کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

وصیت

نعیمہ ضیاءالدین


شبنمی رات دھیرے دھیرے اتر رہی تھی۔ رخشی نے اخبار سے نظر اٹھا کر انوار کی جانب رخ پھیرا۔ خواب گاہ کی حرارت بخش پرسکون فضاء جو تھکے ہارے انسان کو صرف رات میں ہی دستیاب ہوتی ہے اپنی آسودگی کے باعث اس لمحے کس قدر خوشگوار محسوس ہو رہی تھی۔ بالخصوص یورپ کی مسابقت بھری مشینی زندگی میں کہ جہاں انسان رفتہ رفتہ اپنے ہی پھیلائے ہوئے خواہشوں کے شیطانی جال میں غیر محسوس طریق پر الجھتا چلا جا رہا ہے۔

انوار آج کی موصول شدہ ڈاک دیکھ رہا تھا۔

’’تم ہسپتال گئے تھے فیصل کو دیکھنے....؟‘‘—— رخشی نے اخبار لپیٹ کر اس سے دریافت کیا۔

’’ہاں ——‘‘ وہ اداسی سے اثبات میں سرہلانے لگا۔

’’تو پھر....بچے کی حالت کیسی تھی——‘‘

’’بدستور——‘‘ انوار کے لہجے میں حزن کی آمیزش نمایاں تھی۔

’’جب تک کڈنی ٹرانسپلانٹ نہیں ہوتی، تب تک تو بہتری کے آثار یا امکانات مفقود ہیں——‘‘

’’انوار تم نے یہ خبر دیکھی.... اسی کو پڑھ کر مجھے فیصل کا خیال آیا تھا—— یہاں لکھا ہے کہ ایشیائی کمیونٹی میں آرگن ڈونیٹ کرنے یا خون کا عطیہ دینے کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے‘‘۔

’’وہ تو ہے——‘‘ ——انوار مسکرایا—— اب میں سمجھا کہ تم کیوں ’’ول‘‘ (WILL) کے لئے اس قدر زور دے رہی ہو اور کیوں ڈونر (DONOR) کارڈ حاصل کیا ہے——‘‘

’’نہیں....!‘‘ ——رخشی نے نگاہیں جھکا لیں ’’تم اب بھی شاید پورے طور پر نہیں سمجھے——‘‘

’’اچھا——‘‘ انوار پُر خیال انداز میں سرہلانے لگا—— ’’ڈرتی ہو—— ہے نا؟‘‘

’’ہاں!‘‘

’’موت سے....؟‘‘

’’ہاں ....موت سے.... مجھے بچپن سے ہی تنگ یا بند جگہ کا خوف لاحق ہے۔ میرا دم گھٹنے لگتا ہے۔ قبر کا۔ لحد کا اور سِلوں کے پیچھے بند ہو جانے کا—— منوں مٹی تلے دفنانے کا تصور ہی میری سانسیں روک دیتا ہے——‘‘

’’لیکن مردے سانس نہیں لیتے—— اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ دفنایا جائے یا جلایا جائے——‘‘

’’پَر زندہ کو تو پڑتا ہے نا—— اس سوچ سے ہی سانس رکتی ہے کہ موت کے بعد کیا ہو گا—— اور پھر بقول تمہارے اگر مُردے کے لئے دفنانا یا جلانا یکساں ہے تو کچھ بھی ہوتا رہے۔ آخر کیا فرق پڑتا ہے——میں چاہتی ہوں کہ مرنے کے بعد میرے تمام اعضا ڈونیٹ کئے جائیں اور باقی جسم سپرد آتش کر دیا جائے‘‘

’’ٹھیک ہے—— مردے کو تو شائد کوئی فرق نہ پڑے لیکن زندوں کو—— یعنی ان کو جو اس ڈونر کے فیملی ممبر ہیں۔ انہیں بہت فرق پڑے گا—— رخشی! تم اس شہرت یافتہ خاتون قلم کار کو کیوں بھول جاتی ہو کہ جس نے خود کو پس مرگ ایسے ہی سپرد آتش کر ڈالنے کی وصیت کی تھی اور اسے کس طرح سے ہدف ملامت بنایا گیا۔ سب سے زیادہ تنقید کرنے والی تو ایک عورت ہی تھی۔ ایسی عورت جو خود قلم کار بھی ہے۔ محض جنسیات پر لکھ لکھ کر شہرت کمانے والی عورت—— ایک ایسی قلم کار کو بھی سپرد آتش کر ڈالنے والی وصیت پر اعتراض تھا۔ عوام کا تو خیر ذکر ہی کیا—— عام روش سے ہٹ کر قدم اٹھانے کی غلطی کوئی معروف شخصیت بھی کرے تو اس کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں‘‘۔

