کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

الاؤ

سید اسد علی


وہ کہتی ہے لکھو تم میری داستان کو۔ مگر میں کیا لکھوں؟کہ اس الاؤ سے جو اندھیرا دھواں بن کر بکھرا تھا اسے تو یہ آنکھیں دیکھ ہی نہ پائیں۔ ہاں کیا لکھوں اس راہگذر کا جس سے میں گزرا مگر اس طرح کہ میری آنکھوں پر سیاہ پٹی بندھی تھی، ایسے کہ میرے لبوں پر قفل پڑے تھے اور کچھ یوں کہ میری سماعتوں پر وقت کے پہرے تھے۔ مگر یہ تو کسی کی پہلی خواہش ہے کچھ تو کرنا پڑے گا۔ میں لکھتا ہوں اس کہانی کو کسی تمہید کے بغیر، میری بیس سالہ زندگی جس کا ابتدائیہ تھی۔

وہ ایک ایسی ہی رات تھی جیسی ہر روز ڈھلا کرتی ہے۔ ممکن ہے اس رات بہت سردی پڑی ہو، یا اس رات اندھیرا ٹوٹ کر برسا ہو مگر سب لاحاصل۔ کتنی بے معنی ہے اس رات کی زندگی جسے محض ایک نام دینا بھی ممکن نہیں؟میں بھی سبھی زیست بیزار نوجوانوں کی طرح اس رات سڑکوں پر تھا اور کسی ٹوٹی پھوٹی سے بے نام سڑک پر میں رکا۔ میرے قدموں کو روکنے والی چیز کیا تھی؟بہت ممکن تھا کہ ہمیشہ کی طرح کوئی بے حقیقت گٹھڑی یا بیگ ہوتا جسے ہر آوارہ کی طرح میں اپنا حق سمجھتا۔ چند میلے کپڑوں، کچھ کاغذوں، سیگرٹ کے ایک آدھ پیکٹ اور بہت خوش قسمت ہونے پر کچھ روپے حاصل کر کر میں قہقہے لگاتا وہاں سے چل پڑتا۔ یا کاش وہ کوئی لاش ہوتی کسی ناکام سے عاشق کی یا کسی بے خیال مسافر کی اور میں گھڑی بھر اکڑوں بیٹھتا، آنکھوں سے ایک آنسو چھلکتا اور میں چل پڑتا اپنی اسی ڈگر پر۔ ہاں یہ بہتر تھا کہ زندگی اس دائرے میں گھومتی رہتی۔ رہٹ کے بیل کی طرح۔ کہ کہتے ہیں یہ راستہ بہت محفوظ ہوتا ہے، مگر میں اتنا خوش قسمت نہ تھا۔ میرے سامنے ایک بہت مختلف روح تھی ایک عام سے جسم میں ملبوس۔ میرے ذہن میں خطرے کی گھنٹی بجنے لگی۔ میں نے بھاگ جانا چاہا مگر جیسے کوئی چھوٹا سا خرگوش پہلی بار اپنے بل سے گردن نکال کر روشنی کو دیکھتا ہے۔ ایک خوف اسے باہر نکلنے نہیں دیتا اور ایک شوق اسے اندر گھسنے نہیں دیتا۔ میں یونہی بنا پلکیں جھپکائے اسے دیکھتا رہا۔ میں بہت خوفزدہ تھا مگر میرے قدم اس کی طرف بڑھنے لگے۔ مجھ سے مت پوچھو کی اس کے چہرے کا رنگ کیا تھا؟مت کہو کہ وہ جس گداز تھا یا نہیں؟یہاں مت سوچو کہ وہ سانس چل رہی تھی یا نہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ میں نے بھی نہیں سوچا تھا ایسا کچھ۔ بس میری آنکھوں سے دیکھو، ان آنکھوں کو جن میں کچھ ایسا تھا کہ سب سوچ میں پڑ جائیں۔ میں بھی سوچنے لگا کہ وہ کیا تھا۔ وہ کوئی آگ تھی جو بجھ رہی تھی مگر کیسی آگ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ کوئی راکھ نہ دھواں۔ اگر مجھے پاگل نہ سمجھو تو بتا دوں کہ میرے سامنے ایک ایسا الاؤ بجھ رہا تھا جو کبھی جلا ہی نہ تھا۔ میں اس کے قریب ہوا۔ اتنا کہ رک رک کر چلتی چند گرم سانسیں مجھ سے ٹکرائیں۔

