کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

عفریت

سید اسد علی


ہمیں ایک سفر پہ چلنا ہے۔ دور بہت دور ملگجی سی منزلوں کی طرف۔ ایک مسافر کے تعاقب میں جس نے بہت دیر ہوئی شاہراہ کو چھوڑ دیا تھا۔ شاہراہ جس پر سب، ایک دوسرے سے پیوست وقت کی طرح بہے چلے جا رہے ہیں۔ نہیں جانتے کہ اگلے موڑ پر کونسے عفریت منہ کھولے کھڑے ہیں، خبر نہیں کہ ان راستوں پہ نجانے کتنے خوابوں کے مقبرے ہیں۔ بس ایک حدت جو ہمراہیوں کے بدن سے اٹھتی ہے اور یخ بستہ جنگلوں میں پھنکارتا اکیلا پن۔ یہ نہ ہوتا تو شاید سبھی اس مسافر کے پیچھے نکل کھڑے ہوتے۔ اور پھر جنگل میں اتنا شور مچتا، صحراؤں میں ایسے رقص ہوتے کہ وقت سے عاجل کو بھی لمحہ بھر ٹھہرنا پڑتا۔ اور کون جانے وہ کتنی دیر میلے میں مبہوت ہوئی لڑکی کر طرح اس ناٹک کو دیکھتا رہتا؟

مگر ایسا نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہت خامشی تھی۔۔۔ جیسے کوئی گلاب کی جھولی میں شبنم بھر رہا ہو،

بڑی نا سمجھی۔۔۔۔ جیسے کوئی محبت کر رہا ہو

اور ایک بہت بڑی حیرانگی۔۔۔۔ جیسے کوئی پہلی بار مر رہا ہو۔

اس نے اپنے بوسیدہ کوٹ کو جسم کے گرد مضبوطی سے لپیٹ لیا اور پھر ہجوم میں آہستگی سے ایک طرف ہونے لگا۔ کسی نے اسے نہیں دیکھا کیونکہ ہر نظر تو کہیں سامنے لگی تھی۔ اس نے بس ایک مرتبہ مڑ کر دیکھا۔۔۔۔۔ شاید کوئی نظر ڈھونڈتا تھا جس میں لوٹ آنے کی التجا ہوتی۔ اور پھر اس نے کبھی مڑ کر نہیں دیکھا۔ بس آہستگی سے وہ یخ بستہ تنہائیوں کی گود میں اترتا چلا گیا۔ ہمارا سفر اس لمحے کی طرف ہے، اس مسافر کی سمت ہے۔

اس لئے نہیں کہ وہ کوئی بہت خاص آدمی تھا۔۔۔۔۔ آدمی تو سبھی خاص ہوتے ہیں۔ اس راہگذر کے ہر ذرے میں لافانی کہانیاں چھپی ہیں۔ پر ان سب کا تعلق ماضی سے ہے اور بھیڑ سے جدا ہوتا ہوا وہ شخص ہمارا مستقبل ہے۔ اس کارواں میں چلنے والے ہر اس ذی روح کا مستقبل جو ابھی سوچ سکتا ہے۔ ہمیں جاننا ہو گا۔۔۔۔۔ وہ کونسی دیوانگی ہے جو ایک اچھے خاصے بھیڑ میں چلنے والے شخص کو یوں تنہائی کی گود میں لا پھینکتی ہے۔ یہ اور ایسے بہت سے سوالات ہیں ہم جن سے چشم پوشی نہیں کر سکتے۔ تو آئیے ایک سفر پر چلتے ہیں۔ ملگجی سے منزلوں کی طرف۔ ایک مسافر کہ جس نے شاہراہ کو چھوڑ دیا تھا۔

 

٭٭

 

وہ ایک سرد رات تھی۔ سارا شہر سر شام ہی اپنے بھٹ میں دبک گیا تھا۔ اگر کوئی اجنبی ہوتا تو ضرور پوچھتا

’’اس وقت کس بلا کا گذر ہوتا ہے۔ جو یہ شہر اتنا سنسان ہے؟‘‘

پر زندگی کے عفریت سے سہمائے، وقت کے شور سے اکتائے اس شہر میں کوئی اجنبی نہیں تھا۔ اجنبی تو وہاں ہوتے ہیں جہاں آشنا ہوں۔ ایک دھرتی جس پر زندگی کے سارے رنگ پھولوں کی بیلوں کی طرح آپس میں پیوست ہوں، ایک ساحل جس پر ہر لمحہ پیار کے گھروندے بنتے ہوں، ایک گھر جس میں لوگ ایک دوسرے سے نظریں چراتے نہ ہوں۔