’’کمال ہے——‘‘ رخشی کے چہرے پر جھنجھلاہٹ اور آزردگی کی پرچھائیاں لرزنے لگیں۔ سینے میں گر ہیں ڈالتے حرف لبوں پر بلبلوں کی مانند پھوٹتے چلے گئے۔

’’کم از کم انسان کو اپنی موت کے بعد تو اپنے جسم پر اختیار مل ہی جانا چاہئے—— ’’میرے آرگن میرے ہیں—— میں جو چاہوں ڈونیٹ کر دوں اور بقیہ جسم جہاں چاہوں پھینک دوں——‘‘

’’کیا ایسا ہو سکتا ہے‘‘—— انوار نے رخ پھیر کر اس کی طرف دیکھا ——’’معاشرے کے جنگل میں با اختیار شکاریوں نے اپنے ہی جیسے باقی سب انسانوں کو بہتر چارے کے طور پر اپنے حصول اقتدار کی خاطر اپنی مرضی اور خوشی کی مچان پر باندھ رکھا ہے۔ ہر جاندار کے لئے ایک مخصوص دائرہ یا حلقہ ہے جس سے باہر نہیں نکلا جاسکتا۔ اور اس سے ہٹ کر قدرت کے اصول بھی دیکھو تو اس نے اپنی ہی حدبندی کر رکھی ہے۔ حتیٰ کہ زمین کی بھی کشش ثقل ہے۔ جس سے نکلنے کا راستہ نہایت دشوار ہے——‘‘

’’لیکن زندگی کی حد تک نا—— موت کے بعد بھی زندگی کے اس خیرو شر میں حصہ داری نباہنا کہاں کا انصاف ہے——‘‘

’’جو بھی رائج ہے سورائج ہے——‘‘——انوار نے خطوط سمیٹ کر ٹیبل پر رکھے اور خود بسترپر دراز ہو گیا۔

’’انوار شام میں تمہارا کیا پروگرام ہے‘‘—— رخشی نے میز پر ناشتہ لگاتے ہوئے اس سے دریافت کیا——انوار تولیہ شانے پر لٹکائے ابھی ابھی واش روم سے باہر آیا تھا۔ بالوں کو نرم ہاتھوں سے تھپکتے اور سوچتے ہوئے بولا——

’’وہی—— حسب معمول ویک اینڈ پر کیسینو (CASINO)‘‘ —— اس کا لہجہ اسی مخفی جوشیلی راحت سے لبریز تھا جو ہفتے کے پانچ یکساں دن گزار لینے کے بعد پانچویں شام میں اس طرح دریافت ہو جاتی ہے گویا زندگی اپنے ہونے کا اور وقت اپنی موجودگی کی کشش کا احساس دلا دے۔ رفتار سفر دائرے میں گھومتے گھومتے تھم کر ایک جلتی بجھتی روشنیوں کے اسرار میں لپٹی عمارت کے دروازے تک لے آئے۔ جس پر درج ہو ’’ویک اینڈ——‘‘ موجودہ زمانے کا ہر شخص جس کا شدت سے منتظر رہتا ہے—— بچے سے لے کر بڑے تک۔

سنی اور سپنا ابھی تک ناشتے کی میز پر موجود نہیں تھے—— رخشی نے ایک کرسی کھینچی اور اس پر ٹک گئی۔

’’علیم الدین صاحب کے ہاں آج میلاد ہے——!‘‘

’’اوہ....‘‘——انوار بھی ساتھ والی نشست پر آ بیٹھا——‘‘

’’آج تو جمعہ بھی ہے....‘‘

’’ہاں ڈیڈ——‘‘ ——سنی اپنے کمرے سے باہر آتے آتے پکارا۔ ’’آج تو جمعہ ہے اور مسجد میں ’’پرے‘‘ (Pray) کے لئے بھی جانا ہے——‘‘