’’تم کون ہو؟‘‘

میرے لب خاموش رہے مگر یوں لگا جیسے میری آنکھیں بول رہی ہوں، میرے ہاتھ چیخ رہے ہوں، یا جیسے میری سانسوں کو زباں مل گئی ہو۔ اس نے سن لیا۔ یقیناً میں ایک ایسے پل میں تھا جہاں گویائی اور سماعت ثانوی ہو کر رہ جاتے ہیں۔

’’مجھے تم سے محبت ہے؟‘‘

یہ میرے سوال کا کوئی جواب نہ تھا مگر میں اس کے سوا کچھ بھی نہ سن سکا۔ میرے اندر بہت سے سر نفی میں ہلے جیسے وہ کچھ بھی نہ سمجھ پائے ہوں۔ مجھے اپنے سوال کا جواب چاہیے تھا اس لئے دونوں ہاتھوں سے اس کے سر کو قدرے اٹھایا اور چلایا

’’مجھے جواب دو‘‘

مگر ہر سوال کا جواب کہاں ہوا کرتا ہے؟میں نے دیکھا وہ بجھتا ہوا الاؤ تھوڑا بھڑکا اور پھر سرد ہو گیا۔ ہاں وہ الاؤ ہی تھا کہ جب بجھا تو میں نے جانا کہ اس کی راکھ اس کا جلنا اور دھواں اس کا بجھنا ہی تو تھا۔ جانے والا کسی بے مہر دیس میں جاتے اک ایسی زنجیر دے گیا تھا جسے شاید موت بھی نہ توڑ سکے۔ میں چند قدم پیچھے ہٹ گیا۔ دو یا چار اعداد بے معنی تھے۔ پھر بھاگا مشرق یا مغرب سمت لاحاصل تھی اور  پھر گر گیا گھر  یا  راہگذر منزل بے حقیقت تھی۔

میں نے سنا تھا کہ راتوں کو ویرانوں میں نہ پھرنا بھوت چمٹ جاتے ہیں۔ مگر آج کہتا ہوں کہ دن کو بھی کبھی انسانوں سے نہ ملنا کہ کچھ لوگ بد روحوں کی طرح لپٹ جاتے ہیں، شیطان کی طرح خون میں دوڑنے لگتے ہیں، موت کی طرح آنکھوں پہ نقش ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے بچنا ورنہ ہمیشہ کے لئے قید ہو جاؤ گے۔ واقعی وقت کے کچھ لمحے زندان ہوتے ہیں، گرداب ہوتے ہیں جن میں پھنسنے والے ساری زندگی نکل نہیں سکتے۔ وہ پل بھی ایک ایسا ہی صیاد تھا جس نے کھلی فضاؤں میں مجھے اسیر کر لیا۔

بہت کچھ ٹوٹتا بنتا ہم ان آنکھوں سے دیکھتے ہیں مگر آج مجھے کہنے دو یہ آنکھ کسی دیوار میں کوئی درز نہیں ایک پردہ ہے۔ ایک رنگین پردہ جس پر متحرک  نقش سینما اسکرین کی طرح ہم پر جادو کر دیتے ہیں اور باقی ساری دنیا پس پردہ چھپ جاتی ہے۔ تو ایک ایسی ہی نہ نظر آنے والی ٹوٹ پھوٹ ہو رہی تھی اس سمے میرے اندر۔ یوں لگتا تھا کہ اب عمر بھر میں اس ساعت سے نکل نہ سکوں گا۔ میں اب اپنی آنکھوں سے بہت کم دیکھ پاتا تھا۔ میرے سامنے اب میرے اندر کی دنیا تھی۔ بڑی بے چین اور مضطر۔ میں آبادیوں میں، ویرانوں میں، مسجدوں میں، مے خانوں میں پھرتا رہا۔ دعا دیتا ہوں ان قدموں کو جنہوں نے میرا ساتھ اس وقت دیا جب میں خود بھی اپنے ساتھ نہ تھا۔ یہ مجھے لے گئے ہر طبیب، ہر ڈاکٹر کے پاس مگر میرے درد کی دوا ان کے پاس کہاں سے آتی جنہوں نے وہ الاؤ دیکھا ہی نہ تھا؟جنہوں نے وہ سوال سنا ہی نہ تھا وہ بھلا جواب کیا دیتے؟پھر وہی سب دیوانوں کی طرح میں ویرانوں کو نکل گیا اور سارا وقت الاؤ روشن کئے اسے تکتا رہتا کہ شاید میری ٹھٹھرتی روح کو قرار مل جائے۔

