کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کھویا ہوا آدمی

سید اسد علی


آسمان پہ تیرتے بادلوں کے کہیں بیچ روشنی کا ایک ہالہ تھا۔ چاند اس کے مرکز میں تھا اور اس کی برف سی روشنی بادلوں سے مل کر بہت سے رنگ پیدا کر رہی تھی۔ رات بہت بیت چکی تھی اس لئے چاروں جانب سناٹا طاری تھا۔ وہی سڑک جس پر دن بھر کوئی لمحہ ایسا نہ ہو گا جب گاڑیاں بھاگتی نہ ہوں اب سنسان تھی۔ میں پتھر کی ایک بنچ پر اکیلا بیٹھا تھا۔ یوں اکیلے بیٹھ کر چاند کو تکنا اس شہر کے لوگوں کا طریقہ نہیں مگر میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں بھلا اس شہر میں رہتا ہی کہاں ہوں؟ایک اور دنیا ہے۔ جس میں بڑے بڑے خوابوں کے محل ہیں، حسرتوں کی تعمیر کر دہ بلند و بالا عمارات ہیں اور خواہشات کے بھاگتے ہوئے بے لگام گھوڑے ہیں۔ ایک دنیا جو اس شہر جیسی بے رنگ اور پتھر دل نہیں۔ ایک دنیا جس کے جلو میں بیکراں امکانات ہیں۔ میں جیسے کوئی مصور تھا اور وہ دنیا میرا کینوس، میرے رنگ۔ میں جو چاہوں تخلیق کر سکتا تھا۔ اور یہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس شہر میں تو سب کچھ پہلے سے ڈھلا، ڈھلایا پڑا ہے۔ ہر ایک شبیہ پتھر کی ہے اور پتھر کہاں خالی ہاتھوں سے شکل بدلتے ہیں۔

تو اپنی دنیا سے میں اس شہر کو ایسے دیکھتا ہوں جیسے زمین پر کھڑا کوئی چاند کو دیکھتا ہو۔ چاند ایک حقیقت ہے مگر اس کے اور ہمارے بیچ پھیلے یہ لاکھوں میل اس سے بھی بڑی حقیقت ہیں۔ کہتے ہیں چاند پر بہت سردی پڑتی ہے، کہتے ہیں وہاں بے وزنی کی کیفیت ہے۔ میں سب مانتا ہوں مگر ہمارے بیچ یہ جو بہت فاصلہ ہے نہ، یہ کچھ محسوس نہیں کرنے دیتا۔ میں information ageمیں رہتا ہوں۔ کتابوں، انٹرنیٹ، اخبارات، زبان خلق سے ہزاروں باتیں سنتا ہوں مگر یہ سب چیزیں اس ایک لمحے کا متبادل نہیں بن سکتیں جس میں کوئی سب حدوں کو چیرتا ہوا چاند پر جا پہنچے۔

تو یہ شہر بھی میرے لئے چاند کے جیسا ہے۔ میں اسے جانتا ہوں۔ اس میں رہتا ہوں مگر اسے محسوس نہیں کر سکتا۔ بس کبھی کبھی جب فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے سر کسی جھکی ہوئی ٹہنی سے ٹکرا جائے، یا پھر پیر بے خیالی میں کسی گڑھے میں جا پڑے۔ ایسے ہی کچھ اور لمحے ہیں جب میں اسے محسوس کرتا ہوں۔ ورنہ تو کسی بوڑھے ہوتے ہوئے پالتو کتے کی طرح یہ ایک کونے میں پڑا رہتا ہے۔ کبھی کبھار نظر انداز کرنے پر تھوڑا چلا لیتا ہے مگر باقی وقت ایک لامتناہی سناٹے میں گذرتا ہے۔ بہت عمر ایک دوسرے کے ساتھ گذارنے کے بعد ہم ایک دوسرے کو بہت حد تک سمجھ گئے ہیں۔