’’نماز بیٹا——جمعہ کی نماز کے لئے جانا ہے‘‘۔ رخشی نے بیٹے کی تصحیح کی۔

’’سوری مام——نماز جمعہ کے لئے——اب تو ٹھیک ہے——‘‘

’’ہاں——‘‘ ——رخشی نے اثبات میں سرہلایا——

’’سنی نے خوب یاد دلایا۔ تم بہر حال جمعہ پڑھنے تو جاؤ گے ہی—— اور سنی بھی جائے گا——‘‘

’’ہاں....ں....ں....‘‘ ——انوار نے ایک طویل ہنکارا بھرا——

’’چلو ایسا کر لیتے ہیں کہ جمعہ کے بعد ذراسی دیر کو علیم الدین کے ہاں ہو آئیں گے۔ یہ سوسائٹی میں منہ دکھانے کا بڑا مسئلہ ہے۔ ذراسی کوئی شکایت ہو جائے تو وہ بات کا بتنگڑ بنا لیتے ہیں۔ وہاں سے اپنے دوستوں کی طرف ہوتا ہوا میں ان کے ساتھ کیسینو (CASINO) چلا جاؤںگا——‘‘

’’اور مجھے ادھر پھنسا جاؤ گے۔ علیم صاحب کے گھر‘‘۔

’’نوماما....‘‘ ——سپنا بھی گفتگو میں حصہ لینے کے لئے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے بولی—— ’’آف کورس میں آپ کے ساتھ جاؤں گی۔ مگر صرف تھوڑی دیر کو—— مام ہم تو آج رات فلم دیکھنے جا رہے ہیں نا—— آپ چاہیں تو آپ بھی اپنی فرینڈ کے ساتھ پروگرام بنا لیں—— سنی تو As usualڈسکو میں ہی ہو گا‘‘۔

وہ تینوں بہت جلدی میں تھے۔ سنی نے سپنا کی بات پر اثبات میں سرہلایا۔

’’ہاں مام——پرے کے ختم ہوتے ہی میں چلا جاؤںگا——‘‘

’’بائی——‘‘

’’بائی——‘‘

نشست گاہ میں گرمائی دوپہر کی سنہری دھوپ اپنی فصل کاشت کر چکی تھی۔ کھلی کھڑکی سے باہر منظر کے کینوس پر زرد شگوفوں کے گچھوں میں نیم مستورسرخ آتشیں رنگت کا لمبی چونچ والا پرندہ کچھ کریدنے میں لگا تھا۔ زندگی کے کیلنڈر پر ایک اور ہند سہ اپنی گنتی کے اختتام کی جانب رواں تھا—— نارسیدہ لمحوں کا خود ساختہ سلسلہ جسے سہولت کی خاطر وقت کے عنوان سے پکارا جاتا ہے اور جس کی رقص گاہ میں اسرار و رموز کے دائرے——بنا حرف احتجاج کے محض گھومتے رہنے پر مجبور ہیں——نشست گاہ کا فرنیچر باہر پائیں باغ میں نکال دیا گیا تھا۔ جہاں خواتین اور لڑکیاں دیوارسے ٹیک لگائے سرڈھانپ کر بیٹھی ہوئی تھیں—— ابھی ابھی قرآن خوانی کی مجلس کا اختتام ہوا تھا۔ اور اب باہر والے مختصر لان کی جانب سے برتن لگائے جانے کی آوازیں نمایاں طور پر سنائی دے رہی تھیں—— آہستہ آہستہ ماحول تبدیل ہوتا چلا گیا—— سب سے پہلے نوجوان دوشیزائیں اٹھیں اور صاحب خانہ کی نوجوان لڑکی کے ساتھ اس کے کمرے کو چل دیں۔ پھر خواتین کے سروں پر احتیاط سے جمائے گئے دوپٹے کھسک کر شانوں پر ڈھلکتے چلے گئے۔ اور بالآخر موضوعات تبدیل ہو گئے۔ اور اپنی اپنی دلچسپی کے امور و حالات پر تبادلۂخیال ہونے لگا—— علیم الدین صاحب کے ہاں قرآن خوانی ہو گئی تھی—— میز پر سہ پہر کی چائے لگائی جاچکی تھی——