کسی صبح سے بہت پہلے، رات کے ایک انجانے پہر موہوم سی چاپ سنائی دی۔ مدھم، سہمی اور سوچتی ہوئی چاپ۔ مدھم اس لئے کہ کوئی اس کی خبر نہ پا سکے، سہمی یوں کی اگر جان گیا تو نجانے کیا ہو اور سوچتی یہ کہ

’’معلوم نہیں یہ کون ہے جو موسم سے بے نیاز صرف ایک الاؤ کے سہارے رات بتا رہا ہے؟‘‘

میں نے گھٹنوں پہ رکھا اپنا سر اٹھایا۔ الاؤ کے سرخ مدھم پڑتے شعلوں کے دوسری طرف ایک اور الاؤ تھا۔ مجسم دہکتا ہوا، شاید کبھی نہ بجھنے والا۔ دل میں اس ساعت کوئی جذبہ نہ تھا ایک ابھرتی ملامت کے سوا کہ آج تک کہاں بھٹکتا رہا۔ اپنے ہاتھوں سے جلائی اور سمے کی ہلکی سی پھوار سے بجھ جانے والی وہ آگ بھلا اس الاؤ کا مقابلہ کیسے کر سکتی تھی، جسے خود وقت نے سلگایا ہو۔۔۔ کبھی نہ بجھنے کے لئے۔ بہت ممکن تھا کہ میری بہکی سوچیں مجھے ان قدموں میں گرا دیتیں، آسماں بھی جہاں جھکتا ہوا محسوس ہوتا تھا مگر انا کی فصیلوں اور آرزو کے بارود کے بیچ فقط ایک چیز حائل تھی

’’اس کا چہرہ‘‘

جس سے نظریں ہٹانا نہ گوارا تھا اور نہ ممکن۔

’’تم کون ہو؟‘‘

اس کے شیریں لب ہلے اور جیسے ساری کائنات اس کا سوال دہرانے لگی۔ میں نے سر جھکا لیا۔ بھلا اس نگر کی خبر میں اسے کیا دیتا  جس کی تلاش نے مجھے آبلہ پائی کے سوا کچھ نہ دیا؟نہ سرخ آگ میں، نہ چمکتے دن میں اور نہ سیاہ رات میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں بھی تو نہیں تھا اس سوال کا جواب۔ مگر شاید اس سوال کا جواب ہو کسی ماں کی آغوش میں، کسی آزاد زمیں پر، یا پھر اس دھرتی اور میری سوچ کی حدوں سے پرے کسی ان دیکھی کائنات میں۔ مگر اسے پانے کے لئے نجانے کتنا انتظار کرنا پڑے اور کیا خبر کہ وقت اتنی لامتناہی مہلت ہی نہ دے اور زندگی کا آخری تحفہ جان کر یہ کسک مجھے اپنے ساتھ ہی لے جانی پڑے اس نگر کو جہاں کوئی بھی سوال بن جواب نہیں ہوتا۔

چاہتا تو میں یہی تھا کہ اپنی خامشی کی بوسیدہ ردا میں ہی اپنی برہنہ الجھن، اپنی بکھری حقیقت چھپا لوں مگر ایسا ہو نہ سکا کہ وہ آسماں جس کے سائے تلے میں کھڑا تھا، وہ دھرتی جس نے میرے قدموں کو جکڑ رکھا تھا، وہ ہوائیں جن میں میں سانس لیتا تھا، سب کی زبان پر بھی وہی ایک سوال تھا۔

