کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ایک تصویر

سید اسد علی


نیو یارک کی ایک شام تھی اور میں ان آوارہ گردوں کی طرح جنہیں وقت گزارنے کا کوئی بہتر مصرف میسر نہیں ہوتا، سڑکوں پر تھا۔ اتنے بڑے شہر میں جہاں قدم قدم پر کسی سے ٹکرانے کا خوف موجود ہوتا ہے ہمیں خبر ہوتی ہے کہ تنہائی کس قدر بھیانک شئے ہو سکتی ہے۔ پھر جیسے راستے میں بیکار چلتے ہوئے کوئی کسی پتھر کو ٹھوکر لگاتا ہے یا کسی جھکی ٹہنی کو کھینچ لیا جاتا ہے (جھکے ہوؤں کو اور جھکانا کیا خبر کیا معانی رکھتا ہے ہمارے لئے)۔ میں سڑک کنارے بیٹھے ایک مصور کے قریب رک گیا۔ یوں تو اس شہر میں ایسے بہت سے لوگ ملیں گے اور زیادہ تر یہ لوگ چائنیز یا جاپانی ہوتے ہیں مگر یہ والا کوئی یورپی تھا۔ یہ دوسروں سے ذرا الگ بیٹھا تھا۔ اس کے بال خاصے بڑے اور میلے تھے۔ بادی النظر میں تو میں نے اسے ناپسند ہی کیا۔ مگر زندگی میں بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں جو ہم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس کرتے ہیں۔ کسی بھی وجہ کے بغیر۔ خیر میں اس کے سامنے رکھے چھوٹے سے اسٹول پر بیٹھ گیا، کسی بت کی طرح ساکت اور وہ لگا اپنی پینسل سے لکیریں کھینچنے۔

یہ کام خاصا طویل اور صبر آزما تھا۔ وہ بڑے انہماک سے اپنے کام میں مگن تھا۔ ایسے میں ایک اطالوی عورت گذری۔ اس نے ایک نظر میرے چہرے پر ڈالی اور ایک نظر پورٹریٹ پر، پھر نجانے کیوں اس کے چہرے پر ایک حیران آمیز مسکراہٹ پھیل گئی۔ میں تھوڑا سا گھبرا گیا، مگر بہر حال انتظار کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

خاصی دیر گزر گئی۔ میرے جبڑے مجھے منجمد سے محسوس ہونے لگے۔ پھر میں اٹھ کھڑا ہوا۔ اس سے پہلے کہ میں اسے کچھ سخت سست کہتا اس نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور کہا

’’بس ہو گئی مکمل‘‘

اب کچھ کہنے سننے میں کیا رکھا تھا۔ میں نے تصویر کو گھما کر سامنے کیا اور غصے کی ایک شدید لہر میرے جسم میں دوڑ گئی۔ وہاں کوئی تصویر نہ تھی۔ بس بہت سی آڑھی ترچھی لکیریں اور گول دائرے تھے۔ اتنے زیادہ کہ آپس میں ضم ہوتے دکھتے تھے۔

’’کیسی لگی جناب!  ‘ ‘ اس نے معصومانہ لہجے میں پوچھا۔ جیسے کسی بچے نے بڑی محنت سے کوئی سوال حل کر لیا ہو۔ اس کے چہرے پر اتنی حسرت تھی کہ مجھے لگا اگر میں نے کچھ کہا تو اس کے اندر بہت کچھ ٹوٹ جائے گا۔

میں نے بے دلی سے سر ہلایا اور جیب سے اس کی مطلوبہ رقم نکال کر اسے دے دی اور چلنے لگا۔

’’ارے کہاں چل دیے؟ اپنی تصویر تو لیتے جایئے‘‘ اس نے جلدی سے اسے میرے ہاتھ میں تھما دیا۔

مجھے لگا جیسے وہ میری تضحیک کر رہا ہو۔ مگر اس کی آنکھوں میں ابھی تک وہی معصومیت تھی۔ اس لئے میں نے تصویر تھامی اور چل پڑا۔ سڑک کے کنارےwalk-signalکے انتظار میں رکا تو ساتھ کھڑی بوڑھی عورت ہنسی یا کھانسی۔ صحیح طور پر اندازہ لگانا مشکل تھا، مگر مجھے اپنے جسم میں چیونٹیاں سی رینگتی محسوس ہونے لگیں۔ تصویر بہت بھاری لگ رہی تھی۔ اشارہ کھلتے ہی میں  تقریباً بھاگ اٹھا۔ سب وے پر جاتے ہوئے بھیڑ کی وجہ سے تصویر کا کونہ کئی لوگوں کو لگا، مگر سب ہی نے جواب میں مجھے مسکرا کر دیکھا۔ وہ مسکراہٹ اس ماں کی مسکراہٹ سے مشابہ تھی جو اس کے چہرے پر بکھر جاتی ہے جب اس کا ننھا سا بیٹا اپنے کپڑے خراب کر لے۔

