کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ایک محبت کی کہانی

سید اسد علی


وہ شہر بہت خوبصورت تھا۔ سرسبز پہاڑوں کے بیچ ایک سمندر سا دریا بہتا تھا اور دریا کے کنارے درختوں میں گھرا تھا یہ چھوٹا سا شہر۔ جنگل میں سائیں سائیں کرتی تنہائیوں اور ایک بڑے شہر کے بے پناہ ہجوم کے بیچ یہ چھوٹا سا قصبہ گویا دیوانگی و فرزانگی کے بیچ حد فاصل تھا۔ بڑا شہر نیویارک تھا، دریا ہڈسن اور قصبہ مونٹروس۔ یہاں کے لوگ خواب اور حقیقت کی کہیں بیچ کی دنیا میں رہتے تھے۔ کام کے لئے لوگوں کی اکثریت صبح سویرے نیویارک کو چل پڑتی اور جب شام کو یہ لوگ گھر لوٹتے تو انہیں جا بجا ہرن، خرگوش اور ریکون جیسے جانور ہوا خوری کرتے نظر آتے۔ یہاں فضا میں ایک عجیب پاگل کر دینے والی خوشبو تھی۔ پر کسی نے اس خوشبو کو کبھی کھوجنے کی کوشش نہ کی۔ سب جانتے تھے کہ ہر صحن میں لہلہاتے خوش رنگ پھول، خزاں میں دھنک رنگ ہو جانے وا لے  درخت، ہرن، ہر رنگو نسل کے لوگ۔۔ یہ سب اس خوشبو کا منبع تھے۔

یہ شہر کسی مصور کا خواب ہو سکتا تھا مگر آج جب اسے سوچنے بیٹھا تو ایک لڑکی کے سوا کچھ یاد نہیں آتا۔ وہ لڑکی جس کی رنگت اتنی گوری تھی جیسے راج ہنس، اس کی آنکھیں اتنی نیلی تھیں جیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہاں سے لاؤں وہ استعارے جو اس حسن کو بیان کر سکیں جسے شاید میں نے کبھی نظر بھر کر دیکھا بھی نہ تھا۔ ہاں میں نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کا رنگ کیا تھا؟مجھے یاد نہیں کہ وہ کیسے بال بناتی تھی؟میں بھول گیا ہوں کہ اس کے ہونٹ کیسے تھے؟بس یاد ہیں تو چھوٹی چھوٹی غیر اہم باتیں۔

جب میں پہلی بار نیویارک گھومنے نکلا تو اس شہر کے بارے میں کچھ بھی نہ جانتا تھا۔ سب وے میں ایک آدمی سے پوچھا کہ شہر دیکھنے کا ارادہ ہے۔ کہاں اتروں؟وہ مسکرایا اور بولا

’’کولمبس سرکل اتر جانا‘‘

یہ جگہ کوئی بہت مشہور نہیں ہے۔ یہاں سے نہ ایمپائر اسٹیٹ نظر آتی ہے اور نہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر، نہ مجسمہ آزادی کی جھلک دیکھنے کو ملتی ہے اور نہ ہی ٹائم اسکوئیر کی رنگا رنگی۔ کوئی اہتمام، کوئی پر جلال مناظر، کوئی بوکھلا دینے والی رفعتیں کچھ نہیں۔ بس بڑے خاموش انداز میں شہر آپ کے سامنے بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ انسان اپنے آپ کو اجنبی نہیں سمجھتا۔ اس کے ایک طرف وسیع سنٹرل پارک ہے، چوک میں ہزار ہا مختلف اشیا بیچنے والے لوگ ہیں اور پھر بلند و بالا عمارات کا ایک وسیع سلسلہ ہے۔ چلتے جایئے اور ہر قدم آتش شوق کو بڑھاتا چلا جائے گا۔ یہاں سے ہر راستہ ایک ہی جیسا لگتا ہے۔ میں نے بھی کسی بے پرواہ ملاح کی مانند جیسے اپنی کشتی کو ہواؤں کے سپرد کر دیا۔ میرے قدم مجھے چلاتے ہوئے شہر کے باہر دریائے ہڈسن کے کنارے لے گئے۔ جی ہاں وہی ہڈسن جو اس وادی سے آتا ہے جہاں وہ لڑکی رہتی ہے۔ جس کی رنگت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر خیر اس کے خدوخال کی وضاحت کے لئے ہی تو مجھے اتنی تمہید باندھنی پڑ رہی ہے۔ اس لئے کچھ انتظار اور سہی۔

