کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

سبز رات

نعیمہ ضیاءالدین


زینت ایک مختلف عورت تھی اور یہ صفت یا عیب پیدائشی تھا۔ یکسانیت، ایک سے رات دن، ہر روز سونا جاگنا، ایک سی مشینی زندگی برتنے چلے جانا، یہ سب اس کے اندر کہیں خالی پن، وحشت اور بے چینی بھر دیتا۔ اس کا دم گھٹنے لگتا۔ اپنے ماحول سے نکل کر بھاگنے کی خواہش اس قدر شدید ہو جاتی کہ اس پر قابو پانا ناممکن سا لگنے لگتا۔

پہلے پہل تو گزارا ہوتا رہا۔ ہر وقت خود سے جنگ میں دن، ہفتے، مہینے یوں کٹ کٹ کر گرتے چلے جاتے گویا وہ ہری شاخیں تھیں اور وقت تیز دھار آری لیے اپنے کام میں لگا تھا، لیکن آخر زندگی کی دوپہر ڈھل گئی اور بے چاری زینت کبھی دوسروں سے تو کبھی اپنے آپ سے لڑتے لڑتے خرچ ہوتی چلی گئی جیسے صابن کی ٹکیہ گھلتی رہتی ہے۔

وہ یورپ آ گئے، تھے، شروع جوانی میں! یہیں بچے بڑے ہوئے اور پھر بچوں والے ہو گئے۔ سب کچھ کل کی بات لگتی تھی۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ لمحہ پھیل کر صدی کا روپ دھار لیتا ہے اور دہائی سکڑ کر، ’کل‘ کے نقطے میں چھپ جاتی ہے۔ اب بھی ایسا ہی ہو رہا تھا۔ کبھی تو زینت کو یوں لگتا کہ وہ سورہی ہے یا پھر مر چکی ہے۔ عالم خواب اور بیداری ایک سے ہو چلے تھے۔ ایک غیر مرئی قسم کا غبار نا گوار سی بو کے ساتھ ہر طرف پھیلتا چلا جاتا لیکن اچانک ہی اس خواب کے عالم میں بیداری اپنی آمد کا دھماکا کر دیتی، گویا کوئی سویا ہو اور درندہ جاگ اٹھے اور اپنے وحشی سموں سے ہر لمحے کو روندنا شروع کر دے۔ درد برچھی کی کاٹ بن کر اُبھرتا اور چاقو کی نوک کی طرح سے گودنے لگتا۔

سرجری کسی بھی طرح کی ہو، اذیت ناک اور صبر آزما ہی ہوتی ہے۔ زینت کا پتے کا آپریشن ہوا تھا۔ اس کا پتا نکال دیا گیا تا۔ پیٹ پر لگے سترہ ٹانکے آکٹو پس بن کر پنجہ پھیلائے ہوئے تھے۔ اس پر مستزاد، ازلی دشمنی نباہنے والا معدہ پتے کے نکلتے ہی شیر بن بیٹھا اور سفا کی پر اُتر آیا۔ پیچیدگی در پیچیدگی جگسا پزل جیسی تھی کہ حل ہو کر نہ دیتی تھی۔ اذیت سہنے اور تڑپتے رہنے کے سوا زندگی کا کوئی دوسرا مفہوم رہ ہی نہ گیا تھا۔

’’صبر کریں....‘‘ ڈاکٹر کہتا۔

’’تحمل سے کام لو....‘‘ اس کے رونے چلانے پر اس کا شوہر اسلم تلقین کرتا۔

’’ماما آپ تو بہت بہادر ہیں، ہمت رکھیں!‘‘ اس کی دونوں بیٹیاں شبانہ اور رضوانہ سمجھانے لگتیں جو لندن سے ہر کام چھوڑ چھاڑ کر دو ہفتے سے جرمنی آئی بیٹھی تھیں۔ اس کا بیٹا شہزاد اور بہو سمیعہ بھی تقریباً روز ہی اسے دیکھنے ہسپتال آیا کرتے۔

اور زینت روزانہ ہی اپنے اِرد گرد اِک تماشا سا لگا دیکھتی۔ آمد کے کچھ ہی دیر بعد ملاقاتی اپنی ذاتی زندگی کے مسائل کا رونا رونے بیٹھ جاتے۔ بچوں کے ننھے بچے ضد کرتے اور رونے لگ جاتے۔ پنڈ ورابکس کھل کر اپنے سپرنگ اُچھالتے اور ان کے سروں پر لگے گیند جست لا کر ماحول کی چادر پر خود کار طریق سے پنگ پانگ کھیلنا شروع کر دیتے جو سیدھے زینت کے سرپر بجتے۔

’’ڈنگ .... ڈانگ.... ڈز .... ڈنگ ڈانگ.... ٹھاہ....!‘‘ وہ پوری کوشش سے آنکھیں میچ کر زبان دانتوں میں دبا لیتی۔

’’خدا کے لیے.... اب چلے جاؤ یا اپنی بے سرو پا باتیں بند کر دو۔ اور کچھ نہیں تو ان ننھے شیطانوں کو ہی چپ کرا دو....‘‘ لیکن وہ کچھ نہ کہہ پاتی اور اس کا سر پنڈولم بن جاتا۔ ڈنگ .... ڈانگ کے لٹو پر جھولتے جھولتے پھٹنے کو پہنچ جاتا۔