’’ماما آپ حد سے زیادہ آئیڈیالسٹ ہیں‘‘۔ ——سنی جھنجھلایا ہوا تھا ’’——آئیڈیل ازم صرف کتابوں اور خیالوں میں اچھا لگتا ہے۔ ریالیٹی (Reality) بالکل مختلف چیز ہوتی ہے۔ آپ کا جذبہ بہت اچھا ہے۔ ہم سب اسے پریز (Praise) کرتے ہیں لیکن....‘‘ وہ ہچکچا کر خاموش ہو گیا——

’’لیکن کیا بیٹے—— اچھی بات کسی کو تو کرنی چاہیے۔ میرے خیال میں تو ——خیر! سب کو صرف اچھی بات کرنی چاہیے——‘‘

’’جنت میں ہُوا کریں گی اچھی اچھی باتیں۔ جان من——‘‘—— انوار مسکرایا ’’——اگر اُس نے یعنی اوپر والے نے دنیا کو ہی فردوس بریں بنانا ہوتا تو پھر الگ دنیا کیوں بناتا—— یہاں یوں سمجھو کہ ایک ٹینڈر کھلا ہے جو ’’جو ہے جیسا ہے‘‘ کی بنیاد پر اسے سوسائٹی نے منظور ی دی ہے اور حاصل کر لیا ہے"-

’’پاپا آپ تو بات بلاوجہ الجھاؤ میں لے جاتے ہیں—‘‘ —— سنی دوبارہ موضوع گفتگو کی طرف پلٹا ’’——آرگنز ڈونیٹ کرنا کوئی بری بات نہیں، یہ تو انتہائی اچھا ہے—— ہم ایڈمائر Admireکرتے ہیں۔ لیکن۔ ! ——لیکن وہ بات کرتے کرتے رک گیا اور ’’لیکن‘‘ پر زور دے کر اپنی بات کی اہمیت واضح کرتے ہوئے پھر سے گویا ہوا—— ’’لیکن معاملہ اس سوسائٹی کا ہے جس میں ہم نے زندہ رہنا ہے—— اور موو (Move) کرنا ہے—— صاف اور سیدھی بات بس اتنی سی ہے۔ باقی سب کا سب آئیڈیل ازم ہے—— بس باتیں—— اب آپ ایک غیر جذباتی اور سیدھی، صاف ریالٹی (Reality) کو دیکھیں۔ ماما! آپ یا کوئی بھی شخص جو آرگن ڈونیٹ کر رہا ہے جب مر جائے گا تو اس کی ڈیڈ باڈی وہاں ہسپتال پہنچانا ہو گی۔ چیر پھاڑ کرنے کے لئے۔ اور اس کے فیملی ممبر رہ جائیں گے گھر پر جہاں لوگ تعزیت کو آتے ہیں۔ ان کا سامنا کرنا ہے۔ ان کے طنز کوسہنا ہے۔ اور منہ چھپائے پھرنا ہے۔ وہ، باقی زندہ بچ رہنے والے —— یعنی اس وصیت کرنے والے کے رشتہ دار تو سر اٹھانے کے لائق ہی نہ رہیں گے——‘‘

سنی باقاعدہ طیش میں آگیا تھا۔ جملے کے اختتام تک اس کی آواز بلند ہو گئی اور وہ جھلّا کر خاموش ہو رہا۔

’’ہاں بھئی‘‘ ——انوار دیر تک اثبات میں سر ہلائے گیا۔ ’’کہتا تو تمہارا بیٹا صد فی صددرست ہے۔ صرف اس ایک دن یعنی انتقال والے دن ہی نہیں بلکہ بعد میں بھی تا حیات ان بچ رہنے والوں کو بار بار سولی پر لٹکایا جائیگا—— یہ ہیں اس عورت کے بھائی۔ باپ، بیٹا یا بیٹی—— جس نے اپنی لاش کی چیر پھاڑ کرا دی تھی۔ اور خود اس دنیا سے جاتے جاتے نار جہنم کو اپنے لئے منتخب کیا تھا- آہ-ہ-ہ-‘‘——وہ سرد اور طویل سانس لے کر رہ گیا’’ —— رخشی دنیا بڑی سنگدل، ظالم، کمینی ہے۔ دوسرے کے دکھوں پر ان کی ذلت و جگ ہنسائی پر ہی تو اپنی مجلس سجائے بیٹھی ہے۔ ابھی تمہارے بچوں کی شادیاں ہونا ہیں۔ کون کرے گا ان سے رشتے یا کون ہوں گے ان کے سسرال والے۔ تمہاری موت کے روز یہ تو منہ چھپاتے پھریں گے——‘‘—— انوار دَم بھر کے لئے خاموش ہو گیا——