اس دریا کے کنارے پھولوں کی نمائش ہو رہی تھی۔ جیسی بہار میں اکثر شہروں میں ہوا کرتی ہے۔ مگر مجھے کچھ یوں لگا جیسے شہر نے اپنا دل نکال کر میرے سامنے رکھ دیا ہو۔ مجھے اپنے گرد  ان دیکھی خوشبو سے بنی زنجیریں لپٹتی محسوس ہوئیں۔ ایسا لگا جیسے میں کبھی چل نہ سکوں گا، جیسے سمندروں میں بھٹکتے جاں بلب مسافر کو کنارہ نظر آ جائے یا جیسے مجھے اس شہر سے محبت ہو گئی ہو۔۔۔۔۔۔ میں اس نمائش سے نکل کر شہر میں بہت گھوما۔ مہینوں میری اکثر شامیں، متعدد راتیں اور بہت سے دن انہی سڑکوں پر گھومتے گذرے۔ میرے کمرے میں شہر سے خریدی چیزوں کا ڈھیر لگتا گیا۔ پرفیومز، اسکیچیز، پوسٹ کارڈ، مرجھائے ہوئے پھول، رنگا رنگ ٹوپیاں اور نجانے کیا کیا؟رات بارہ بجے کوئی پکارتا کہ ففتھ اسٹریٹ سے مزیدار کافی پی جائے اور میں گھنٹوں واک کر کر وہاں پہنچ جاتا، چائینا ٹاؤن میں سی فوڈ کی کسی دکان کا سنتا تو سب وے پکڑ کر ادھر چل پڑتا۔ میرا دوست تو اس پیدل شہر کھوجنے کو ابن بطوطہ کے سفر سے بھی دشوار اور بیکار قرار دیتا تھا۔ پر وہ کیا سمجھتا ان محبت کی رمزوں کو۔

آج برسوں کے بعد سوچنے بیٹھا ہوں تو نیو یارک کا نام آتے ہی ہونٹوں پہ ایک مسکراہٹ سی پھیل جاتی ہے اور بس۔۔۔۔۔۔ مسکراہٹ جیسے بچپن کی کسی نادانی کا خیال آ جائے۔ یہ انداز محبت کا تو نہیں ہو سکتا۔ پر یہ اس وقت کی بات ہے جب میں اپنے تئیں محبت کو سمجھتا تھا۔ اور اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اس دن کے بعد اب کچھ بھی صحیح طور سے نہیں جانتا۔ وہ دن جب میں ایک لمبے سے سفر کے دوران بس یونہی چند لمحے کو ایک ویران کھائی کے کنارے رکا۔ محض وقت گذارنے کو میں چلتا ہوا اس تک پہنچا۔ شاید پاؤں کی ٹھوکر سے ایک چھوٹا سا پتھر بھی پھینک دیا۔ پھر اس کی آواز سننے کی کوشش کرنے لگا۔ اتنی بڑی کھائی میں ایک ننھے سے پتھر کی آواز بھلا کیا آتی۔ مگر دھیان لگایا تو ہواؤں کی سائیں سائیں گہری ہونے لگی۔ میں نے سر جھٹک کر واپسی کا ارادہ کیا۔ اور پھر جیسے کسی نے میرے قدموں کو روکا ہو۔ یہ بندھن نیویارک کی طرح نہیں تھا۔ یہ تو جیسے کسی نے انمٹ سیاہی سے میرے پیروں پرا یک زنجیر بنا دی ہو۔ میں نے چلنا چاہا تو کوئی چیز مانع نہ ہوئی، مڑ کر دیکھا تو کوئی بلند و بالا عمارت، کوئی حسین چہرہ، کوئی شعبدہ بازی کچھ نظر نہ آیا۔ بس پتھر تھے، نوکیلے پتھر اور بہت گہرائی میں کچھ اور پتھر۔ اور شاید سرگوشیاں کرتی ہوئی آوارہ ہوا تھی۔ اس میں ایسا تو کچھ نہ تھا جو مجھے ایک لمحے کو بھی روک سکتا۔ سو میں چل دیا۔

