کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

پرائے راستے اور اپنے ہم سفر

نعیمہ ضیاءالدین


حنیفاں بی بی زوجہ منظور الٰہی مہینے میں ایک بار اپنے یہاں مجلس کروایا کرتی تھیں۔ بڑے کمرے کی تین دیواروں پر مقّدس طغرے سجائے گئے تھے۔ اپنے آبائی قصبے حویلیاں سے برطانیہ آتے ہوئے، یہ خاندان بڑے سنہرے فریموں میں جڑی آیاتِ مبارکہ، روضۂمقّدس کی تصاویر ہی از حد احتیاط و حفاظت کے ساتھ ہمراہ نہیں لایا تھا، بلکہ وہ اس طرح سے دریائے جہلم کے قریب واقع مذکورہ قصبے کی اپنی ہی مخصوص روایات، ثقافت اور رسم و رواج کی فضا بھی اپنے دماغوں میں ٹرانسپلانٹ کروا کر لے آیا تھا۔ یہ کنبہ اپنے خون کے سرخ ذرّات میں اس مذہبی دیوانگی و جنون کا وحشی جوش کسی وائرس کی مانند داخل کر چکا تھا کہ جس عقیدے کی روح سے ان کی قطعاً شناسائی نہ تھی۔ حنیفاں بی بی اپنے پختہ اعتقاد کے باعث عورت کے ننگے سرکو، جدید سائنسی تعلیم کو، روشن خیال فضاء میں پنپ رہے پُرسکون ماحول کو اور تمام تر  نئی ایجادات کو قربِ قیامت کی نشانیاں قرار دیتی تھیں اور شیطانی محرکات کا شاخسانہ سمجھتی تھیں۔ چنانچہ دافع بلا کی خاطر مہینے میں ایک بار مجلس کروا لیا کرتی تھیں۔ رخسانہ، نفیسہ، جمیلہ، تینوں بیٹیوں کے سرپر کس کر حجاب باندھے رکھتیں۔ دونوں لڑکے نذیر اور طفیل فارغ اوقات میں مسجد کے امور سنبھالتے۔ محلے کی اس مسجد کی تعمیر میں بڑا حصہ منظور الٰہی خاندان ہی کا رہا تھا۔ بعد میں یہی کنبہ اپنے آبائی قصبے سے مولوی محمد حسین کو بطورِ پیش امام یہاں لے کر آیا۔ محمد حسین کا دینی علم واجبی سے بھی کہیں کم تھا۔ لیکن وہ اپنی چرب زبانی نیز پاٹ دار آواز کی بدولت بے یقینی و بھیانک خوف کی ایسی پھنکار پیدا کرنے میں بلا کا طاق تھا جو فہم و شعور کے تمام روشن چراغوں کو کامل طورسے فوراً گُل کر ڈالے۔ خصوصاً جنت و دوزخ کے بیانیہ میں وہ نارِ جہنّم کی ہولناکی کو اس شعلہ بیانی کے تسلسل سے دہراتا کہ سامعین براہِ راست آتش کی وہ لپٹیں، کانوں کے سوراخوں سے اندر گھس کر بدن کے ریشے ریشے کو جھلساتی ہوئی محسوس کرنے لگتے۔ بلاشبہ محمد حسین اپنی پیشہ ورانہ حیثیت میں کامران رہا تھا۔ حنیفاں بی بی کے یہاںحسبِ دستور ابھی ابھی ماہانہ مجلس کا اختتام ہوا تھا۔ آج پہلی مرتبہ ان کی لڑکی نفیسہ نے اپنے اسکول کی چار سہیلیوں کو بھی مجلس میں مدعو کیا تھا۔

چاروں لڑکیاں اکتاہٹ بھری بے صبری سے مجلس کے خاتمے کا انتظار کر رہی تھیں۔ پھر وہ فوراً ہی چوکڑیاں بھرتی ہوئی وہاں سے نفیسہ کے کمرے کو بھاگ اٹھیں۔

