کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا

سید اسد علی


میں اس وقت تیرہ برس کا تھا اور دریا کے کنارے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔ یہاں اکثریت لوگوں کا پیشہ کھیتی باڑی یا فارمنگ تھا۔ بہت تھوڑے لوگ تھے جنہیں حقیقی معنوں میں پیشہ ور مچھیرا کہا جا سکتا تھا اور جانسن ان لوگوں میں سے ایک تھا۔

وہ ایک عام مچھیرے کی طرح نظر آتا تھا۔ لمبا، مضبوط، گنجلک بال اور تھوڑی سی نکلی ہوئی توند۔ وہ ایک عام مچھیرے کی طرح ہی تھا سحر خیز، شرابی، بے ضرورت گلا پھاڑ کر گانے والا مگر وہ ایک عام مچھیرا نہیں تھا۔ مگر یہ بات شاید کوئی نہیں جانتا تھا۔ یہ ایک مادی دنیا ہے۔ اس میں اہم اور قابل تجزیہ چیز اگر کوئی ہے تو وہ ہیں حقائق۔ رہے محسوسات تو انہیں جانچنے کا دماغ کسے ہے۔ سو سب جانتے تھے کہ اپنی جوانی میں وہ کسی یونیورسٹی میں پڑھنے کو گیا تھا اور یہ بھی کہ چند سال گذارنے کے بعد بھی وہ ایک کورس تک نہ پاس نہ کر سکا۔ مگر یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ ایسا کیوں ہوا؟شاید اس کے لوٹنے کے فوراً بعد کچھ لوگوں نے، کچھ نوجوان لڑکیوں نے تجسس کا اظہار کیا ہو مگر اس کی سرد مہری نے آہستہ آہستہ سب زبانوں کو خاموش کر دیا۔ اب وہ ایک محنتی اور قابل بھروسہ مچھیرا تھا اور بس۔ میں اکثر اسے ناؤ پر بیٹھے دور تلک جاتے دیکھتا رہتا یہاں تک کے دونوں، دریا اور آسمان کے ملاپ میں کہیں گم ہو جاتے۔

وہ ایک چاندنی رات تھی۔ شام کو میرا بابا سے جھگڑا ہوا۔ میں نے بہت سے جگنوں کو پکڑ کر ایک بوتل میں بند کر لیا تھا اور اب اندھیرے کمرے میں ا نہیں چمکتے دیکھتا تھا کہ ایسے میں دروازہ کھلا اور بابا اندر آ گئے۔ انہوں نے وہ بوتل میرے ہاتھ سے لے لی، شاید مجھے دھکا بھی دیا۔ برا بھلا بھی کہا اور صحن میں جا کر بوتل کو انڈیل دیا۔ جگنو بیچارے ایک دوسرے پر اکھٹے ہو کر زمین پر جا گرے اور پھر ایک ایک کر کر فضا میں اڑنے لگے۔ بابا بیکار کاموں کے بہت خلاف تھا۔ اس کی اپنی ایک منطق تھی۔ ایک سوچ تھی  جسے کوئی بدل نہیں سکتا تھا۔ کاش میں انہیں بتا سکتا کہ ایک اندھیرے کمرے میں بچے کی آنکھوں میں چمکتے جگنو کتنے اہم ہو سکتے ہیں۔ مگر وقت گذر چکا تھا۔ اس چاندنی رات کو میں خاموش تھا اور آج وہ۔

تو میں بستر پر اوندھے منہ گر کر روتا رہا۔ یہاں تک کہ گھر کے سب لوگ سو گئے اور کھیتوں میں بولنے والے گیدڑوں کی آوازیں اب گاؤں کے قریب سے آنے لگیں۔ ایسے میں کوئی بھاری بھرکم کتا زور سے بھونکا اور میں بستر سے اٹھ کھڑا ہوا۔ نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ میں کھڑکی سے آ لگا۔ اس رات آسمان پر بہت سے ستارے تھے۔ اس بڑی بوتل کو جس میں یہ سب ستارے قید ہیں بھلا کون چھین سکتا ہے مجھ سے؟

میں مسکراتے ہوئے کھڑکی سے باہر کود پڑا۔ دریا میرے گھر سے بہت قریب تھا۔ مجھے گھاٹ سے مدھر سی لے میں کسی کے گانے کی آواز سنائی دی۔ تھوڑا قریب ہوا تو وہ جانسن تھا۔ وہ کوئی پرانا، دیہاتی گیت گنگنا رہا تھا۔ وہ دریا کنارے اپنی کشتی کے قریب ریت پر بیٹھا تھا۔ اس کے قریب ایک چھوٹا سا الاؤ جل رہا تھا جس پر وہ مچھلی بھون رہا تھا۔ میں اسے اچھی طرح سے دیکھ لینا چاہتا تھا اس سے پہلے کہ وہ