میں شاید اس شہر کے بارے میں اتنا کچھ نہ لکھتا مگر ایک وقت تھا جب کسی نوخیز پلے کی طرح یہ میرے چاروں طرف دوڑتا پھرتا تھا۔ وہ وقت جب میری آنکھیں اسے دیکھتے تھکتی نہیں تھیں۔ میں سوتا تھا تو بہت جلد آنکھ کھلنے کا سپنا لئے۔ وہ وقت جب دنیا ایک لامتناہی امکان کی طرح تھی اور آسمان خدا کے سائے کی طرح۔ جب محبت بانسری کے سروں کی مانند روح میں گھلتی جاتی تھی اور جب جسم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نہیں جانتا وہ کیا تھا؟مگر میری رگوں میں ہر وقت ایک پارہ سا بھرا رہتا۔ ایک آگ سی لگی رہتی۔

اتنا بڑا شہر ہے اور میں پتھر کی اس بنچ پر اکیلا بیٹھا ہوں۔ میں نے اپنی مٹھیاں بھینچ رکھی ہیں حالانکہ ان میں کچھ ہے نہیں جسے کھو دینے کا ڈر ہو۔ ہوا قدرے خنک ہے اور بڑی آہستگی سے میرے چاروں طرف سرسرا رہی ہے۔ ایک اور رات ہے جو مجھے گزارنی ہے۔ ابھی کچھ گھنٹوں کے بعد وہاں اس بلند مکان کی اوٹ سے روشنی کی کرنیں نکلیں گی اور تھوڑی ہی دیر میں یہ سارا طلسم ختم ہو جائے گا۔ گاڑیوں کا ایک کارواں نکلے گا اور سناٹا کہیں دور جنگلوں میں دبک جائے گا۔ میں پھر سے روشنی میں اپنے جسم پر نظر ڈالوں گا اور ایک بڑی بدمزگی میری روح میں در آئے گی۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی ساری رات جھیل میں ہاتھ ڈالے پانی کو ہٹاتا رہے اور سوچے کہ صبح ہونے پر شاید کوئی چھوٹا سا گڑھا ہی پڑ جائے پانی کی سطح پر۔ وہ کام جو اندھیرے میں بہت آسان، بہت ممکن لگتا تھا اب پھر سے ایک ناممکن کی طرح سامنے کھڑا ہے۔ میں اسی لئے روشنی کو پسند نہیں کرتا۔ یہ بھی شہر کی طرح ہے۔ اس میں ہر چیز بہت rigid، بہت سخت نظر آتی ہے۔ جسے بدلا نہ جا سکے۔

میں نے جب سے شعور سنبھالا خود کو بدلنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میرے سامنے کامیاب لوگوں، عظیم شخصیات کا ایک ہجوم تھا۔ اور میں ان ہزاروں بے ترتیب ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک آئیڈیل بناتا اور پھر خود اس میں ڈھلنے کی کوشش کرتا۔ ہر نئے دن میرا آئیڈیل بدلتا۔ ہر نئے دن میں ناکام ہوتا اور ہر نئی رات میں پھر سے ایک نئے جذبے سے اٹھتا۔ برسوں گزر گئے اور جب ایک دن میں اس کھیل سے تھک گیا۔۔۔۔۔۔ تو میں بوڑھا ہو گیا۔ اب میں کوئی آئیڈیل نہیں بناتا، اب میں کوئی کوشش نہیں کرتا۔ اب میں صرف انتظار کرتا ہوں کسی معجزے کا۔