’’اے........ سنو........ میرے پاس سگریٹ ہیں——‘‘۔ دروازہ بند ہوتے ہی نینانے سب سے پہلے خوشخبری کا انکشاف کیا۔

’’ریئیلی؟‘‘ للچائی ہوئی شہدی آوازیں بھن بھن کرتی مکھیوں کی مانند حملہ آور ہو گئیں۔ وہ معنی خیز چمکیلی آنکھیں اپنی روشنی میں ایک نمایاں تحریر لکھے ہوئے تھیں۔ جس سے واضح ہوتا تھا کہ ’’سگریٹ‘‘ کیسے ہیں۔

نظر فریب راہوں پر اندھا دھند بھاگنے کو بے قرار خواب کا قافلہ بس کوچ کے اعلان کا ہی منتظر تھا کہ ادھر پرس سے سگریٹ برآمد ہو اور ادھر وہ بے جہت مگر غضب کے کیف و نشاط سے آئے جنگلوں کا رخ کر لے۔

’’نو نو پلیز—— مما کو بو آ جائے گی‘‘۔ اتنے میں نفیسہ گھبرا کر بول اٹھی۔

’’واٹ——؟‘‘ کچّی عمر کی کمسن آنکھیں خوابوں کے بگٹٹ بھاگ اٹھنے والے ریلے کو اچانک وہیں کا وہیں روک لئے جانے پر جھلا اٹھیں۔

’’اور وہ جو تم کبھی کبھی اسکول میں اسموکنگ کر لیتی ہو۔ تب نہیں آتی بو تمہاری مما کو——؟‘‘ سب سے زیادہ رنج غالباً ریما کو ہوا تھا جو فوراً ہی تڑخ کر کہہ اٹھی تھی۔ اس کی ترستی، مچلتی کشمکش کی آنکھ کی گلی میں ’’سکون ہی سکون‘‘ کا بورڈ صاف پڑھا جاسکتا تھا۔ جو ادھر نینا کے کالے بیگ سے نمودار ہوتا اور ریما کے بڑھے ہاتھ پر آن چمکتا۔ پر وہ وہاں اس وقت ہاتھ میں ہو کر بھی ہاتھ نہ آ رہا تھا۔

لڑکیاں پھر سے اکتاہٹ کا شکار ہونے لگیں۔

’’بتاؤنانفیسہ—— آخر اسموکنگ تو تم کرتی ہی ہو——‘‘۔ ناہید نے ریما کی تائید کی۔

’’وہ——!‘‘ نفیسہ نے اس سوال پر براسامنہ بنایا اور دلدوز قسم کی اداکاری دکھاتے ہوئے کہنے لگی۔

’’ماما——؟ میرے اسکول میں لڑکیاں اسموکنگ کرتی ہیں۔ بریک میں تو سارا دھواں ادھر جم جاتا ہے۔ میرے لباس پر بھی——‘‘۔

 

قلقل کرتا قہقہہ ابھرا۔ بے فکر نوجوان و ہرجائی بھنوروں کی طرح اشیاء پر، فرنیچر پر، فانوس و پردوں پر منہ مارتا پھرا اور پھر جا کر دیواروں سے چپک گیا۔ وہاں سے بڑبڑا نہیں تکنے لگا۔ ان نو شگفتہ ادھ کھلی کلیوں ایسے چہروں کو جو شادمانِ بہار زندگی کے اس کیف زدہ موسم سے چور چور تھے کہ جو زندگی میں فقط ایک ہی بار آیا کرتا ہے۔ تب بے خودی میں گم، اوّلین شباب کی حیرت انگیز دریافتوں کے طلسم میں کھوئے بدن کچھ یاد نہیں کر پاتے۔ اپنا آپ بھی جنہیں بھول جاتا ہے۔ وہ بکھری بکھری سی دوشیزائیں بھی یونہی بے بات ہنس رہی تھیں۔

’’اے—— اے—— اے——‘‘۔ یکایک نفیسہ نے ادائے دلبرانہ سے لجا کر ایک الماری کا پٹ کھولا اور اٹھلاتے ہوئے کسی جادوئی منتر کی طرح سے دو ہاتھوں کی بند مٹھی ان تمام منتظر نگاہوں کے روبرو پیش کی۔