یہاں تو ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ ایک بہت بڑا ہجوم اور اس سے بھی بڑی تنہائی۔ یہاں سوال کریں تو کس سے؟سو سبھی دبک لیتے ہیں اپنے اپنے کونوں میں اور موٹے کمبلوں میں رات بھر ٹھٹھرتے ہیں۔ وہ بھی سو نہیں پا رہا تھا۔ اس کا دم گھٹ رہا تھا۔ اس نے اپنے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھولا اور سیڑھیاں چڑھتا ہوا چھت کی طرف نکل گیا۔ چھت پر پہنچتے ہی انتہائی سرد ہواؤں نے اس کا استقبال کیا۔ مگر ساتھ میں ان برف کے نشتروں نے اس کی روح میں بھری ساری کسلمندی ددر کر دی۔ وہ آہستہ آہستہ ٹہلتا ہوا منڈیر کی طرف گیا۔ یہ خاصے اونچے اپارٹمنٹس تھے۔ وہ یہاں سے شہر کا ایک بڑا حصہ دیکھ سکتا تھا۔ دور تک پھیلے نیم تاریک گھر اور اپنے بستروں میں دبکے اس جیسے انسان۔ کاش وہ سب کو یہیں، اس چھت پر اکھٹا کر سکتا۔ یہ آزادی، یہ توانائی جو یہاں اس وقت تھی، وہ سب میں بانٹنا چاہتا تھا۔ جیسے یہ سب ہزاروں برس پرانی کسی کارواں سرائے کا صحن ہو اور آگ کے گرد بیٹھے مسافروں کو وہ دور دیس کے قصے سنا سکے۔ پر یہاں کون تھا؟شہر خموشاں میں بھی سلام کرتے ہوئے داخل ہونے کا حکم ہے کہ زندگی کے کچھ درجات ایسے بھی ہیں، ہم جن کا شعور نہیں رکھتے۔ پر اس شہر کی نیند تو موت سے بھی گہری تھی۔ یہاں سلام بھی کرو تو وہ پہاڑوں کی بازگشت کی طرح اپنے ہی کانوں کا طواف کرنے لگتا ہے۔ وہ منڈیر سے پشت ملا کر بیٹھ گیا۔ اس کا چہرہ سفید ہو رہا تھا، ہاتھ سردی سے پھول رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر وہ پھر بھی کہیں جانا نہیں چاہتا تھا۔

ایسے میں اسے ایک سسکی سنائی دی۔ اس نے دیکھا کہ چھت کے دوسرے کونے پر کوئی تھا جو آسمان کی طرف چہرہ اٹھائے رو رہا تھا۔ وہ اسے جانتا تھا(اگرچہ یہ واقفیت خاصی حیران کن بات تھی۔ پر اس لڑکے کو تو گویا ان اپارٹمنٹس میں ہر کوئی پہچانتا تھا)۔ وہ ایک مدقوق سا لڑکا تھا جس کی آنکھوں کے گرد گہرے حلقے تھے۔ وہ ہمیشہ گھبرایا اور کھویا ہوا نظر آتا تھا۔ ہر مہینے وہ خود کشی کی کسی نئی کوشش میں ناکام ہوتا ہوا پکڑا جاتا تھا۔ کبھی وہ اپنی کلائیوں کو بلیڈ سے کاٹ لیتا، کبھی بہت سی خواب آور گولیاں کھا لیتا، ریل کی پٹڑی پر جا لیٹتا، پنکھے سے لٹکنے کی کوشش بھی کر دیکھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر ہر دفعہ بچا لیا جاتا۔ کون جانے کہ وہ یہ کوششیں کیوں کرتا تھا؟وہ حیران تھا تو صرف اس بات پر کہ دوسرے بہت سے لوگ ایسا کیوں نہیں کرتے تھے؟

پھر اس نے دیکھا کہ لڑکا منڈیر پر کھڑا ہو گیا۔ اس کا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔ اس کے آنسو ابھی تک تھمے نہیں تھے۔ اس کے قدم غیر ارادی طور پر لڑکے کی طرف اٹھنے لگے۔ لڑکا اسی طرح اس منڈیر پر کھڑا لرز رہا تھا۔ لگتا تھا کہ ابھی وہ چھلانگ لگا دے گا۔

’’تو آج اس بیوقوفانہ اقدام کو روکنے کی باری میری ہے۔ ‘‘اس نے بیزاری سے سوچا اور لڑکے کو بازوؤں سے پکڑ لیا۔ اور پھر اسے ایک عجیب سا احساس ہوا۔ لڑکے کے تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے۔ لڑکے نے مڑ کر اسے دیکھا تو ان آنکھوں میں دیوانگی کی کوئی جھلک نہ تھی۔ ایک ممنونیت تھی، احساس تشکر تھا اور جیسے کہ وہ اسی لمحے کا منتظر تھا۔ اسے لگا جیسے وہ لڑکا دل ہی دل میں مسکرا بھی رہا ہو اس پر، اس شہر پر، زندگی پر۔۔۔۔۔۔۔ وہ شاید مرنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ اسے شاید بس زندگی و موت کا یہ کھیل کھیلنے میں مزا آتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسا نہ ہوتا تو بھلا وہ کیوں منتظر ہوتا؟