اس رات میں سو نہیں سکا۔ ایک عجیب سا احساس جیسے کچھ کھو رہا ہوں میں۔ آنکھیں بند کرنے کی کوشش کی تو کچھ نظر نہ آیا۔ بس کچھ پتھر تھے اور گہرائی میں کچھ اور پتھر۔ کان لگا کر سننے کی کوشش کی تو کچھ سنائی نہ دیا۔ بس شاید ہواؤں کی کچھ سرگوشیاں سی تھیں۔ پر اتنی مدھم کہ کچھ بھی نہ سمجھ سکا۔ یہ کھائی نیویارک نہیں تھی۔ ان دونوں میں وہ فرق تھا جو ایک بے لباس مغربی ماڈل اور اور دوپٹے کے پلو میں منہ چھپائے اندرون لاہور کی لڑکی میں ہو۔ میں غلطی پر تھا۔ مجھے کبھی بھی نیویارک سے عشق نہیں ہوا۔ بس ایک طالب علم تھا جو ایک خیرہ کر دینے والی رنگا رنگی کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہا تھا۔ عشق تو مجھے اس کھائی سے ہوا تھا۔

زندگی میں بہت بار ایسا ہوا جب میں نے وہاں لوٹنا چاہا۔ کئی راتیں ایسی گذریں جب اس احساس نے مجھے سونے نہ دیا۔ وہ لڑکی بھی اس کھائی کی طرح تھی۔ جب میں اسے دیکھتا تھا تو وہ مجھے بہت معمولی، بڑی غیر اہم نظر آتی تھی۔ اتنی کہ میں نے کبھی اس کی آنکھوں کا رنگ جاننے کی بھی کوشش نہیں کی اور اب جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ایک انمٹ زنجیر میرے جسم اور روح کے گرد لپٹتی چلی جا رہی ہے۔ اس سے جدائی کے چاہ ماہ بعد مجھے اس سے محبت ہو گئی۔

اب وہ مجھے یاد آ رہی ہے جب ہمارے بیچ ناقابل عبور فاصلے آ کھڑے ہوئے ہیں۔ اب وہ مجھے تڑپا رہی ہے جب تشفی کے لئے میرے پاس اس کی یاد تک نہیں۔ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کے ناخن کتنے لمبے تھے۔ حالانکہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ اس اینجلا کے ناخن کوئی ایک انچ لمبے تھے  جن پر وہ خاصے گہرے رنگ کی نیل پالش لگاتی تھی۔ اس اینجلا کی انگلیاں کتنی بے معنی ہیں میری زندگی میں مگر وہ مجھے یاد ہیں۔ ایسی ہی لایعنی یادوں کا ایک بہت بڑا انبار ہے میرے دل میں۔ اس کباڑ خانہ میں سے اس کی کوئی یاد ملے تو کیونکر۔ پر کبھی کبھی یہ تلاش بھی کم دلچسپ نہیں ہوتی۔