یہ شہر مجھ سے بہت مختلف ہے۔ شاید میرے جیسے کچھ اور بھی ہوں گے مگر میں انہیں جانتا نہیں۔ وہ سب بھی اپنے اپنے کونوں میں دبکے ہانپ رہے ہوں گے۔ دوسرے سب جن سے یہ شہر بھرا پڑا ہے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے کسی لمحے میں ایک سمجھوتا کر لیا۔ اور بس ایک سمجھوتا ہی تو چاہیے ہوتا ہے۔ ایک جواب جو کوئی بھی ہو سکتا ہے، ساری دنیا کے سوالوں کو خاموش کر سکتا ہے۔ ہے نہ عجیب بات؟ہم لوگ ساری زندگی کی محنت کے بعد بھی مطمئن نہیں ہوتے اور اس سوال کا جواب کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ایک مصور کے لئے اس کا جواب تصویریں بنا نا ہے اور اس جواب کے پیروکاروں میں سڑک کے کنارے بیٹھے اسکیچ کھینچنے والوں سے لے کر ملین ڈالرز کی تصویریں بیچنے والے سبھی ہیں۔ کسی کے نزدیک اس کا جواب کوئی کھیل ہے اور وہ ساری زندگی گیند کو ایک پوسٹ سے دوسری پوسٹ تک لے جانے میں صرف کر دیتا ہے۔ ایسے ہی معمار ہیں، سپاہی ہیں، ڈاکٹر ہیں۔ ان میں سے ہر ایک نے کبھی نہ کبھی  یہ فیصلہ کر لیا کہ آج سے یہ جواب زندگی کے ہر سوال کا احاطہ کرے گا۔ پھر اس کے بعد ایک لمبی جدوجہد کی کہانی ہے جس میں انہیں اپنے فیصلے کو حق بجانب ثابت کرنا ہے۔ عجیب لوگ ہیں یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر میں ان پر ہنسوں گا نہیں۔ میں ان کی بہت عزت کرتا ہوں۔ میں انہی کی اندھی نفسانیت کے وجہ سے وجود میں آیا، میں انہی کے آباد کئے ہوئے شہروں میں رہتا ہوں، ان کی بنائی ہوئی سڑکوں پر چلتا ہوں۔ مجھے کوئی حق نہیں کہ میں انہیں غلط کہ سکوں۔ میرے پاس کچھ بھی نہیں کہ میں ان کی نفی کر سکوں۔ سو دل ایک بڑے احسان کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اور میں بنچ پر خاموش بیٹھا ہوں۔

مگر میں ان جیسا نہیں بن سکتا۔ یقین کرو کہ میں نے بہت کوشش بھی کی۔ دل کو بہت سمجھایا۔ ناکام لوگوں کے انجام سے ڈرایا۔ پر شاید سمجھوتہ کر لینے والا دل اور ہوتا ہو گا۔ ہم امکانات کی اس دنیا میں ایک لکیر پر آگے بڑھے جانے پر بھلا کیسے رضامند ہو سکتے ہیں؟ میں نہیں کہتا کہ ایسا ہوتا نہیں میرا اصرار تو صرف اتنا ہے کہ منطقی طور پر ایسا  ممکن نہیں۔ ہاں میں ایک idealistہوں اور کوئی بھی شخص جو انسان میں چھپی بے پناہ طاقت کا وجدان کر سکتا ہو، کوئی بھی شخص جس نے مائیکل جورڈن کو فضا میں گھومتے دیکھا ہو، کوئی بھی شخص جسے خدا کے ہونے کا یقین ہو کیسے رضامند ہو سکتا ہے بھلا؟کیسے سمجھوتہ کر سکتا ہے؟

میں مان سکتا ہوں کچھ لوگوں کے بارے میں جو بہت تھک گئے۔ جیسے کسی لمبی دوڑ میں کچھ لوگ ہمت ہار جاتے ہیں۔ مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ کتنی بڑی دوڑ ہے جس نے سبھی کو تھکا دیا۔ کچھ ہوں گے اپنے کونوں میں دبکے ہوئے، سڑکوں پہ گھسیٹے جاتے ہوئے جسم، مگر باقی ہر جگہ ایک بہت بڑی افسردگی ہے جو سب پہ چھائے جاتی ہے۔

ذینو کا تیر کبھی ایک نکتے سے دوسرے تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہ منطقی طور پر محال ہے مگر ہم اپنی آنکھوں کے سامنے تیر کو چلتا دیکھتے ہیں۔ ایسے ہی سمجھوتہ محال سہی مگر ہر جگہ ہو رہا ہے۔ ارزاں سمجھوتوں کا ایک بازار ہے اور میں اس بنچ پر اکیلا بیٹھا ہوں۔