اور اب لڑکے کا ڈھیلا ہوتا ہوا جسم انتظار میں تھا کہ وہ اسے کب اپنی طرف کھینچتا ہے پر اس نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑی آہستگی سے اسے باہر کی طرف دھکیل دیا۔ لڑکے کی آنکھوں میں بے اعتباری کا سیلاب اتر آیا اور پھر ایک دلدوز چیخ کے ساتھ وہ نیچے گرنے لگا۔

پہلی روشن کھڑکی جس سے اس نے سفید شلوار قمیض پہنے اس بڑھیا کو نماز پڑھتے دیکھا، دوسری روشن کھڑکی جہاں سر جھکائے ایک لڑکا اپنی کتابوں میں مشغول تھا، تیسری روشن کھڑکی جہاں ایک عورت اپنے شوہر کے سینے سے لگی کھڑی تھی اور پھر روشنی کی ایک چھوٹی سی کھنچتی ہوئی درز۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس سے وہ سب کچھ دیکھ سکتا تھا۔ وہ عورت، وہ لڑکا، وہ بڑھیا، پچھلے سال نظر آنے والا سورج گرہن، اپنی محبوبہ کی شادی پر جلنے والے قمقمے، اپنی ماں کی آنکھیں اور۔۔۔۔۔ وہ سب کچھ دیکھ سکتا تھا مگر تیز برفیلی ہوا جواس کی آنکھوں میں گھسی جا رہی تھی، بے پناہ طاقت سے بجتے ہوئے ڈھول کا شور اور پاگل کر دینے والی چنبیلی کی خوشبو۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ وہ اب کچھ اور دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔ اور پھر دھپ کی ایک بے ڈھنگی صدا کے ساتھ اندھیرے اس کے جسم میں بکھر گئے۔

نماز پڑھتی بڑھیا نے ایک مدھم سی چیخ سنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے کن اکھیوں سے کمرے میں دیکھا۔ یہ عمر کا وہ دور تھا جب آپ فرشتوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ بھی سننے لگتے ہو اور ہر آہٹ کسی بلاوے کی طرح لگتی ہے۔ کمرے میں کسی کو نہ پا کروہ پہلے کے سے خشوع سے پھر عبادت میں مصروف ہو گئی۔

میز پر پڑھتے لڑکے کو کوئی صدا نہیں آئی۔ کیونکہ اس کے کمرے میں خاصی تیز آواز میں میوزک بج رہا تھا پر اسے لگا جیسے کوئی سایہ سا اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزرا ہو۔ اس نے کھڑکی کے قریب ہو کر باہر دیکھا تو سب کچھ ویسا ہی تھا۔ آسمان پر چاند جگمگا رہا تھا اور سامنے سارا شہر نیم تاریک اور خاموش تھا۔ وہ پھر سے اپنی کتاب میں کھو گیا۔

عورت نے چیخ سنی اور وہ وہیں منجمد ہو کر رہ گئی۔ اس نے ایک لمحہ کو انتظار کیا کہ شاید کوئی اور صدا آئے جس سے اس اسرار کی کچھ خبر ہو سکے اور پھر تھوڑے انتظار کے بعد پہلی سے گرمجوشی سے اپنے شوہر سے لپٹ گئی۔

اور وہ اب تنہا چھت پر کھڑا تھا۔ اس نے ایک مرتبہ بھی منڈیر سے جھانک کر نیچے نہیں دیکھا۔ اسے دیکھنے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ وہ تو بس یہ سوچ رہا تھا کہ اگر کچھ دیر اور چھت پر کھڑا رہا تو سردی لگ جانے کا امکان ہے۔ اس لئے اپنے اپارٹمنٹ کی طرف چل پڑا۔ کمرے میں جاتے ہی وہ بستر پر گرا اور جلد ہی گہری نیند سو رہا تھا۔ ویسی ہی میٹھی نیند جیسی لمبی مسافت طے کرنے کے بعد میسر ہوتی ہے۔

 

٭٭

 

وہ اس دن بہت دیر تک سوتا رہا۔ ایسی نیند اسے بہت کم نصیب ہوا کرتی تھی۔ اسے بہت سے خواب بھی آئے۔ جیسے وہ ہواؤں میں اڑ رہا ہو اور بلند پہاڑوں کے بیچ گھوم رہا ہو۔ اس نے اس لڑکے کو بھی دیکھا۔۔۔۔ بہت خوش اور سفید چمکتے لباس میں ملبوس۔ اٹھا تو جسم میں ایک تازگی تھی۔ ایسی تازگی جیسے۔۔۔۔۔

