کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

تکون

سید اسد علی


مجھے خواب دیکھنے کی سزا ملی ہے اور یہ سزا کوئی نئی نہیں ہے۔ یہ میرے خون میں شامل ہے، مجھے ورثے میں ملی ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ وہ کون تھا جس نے پہلا خواب دیکھا(اور وہ خواب اس طلسم کدے کی تخلیق ہی ہو سکتا ہے) ، مجھے نہیں پتہ وہ کون تھا، میں خود جس کے خواب کی تکمیل میں شامل ہوں۔ اور میں تو ہزاروں خوابوں کی تکمیل میں شامل ہوں۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ وہ خواب جو میرے چاہنے والوں نے دیکھے، وہ خواب جو بہت بیگانوں نے دیکھے، وہ خواب جو پہلا خواب تھا، وہ خواب جو آخری خواب ہو گا۔

میں بہت سے خوابوں کو مکمل کرتا ہوں مگر اس اتنے بڑے خواب کدہ میں میری جگہ کہاں ہے؟ایک خواب کے خواب کی جگہ ڈھونڈنی ہے مجھے۔ اس لئے نہیں کہ میں بہت خود غرض ہوں بلکہ کچھ یوں ہے کہ اس کے بنا وہ خواب مکمل ہی نہیں ہوتا۔ میں کیوں پاگل ہو رہا ہوں اس تکمیل کے لئے جو میری نہیں، اس منزل کے لئے بھاگتا کیوں ہوں جسے نجانے کتنے زمانے پہلے کسی نے سوچا تھا اور جسے نجانے کتنے زمانوں کے بعد میرا کوئی جانشین شاید چھو لے۔ اور کتنا بے معنی، کتنا لاحاصل ہو گا اس منزل کو پا لینا جو اس کی نہ ہو۔ کتنا عجیب ہو گا وہ منظر جب خواب حقیقت بن جائیں اور خواب دیکھنے والے کی ہڈیاں مٹی میں مل کر محض خیال۔

مجھے زندگی کسی محبت کرنے والے کے تحفے کی طرح نہیں، کسی مخیر کی خیرات، کسی محسن کے احسان کی طرح ملی ہے۔ اور بہار کے پھول کی طرح میں آزاد نہیں تھا کھلنے کے لئے۔ میں بہت مجبور تھا۔ جب جب فطرت سے مجبور ہو کر میں نے کوئی آرزو کی میری ماں کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ جب جب خواہشوں کی رنگیں تتلیاں چھونے نکلا میرے بابا کی پیشانی پر سلوٹیں اور گہری ہو گئیں۔ مجھے لگا اس ایک لمحے میں وہ بہت بوڑھا ہو گیا ہے۔ کیسے بھاگتا میں کسی سراب کے پیچھے جب کہ میرے سارے چاہنے والے اس ڈوبتی کشتی میں سوار تھے جس کے سوراخ کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بند کر رکھا تھا اور اگر میں ایک لمحے کی غفلت کرتا تو میری یہ حقیقت بھی سراب بن جاتی۔

میں جانتا تھا کہ میں یہاں سے کہیں نہیں جا سکتا مگر کمبخت دل بہت مچلتا تھا۔ کبھی کبھی سوچتا یہ خواب تو بہت قریب ہے۔ اسے تو ہاتھ بڑھا کر چھولوں مگر ہاتھ اٹھا تا تو کشتی زیست میں پانی بھرنے لگتا اور میری ماں ایک بے نام نظر سے مجھے دیکھتی۔ اس کی آنکھوں میں کوئی التجا، اس کے چہرے پر کوئی سوال نہ ہوتا۔ مگر آنکھوں سے دور، چہرے کے پیچھے بس کوئی بہت اداس ہو جاتا اور میں سوراخ کو اور بھی مضبوطی سے بند کر لیتا۔

اس کی حفاظت کرتے میں بہت بار تھکا۔ اس دن جب برفیلا پانی نوکیلے کیلوں کی طرح میرے ہاتھوں میں گڑ گیا، جب گرم ہوا میری آستینوں میں آگ کی بھٹی سلگانے لگی۔۔۔۔۔۔۔ مگر تھوڑی دیر چیخنے کے بعد میرے اندر کی ماورائی طاقتیں بیدار ہو جاتیں۔ جیسے بھاری برسات سے جنگل کی آگ بجھ جاتی ہے۔ مگر جب بھی کوئی خواب پانی کے بلبلے کی طرح ٹوٹتا تو میرے اندر بہت اداسی اتر آتی اور پھر کوئی قوت مجھے بہلا نہ سکتی۔ بس ماں میرا سر اپنے گھٹنوں پر رکھتی اور اس کی آنکھوں سے دو سرد سے آنسو میرے چہرے پہ گرتے اور ہر آگ بجھ جاتی۔ میں اسے رلانا تو نہیں چاہتا تھا پرکیا کرتا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلتا ہی رہتا کیا؟

