کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

شیشے بیچنے والا

سید اسد علی


چھوٹے سے شہر کی ایک چھوٹی سی دکان سے ایک چھوٹے سے گھر کا راستہ تھا۔ وہ ہلکے ہلکے گنگناتا، ٹہلنے کے انداز میں اس پر چلا جا رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک تھکن(جو لمبے سفر کا حاصل ہوتی ہے) اور ایک آسودگی (جیسے کڑک سردی میں کوئی کمبل لپیٹ لے) تھی۔

’’سنبل‘‘

ایک نام نہیں، ایک عورت نہیں، ایک چھوٹی سی دنیا تھی۔ جس میں یہ چاند، زمین، خواب، تلے ہوئے بٹیر، مصر کے اہرام سب رہتے تھے۔ اسے آج بھی یاد تھا وہ دن جب پہلی بار اس نے سنبل کو دیکھا۔ بڑی بڑی آنکھوں والی وہ لڑکی جس کے ہونٹ گہرے سرخ تھے اور جس کی رنگت اتنی سفید تھی جیسے راج ہنس۔ جو چلتی تھی تو اس  غرور کے ساتھ جیسے اسے منزلوں کی خبر ہو اور۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جس کے بارے میں کہنے کو تو بہت کچھ ہے مگر جو اتنی بے وقوف تھی کہ اس جیسے بے رنگ، عام سے نوجوان کو خود کی طرف دیکھتا پا کر غصے سے جھلانے کی بجائے اسے اپنا دل دے بیٹھی۔ اور جو بہت با وفا تھی۔ جس نے اس سے کبھی کچھ نہیں مانگا۔ نہ بڑا گھر، نہ کوئی آسائش اور نہ ہی اولاد۔ اور جس نے اس کے چھوٹے سے گھر اور بے کیف زندگی کو ایک دنیا بنا ڈالا تھا۔ جس میں چاند، زمین، خواب، تلے ہوئے بٹیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب رہتے تھے۔

سنبل کے بارے میں سوچ کر اس کے دل میں سرشاری سی امڈ آئی۔ اور اس کی گرم بانہوں کے تصور نے ایک وارفتگی کے عالم میں اسے اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیا۔ گھر کی چوکھٹ پر پہنچا تو سب کچھ اجنبی سا تھا۔ شادی کے ان بیس سالوں میں آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ وہ گھر لوٹا تو دروازے کی درز سے جھانکتی دو آنکھیں اسے نہیں ملیں۔ وہ تیز تیز قدم اٹھانے لگا۔۔۔۔۔۔ اچانک اسے کچھ یاد آیا اور وہ جھنجھلا گیا۔ ابھی کل شام ہی تو سنبل نے اس سے پہلی مرتبہ اکیلے اپنی ماں کی طرف جانے کی اجازت مانگی تھی۔ اور اس نے کتنی خوشدلی سے اجازت دے بھی دی تھی۔ پھر وہ بھلا کیوں درز کے پیچھے دو آنکھیں ڈھونڈ رہا تھا۔

وہ دروازے کے قریب ہوا۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ کاش اس کی یادداشت اسے دھوکہ دے رہی ہو اور سنبل وہیں ہو۔ کہیں کچن میں یا بیڈ روم میں۔ مگر دروازے پر موٹا سا تالا پڑا تھا۔

اس نے سر کو مایوسی کے عالم میں جھٹکا اور لگا جیب میں چابیوں کو تلاش کرنے۔ مگر کہاں؟وہ دکان سے چابیاں لے کر چلا ہی کہاں تھا۔ اب کیا کیا جائے؟

اس وقت کہاں جاؤں؟

’’خیر ایک رات ہی تو ہے!دکان  میں سو جاتا ہوں۔ اب کون اتنی دور جا کر چابیاں لے کر آئے۔ ‘‘