’’میں شہرام ہوں ‘‘

میرے اندر کوئی چیخ اٹھا۔ ہاں یہی اس سوال کا ممکن جواب ہو سکتا تھا۔ میرے ہونٹ لڑکھڑائے اور یہی جواب دہرا گئے۔ مگر کوئی بھی مطمئن نہ ہوا۔ نہ زمیں، نہ آسماں، نہ ہوائیں اور نہ وہ مہرباں۔ میں جھنجلا اٹھا اور سب کو اپنی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتا محسوس کر کے پھٹ پڑا۔

’’میں شہرام ہوں، اس لئے کہ میں کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا۔ میرے باڑے میں بہت سی بھیڑیں اور گائیں نہیں ہیں کہ میں خود کو ان کا مالک بتا سکوں۔ اس پوری کائنات میں ایک چپہ زمیں بھی ایسی نہیں جسے میں صرف اپنا کہ سکوں۔ کوئی آرام دہ مکان، کوئی تیز رفتار گھوڑا، کوئی ماورائی طاقت کچھ بھی تو نہیں جو میرا حوالہ بن سکے۔ اس لئے میں صرف شہرام ہوں۔ یہی نام میری جائیداد بھی ہے، ورثہ بھی اور حوالہ بھی۔ ‘‘

میں نے اپنی مخاطب کے شفاف چہرے پر سوچ کی لکیریں بکھرتی دیکھیں جیسے کسی پر سکون جھیل میں کسی من چلے نے پتھر پھینک دیا ہو۔ اس کے ہونٹ کپکپائے جیسے وہ کچھ کہنا چاہتی ہو، مگر پھر سر جھٹک کر کہنے لگی۔ اس کے لبوں پر اب ایک ماورائی مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔

’’اپنے آرام دہ بستر پر گرتے ہیں نیند مجھے بہلا دیا کرتی ہے مگر آج میں سو نہ سکی، شاید اس لئے کہ مجھے یوں تم سے ملنا تھا۔ میں سوچتی ہوں کہ ہم ایسے ہی آزاد نہیں ہیں۔ دور کہیں کائنات کے کسی گوشے میں کوئی ہے جو بیٹھا ڈوریاں ہلا رہا ہے اور ہم کٹھ پتلیوں کی مانند گردش میں ہیں۔ اس طاقت نے چاہا کہ میں تم سے ملوں تو میں آ گئی۔ ‘‘

وہ ایک لمحے کو رک گئی تو مجھے لگا کہ گویا کوئی بہت حسیں سپنا تھا جو ٹوٹ گیا۔ مگر پھر اسی دلنشیں مسکراہٹ کے جلو میں نقرئی گھنٹیاں بجنے لگیں۔

’’آج دور پہاڑ سے تمہارا لاؤ دیکھا تو یہاں چلی آئی۔ بہت سے سوال ہیں دل میں۔ کیا تم بتاؤ گے کہ اس سرد رات میں جب بھاری کھالوں والے جنگلی جانور بھی باہر نکلنے سے گھبراتے ہیں تم ایسے تنہا اس جگہ کیوں ہو؟‘‘

’’میں اس جگہ اس لئے ہوں کہ میں اور کہیں جا ہی نہیں سکتا۔ میں اس بھیڑ کی طرح ہوں جسکے باڑے کی دیواریں مضبوط پتھروں کی ہیں یا پھر مجھے رسی سے بندھی ایک گائے جانو جس کی آزادی کی حد رسی کی لمبائی ہے۔ اب اس قید مسلسل میں، میں کھلی فضا میں بیٹھوں یا کسی جھونپڑے میں برابر ہے۔ ‘‘

’’شاید کوئی بہت کڑی ساعت گذری ہے تمہارے جیون میں، جبھی تو ساری زندگی ہی زہر میں بجھی نظر آتی ہے؟‘‘اس نے میرے چہرے پہ نظریں گاڑتے ہوئے کہا اور میں نے گھبرا کر آنکھیں چرا لیں۔