اپنے اپارٹمنٹ میں آنے کے بعد میں نے تصویر کو ایک کونے میں پھینک دیا، اور دھم سے بستر پر گر گیا۔ میں تھک چکا تھا اور عموماً ایسی حالت میں میں گرتے ہی سو جایا کرتا تھا۔ مگر آج نیند ذرا مشکل تھی۔ کچھ یوں تھا جیسے میرے سوا اور بھی کوئی کمرے میں موجود ہے۔ کوئی ذی روح، کوئی جیسے مدھم مدھم سانس لے رہا تھا۔ میں بستر سے اٹھ کھڑا ہوا۔ چاروں طرف دیکھا، کچن اور باتھ روم بھی چھان مارا۔ کوئی نہ تھا۔

ایسے میں اتفاقا نظر تصویر پر پڑ گئی۔ تو اسے اٹھا لایا۔ لائنیں بہت گنجلک اور بے ربط سی تھیں۔ میں بہت دیر اس تصویر کو دیکھتا رہا جیسے mathematicsکے کسی سنجیدہ مسئلے میں الجھا ہوا ہوں۔ تصویر کو ہر زاویے پر گھما پھر اکر دیکھا، ہر لائن کو نکتہ آغاز سمجھ کر دیکھا۔ اچانک تصویر کے بائیں کونے میں ایک شبیہ دکھائی دی۔ شاید ویسے ہی جیسے بہت دیر بادلوں کو دیکھتے رہیں تو وہ کسی نہ کسی صورت میں ڈھل جاتے ہیں۔ میں نے بڑے تجسس اور لگن سے اسے دیکھنا شروع کر دیا۔ بڑی وجہ غالباً یہی تھی کہ میں اس تصویر سے کچھ نہ کچھ برآمد کرنا چاہتا تھا۔ تاکہ میری دی ہوئی رقم خیالوں میں آ کر مجھے تنگ نہ کرے اور یار رہے کہ بے احتیاطی سے خرچ کی ہوئی رقم بھوتوں کی طرح ہوتی ہے جو اکیلے پا کر انسان کو ڈراتے ہیں۔ تو بات ہو رہی تھی اس شبیہ کی۔ وہ کوئی نوجوان تھا فربہ سا۔ مگر اس کا چہرہ کیونکہ دوسری طرف تھا اس لئے اندازہ لگانا مشکل تھا۔ بہرحال کچھ تو ہے۔ اطمینان کی ایک لہر میرے اندر دوڑ گئی۔ اب میں نے زیادہ اعتماد سے تصویر کو دیکھنا شروع کیا۔ وہیں اس شبیہ کے نیچے ایک کبوتر کی قبیل کا کوئی پرندہ  پرواز کی تیاریوں میں مصروف تھا۔ اور اس کے انتہائی داہنی طرف ایک نسبتاً جان پہچانا سا منظر تھا۔ حیرت سے میری آنکھیں پھیل گئیں۔ یہ ایک تاریک گلی تھی جس میں ایک سیاہ فام لڑکا کسی لڑکی کو بانہوں میں لئے کھڑا تھا۔ یہ منظر میرے لئے نیا نہیں تھا۔ وہ لڑکی، وہ رات، وہ گلی سب کچھ میں کچھ دن پہلے گھر آتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔

ہنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو یہ ہے حقیقت۔ اب میرا لاشعور ان لکیروں میں میری یادداشت سے معنی بھر رہا ہے۔ مگر وہ کبوتر، وہ فربہ شخص؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اس کے جال میں نہیں آؤں گا۔ یہ سوچتے ہوئے میں نے تصویر ایک کونے میں ڈال دی اور خود لیٹ گیا۔ اس رات مجھے بہت پرسکون نیند آئی۔ ایسا ہوتا ہے ہر اس وقت جب ہم کوئی وضاحت (جو کم از کم ہمیں مطمئن کر سکے، خواہ وہ کتنی ہی بیکار کیوں نہ ہو) دریافت کر لیتے ہیں۔