یہ سوچ کر وہ  واپس گھوم گیا۔

آج جیسے یہ کوئی نیا راستہ تھا۔ ویران، خاموش اور پر اسرار سا۔ صبح کو تو کتنے لوگ ہوتے تھے۔ سب کے سب جلدی میں۔ نیم خوابیدہ  سے، سوجی آنکھوں والے۔ وہ چلتا رہا۔ راستے میں ایک ہوٹل پر بیٹھ کر کھانا کھایا۔ گلی کی نکڑ پر کھڑے کتے کو دیکھ کر ذرا سا جھجکا، مگر پھر جی مضبوط کر کر گذر گیا۔ ایک گھر کے پاس سے گزرتے ہوئے اس نے کسی عورت کے چلانے کی آواز سنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس اور کوئی خاص واقعہ نہیں ہوا  اس واپسی کے سفر میں۔ دکان کے قریب پہنچا تو ایک عجیب سا احساس ہواجیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے اکیلے گھر میں کسی ان دیکھے بھوت کا احساس۔ قطرہ قطرہ منجمد ہوتا ہوا لہو، دریا دریا پھیلتا ہوا خوف۔ ٹھٹھکتے قدموں، تیز ہوتی ہوئی سانسوں اور گھومتی ہوئی نظروں کے بیچ کسی کو نہ پانے کا کرب۔ یہ سب اس کے لئے نیا تھا۔ اس ایک زندگی سے باہر جو سنبل تھی ایک اور دنیا بھی تھی۔ اس کی اور اس کے شیشوں کی دنیا۔ اس کی دکان میں ہر قسم کا شیشہ تھا۔ چھوٹے جیبی آئینے سے لے کر بڑے سنگھار میز کے شیشے تک سبھی وہاں تھے۔ وہ سارا دن، سارا سال، تمام عمر اپنے لا تعداد عکس اپنے گرد گھومتے دیکھتا رہا۔ مگر ایسا احساس کبھی نہیں ہوا تھا۔ واقعی رات اور تنہائی ہر چیز کو بہت مختلف کر دیتے ہیں۔

آخر کب تک وہیں ششدر کھڑا رہتا۔ وہ آگے بڑھا۔ ایک جھجک کے ساتھ۔ بالکل ویسے ہی جیسے کسی کا دوست اسے نقاب لگا کر، ہاتھوں میں بندوق لئے  ڈرائے اور وہ اپنے دوست کی کسی حرکت کو پہچان کر اس کا نقاب اتارنے کو آگے بڑھے۔ ایک یقین، ایک اعتماد اور تھوڑی سی بے یقینی کے ساتھ۔ اس نے قریب جا کر شٹر کے ساتھ کان لگا دیے۔ اندر سے عجیب سی آوازیں آ رہی تھیں۔ مدھم، ہلکی سی، مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی سی آوازیں۔ آوازیں جیسے کوئی دھیمے دھیمے چل رہا ہو، جیسے بہت سے سر ساتھ ساتھ جڑے سرگوشیاں کر رہے ہوں۔

کون ہو سکتا تھا؟اس نے آہستگی سے شٹر کا تالہ کھولا۔ پھر یکدم اس نے ایک جھٹکے سے شٹر اٹھا دیا۔ کمرے میں ایک بھگدڑ سی مچ گئی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر لائیٹ آن کر دی۔ کمرے میں لاتعداد عکس تھے۔ چھوٹے بالشت بھر کے، بڑے اس کے قد کے برابر اور سب بالکل اسی کی شکل و صورت کے۔ پھر سبھی جلدی جلدی اپنی اپنی جسامت کے مطابق آئینوں میں گھس گئے۔ یہ صرف ایک لمحہ ہی تھا۔ اب ہر چیز اپنے معمول کے مطابق تھی۔ خاموش، ویران، بے کیف سی۔ کتنے رنگ ہماری زندگی میں بکھر نہیں پاتے کہ انہیں دیکھنے کے سمے ہماری آنکھیں بند ہوتی ہیں۔ کتنے ہنگامے زندگی کی بے کیفی کا سحر توڑنے  کی طاقت رکھتے ہیں مگر ہم ان کا ادراک ہی نہیں کر پاتے۔

تھوڑی دیر وہ بت بنا کھڑا رہا۔ پھر اس نے شٹر گرا دیا اور تھکے تھکے قدم اٹھاتا اپنی کرسی پر جا گرا۔ سامنے وہی سالخوردہ میز تھی جس کے ایک پاؤں ٹوٹنے پر اس نے اینٹ رکھی ہوئی تھی۔ اتنی بے احتیاطی سے کہ ذرا سا  وزن پڑنے پر میز گویا گر جاتی۔ یہ میز بہت پرانی تھی اور اینٹ بھی۔