جب میں چھوٹا تھا تو اپنی بہنوں کے ساتھ گھر کا صحن کھودتا اور خزانے ڈھونڈتا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ ٹوٹی شیشیوں اور بیکار لوہے کے ٹکڑوں کے سوا میں کچھ ڈھونڈ پایا یا نہیں پر اس تلاش کی یاد اب تک میرے ساتھ ہے۔ ایسے ہی جب برسوں کے بعد گھر لوٹا تو ایک دن اپنی پرانی الماری کھولی۔ ایک بوسیدہ سرٹیفیکیٹ دیکھا اور ایک پرانے سکول، ایک خوش مزاج ہیڈ ماسٹر، دو اساتذہ اور چھ دوستوں کے چہرے یاد میں تازہ ہو گئے۔ بی ایس سی کے دور میں حل کئے میتھ کے سوالات کا ایک صفحہ ملا اور سردیوں کی ان لمبی راتوں کا منظر سامنے آ گیا جب میں رات رات جاگ کر پڑھا کرتا تھا۔ وہ دن بہت خوبصورت تھا جو ان یادوں میں کٹا۔ آج مجھے ایک پہاڑ سی رات کاٹنا تھی۔ کیوں نہ یہاں بھی یادوں کی پوٹلی ٹٹولوں؟کیا خبر میں جان ہی لوں کہ اس لڑکی میں کیا خاص بات تھی اور کیوں میں اس کی محبت میں گرفتار ہوا؟

وہ یقیناً کوئی چونکا دینے والا لمحہ نہیں تھا کیونکہ مجھے یاد نہیں کہ میں نے اسے پہلے کب دیکھا تھا؟بس وہ سبز رنگ کی ایک پرانی سی کار میں آتی تھی۔ تب میں ایک دکان میں کام کرتا تھا۔ یہ دکان اس چھوٹے سے قصبے میں ایک مرکزی حیثیت رکھتی تھی۔ سو سارا دن قصبے کے نوجوان لڑکے، لڑکیاں اس کی پارکنگ لاٹ میں مٹکتے رہتے۔ وہ بھی ان نوجوانوں کے ہجوم میں سے ایک تھی۔ پھر ایک دن وہ تھوڑی گھبرائی ہوئی آئی۔ شاید اس کی گاڑی خراب ہو گئی تھی۔ وہ پہلا دن تھا جب میں نے غالباً اسے نظر بھر کر دیکھا۔ کوئی سترہ، اٹھارہ برس کی ہو گی۔ چھوٹا سا قد، دبلی سی، بہت چھوٹے بال۔ دیکھنے میں وہ اپنی عمر سے بھی خاصی چھوٹی لگتی تھی۔ پھر کچھ دنوں کے وقفے کے بعد وہ کالے رنگ کی ایک نئی کار میں آنے لگی۔

اب صرف اتنا تھا کہ اس کا چہرہ ہجوم سے تھوڑا مختلف نظر آنے لگا تھا۔ کبھی کبھار ہیلو ہائے بھی ہو جاتی۔ سب لوگ اسے پیار سے وولی کہتے تھے۔۔۔۔ اور پھر وہ دن جب میں نے اسے روتے دیکھا۔ اس روز کوئی بات ہوئی تھی۔ اس میں اور اس کے بوائے فرینڈ میں کسی بات پر جھگڑا ہوا۔ مگر ان معصوم آنکھوں کے آنسو میں آج تک نہیں بھول سکا۔ وہ اس دن اپنے دوستوں میں گھری تھی اور وہ سب اسے چپ کروانے کی کوشش کر رہے تھے۔ روتی ہوئی ایک لڑکی۔۔۔۔۔۔ شاید وہی لمحہ تھا جس نے مجھے اپنا اسیر کر لیا۔

