کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

اپنے دُکھ مجھے دے دو

راجندر سنگھ بیدی


اندو نے پہلی بار ایک نظر اوپر دیکھتے ہوئے پھر آنکھیں بند کر لیں اور صرف اتنا سا کہا۔ ’’جی‘‘ اسے خود اپنی آواز کسی پاتال سے آئی ہوئی سنائی دی۔ دیر تک کچھ ایسا ہی ہوتا رہا اور پھر ہولے ہولے بات چل نکلی۔ اب جو چلی سو چلی۔ وہ تھمنے ہی میں نہ آتی تھی۔ اندو کے پتا، اندو کی ماں، اندو کے بھائی، مدن کے بھائی بہن، باپ، ان کی ریلوے سیل سروس کی نوکری، ان کے مزاج، کپڑوں کی پسند، کھانے کی عادت، سبھی کا جائزہ لیا جانے لگا۔ بیچ بیچ میں مدن بات چیت کو توڑ کر کچھ اور ہی کرنا چاہتا تھا لیکن اندو طرح دے جاتی تھی۔ انتہائی مجبوری اور لاچاری میں مدن نے اپنی ماں کا ذکر چھیڑ دیا جو اسے سات سال کی عمر میں چھوڑ کر دق کے عارضے سے چلتی بنی تھی۔ ’’جتنی دیر زندہ رہی بیچاری‘‘ مدن نے کہا۔ ’’بابو جی کے ہاتھ میں دوائی کی شیشیاں رہیں۔ ہم اسپتال کی سیڑھیوں پر اور چھوٹا پاشی گھر میں چیونٹیوں کے بل پر سوتے رہے اور آخر ایک دن.... 28 مارچ کی شام....‘‘ اور مدن چپ ہو گیا۔ چند ہی لمحوں میں وہ رونے سے ذرا ادھر اور گھگھی سے ذرا اُدھر پہنچ گیا۔ اندو نے گھبرا کر مدن کا سر اپنی چھاتی سے لگا لیا۔ اس رونے نے پل بھر میں اندو کو اپنے پن سے ادھر اور بیگانے پن سے ادھر پہنچا دیا تھا.... مدن اندو کے بارے میں کچھ اور بھی جاننا چاہتا تھا لیکن اندو نے اس کے ہاتھ پکڑ لئے اور کہا۔ ’’میں تو پڑھی لکھی نہیں ہو ں جی.... پر میں نے ماں باپ دیکھے ہیں، بھائی اور بھابھیاں دیکھی ہیں، بیسیوں اور لو گ دیکھے ہیں۔ اس لئے میں کچھ سمجھتی بوجھتی ہوں .... میں اب تمہاری ہوں .... اپنے بدلے میں تم سے ایک ہی چیز مانگتی ہوں۔‘‘ روتے وقت اور اس کے بعد بھی ایک نشہ سا تھا۔ مدن نے کچھ بے صبری اور؟؟؟؟کے ملے جلے شبدوں میں کہا.... ’’کیا مانگتی ہو؟ تم جو بھی کہو گی میں دو ں گا۔‘‘ ’’پکی بات؟‘‘ اندو بولی۔ مدن نے کچھ اتادلے ہو کر کہا۔ ’’ہاں ہاں .... کہا جو پکی بات۔ ‘‘ لیکن اس بیچ میں مدن کے من میں ایک وسوسہ آیا.... میرا کاروبار پہلے ہی مندا ہے، اگر اندو کوئی ایسی چیز مانگ لے جو میری پہنچ ہی سے باہر ہو تو پھر کیا ہو گا؟ لیکن اندو نے مدن کے سخت اور پھیلے ہوئے ہاتھوں کو اپنے ملائم ہاتھوں سے سمیٹتے ہوئے ان پر اپنے گال رکھتے ہوئے کہا۔ ’’ تم اپنے دکھ مجھے دو۔‘‘ مدن سخت حیران ہوا۔ ساتھ ہی اپنے آپ پر ایک بوجھ اترتا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے چاندنی میں ایک بار پھر اندو کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی لیکن وہ کچھ نہ جان پایا۔ اس نے سوچا یہ ماں یا کسی سہیلی کا رٹا ہوا فقرہ ہو گا جو اندو نے کہہ دیا۔ جبھی یہ جلتا ہوا آنسو مدن کے ہاتھ کی پشت پر گرا۔ اس نے اندو کو اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے کہا۔ ’’دئے ....!‘‘ لیکن ان سب باتوں نے مدن سے اس کی بہیمت چھین لی تھی۔ مہان ایک ایک کر کے سب رخصت ہوئے۔ چکلی بھابھی دو بچوں کو انگلیوں سے لگائے سیڑھیوں کی اونچ نیچ سے تیسرا پیٹ سنبھالتی ہوئی چل دی۔ دریا آباد والی پھوپھی جو اپنے ’’نولکھے ‘‘ ہار کے گم ہو جانے پر شور مچاتی واویلا کرتی ہوئی بے ہوش ہو گئی تھی اور جو غسل خانے میں پڑا ہو ا مل گیا تھا، جہیز میں سے اپنے حصے کے تین کپڑے لے کر چلی گئی۔ پھر چاچا گئے۔ جن کو ان کے جے پی ہو جانے کی خبر تار کے ذریعے ملی تھی اور جو شاید بد حواسی میں مدن کی بجائے دلہن کا منہ چومنے چلے تھے۔ گھر میں بوڑھا باپ رہ گیا تھا اور چھوٹے بہن بھائی۔ چھوٹی دلاری تو ہر وقت بھابی کی ہی بغل میں گھسی رہتی۔ گلی محلے کی کوئی عورت دلہن کو دیکھے یا نہ دیکھے۔ دیکھے تو کتنی دیر دیکھے۔ یہ سب اس کے اختیار میں تھا۔ آخر یہ سب ختم ہوا اور آہستہ آہستہ پرانی ہو نے لگی لیکن کا کا جی کی اس نئی آبادی کے لوگ اب بھی آتے جاتے۔ مدن تو اس کے سامنے رک جاتے اور کسی بھی بہانے سے اندر چلے آتے۔ اندو انہیں دیکھتے ہی ایک دم گھونگٹ کھینچ لیتی لیکن اس چھوٹے سے وقفے میں جو کچھ دکھائی دے جاتا وہ بنا گھونگٹ کے دکھائی ہی نہ دے سکتا تھا۔ مدن کا کاروبار گندے بروزے کا تھا۔ کہیں بڑی سپلائی والے دو تین جنگلوں میں چیڑ اور دیودار کے پیڑوں کی جنگل میں آگ نے آ لیا تھا اور وہ دھڑا دھڑ جلتے ہوئے خاک سیاہ ہو کر رہ گئے تھے۔۔ شادی کی رات بالکل وہ نہ ہوا جو مدن نے سوچا تھا۔ جب چکلی بھابی نے پھسلا کر مدن کو بیچ والے کمرے میں دھکیل دیا تو اندو سامنے شالوں میں لپٹی اندھیرے کا بھاگ بنی جا رہی تھی۔ باہر چکلی بھابی اور دریا آباد والی پھوپھی اور دوسری عورتوں کی ہنسی، رات کے خاموش پانیوں میں مصری کی طرح دھیرے دھیرے گھل رہی تھی۔ عورتیں سب یہی سمجھتی تھیں کہ اتنا بڑا ہو جانے پر بھی مدن کچھ نہیں جانتا۔ کیونکہ جب اسے بیچ رات سے جگایا گیا تو وہ ہڑبڑا رہا تھا۔ ’’کہاں، کہاں لئے جا رہی ہو مجھے؟‘‘ ان عورتوں کے اپنے اپنے دن بیت چکے تھے۔ پہلی رات کے بارے میں ان کے شریر شوہروں نے جو کچھ کہا اور مانا تھا، اس کی گونج ان کے کانوں میں باقی نہ رہی تھی۔ وہ خود رس بس چکی تھیں اور اب اپنی ایک اور بہن کو بسانے پر تلی ہوئی تھیں۔ زمین کی یہ بیٹیاں مرد کو تو یوں سمجھتی تھیں جیسے بادل کا ٹکڑا ہے جس کی طرف بارش کے لئے منہ اٹھا کر دیکھنا ہی پڑتا ہے۔ نہ برسے تو منتیں ماننی پڑتی ہیں۔ چڑھاوے چڑھانے پڑتے ہیں۔ جادو ٹونے کرنے ہوتے ہیں۔ حالانکہ مدن کالکا جی کی اس نئی آبادی میں گھر کے سامنے کی جگہ میں پڑا اسی وقت کا منتظر تھا۔ پھر شامتِ اعمال پڑوسی سبطے کی بھینس اس کی کھاٹ ہی کے پاس بندھی تھی جو بار بار پھنکارتی ہوئی مدن کو سونگھ لیتی تھی اور وہ ہاتھ اٹھا اٹھا کر اسے دور رکھنے کی کوشش کرتا۔ ایسے میں بھلا نیند کا سوال ہی کہاں تھا؟ سمندر کی لہروں اور عورت کے خون کو راستہ بتانے والا چاند ایک کھڑکی کے راستے سے اندر چلا آیا تھا اور دیکھ رہا تھا۔ دروازے کے اس طرف کھڑا مدن اگلا قدم کہاں رکھتا ہے۔ مدن کے اپنے اندر ایک گھن گرج سی ہو رہی تھی اور اسے اپنا آپ یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے بجلی کا کھمبا ہے جسے کان لگانے سے اسے اندر کی سنسناہٹ سنائی دے جائے گی۔ کچھ دیر یونہی کھڑے رہنے کے بعد اس نے آگے بڑھ کر پلنگ کو کھینچ کر چاندنی میں کر دیا تاکہ دلہن کا چہرہ تو دیکھ سکے۔ پھر وہ ٹھٹک گیا۔ جب اس نے سوچا.... اندو میری بیوی ہے۔ کوئی پرائی عورت تو نہیں جسے نہ چھونے کا سبق بچپن ہی سے پڑھتا آیا ہوں۔ شالو میں لپٹی ہوئی دلہن کو دیکھتے ہوئے اس نے فرض کر لیا، وہاں اندو کا منہ ہو گا۔ اور جب ہاتھ بڑھا کر اس نے پاس پڑی گٹھڑی کو چھوا تو وہیں اندو کا منہ تھا۔ مدن نے سوچا تھا وہ آسانی سے مجھے اپنا آپ نہ دیکھنے دے گی لیکن اندو نے ایسا نہ کیا۔ جیسے پچھلے کئی سالوں سے وہ بھی اسی لمحے کی منتظر ہو اور کسی خیالی بھینس کے سونگھتے رہنے سے اسے بھی نیند نہ آ رہی ہو۔ غائب نیند اور بند آنکھوں کا کرب اندھیرے کے باوجود سامنے پھڑپھڑاتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ ٹھوڑی تک پہنچتے ہوئے عام طور پو چہرہ لمبوترا ہو جاتا ہے لیکن یہاں تو سبھی گول تھا۔ شاید اسی لئے چاندنی کی طرف گال اور ہونٹوں کے بیچ ایک سائے دار کھوہ سی بنی ہوئی تھی۔ جیسی دو سر سبز اور شاداب ٹیلوں کے بیچ ہوتی ہے۔ ماتھا کچھ تنگ تھا لیکن اس پر سے ایکا ایکی اٹھنے والے گھنگھریالے بال۔ جبھی اندو نے اپنا چہرہ چھڑا لیا جیسے وہ دیکھنے کی اجازت تو دیتی ہو لیکن اتنی دیر کے لئے نہیں۔ آخر شرم کی بھی تو کوئی حد ہوتی ہے۔ مدن نے ذرا سخت ہاتھوں سے یوں ہی سی ہوں ہاں کرتے ہوئے دلہن کا چہرہ پھر سے اوپر کو اٹھا دیا اور شرابی سی آواز میں کہا۔ ’’اندو!‘‘ اندو کچھ ڈر سی گئی۔ زندگی میں پہلی بار کسی اجنبی نے اس کا نام اس انداز سے پکارا تھا اور وہ اجنبی کسی خدائی حق سے رات کے اندھیرے میں آہستہ آہستہ اس اکیلی بے یار و مددگار عورت کا اپنا ہوتا جا رہا تھا۔۔ ’’میں نے تو ابھی سے چار سوٹ اور کچھ برتن الگ کر ڈالے ہیں اس کے لئے اور جب مدن نے کوئی جواب نہ دیا تو اسے جھنجھوڑتے ہوئے بولی۔ ’’تم کیوں پریشان ہوتے ہو.... یاد نہیں اپنا وچن....؟ تم اپنے دکھ مجھے دے چکے ہو۔‘‘ ’’ایں؟‘‘ مدن نے چونکتے ہوئے کہا اور جیسے بے فکر ہو گیا لیکن اب کے جب اس نے اندو کو اپنے ساتھ لپٹایا تو وہاں ایک جسم ہی نہیں رہ گیا تھا ساتھ ایک روح بھی شامل ہو گئی تھی.... مدن کے لئے اندو روح ہی روح تھی۔ اندو کا جسم بھی تھا لیکن وہ ہمیشہ کسی نہ کسی وجہ سے مدن کی نظروں سے اوجھل ہی رہا۔ ایک پردہ تھا۔ خواب کے تاروں سے بنا ہوا۔ انہوں کے دھوئیں سے رنگین قہقہوں کی زر تاری سے چکا چوند جو ہر وقت اندو کو ڈھانپے رہتا تھا۔ مدن کی نگاہوں اور اس کے ہاتھوں کے دو شاسن صدیوں سے اس درو پدی کا چیر ہرن کرتے آئے تھے جو کہ عرفِ عام میں بیوی کہلاتی ہے لیکن ہمیشہ اسے آسمانوں سے تھانوں کے تھان، گزوں کے گز، کپڑا ننگا پن ڈھانپنے کے لئے ملتا آیا تھا۔ دو شاسن تھک ہار کے یہاں وہاں گرے پڑے تھے لیکن درو پدی وہیں کھڑی تھیں، عزت اور پاکیزگی کی ایک سفید اور بے داغ ساری میں ملبوس وہ دیوی لگ رہی تھی۔ اور .... مدن کے لوٹتے ہوئے ہاتھ خجالت کے پسینے سے تر ہوئے، جسے سکھانے کے لئے وہ انہیں اوپر ہوا میں اٹھا دیتا اور پھر ہاتھ کے پنجوں کو پورے طور پر پھیلا تا ہوا، ایک تشنجی کیفیت میں اپنی آنکھوں کی پھیلتی پھٹتی ہوئی پتلیوں کو سامنے رکھ دیا اور پھر انگلیوں کے بیچ میں سے جھانکتا.... اندو کا مر مریں جسم خوش رنگ اور گداز سامنے پڑا ہوتا۔ استعمال کے لئے پاس، ابتذال کے لئے دور.... کبھی جب اندو کی ناکہ بندی ہو جاتی تو اس قسم کے فقرے ہوتے.... ’’ہائے جی‘‘ گھر میں چھوٹے بڑے ہیں۔ وہ کیا کہیں گے؟ مدن کہتا۔ ’’چھوٹے سمجھتے نہیں .... بڑے انجان بن جاتے ہیں۔‘‘ اسی دوران میں بابو دھنی رام کی تبدیلی سہارنپور ہو گئی۔ وہاں وہ ریلوے میل سروس میں سیلیکشن گریڈ کے ہیڈ کلرک ہو گئے۔ اتنا بڑا کوارٹر ملا کہ اس میں آٹھ کنبے رہ سکتے تھے لیکن بابو دھنی رام اس میں اکیلے ہی ٹانگیں پھیلائے کھڑے رہتے۔ زندگی بھر وہ بال بچوں سے کبھی علیٰحدہ نہیں ہوئے تھے۔ سخت گھریلو قسم کے آدمی۔ آخری زندگی میں اس تنہائی نے ان کے دل میں وحشت پیدا کر دی لیکن مجبوری تھی، بچے سب دلی میں مدن اور اندو کے پاس تھے اور وہیں اسکول میں پڑھتے تھے۔ سال کے خاتمے سے پہلے انہیں بیچ میں اٹھانا ان کی پڑھائی کے لئے اچھا نہ تھا۔ بابو جی کے دل کے دورے پڑنے لگے۔ بارے گرمی کی چھٹیاں ہوئیں۔ ان کے بار بار لکھنے پر مدن نے اندو کو کندن، پاشی اور دلاری کے ساتھ سہارنپور بھیج دیا.... دھنی رام کی دنیا چمک اٹھی۔ کہاں انہیں دفتر کے کام کے بعد فرصت ہی فرصت تھی اور کہاں اب کام ہی کام تھا۔ بچے بچوں ہی کی طرح جہاں کپڑے اتارتے ہیں وہیں پڑے رہنے دیتے اور بابو جی انہیں سمیٹتے پھرتے۔ اپنے مدن سے دور السانی ہوئی رتی، اندو تو اپنے پہناوے تک سے غافل ہو گئی تھی۔ وہ رسوئی میں یوں پھرتی تھی جیسے کانجی ہاؤس میں گائے، باہر کی طرف منہ اٹھا اٹھا کر اپنے مالک کو ڈھونڈا کرتی ہو۔ کام وام کرنے کے بعد وہ کبھی اندر ٹرنکوں پر لیٹ جاتی۔ کبھی باہر کنیر کے بوٹے کے پاس اور کبھی آم کے پیڑ تلے جو آنگن میں کھڑا سینکڑوں ہزاروں دلوں کو تھامے ہوئے تھا۔ ساون بھادوں میں ڈھلنے لگا۔ آنگن میں سے باہر کا دریچہ کھلتا تو کنواریاں، نئی بیاہی ہوئی لڑکیاں پینگ بڑھاتے ہوئے گاتیں .... جھولا کن تے ڈارورے امریاں .... اور پھر گیت کے بول کے مطابق دو جھولتیں اور دو جھلاتیں اور کہیں چار مل جاتیں تو بھول بھلیاں ہو جاتیں۔ ادھیڑ عمر کی بوڑھی عورتیں ایک طرف کھڑی تکا کرتیں۔ اندو کو معلوم ہوتا جیسے وہ بھی ان میں شامل ہو گئی ہے۔ جبھی وہ منہ پھیر لیتی اور ٹھنڈی سانسیں بھرتی ہوئی سو جاتی۔ بابو جی پاس سے گزرتے تو اسے جگانے، اٹھانے کی ذرا بھی کوشش نہ کرتے۔ میسور اور آسام کی طرف سے منگوایا ہوا بیروزہ مہنگا پڑتا تھا اور لوگ اسے مہنگے داموں خریدنے کو تیار نہ تھے۔ ایک تو آمدنی کم ہو گئی تھی۔ اس پر مدن جلدی ہی دکان اور اس کے ساتھ والا دفتر بند کر کے گھر چلا آتا۔ گھر پہنچ کر اس کی ساری کوشش یہی ہوتی کہ سب کھائیں پئیں اور اپنے اپنے بستروں میں دبک جائیں۔ جب وہ کھاتے وقت خود تھالیاں اٹھا اٹھا کر باپ اور بہن کے سامنے رکھتا اور ان کے کھا چکنے کے جھوٹے برتنوں کو سمیٹ کر نل کے نیچے رکھ دیتا۔ سب سمجھتے بہو۔ بھابی نے مدن کے کان میں کچھ پھونکا ہے اور اب وہ گھر کے کام کاج میں دلچسپی لینے لگا ہے۔ مدن سب سے بڑا تھا۔ کندن اس سے چھوٹا اور پاشی سب سے چھوٹا۔ جب کندن بھابی کے سواگت میں سب کے ایک ساتھ بیٹھ کر کھانے پر اصرار کرتا تو باپ دھنی رام وہیں ڈانٹ دیتا۔ ’’کھاؤ تم۔ ‘‘ وہ کہتا ’’ وہ بھی کھا لیں گی‘‘ اور پھر رسوئی میں ادھر ادھر دیکھنے لگتا اور جب بہو کھانے پینے سے فارغ ہو جاتی اور برتنو ں کی طرف متوجہ ہوتی تو بابو دھنی رام اسے روکتے ہوئے کہتے۔ ’’رہنے دے بہو برتن صبح ہو جائیں گے۔‘‘ اندو کہتی ’’نہیں بابو جی.... میں ابھی کئے دیتی ہوں جھپاکے سے۔‘‘ تب بابو دھنی رام ایک لرزتی ہوئی آواز میں کہتے ’’مدن کی ماں ہوتی بہو، تو یہ سب تمہیں نہ کرنے دیتی۔ ....؟ اور اندو ایک دم اپنے ہاتھ روک لیتی۔ چھوٹا پاشی بھابی سے شرماتا تھا۔ اس خیال سے کہ دلہن کی گود جھٹ سے ہری ہو، چمکی بھابی اور دریا باد والی پھوپھی نے ایک رسم میں پاشی ہی کو اندو کی گود میں ڈالا تھا۔ جب سے اندو اسے نہ صرف دیور بلکہ اپنا بچہ سمجھنے لگی تھی۔ جب بھی وہ پیار سے پاشی کو اپنے بازوؤں میں لینے کی کوشش کرتی تو وہ گھبرا اٹھتا اور اپنا آپ چھڑا کر دو ہاتھ کی دوری پر کھڑا ہو جاتا۔ دیکھتا اور ہنستا رہتا۔ پاس آتا تو دور ہٹتا۔ ایک عجیب اتفاق سے ایسے میں بابو جی ہمیشہ وہیں موجود ہوتے اور پاشی کو ڈانٹتے ہوئے کہتے ’’ارے جانا .... بھابی پیا ر کرتی ہے ابھی سے مرد ہو گیا تو؟‘‘ اور دلاری تو پیچھا ہی نہ چھوڑتی اس کا۔ ’’میں تو بھابی کے ساتھ ہی سوؤں گی۔‘‘ کے اصرار نے بابو جی کے اندر کوئی جنا ردھن جگا دیا تھا۔ ایک رات اس بات پر دلاری کو زور سے چپت پڑی اور وہ گھر کی آدھی کچی، آدھی پکی نالی میں جا گری۔ اندو نے لپکتے ہوئے پکڑا تو سر سے دوپٹہ اڑ گیا۔ بالوں کے پھول اور چڑیاں، مانگ کا سیندور، کانوں کے کرن پھول سب ننگے ہو گئے۔ ’’بابو جی‘‘۔ اندو نے سانس کھینچتے ہوئے کہا.... ایک ساتھ دلاری کو پکڑنے اور سر پر دوپٹہ اوڑھنے میں اندو کے پسینے چھوٹ گئے۔ اس بے ماں بچی کو چھاتی سے لگائے ہوئے اندو نے اسے ایک ایسے بستر میں سلا دیا جہاں سرہانے ہی سرہانے، تکئے ہی تکئے تھے۔ نہ کہیں پائنتی تھی نہ کاٹھ کے بازو۔ چوٹ تو ایک طرف کہیں کو چبھنے والی چیز بھی نہ تھی۔ پھر اندو کی انگلیاں دلاری کے پھوڑے ایسے سر پر چلتی ہوئی اسے دکھا بھی رہی تھیں اور مزا بھی دے رہی تھیں۔ دلاری کے گالوں پر بڑے بڑے اور پیارے پیارے گڑھے پڑتے تھے۔ اندو نے ان گڑھوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ’’ہائے ری منی! تیری ساس مرے، کیسے گڑھے پڑ رہے ہیں گالوں پر....!‘‘ منی نے منی کی طرح کہا۔ ’’گڑھے تمہارے بھی تو پڑتے ہیں بھابی۔‘‘ ’’ہاں منو!‘‘ اندو نے کہا اور ایک ٹھنڈا سانس لیا۔ مدن کو کسی بات پر غصہ تھا۔ وہ پاس ہی کھڑا سب کچھ سن رہا تھا۔ ’’میں تو کہتا ہوں ایک طرح سے اچھا ہی ہے۔‘‘ ’’کیوں اچھا کیوں ہے؟‘‘ اندو نے پوچھا۔ ’’ہاں .... نہ اُگے بانس نہ بجے بانسری.... سانس نہ ہو تو کوئی جھگڑا نہیں رہتا۔‘‘ اندو نے ایکا ایکی خفا ہوتے ہوئے کہا۔ ’’تم جاؤ جی سو رہو جا کر.... بڑے آئے ہو.... آدمی جیتا ہے تو لڑتا ہے نا؟ مر گھٹ کی چپ چاپ سے جھگڑے بھلے۔ جاؤ نہ رسوئی میں تمہارا کیا کام؟‘‘ مدن کھسیانا ہو کر رہ گیا۔ بابو دھنی رام کی ڈانٹ سے باقی بچے تو پہلے ہی اپنے اپنے بستروں میں یوں جا پڑے تھے جیسے دفتروں میں چھٹیاں سٹارٹ ہو تی ہیں۔۔ لیکن مدن وہیں کھڑا رہا۔ احتیاج نے اسے ڈھیٹ اور بے شرم بنا دیا تھا لیکن اس وقت جب اندو نے بھی اسے ڈانٹ دیا تو وہ روہانسا ہو کر اندر چلا گیا۔ دیر تک مدن بستر میں پڑا کسمساتا رہا لیکن بابو جی کے خیال سے اندو کو آواز دینے کی ہمت نہ پڑتی تھی۔ اس کی بے صبری کی حد ہو گئی تھی۔ جب منی کو سلانے کے لئے اندو کی لوری کی آواز سنائی دی.... ’’تو آ نندیا رانی، بورائی مستانی۔‘‘ وہی لوری جو دلاری منی کو سلا رہی تھی، مدن کی نیند بھگا رہی تھی۔ اپنے آپ سے بیزار ہو کر اس نے زور سے چادر سر پر کھینچ لی۔ سفید چادر کے سر پر لپیٹنے اور سانس کے بند کرنے سے خواہ مخواہ ایک مردے کا تصور پیدا ہو گیا۔ مدن کو یوں لگا جیسے وہ مر چکا ہے اور اس کی دلہن اندو اس کے پاس بیٹھی زور زور سے سر پیٹ رہی ہے، دیوار کے ساتھ کلائیاں مار مار کر چوڑیاں توڑ رہی ہے اور پھر باہر لپک جاتی ہے اور بانہیں اٹھا اٹھا کر اگلے محلے کے لوگوں سے فریاد کرتی ہے۔ ’’لوگو! میں لٹ گئی۔ ‘‘ اب اسے دوپٹے کی پرواہ نہیں۔ قمیض کی پرواہ نہیں۔ مانگ کا سیندور، بالوں کے پھول اور چوڑیاں، جذبات اور خیالات کے طوطے تک اڑ چکے ہیں۔ مدن کی آنکھوں سے بے تحاشہ آنسو بہہ رہے تھے۔ حالانکہ رسوئی میں اندو ہنس رہی تھی۔ پل بھرمیں اپنے سہاگ کے اجڑنے اور پھر بس جانے سے بے خبر۔ مدن جب حقائق کی دنیا میں واپس آیا تو آنسو پونچھتے ہوئے اپنے اس رونے پر ہنسنے لگا.... ادھر اندو تو ہنس رہی تھی لیکن اس کی ہنسی دبی دبی تھی۔ بابو جی کے خیال سے وہ کبھی اونچی آواز میں نہ ہنستی تھی جیسے کھلکھلاہٹ کوئی ننگا پن ہے، خاموشی، دوپٹہ اور دبی دبی ہنسی ایک گھونگٹ۔ پھر مدن نے اندو کا ایک خیالی بت بنایا اور اس سے بیسیوں باتیں کر ڈالیں۔ یوں اس سے پیار کیا جیسے ابھی تک نہ کیا تھا.... وہ پھر اپنی دنیا میں لوٹا جس میں ساتھ کا بستر خالی تھا۔ اس نے ہولے سے آواز دی.... اندو.... ایک اونگھ سی آئی لیکن ساتھ ہی یوں لگا جیسے شادی کی رات والی، پڑوسی سبطے کی بھینس منہ کے پاس پھنکارنے لگی ہے۔ وہ ایک بے کلی کے عالم میں اٹھا، پھر رسوئی کی طرف دیکھتے، سر کو کھجاتے ہوئے دو تین جمائیاں لے کر لیٹ گیا.... سو گیا.... مدن جیسے کانوں کو کوئی سندیسہ دے کر سویا تھا۔ جب اندو کی چوڑیاں بستر کی سلوٹیں سیدھی کرنے سے کھنک اٹھیں تو وہ بھی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ یوں ایک دم جاگنے میں محبت کا جذبہ اور بھی تیز ہو گیا تھا۔ پیار کی کروٹوں کو توڑے بغیر آدمی سو جائے اور ایکا ایکی اٹھے تو محبت دم توڑ دیتی ہے۔ مدن کا سارا بدن اندر کی آگ سے پھنک رہا تھا۔ اور یہی اس کے غصے کا کرن بن گیا۔ جب اس نے بوکھلائے ہوئے انداز میں کہا۔ ’’تو تم .... آ گئیں؟‘‘ ’’ہاں۔‘‘ ’’سنی.... سو مر گئی؟‘‘ اندو جھکی جھکی ایک دم سیدھی کھڑی ہو گئی۔ ’’ہائے رام‘‘ اس نے ناک پر انگلی رکھتے ہوئے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔ ’’کیا کہہ رہے ہو.... مرے کیوں بیچاری۔ ماں باپ کی ایک نہ ہی بیٹی۔‘‘ ’’ہاں .... مدن نے کہا۔ ’’بھابھی کی ایک ہی نند۔‘‘ اور ایک دم تحکمانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے بولا۔ ’’زیادہ منہ مت لگاؤ اس چڑیل کو۔‘‘ ’’کیوں اس میں کیا پاپ ہے؟‘‘ ’’یہی پاپ ہی‘‘ مدن نے اور چڑتے ہوئے کہا۔ ’’وہ پیچھا ہی نہیں چھوڑتی تمہارا۔ جب دیکھو جونک کی طرح چمٹی ہوئی ہے۔ دفان ہی نہیں ہوتی۔‘‘ ’’ہا.... اندو نے مدن کی چارپائی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ ’’بہنوں اور بیٹیوں کو یوں تو دھتکارنا نہیں چاہئے۔ بیچاری دو دن کی مہمان۔۔ آج نہیں تو کل۔ کل نہیں تو پرسوں۔ ایک دن تو چل ہی دے گی۔‘‘ اس کے بعد اندو کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن وہ چپ ہو گئی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اپنے ماں باپ، بھائی بہن چچا بھی گھوم گئے۔ کبھی وہ بھی ان کی دلاری تھی۔ جو پلک جھپکتے ہی نیاری ہو گئی۔ اور پھر دن رات اس کے نکالے جانے کی باتیں ہو نے لگیں۔ جیسے گھر میں کوئی بڑی سی باہنی ہے جس میں کوئی ناگن رہتی ہے اور جب تک وہ پکڑ کر پھنکوائی نہیں جاتی۔ گھر کے لوگ آرام کی نیند سو نہیں سکتے۔ دور دور سے کیلنے والے لتھن کرنے والے۔ دات چھوڑنے والے ماندری بلوائے گئے اور بڑے دھتورے اور موتی ساگر۔ آخر ایک دن اتر پچھم کی طرف سے لال آندھی آئی جو صاف ہوئی تو ایک لاری کھڑی تھی جس میں گوٹے کنری میں لپٹی ہوئی ایک دلہن بیٹھی تھی۔ پیچھے گھر میں ایک سر پر بجھتی ہوئی شہنائی بین کی آواز معلوم ہو رہی تھی۔ پھر ایک دھچکے کے ساتھ لاری چل دی۔ مدن نے کچھ برافروختگی کے عالم میں کہا.... ’’ تم عورتیں بڑی چالاک ہوتی ہو۔ ابھی کل ہی اس گھر میں آئی ہو اور یہاں کے سب لوگ تمہیں ہم سے زیادہ پیار کرنے لگے ہیں؟‘‘ ’’ہاں !‘‘ اندو نے اثبات میں کہا۔ ’’یہ سب جھوٹ ہے.... یہ ہو ہی نہیں سکتا۔‘‘ ’’تمہارا مطلب ہے میں ....‘‘ ’’دکھاوا ہے یہ سب .... ہاں !‘‘ ’’اچھا جی؟‘‘ اندو نے آنکھوں میں آنسو لاتے ہوئے کہا۔ ’’یہ سب دکھاوا ہے میرا؟ اور اندو اٹھ کر اپنے بستر میں چلی گئی۔ اور سرہانے میں منہ چھپا کر سسکیاں بھرنے لگی۔ مدن اسے منانے والا ہی تھا کہ اندو خود ہی اٹھ کر مدن کے پاس آ گئی اور سختی سے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی۔ ’’تم جو ہر وقت جلی کٹی کہتے رہتے ہو.... ہوا کیا ہے تمہیں؟‘‘ مجھے تم سے کچھ نہیں لینا۔‘‘ ’’تمہیں کچھ نہیں لینا مجھے تو لینا ہے۔‘‘ اندو بولی۔ زندگی بھر لینا ہے اور وہ چھینا جھپٹی کرنے لگی۔ مدن اسے دھتکارتا تھا اور وہ اس سے لپٹ لپٹ جاتی تھی۔ وہ اس مچھلی کی طرح تھی جو بہاؤ میں بہہ جانے کی بجائے آبشار کے تیز دھارے کو کاٹتی ہوئی اوپر ہی اوپر پہنچانا چاہتی ہو۔ چٹکیاں لیتے ہوئے، ہاتھ پکڑتی، روتی ہنستی وہ کہہ رہی تھی.... ’’پھر مجھے پھاپھا کٹنی کہو گے؟‘‘ ’’وہ تو سبھی عورتیں ہوتی ہیں۔‘‘ ’’ٹھہرو.... تمہاری تو....‘‘ یوں معلوم ہوا جیسے اندو کوئی گالی دینے والی ہو.... اور اس نے منہ میں کچھ منمنایا بھی۔ مدن نے مڑتے ہوئے کہا۔ ’’کیا کہا؟‘‘ اور اندو نے اب کی سنائی دینے والی آواز میں دہرایا۔ مدن کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ اگلے ہی لمحے اندو مدن کے بازوؤں میں تھی اور کہہ رہی تھی ’’تم مرد لوگ کیا جانو؟.... جس سے پیار ہوتا ہے اس کے سبھی عزیز پیارے معلوم ہوتے ہیں۔ کیا باپ کیا بھائی اور کیا بہن....‘‘ اور ایکا ایکی کہیں دور سے دیکھتے ہوئے بولی۔ ’’ میں تو دلاری منی کا بیاہ کروں گی۔‘‘ ’’حد ہو گئی‘‘ مدن نے کہا۔ ’’ابھی ایک ہاتھ کی ہوئی نہیں اور بیاہ کی سوچنے لگیں۔‘‘ ’’تمہیں ایک ہاتھ کی لگتی ہے نا؟‘‘ اندو بولی اور پھر اپنے ہاتھ مدن کی آنکھوں پر رکھتے ہوئے کہنے لگی۔ ’’ذرا آنکھیں بند کرو اور پھر کھولو۔‘‘ مدن نے سچ مچ ہی آنکھیں بند کر لیں اور جب کچھ دیر تک نہ کھولیں تو اندو بولی۔ ’’اب کھولو بھی.... اتنی دیر میں تو میں بوڑھی ہو جاؤں گی۔ جبھی مدن نے آنکھیں کھول دیں۔ لمحہ بھر کے لئے اسے یوں لگا جیسے سامنے اندو نہیں منی بیٹھی ہے اور وہ کھو سا گیا۔ بلکہ موقع نہ پا کر اس شلوار کو جو بہو دھوتی سے بدل آتی اور جسے وہ ہمیشہ اپنی ساس والے پرانے صندل کے صندوق پر پھینک دیتی، اٹھا کر کھونٹی پر لٹکا دیتے۔ ایسے میں انہیں سب سے نظریں بچانا پڑتیں لیکن ابھی شلوار کو سمیٹ کر مڑتے ہی تو نیچے کونے میں نگاہ بہو کے محرم پر پڑ جاتی۔ تب ان کی ہمت جواب دے جاتی اور وہ شتابی کمرے سے نگل بھاگتے۔ جیسے سانپ کا بچہ بل سے باہر آ گیا ہو۔ پھر برآمدے میں ان کی آواز سنائی دینے لگی۔ اوم نموم بھوتے دا سو دیوا.... اڑوس پڑوس کی عورتوں نے بابو جی کی خوبصورتی کی داستانیں دور دور تک پہنچا دی تھیں۔ جب کوئی عورت بابو جی کے سامنے بہو کے پیارے پن اور سڈول جسم کی باتیں کرتی تو وہ خوشی سے پھول جاتے اور کہتے ’’ہم تو دھنیہ ہو گئے، امی چند کی ماں ! شکر ہے ہمارے گھر میں بھی کوئی صحت والا جیو آیا۔‘‘ اور یہ کہتے ہوئے ان کی نگاہیں کہیں دور پہنچ جاتیں۔ جہاں دق کے عارضے تھے۔ دوائی کی شیشیاں، اسپتال کی سیڑھیاں یا چیونٹیوں کے بل، نگاہ قریب آتی تو موٹے موٹے گدرائے ہوئے جسم والے کئی بچے بغل میں جانگھ پر، گردن پر چڑھتے اترتے ہوئے محسوس ہوتے اور ایسا معلوم ہوتا جیسے ابھی اور آ رہے ہیں۔ پہلو پر لیٹی ہوئی بہو کی کمر زمین کے ساتھ اور کولہے چھت کے ساتھ لگ رہے ہیں اور وہ دھڑا دھڑ بچے جنتی جا رہی ہے اور ان بچوں کی عمر میں کوئی فرق نہیں۔ کوئی بڑا ہے نہ چھوٹا۔ سبھی ایک سے.... جڑواں .... توام .... اوم نمو بھگوتے.... آس پاس کے سب لوگ جان گئے تھے۔ اندو بابو جی کی چہیتی بہو ہے۔ چنانچہ دودھ اور چھاچھ کے مٹکے دھنی رام کے گھر آنے لگے اور پھر ایک دم سلام دین گوجر نے فرمائش کر دی۔ اندو نے کہا ’’بی بی میرا بیٹا آر۔ ایم۔ ایس میں قلی رکھوا دو۔ اللہ تم کو اچھا دے گا۔ ‘‘ اندو کے اشارے کی دیر تھی کہ سلام دین کا بیٹا نو کر ہو گیا۔ وہ بھی سارٹر، جو نہ ہو سکا اس کی قسمت، آسامیاں زیادہ نہ تھیں۔ بہو کے کھانے پینے اور اس کی صحت کا بابو جی خیال رکھتے تھے۔ دودھ پینے سے اندو کو چڑ تھی۔ وہ رات کے وقت خود دودھ کو بالائی میں پھینٹ، گلاس میں ڈال، بہو کو پلانے کے لئے اس کی کھٹیا کے پاس آ جاتے۔ اندو اپنے آپ کو سمیٹتے ہوئے اٹھتی اور کہتی۔ ’’نہیں بابو جی مجھ سے نہیں پیا جاتا۔‘‘ ’’تیرا تو سسر بھی پئے گا۔ ‘‘ وہ مذاق سے کہتے۔ ’’تو پھر آپ پی لیجیئے نا۔‘‘ اندو ہنستی ہوئی جواب دیتی اور بابو جی ایک مصنوعی غصے سے برس پڑتے۔ ’’ تو چاہتی ہے بعد میں تیری بھی وہی حالت ہو جو تیری ساس کی ہوئی؟‘‘ ہوں .... ہوں .... اندو لاڈ سے روٹھنے لگی۔ آخر کیوں نہ روٹھتی۔ وہ لوگ نہیں روٹھتے جنہیں منانے والا کوئی نہ ہو لیکن یہاں منانے والے سب تھے، روٹھنے والا صرف ایک۔ جب اندو بابو جی کے ہاتھ سے گلاس نہ لیتی تو وہ اسے کھٹیا کے پاس سرہانے کے نیچے رکھ دیتے.... اور ’’لے یہ پڑا ہے"، تیری مرضی ہے تو پی .... نہیں مرضی تو نہ پی....‘‘ کہتے ہوئے چل دیتے۔ اپنے بستر پر پہنچ کر دھنی رام دلاری منی کے پاس کھیلنے لگتے۔ دلاری کو بابو جی کے ننگے پنڈے کے ساتھ پنڈا گھسانے اور پھر پیٹ پر منہ رکھ کر پھنکڑا پھلانے کی عادت تھی۔ آج جب بابو جی اور منی یہ کھیل کھیل رہے تھے۔ ہنس ہنسا رہے تھے، تو منی نے بھابی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’دودھ تو خراب ہو جائے گا بابو جی۔ بھابی تو پیتی ہی نہیں۔‘‘ ’’پئے گی ضرور پئے گی بیٹا....‘‘ بابو جی نے دوسرے ہاتھ سے پاشی کو لپٹاتے ہوئے کہا۔ ’’عورتیں گھر کی کسی چیز کو خراب ہوتے نہیں دیکھ سکتیں۔‘‘ ابھی یہ فقرہ بابو جی کے منہ ہی میں ہوتا کہ ایک طرف سے ’’ہش.... ہے خصم کھانی‘‘ کی آواز آنے لگتی۔ پتہ چلتا بہو بلی کو بھگا رہی ہے اور پھر غٹ غٹ سی سنائے دیتی اور سب جان لیتے بہو.... بھابی نے دودھ پی لیا۔ کچھ دیر کے بعد کندن بابو جی کے پاس آتا اور کہتا ’’بوجی.... بھابی رو رہی ہے۔‘‘۔ ’’ہائیں؟‘‘ بابو جی کہتے اور پھر اٹھ کر اندھیرے میں دور اسی طرف دیکھنے لگتے جدھر بہو کی چارپائی پڑی ہوتی۔ کچھ دیر یوں ہی بیٹھے رہنے کے بعد وہ پھر لیٹ جاتے اور کچھ سمجھتے ہوئے کندن سے کہتے۔ ’’جا.... تو سو جا.... وہ بھی سو جائے گی اپنے آپ۔‘‘ اور پھر لیٹتے ہوئے بابو دھنی رام آسمان پر کھلے ہوئے پرماتما کے گلزار کو دیکھنے لگتے اور اپنے من میں بھگوان سے پوچھتے....‘‘ چاندی کے ان کھلتے بند ہوئے ہوئے .... پھولوں میں میرا پھول کہا ہے؟‘‘ اور پھر پورا آسمان انہیں درد کا ایک دریا دکھائی دینے لگتا اور کانوں میں مسلسل ایک ہاؤ کی آواز سنائی دیتی جسے سنتے ہوئے وہ کہتے۔ ’’جب سے دنیا بنی ہے انسان کتنا رویا ہے!‘‘ اور روتے روتے سو جاتے۔ اندو کے جانے سے بیس پچیس روز ہی میں مدن نے واویلا شروع کر دیا۔ اس نے لکھا۔ میں بازار کی روٹیاں کھاتے کھاتے تنگ آ گیا ہوں۔ مجھے قبض ہو گئی ہے۔ گردے کا درد شروع ہو گیا ہے۔ پھر جیسے دفتر کے لوگ چھٹی کی عرضی کے ساتھ ڈاکٹر کا سرٹیفکیٹ بھیج دیتے ہیں۔ مدن نے بابو جی کو ایک دوسرے سے تصدیق کی چھٹی لکھوا بھیجی۔ اس پر بھی جب کچھ نہ ہوا تو ایک ڈبل تار.... جوابی۔ جوابی تار کے پیسے مارے گئے لیکن بلا سے۔ اندو اور بچے لوٹ آئے تھے۔ مدن نے اندو سے دو دن سیدھے منہ بات ہی نہ کی۔ یہ دکھ بھی اندو ہی کا تھا۔ ایک دن مدن کو اکیلے میں پا کر وہ پکڑ بیٹھی اور بولی۔ ’’اتنا منہ پھلائے بیٹھے ہو.... میں نے کیا کیا ہے؟