جیسے آپ نے رات گئے کسی کا خون کیا ہو(مجھے معاف کر دیجئے پر مجھے اس تازگی کے لئے اس کے سوا کوئی اور استعارہ مل ہی نہ سکا)۔

وہ سوچ رہا تھا کہ ایسا کیوں ہے؟آخر اس نے ایک معصوم کی جان لی تھی۔ تو پھر وہ احساس ندامت کیا ہوا؟وہ بے خوابی، وہ ضمیر کے نشتر، وہ غشی کے دورے۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں تھا۔ آخر ایسا کیوں تھا؟شاید اس لئے کہ اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا تھا۔ اس نے ایک تکلیف اٹھاتے جسم کو اگر اس قید زندگی سے رہا کیا تو کیا برا کیا؟وہ اپنے جواب سے مطمئن نہیں تھا۔

’’کیا میں ایک عفریت ہوں جو رحم، محبت اور پچھتاوے جیسی انسانی خصوصیات سے ہی محروم ہوں؟ میں تتلیوں کے پیچھے بھاگتے اس بچے سے کب اس سرد عفریت میں ڈھل گیا، خبر ہی نہ ہوئی؟ابھی تھوڑی دیر پہلے میں زخمی چڑیا تک کی تیمار داری کے لئے رات بھر جاگتا تھا اور کل رات میں نے جھک کر منڈیر سے اس کی لاش تک نہ دیکھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر یہ سب کیسے ہوا؟کیا اکیسویں صدی کا ایک منطقی انسان عفریت بنے بغیر رہ سکتا ہے؟‘‘

یہ اور ایسے ہی چند دوسرے سوالات تھے جو اس کے ذہن میں کلبلا رہے تھے۔ ایسے بے معنی، خالص علمی سوالات آپ صرف تبھی سوچ سکتے ہو جب آپ کا پیٹ بھرا ہو ہو۔ موسم خوشگوار ہو، رزق کمانے کی فکر سے بے نیاز ہو۔ بس ایسے ہی حالات میں یہ ذہنی عیاشی ممکن ہے۔ آپ یہاں سوچوں کے تانے بانے بنتے ہو۔ لامتناہی سے ٹکرانے کی کوشش کرتے ہو، لامحدود کو گھیر لینے والا زنداں بناتے ہو۔ اور یہ سب کچھ آپ محض اس لئے کرتے ہو تاکہ آپ کو انسان سمجھا جا سکے۔۔۔۔۔۔۔ دوسرے لوگوں کو خود شناسی کے لئے ایسے کمزور سہاروں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ محنت کرتے ہیں، پسینہ بہاتے ہیں، محبت کرتے ہیں، خواب دیکھتے ہیں اور اس طرح وہ خود کو پہچان لیتے ہیں۔

خیر دوسرے لوگ کیا سوچتے ہیں؟اور کیا مصائب اٹھاتے ہیں؟میں کبھی نہیں جان سکتا۔ میں تو ساری حجت ظاہر پر ہی قائم کر سکتا ہوں۔ میرا تجزیہ تو بس ان کے آنسووں، چہرے کے تاثرات، اعضا کی حرکات تک جا سکتا ہے۔ کیا خبر ایک بہروپیا سا عفریت ان کے دلوں میں بھی چھپا ہو۔ جو اپنی سرد مہری کو گرمجوشی میں چھپا لے، جو اپنی آنکھوں کی بیگانگی کو آنسوؤں کی چادر میں لپیٹ لے۔ یقیناً ایسا ممکن ہے۔۔۔۔۔۔۔ مگر یوں بھی تو ہو سکتا ہے کہ میں ان سے مختلف ہوں۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ وہ سب واقعی محبت کرنے والے، تکلیف اٹھانے والے اور جذبات رکھنے والے انسان ہوں اور میں ان سے مختلف محض ایک عفریت۔ مگر میں پھر دہراؤں گا کہ ہر عاقل اور منطقی انسان ایک عفریت ہونے پر مجبور ہے۔ تو کیا اس کا یہ مطلب ہوا کہ انسان منطقی طور پر ایک  irrational entityہے؟