اپنے شوہر اسلم سے اس کے دلی یا جذباتی مراسم کبھی بھی استوار نہیں ہو سکے تھے۔ جسمانی رابطہ قائم ہو گیا تھا جس نے یہ تین گل کھلا دیے۔ شہزادہ، شبانہ اور رضوانہ، پھر تینوں اپنے اپنے باغوں میں مہکتے چلے گئے۔ اسلم اور زینت کچھ اور بھی فاصلے پر جا پہنچے۔ تب زندگی اور بھی ویران اور بھی اجڑی ہوئی سی ہو گئی۔ خزاں غیر محسوس طریق پر ہولے ہولے وارد ہوتی ہے اور درخت کے پتے اپنی زندگی کھو دیتے ہیں۔ جامد سناٹے کے راج تلے سب سنسان ہو جاتا ہے۔

یہی وہ دن تھے کہ زینت کی ملاقات اپنے بیٹے بہو کی ’’ویڈنگ اپنی ورسری‘‘ میں شوفی سے ہو گئی جس کا پورا نام شگفتہ تھا۔ لیکن کٹھیا نے اسے مختصر کر کے شوفی کر ڈالا تھا۔ کھٹیا اسی کے فلور پر تنہا رہتی تھی۔ دو جوان دل مگر ساٹھ سالہ بوڑھی عورتیں، اپنے اس ساتھ سے، اس دوستانے سے، بالکل ہی نئی طرز کی زندگی جینے لگیں۔ آزاد مسرت سے متعارف شدہ دھڑکتی، سانس لیتی متحرک ہواؤںمیں عطر بیز جھونکا بن کر بہتی، تیرتی، زندگی زندگی.... اور عجیب اتفاق کہ اس جیتی ہوئی عورت کو تقریباً بے جان، جامد، ٹھنڈے شب و روز کے سرد خانے میں رکھی ہوئی زینت کی خاموشیوں سے ملوا دیا۔

’’میرا پہلا شوہر پورا جانور تھا....‘‘ اپنے پہلے تعارف میں شگفتہ عرف شوفی نے زینت عرف زونی کو بتایا تھا۔ ’’ یہ مرد، عورت کی شوریدہ سری کے موسموں کو کبھی جان نہیں پاتے اور جانیں بھی کیسے! ان کی اپنی جسمانی عمر ہمیشہ جوان رہتی ہے جب کہ عورت کی ایسی حیات طبعاً عمر رسیدہ نہیں ہو پاتی۔ وہ بہت پہلے جسم کے گرداب سے جست لگا کر باہر آ جاتی ہے۔ دو بیٹے ہیں میرے۔ ایک میونخ میں ہے، دوسرا اٹلی میں، شوہر دونوں کے دونوں گلے سے اُتار پھینکے۔ ‘‘ زینت بے دلی سے رسماً مسکرائی تو شوفی نے اسے گہری نظر سے دیکھا۔

’’تم زندگی سے ہار رہی ہو.... ہے نا.... جب کہ میرا خیال ہے کہ تم ہارنے والوں میں سے ہو نہیں....‘‘

’’ ہر ایک کو ہارنا تو ہوتا ہے۔ جلد یا بدیر۔ ‘‘ زینت خلاؤں میں دیکھنے لگی۔

’’پر یہ کوئی قاعدہ کلیہ تو نہیں۔ مجھے تم سے اختلاف ہے کیوں کہ بہر حال کہیں نہ کہیں’’ کچھ‘‘ مختلف ضرور ہوا کرتا ہے۔ جیسی کہ تم ہو....‘‘ شوفی سمجھ گئی تھی اور سمجھانا بھی چاہتی تھی۔ ‘‘ تم مختلف ہو۔ اپنے اندر سے تمھیں اس کی خبر ہے کہ ہر ایک کا ہار مان لینا، تمھارا اصول نہیں بن سکا۔ زندگی کو موت کے کیو میں مت لگاؤ۔ پتا ہے ہم چاروں نے اپنے اپنے فلیٹ کی ایک ایک چابی سب کو دے رکھی ہے....‘‘

’’چاروں ....‘‘ زینت اس کی باتوں میں نہ جانے کب دلچسپی لینے لگی تھی!

’’ہاں .... میں .... گبریلا .... کھٹیا اور اوزانٹ.... ایک چابی ہاؤس ماسٹر کو بھی دی ہوئی ہے تاکہ وہ ڈیڈ باڈی اٹھوانے کے لیے پولس کو کال کر سکے۔ ‘‘

’’اچھا....‘‘ زینت نے پہلی بار کچھ دلچسپی، کچھ حیرت سے اس عورت کو دیکھا جو بڑھاپے میں شگفتہ سے شوفی ہو گئی تھی۔

’’آپ اپنے بیٹوں میں سے کسی کے پاس.... میرا مطلب ہے وہ آپ کو ساتھ رکھنے کے لیے تیار نہیں؟‘‘

