کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

مقدس قبروں کے مجاور

سید اسد علی


یہ شائد ایک سانحہ تھا کیونکہ میں بہت سہم سا گیا تھا۔ میرا گماں مبہم اس لئے ہے کہ میں ایک عہد بے یقین میں رہتا ہوں۔ ایک ایسے دور میں جہاں الفاظ بے حرمت اور سچائی بے وقعت ہے۔ مجھے جینے کے لئے وہ وقت ملا ہے جب سڑک کے ہر دوسرے چوک پر جامہ تلاشی دینی پڑتی ہے۔ جہاں لائبریری میں جانے کے لئے کسی فرسٹ کلاس آفیسر کی ضمانت چاہیے ہوتی ہے۔ جہاں پینشن لینے کے لئے ڈاکٹر سے زندگی کا سرٹیفیکیٹ بنوانا پڑتا ہے۔ ہم ایک ایسی نسل ہیں جو ضمانتوں پر جی رہے ہیں۔

بات دور نہیں نکلے اس لئے اگرچہ میرے پاس کوئی ٹھوس ثبوت تو نہیں ہے مگر کیونکہ مجھے دکھ کا شائبہ تھا اس لئے میں رونے لگا۔ یہ نہ سمجھو کہ میری آنکھوں سے بڑے بڑے آنسو ٹپکنے لگے کہ بڑے دھوکے باز ہوتے ہیں یہ آنسو تو۔ بس میرے اندر کوئی شئے گھلنے لگی۔ میں کیا کرتا میری محبت مر گئی تھی؟اس لئے کہ محبت کی لاش گلنے سڑنے نہ لگے میں نے اسے اپنے گھر کے پچھواڑے میں دفن کر دیا۔ بس یونہی امانتاً۔ سوچا کہ کوئی اچھی سی جگہ ڈھونڈھ کر منتقل کر دوں گا۔ رات تو بڑی آسانی سے گزر گئی(اگرچہ مجھے اس کے گزرنے کا بھی یقیں نہیں ہے)۔

روشنی کی پہلی کرن جب اس قبر پر پڑی تو مجھے کوٹ پتلون میں اپنا سانس گھٹتا ہوا محسوس ہوا۔ نجانے کہاں سے میرے کمرے میں ایک سبز چولا آ گیا اور بڑی بے خودی میں میں نے اسے پہن لیا۔ پہنتے ہی یوں لگا جیسے گنجان آباد شہر کی آلودہ فضا سے نکل کر کسی گاؤں میں آ گیا ہوں۔ لمبے لمبے سانس لئے اور اس لمحے کی ساری راحت اپنی پور پور میں پہنچانے کی کوشش کرنے لگا۔ کمرے  سے نکل کر کہیں گیا، لوٹا تو ہاتھ میں کچھ اگر بتیاں اور چراغ تھے۔ پہلے قبر پر جھاڑو لگایا اور پھر چند اگر بتیاں سلگا دیں۔ مجھے بہت سکون ملا۔

بہت دن گذر گئے۔ میری شیو بڑھ گئی، بالوں کی لٹیں بن گئیں، کپڑے پھٹنے لگے۔ کوئی دیکھتا تو یہی سمجھتا کہ میں اس بھولی بسری قبر کا مجاور ہوں۔ آخر کب تک میں اس قبر پر بیٹھا رہوں گا؟میں نے خود سے بہت پوچھا مگر کوئی جواب نہ ملا۔ ایسے سوالوں کے جواب خود سے ملا بھی نہیں کرتے۔ سوچا کسی دوسرے سے پوچھتا ہوں۔ اس لئے گھر سے نکلا۔ نکڑ پر ایک پان والے کے پاس کھڑا ہو گیا جو ہنس ہنس کر گلوریاں بنا رہا تھا۔

’’سنو !  میری محبت مر گئی ہے۔ بہت دن سے میں سوگ میں تھا مگر اب ہنسنا چاہتا ہوں۔ مجھے ہنساؤ کوئی ایسا قہقہ جو جاودانی ہو۔ ‘ میں نے اس سے کہا