وہ صبح عام سی تھی۔ سوائے اس کے کہ ایک کبوتر میری کھڑکی سے کمرے میں آ گیا اور کچھ دیر تک پھڑپھڑاتا رہا۔ پھر یہ جان کر کہ یہ جگہ مستقل رہنے کو صحیح نہیں وہ پرواز کر گیا۔ کتنی آسان ہوتی ہیں کچھ آزمائشیں۔ کمرہ نہیں تو کھلا آسمان سہی۔ مگر ذرا سوچو کہ اگر کسی دن مجھے خبر ہوئی کہ یہ جگہ، یہ زندگی رہنے کو کچھ صحیح نہیں تو میں کہاں جاؤں گا؟تو سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ میں نے ایک طویل غسل کیا۔ ڈٹ کر ناشتہ کیا۔ چھتری اٹھائی اور گیراج کی طرف نکل گیا۔ گیراج میں پہنچا تو میرا مالک منہ دوسری طرف کئے کھڑا کاریگروں کو کچھ ہدایات دے رہا تھا۔ میں لرز سا گیا۔ یہ وہی تھا۔ وہی تصویر کے بائیں کونے والا۔ مجھے سینے میں اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا۔ میں مڑا اور تیز تیز قدم اٹھاتا وہاں سے چل پڑا۔ مبادا کہ کوئی دیکھ نہ لے۔ یہ سب کیا تھا؟کیا یہ اس کے الٹا ہے جو میں نے پہلے سوچا تھا۔ یعنی میں جو تصویر میں دیکھتا ہوں وہ زندگی میں ڈھونڈنے کی کوشش کر تا ہوں لاشعوری طور پر؟

مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ تھا جو مجھے یقین دلاتا تھا کہ ایسا نہیں ہے۔ میں گھر میں داخل ہوا تو ایک عجیب سا احساس ہوا۔ ایک ایسا احساس جسے بیان کرنے لگوں تو میں اپنی نظروں میں ہی بیوقوف بنوں گا۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس کچھ یوں تھا جیسے کمرے کی ہر چیز حرکت میں تھی اور میرا دروازہ کھلنے کے ساتھ ہی سب تھم سے گئے۔ یہ وہی احساس ہے جو کسی بچے کے سنجیدہ چہرے کو دیکھ کر ہوتا ہے کہ ضرور کہیں سے شرارت کر کر آ رہا ہے۔ میں نے جلدی سے تصویر اٹھائی اور سامنے رکھ لی۔ اب بائیں کونے پر کوئی کبوتر نہیں تھا۔ میں نے بے اطمینانی سے سب جگہ نظریں دوڑائیں مگر بس وہی بے ربط سی ٹھہری ہوئی لکیریں ہی تھیں۔ پھر کہیں بیچ میں مجھے ایک نکتہ نظر آیا، جس پر غور کر کر ایک ہیولا دکھائی دینے لگا۔ رفتہ رفتہ جو واضح ہو رہا تھا۔ یہ ایک عجیب سا کمرہ تھا۔ جس میں بہت ساری عورتیں تھیں۔ یہ سب کچھ کسی ہسپتال کی انتظار گاہ کی طرح تھا۔ ہر عورت کی گود میں ایک گوشت کا لوتھڑا سا تھا۔ کہیں وہ مرغ کی شکل کا تھا اور کہیں سادہ لکڑی کے تختے جیسا۔ ایک عورت تو ہاتھوں میں تازہ خون لئے اس گوشت پر ڈال رہی تھی اور ساتھ میں آنسو بھی بہا رہی تھی۔ اس کی کوشش میں خلوص اور معصومیت تھی۔ جیسے کسی زخمی کو پٹیوں میں جکڑ دیا جائے یہ سوچ کر کہ ہم موت سے لڑ سکتے ہیں۔ میں نے نظریں ہٹا لیں۔ یہ تصویر ضرور مجھے پاگل کر دے گی۔ مجھے اس سے چھٹکارا پا لینا چاہیے۔

ایسا لگا جیسے تصویر مجھ پر ہنسی ہویا جیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے اس تصویر سے چھٹکارا پانا ایسا آسان نہ ہو گا۔ مجھے لگتا تھا کہ میں اسے جہاں بھی چھوڑ آؤں تو یہ بلی کے بچے کی طرح پھدکتی ہوئی پھر واپس آ جائے گی اور اگر کسی نے یہ منظر دیکھ لیا(اور کیوں نہ دیکھے بھلا اس بلڈنگ میں رہتا کون ہے ریٹائرڈ  بڈھوں اور آوارہ لونڈوں کے سوا جو سارا دن سٹریٹ پر ہی بھٹکتے رہتے ہیں) تو میرا یہاں رہنا ناممکن سا ہو جائے گا۔ بھلا ایسے شخص کو کون اپنے پڑوس میں برداشت کرتا ہے جس کے دروازے پر اول جلول قسم کی تصویریں پھدک رہی ہوں۔

تو کیا کروں اس کا؟چاقو لے کر ٹکڑے ٹکڑے کر دینا چاہیے۔ پر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا خبر خون بہہ نکلے اور اتنا کہ یہ ایک پتلی لکیر کی صورت بیرونی دروازے سے باہر نکل جائے۔ ایسے میں، میں بھلا کیسے وضاحت کرتا اس سب کی۔ مجھے بہت غصہ آیا اس بلڈر پر جس نے اپارٹمنٹ کی ساخت ایسی رکھی تھی کہ فرش کا slopeباہر کی طرف تھا۔ اب فرض کریں کہ اگر یہ کہیں اور مثلاً باتھ روم کی طرف ہوتا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر تو بھی شاید اتنا خون دیکھ کر میں ہوش میں نہ رہ سکتا۔