یہ سوال ایسا نہیں کہ چند ذہنی قلابازیوں سے وہ اس کا جواب ڈھونڈ سکتا۔ وہ اس سوال کو اوڑھے اپنے فلیٹ سے نکل آیا۔ زندگی اسی معمول سے جاری تھی۔ سڑک پر گاڑیاں بڑی رفتار سے دوڑے چلی جا رہی تھیں (اس گمان سے بھی بے خبر کے کل رات یہاں کسی لڑکے نے اپنی آخری سانسیں لیں تھیں)۔ فٹ پاتھ پر اپنی گھڑیوں پہ نظریں جمائے لوگ چل رہے تھے۔ اتنی بیگانگی، اتنی اجنبیت۔ یہ شہر انسانوں کا تو نہیں ہو سکتا۔ وہ چلتا رہا۔ چوک پر کھڑے سپاہی نے ایک اچٹتی سی نظر اس پر ڈالی اور پھر گاڑیوں کے اس بیکراں قافلے کو سنبھالنے میں مصروف ہو گیا۔ اس کے سوا کسی اور نے اسے نہیں دیکھا۔ وہ یونہی بے خیالی سے چلتا قریبی ہسپتال میں پہنچ گیا۔ وہاں وہ بڑی دیر انکوئری والے سے اپارٹمنٹس کی چھت سے گرنے والے لڑکے کے بارے میں پوچھتا رہا۔ اسے کوئی بھی معلومات نہ مل سکیں۔ پھر سوچنے لگا کہ بھلا ایسے لڑکے کو کوئی ہسپتال کیوں لانے لگا۔ وہ تو غالباً گرتے ہی مر گیا ہو گا۔ وہ وہاں سے نکل کر قبرستان چلا گیا۔ وہاں بھی کوئی نہیں تھا۔ ایک گورکن کے سوا جو ایک کونے میں نئی قبر کے لئے کھدائی کر رہا تھا۔ وہ تھوڑی دیر کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ گورکن اپنے کام میں مصروف رہا۔ پھر وہ تھک کر ایک قریبی پتھر پر بیٹھ گیا۔ اور پھر بیٹھا ہی رہا۔ یہاں تک کہ زور زور سے کلمہ پڑھنے والوں کی آوازیں اس کے کانوں سے ٹکرائیں۔ وہ کھڑا ہو گیا۔ اس نے بڑی خامشی سے تمام رسومات میں شرکت کی۔ بڑے اعتماد سے روتی ہوئی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا۔ اور مٹھی بھر مٹی قبر پر بھی پھینکی۔ پھر سب لوگ آہستہ آہستہ چلے گئے۔ وہ پھر پتھر پر بیٹھ گیا۔ اب شام ہو چلی تھی۔ آخری آدمی نے جاتے ہوئے اس کے کاندھے پر ہلکی سے تھپکی دی۔

تھپکی کے ساتھ ہی وہ گویا کسی گہری نیند سے جاگ گیا۔ اب پھر وہ ایک سرد عفریت تھا۔ اس نے ایک لمحے کو بھی مڑ کر قبر کی طرف نہیں دیکھا گو تازہ مٹی کی خوشبو ابھی تک اس کا پیچھا کر رہی تھی۔ قبرستان سے تھوڑا دور وہ ایک تکے بنانے والے کے پاس بیٹھ گیا۔ اس نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور پھر سنسان ہوتی سڑکوں پر چہل قدمی کرنے لگا۔ ایسے میں اس کی نظر بس سٹاپ سے کچھ دور کھڑی ایک لڑکی پر پڑی۔ اس نے اسے یہاں بہت بار کھڑے دیکھا تھا اور خوب جانتا تھا کہ وہ یہاں کیوں ہے مگر کبھی بھی یقین نہیں کر سکا۔ وہ اتنی شفاف، اتنی معصوم نظر آتی تھی جیسے سکول بس کا انتظار کرتی کوئی بچی۔ مگر اس کے قریب ہمیشہ لمبی لمبی کاریں ہی رکا کرتیں۔ وہ کچھ جھک کر ان سے کچھ کہتی اور پھر سڑک کا وہ کنارا ویران ہو جاتا۔ وہ یہ منظر روز دیکھتا تھا مگر یقین نہیں کر پاتا تھا۔ وہ شاید کبھی بھی اس کے قریب جانے کی ہمت اپنے میں نہ لا پاتا مگر پچھلی رات کے خمار نے اسے نڈر بنا دیا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا اس کے قریب چلا گیا۔ لڑکی نے ایک اچٹتی سی نظر اس پر ڈالی اور شاید سمجھ گئی کہ وہ کوئی اہم شخص نہیں ہے۔ وہ اس کے قریب جا کر سڑک کے کنارے بیٹھ گیا۔

’’ایک بات پوچھ سکتا ہوں؟‘‘اس نے آہستگی سے کہا۔

لڑکی کے چہرے پر ناگواری بکھر گئی۔ شاید وقت ضائع ہونے کا احساس بھی تھا اور ساتھ میں ملنے والے لیکچر کی کوفت کا بھی خیال تھا۔ وہ کچھ نہیں بولی۔

