کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

چلو اور سمندر

سید اسد علی


مجھے مسیحائی کا دعوی کبھی نہ تھا پھر بھی عمر خوابوں کی نبضیں ٹٹولتے گذار دی۔ شاید میں وہ کچھ کھوجنا چاہتا تھا جو میرا نصیب، میرا مقدر نہیں تھا۔ کتنا عجیب تھا میں۔ سیپ کی سمٹائیوں میں سمٹا خود کو بیکراں سمندر کا سب سے با اختیار پرزہ سمجھتا تھا۔ میں نے کہیں پڑھا، کسی سے سنا نہیں مگر مجھے یقین تھا کہ میرا، صرف میرا اس تخلیق کار سے کوئی انوکھا رشتہ ہے۔ ایسا اٹوٹ رشتہ جس نے مجھے تصرف دے دیا اس کے سب شاہکاروں پر۔ ایسا تھا نہیں مگر مجھے لگتا تھا جیسے اس بھوری دھرتی اور نیلے آسماں کے بیچ میں سب سے اہم ہوں۔ آج نہیں تو کل کوئی بہت ماورائی طاقت مجھے خوابوں کے اس نگر میں پہنچا دے گی جس کا میں ایک بھٹکا ہوا شہزادہ ہوں۔ اور شہزادوں کی کہانیاں تو امید بھری ہوتی ہیں پھر میں بھلا نا امید کیسے ہو سکتا تھا؟

میں جب پہلی شام تمہارے شہر میں آیا تو ویگن کی ٹوٹی کھڑکی سے دھکے دیتی ہوئی ہوا کے بیچ جو پہلی آنکھ کھلی وہ حیران تھی۔ دور۔۔۔۔۔۔ نظر کی حد تک پھیلے روشنیوں کے اس نگر پر جس کی نجانے کونسی گلی بلکہ سڑک تمہارے گھر کے سامنے سے گزرتی تھی۔ میں اس اجنبی شہر میں کسی کو پہچانتا نہیں تھا مگر تمہیں جانتا تھا۔ ہاں جب نہر کنارے ویگن کی ایک لمبی بریک کے بعد میں سمٹا ہوا باہر نکلا اور جب پورے شہر کی خنکی شہد کی مکھیوں کی طرح مجھ پر جھپٹ پڑی تو میرے پھٹے سوئیٹر کے اندر تمہارا تصور تھا جو مجھے حرارت بخش رہا تھا۔ ہاسٹل کی لوڈ شیڈنگ سے بھری اس پہلی رات کو میں نے تمہاری روشنی میں اپنا پہلا سبق پڑھا۔ امید کا سبق۔ لوگ کہتے ہیں چراغ تلے اندھیرا ہوتا ہے۔ مگر میں تو روشنی میں تھا۔ تو کیا تم مجھ سے کچھ دور تھی؟

میں اس لمحے میں نہیں تھا جب دوریاں مجسم ہو سکتی ہوں۔ میں بے شمار جگنوؤں کے بیچ اڑتا بیوقوف پتنگا بھلا کیسے سوچ سکتا تھا کہ میں اندھیرا ہوں؟

اس خاموش رات میں تمہارے ساتھ رہا یہاں تک کہ سویرے گونجنے لگے۔ اپنا سب سے قیمتی جوڑا پہن کر یونیورسٹی گیا تو قدم لڑکھڑا رہے تھے۔ کچھ تو نئے جوتے کی نا موافقت بھی سہی مگر کچھ نشہ جسم پاتے خوابوں کا بھی تھا۔ ڈیپارٹمنٹ کے سامنے ہی میں نے تمہیں دیکھ لیا۔ ایک لمبی کار کی پچھلی نشست پر۔ بڑا عجیب سا آنسو میرے گالوں پر لڑھک آیا۔ جو عنوان تھا میرے قلاش ماضی کے دکھوں اور سہانے مستقبل کی خوشیوں کا۔ میں نے سب سے چھوٹی انگلی کو آنکھ کے کونوں میں گھمایا جیسے کوئی شئے، کوئی تنکا آن گرا ہو۔ اب کسے بتاتا کہ آنکھ سے بھی بڑے شہتیر کا آنسو تھا۔ کون یقین کرتا ہے ایسی عجیب باتوں کا؟

محبتوں کی کہانیاں لکھنے والے ایک نشے میں ہوتے ہیں مگر میں ہوش میں ہوں۔ شاید محبت تو میں نے کبھی کی ہی نہیں۔ تم تو میرے لئے بس ایک امید، ایک جادو کا چراغ تھی جو مجھے میرا مستقبل دے دے۔ مجھے میرے خوابوں نے کتنا خود غرض بنا دیا تھا کہ میں نے ایک جیتے جاگتے جسم سے نہیں اس سے بندھی تصورات کی ڈولتی پتنگ سے محبت کی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ لوٹی ہوئی پتنگیں سڑکوں پہ تار تار ہو جاتی ہیں۔ پھر آسمان میں اڑنا انہیں میسر نہیں ہوتا۔