پر یہ میں اس وقت تو نہیں جانتا تھا۔ بس کچھ یوں تھا کہ اب نگاہیں اسے ڈھونڈنے لگیں۔ وہ دکان میں آتی تو نظریں بے اختیار اس کی طرف اٹھ جاتیں۔ نہ آتی تو میں تھوڑا منتظر بھی رہتا(پر تھوڑا منتظر تو شاید میں اپنے سبھی گاہکوں کا رہتا تھا۔ مجھے ہر ایک کے بارے میں یاد تھا کہ وہ کب کب یہاں آتا ہے؟کیا خریدتا ہے؟اسے کیا پسند ہے وغیرہ؟)۔ یوں تو میں ہمیشہ کچھ ریزرو ہی رہتا تھا، خاص طور پر خوبصورت لڑکیوں سے تو میں ہمیشہ دور بھاگتا۔ پر اس کا شاید میں عادی ہو گیا تھا۔ شاید میں سمجھتا تھا کہ میں اتنا وقت گذار کر immuneہو گیا ہوں۔ پھر اس کے ہزاروں مسئلے تھے۔ کالج تھا، وہ سکول کے بچوں کو ڈرائینگ بھی سکھاتی، ایک لا ابالی سا بوائے فرینڈ بھی تھا(جسے ایک دفعہ میں گھنٹوں سمجھاتا رہا کہ آگے بڑھنے کے لئے اس کا اس چھوٹے سے قصبے سے نکلنا کتنا ضروری ہے۔ وہ بعد میں چلا بھی گیا مگر ادھر ادھر دھکے کھانے کے بعد واپس آ گیا۔ میں یقیناً اس وقت کینہ دکھا رہا تھا ورنہ کسے پڑی تھی کہ اس جنت سی جگہ کو چھوڑ کر کہیں جائے)۔

پھر آہستہ آہستہ ہم دوست بننے لگے۔ وہ کبھی کبھار اپنی کوئی پینٹنگ اٹھا لاتی مجھے دکھانے کو، کبھی بتاتی کہ کورس کتنا مشکل جا رہا ہے۔ پھر ایک مرتبہ جب میں نے اکیلا پورا امریکہ گھومنے کا ارادہ کیا تو وہ بہت خوش ہوئی۔

’’میں تو خواب دیکھتی ہوں کہ کبھی ایسے سفر پر جا سکوں۔۔۔ میں کل تمہیں ایک سی ڈی لا کر دوں گی۔ اس میں ایک ایسا گانا ہے جو تم سارا راستہ بھی سنتے رہو تو بور نہیں ہو گے۔ ‘‘

میں مسکراتا رہا۔ مگر اگلی صبح کی بجائے اسی شام اپنے سفر پر نکل کھڑا ہوا۔ اس کا گانا میرے پاس نہیں تھا، میں تو یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ کونسا تھا مگر سارے راستے میں اور میری تنہائی اس انجانی سی دھن پر جھومتے رہے۔ وہ تمام راستہ میرے ساتھ رہی(اگرچہ یہ بھی میں اس وقت نہیں جانتا تھا۔ میں نے تو اسے بس راستوں کا حسن سمجھا، آوارگی کی بیکراں پہنائیوں میں چھپا ایک اور راز)۔ منظر بڑے تیزی سے بدلتے رہے۔ سرسبز پہاڑ، وسیع میدان، نہ ختم ہونے والے کھیت، برف پوش سنگلاخ پہاڑ، صحرا اور پھر سمندر۔

میں واپس آیا تو میرے پاس بتانے کو بہت کچھ تھا۔ اس نے گلا کیا کہ میں اسے بتائے بغیر کیوں نکل گیا تھا۔ اس نے وہ سی ڈی بھی اٹھا کر مجھے دی(میں نے اسے آج تک نہیں سنا۔ میں اسے سن کر وہ سحر ختم نہیں کرنا چاہتا جو ایک ماورائی گیت کے تصور نے مجھ پر قائم کیا تھا۔۔۔۔ ایک ایسا گیت جسے آپ ہزاروں میل تک سن سکتے ہو بغیر بور ہوئے۔۔۔۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ یہ ناممکن ہے، شاید اسی لئے میں نے وہ سی ڈی کبھی نہیں سنی)۔

’’اب اسے گھر میں ہی سن لینا‘ ‘میں نے مسکرا کر اسے جیب میں ڈال لیا۔ پھر اس نے کرید کرید کر سفر کی باتیں پوچھیں۔ میں نے کچھ بتائیں اور کچھ ٹال گیا۔ دن پھر اسی طرح گذرنے لگے اور پھر ایک دن میں نے پاکستان آنے کا فیصلہ کر لیا۔ سب دوستوں نے مجھے رکنے کو کہا۔ پاکستان کے حالات سے ڈرایا۔ مگر میں بس فیصلہ کر چکا تھا۔

