو گا۔ ‘‘

آغا صاحب نے ان کی طرف خشمگیں نظروں سے دیکھا اور اپنا لفافہ اٹھا لیا۔

’’شاہ صاحب میں تو آپ کو سمجھدار آدمی سمجھتا تھا پر اب لگتا ہے جیسے آپ کو پیسوں کی ضرورت ہی نہیں۔ اور میں اس بندے کے بارے میں کیا کہوں جو اللہ کو آزمانے چلا ہے۔ ‘‘یہ کہ کر وہ چلے گئے۔

شاہ صاحب تھکے تھکے  قدموں سے گھر کی طرف چل پڑے۔ وہ کافی پریشان ہو گئے تھے۔ سوچ رہے تھے

’’کیا واقعی میں رقم چاہتا ہی نہیں؟کیا واقعی میں اپنی بیٹی سے اس کی خوشیاں چھین رہا ہوں؟کیا واقعی میں نے کفران نعمت کیا ہے؟‘‘

ان کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ سوچ رہے تھے کہ اگر ایسا رہا تو پھر تو چاہے چھت پھاڑ کر سونے کی بارش ہو جائے یا پھر گہری زمین سے دفینہ مل جائے۔ وہ کبھی بھی رقم حاصل نہ کر پائیں گے۔

’’اے اللہ مجھے سیدھا راستہ دکھا۔۔۔ ‘‘انہوں نے بڑی بے بسی سے دعا کی۔

وہ گھر میں آئے اور چارپائی پر لیٹ گئے۔ عموماً وہ بڑے مطمئن قسم کے انسان تھے۔ اس لئے صفیہ انہیں سوچتا دیکھ کر فکرمند ہو گئی اور پوچھنے لگی کہ کیا ہوا؟انہوں نے سارا واقعہ بلا کم و کاست بیان کر دیا۔

صفیہ نے ان کی ڈھارس بندھائی کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ سو انہیں پریشان ہونے کی بالکل بھی ضرورت نہیں۔

’’پر صفیہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کیوں مجھے کسی با وقار اور جائز طریقے سے پیسے نہیں مل سکتے۔ اب دیکھو وہ میرے بھتیجے۔۔۔۔۔ وہ دے دیں میرے پیسے، دفتر والے بغیر رشوت کے پروسیس کر دیں میری فائل کو، کوئی ادھار بھی تو دے سکتا ہے؟پھر آخر یہ راستے ہی کیوں اگر واقعی میری مدد مطلوب ہے؟‘‘

’’شاید اس لئے کہ فیصلہ کرنے میں اللہ نے ہمیں آزادی دے رکھی ہے۔ آپ کے بھتیجے، ادھار نہ دینے والے اقارب اور رشوت مانگنے والے کلرک اتنے خوش قسمت کہاں ہیں کہ وہ رضائے الہی کا ذریعہ بن سکیں۔ جس شئے کی سطح ہی شفاف نہ ہو اس کے سامنے آپ جیسا بھی وجود رکھ دو، وہ دھندلا ہی نظر آئے گا۔۔۔۔ وہ تو اپنی اپنی اناؤں کے الجھاووں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اور مجھے بڑی خوشی ہے کہ میں آپ جیسے شخص کی بیوی ہوں۔۔۔۔ اور سوچئے کہ رابعہ بھی تو ہماری بیٹی ہے۔ آپ اس کی طرف سے زیادہ پریشان نہ ہوں۔ پتہ ہے وہ کل مجھے کہ رہی تھی کہ اگر اس کی شادی سادگی سے ہو گئی تو وہ زیادہ خوش ہو گی۔ ‘‘صفیہ نے کہا

’’پر اس کے سسرال والے کہاں مانیں گے؟‘‘شاہ صاحب گڑبڑا گئے۔

’’میں خود بات کروں گی ان سے۔ اپنی پریشانی بتاؤں گی۔ مجھے یقین ہے کہ وہ بھلے لوگ ہیں اور ہماری مجبوری سمجھیں گے۔ اور سچ پوچھیں تو اگر وہ واقعی ضد کرتے ہیں تو مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں اپنی بیٹی کا ہاتھ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دینا چاہیے۔ ‘‘

’’صفیہ بیگم۔۔۔ سچ بتاؤں تو تم نے میرے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا۔ نیک عورت واقعی دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ تم صحیح کہتی ہو۔ ویسے بھی ابھی کچھ دن باقی ہیں۔ میں کل پھر بھتیجوں کے پاس جاؤں گا اور پینشن کی فائل بھی جمع کروا دوں گا۔ میرے خیال میں ان گم کر دہ راہ روحوں کو بھی نیکی کرنے کا ایک اور موقع ملنا ہی چاہیے۔ ‘‘یہ کہتے ہوئے شاہ صاحب کا چہرہ پرامید اور آنکھیں شکر سے لبریز تھیں۔

٭٭٭