پھر مسکراتے ہوئے گویا ہوا——

’’تم زندگی میں تو سب کے لئے پرابلم بنتی ہی رہی ہو اب مر کر تو مصیبت نہ پیدا کرو—— ساری عمر میں تمہاری ذات پر یہ لطیفہ دہراتا رہا ہوں کہ کسی کی گھر والی دریا میں ڈوب کر مر گئی۔ لوگ پانی کے بہاؤکے رخ اس کی لاش ڈھونڈنے کے لئے جانے لگے تو ستم رسیدہ شوہر بولا کہ اسے اُلٹے رخ پر جا کر تلاش کرو—— ہر کام وہ الٹا کرتی تھی—— ضرور مری بھی الٹے رخ پر ہی ہو گی—— خدارا کم از کم مرنے کے لئے تو سیدھا طریقہ ہی منتخب کر ڈالو——‘‘

رخشی زچ ہو کر تیز آواز میں چلائی ’’ہر وہ کام تو خوش اسلوبی —— جوش اور لطف سے انجام دیتے ہو کہ جس سے اس معاشرے یا خاندانی نظام میں برائی کے جراثیم پنپنے کا بھر پور اندیشہ پایا جاتا ہو۔ قمار بازی، شراب، سودخوری، دھوکہ دہی اور درپردہ عورتوں سے گناہ آلود تعلق....‘‘

بچوں کی موجودگی کے سبب اس کی زبان لڑکھڑا گئی——مگر انوار کوجیسے انہی الفاظ سے سہارا مل گیا۔

’’یہی بات‘ یہی ایک نکتہ یا راز ہی تو بتانا چاہتا تھا۔ ابھی ابھی جو تم نے خود کہا ہے۔ ’’درپردہ تعلق‘‘ تو گویا اصل حقیقت کا اظہار تو تم نے خود کر دیا ہے کہ اک پردہ سا رکھو اور سب کچھ کرتے پھرو—— مزے سے۔ بس وہ پردہ نہ اٹھ سکے کیوں کہ غلاف کے باہر جو ننگی حقیقت ہے یا جو مکمل سچائی ہے وہ کوئی نہیں سہہ پاتا‘‘۔

’’ماما پلیز آپ اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کریں——‘‘ ——سنی کے لہجے میں خاصی قطعیت تھی۔

’’ہم سے یہ سب نہیں ہو پائے گا ——‘‘ وہ اپنی بات کہہ کر چل دیا—— اب اس کے حساب سے وصیت باطل ہو گئی تھی۔

رخشی نے رات کی تاریکی میں ڈوبے کمرے پر نگاہ دوڑائی۔ انوار سوچکا تھا۔ اور اندیشے، خدشات، واہمے——خوف کی بے پناہ بھیانک صورتیں لے کر جاگ اٹھے تھے——

’’سنو رخشی....کیا تم واقعی ڈونیٹ کرنا چاہتی ہو——؟‘‘

’’ہاں‘‘ ——وہ خود سے پورے یقین کے ساتھ مخاطب ہوئی—— پر ایک باریک منحنی سی سرگوشی اور بھی تو ابھری تھی—— بہت قریب، سماعت کے قریب—— بلکہ سماعت کے اندر کہیں جہاں خیال کی گردش خون کی روانی میں گھلنے کا آغاز کرتی ہے۔

’’رخشی سچ تو یہ ہے کہ تم ڈرتی ہو-!‘‘

’’ہاں——‘‘ اس نے خوف کی دلدل میں ہاتھ پیر مارتے ہوئے تھوک نگلا—— رخشی کا حلق پوری طرح سے خشک ہو رہا تھا۔