شگفتہ عجیب انداز سے مسکرائی۔ تحمل، گیان، انوکھا پن، بہت کچھ جان کر سب کچھ تیار دینے والا ٹھہراؤ،پختگی، اس مسکراہٹ میں سب کچھ تھا۔ زینت اسے گہری نظروں سے دیکھتی رہی۔

’’یہ آزادی میں نے بڑی مشکل سے اور بڑی عمر گزار کر حاصل کی ہے۔ بیٹوں کے ساتھ رہنے کا تو یہ مطلب ہے کہ میں پھر سے اس کا گلا گھونٹ دوں۔ میونخ والے نے بہت زور دیا تھا کہ ماما آپ میرے ساتھ رہیں۔ خود آپ اپنی بھانجی کو بہو بنا کر لائی ہیں۔ لیکن مجھے اچھی طرح سے علم ہے، رشتے قیمت مانگتے ہیں۔ آزادی، مسرت اور خود مختاری کو مار دینے کی قیمت۔ جب کہ یہ ادائیگی میرے بس کی بات نہیں۔ ‘‘ وہ ایک پل کو رُک کر بولی: ’’اگر تم چاہو تو ہم چاروں کے ساتھ شامل ہو سکتی ہو۔ اس نئے طرز کی زندگی میں، ہمارے لیے تم زونی ہو۔ ‘‘

’’زونی....؟ ‘‘زینت نے تعجب سے اپنے کام اختصار یہ دہرایا۔ پھر آہ کی طرح اس کے لبوں نے بے ساختہ کہا:

’’میرا تو اب کوئی نام ہیں نہیں۔ سچ پوچھو تو خود مجھے بھی بھول چکا ہے۔ کبھی کسی نے پکارا جو نہیں۔ میں تو اب نانو ہوں گرینی۔ آنٹی، تائی، خالہ .... اور تو اور میرے شوہر اسلم تک یہی کہتے ہیں.... آپ کی مام، آپ کی گرینی، آپ کی تائی ماں.... بس یہی کچھ ہے، جس میں زینت کہیں نہیں۔ ‘‘

’’چہ .... چہ .... چہ ‘‘ شوفی نے بیزاری اور افسوس کے ملے جلے لہجے میں تبصرہ کیا۔ تم تو خود کو فنا کر فاتحہ بھی پڑھ چکی ہو۔ ‘‘ چند نوجوان خواتین محفل سے اُٹھ کر اس کونے کی طرف چلی آئی تھیں۔ ان میں سے اکثر نے اپنی یا اپنے بچوں کی چیزوں کو اُدھر چھوڑتے ہوئے ’’گرینی.... نانو.... آنٹی....‘‘ یعنی زینت کو نگراں بنایا تھا۔ ہر جگہ، ہر تقریب یا محفل میں زینت کا مصرف رفتہ رفتہ ’’لاکر‘‘ کا سا ہو گیا تھا.... خاموش چوکیدار۔ ’’ شکریہ آنٹی‘‘ وہ اپنی اپنی امانتیں وصول کرتی رہیں۔ تب شوفی نے خدا حافظ کہتے ہوئے اسے ایک کاغذ تھما دیا۔

’’یہ میرا اور کھٹیا کا مشترکہ ایڈریس ہے۔ کل ہم سٹی ہال میں ملیں گے چار بجے۔ گبریلا اور اوزانٹ بھی آئیں گی۔ تم وہاں آ جاؤ سب سے مل لینا۔ کافی ہاؤسمیں پہلے تو گپ بازی کریں گے پھر کسینو جائیں گے۔ جسٹ فار فن سیک۔ ہارنے، جیتنے کے لیے نہیں، صرف زندگی سے اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے!‘‘

اور زینت کو خود پر اس وقت بہت حیرت ہوئی کہ جب وہ اک زمانے کے بعد قدرے اہتمام کے ساتھ لباس کا انتخاب کر کے تیار ہوئی۔

’’کہاں جا رہی ہو؟‘‘ اور اس قسم کے لڑکیوں والے لباس میں....؟‘‘اسلم تعجب سے بڑھ کر طعنہ زنی کے ساتھ پوچھ رہا تھا۔

’’میرے جیسی ’’ایک لڑکی‘‘ کی سالگرہ ہے‘‘ زینت نے جھوٹ بولا۔ ’’وہ تنہا رہتی ہے اس لیے مردوں کو نہیں بلایا، کل ہی شہزادہ کے گھر ملاقات اور دوستی ہوئی تھی۔ ‘‘ اسلم کچھ سمجھ نہ پایا اور زینت عرف زونی ان چار بوڑھی لڑکیوں میں جا پہنچی اور کھل اٹھی۔ زندگی زندہ ہو گئی۔ اچانک صندوق میں رکھے گئے پرانے دنوں کے البم کی طرح، پرانے دن بر آمد ہوئے اور اس کے دل میں ہنسنے گانے لگے۔

مسرت.... بھولی بسری، کبھی کی کھو چکی، گمشدہ مسرت کسی تاریک گپھا سے نکلی اور سینے میں ترل ترل گرتی، برسات کے بلبلوں میں شوخیوں سے قہقہے لگانے، اچھلتے چلے جانے کی صورت پہلے پہل متعارف ہوئی وار پھر رفتہ رفتہ لہو میں بہنے لگی۔