’’کیا ہے۔ کیا ہے۔ ؟‘‘ آوازیں جو ابھی چند ثانئے قبل اسموکنگ کی نشیلی دھند میں بھید بھرے مرغولوں سے آئے طلمساتی راستوں پر بے ساختہ و بے اختیار بھاگ اٹھنے کو بے قرار و مضطرب تھیں۔ اور اچانک انکار کے موڑ پر جھنجھلاہٹ بھری، ضدّی، تند، تلخی کے کڑوے غبار میں مجبور ہو کر تھمی کھڑی تھیں، سرعت سے لپک کر پلٹیں اور اس نئی واردات کے انکشافی دروازے پر بے تابی اوڑھے جا بیٹھیں۔

اب وہ ندیدی رال بہاتی نوجوان اشتہاء آوازوں کے ہونٹوں پر گوشوں سے بہہ اٹھنے کو صاف صاف دیکھی جاسکتی تھی۔ جب نفیسہ نے پر شباب جسم کو لہراتے ہوئے آنکھوں میں چھلک اٹھے خمارِ الفت کا راز ان اشتیاق سے لبریز چہروں کے سامنے فاش کر دیا۔

سفید ریشم کا ایک ڈھیر اس کے دونوں ہاتھوں پر اس طور پھیلا تھا کہ مختصر بلاؤز کے سبک تار و پود میں غایت درجہ نازکی کے ہمراہ ابھاری گئی نسوانی سینے کی گولائیاںمسخّر کرتی تھیں۔ لڑکیوں کو مسحور کئے جاتی تھیں۔

’’وا——ؤ——ؤ——‘‘۔ سب کی سب ریشہ خطمی سی ہو گئیں۔ انہوں نے چلّا کر مٹھّیاں بھینچیں اور آگے کی جانب جھک کر دوہری ہوتی چلی گئیں۔

’’سچ بتاؤ—— اسی نے دیا ہے نا—— پیٹر نے——؟‘‘ بیک وقت ساری مکھیاں بھنبھنائیں۔

’’ہاں........ آں.... ....ں ........‘‘۔ نفیسہ کی آواز میں گویا سرور و افتخار، سرشاری وتسکین کا موّاج سمندر ہلکورے لیتا تھا۔

’’گھنّی کمینی —— معاملہ یہاں تک چلا گیا ہے۔ اب اسے پہنو گی کہاں——؟‘‘ کسی نے کہا۔

’’ہاں——یہ تو پرابلم ہے——‘‘۔ نفیسہ کے لہجے میں، لپکتی خواہش، اصرار، خوف اور جوش کی حدت، سب کے سب اس طرح سے کاک ٹیل بن چکے تھے کہ اب ہر جذبے کو علیحدہ علیحدہ کر کے شناخت کرنا ممکن نہ رہا تھا۔

’’ہم اچھی طرح سے سمجھتی ہیں تیری پرابلم—— صاف کیوں نہیں کہتی کہ پیٹر کو پہن کر کیسے دکھاؤں——‘‘

’’ایگزیکٹلی——‘‘۔ نفیسہ ہنس دی—— ’’جب وہ ہولے سے پکارتا ہے‘‘۔ ’’فیری........!‘‘ تو میں تو مر ہی جاتی ہوں۔