پھر وہی کھیل شروع ہوا۔ بہت unfairاور دھوکوں سے بھرا۔ ایک ایسا کھیل جو سبھی کھیلتے ہیں (کچھ دیوانوں کا ذکر رہنے دو)۔ دودھیا جسموں کو بھنبھوڑنا چھوئی موئی سی نازک محبت سے بڑی حقیقت ہے۔ کیا لکھوں کہ کتنی شامیں نہر کنارے چوڑے فٹ پاتھ پر ساتھ ساتھ قدم اٹھاتے بے معنی، لا متناہی وعدے کرتے گذاریں۔ شطرنج کی اس بہت بڑی بساط پر یہ سوچ کر میں اپنی چالیں چلتا رہا کہ ابھی، بس ایک شہ مات کے بعد میدان ہاتھ میں ہو گا۔

کون سمجھاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟اس اجنبی شہر میں کون تھا میرا غمگسار؟کون بتاتا کہ یہ کھیل بہت سنسنی خیز سہی مگر اس میں ہم کھلاڑی نہیں مہرے ہیں۔ جو ایک کے بعد ایک پٹتا ہی چلا جاتا ہے۔ جیت سمیٹنے والے تو کہیں اور ہوتے ہیں۔ ہم بہت عجیب لوگ ہیں سرابوں کو جانتے ہیں، عذابوں کو محسوس کرتے ہیں اور پلکیں گرا کر خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ میری محبت فریب تھا، ڈھونگ تھا۔ مگر اس کے کمزور پردے میں بھی میں خود کو بڑا محفوظ سمجھتا تھا۔ مگر محفوظ کوئی نہیں ہوتا۔ گھنے جنگلوں کے بیچ چھپا درخت آتشدانوں کی پہنچ سے دور سہی مگر کیا وہ جنگل میں لگی آگ سے بچ سکتا ہے؟کیا وہ فنا سے بھاگ سکتا ہے؟

میں بہت غلط سہی مگر ایسا غلط بھی نہیں تھا۔ میں نے اس اذیت ناک طرز زندگی میں آنکھ کھولی جو تیسری دنیا کا تیسرا کونا ہے۔ ایک ایسا کونا جو بازار کے بہت سامنے ہے۔ ہم ایک شریف آدمی کا صبر کب تک آزما سکتے ہیں؟بڑی بڑی دکانوں پر کیک اور پیزے سجا کر باہر ان بھوکوں کو کھڑا کر دیا ہے سماج نے جن کے پاس خریدنے کو پیسے کبھی آتے ہی نہیں۔ بہت صبر ہوا۔ میرا باپ، دادا، پردادا خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے، دل کو اچھے وقت کے دلاسے دیتے شریف ہی چلے گئے۔ مگر جسے ضبط کیا وہ لاوا میرے اندر پھوٹ پڑا۔ کیا فرق پڑتا ہے ایک ارب پتی کے خزانوں میں اگر ایک لٹیرا اس سے چند کروڑ، چند لاکھ چھین لے؟کیوں نہیں وقف کر دیتے یہ سال میں ایک دن کی خوشیاں صرف غریبوں کے نام؟

میں کمزور، بے غیرت، بزدل انسان کہاں ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنا حق مانگتا۔ حق جو میرے پیدا کرنے والے نے انمٹ سیاہی سے میرے ہاتھوں کی لکیروں کی صورت رقم کر دیا تھا۔ میں اتنا ہی کمزور تھا کہ میں نے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ لیں کہ کہیں یہ لکیریں انہیں ڈرا نہ دیں۔ وہ مجھے باغی نہ سمجھ لیں اس لئے ڈرتا رہا۔ نسلوں تک تھر تھر کانپنے کے بعد میں نے ہمت کی اور اس گھر میں نقب لگائی جس میں میرا خزانہ بھرا تھا۔ اور میں کیا کرتا جب

 

تیرے گھر کا دروازہ

نوکیلے پتھر کا تھا

ایسا جس پر دستک دیں

تو ہاتھوں سے خون بہے

 

اور دیواریں

پھولوں کی تھیں

جنہیں روند بھی دیں

تو خوشبو پھوٹے

 

میں چور دروازے سے آیا اور کامیاب رہا۔ کوئی بیکار تفصیل نہیں لکھوں گا۔ ہاں مگر وہ آخری شام جو میں نے تمہارے ساتھ گذاری۔ ایک لا متناہی اعتماد کے ساتھ میں نے لینڈ کروزر دوراہے پر کھڑی کی۔ میرے کندھے سے سر ٹکائے تم نے خمار آلود نظروں سے مجھے دیکھا۔