اسے یاد تھا وہ دن جب میز بھی اس کی طرح جوان اور شفاف تھی۔ بالکل نئے چمکتے سکے کی طرح۔  وہ اس میز کا پہلا دن تھا۔ دکان اس کی وجہ سے کچھ اور چمک رہی تھی۔ پھر منظر بدلا اور وہ سر جھکائے یہیں اسی میز کنارے آ کھڑا ہوا۔ اس کے باپ کے ہاتھوں میں اخبار تھا جس میں اس کا ریزلٹ چھپا تھا۔ وہ فیل ہو گیا تھا۔

اور فیل کون نہیں ہوتا؟زندگی میں کبھی نہ کبھی ہر کوئی ہوتا ہے مگر وہ دن اتنا مہربان نہیں تھا کہ اس کے سینے پر کوئی زخم چھوڑے بنا گزر جاتا۔ اس کا باپ اپنی کرسی سے اٹھا۔ ایک زوردار ٹھوکر نئی نویلی میز کو لگائی جس سے میز کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ میز ایک طرف کو جھک گئی۔ اس پر رکھا پانی کا گلاس گر کر ٹوٹ گیا۔ وہ آگے بڑھا۔ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر اس کا باپ ہاتھ جھٹک کر باہر نکل گیا۔

وہ شام تک باپ کی راہ دیکھتا رہا۔ پھر کہیں سے ایک اینٹ لا کر اس نے میز کو سیدھا کیا، ٹوٹے شیشے اکھٹے کر کر باہر پھینکے، روشنیاں بجھائیں اور شٹر گرا کر گھر کی طرف چل دیا۔ اس کا باپ گھر پر تھا۔ گھر پہ ہی رہا۔ ایک دن وہیں سے قبرستان پہنچ گیا۔ اور وہ جسے اس کے باپ نے شدید غصے کے باوجود ایک لفظ بھی نہ کہا تھا، ہر رات اپنے گناہ کی صلیب اٹھائے گھر کو لوٹتا۔ کتنی بڑی سزا ملی تھی اس کو کہ اس کے کام، اس کی عبادت کو ہی اس کی بیگار بنا دیا تھا۔ جیسے سمندر کے بیچ تیرتی مچھلی سے کہ دیا جائے کہ یہ سمندر تیرا زنداں ہے۔ کتنا چھوٹا لگنے لگے گا اسے ان بیکراں پانیوں کا سلسلہ؟کتنا دم گھٹے گا اس کا؟اس کا بھی دم گھٹا مگر وہ کھلا آسماں جس میں وہ سانس لیتا رہا۔

اسے مایوس، اداس اور دکھی دیکھ کر قد آدم آئینے سے ایک عکس نکلا۔ بالکل اس جیسا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا اس کے قریب آ رہا تھا۔ ایسے میں باقی سب آئینوں سے بھی عکس جھانکنے لگے۔ کچھ نے تو ایک قدم باہر بھی رکھ دیا۔ وہ بڑے والا عکس اس کے قریب آیا اور بڑی احتیاط سے میز پر بیٹھ گیا۔ اتنی آہستگی سے کہ اینٹ نہ سرک جائے۔ پھر ایک مدھم بھنبھناتی ہوئی آواز میں کہنے لگا

’’بہت سال ہوئے، میں نے تجھے کبھی اتنا اداس نہیں دیکھا۔ ‘‘

’’میں اداس اس لئے ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔

کہ میں اپنے خواب پورے نہیں کر سکا۔۔۔۔۔۔۔۔

اور اس لئے کہ سنبل نہیں ہے۔ وہ دنیا نہیں ہے جس میں میں سب کچھ بھول جاتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس لئے کہ میں یہاں، رات گئے احمقوں کی طرح تم سے باتیں کر رہا ہوں۔ ‘‘اس نے جھلا کر کہا۔

’’بہت لمبا راستہ ہے۔ تم اس پر کب تک آنکھیں بند کر کر چلو گے۔ کب تک ایک خواب ایک محبت کے لئے ساری حقیقتوں کو جھٹلاتے رہو گے۔ ایک گناہ کے ڈر سے تم نے نئی سمت میں قدم ہی نہیں اٹھایا۔ فیل کون نہیں ہوتا۔ مگر اس خوف سے کوئی امتحان میں بیٹھنا بند نہیں کر دیتا۔ یہاں کامیابی غلطیوں سے مطلق بچنے کا نام نہیں بلکہ مسلسل قدم اٹھا نے کا نام ہے۔ ‘‘