میں، رشتے اور خواب ایک بہت پراسرار مثلث کے تین کونے تھے۔ ہم میں سے ہر ایک دوسرے کو کھینچ  رہا تھا اور ہم میں سے ہر ایک دوسرے سے دور ہو رہا تھا۔ زندگی کو اتنا پیچیدہ میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پھر وہ دن آیا جب میں نے سوچا کہ اب فیصلہ کر دوں اور میں نے فیصلہ کر لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب دل کسی سراب کو مچلے گا نہیں، اب کوئی خواب آنکھوں میں جچے گا  نہیں اور اس دن میری ماں نے میرا ما تھا چوما

’’میرا بیٹا تو جوان ہو گیا‘‘

محنت ٹڈی دل کے بادل طرح دل میں اتر آئی اور مجھے لگا میری ماں کی اداسی، میرے باپ کی سلوٹیں کم ہونے لگیں۔ میں خوش تھا کہ میں نے بیکار خوابوں کو اپنی آنکھوں سے نوچ پھینکا۔ مگر وہ دن جب میں محبت کے طوفان میں گھر گیا۔ میں نے اس افتاد سے بچنا چاہا مگر جیسے تیروں کی کوئی برسات تھی جنہوں نے ایک چپہ زمیں بھی نہ چھوڑی۔ عشق کے تیروں نے مجھے گھائل کیا اور میں نے  محنت کے دیوتا سے آنکھیں چرا کر ایک بہت بڑے دیوتا کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ کسی نے اسے سراب کہا، کسی نے زندگی، کسی نے ہوش کہا کسی نے دیوانگی۔ مگر مجھے اب کسی کی پروا نہیں تھی۔ نہ اس کی کہ میری ماں کتنی اداس ہے، نہ اس کی کہ میرے باپ کے چہرے کی شکنیں بڑھ رہی ہیں اور نہ اس کی کہ یہ منزل ہے یا سراب۔

خوابوں کو پوجنے والوں، سرابوں کے پیچھے بھاگنے والوں کے عذاب کبھی ختم نہیں ہوتے۔ مگر میں نے ہر چیز سے اپنی آنکھوں بند کر لیں جب محبت نے میری انگلی پکڑ کر مجھے چلایا۔ زندگی وہیں تھی مگر میں اس کے سب غم بھول گیا۔ اور مجھے میرا عشق ایک بہت عجیب جگہ لے گیا۔ ایک سمندر کے کنارے جہاں بہت سے درخت تھے اور ان درختوں پر ہزار رنگ کے پرندے چہچہاتے تھے۔ میں بہت دیر اپنی محبت کی بانہوں میں بانہیں ڈالے اس جنت ارضی میں گھومتا رہا۔ یہاں تک کہ ایک شام جب سورج بجھ رہا تھا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں دو چاند ڈوبتے دیکھے۔ میں گھبرا گیا۔ انہیں تو طلوع ہونا تھا۔ پھر وہ چہرہ سرد ہونے لگا، اس کے الفاظ ہونٹوں میں منجمد ہونے لگے اور میں دیوانوں کی طرح چلانے لگا۔

اسے پکارتے ہوئے ایک عجیب سا احساس میرے دلو دماغ میں گونجنے لگا۔

’’اس جسم کو چھپا دو۔ گرم مٹی کی آغوش میں تاکہ حرارت سے اس جسم پر جمی برف پگھل جائے۔ ‘‘

میں نے اسے بہت گہری قبر میں دبا دیا اور اس کے سرہانے بیٹھ کر اسے تکنے لگا۔ اس طرح کہ میرے آنسو اس کی مٹی کو بھگو رہے تھے۔ ایسا ہوتا رہتا تو وہ جسم کبھی گرم نہ ہو سکتا۔ آنسو تو نہ رک سکے پر میں نے قبر کو چھوڑ دیا اور کہیں پیچھے چل پڑا۔ سب کچھ ویسا ہی تھا۔ میرا بھائی کشتی کے سوراخ کو ہاتھوں سے دبائے بیٹھا تھا اور اس کا دل خوابوں کو چھونے کو مچلتا تھا۔ میری ماں کی آنکھوں میں ویسی ہی اداسی تھی اور باپ کے چہرے پر اتنی ہی سلوٹیں۔ میں نے خاموشی سے اپنا سر ماں کی گود میں رکھ دیا مگر وہ کسی سنگی مجسمے کی طرح ساکت رہی اور اس دن  اس کی آنکھوں سے کوئی آنسو نہیں گرے۔۔۔۔۔۔۔۔

اگرچہ میرے اندر اس دن بھی بہت آگ جلتی تھی۔ میں بہت دیر وہاں رہا مگر جیسے کسی خشک کنوئیں کے پاس پیاسا، جیسے سرد کوئلوں کے پاس کوئی ٹھٹھرتا۔ اور پھر میں اٹھ گیا۔ وہاں سبھی کچھ تھا مگر میری جگہ نہ تھی۔

کتنا خوبصورت ہوتا سب کچھ اگر زندگی نہ ہوتی، زندگی ہوتی تو خواب نہ ہوتے، خواب ہوتے تو محبت نہ ہوتی اور محبت ہوتی تو موت نہ ہوتی۔

 ٭٭٭