’’بہت رہ لیا امریکہ میں۔۔۔ بس اب اپنے دیس چلتا ہوں ‘‘

اسے پتہ چلا تو دوڑی دوڑی آئی

’’کیوں جا رہے ہو؟‘‘

’’جانا ہے۔۔۔ میرے سب لوگ ہیں وہاں۔ ماں باپ ہیں، بھائی بہن ہیں۔۔۔ جانا تو ہے‘‘

وہ تھوڑی دیر رکی رہی مگر کیا کہتی۔ ہمارے درمیان تعلق ہی کیا تھا؟اگلی شام میں ائیرپورٹ پر بیٹھا سوچ رہا تھا۔ کتنا خوبصورت وقت گذرا ہے یہاں، پر شاید پاکستان جا کر کبھی اسے یاد بھی نہ کر سکوں۔ امریکہ کے ساتھ کوئی اٹوٹ رشتہ کبھی بنا ہی نہ تھا۔ میں نے اس معاشرے میں خود کو ہمیشہ ایک اجنبی ہی سمجھا تھا۔ اور جو تھوڑا بہت تعلق تھا وہ بھی چند مہینوں میں بھول گیا۔ اتنے محبت کرنے والے رشتے تھے یہاں کہ جنت سے بھی آتا تو سب بھول ہی جاتا۔

پھر آج کی رات آئی جب سونے کو آنکھیں بند کیں تو چھم سے وہ سامنے آ کھڑی ہوئی۔ اسے دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ میرا اس کا تعلق ہی کیا تھا؟مگر اس کی چھوٹی چھوٹی باتیں یاد آنے لگیں۔ مجھے اپنا سانس گھٹتا ہوا محسوس ہوا۔ لگا جیسے بہت ضروری چیز بھول گیا ہوں۔ میں نے سر جھٹک کر اسے بھلانے کی کوشش کی مگر وہ ساری رات، پھر اگلی صبح اور پھر ہر روز۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ چہرہ میرے سامنے رہتا۔ میں کتاب کھولتا تو الفاظ بھاگ کر ادھر ادھر چھپ جاتے اور اس کا چہرہ سارے صفحے پر چھا جاتا، دفتر جانے کو نکلتا تو ہر گاڑی میں وہی جاتی نظر آتی۔ کھانے کی میز پر، پارک میں، کمپیوٹر کی سکرین پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یوں مجھے اس سے بچھڑنے کے چار ماہ بعد اس سے محبت ہو گئی۔

میں نہیں جانتا کہ اب کیا ہو سکتا ہے؟وہ نجانے اب کہاں ہو؟اسے شاید کسی یونیورسٹی میں داخلہ بھی تو لینا تھا۔ پھر بگڑے ہوئے حالات میں وہاں جا بھی تو نہیں سکتا اور اگر کسی طرح چلا بھی جاؤں، اسے ڈھونڈ بھی لوں تو بھلا کیا کہوں گا اسے؟یہی کہ تم سے جدا ہونے کے بعد مجھے تم سے محبت ہو گئی۔ احمق لگوں گا میں ایسا کہتے ہوئے۔ شاید وہ اب بھی اسی بوائے فرینڈ کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر چل رہی ہو گی۔ شام کو پہاڑ پر چڑھ کر قصبے کی روشنیاں دیکھتی ہو گی۔ دن میں دریا پر کشتی رانی کرتی ہو گی۔

مگر میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کہاں جاؤں؟مجھ تہی دست کے پاس تو اس کی یاد بھی نہیں کہ جس کے سہارے زندگی گذار لوں۔ شاید کچھ دن شیو بڑھا کر، چادر لے کر اسے یاد کرنے کی کوشش کروں گا اور پھر آہستہ آہستہ کچھ نارمل بھی ہو جاؤں مگر یہ سوال ہمیشہ مجھے تڑپاتا رہے گا کہ مجھے اس سے محبت ہوئی کیونکر؟

٭٭٭