’’کوئی کڑی ساعت نہیں یہ تو صدیوں کا ذہر ہے جو زندگی کی نس نس میں بھر گیا ہے اور اب اگر چاہوں بھی تو اسے جسم سے نکال کر پھینک نہیں سکتا کہ یہ اس خون کی قیمت ہے جو جوازِ زندگی بن کر میری رگوں میں دوڑ رہا ہے۔ ہاں یہ ایک منطقی نتیجہ ہے اس سہمی، ذلت بھری زندگی کا جسے محض چلتی سانسوں کے بدلے  خرید لیا ہے میں نے۔ تم نے کبھی کوئی ایسا پنجرہ دیکھا ہے جس کا قیدی سلاخوں سے لپٹ کر روتا نہ ہو؟جس کی آنکھیں دور کھلی فضاؤں کو حسرت بھری نگاہوں سے تکتی نہ ہوں؟کیا دیکھا ہے کبھی کوئی ایسا پنچھی جو قفس میں آشیانہ تعمیر کر لے؟کوئی قیدی جو زنداں میں گھر کی بنیادیں ڈالنے لگے؟‘‘

میرے خاموش ہونے پر وہ سوچنے لگی۔ شاید زنداں کی دیواروں میں جڑی ایک مجبور زندگی کا تصور  اس کے لئے مشکل تھا۔ پھر سر جھٹک کر بولی۔

’’میں اب چلوں گی‘‘

وہ میرے جواب کا انتظار کئے بنا مڑی اور چل دی، مگر چند قدم جا کر ایک لمحہ کو رکی اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگی

’’میرا نام ماریہ ہے اور حوالہ محبت۔ جب انسان بہت مجبور بھی ہو تو یہ وہ حوالہ ہے جو اسے بے نام نہیں ہونے دیتا۔ میں چلتی ہوں مگر پھر کسی صبح ضرور آؤں گی۔ اس امید پر کہ جو ننھا سا دیا آج میرے دل میں جل اٹھا ہے وہ کسی درخشاں کہکشاں تک میری رہنمائی کرے گا؟‘‘

وہ چلی گئی اور مجھے لگا جیسے میری ساری زنجیریں بھی لے گئی ہو۔ میں چلایا

’’یہ بھوت، پریت، یہ وقت کے زنداں اتنے مضبوط کہاں ہوتے ہیں کہ انسانوں کو جکڑ سکیں؟ یہ تو پنجہ شیطاں سے بھی پھسل پھسل جاتا ہے۔ مجھے خبر نہ ہوئی۔ ہاں بھلا شکار کو پھندے کی خبر کہاں ہوا کرتی ہے؟میں تو اسیر محبت تھا اور صیاد جانا سمے کو۔ اب میں آزاد ہوں۔ کسی بھی من چلے پرندے کی طرح کہیں بھی جا سکتا ہوں۔ ‘‘

میں اٹھا اور چلنے لگا مگر ایک کسک سی محسوس ہوئی۔ شاید میں کچھ بھول رہا تھا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو دور غبار سا نظر آیا۔ شاید وہ پھر آ رہی تھی۔ میں دیکھتا رہا مگر کوئی نہ تھا۔ سوچا کہ چند ساعتیں انتظار کر لوں۔ سو اسی الاؤ کے سامنے بیٹھ گیا۔ پھر جیسے ایک سوچ نشتر کی طرح روح میں اتر آئی۔

’’کیا میں اب کہیں جا سکوں گا؟‘‘

’’نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کائنات چیخ اٹھی‘‘

میں آزاد کہاں ہوا تھا بس زنداں بدل گیا تھا۔

بے بسی سے آسماں کو دیکھا اور نظریں الاؤ پر جما دیں۔ ایک آنسو گرم رخساروں پر گرا اور دو فراموش سی آنکھیں چیخ چیخ کر فریاد کرنے لگیں۔

’’مجھے پھر سے یاد کرو۔ کہ کبھی ہم بھی تم سے تھے آشنا‘‘

اور میں سسکتی آنکھوں سے الاؤ پر وہ کہانی لکھنے لگا جسے بہت پہلے مجھے بھول جانا تھا۔

٭٭٭