’’بھلا یہ بھی کوئی نام ہے۔ نفیسہ‘‘۔

تبھی دروازے سے باہر اوپر آرہے زینے پر قدموں کی ناگوار آہٹ سنائی دی۔ سب کی سب جوشیلی دوشیزائیں بیزار اور پسپا ہوتے ہوئے سپاہیوں کی مانند مڑیں اور جھٹکے سے قالین پر چوکڑی مار کر سنجیدہ صورتیں بنائے جا بیٹھیں۔ ان کے اوّلین بہار میں کھلنے والے گلاب چہرے اب ادھ کٹے، نچڑے لیموں کے چھلکے جیسے ہو رہے تھے۔ منظور الٰہی کی بیوی حنیفاں بی بی سرکو پیشانی تک چوڑے دوپٹے سے ڈھانپے ہوئے کمرے میں داخل ہوئیں۔ ’’کھانا لگ گیا ہے بچیو——‘‘۔ لڑکیوں نے نظروں میں ایک دوجے سے استفسار کیا تھا۔ اور جواب میں نگاہوں نے ایک دوسرے کی تسلّی کر دی تھی۔ کہ ہاں وہ دل نشین بلاؤز پراسرار طور سے مخفی ہو چکا ہے۔ حنیفاں بی بی اور منظور الٰہی جسمانی طور پر لندن میں اور ذہنی لحاظ سے حویلیاں میں مقیم تھے۔ چنانچہ رسم و رواج حویلیاں کے مگر کرنسی برطانیہ کی چاہتے تھے۔ کرنسی کی لالچ میں یہ گھرانا جنون کی حد تک مبتلا تھا۔ اوراسے حاصل کرنے کی خاطر جائز ناجائز کی ہر حد سے تجاوز کر جانا قطعاً غیر اخلاقی فعل نہ گردانتا تھا۔ ان جیسے تمام افراد کو مذہب و قانون بھی اپنا لاگو کروانے کا بے پناہ جوش تھا مگر قومیت برطانیہ کی درکار تھی۔ وہ اس قانونِ فطرت سے کامل نا آشنا تھے کہ جو کچّی عمر کے بدن پر ہر ماحول و خطّے میں اپنا مکمل تصّرف جما لیا کرتا ہے۔

 

’’ڈیوڈ کو آج موسک جانا ہے——‘‘ حسبِ معمول اسکول کی بریک میں پانچوں لڑکیاں اکھٹی تھیں۔ جب ناہید نے یہ اطلاع بہم پہنچائی۔ ’’مجھے جلد جانا ہو گا‘‘۔

’’موسک—— مگر کیوں——؟‘‘ نینا، ریما، سویٹی اور نفیسہ سبھی کے چہروں پر تجسّس نے ایک ہی سوال لکھ ڈالا۔

’’وہ دراصل وہاں اسلام قبول کرے گا‘‘۔ ناہید نے سرگوشی میں انکشاف کیا۔ اس کے لہجے میں راز داری کے علاوہ مخفی قسم کے بھید کی تہہ دار معنویت بھی پوشیدہ تھی۔

’’تو تمہارے پیرنٹس مان جائیں گے——؟‘‘ نفیسہ نے بے اختیار دریافت کیا تھا۔ اس کے اس سوال میں حیرت سے کہیں بڑھ کر امید کی کرن شامل تھی کہ یہ راستہ اس کے لئے بھی خواب کے تعبیر گھر تک پہنچانے والا ثابت ہو جائے تو کیا ہی بات ہے۔ امید و حیرت دونوں کے بیچ بہت ہی ٹرانسپیرنٹ لکیر جیسی بغاوت کی چنگاری بھی تھی جو کبھی بھی دکھائی نہیں دیتی مگر بغیر محسوس کرائے جنگل کے جنگل خاکستر کر ڈالتی ہے پھر جسے بجھانے کو ایک لشکرِ عظیم کی کوشش بھی ناکام رہتی ہے۔

’’میرے پیر نٹس——!‘‘ ناہید ہنس دی۔ ایک تمسخرانہ قسم کی مصنوعی ہنسی۔ ’’میں خوب جانتی ہوں انہیں۔ ان پیرنٹس کو——‘‘۔ لفظ پیرنٹس اس نے چبا کر اگلا تھا۔

’’آر تھوڈو کس پیپلز—— مارے خوشی کے کھل اٹھیں گے کہ ایک انگریز اُن کے ہاتھوں مسلم ہو گیا ہے ایک نو مسلم داماد‘‘۔ ارے وہ تو چاہیں گے کہ بڑا بڑا لکھ کے فریم کروا لیں اور ہر آتے جاتے کو فخر سے دکھایا کریں۔ سُپیریئرٹی کمپلیکس کے مارے ہوئے لوگ۔ ’’بریک ٹائم آف ہو رہا ہے‘‘۔ ریما نے کلائی کی گھڑی پر نظر ڈالی۔ لڑکیوں نے جلدی جلدی سگریٹ بجھائے اور اسکول کی عمارت کو بھاگ اٹھیں۔