‘‘ مدن نے اپنے آپ کو چھڑاتے ہوئے کہا۔ ’’چھوڑ.... دور ہو جا میر آنکھوں سے .... کمی....‘‘ ’’یہی کہنے کے لئے اتنی دور سے بلوایا ہے؟‘‘ ’’ہاں !‘‘ ’’ہٹاؤ اب۔‘‘ ’’خبردار.... یہ سب تمہارا ہی کیا دھرا ہے جو تم آنا چاہتی تو کیا بابو جی روک لیتے؟‘‘ اندو نے بے بسی سے کہا۔ ’’ہائے جی.... تم بچوں کی سی باتیں کرتے ہو۔ میں انہیں بھلا کیسے کہہ سکتی تھی؟ سچ پوچھو تو تم نے مجھے بلوا کر بابو جی پر تو بڑا جلم کیا ہے۔‘‘ ’’کیا مطلب؟‘‘ ’’مطلب کچھ نہیں .... ان کا جی بہت لگا ہوا تھا بال بچوں میں۔‘‘ ’’اور میرا جی؟‘‘ ’’تمہارا جی؟‘‘ .... تم تو کہیں بھی لگا سکتے ہو۔ اندو نے شرارت سے کہا اور اس طرح سے مدن کی طرف دیکھا کہ اس کی مدافعت کی ساری قوتیں ختم ہو گئیں۔ یوں بھی اسے کسی اچھے سے بہانے کی تلاش تھی۔ ا س نے اندو کو پکڑ کر سینے سے لگا لیا۔ اور بولا۔ ’’بابو جی تم سے بہت خوش تھے؟‘‘ ’’ہاں ‘‘ اندو بولی۔ ’’ایک دن میں جاگی تو دیکھا سرہانے کھڑے مجھے دیکھ رہے ہیں۔‘‘ ’’یہ نہیں ہو سکتا۔‘‘ ’’اپنی قسم!‘‘ ’’اپنی قسم نہیں .... میری قسم کھاؤ۔‘‘ ’’تمہاری قسم تو میں نہیں کھاتی.... کوئی کچھ بھی دے۔‘‘ ’’ہاں !‘‘ مدن نے سوچتے ہوئے کہا۔ ’’کتابوں میں اسے سیکس کہتے ہیں۔‘‘ ’’سیکس؟‘‘ اندو نے پوچھا وہ کیا ہوتا ہے؟۔ ’’وہی جو مرد اور عورت کے بیچ ہوتا ہے۔‘‘ ’’ہائے رام!‘‘ اندو نے ایک دم پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔ ’’گندے کہیں کے .... شرم نہیں آئی بابو جی کے بارے میں ایسا سوچتے ہوئے؟‘‘ ’’تو بابو جی کو نہ آئی تجھے دیکھتے ہوئے؟‘‘ ’’کیوں؟‘‘ اندو نے بابو جی کی طرف داری کرتے ہوئے کہا۔ ’’وہ اپنی بہو کو دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے۔‘‘ ’’کیوں نہیں۔ جب بہو تم ایسی ہو۔‘‘ ’’تمہارا من گندا ہے۔ اندو نے نفرت سے کہا۔ اس لئے تمہارا کاروبار بھی گندے بروزے کا ہے۔ تمہاری کتابیں سب گندگی سے بھری پڑ ی ہیں۔ تمہیں اور تمہاری کتابوں کو اس کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ایسے تو جب میں بڑی ہو گئی تھی تو میرے پتا جی نے مجھ سے ادھک پیار کر نا شروع کر دیا تھا۔ تو کیا وہ بھی.... وہ تھا نگوڑا.... جس کا تم ابھی نام لے رہے تھے۔‘‘ اور پھر اندو بولی۔ ’’بابو جی کو یہاں بلا لو۔ ان کا وہاں جرا بھی جی نہیں لگتا۔ وہ دکھی ہوں گے تو کیا تم دکھی نہیں ہو گے؟‘‘ مدن اپنے باپ سے بہت پیا ر کرتا تھا۔ گھر میں ماں کی موت نے بڑا ہونے کے کارن سب سے زیادہ اثر مدن پر ہی کیا تھا۔ اسے اچھی طرح سے یاد تھا۔ ماں کے بیمار رہنے کے باعث جب بھی اس کی موت کا خیال مدن کے دل میں آتا تو آنکھیں موند کر پرارتھنا شروع کر دیتا.... اوم نمو بھگوتے دا سوویوا۔ اوم نمو.... اب وہ نہیں چاہتا تھا کہ باپ کی چھتر چھایا بھی سر سے اٹھ جائے۔ خاص طور پر ایسے میں جبکہ وہ اپنے کاروبار کو بھی جما نہیں پایا تھا۔ اس نے غیر یقینی لہجے میں اندو سے صرف اتنا کہا۔ ’’ابھی رہنے دو بابو کو۔ شادی کے بعد ہم دونوں پہلی بار آزادی کے ساتھ مل سکتے ہیں۔‘‘ تیسرے چوتھے روز بابو جی کا آنسوؤں میں ڈوبا ہوا خط آیا۔ میرے پیارے مدن کے تخاطب میں میرے پیارے کے الفاظ شور پانیوں میں دھل گئے تھے۔ لکھا تھا۔ ’’بہو کے یہاں ہونے پر میر ے تو وہی پرانے دن لوٹ آئے تھے، تمہاری ماں کے دن، جب ہماری نئی شادی ہوئی تھی تو وہ بھی ایسی ہی الہڑ تھی۔ ایسے میں اتارے ہوئے کپڑے ادھر ادھر پھینک دیتی۔ اور پتا جی سمیٹتے پھرتے۔ وہی صندل کا صندوق، وہی بیسویں خلجن.... میں بازار جا رہا ہوں۔ آ رہا ہوں۔ کچھ نہیں تو دہی بڑے یا ربڑی لا رہا ہوں۔ اب گھر میں کوئی نہیں۔ وہ جگہ جہاں صندل کا صندوق پڑا تھا، خالی ہے....‘‘ اور پھر ایک آدھ سطر اور دھل گئی تھی۔ آخر میں لکھا تھا۔ ’’دفتر سے لوٹتے سمے، یہاں کے بڑے بڑے اندھے کمروں میں داخل ہوتے ہوئے میرے من میں ایک ہول سا اٹھتا ہے۔ ....‘‘ اور پھر.... ’’بہوکا خیال رکھنا۔ اسے کسی ایسی ویسی دایہ کے حوالے مت کرنا۔‘‘ اندو نے دونوں ہاتھوں سے چٹھی پکڑ لی۔ سانس کھینچ لی، آنکھیں پھیلاتی شرم سے پانی پانی ہوتی ہوئی بولی۔ ’’میں مر گئی۔ بابو جی کو کیسے پتہ چل گیا؟‘‘ مدن نے چٹھی چھڑاتے ہوئے کہا۔ ’’بابو جی کیا کہتے ہیں؟.... دنیا دیکھی ہے۔ ہمیں پیدا کیا ہے۔ ’’ہاں مگر۔‘‘ اندو بولی۔ ’’ابھی دن ہی کے ہوئے ہیں۔‘‘ اور پھر اس نے ایک تیز سی نظر اپنے پیٹ پر ڈالی جس نے ابھی بڑھنا بھی شروع نہیں کیا تھا اور جیسے بابو جی یا کوئی اور دیکھ رہا ہو۔ اس نے ساری کا پلو اس پر کھینچ لیا اور کچھ سوچنے لگی۔ جبھی ایک چمک سی اس کے چہرے پر آئی اور وہ بولی۔ ’’تمہاری سسرال سے شیرینی آئے گی۔‘‘ ’’میری سسرال؟‘‘ .... اور ہاں۔ مدن نے راستہ پاتے ہوئے کہا۔ ’’کتنی شرم کی بات ہے۔ ابھی چھ آٹھ مہینے شادی کے ہوئے ہیں اور چلا آ رہا ہے۔ ‘‘ اور اس نے اندو کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا۔ مدن کی ٹانگیں ابھی تک کانپ رہی تھیں۔ اس وقت خوف سے نہیں .... تسلی سے۔ ’’چلا آیا ہے یا تم لائے ہو؟‘‘ ’’تم.... یہ سب قصور تمہارا ہے۔ کچھ عورتیں ہوتی ہی ایسی ہیں۔‘‘ ’’تمہیں پسند نہیں؟‘‘ ’’ایک دم نہیں ‘‘ ’’کیوں؟‘‘ ’’چار دن تو مزے لے لیتی زندگی کے۔‘‘ ’’کیا یہ جندگی کا مجا نہیں؟‘‘ اندو نے صدمہ زدہ لہجے میں کہا۔ مرد عورت شادی کس لئے کرتے ہیں؟ بھگوان نے بن مانگے دے دیا نا؟ پوچھو ان سے جن کے نہیں ہوتا۔ پھر وہ کیا کچھ کرتی ہیں۔ پیروں فقیروں کے پاس جاتی ہیں۔ سمادھیوں، مجاوروں پر چوٹیاں باندھتی ہیں، شرم و حیا تج کر دریاؤں کے کنارے ننگی ہو کر سرکنڈے کاٹتی، شمسانوں میں مسان جگاتی۔‘‘ ’’اچھا! اچھا!‘‘ مدن بولا۔ ’’تم نے بکھان ہی شروع کر دیا۔ اولاد کے لئے تھوڑی عمر پڑی تھی۔؟‘‘ ’’ہو گا تو!‘‘ اندو نے سرزنش کے انداز میں انگلی اٹھاتے ہوئے کہا۔ ’’جب تم اسے ہاتھ بھی مت لگانا۔ وہ تمہارا نہیں، میرا ہو گا۔ تمہیں تو اس کی جرورت نہیں، پر اس کے دادا کو بہت ہے۔ یہ میں جانتی ہوں۔‘‘ اور پھر کچھ خجل، کچھ صدمہ زدہ ہو کر اندو نے اپنا منہ دونوں ہاتھوں سے چھپا لیا۔ وہ سوچتی تھی پیٹ میں اس ننھی سی جان کو پالینے کے سلسلے میں، اس جان کا ہوتا سوتا تھوڑی بہت ہمدردی تو کرے گا ہی لیکن مدن چپ چاپ بیٹھا رہا۔ ایک لفظ بھی اس نے منہ سے نہ نکالا۔ اندو نے چہرے پر سے ہاتھ اٹھا کر بدن کی طرف دیکھا اور ہونے والی پہلوٹن کے خاص انداز میں بولی۔ ’’ وہ تو جو کچھ میں کہہ رہی ہوں سب پیچھے ہو گا۔ پہلے تو میں بچوں گی ہی نہیں .... مجھے بچپن سے وہم ہے اس بات کا۔‘‘ مدن بھی جیسے خائف ہو گیا.... یہ خوبصورت ’’چیز‘‘ جو حاملہ ہو جانے کے بعد اور بھی خوبصورت ہو گئی ہے مر جائے گی؟ اس نے پیٹھ کی طرف سے اندو کو تھام لیا اور پھر کھینچ کر اپنے بازوؤں میں لے آیا اور بولا۔ ’’تجھے کچھ نہ ہو گا اندو.... میں تو موت کے منہ سے بھی چھین کر لے آؤں گا تجھے.... اب ساوتری کی نہیں، سیہ دان کی باری ہے....‘‘ مدن سے لپٹ کر اندو بھول ہی گئی کہ اس کا اپنا بھی کوئی دکھ ہے.... اس کے بعد بابو جی نے کچھ نہ لکھا۔ البتہ سہارنپور سے ایک سارٹر آیا جس نے صرف اتنا بتایا کہ بابو جی کو پھر سے دورے پڑنے لگے ہیں۔ ایک دورے میں تو وہ قریب قریب چل ہی بسے تھے۔ مدن ڈر گیا۔ اندو رونے لگی۔ سارٹر کے چلے جانے کے بعد ہمیشہ کی طرح مدن نے آنکھیں موند لیں اور من ہی من میں پڑھنے لگا.... اوم نمو بھگوتے.... دوسرے روز ہی مدن نے باپ کو چٹھی لکھی.... بابو جی! چلے آؤ.... بچے بہت یاد کرتے ہیں اور آپ کی بہو بھی .... ‘‘ لیکن آخری نوکری تھی۔ اپنے بس کی بات تھوڑی تھی۔ دھنی رام کے خط کے مطابق وہ چٹھی کا بندوبست کر رہے تھے.... ان کے بارے میں دن بہ دن مدن کا احساس جرم بڑھنے لگا۔ ’’اگر میں اندو کو وہیں رہنے دیتا تو میرا کیا بگڑجاتا....؟‘‘ وجے دشمی سے ایک رات پہلے مدن اضطراب کے عالم میں بیچ والے کمرے کے باہر برآمدے میں ٹہل رہا تھا کہ اندر سے رو نے کی آواز آئی اور وہ چونک کر دروازے کی طرف لپکا۔ بیگم دایہ باہر آئی اور بولی۔ ’’مبارک ہو۔ ’’مبارک ہو بابو جی.... لڑکا ہوا ہے۔‘‘ ’’لڑکا؟‘‘ مدن نے کہا اور پھر متفکرانہ لہجے میں بولا۔ ’’ بی بی کیسی ہے؟‘‘۔ بیگم بولی۔ ’’خیر مہر ہے.... میں نے ابھی تک اسے لڑکی ہی بتائی ہے.... زچہ زیادہ خوش ہو جائے تو ا س کی آنول نہیں گرتی نا۔‘‘ ’’تو....‘‘ مدن نے بیوقوفوں کی طرح آنکھیں جھپکتے ہوئے کہا اور کمرے میں جانے کے لئے آگے بڑھا۔ بیگم نے اسے وہیں روک دیا اور کہنے لگی۔ ’’تمہارا اندر کیا کام؟‘‘ اور پھر ایکا ایکی دروازہ بھیڑ کر اندر لپک گئی یا شاید اس لئے کہ جب کوئی اس دنیا میں آتا ہے تو ارد گرد کے لوگوں کی یہی حالت ہوتی ہے۔ مدن نے سن رکھا تھا جب لڑکا پیدا ہوتا ہے تو گھر کے در و دیوار لرزنے لگتے ہیں۔ گویا ڈر رہے ہیں کہ بڑا ہو کر ہمیں بیچے گا یا رکھے گا۔ مدن نے محسوس کیا کہ جیسے سچ مچ ہی دیواریں کانپ رہی تھیں .... زچگی کے لئے چکلی بھابی تو نہ آئی تھیں کیونکہ اس کا اپنا بچہ تو بہت چھوٹا تھا البتہ دریا آباد والی پھوپھی ضرور پہنچی تھیں جس نے پیدائش کے وقت رام، رام، رام، رام کی رٹ لگا دی تھی اور اب وہی رٹ مدھم ہو رہی تھی۔ زندگی بھر مدن کو اپنا آپ اس قدر فضول اور بیکار نہ لگا تھا۔ اتنے میں پھر دروازہ کھلا اور پھوپھی نکلی۔ برآمدے کی بجلی کی مدھم روشنی میں اس کا چہرہ بھوت کے چہرے کی طرح ایک دم دودھیا نظر آ رہا تھا۔ مدن نے اس کا راستہ روکتے ہوئے کہا.... ’’اندو ٹھیک ہے نا پھوپھی۔‘‘ ’’ٹھیک ہے ٹھیک ہے ٹھیک ہے! پھوپھی نے تین چار بار کہا اور پھر اپنا لرزتا ہوا ہاتھ مدن کے سر پر رکھ کر اسے نیچا کیا، چوما اور باہر لپک گئی....‘‘ پھوپھی برآمدے کے دروازے میں سے باہر جاتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ وہ بیٹھک میں پہنچی جہاں باقی بچے سو رہے تھے۔ پھوپھی نے ایک ایک کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور پھر چھت کی طرف آنکھیں اٹھا کر منہ میں کچھ بولی اور پھر نڈھال سی ہو کر منی کے پاس لیٹ گئی اوندھی.... اس کے پھڑکتے ہوئے شانوں سے پتہ چل رہا تھا جیسے رو رہی ہے۔ مدن حیران ہوا.... پھوپھی تو کئی زچگیوں سے گزر چکی ہے، پھر کیوں اس کی روح کانپ اٹھی ہے.... پھر ادھر کے کمرے سے ہر مل کی بو باہر لپکی۔ دھوئیں کا ایک غبار سا آیا۔ جس نے مدن کا احاطہ کر لیا۔ اس کا سر چکرا گیا۔ جبھی بیگم دایہ کپڑے میں کچھ لپیٹے ہوئے باہر نکلی۔ کپڑے پر خون ہی خون تھا۔ جس میں کچھ قطرے نکل کر فرش پر گر گئے۔ مدن کے ہوش اڑ گئے۔ اسے معلوم نہ تھا کہ وہ کہا ں ہے۔ آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور کچھ دکھائی نہ دے رہا تھا۔ بیچ میں اندو کی ایک نر گھلی سی آواز آئی۔ ’’ہائے ....ئے ....‘‘ اور پھر بچے کے رونے کی آواز۔‘‘ تین چار دن میں بہت کچھ ہوا۔ مدن نے گھر کے ایک طرف گڑھا کھو د کر آنول کو دبا دیا۔ کتوں کو اندر آنے سے روکا لیکن اسے کچھ یاد نہ تھا۔ اسے یوں لگا جیسے ہرمل کی بو دماغ میں بس جانے کے بعد آج ہی اسے ہوش آیا ہے، کمرے میں وہ اکیلا ہی تھا اور اندو.... نند اور جسووھا.... اور دوسری طرف نند لال.... اندو نے بچے کی طرف دیکھا اور کچھ ٹوہ لینے کے سے انداز میں بولی۔ ’’بالک تم ہی پر گیا ہے۔‘‘ ’’ہو گا۔‘‘ مدن نے ایک اچٹتی ہوئی نظر بچے پر ڈالتے ہوئے کہا۔ ’’میں تو کہتا ہوں شکر ہے بھگوان کا کہ تم بچ گئیں۔‘‘ ’’ہاں !‘‘ اندو بولی۔ ’’میں تو سمجھتی تھی....‘‘ ’’شبھ شبھ بولو۔‘‘ مدن نے ایک دم اندو کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ ’’یہاں تو جو کچھ ہوا ہے.... میں تو اب تمہارے پاس بھی نہیں پھٹکوں گا۔‘‘ اور مدن نے زبان دانتوں تلے دبا لی۔‘‘ ’’توبہ کرو۔‘‘ اندو بولی۔ مدن نے اسی دم کان اپنے ہاتھ سے پکڑ لئے .... اور اندو نحیف آواز میں ہنسنے لگی۔ بچہ ہونے کے کئی روز تک اندو کی ناف ٹھکانے پر نہ آئی۔ وہ گھوم گھوم کر اس بچے کی تلاش کر رہی تھی جو اب اس سے پرے، باہر کی دنیا میں جا کر اپنی اصلی ماں کو بھول گیا تھا۔ اب سب کچھ ٹھیک تھا اور اندو شانتی سے اس دنیا کو تک رہی تھی.... معلوم ہوتا تھا اس نے مدن ہی کے نہیں دنیا بھر کے گناہگاروں کے گناہ معاف کر دئے ہیں اور دیوی بن کر دیا اور کرونا کے پرساد بانٹ رہی ہے.... مدن نے اندو کے منہ کی طرف دیکھا اور سوچنے لگا۔ اس سارے خون خرابے کے بعد کچھ دبلی ہو کر اندو اور بھی اچھی لگنے لگی ہے.... جبھی ایکا ایکی اندو نے دونوں ہاتھ اپنی چھاتیوں پر رکھ لئے۔ ’’ کیا ہوا؟‘‘ مدن نے پوچھا۔ ’’کچھ نہیں۔ اندو تھوڑا سا اٹھنے کی کوشش کر کے بولی۔ ’’اسے بھوک لگی ہی‘‘ اور اس نے بچے کی طرف اشارہ کیا۔ ’’اسے؟.... بھوک؟‘‘ .... مدن نے پہلے بچے کی طرف اور پھر اندو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ’’تمہیں کیسے پتہ چلا؟‘‘ ’’دیکھتے نہیں ‘‘ اندو نیچے کی طرف نگاہ کرتے ہوئے بولی۔ ’’سب کچھ گیلا ہو گیا ہے۔‘‘ مدن نے غور سے ڈھیلے ڈھالے گلے کی طرف دیکھا۔ جھر جھر دودھ بہہ رہا تھا اور ایک خاص قسم کی بو آ رہی تھی۔ پھر اندو نے بچے کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔ ’’اسے مجھے دے دو!‘‘ مدن نے ہاتھ پنگھوڑے کی طرف بڑھایا اور اسی دم کھینچ لیا۔ پھر کچھ ہمت سے کام لیتے ہوئے اس نے بچے کو یوں اٹھایا جیسے وہ کوئی مرا ہوا چوہا ہے۔ آخر اس نے بچے کو اندو کی گود میں دے دیا۔ اندو مدن کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ ’’تم جاؤ.... باہر۔‘‘ ’’کیوں؟‘‘ .... باہر کیوں جاؤں؟‘‘ مدن نے پوچھا۔ ’’جاؤ نا۔ اندو نے کچھ مچلتے، کچھ شرماتے ہوئے کہا۔ ’’تمہارے سامنے میں دودھ نہیں پلا سکوں گی۔‘‘ ’’ارے؟ مدن حیرت سے بولا‘‘ میرے سامنے؟.... نہیں پلا سکے گی۔‘‘ اور پھر نا سمجھی کے انداز میں سر کو جھٹکا دے کر باہر کی طرف چل نکلا۔ دروازے کے پاس پہنچ کر اس نے مڑتے ہوئے اندو پر ایک نگاہ ڈالی۔ اتنی خوبصورت اندو آج تک نہیں لگی تھی۔ بابو دھنی رام چھٹی پر گھر لوٹے تو وہ پہلے سے آدھے دکھائی پڑتے تھے۔ جب اندو نے پوتا ان کی گود میں دیا تو وہ کھل اٹھے۔ ان کے پیٹ کے اندر کوئی پھوڑا نکل آیا تھا جو چوبیس گھٹنے انہیں سولی پر لٹکائے رکھتا۔ اگر منا روتا تو بابو جی کی اس سے دس گنا بری حالت ہوتی۔ کئی علاج کئے گئے۔ بابو جی کے آخری علاج میں ڈاکٹر نے ادھنی کے برابر پندرہ بیس گولیاں روز کھانے کو دیں۔ پہلے ہی دن انہیں اتنا پسینہ آیا کہ دن میں تین تین چار چار بار کپڑے بدلنے پڑے۔ ہر بار مدن کپڑے اتار کر بالٹی میں نچوڑتا۔ صرف پسینے سے ہی بالٹی ایک چوتھائی ہو گئی تھی۔ رات انہیں متلی سی محسوس ہونے لگی تھی اور انہوں نے پکارا.... ’’ بہو ذرا داتن تو دینا ذائقہ بہت خراب ہو رہا ہی‘‘۔ بہو بھاگی ہوئی گئی اور داتن لے کر آئی۔ بابو جی اٹھ کر داتن چبا ہی رہے تھے کہ ایک ابکائی آئی۔ ساتھ ہی خون کا پرنالہ لے آئی۔ بیٹے نے واپس سرہانے کی طرف لٹایا تو ان کی پتلیاں پھر چکی تھیں اور کوئی ہی دم میں وہ اوپر آسمان کے گلزار میں پہنچ چکے تھے جہاں انہوں نے اپنا پھول پہچان لیا تھا.... منے کو پیدا ہوئے کُل بیس پچیس روز ہوئے تھے۔ اندو نے منہ نوچ کر، سر اور چھاتی پیٹ پیٹ کر خود کو نیلا کر لیا۔ مدن کے سامنے وہی منظر تھا جو اس نے تصور میں اپنے مرنے پر دیکھا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اندو نے چوڑیاں توڑنے کی بجائے اتار کر رکھ دی تھیں۔ سر پر راکھ نہیں ڈالی تھی لیکن زمین پر سے مٹی لگ جانے اور بالوں کے بکھر جانے سے چہرہ بھیانک ہو گیا تھا۔ ’’لوگو! میں لٹ گئی۔‘‘ کی جگہ اس نے ایک دل دوز آواز میں چلانا شروع کر دیا تھا۔ ’’لوگو! ہم لٹ گئے !‘‘ گھر بار کا کتنا بوجھ مدن پر آ پڑا تھا۔ اب کا ابھی مدن کو پوری طرح اندازہ نہ تھا۔ صبح ہونے تک اس کا دل لپک کر منہ میں آ گیا۔ وہ شاید بچ نہ پاتا۔ اگر وہ گھر کے باہر بدرو کے کنارے سیل چڑھی مٹی پر اوندھا لیٹ کر اپنے دل کو ٹھکانے پر نہ لاتا.... دھرتی ماں نے چھاتی سے لگا کر اپنے بچے کو بچا لیا تھا۔ چھوٹے بچے کندن، دلاری منی، پاشی یوں چلا رہے تھے جیسے گھونسلے پر شکرے کے حملے پر چڑیا کے بونٹ چونچیں اٹھا اٹھا کر چیں چیں کرتے ہیں۔ انہیں اگر کوئی پروں کے اندر سمیٹتی ہے تو اندو.... نالی کے کنارے پڑے پڑے مدن نے سوچا اب تو یہ دنیا میرے لئے ختم ہو گئی ہے۔ کیا میں جی سکوں گا؟ زندگی میں کبھی ہنس بھی سکوں گا؟ وہ اٹھا اور اٹھ کر گھر کے اندر چلا آیا۔ سیڑھیوں کے نیچے غسل خانہ تھا جس میں گھس کر اندر سے کواڑ بند کرتے ہوئے مدن نے ایک بار پھر اس سوال کو دہرایا.... ’’میں کبھی ہنس بھی سکوں گا؟‘‘ اور وہ کھل کھلا کر ہنس رہا تھا۔ حالانکہ اس کے باپ کی لاش ابھی پاس ہی بیٹھک میں پڑی تھی۔ باپ کو آگ میں حوالے کرنے سے پہلے مدن ارتھی پر پڑے ہوئے جسم کے سامنے ڈنڈوت کے انداز میں لیٹ گیا۔ یہ اس کا اپنے جنم داتا کو آخری پرنام تھا۔ تس پر بھی وہ رو نہ رہا تھا۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر ماتم میں شریک ہونے والے رشتہ دار محلہ سن سے رہ گئے۔ پھر ہندو راج کے مطابق سب سے بڑا بیٹا ہونے کی حیثیت سے مدن کو چتا جلانی پڑی۔ جلت