’’ہاں میں ڈرتی ہوں—— قبر کا خوف، مٹی تلے دب جانے کا خوف، مختصر جگہ پر بند ہو جانے کا خوف——‘‘ رخشی کی سانس کا پنڈولم اس تصور کے احساس سے ہی بے طرح تیز ہو گیا اور اس قدر شدت سے بجنے لگا کہ جیسے کوئی قوت پوری طاقت سے لوہے کے گھڑیال پر ضرب لگارہی ہو۔ ’’گڑل-گڑل-گڑل‘‘ خوف اس قدر بھیانک بھی ہو سکتا ہے۔ اس حقیقت کو اس وقت تک نہیں جانا جاسکتا کہ جب تک کسی کو خوف کی تاریک تر گپھا میں ہاتھ پیر باندھ کر پھینک نہ دیا جائے۔ لرزہ خیز سیاہی کی پتلی سی سرنگ میں نیچے ہی نیچے گرتا چلا جارہا جسم اپنی سانس میں خوف کو چھو کر محسوس کر سکتا ہے۔ اپنے ہر عضو کو اس گاڑھی بوجھل کاٹ دار سیاہی میں دھنستا ہوا محسوس کر سکتا ہے- اور خود کو بے بسی کی سینہ چیر رہی وحشتوں کی تیز کاٹ دار دھارپر ریزہ ریزہ کستا ہوا محسوس کر سکتا ہے۔ مگر وہ کر کچھ نہیں سکتا——‘‘

رخشی تڑپ کر اٹھ بیٹھی- اور تیز تیز سانسوں کی دھونکنی سے پھٹ رہے سینے کو معمول پر لانے کی اس پرانی المناک تگ و دو میں مصرف ہو گئی——کہ جس میں وہ خود کو ایک عرصے سے الجھا ہوا پا رہی تھی۔

’’کیا معلوم لوگ سچ کہتے ہوں——‘‘ کوئی سینے کے اندر سے کراہا ——  اب وہ اس گرداب سے باہر آ گئی تھی۔ اور دوبارہ تکئے پر سر رکھ کر لیٹ گئی تھی۔

’’لوگ کہتے ہیں کہ کٹا پھٹا جسم یونہی آدھا ادھورا اٹھے گا—— روزِ قیامت اس کی بخشش نہیں ہو گی‘‘——

’’تم مانتی ہو بخشش کو یا روز قیامت کو——!‘‘

’’میں شک کا شکار ہوں—— ہاں اور نہیں میں پھنسا وجدان—— کبھی اثبات تو کبھی نفی کا گمان—— بیچ کا اندیشہ—— تشکیک کا، ظن کا ہیولا——پر لوگ تو یہی کہتے ہیں اور عقیدہ بھی—— کہ لاش کی بے حرمتی یا اسے سپرد آتش کرنا جائز نہیں ——ایسا شخص گویا خود ہی جہنم قبول کر رہا ہے۔ ‘‘ ........وہی کاٹ دار سرگوشی پھر ویسے ہی سماعت کے قریب نہیں بلکہ سماعت کے اندر خون میں گھل رہے خیال میں ابھری——

’’لیکن خوف ——!‘‘ ——وہ کراہ اٹھی۔ اصل وحشت تو خوف کی ہے—— منوں مٹی تلے دب جانے کا خوف——‘‘

’’جلنے کا ڈر نہیں ہے کیا—— ؟‘‘۔

’’شاید ہے!—— پر دَب جانے کا خوف——‘‘

رخشی نے جھرجھری سی لی۔ کالی گاڑھی سیاہی کی بھنچتی دلدل پھر سے جسم کے اِرد گِرد اپنی وحشت ناک گرفت کا آکٹوپس جمانے کو بڑھتی چلی آ رہی تھی——

ویک اینڈ کی آخری رات انوار کے مشاغل میں ترتیب کے لحاظ سے گھر پر اک ذرا سا سکون حاصل کر لینے کی رات ہوا کرتی تھی——

’’جب بھی خرید کر لاؤ ایک دھڑ کا سا ضرور لگا رہتا ہے——‘‘ ——اس نے سنہرے چمکیلے سیال سے لبریز لانبی دیدہ زیب بوتل ہاتھ میں مضبوطی سے تھامی—— اندر روپہلا مشروب سبک رَوی کی نزاکت سے چھلکنے لگا——

’’کیسا دھڑکا‘‘ ——رخشی نے طعام گاہ میں برتن لگاتے اٹھاتے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

’’یہی اپنے کسی ایشیائی بندے کی نظر میں آ جانے کا خدشہ——‘‘ نمایاں دلار آمیز دلداری و دلنوازی کے تسکین یافتہ جذبات میں سرشار ہو رہے انوار نے ہاتھ میں تھامے بلوریں پیمانے کے اندر نزاکت کے ساتھ مطلوبہ مقدار ڈالی اور اسے اٹھا کر روشنی میں غور سے دیکھے گیا——