’’مجھے پرواہ نہیں ہے اور سنو۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید لوگ دیکھتے ہوں گے اور بولتے ہوں گے تنہائی میں اپنے عکس سے اور بھینچ کر سینے سے لگا لیتے ہوں گے سناٹوں کے خوف سے تم کو۔ مگر میں ایسا نہیں کر سکتا۔ میں اتنا بڑا اداکار نہیں ہوں۔ اگر دنیا نے جان لیا تو لوگ مجھے پاگل خانے لے جائیں گے۔ ‘‘

عکس کے چہرے پر مایوسی پھیل گئی۔ ’’میرے ساتھ چلو۔ جہاں امکانات کے دریا بہتے ہیں۔ میں تمہیں دکھاؤں گا کہ زندگی کا مقصد کیا ہے؟‘‘

’’نہیں۔۔۔۔۔۔ خاموش رہو۔ مجھے مت کہو کہ تم میرے لئے کیا کر سکتے ہو؟کیونکہ مجھے کچھ کرنا ہی نہیں۔ مجھے بس زندہ رہنا ہے دنیا میں ایک عام آدمی کی طرح اور محسوس کرنا ہے بس اتنا، جتنا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سانس لینے کے لئے معجزوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور جو سانس لینے کے لئے زندہ رہتا ہے۔ وہ ہی بس سکھی رہ سکتا ہے۔ ‘‘

عکس شاید ابھی کچھ بولنا چاہتا تھا مگر پھر لاحاصل جان کر مایوسی کے انداز میں چلتا اپنے آئینے میں گھس گیا۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ سب جھانکنے والے بھی چلے گئے۔ اب وہ پھر سے اکیلا تھا۔ اس نے احتیاط سے میز پر سر رکھا اور آنکھیں موند لیں۔

وہ نجانے کب تک پڑا سوتا رہتا کہ شٹر اٹھنے کی آواز نے اسے جگا دیا۔ سامنے اس کا پڑوسی کھڑا تھا۔

’’مجھے یقین تھا کہ آپ یہاں ہوں گے۔ جلدی چلیے۔ رات سنبل بھابھی کا انتقال ہو گیا۔ ان کے میکے سے خبر آئی ہے۔ دل کا دورہ پڑا تھا ان کو۔۔۔۔۔۔۔ ارے صاحب چلیے تو۔ ‘‘

اس کی آواز مدھم ہوتی گئی اور کائنات میں شور بڑھنے لگا۔ اتنا کہ کچھ  سنائی نہ دیتا تھا۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر کہیں لے گیا۔ کسی شور والے گھر میں۔ پھر ایک خاموش نگر میں انہوں نے اس کی بڑی بڑی آنکھوں والی سنبل کو قبر میں اتار دیا۔ پھر پھول اور نجانے کیا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتنے دن وہ دکان بند رہی۔ پھر ایک شام اس نے شٹر اٹھایا۔ اندر بہت خاموشی تھی۔ اس نے چیخ چیخ کر سب کو آوازیں دیں۔

’’باہر آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تمہاری ضرورت ہے۔ مجھے معجزوں کی ضرورت ہے۔ میں نے تمہیں ٹھکرایا کہ میرے پاس بڑی خوبصورت حقیقت تھی اور اب تمہاری ضرورت ہے کہ ہر حقیقت فانی ہوتی ہے اور معجزات لافانی۔ میرے سامنے آؤ کہ مجھے تمہاری ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘

اس رات کے بعد شہر کا بازار کبھی نہیں سویا۔ کہ ایک دکان کی روشنیاں ہمیشہ نظروں کو خیرہ کرتی رہتی ہیں۔ جس میں ایک بوڑھا اپنے شیشوں کو چمکاتا، ساری رات خود سے بولتا رہتا  ہے اور صبح ہوتے ہی دکان کا شٹر گرا کر گھر کو چل دیتا ہے۔ دھندہ اس کا اب بھی چلتا ہے۔ شیشوں کے گاہک شام کے بعد چلے  آتے ہیں۔ اور چھوٹے سے شہر میں وہ جائیں بھی تو کہاں؟

٭٭٭