کافی ہاؤس میں آئس کافی پیتے وہ بچوں جیسی ہنسی ہنستیں۔ یونہی بلا وجہ پانچ بوڑھی بچیاں ایسی از خود رفتہ سی پائی جاتیں کہ دیکھنے والے کو آہستہ آہستہ شبہ ہونے لگتا کہ شاید وہ اتنی بوڑھی نہیں ہیں جیسا اس نے خیال کیا تھا۔

’’اسے دیکھو۔ وہ اُدھر کونے میں کھویا کھویا بیٹھا ہے.... قرمزی ہیٹ والا’’۔ اوزانٹ نے آنکھ سے اشارہ کیا۔ ’’کبھی کبھی غور سے مجھے دیکھتا ہے۔ کیا کہتی ہو سگنل دے دوں؟‘‘

’’ہشت‘‘ شوفی ترنگ میں لہرائی۔ ‘‘ پہلے یہ تو جان لو کہ وہ کسے دیکھ رہا ہے.... تمھیں مجھے یا انھیں؟‘‘

’’کسی کو بھی‘‘ گبریلا بے پروائی سے کہنے لگی۔ ’’چند لمحوں کے لیے وقت کے آسمان پر نکلی قوسِ قزح آنکھوں کو بہت بھلی لگتی ہے۔ اس عمر کے ’’لڑکے‘‘ دور دور سے ناز برداری کے لیے بڑے مناسب رہتے ہیں، اس سے بڑھ کر نہ لینا، نہ دینا، بس رنگوں کی، روشنیوں کی اور ان میں مگن رہنے کی چھوٹی چھوٹی وجہیں تلاش کرنا ہیں، کچھ پل کے لیے سب بھول کر ملنا اور بچھڑ جانا....‘‘

’’ پھر کہیں اور۔ پھر کس اور سے ....‘‘ کھٹیا نے لقمہ دیا۔

زینت کے لیے یہ رخ بے حد حیران کن اور نیا تھا، خواب جیسا تھا! جاگتی آنکھوں کا خواب! وہاں سے اُٹھ کر وہ ونڈو شاپنگ پر نکل کھڑی ہوئیں۔ معمولی اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہنس ہنس کر، دُہرے سے ہو جانا.... کس قدر دلنشیں، کیسا خواب ناک طلسماتی، فسوں خیز اور پاگل بنا دینے والا تھا ! زینت پاگل سی ہو گئی۔ رات گئے گھر لوٹنے وہ وہ تھکن سے بے حال تھی مگر اس تھکاوٹ میں مایوسی، دکھ یا آزردگی نہیں تھی۔ ایک چاہت بھرا دبا دبا سا ہیجان، اک غیر متعارف شدہ نئے پن کی بانکی ترنگ نس نس میں لہو کے ساتھ گاتی بہتی تھی۔ وہ تو یہ زندگی جان یہ پائی تھی.... کبھی نہیں.... دورِ شباب میں بھی نہیں۔ ہر طرف ہمیشہ بہت سی آنکھیں، کئی پیشانیاں نگراں رہتی تھیں.... منہ کھول کر ہنسنے سے جن پر بل پڑ جاتے.... آنکھوں میں تنبیہ کے مہیب سائے لہرانے لگتے۔ کتنے رشتے اور کتنے حصار، دائرے مطالبے، تاکیدیں، حدود، پابندیاں اور ان کے بچوں بیچ پھنسی، گھٹی پھڑ پھڑاتی، سانس لینے کو تڑپ تڑپ جاتی چار روزہ زندگی!

وہ دور گزارا، نہیں گزرا ہی تھا کہ اچانک قید و بندگی کے قواعد بدل گئے۔ نانو، گرینی، خالی ماں کا ہنسنا کھیلنا پہننا اور اوڑھنا عیب یا گالی تصور ہونے لگا۔

’’اب اللہ اللہ کیا کریں.... اس عمر میں تو بس یہی رہ جاتا ہے.... نہ کھانے سے رغبت نہ پہننے کی چاہت!‘‘

’’ہاں بھئی یہ تو عاقبت سنوارنے اور دعائیں دینے والے بزرگ ہیں.... ان کا اب کیا بھروسا۔ ‘‘ قبر کھود کر اس میں اپنے ہاتھوں سے مٹی ڈالنے کا ماحول ہر شخص، ہر آن، تقریباً ہر عمر رسیدہ کے لیے بنائے رکھتا ہے۔ مردوں کا پھر بھی کسی حد تک زندگی کے جھمیلے میں حصہ لگایا جاسکتا ہے، لیکن عورت کا تو بالکل ہی نہیں۔ زندگی اگر کھیل کا میدان ہے تو بڑھتی عمر اس میں داخلے کے دروازے بند کرتے کرتے پہلے تماشائیوں میں اور پھر وہاں سے بھی نکال کر خلاؤںمیں چھوڑ آتی ہے۔

بننا سنورنا، خوش ہونا یا خوش دکھنا قطعی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ خوشی کی دعائیں جن بوڑھوں کا فرض ٹھہرایا جاتا ہے ان میں خود ان کا کوئی رتی برابر حصہ نہیں۔