’’قہقہے تو پانی کے بلبلوں کی طرح ہوتے ہیں۔ لمحوں میں ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں اور یہ مت پوچھو کہ ٹوٹ کر بکھرنے کا کرب کتنا ہوتا ہے؟تمہاری محبت تو اس آئینے کی ایک کرچی ہے جس نے ہی تمہیں لہو لہان کر دیا۔ ‘‘

’’پھر تم کیسے ہنستے ہو؟‘‘

’’میں بہت روتا ہوں۔۔۔ مگر رات کو۔ رات سمجھتے ہو نہ۔ جب دیکھنے والی آنکھیں سو جائیں اور منظر جاگ جائیں۔ میں اس لئے ہنستا ہوں کہ رات کو رو سکوں۔ اتنا کہ سو نہ سکوں اور وہ منظر دیکھ لوں جب نظارے جاگتے ہیں۔ ‘‘

میں اس سے بہت کچھ کہتا مگر وہ ایک بڑا قہقہہ مار کر دوسری طرف متوجہ ہو گیا۔ موٹی توند والے کسی دکاندار کو ایک گلوری دینا جسے وہ اپنے ادھ کھائے دانتوں کے بیچ رکھ کر پچکاریاں مارتا پھرے، واقعی ایسا گناہ ہے جس کی پاداش میں راتوں کو کیا صدیوں تک رویا جا سکتا ہے۔

 

پھر چل پڑا۔ سوچا کہ کسی دوسرے سیانے سے رونے کا راز بھی پوچھ لوں اور پھر گھر چل کر جاگتے منظر دیکھتا ہوں۔ کیا دیکھتا ہوں کہ دو جلاد صورت آدمی ایک منحنی سے شخص کو موٹی موٹی زنجیروں میں باندھ کر ایک میدان میں گھسیٹ رہے ہیں اور وہ رو رہا ہے، چیختا ہے، چلا رہا ہے۔ جلادوں نے اسے بیچ میدان ایک چبوترے پر پٹخ دیا۔ ایک مجمع اکھٹا ہو گیا۔ جلاد اس سے دور ہو کر کھسر پھسر کرنے لگے اور وہ دھاڑیں مار کر روتا رہا۔

’’کیا ماجرا ہے؟ کہ تو دن میں رو رہا ہے جب منظر ابھی نیند سے جاگے نہیں۔ ‘‘میں نے اس کے قریب ہو کر سرگوشی کے انداز میں پوچھا۔

’’یہ آنسو کسی شاہ کا تاج محل نہیں جسے سوچا اور تعمیر کروا لیا۔ یہ تو غریب کا نصیب ہیں جو موت کی طرح اٹل ہے۔ ‘‘

’’مجھے بھی رونا سکھا دو‘‘

’’کیا کرو گے رو کر؟رونے سے حقیقت دھندلا جاتی ہے اور خواب اتنے شفاف ہو جاتے ہیں کہ دل انہیں چھونے کو مچلنے لگتا ہے۔ مت رونا۔ کسی کے حال پر مت رونا ورنہ عمر بھر سرابوں کے پیچھے بھاگ کر یہ انجام ہو گا جو میرا ہے۔ تم ہنسا کرو، بہت ہنسا کرو، قہقہے لگایا کرو۔ ‘‘

’’وہ قہقہے جو پانی کے بلبلوں کی طرح بکھر جاتے ہیں؟‘‘

’’کرنے کو کچھ نہ ہو تو بلبلوں کا کھیل ایسا برا بھی نہیں ‘‘

مجھے وہاں سے جانا پڑا کیونکہ کھسر پھسر کرنے والے جلاد واپس آ گئے تھے اور پھر سے اس شخص کی کراہیں گونجنے لگیں جو سراب چھونا چاہتا تھا۔ میں ہجوم چیرتا ہوا باہر آ گیا۔

بے یقین معاشروں میں ہر کارخانے، ہر یونیورسٹی سے ایک ہی کھیپ نکلتی ہے سوالوں کی کھیپ اور نہیں ملتے تو ان کے جواب۔