’’پہلے کچھ دیر تو میں ہر ایک کاؤنٹر کا جائزہ لیتا ہوں کہ کس قطار میں کالے بالوں والا کھڑا ہے۔ جب پوری طرح سے تسلی ہو جائے تو کھانے پینے کے سامان میں چھپائی ہوئی بوتل نکال کر کاؤنٹر پر رکھتا ہوں‘‘ ——سروربخش لمحوں میں وہ مسلسل پُر لطف گفتگو کرتا تھا——

’’ہم انسانوں سے کس قدر ڈرتے ہیں——!‘‘

’’ہاں——‘‘ اس نے اثبات میں سرہلایا’’——کیوں کہ انہی میں رہتے جو ہیں—— یہ ایک ہی دنیا ہے۔ ہم اپنے رہنے سہنے کے لئے کوئی دوسری دنیا نہیں بنا سکتے——‘‘

راہداری میں رکھے فون کی گھنٹی پر دونوں نے چونک کر ادھر دیکھا—— اور رخشی فون اٹھانے چل دی۔

’’کس کا تھا‘‘—— وہ فون سن کر واپس لوٹی تو انوار نے بڑا سا گھونٹ بھر کر دریافت کیا؟‘‘

’’علیم الدین صاحب کے گھر سے تھا۔ ان کے دادا کا انتقال ہو گیا ہے—— وطن میں....!‘‘

’’اوہو....ہو....ہو——‘‘ انوار کے لہجے میں اک کوفت زدہ بیزارسی جھنجلاہٹ ابھری.... ’’بوڑھے آدمی تھے۔ پھر بھی علیم الدین کے ہاں جانا تو ہو گا—— دنیا کی خاطر—— تعزیت، سوئم، قل وغیرہ سب کچھ انجام دینا ہو گا——‘‘

’’ہاں-ں-ں!‘‘ ——رخشی کا لہجہ انتہائی ٹوٹا ہوا اور آواز بے حد دھیمی تھی۔ ’’ایک وقت کا کھانا بھی ہمیں اپنی باری پر پہنچانا پڑے گا—— پچیس تیس لوگ ہیں اس علاقے میں اپنی جان پہچان والے جو کہ میّت کے گھر پُر سے کو آئیں گے——‘‘

’’دنیا داری ہے رخشی ڈارلنگ.... اس بناوٹی، ظالم اور منافق دنیا کی دنیا داری کہ جس میں ہم رہتے بستے ہیں۔ جیتے مرتے ہیں—— یہاں جینے مرنے کا خراج دینا ہی پڑتا ہے——‘‘ انوار نے سنہری، چمکیلی، لانبی دلکش بوتل کو مضبوطی سے تھام رکھا تھا——

’’اک پردہ سا رکھنا ہے——اب اسے ہی دیکھو کیسے کانچ کا غلاف اوڑھا ہے اس نے ورنہ یہ بہہ جائے گی۔ خلاص—— سب ختم —— انسان کو بھی پردہ، غلاف، دیوار منافقت وغیرہ وغیرہ—— ورنہ ختم—— نہ سماج نہ سوسائٹی—— نہ ملنے جلنے والے—— نہ اس حیوان ناطق کی بولتی چالتی زندگی——‘‘ —— آہ-ہ-ہ-آ-آ——‘‘

اس نے ایک اور گھونٹ بھرا—— لطف وسرورسے اس کی آنکھیں بند ہوئی جا رہی تھیں۔ اور پسندیدہ دنیا اس کے تخیل کے دائرے میں آہستہ آہستہ اترتے سائے کی مانند آگے ہی آگے بڑھتی آ رہی تھی۔ وہ دنیا کہ جس میں وہ اپنی خواہش کے مطابق رہنا سہنا چاہتا تھا—— آرزوئیں جس جزیرے میں حسب منشا پھول کھلاتی ہیں۔ اور تمنائیں جہاں اپنی پگڈنڈیوں پر دور اندر تک دل کی انگلی تھامے لئے جاتی ہیں۔ ہولے ہولے سرگوشی میں من پسند انکشاف کرتے ہوئے کہ ’’آؤوہاں چلیں جہاں روشنی، صبا، پرندے، نغمات اور پُر شباب دوشیزاؤںکے جھرمٹ محض تمہارے انتظار میں چشم براہ ہیں‘‘۔