بوڑھی عورت اپنے لیے بھی بننے سنورنے کا حق نہیں رکھتی کہ اس کا بوڑھا شوہر سب سے پہلے اس ’’خوبصورت تبدیلی‘‘ پر ’’پیش دستی‘‘ کے بے باک مگر ضعیف ارادے ظاہر کرنے لگتا ہے جب کہ ایک عمر رسیدہ عورت ایسے چونچلوں سے دل گرفتہ یا بیزار ہونے کے علاوہ توانائی و ہمت کا بھی فقدان لیے ہوتی ہے۔ نتیجتاً وہ بہتر دکھنا ترک کر دیتی ہے۔ بیمار، مریل، خستہ حال، نیم جاں روز و شب ہی اس کی قسمت اور اس کی نجات ٹھہرتے ہیں کیوں کہ مرد تو مرد ہے، اسے جسم کے تاریک غار میں آخری سانس تک جینا ہے۔ بوڑھے مرد اور بھی ندیدے، ہوس زدہ حرص کے مارے اور چوبیس گھنٹے کے پیر تسمہ پا بنے ملتے ہیں۔ عورت ذہین ہو اور خوبصورت بھی ہو تو وہ جینا چاہتی ہے، مرنا نہیں چاہتی۔ موت سے پہلے تو بالکل نہیں۔ وہ اپنے لیے نکھرتا، سنورنا اور مسرور ہونا چاہتی ہے جو ہونے نہیں دیا جاتا.... سب جو اس کے ارد گرد رہتے بستے ہیں، اس کے اپنے اس کے قریبی ہوتے ہیں۔ وہ سب اسے اس تصور میں قید کر دینا چاہتے ہیں جو ان کے رشتے اس سے طلب کرتے ہیں۔

عمر رسیدہ بزرگوں کے لیے رشتوں نے رف خانے بنا رکھے ہیں، جہاں وہ شخصیت ’’فریز‘‘ کر کے رشتہ ڈھال لیتے ہیں.... یا پھر مسکراتا روبوٹ.... سب سنبھالے رکھنے والا ’’لاکر‘‘۔ وہاں شہزاد اور سمیعہ کی ویڈنگ اینی ورسری میں ’’لاکر‘‘ بنی زینت کو شوفی جیسی جادوگرنی نے پہچان لیا اور اسم سامری پھونک کر اک نئی زندگی عطا کر دی .... وہ اُسے اس نوجوان طبقے کے مخصوص علاقے سے نکال کر باہر لان میں لے آئی۔ کچھ ہی دیر کے بعد دونوں عورتیں ہنستی مسکراتی پائی گئیں۔ پہلے پہل ڈرتے ڈرتے زینت گھر سے باہر مارکیٹس تک ان کے ساتھ چلی، پھر آگے بڑھ گئی۔ در اصل وہ فطری طور پر نہ تو روبوٹ تھی نہ ’’لاکر‘‘ یوں شہر ممنوعہ کے متعدد دروازے کھلنے لگے۔ کسینو، کافی ہاؤس،سوانا باتھ اور کبھی کبھی دیر رات گئے بار روم بھی .... اندر سے جہانِ نو تھے.... الف لیلوی دنیائیں زینت کے تصور سے بڑھ کر دلنشیں، دلدار و دلنواز رنگینی لیے۔ اک اندر سبھا تھی جو مردے کو زندہ کرتی، سانسیں بخشتی۔

مرنے سے پہلے زینت کی، مرتے رہنے کی پریکٹس چھوٹ گئی۔ وہ جینے لگی۔ شوفی سڑک کے کنارے رُکی کھڑی حیات نو تھی جو انگلی تھام کر لے گئی۔ زینت دہری زندگی جینا سیکھ گئی۔ روتی بسورتی چپ چاپ جامد موت کے انتظار میں جاپ جپتی، اللہ اللہ کرتی، بے بس محتاج اک چیز جیسی زندگی اور قہقہے لگاتی، قدم قدم دھڑکتی، صرف مدھرتا سے آشنا مسکراتی زندگی۔ کیا جادو تھا جو دھیمے سروں میں راگ چھیڑ کر رگ رگ اور سانس سانس میں پھیل گیا۔

’’واؤ.... و.... و....! شوفی آئس بیئر کے ایک گلاس ہی میں کھلتی، مہکتی گلاب بننے لگتی تھی۔

’’زونی....!‘‘ اس نے سرسراتی سرگوشی سے اسے پکارا....

’’اگر .... اگر تم ایک بار یہ تجربہ کر سکو۔ افوہ۔ ہ ....ہ! تو دنیا پھر ایسی نہیں ہو گی جیسے اب تم اُدھر سے دیکھ رہی ہو....‘‘ شوفی نے انگلی زونی کی پشت پر گھمائی اور مزید گویا ہوئی: یہ اِدھر.... ‘‘ آئس بیئر کی ٹھنڈک اس کے گال کو چھو رہی تھی۔ ’’یہاں اس کے ساتھ صورتیں وہ نہیں رہتیں، ویسے چہرے، گلیاں، عمارتیں، روشنی نہیں، سب کچھ اور ہے، بجھی بجھی راکھ رو پہلی چاندنی جیسی کھلتی، چمکتی افشاں بن کر پہلے آنکھ میں تو پھر دل میں بجھ جاتی .... سب بدل جاتا ہے .... سب .... لو .... چکھو.... سب بدل جائے گا....!