دریا اور آکاش کے ملاپ میں گم ہو جاتا۔ مگر چپو تو کنارے پر پڑے تھے۔ جلد ہی اس نے اپنا کام ختم کر لیا اور کشتی کے قریب بیٹھ کر مچھلی کھانے لگا۔ ایک ٹکڑا وہ اپنے منہ میں ڈالتا اور دوسرا کشتی میں پھینک دیتا۔ یوں لگتا تھا جیسے دو پرانے دوست مل کر کھانا کھا رہے ہوں۔ کھانے کے بعد اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور مدھم آواز میں بڑبڑایا

’’کوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘

میں سمجھا کہ وہ میری موجودگی بھانپ گیا ہے مگر وہ ہر چیز سے بے نیاز پکارتا رہا۔

’’اس آباد ویرانے میں کوئی ہے۔ ایک ایسا صیاد جو ہر پل، ہر ساعت ہمارے واسطے زندان تراشتا ہے۔ اسی محبت اور لگن سے جس سے کوئی خوش فہم عورت چھوٹے چھوٹے کپڑے سیتی ہے۔ عمدہ اون سے ٹوپیاں بنتی ہے اور اسی  محنت سے جس سے کوئی بہار امید پکھیرو کسی نازک سی شاخ پر آشیاں بناتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی ہے جو زمیں کو آسماں، حسن کو مکاں اور خوشبو کو آشیاں بنا دیتا ہے۔ جو ہمارے قدموں میں ایسی بیڑیاں ڈال دیتا ہے جو دیکھنے میں  تو پھولوں کا ہار ہیں مگر روح کی گہرائیوں میں کسی شمشیر کی مانند گھس جاتی ہیں۔ ہاں کوئی ہے جو ہمیں آزاد نہیں رہنے دیتا۔ ‘‘

یہ کہتے ہوئے اس نے بے بسی سے ناؤ کی طرف دیکھا۔ جسے میں نے ہمیشہ اس کا ساتھی سمجھا تھا نجانے کیوں وہ مجھے کسی زنجیر کی طرح نظر آتی تھی آج۔ میں جلدی سے اٹھا اور اس کی نظروں کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ وہ تھوڑا مسکرایا مگر کچھ ایسے کہ کوئی اس کے پیچھے خنجر لئے کھڑا ہے اور دھمکی دیتا ہے کہ نہ مسکرائے تو خیر نہیں۔ میں نے وہ دھمکانے والا بہت ڈھونڈا مگر وہاں کچھ نہ تھا سوائے اس کی ناؤ کے۔

’’آپ بھاگ کیوں نہیں جاتے؟‘‘

’’کیا؟‘‘اس نے حیرانی سے پوچھا

’’یہاں سے دور میدانوں میں، یا پھر پہاڑوں میں جہاں یہ کشتی آپ کو پکڑ نہ سکے۔ ‘‘

اس کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گذر گیا۔

’’تم بہت بڑے ہو گئے ہو۔ مگر میں تمہیں کیسے بتاؤں کہ میں کہیں نہیں جا سکتا۔ میں یہیں کا ہوں۔ اس سے ذیادہ آزادی مجھے کہیں نہیں ملنے والی۔ ‘‘

’’آپ ایسا کیوں سوچتے ہو؟یہ دنیا بہت بڑی ہے۔ ‘‘

’’ہاں یہ دنیا بہت بڑی ہے۔ مگر بد قسمتی سے بہت organizedبھی ہے۔ جیسے کسی مشین میں ہر پرزہ اپنے اپنے دائرے میں ہی گھوم سکتا ہے یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ‘‘

’’میں سمجھا نہیں ‘‘

’’سمجھاتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  شاید تم آج اس سب کا ایک لفظ بھی نہ سمجھ سکو مگر ایک دن تم ضرور سمجھ جاؤ گے۔ سنو۔۔۔۔۔ اس سب کو ایک pyramid  کی طرح جانو۔ جس میں ہر شخص، ہر اینٹ، ہر آواز، ہر خیال ایک اکائی ہے۔ اور یہ سب ایک دوسرے سے اتنے مختلف ہیں کہ ہم اس unity in diversityکا تصور ہی نہیں کر سکتے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے مونا لیزا کو  electronic microscopeکے نیچے رکھ کر دیکھنے لگیں۔ ہمیں مختلف رنگوں کی ماہیت کا پتہ چلے گا۔ بہت سے پیچیدہ اجزا  نظر آئیں گے اور اگر کبھی کوئی ایسا ہو جس کی نظر وہ خوردبین ہی ہو تو کیا وہ کبھی مونا لیزا کا مقصد، اس کا حسن، اس کی منطق جان سکے گا؟ہم سب اس دنیا کے pyramidمیں ایک اینٹ ہیں۔ اور ایک عہد، ایک زمانہ، ایک تہذیب جو بھی intelligent unit