کوئی نہیں جانتا کہ اسے کہاں جانا ہے؟پھر بھی ایک دوڑ لگی ہے۔ بس ذرا سورج کو نکلنے دو پھر ہر موڑ، ہر سڑک پر چیونٹیوں کی طرح قطار میں رینگتی گاڑیاں نظر آئیں گی، کندھے سے کندھے ٹکراتے ہجوم دکھائی دیں گے۔ ہر ایک کی کلائی پر دیوانگی سے دوڑتے ہندسے ہوں گے یا پھر بے قراری سے گھومتی سوئیاں۔ اور ہم سوچتے ہیں کہ وقت کا وجدان ممکن ہے۔۔۔۔۔۔ وقت ہنستا ہو گا ہم پر، ہمارے پیمانوں کی سوئیاں ہماری کم مائیگی سے زیادہ کسی چیز کا اظہار نہیں کر سکتیں۔ وقت تو لامتناہی ہے۔ ہم لامتناہی کو کیسے ماپ سکتے ہیں؟منطقی طور پر محال سہی مگر تجرباتی نظر سے دیکھیں تو ہر جگہ ہو رہا ہے۔

تو یہ تضادات ہیں جو ہمیں ایک بہت بڑی ناکامی کا احساس دلاتے ہیں۔ شعور گھٹنے ٹیک چکا ہے تجربات کے آگے۔ میں مانتا ہوں کہ اس مادیت، اسی تجرباتی سوچ نے انسانیت کو اٹھا کر بہت بلند مقام پر بٹھا دیا ہے۔ ایک ایسی جگہ پر جہاں وہ بجا طور پر خود کو شہنشاہ سمجھ سکتا ہے۔ اس نے ہماری زندگی کو بہت محفوظ اور پر آسائش بنا دیا ہے۔ مگر ایک نکتہ جو ہم یہاں بھول رہے ہیں۔ آج سے ہزاروں سال پہلے اگر انسان وجدان کو تجربات پر قربان کر دیتا۔ اگر مادیت کو روحانیت پر فوقیت دے دیتا۔ تو ہم آج بھی stone ageمیں جی رہے ہوتے۔ تجربہ ہمیں perfectionistبنا سکتا ہے مگر ہمیں اس ایک دائرے سے باہر کبھی نہیں نکال سکتا جو ہمارا environmentہوتا ہے۔ جب جب ہم اس دائرے سے باہر سوچتے ہیں تب تب ہم idealistہوتے ہیں۔

آج جب انسانیت سب کچھ حاصل کرتی دکھائی دیتی ہے۔ مجھے کہنے دیں کہ شعور کو پس پشت ڈال کر ہم خود کو ترقی کے اس درجے پر محدود کر لیں گے۔ ایک رسی ہے جو ہمارے حلقوم پر تنگ ہوتی جائے گی۔ ایک entropyہے جو اس closed systemمیں بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ہمیں ضرورت ہے اس ایک دیوانہ وار چھلانگ کی جو انسانیت نے بہت بار لگائی ہے۔ مگر اب آسائشات کی لاٹھیوں نے اس کو کمزور کر دیا ہے۔ انسانیت ایک جیتی ہوئی بازی ہار رہی ہے اور میں اس کا ماتم کرنے کو اکیلا بیٹھا ہوں۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ شاید میں غلط ہوں۔ i'm good for nothing۔ ایک کشتی ہے جو ڈوب رہی ہے۔ کشتی والے اپنے ہنگاموں میں مست ہیں۔ کسی کو کچھ خبر نہیں۔ اور میں جو سب جانتا ہوں ایک کونے میں دبکا ہوا ہوں۔ میرا خلوص، میری ناکام زندگی کسی کام کی نہیں۔ اس سے تو اچھا تھا کہ میں بھی دوسرے لوگوں کی طرح کسی کام میں لگ جاتا۔ کوئی فیکٹری بناتا، کوئی کھیت سینچتا، کوئی اولاد پیدا کرتا۔ دوسرے لوگ آخر یہ سب کیوں کرتے ہیں؟ ایک بہتر نسل کے لئے ایک بہتر ماحول پیدا کرنے کے لئے۔

زندگی ایک بہت بڑا چیلنج ہمارے سامنے کھڑا کرتی ہے اور ہم انسان اسے لاحاصل سمجھ کر اس سے ٹکرانے کی بجائے اپنی لڑائی، اپنے خواب آنے والی نسلوں کو سونپ دیتے ہیں۔ مجھے انسانیت پر اعتماد ہے۔ وہ اب بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ آہستہ آہستہ۔ دیکھنے والوں کو یہ حرکت محسوس نہیں ہوتی۔ اس میں ڈرامہ کم ہے۔ مگر وہ ہر لمحہ اپنے چیلنج سے ٹکرانے کے لئے طاقتور ہو رہی ہے۔