’’نہیں....‘‘ زونی نے انکار میں سر ہلایا۔ ’’بیئر یا الکحل نہیں.... اس لیے نہیں کہ کوئی اخلاقی رکاوٹ یا کوئی پارسائی کا بندھن جکڑے ہوئے ہے۔ بس میرا معدہ ہی کم ظرف ہے۔ بچپن سے اس نے ہر لذت اور مزے کے ذائقے کو میری زندگی سے خارج کر ڈالا ہے۔ ہر اچھی شئے کا چٹخارہ حرام ہے مجھ پر اور اب تو خیر زندگی ہی چھینی جانے والی ہے۔ ‘‘

’’نا.... ابھی نہیں....‘‘ شوفی نے نیم و آنکھوں سے قدرے لہرا کر انگلی کو ہوا میں گھمایا.... ’’ابھی نہیں.... آخری سانس تک نہیں....‘‘

’’اس آخری سانس تک کہ جو تمھیں زندہ ہونے کا احساس دے سکتا ہے.... تب تک نہیں۔ ‘‘ اوزانٹ نے سمجھا نے کے انداز میں بتایا۔

ہسپتال میں گزرے یہ تیس دن، اذیت کے تیس لمبے لمبے دلدلی غار تھے جہاں وہ دھنستی جا رہی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ وہ بھیانک گرفت ڈھیلی پڑنے لگی۔ رفتہ رفتہ سب بحال ہوتا چلا گیا۔ تین روز قبل اس کے ٹانکے کھل گئے تھے۔

’’آپ چاہیں تو اس ویک اینڈ پر یعنی کل بھی گھر جاسکتی ہیں۔ لیکن پھر منڈے کو آپ کو چیک اپ ہمارے بڑے سرجن سے نہیں ہو سکے گا کیوں کہ وہ آؤٹ ڈور پیشنٹ نہیں دیکھتے۔ ‘‘ صبح ہی معمول کے مطابق معائنے پر آنے والے ڈاکٹر نے اسے خوشخبری سنادی تھی۔ جاتے جاتے اس کے ہمراہ آنے والے چھوٹے ڈاکٹروں میں سے ایک نے مزید بتایا :

’’ آپ شام تک فیصلہ کر لیں کیوں کہ ہمیں ڈسچارج لیٹر بنانا ہو گا۔ ورنہ پھر منڈے کو بنے گا۔ ‘‘

’’کل ہی ....؟‘‘ زینت خوشی سے کھل اُٹھی۔ ’’ میں کل ہی چلی جاؤں گی۔ ‘‘

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جیل جیسے ہسپتال سے رہائی ملنے کا امکاں بنے اور اسے کوئی رد کر دے ! شام کے وقت، اسلم کے ساتھ شہزاد، سمیعہ اور بیٹیوں کو بھی آنا تھا۔ ’’میں ان کے آتے ہی انھیں یہ خبر سناؤں گی۔‘‘

زینت کی خوشی کسی مفرح ٹانک کی طرح رگوں میں دوڑتی، توانائی فراہم کرتی تھی۔ لیکن وہ چاروں شام سے پہلے دو پہر ہی کو آ گئیں.... شوفی، کھٹیا، اوزانٹ اور گبریلا۔ زینت بالکل بچی سی دکھنے لگی۔ سب لفٹ سے نیچے لان پر آ گئیں۔ چاروں جانب پھولوں کا حاشیہ تھا اور ہوا، ان میں پرفیومری ورکس بنا رہی تھی جو پہلے کبھی زونی نے نہ سونگھا تھا۔

’’پتا ہے، مجھے کل ہی چھٹی مل سکتی ہے۔ ‘‘ اس نے گرمائی تعطیلات شروع ہونے والے احساس کے ساتھ انھیں بتایا۔

’’کیا واقعی اسی ویک اینڈ پر؟‘‘ چاروں مسرور ہو گئیں۔ پھر آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارہ کیا۔

’’جانتی ہو؟‘‘ شوفی نے لب کھولے۔ ‘‘ آج کل سٹی فیسٹول چل رہا ہے۔ کل آخری ویک اینڈ ہے۔ ہم نے تمھیں پہلے اس لیے نہیں بتایا تھا کہ ہسپتال میں یہ سب سن کر تمھارا دل برا ہو گا۔ ‘‘

’’مگر اب تو سب ساتھ چلیں گے، بس تھوڑی دیر کے لیے جب تک تم چاہو گی۔ ‘‘ کھٹیا نے کہا۔

’’کتنا مزہ آئے گا، ہے نا....‘‘ گبریلانے سر ہلایا پھر شوفی سے کہنے لگی۔ ’’ بتا دیں!‘‘

’’چلو بتا دو.... مجھے پتا ہے، تم سے اور رہا نہیں جائے گا۔ ‘‘ اوزانٹ نے ہونٹ سکوڑے۔ تب شوفی بھی ترنگ میں آ گئی اور ہولے ہولے بادِ نسیم کی سی سرگوشی میں سنانے لگی:

’’جانتی ہو، اگلے مہینے ہم نے سب کے لیے دو ہفتے کا ٹور بک کروایا ہے ترکی کا.... تمھاری صحت یابی پر سرپرائز گفٹ۔ ‘‘ جملے کے اختتام تک پانچویں اس پُر اسرار فسوں کی لپیٹ میں جاچکی تھیں جو کسی میجک شو میں ہر ننھے بچے کے دل میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے اور وہ کامل از خود رفتگی کے عالم میں ان دیکھے جزیروں کے ساحلوں پر بیٹھا جادو گر کے خالی ہیٹ کو تکتا رہتا ہے۔ پل بھر کے بعد جہاں خرگوشوں کا جوڑا، پھڑکتا، کبوتر، کھلتا گلاب کچھ بھی، کچھ بھی، اچانک نکل آئے گا اور ششدر کر دے گا۔

’’ہم ساحل سمندر پر ریت کے گھر بنائیں گے۔ ‘‘ سب سے پہلے کھٹیا نے اپنا جاگتا خواب ان کے آگے کھولا....’’صبح کا سورج پانی سے اُگتا دیکھیں گے۔ ‘‘

’’اور پھر اُٹھ کر اپنے اپنے راستوں کو چل دیں گے۔ ‘‘

سب ہنسنے لگیں، خواب بننے لگیں.... کیف و مستی میں ڈوبے دلنشیں مگر بے ضرر خواب، بونس لمحوں کے بونس خواب۔

’’بس تم کل گھر آجاؤ! پھر سٹی فیسٹول چلتی ہیں۔ اسے بھی انجوائے کریں گے اور اگلا پروگرام بھی وہیں پر بنا لیں گے۔ ‘‘

’’گڈ....‘‘ گبریلا اُٹھ کھڑی ہوئی....’’تم بیٹھے بیٹھے تھک گئی ہو گی، چلو واپس کمرے میں چلتے ہیں۔ ‘‘ چاروں اُسے چھوڑ کر رخصت ہونے لگیں تو شوفی کو کچھ یاد آگیا:

’’زونی....‘‘ وہ مُڑی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی۔ ‘‘ تمھارے سارے لباس میں نے ڈرائی کلین کے لیے دے دیے تھے۔ کل کے لیے ارجنٹ کون سا والا نکلوا لوں.... گلابی نا! بڑے گھیرے والا سکرٹ۔‘‘

’’ہو ں .... ں....‘‘ زونی نے کچھ کھسیانی، کچھ خوشی ملی مسکراہٹ سے اثبات میں سُر کو جنبش دی۔

’’دیکھا .... مجھے پتا تھا....!‘‘ شگفتہ نے بزرگوں کے انداز میں اس کے سر پر نرم تھپکی دی اور وہ چلی گئیں۔ شام کو اس کے بچے اور شوہر بھی آ گئے۔ بیٹا ایک خود کار روبوٹ کے مانند اپنی ذمے داری نباہنے اس کی طرف کم اور بیوی بچوں کی طرف زیادہ متوجہ .... سمیعہ اس کی بہو، نک سُک سے لدی پھندی، شباب و زندگی کے سارے لوازمات پر اپنا مکمل حق رکھتی ہوئی، اتراہٹ سے بھری.... جو اسے ہر آن ’’اجازت‘‘ کا سرٹیفیکٹ عطا کرتے تھے۔ اسلم، وہی مشرقی روایتی شوہر، گھر میں تھکا ہارا بیزار اُکتا یا ہوا جو بیوی کے لیے غصہ اور دوستوں کے لیے ہنسی مذاق، لطیفے، خوش گپیاں، گفتگو اور دلچسپیاں رکھتے ہیں۔ ایک بار سرسری سا حال پوچھ کر الگ تھلگ جا بیٹھا۔ زونی کو یکبارگی حیرانی اور رنج نے آلیا۔ پھر وہ ماحول تبدیل کر دینے کی خاطر ان سے خوشخبری شیئر کرنے لگی۔

’’مجھے .... کل چھٹی مل جائے گی۔ ‘‘ واقعہ اس نے دیکھا کہ سب چہرے دمک اٹھے تھے۔

’’ارے واقعی ماما، پھر تو بہت ہی اچھا ہو گا! کیوں شہزادے....؟‘‘ اس کی بہو سمیعہ بولی تو زونی نے مسرت اور تعجب ملے احساس سے اسے دیکھ کر سوچا کہ یہ لوگ مجھے کتنا چاہتے ہیں، اور میں ہوں کہ .... پھر اس نے سنا:

’’در اصل سنڈے کو ہم اپنی اور راحیل بھائی اپنی ’’اینی ورسری‘‘ ایک ساتھ منا رہے ہیں۔ مما کے ہاں ان کا بڑا لان اور بڑا ہاؤسہے۔ گِرل پارٹی میں بچے تنگ نہ کریں۔ چلو اندر ماما آرام کرتی رہیں گی اور بچوں کی نگرانی بھی ہو جائے گی۔ راحیل کا اور اس کی سالی کا بے بی بہت چھوٹا ہے، ان کی اتنی ساری چیزیں۔ ہمارے اپنے بچوں کا سامان۔ ‘‘