’’کھانا کب لگاؤں——‘‘ رخشی نے کچن سے نکل کر دریافت کیا تو اسے جواب میں ہمیشہ کی طرح انوار کی اس مخصوص دل موہ لینے والی مسکراہٹ سے سابقہ پڑا جو ہر ویک اینڈ کی شام پوری طرح سے سیر ہو جانے کا اپنا بھرپور نقش انوار کے ہونٹوں پر جما جایا کرتی تھی۔ پرسکون، سُکھی، شانت مسکراہٹ——

وہی گزشتہ ہفتے کا قرآن خوانی والا ماحول پھر سے روبرو تھا—— اندر نشست گاہ میں فرنیچر ہٹا کر سفید چادریں قالین کے اوپر بچھا دی گئی تھیں—— لڑکیاں، عورتیں دیر تک چنے پڑھتی رہیں—— باہر مردانے میں ہر آنے والا دعائے مغفرت کرواتا——

’’مرحوم بڑے نیک انسان تھے——‘‘

’’اس میں کیا شک ہے؟‘‘

’’پرانے وقتوں کے لوگ سچّے، محنتی اور ایماندار ہوا کرتے تھے——‘‘

’’آج کی نسل تو مشینی ہے.... مشینی‘‘۔

’’علیم الدین صاحب ہماری تعزیت قبول کریں‘‘۔

’’ہم اس جانکاہ صدمے میں آپ کے ساتھ ہیں——‘‘

اندر عورتیں سپارے پڑھنے کے بعد اب گفتگو کے مرحلے پر پہنچ گئی تھیں——

’’انجام بخیر ہو جائے——‘‘

’’ہاں——بس یہی اللہ پاک سے دعا ہے کہ عزت رکھ لے——‘‘

’’مردہ خراب نہ ہو——‘‘

’’مسلمانوں نے اپنا علیحدہ قبرستان بنوا کر بڑا نیک کام کیا ہے——‘‘

’’اب کم از کم تسلی تو ہو جاتی ہے کہ بے حرمتی نہ ہو گی——‘‘

’’سنا ہے کہ اسپتال میں مرنے والے کے اعضاء ہی نکال لیتے ہیں——‘‘

’’توبہ توبہ مردے کو بھی نہیں بخشتے——!‘‘

’’مرنے والا تو موت سے مرتا ہے پر اس کے عزیز و اقارب مرنے والے کی بے حرمتی سے مر جاتے ہیں——‘‘

’’توبہ ہے!۔ ایسی موت تو خدا دشمن کو بھی نصیب نہ کرے جس میں لاش کی بھی عزت نہ رہ جائے—‘‘

’’ہم تو یہ جانتے ہیں خوشی میں بھلے شریک نہ ہو غم میں ضرور شامل ہو جاؤ——‘‘

’’بندہ ہی بندے کی دوا ہے—— آج تیری کل میری باری ہے——‘‘

رخشی آہستہ آہستہ چلتی باہر نکل آئی۔ سامنے صدر دروازے کے قریب لوگ آ جا رہے تھے۔ علیم الدین صاحب اور ا ن کے جوان بیٹے مَردوں سے گلے مل مل کر انہیں رخصت کر رہے تھے۔ وہ سڑک پر پارک کی ہوئی اپنی گاڑی تک پہنچی۔ انوار اسٹیرنگ تھامے اس کا منتظر تھا۔

’’یہ رسم بھی بڑی سوچ بچار کے بعد بنی ہو گی——‘‘

’’ہیں....ں....کون سی رسم....‘‘ رخشی نے بے دھیانی سے شوہر کو دیکھا۔

’’یہی پرسہ دینے اور تعزیت کرنے کی رسم —— غم بانٹ لینے سے گویا صدمہ آدھا ہو جاتا ہے‘‘

’’ہوں....ں....ں....‘‘——رخشی نے ہنکارا بھرا۔

’’کیا سوچ رہی ہو۔ ؟‘‘

’’ہو....وں....ں کچھ نہیں——‘‘ ——وہ چلتی گاڑی سے باہر دیکھے گئی—— پھر کچھ دیر کے بعد سنجیدگی سے بولی ’’میں ڈونر کارڈ واپس کر رہی ہوں —— تم بھی میری ’’ول‘‘ (WILL) پھاڑ دینا——‘‘

٭٭٭