میں اس approachکی عزت کرتا ہوں۔ اسے سمجھتا ہوں۔ مگر میں ایسا کر نہیں سکتا۔ میں پیدائش و تہذیب کی لاکھوں کڑیوں میں جکڑا بھی خود کو آزاد اور ذمہ دار محسوس کرتا ہوں۔ کروڑوں کی آبادی میں رہتے ہوئے بھی ایک individualہوں۔ میں کسی لمبی کہانی کا ایک ایکٹ، ایک سین نہیں خود ایک مکمل کہانی ہوں۔ سو میں نظام کو تکلیف دیے بنا کہانی کو آگے نہیں چلا سکتا۔ پوری تاریخ کی کہانی مجھ پر آ کر رک گئی ہے اور یہ تھوڑا سا وقت جو میرے پاس ہے اس میں مجھے اس کہانی کو کسی بامعنی انجام تک پہنچانا ہے۔ ایک انسان، ایک زندگی کی کیا اہمیت ہے اتنے بڑے حیرت کدہ میں؟میری جستجو کا لا حاصل ہونا مجھے اداس رکھتا ہے۔

ہزاروں پتے میرے اردگرد سڑک پر بکھرے ہیں۔ جنہیں پہنچتے سرما کی ہوائیں ادھر سے ادھر اڑائے پھر رہی ہیں۔ رات خاموش ہے۔ رات بے نیاز ہے۔ اسے میرے دل میں مچے طوفانوں کی خبر نہیں۔ اس کائنات کی ہر شئے کی طرح سورج اپنے مقررہ وقت پر نکلتا ہے۔ بارش کے وقت اور مقام متعین ہیں۔ کوئی فرق نہیں پڑتا چاہے ایک پوری قوم ہاتھ اٹھائے دعا مانگ رہی ہو۔ ہم دعاؤں کی حقیقت کو جانتے ہیں پھر بھی ہم میں ملحد ترین شخص بھی کسی نہ کسی حد تک ان پر یقین رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ انسانیت بھی ہم سے بے پرواہ ہے۔ اپنے ہم نفسوں سے بھری دنیا میں یہ اجنبی اکیلا بیٹھا ہے۔

بہت دن ہوئے جب میں اپنا یقین، اپنا اعتماد کھو بیٹھا۔، مگر آج بھی کبھی کبھار میں نماز کے لئے کھڑا ہو جاتا ہوں، آج بھی قرآن پڑھتے میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، آج بھی شراب اور سور کے گوشت کو کھانے سے اجتناب میری زندگی کا حصہ ہے۔ ہاں اپنی تمام تر بے یقینی کے باوجود میں ایک مسلمان ہی ہوں۔ بہت دفعہ سوچا میں نے کہ یہ سب کھیل یقین کا ہی تو ہے۔ پھر جب یقین نہیں رہا تو خود پر اتنا جبر کر کر ایک بے پناہ بوجھ کو گھسیٹنے کا فائدہ؟

دو باتیں ہیں۔ پہلی تو یہ کہ اب یہ بوجھ گھسیٹنے کی عادت سی ہو گئی ہے مجھے اور دوسرا یہ کہ جیسے کوئی بہت ماہر تیراک نہیں ہے مگر اپنی سی کوشش میں ہاتھ پاؤں چلا رہا ہے۔ ایسے میں کوئی اسے سمجھاتا ہے کہ تمہارا تیرنے کا انداز غلط ہے۔ وہ بتانے والی کی بات کو سمجھتا ہے، اس پر یقین کرتا ہے اور کبھی وقت ملا تو اسے سیکھنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔ مگر اس ایک لمحے سے پہلے جب وہ صحیح طرح تیرنے کے قابل ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس ایک لمحہ سے پہلے وہ ہاتھ پاؤں مارنا چھوڑ نہیں سکتا۔۔۔۔ ورنہ وہ ڈوب جائے گا۔ صحیح خدا کی پہچان تک میں اس خدا کا دامن کیسے چھوڑ سکتا ہوں جو اب میرے پاس ہے۔ شاید سانس لئے بغیر کچھ لمحے جینا ممکن ہو مگر ایک خدا کے تصور کے بغیر کوئی سانس لینا بھی بھلا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟

شاید یہی تو ہو رہا ہے ہر جگہ۔ کوئی تضاد نہیں ہے۔ بس ہم لوگ اپنے اپنے سمندر میں تیر رہے ہیں۔ وہ کھلاڑی جو دیوانہ وار گیند کو ایک پوسٹ سے دوسری پوسٹ تک لے کر جا رہا ہے، وہ مزدور جو سورج کے ہر چکر کے ساتھ زمین پر اپنا پسینہ گرا رہا ہے۔ یہ سب لوگ انتظار میں ہی تو ہیں۔ جیسے ہی کسی دل میں گھنٹی بجتی ہے، جیسے ہی کسی آنکھ سے پردہ گرتا ہے وہ لبیک کہتا ہوا اس سمت چل دیتا ہے۔

میں ناکام ہوں کیونکہ دنیا کو کسی سوچنے والے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس سب کو اپنے اپنے سمندر میں surviveکرنا ہے۔ اس وقت تک جب نقارہ بج اٹھے۔ میرے جیسے لوگ جو وقت سے بہت پہلے پانی سے گردن نکالے کسی انتظار میں ہیں، انسانیت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ یہ ہمارا  نصیب ہے کہ کسی کونے میں سسکتے ہوئے دم توڑ جائیں۔ ایک لاحاصل زندگی کی طرح ایک بے معنی موت۔ انسانیت کی بڑی تصویر میں جس کی کوئی اہمیت نہیں۔ چھوٹے، معمولی اعشاری اعداد کی طرح  ہمیں round offکر دیا جائے گا۔ یہی ہمارا مقدر ہے کہ اپنے اپنے کونوں کھدروں سے کراہتے رہیں کیونکہ ہماری حیثیت ناقص مال کی سی ہے۔ ہماری پیدائش کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ہم تو بس ایک بن چاہی by productہیں۔ انہیں سوچنے والوں کی بھلا ضرورت ہی کیا ہے؟سر جھکانے والے غلاموں کی کھیپ تھی اور کچھ غلط ہو گیا اور ہم نے سوچنا شروع کر دیا۔ زندگی سے بھی بڑی چیزوں کے بارے میں۔ ہم نے اس سرحد پر پاؤں رکھ دیے جہاں صرف دیوتاؤں کی اجارہ داری تھی۔ کچھ عجب نہیں کہ ہر شئے ہمیں بیگانی نظر آتی ہے۔ کچھ عجب نہیں کہ ہم مکمل طور پر کھو چکے ہیں۔ مگر یہ عیب ہماری تخلیق میں ہے۔

سورج کی پہلی کرن نے اس بڑے پرانے گھر کے پیچھے سے چہرہ اٹھایا۔ میں انہیں سن سکتا ہوں، محسوس کر سکتا ہوں۔ وہ شور کرنے والے غلام بیدار ہو چکے ہیں۔ میرے حساس کان یہ سب برداشت نہیں کر پائیں گے۔ مجھے کسی اور کونے میں دبک جانا ہو گا شام ڈھلنے تک۔ کونا، جہاں مکمل تنہائی میں میں سوچ سکوں۔ کیونکہ سوچنا ہی ہے جو میں کر سکتا ہوں۔ جیسے کھلاڑی ایک پوسٹ سے دوسری تک گیند کو لے جاتے ہیں مجھے بھی اپنے خیالات کے گھوڑوں کو دوڑانا ہو گا۔ یہی میرا تیرنے کا طریقہ ہے۔ میں نہیں جانتا۔ کیا خبر ایک آواز، ایک مدھم سی گھنٹی  میرے جیسے لوگوں کے لئے بھی ہو؟کیا خبر کہ نفیر عام ہو جائے کہ مجھ جیسے راندۂ  درگاہ لوگوں کے لئے بھی کوئی نجات ہے؟ہاں مگر اس وقت تک مجھے اپنے سمندر میں ہی تیرنا ہو گا۔

٭٭٭