یہ میں کہاں آ گیا؟میں تو گھر سے نکلا تھا بس یہ دیکھنے کہ محبت کے بعد زمین کیسی لگتی ہے؟بس یونہی چلتا رہا تاکہ کہیں د ور نکل جاؤں۔ یوں لگتا تھا جیسے سڑکوں پر سوگواری کی صفیں بچھائی جا رہی ہوں  اور میں کچھ دیر بھی ٹھہرا تو رات کا آسیب مجھے اپنی بانہوں میں جکڑ لے گا۔ اس طرح کہ سانس یہ زندگی کی آخری علامت بھی کہیں دب کے رہ جائے گی۔ ‘‘

میں چلتا رہا کسی گھر کی روشن کھڑکی سے چھنکتے قہقہوں کے باوجود۔

ایسے میں ایک سفید کار میرے قریب آہستہ آہستہ کھسکنے لگی جس میں سفید کنپٹیوں والا ایک خوش مزاج چہرہ میری طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔

’’مجھے کہیں نہیں جانا۔ ‘‘میں جھلا کر بولا۔

’’ایسا لگتا ہے مگر جسم وجاں کی رات سے پہلے یہ قدم سات نگر گھومتے ہیں جیسے بلی کے بچے سات گھر۔ ‘‘

’’پتہ نہیں ‘‘

’’ایسا ہوتا ہے مگر شعور کے پہلے خواب سے پہلے بھی شعور تو ہوتا ہے۔ ‘‘

’’میں یہاں زندگی کے فلسفوں پر بحث کرنے نہیں آیا۔ مجھے زمین کے رنگ دیکھنے ہیں آج۔ ‘‘میں نے اکتا کر کہا۔

’’اتنی گھنی شام میں رنگ دیکھنے نکلے ہو۔ ‘‘

’’کچھ لوگ ایسے بھی تو ہوتے ہیں جن کے نصیب میں کوئی روشنی نہیں ہوتی۔ تو کیا وہ اندھیروں میں بھی کوئی پیکر نہ تراشیں جہاں نظر ٹھہر سکے۔ ‘‘

’’بیٹھ جاؤ ! یہ موٹر تمہیں تم سے شاید کچھ دور لے جائے، جہاں تم تھوڑی آسانی سے سانس لے سکو۔ آخر ہم سب کو کبھی نہ کبھی کچھ  وقت خود سے دور گذارنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ‘‘

میں نے مزید کچھ سوچنے کی بجائے کار کا دروازہ کھولا اور بیٹھ گیا۔ کشادہ سڑک پر کار کھسکنے لگی۔

’’بس ایک لڑکی کی ہی بات ہے نہ۔ ‘‘اس کا لہجہ ہمدردانہ تھا۔

’’وہ ایک لڑکی نہیں تھی۔ پوری کائنات تھی جس میں میں سانس لیتا تھا۔ مجھے اب ایسا لگتا ہے کہ میں کسی بہت اونچی چوٹی پر کھڑا ہوں اور سانس لینے کو ہوا مجھے حاصل نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں معلوم ہے میں نے اسے کتنا چاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اتنا کہ جسم کے تقاضے مانند پڑ گئے۔ اتنا کہ روح کے سوالات دب سے گئے۔ اتنا جتنا کوئی خود کو بھی نہیں چاہ سکتا۔ ‘‘

’’کیوں چھوڑا اس نے تمہیں؟‘‘

’’کیوں چھوڑتا ہے کوئی کسی کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟بس اس لئے کہ وہ دوسرے کی ضرورت نہیں ہوتا۔ اس نے مجھے چھوڑ دیا مگر سانس لینا نہیں چھوڑا، عجیب بات ہے نہ کہ وہ سونے کے بنے خواب آنکھوں سے نوچ کر پھینک سکتی ہے مگر پلکیں جھپکانا نہیں چھوڑ سکتی۔ میری بدقسمتی کہ میں اس کا عاشق، اس کا محبوب، اس کا غمگسار سب کچھ بنا مگر اس کی ضرورت نہ بن سکا۔ اگرچہ یہ بہت آسان تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر محبت کوئی پنجرہ تو نہیں ہوتی کہ کوئی خوش رنگ پنچھی اس میں قید کر لیا جائے۔ محبت تو ان پروں کی مانند ہے جن سے کوئی دیوانہ اس ارضی دنیا کی تمام حدوں کو چیر جاتا ہے۔ محبت تو اک اِذن ہے ہمیشہ آزاد  رہنے کا۔ ‘‘