’’آپ جواب نہیں دے رہیں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ جس کا انتظار آپ کو ہے وہ ابھی کہیں نہیں ہے۔ ‘‘

’’جس کا انتظار مجھے ہے وہ آپ کے یہاں بیٹھے رہنے سے تو آنے سے رہا۔ ‘‘اس نے جھلا کر کہا۔

وہ ہنسنے لگا۔ ’’آپ ٹھیک کہتی ہو۔ مجھے واقعی اس وقت یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔ پر کیا کروں کسی اور وقت آپ ملتی کہاں ہیں۔ ‘‘

’’ضرورت کیا ہے ملنے کی؟‘‘اس نے بیگانگی سے کہا۔

’’میں یہاں کبھی نہ آتا اگر ہر شام میں نے گاڑی نظر آنے پر آپ کے چہرے پر ناگواری بکھرتے نہ دیکھی ہوتی۔ ‘‘

وہ چونک پڑی۔ سڑک پر چلتے ہوئے ہزاروں لوگ ہمیں دیکھتے ہیں پر نجانے کیوں ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہمیں کوئی نہیں دیکھ رہا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی ہمارا پیچھا کرنے لگے، یا ہم پر نظریں گاڑ دے تو ہم گھبرا جاتے ہیں۔ اپنے اپنے خولوں میں مزید سمٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ بھی ایسا ہی کر رہی تھی۔ پہلے اس لڑکی نے اسے نظرانداز کرنے کی کوشش کی اور اب شاید ایک مصنوعی گھبراہٹ کے پیچھے چھپنے کی۔ وہ کہنا چاہتا تھا کہ

’’گھبراؤ نہیں۔ میں تو صرف تمہیں جاننا چاہتا ہوں۔ تم سے باتیں کرنا چاہتا ہوں اور اگر ہو سکے تو تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں۔ ‘‘مگر وہ جانتا تھا کہ اس کی طرف بڑھا ہر قدم اسے اور خوفزدہ کر دے گا۔ اس لئے محتاط تھا۔

’’تمہیں پتہ ہے کہ تم بہت خوبصورت لڑکی ہو۔ اس لئے اگر یہاں سے گذرتے ہوئے میں روزانہ تم پر نظر ڈالے بنا نہیں رہ سکتا تو اس میں سارا قصور میرا بھی نہیں ہے۔ ‘‘

اس نے دیکھا کہ وہ تھوڑی پرسکون ہو گئی تھی۔ غالباً یہی سوچ کر کہ وہ محض ایک اور شخص تھا جو صرف اس کے جسم کو دیکھ سکتا تھا۔ شاید اس کے لئے یہ خیال بڑا دلفریب تھا کہ وہ یا کوئی بھی اس کے اندر جھانک نہیں سکتا۔

’’تم کیا چاہتے ہو؟‘‘اس نے مصنوعی خفگی کے انداز میں کہا۔

’’بس کچھ وقت تمہارے ساتھ بتانا چاہتا ہوں۔ ‘‘اس نے عاشقانہ انداز میں کہا۔

’’پر میرے وقت کی قیمت ہے۔ ‘‘

’’کاش تمہیں اپنی قیمت کا اندازہ ہوتا۔۔۔۔۔۔ بہرحال میں تمہارے وقت کی قیمت ادک کرنے پر بھی تیار ہوں۔ ‘‘

اب کے اس نے انکار نہیں کیا اور اس کے قریب آ گئی۔

’’کہاں چلنا ہو گا؟‘‘

’’اس سڑک پر گھومتے ہیں۔ بڑا خوبصورت موسم ہے آج۔ ‘‘

وہ اس کے ساتھ چلنے لگی۔

’’تم نے بتایا نہیں کہ کسی نئی گاڑی کے رکنے پر تمہیں خوشی زیادہ ہوتی ہے یا دکھ؟‘‘

اس کے سوال پر وہ ہنس پڑی۔

’’لگتا ہے تم کتابیں بہت پڑھتے ہو۔ زندگی کو نہیں پڑھتے۔ یہاں چیزیں سکھ دکھ، اچھائی برائی کے کمپارٹمنٹس میں ترتیب سے رکھی نہیں ملتیں۔ مجھے یاد نہیں کوئی ایسی خوشی جس میں دکھ نہ ملا ہو، کوئی ایسا غم جس پر میں زیر لب ہنس بھی نہ سکوں۔۔۔۔۔ پر یہ سب تم میری باتوں سے نہیں سمجھ سکتے۔ تمہیں کوئی کام کرنا چاہیے۔ ‘‘