’’رک کیوں گئے؟‘‘

’’بہت اچھا وقت گذارا ہے ہم نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قہقہوں سے بھرپور۔ کیوں نہ آج اس وقت کو preserveکر لیں، حنوط کر لیں کسی شیشے کے کیس میں تاکہ کسی آنے والے پل میں ہم اسے یاد رکھ سکیں۔ ‘‘میں نے کہا۔

’’نہیں ہم اسے زندہ رکھیں گے، تاکہ آنے والے ایسے اور پل تراش سکیں۔ ‘‘تمہارا لہجہ عاشقانہ تھا۔

’’تم نے شاید ہسپتالوں میں کھانستے بوڑھے نہیں دیکھے، جنہیں میڈیکل سائنس کچھ سانسیں تو اور دے سکتی ہے مگر زندگی نہیں۔ مردہ ہوتے ہوئے جسموں کو جھنجھوڑنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہیں عزت سے دفن کر دینا چاہیے۔ ‘‘میرے انداز میں نسلوں کا انتقام تھا۔

’’یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو؟‘‘

’’اس شہر با مراد میں آنے کے بعد آج پہلی بار سچ بول رہا ہوں۔ چھت پر پہنچ جانے کے بعد اب مجھ سے سیڑھی اٹھائے اٹھائے پھرنے کی ضد نہ کرو۔ ‘‘

’’تو کیا ہوئے وہ خواب جو ہم نے اکھٹے تراشے، وہ مستقبل جو ہم دونوں کا تھا؟‘‘

’’خواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خواب کوئی حق نہیں ہوتے۔ یہ تو پانچ ارب انسان صبح شام دیکھتے ہیں۔ مگر ان کی کرچیاں ہونے پر کوئی عدالتوں میں نہیں چلا جاتا۔ تم نے اس عہد بے اعتبار  کے خوابوں پر یقین کر لیا جو بکتے ضرور ہیں مگر ان کے خریدار بیوقوف ہوتے ہیں یا پھر قلاش جو اپنی زندگی کے مول پر انہیں خرید لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور مستقبل کوئی نہیں ہوتا کہ کل ہم سب مر جائیں گے۔ ‘‘

’’کیا بگاڑا تھا میں نے تمہارا۔ تمہیں چھت پر پہنچنے کے لئے سیڑھی چاہیے تھی نہ اور تم نے مجھے گرا کر سیڑھی بنا لیا۔ یہ سوچے بنا کہ میرا کیا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔ کاش کہ تم نے مجھ سے مانگ کے دیکھا ہوتا۔ خدا کی قسم میں اپنی ساری دولت تجھے دے دیتی اور دعا بھی کہ سیراب ہو جاؤ۔ محبت کرنے والے پر اتنا اعتبار تو کیا ہوتا۔ ‘‘

میں تمہارے آنسوں سے نہیں پگھلا، مجھ پر اثر تمہاری آہوں کا نہیں ہوا کہ یہ تو نتیجہ تھا ٹھکرائے جانے کا۔ اگر میرے ساتھ ایسا ہوتا تو میں بھی یہی کرتا مگر تم مجھ سے محبت کرتی تھی یہ سوچنا مشکل تھا۔ کون بیوقوف کرتا ہے آج کے دور میں محبت۔ تم کہیں چلی گئی اور کچھ دنوں کے بعد مجھے تمہارا خط ملا جس میں صرف ایک جملہ لکھا تھا

’’محبت ٹھنڈے پانی کا ایک چلو اور دولت نمکین سمندر ہے۔ سوچ لو تمہاری پاگل ہوتی ہوئی تشنگی تمہیں کسی سراب کو تو نہیں لے جا رہی‘‘

پتہ نہیں کہ تم اب کہاں ہو؟ مگر میں اب کہیں نہیں ہوں۔ میرے ہونٹوں پہ پیڑیاں جم چکی ہیں۔ میں بہت پیاسا ہوں۔ سوچتا ہوں کہ کہیں واپس چلا جاؤں مگر وہاں بھی اگر وہ چلو سوکھ گیا ہوا، تو ماضی کے اس تصور سے جو شبنم سی ہر صبح میرے من پہ اترتی ہے وہ سوکھ جائے گی اور میںا تھاہ پانیوں میں پیاسا مر جاؤں گا۔

میں وہاں نہیں جاتا۔ میں کہیں نہیں جاتا۔ بس اپنے خشک ہونٹوں اور بے آواز کراہوں سے اس لمحے کا ماتم کرتا ہوں جس نے زندگی کی قیمت پر پھر ایک قلاش کو خواب بیچ دیا۔

ہم الم نصیبوں، جگر فگاروں کو صبح نہیں ملے گی جب تک ہم اپنی آنکھوں کی سیاہ پتلیوں سے نقرئی خواب اتار نہیں پھینکتے۔ مگر زندگی کی قیمت پر خواب خریدنے والے بیوقوف ایسا کبھی نہ کر سکیں گے۔

٭٭٭