مگر میں یہ کیوں فرض کر رہا ہوں کہ خون ضرور ہی نکلے گا؟ہاں یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ عام سی تصویر کی طرح بس کاغذ کے چند ٹکڑے بکھریں اور۔۔۔۔۔۔۔ بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جنہیں میں آسانی سے سمیٹ سکتا ہوں۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چیخ نکلی تو۔۔۔۔۔ اب ان اپارٹمنٹس کی دیواریں تو گویا کاغذ کی ہیں۔ ایسے میں مجھے کیا سمجھا جائے گا جب میرے گھر سے لڑکی کے چیخنے کی آواز آئے؟کوئی قاتل یا پھر جنسی طور پر نا  آسودہ کوئی جنونی۔ ضروری نہیں کہ چیخ کی آواز لڑکی کی ہی ہو۔ وہ مرد کی بھی تو ہو سکتی ہے۔ یہ تو اور بھی خطرناک ہے۔ میرے چہرے پر شرمندگی پھیل گئی۔

مجھے لگا جیسے اس تصویر کی وجہ سے میں نارمل نہیں سوچ پا رہا ہوں۔ اور اگر یہ حالت قائم رہی تو میں یقیناً پاگل ہو جاؤں گا۔ مجھے جب کچھ سوجھا نہیں تو میں تصویر بغل میں داب کر نکل کھڑا ہوا۔ گھر سے سب وے، سب وے سے down townاور پھر لمبی سڑکوں پر ایک طویل آوارہ گردی۔ کوئی خاص مقصد تو تھا نہیں مگر ایک کھوج جو اس مصور کی تھی وہ ناکام رہی۔ چلتا رہا، سارا دن اور شام کو تصویر بغل میں داب کر واپس آ گیا۔

وہ رات میں صحیح طریقے سے سو نہیں سکا۔ عجیب سے مناظر نظر آتے رہے۔ اگلی صبح کام پر جانے کی بجائے تصویر اٹھا ئی اور پھر نکل کھڑا ہوا۔ یہ سلسلہ کئی دن چلتا رہا۔ اب میرے بال میلے ہو چکے تھے، شیو گھنی ہو گئی تھی۔ خوف اور کراہت کی وجہ سے پھر میں نے تصویر پر نظر نہیں ڈالی تھی۔ چلتے چلتے ایک مصور کی لگی کرسی دیکھی۔ وہ شاید اِدھر اُدھر کچھ کھانے کو لینے گیا تھا۔ میں تھکان اور بے بسی کے عالم میں اسی چھوٹی سی کرسی پر بیٹھ گیا۔

ابھی بیٹھے تھوڑی دیر گذری تھی کہ ایک نوجوان، کہ معصومیت اور بے فکری جس کے چہرے سے عیاں تھی میرے قریب آ کر رکا۔

’’تصویر بن جائے گی؟‘‘

وہ مجھے مصور سمجھ رہا تھا۔ کہنے ہی لگا تھا کہ میں وہ نہیں ہوں کہ اچانک کچھ سوچ کر ٹھہر گیا۔ کرسی اس کے لئے خالی کی۔ وہی تصویر کھولی اور مصور کی رکھی پینسل نکال کر چند اور لکیریں لگانے لگا۔ یہ بے ربط لکیریں کھینچتے ہوئے مجھے لطف آ رہا تھا۔ ایسے میں ایک عورت گذری۔ اس نے حیرت آمیز مسکراہٹ سے تصویر اور نوجوان کو دیکھا اور چل دی۔ میں نے نوجوان کے چہرے پر پریشانی کی لکیریں بنتی دیکھیں۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا میں نے پینسل نیچے رکھ دی اور تصویر نوجوان کو تھما دی۔ اس کی حیرت دیدنی تھی۔ وہ کچھ کہنے لگا، پھر نجانے کیا سوچ کر اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور کچھ پیسے مجھے تھما دیے اور تصویر لے کر رخصت ہو گیا۔ میں بہت دور تک اسے جاتے دیکھتا رہا۔ ایسے میں کسی نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔

’’تصویر بناؤں؟‘‘

میں نے گھبرا کر دیکھا۔ کوئی چینی یا جاپانی تھا اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔

’’نہیں شکریہ۔۔۔۔ میں تو خود بھی تھوڑی بہت لکیریں کھینچ لیتا ہوں ‘‘

یہ کہ کر میں وہاں سے چل دیا ایک بہت بڑی آزادی کے احساس کے ساتھ۔

 ٭٭٭