’’کیا کام کروں؟‘‘

’’کچھ بھی کر لو۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جب ایک مزدور سارا دن پسینہ بہا کر اپنی دیہاڑی لیتا ہے تو وہ دکھ سکھ کا اسرار سمجھ لیتا ہے۔ بالکل ایسے جیسے میں اپنے کام میں۔ پر تم کام نہ کرنے والے لوگ کبھی نہیں سمجھ سکتے کہ تکلیف اٹھانا ہی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ کہ دکھ سہنا ہی اپنے اندر میں ایک خوشی ہے۔ ‘‘وہ بولتی چلی جا رہی تھی۔

کچھ لوگوں کے بارے میں آپ کا اندازہ کتنا غلط ہوتا ہے۔ نجانے کیوں اسے لگتا تھا کہ یہ لڑکی جسے وہ ہر رکنے والی کار سے محض چند جملوں میں باتیں کرتا دیکھتا تھا، بس انہی جملوں کو بولنے پر قادر ہے۔ جیسے کافی بنانے کی مشین ہو۔ آپ جب بھی اس میں ایک سکہ ڈالو تو وہ کافی کا کپ آپ کے سامنے رکھ دے گی۔ آپ خواہ جو مرضی کر گزرو پر وہ یا تو کچھ نہیں کرے گی یا پھر کافی بنائے گی۔ پر انسان ایسے تو نہیں ہوتے۔ اور وہ بھی ایک انسان تھی۔ اسی کی طرح ارب ہا سوالات میں گھری، اسی کی طرح ارب ہا جوابات سے لیس۔

’’اور تم کیا یہ کام اس راز کو جاننے کے لئے کر رہی ہو؟‘‘اس نے پرخیال انداز میں پوچھا۔

’’نہیں میں مجبور ہوں۔ کاش کہ زندگی میرے سامنے بھی دو راستے رکھتی۔ مجھے خواہش ہی رہی کہ کبھی میں اپنے لئے، اپنی مرضی سے بھی کچھ منتخب کر سکوں۔ جیسے میں کسی لمبی سی گاڑی میں سوار ہوں اور سڑک پر کھڑے لوگ میرے التفات کے منتظر۔ پر ایسا کبھی نہیں ہوا۔ زندگی مجھ پر کبھی اتنی مہربان نہیں رہی۔ ‘‘اس نے ٹوٹتی ہوئی آواز میں کہا۔

’’تم نے کیسے سمجھ لیا کہ یہ لمبی گاڑیوں والے یہاں اپنی مرضی سے کچھ منتخب کرنے آتے ہیں؟یہ سب تو اسی خوابِ محبت کے ڈسے ہوئے ہیں اور یوں گلی گلی دیوانوں کی طرح کسی تریاق کی تلاش میں پھرتے ہیں۔ اور صحرا میں پیاس سے مرتے ہوئے انسان کے سامنے ہر راستہ کھلا نظر آتا ہے مگر وہ پھر بھی سراب کے پیچھے ہی بھاگتا ہے۔ تم اس آزادی کو کیا نام دو گی؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سچ تو یہ ہے کہ راستے ہمیشہ ہمارے سامنے ہوتے ہیں مگر ہم میں ان کا سامنے کرنے کا حوصلہ ہی نہیں ہوتا۔ ‘‘

’’تم مجھے نہیں جانتے۔ میری زندگی کو نہیں جانتے۔ میرے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔ کیا تمہیں نہیں لگتا کہ اس تعفن زدہ زندگی سے نکلنے کی کوشش کی ہو گی میں نے؟کیا کیا نہ کر دیکھا میں نے مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر ایک دن مجھے احساس ہوا کہ موت کے سوا اس قید سے رہائی ممکن نہیں۔ ‘‘

’’تو تم مر کیوں نہیں جاتی؟‘‘میرے اندر کا عفریت بیدار ہونے لگا۔

’’شاید میں نے غلط کہ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بدنصیب تو مر بھی نہیں سکتی۔ بہت سے زندگیاں جڑی ہیں میری زندگی سے۔ ‘‘

’’ہم اور ہمارے چاہنے والوں کی زندگیاں ایک عجیب ڈور سے بندھی ہیں۔ اس ڈور کو جتنی بار توڑو، یہ پھر سے جڑ جاتی ہے۔ اور پھر ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو تو کوئی یاد بھی نہیں رکھتا۔ ‘‘میں نے کہا۔

’’تم صحیح کہتے ہو پر کیا موت زندگی سے بہتر ہے؟‘‘اس نے سوال کیا۔

’’یہ تو میں نہیں جانتا۔ پر جب ہم لا یعنیت کی گہرائیوں میں پہنچ چکے ہوں تو کیا یہ خیال دلفریب نہیں کہ اس سے فرار بھی ممکن ہے؟اور یہ فیصلہ تو بہرحال تمہیں کرنا ہے کہ تم کہاں ہو؟‘‘