’’پھر کیا ہوا؟‘‘

’’پھر یہ کہ محبت مر گئی۔ وہ میری زندگی سے چلی گئی۔ مگر بات اتنی ہوتی تو شاید ختم ہو جاتی مگر وہ میرے کمرے میں محبت کی ایک مقدس لاش چھوڑ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اس کا کیا کرتا؟‘‘

’’بہت کچھ ہو سکتا ہے اب بھی۔ ‘‘

’’اب کچھ ممکن نہیں۔ جب میری محبت کا بے روح جسم  میرے سامنے پڑا تھا تو میری آنکھوں میں کوئی آنسو نہ تھا۔ میں نے صرف اس خوف سے کہ جسم گل سڑ نہ جائے اپنے کمرے کے پچھواڑے میں ایک قبر بنا دی۔ اور اب اوس میں بھیگی ہر صبح میں وہاں جھاڑو دیتا ہوں اور گرد میں لپٹی ہر شام دیے جلاتا ہوں۔ مجاور ختم ہو جاتے ہیں قبریں ختم نہیں ہوتیں۔ اب میرا کچھ نہیں ہو سکتا۔ ‘‘

اس نے بہت بے بسی سے میری طرف دیکھا۔

’’ہم میں سے ہر کوئی کسی قبر کا مجاور ہے۔ مجھے دیکھو میں نے کبھی کسی سے محبت نہیں کی۔ باپ نے جس لڑکی سے رشتہ کیا خامشی سے شادی رچا لی۔ پہلے ہی دن مجھے خبر ہو گئی کہ ہم بہت مختلف راستوں کے لوگ ہیں اور آج بیس سال کے ہو گئے ہم دونوں ایک پر ہجوم راستے پر چل رہے ہیں کچھ اس طرح کہ ہماری آنکھیں راہ فرار ڈھونڈتی ہیں جو ممکن نہیں۔ ہم اپنے مردہ احساسات کی قبر کے پجاری ہیں۔ جانتے ہیں کہ مرنے والے پھر نہیں آتے مگر پکار رہے ہیں ہم اس احساس کو جو پیدا ہونے سے پہلے ہی مر گیا تھا۔ دنیا کے سامنے ہم ایک ہنس مکھ جوڑا ہیں، زندگی سے بھرپور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اندر سے ہم وہی ہیں مردوں کو جھنجھوڑتے مجاور۔ ‘‘اس نے کہا۔

’’کتنی عجیب بات ہے کہ مجھے فرقت کا غم ہے اور تمہیں قربت کا دکھ‘‘

اس نے اداس انداز میں کھڑکی سے باہر دیکھا اور بے خیالی سے بولا

’’مجھے بہت دفعہ لگتا ہے کہ میرا سانس گھٹ رہا ہے مگر سوچتا ہوں کہ اگر میں مر گیا تو یہ دنیا والے میری بھی قبر بنا دیں گے اور میں اپنی اذیت میں کسی اور کو نہیں دیکھنا چاہتا۔ ‘‘

اس نے گاڑی روک دی اور کچھ کہا نہیں مگر میں سمجھ گیا کہ مجھے اتر جانا ہے۔ میں نے باہر نکل کر دروازہ بند کیا اور اندر جھانک کر کہا۔

’’میں نے تمہیں آزردہ کیا۔ آئندہ تم ویران سڑکوں پر گاڑی کھڑی نہیں کرنا۔ کسی بڑی پر رونق مارکیٹ میں چلے جانا جہاں قہقہے مل سکیں۔ کھنکتے قہقہے۔ ‘‘

’’وہ قہقہے جو پانی کے بلبلوں کی طرح پھٹ جاتے ہیں چند لمحوں میں۔ ‘‘اس نے پوچھا۔

’’جب زندگی کا اعتبار بلبلے کی سانسوں سے تھوڑا ہو تو یہ کھیل ایسا برا بھی نہیں۔ ‘‘

میں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا چل پڑا کہیں واپس کہ شاید میری قبر کے چراغ بجھ نہ رہے ہوں۔ چلتا رہا بہت دیر تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنی دیر تک کہ یہ رات، وہ ہمسفر زندہ حقیقت کی بجائے ایک یاد، ایک قبر بن کر رہ گئے۔

٭٭٭