  تصور کیا جا سکتا ہے اس کی حیثیت ایک تہہ کی طرح ہے۔ اہرام کی بنیادوں میں لگی اینٹ اس کی ہیبت، شانو شوکت اور بلندی کا اندازہ نہیں کر سکتی۔ وہ اندازہ کر سکتی ہے تو اس ایک احساس کا، اس بے پناہ بوجھ کے respective shareکا۔

ایک اینٹ جو اپنے اوپر ایک اپنی ہی جیسی اینٹ دیکھتی ہے۔ جس کی شباہت، جس کی رنگت، جس کی سختی سبھی کچھ عقل میں آنے والا ہے۔ جسے وہ اپنے حواس سے محسوس کر سکتی ہے۔ مگر وہ حیران ہے اس بے پناہ بوجھ، اس ناقابل برداشت دباؤ پر جو وہ اوپر والی اینٹ اس پر ڈالتی ہے۔

ہم بھی ایسی ہی ایک دنیا میں رہتے ہیں۔ ہماری عقل، ہمارے حواس اس مادی کائنات کی ایک بہت خوبصورت توجیہہ کر سکتے ہیں۔ مگر ایک انکار کی آواز جو ہر سمت گونجتی محسوس ہوتی ہے۔ ایک بڑے مقصد کا وجدان جس کا دباؤ ہمیں کچلے دیتا ہے۔

ایک اینٹ کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اس بوجھ کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی پتے کی مانند تیرتی پھرے اور جب اس اہرام کو ہر طرف سے دیکھ ڈالے تو اسے خبر ہو کہ وہ کتنے اہم، کتنے بڑے مقصد کا ایک حصہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس اہرام کے ایک دیوانہ وار طواف کے بعد وہ ایک ناظر کی بجائے اس شاہکار قدرت کا حصہ بننا پسند کرے گی۔ وہ تیرتی ہوئی اپنی جگہ پر آ لگے گی۔ اور رجز پڑھے گی اس معمار کے جس نے اسے ٹھیک جگہ پر پیوست کیا۔ جیسا ارسطو نے کہا تھا کہ ایک اینٹ بھی اپنے سے بڑھ کر کچھ بننا چاہتی ہے۔ اور اس کی  یہ خواہش پوری ہو گئی۔ اب وہ اپنی جگہ کبھی نہ چھوڑنا چاہے گی۔ وہ نہیں چاہے گی کہ وقت کی آندھیاں اسے پتوں کی طرح اڑاتی پھریں۔ اس کی اس خواہش کا وجدان کر کے اسے معمار نے گارے اور چونے سے اردگرد کی اینٹوں کے باہم رشتوں میں جکڑ دیا۔ اب وہ اپنی جگہ مقید ہے۔ مگر اسے کبھی بھی کسی زنداں، کسی تنگی کا احساس نہ ہو گا۔ ‘‘

’’عجیب بات ہے۔ آپ یہ سب کچھ جانتے ہو۔ پھر بھی پریشان کیوں ہو؟خود کو قید کیوں محسوس کرتے ہو۔ جیسا کہ آپ نے کہا کہ خدا نے ایک بہترین معمار کی طرح بہترین جگہ کا انتخاب کر کر آپ کو یہاں بھیجا۔ ٹھیک اسی جگہ جہاں آپ کو ہونا چاہیے تھا۔ پھر یہ بے دلی کیسی؟‘‘

’’صرف ایک وجہ کہ میں خدا نہیں ہوں۔ میں اس مقصد کا وجدان نہیں کر سکتا اور یہ تصور مجھے باندھے دیتا ہے۔ جب میں ہزار کوشش کے بعد بھی اس دائرے سے نکل نہیں پاتا تو مجھے اپنا آپ زنجیروں میں جکڑا لگتا ہے۔ ارسطو کا کہنا کہ ایک اینٹ اپنے سے بڑھ کا کچھ بننا چاہتی ہے آدھا سچ ہے۔ درحقیقت ایک اینٹ بھی خدا بننا چاہتی ہے۔ اس اہرام کی ہر اینٹ اس کا طواف کرنا چاہتی ہے۔ اور یہ منطقی طور پر ناممکن ہے۔ اور اپنے خدا نہ بن سکنے کی مجبوری ہمیں زنجیروں کی طرح لگتی ہے۔ ‘‘

’’مگر آپ تو بہت کچھ جانتے ہو؟‘‘

وہ ہنسا

’’ہاں مگر میں نہیں جانتا کہ میں بہت کچھ جانتا ہوں۔ ‘‘

یہ کہ کر وہ اپنی کشتی کی طرف چل پڑا۔ ابھی تھوڑی دیر میں وہ افق میں گم ہو جائے گا اپنی کشتی کے ساتھ اور مجھے اس لمحے سے پہلے گھر چلے جانا چاہیے۔

٭٭٭