اس کے ہونٹ کانپنے لگے۔ وہ سوچ میں پڑ گئی۔

’’شاید میں بھی مرنا چاہتی ہوں۔ پر خوفزدہ ہوں، کیا تم میری مدد کر سکتے ہو؟‘‘

 

٭٭

 

اسے ہمیشہ یہ لگتا تھا کہ لوگ زندگی سے بہت محبت کرتے ہیں۔ یہ اس لئے تھا کیونکہ وہ انہیں ہمیشہ تکلیف اٹھاتے دیکھتا تھا، محنت کرتے دیکھتا تھا، خود پر جبر کرتے دیکھتا تھا۔۔۔۔۔۔ اور یہ سب محض اس لئے کہ وہ چند سانسیں اور جی سکیں۔ مگر اب جب اس نے لوگوں سے ملنا شروع کیا تو اسے خبر ہوئی کہ موت سے تو کوئی بھی نہیں ڈرتا۔ ہاں وہ یہ سمجھتے ضرور ہیں (اور یہ لاعلمی انہیں ایک بھرپور زندگی کے بعد ایک باوقار موت سے بھی محروم رکھتی ہے)۔

حقیقت صرف اتنی سی تھی کہ کسی نے ایک آسان سا سوال پوچھ ڈالا۔ شاید یہ کہ کیا خوشی غم سے بہتر ہے؟

ہر سننے والے نے اسے بہت آسان سمجھا۔ اکثریت نے اس کا جواب اثبات میں دیا اور اپنے موقف کو سچ کرنے کے لئے وہ خوشیوں اور لذت کی تلاش میں نکل گئے۔ وہ اپنے سفر میں جتنا دور ہوتے گئے خوشی کی ماہیت بدلتی گئی۔ اس کی ہر پرت کھلنے سے دلوں میں کرب کا ایک تیر گڑ جاتا۔ کچھ سیانے ایسے بھی تھے جنہوں نے دوسرا راستہ چنا۔ وہ تکلیف اٹھانے لگے، دکھ سہنے لگے۔ انہیں لگا کہ شاید دکھ زیادہ بڑی حقیقت ہے۔ پر شومیِ قسمت کہ انہیں اپنے اس کرب میں بھی مزا آنے لگا۔ جیسے دہستویئفسکی سمجھاتا ہے کہ ہم کیسے دانت کے درد جیسی تکلیف میں بھی لذت کا پہلو ڈھونڈ لیتے ہیں۔

یہ راز اسے پہلی بار سڑک پر کھڑی ایک آوارہ سی لڑکی نے بتلایا۔ اور اسے پہلی بار اس سوال، اس paradoxکی بے معنویت کا احساس ہوا۔

’’کتنا بھٹک گئے تھے ہم جب ہم نے اس لاحاصل تلاش کو اپنی زندگی کا محور بنا لیا۔ پر موت ہمیشہ زندگی سے بہتر تو نہیں ہوتی۔ تو ہمیں اس سوال کا جواب کہیں اور ڈھونڈنا چاہیے تھا۔ زندگی کا مقصد نہ تو محض تکلیف اٹھانا ہے اور نہ ہی سکون و آسائش کی تلاش۔ زندگی تو بس ایک مہلت ہے کچھ کر گزرنے کی۔ اور ہر گام پر ایک ہی سوال ہمارے سامنے ہونا چاہیے۔ کیا یہ زندگی موت سے بہتر ہے؟ اگر ہے تو پھر ہم اور جی سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس مقام تک پہنچ جائیں جہاں negative productivityکی وجہ سے بے عملی، عمل سے بہتر ہو جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں موت کی بانہوں میں سمٹ جانے سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ ‘‘اس نے سوچا۔

اب وہ گلی گلی یہ سوال لئے گھومتا ہے۔ اور اس کا کام صرف اسی سوال کے معروضی تجزیہ میں مدد دینا ہے۔ کسی ماہر نفسیات کی طرح وہ اپنے کلائینٹس کو ان کے خود  دہستو ا ہر موھبہانے والے ڈاکڑساختہ زندانوں سے باہر نکالتا ہے، انہیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے، انہیں خوف سے نجات دلاتا ہے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اور کیا کیا بتاؤں؟بس اتنا جانتا ہوں کہ سورج کی پہلی کرن کے ساتھ وہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور سب سے پہلے اپنے آپ سے یہی سوال کرتا ہے کہ

’’کیا میری زندگی موت سے بہتر ہے؟‘‘

اور جس دن آپ اسے سڑکوں پر گھومتے دیکھو، کسی کے دل کے دروازوں پر دستک دیتے دیکھو۔۔۔۔۔۔۔۔ تو سمجھ لو کہ وہ یقیناً کچھ کر گزرنے پر قادر ہے۔

٭٭٭