 

’’نفیسہ کا مرڈر کر دیا۔ خوداس کی ممّا نے اور بردرز نے مل کر‘‘۔ اطلاع بم کے دھماکے کی طرح سے پھٹ کر فاش ہوئی ’’اوہ—— مائی گاڈ—— !‘‘ تینوں لڑکیوں کے چہرے زرد ہو گئے اور بدن وحشت کے طیش اور صدمے کی شدت سے لرز نے لگے۔ بریک ٹائم کی ساری مسرّت اور سگریٹ کے کیف آور جگنو اس روز پلک جھپکتے میں بجھ گئے جب نینا نے پھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ وہاں پہنچ کر یہ لرزہ خیز انکشاف کیا۔ چاروں لڑکیاں غم سے چور ہو کر آنسو بہانے لگیں۔

’’تم نے اسے یہ راستہ دکھایا تھا‘‘ بھیانک صدمے کافوری ریلا گزر گیا تو سویٹی نے ایک ہاتھ سے چہرے پر دھار کی مانند بہتے اشک صاف کئے اور طیش اور بے بسی کے ملے جلے جذبات میں ناہید پر برسنے لگی۔

’’تم لے گئی تھیں نا اپنے ڈیوڈ کوموسک میں اسلام قبول کروانے تاکہ اسے اپنے پیرنٹس سے ملو اسکو‘‘۔ ’’ہاں—— اور میرے پیرنٹس نے اسے ایکسیپٹ کر لیا تھا۔ کیونکہ انہیں تو ریلِیجن کی خدمت کا چانس ملا تھا، اور میں جانتی تھی اپنے پیرنٹس کو——‘‘۔

’’لیکن نفیسہ کے پیرنٹس تو ایسے نہیں تھے نا۔ اس کی ممّا—— اوہ مائی گاڈ—— وہ تو ہر وقت اپنے گھر ’پرفیومڈ اسٹکز‘ جلا کر بُک پڑھواتی رہتی تھیں، ویمنزسے‘‘۔

’’اس بُک میں یہ بھی تو لکھا ہے کہ دوسرے بُک والوں سے میرج بنائی جاسکتی ہے‘‘۔

’’ہاں—— ں—— ں——‘‘۔ ناہید نے تاسف سے سرہلایا۔ ’’اس کی ممّا اور آف کورس دونوں بردرز ابھی بھی مینٹلی ادھر ہی رہتے ہیں—— اپنے کنٹری کے کسی ولیج میں۔ یہاں تو ان کی ڈمیز تھیں—‘‘

 

’’حنیفاں بیگم——!‘‘ جج نے عینک کے اوپر سے زوجہ منظور الٰہی کو دیکھا۔

’’تم پر اور تمہارے دونوں بیٹوں پر جرم ثابت ہو گیا ہے۔ تم نے اپنی بیٹی نفیسہ کے گلے میں تار کا پھندہ کس کر دونوں بیٹوں کی مدد سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ عدالت تمہیں عمر قید کی اور تمہارے بیٹوں کو اعانتِ جرم کے سبب سات سات برس قید کی سزا سناتی ہے۔ تمہاری بارہ سالہ بیٹی حسینہ بالغ ہونے تک کونسل ہوسٹل میں رہے گی‘‘۔

’’جہاں پر حجاب بھی نہیں کسا جاسکتا اور ڈیوڈ، پیٹر، آرنالڈ بھی اس عمارت کے کسی نہ کسی فلور پر تمام تر قربتوں کے ہمراہ موجود ہوں گے‘‘۔

 

آخری جملہ جج نے ادا نہیں کیا تھا پر اُن سب نے واضح طورسے سن لیا جو وہاں اس وقت حاضر تھے۔

 

٭٭٭