وہ پتا نہیں، کیا کیا پروگرام بناتے اور کیا کیا کہتے سنتے رہے۔ زینت نے پھر کچھ نہیں سنا۔ وہ کب چلے گئے اسے پتا ہی نہیں چل پایا۔ اس پر ٹھنڈی اوس برابر گرے جا رہی تھی، جہاں پر ایک بڑے سے ہاؤسکا ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ اور وہ کسی کاؤچ یا صوفے پر ماری بندھی پڑی تھی.... مجبور، خاموش! ارد گرد بچوں کی پر امز، ان کی ماؤںکے بیگ۔ قریب کہیں کسی پالنے میں سورہے ننھے بچے ان کے استعمال کی بیسویں چیزیں، بار بار آ کر رکھتی اٹھاتی اٹھلاتی نوجوان عورتیں، اپنے ساتھیوں سے چہلوں میں لگیں، اسے یوں نظر انداز کرتی ہوئیں گویا وہ بھی اک بے جان چیز ہے، اس کے کمرے میں رکھی دیگر چیزوں جیسی چیز۔ کبھی کبھی کوئی اسے دیکھ پہچانے بنا اک لفظ تشکر اُچھال دیتی:

’’تھینک یو آنٹی، یہ بے بی کا فیڈر رکھ لیں۔ سنی کا بسکٹ کا ڈبا۔ ڈولی کا فیریکس۔ پنکی کے نیئر۔

’’آنٹی یہ میرا کورٹ اِدھر رکھا ہے، یہ ڈارک براؤن۔ وہ چھتری ہماری ہے، بے بی کی پرام کے پاس۔ ‘‘

’’نانو، میری ماما کدھر ہیں؟‘‘ اک ’’لاکر‘‘ اک’ ’’فریزر‘‘ اک میز کرسی، کاٹ پرام کچھ بھی۔ مگر ان میں زینت کہیں نہیں۔ اس کی موجودگی، اس کی شخصیت ہو کر بھی نہیں۔

.... گہرے گہرے مہیب سائے انجانی سمتوں سے اس کی طرف بڑھتے آنے لگے اور وہ ان میں ڈوبتی کھوتی چلی جانے لگی۔ پھر وہی موت کے انتظار کاکئیو۔ وہی کھلی ہوئی مگر بند جیسی خالی ویران ڈگر ڈگر کرتی آنکھیں.... چاروں جانب بے چینی سے گھوم کر واپس اپنی وحشتوں سے نبرد آزما تنہائی سے اپنے فالتو پن، اپنے بیکار پن سے اپنے نہ ہونے کے صفر میں تڑپ تڑپ کر لوٹتی ہوئی.... وہاں جہاں کچھ نہ تھا، بھیانک تنہائی اور غراتے بھاگتے چلے آتے مہیب اندھیرے....

.... بس کبھی کبھی لب کھول کر سب کو دعائیں بخش دو.... ’’جیتے رہو، خوش رہو!‘‘

وہ دعائیں جن میں بڈھوں کا کوئی حصہ نہیں رہ جاتا.... نہ جینے میں نہ خوش ہونے میں! اسی گہری شام کے گہرے سایوں میں سٹیشن انچارج نے سوال کیا:

’’آپ کل گھر جا رہی ہیں؟‘‘

’’نہیں....‘‘ زینت سنجیدہ اور حتمی لہجے میں بولی۔ ’’میں بڑے سرجن سے معائنہ کراؤں گی منڈے کو۔ ‘‘ لیکن در اصل وہ اپنی سرجری کے بعد ملنے والی نئی زندگی کا استقبال تاریک سوچوں کے دائرے بنتے اور اسے اپنی ان دیکھی لپیٹ میں آکٹوپس بن کر جکڑتے خیالوں یا چپ کی اندھی کھائی جیسے منجمد ماحول سے نہیں کرنا چاہتی تھی۔ شہزاد اور سمیعہ کی اینی ورسری چھوڑ کر اس کے لیے ہر گز سٹی فیسٹول جانا ممکن نہیں ہو سکے گا۔ وہ گلابی، بڑے گھیرے والا سکرٹ اور شرمیلی مگر دل سے ہنستی ہنسی کی پھوار ویسے ہی ان چھوئے رہ جائیں گے، لیکن ان سے ذرا پیچھے ان کے عقب میں اک دلدار تبسم ہاتھ ہلاتا تھا۔

زینت نے تاریک سائے ہٹا کر بڑھتی چلی آ رہی کالی رات کو پیچھے دھکیل دیا۔ وہ اُدھر اس پار دیکھ رہی تھی جدھر اگلے مہینے ترکی کے ٹور کا بورڈ لگا تھا اور نیون سائن کی رنگ برنگی روشنیوں جیسی ہنسی ہنستا تھا، اپنا زندہ گرم حرارت سے بھرپور ہاتھ بڑھا کر زینت کا ہاتھ تھامنے کا منتظر تھا۔ وہاں اس بورڈ تلے رات سیاہ کالی نہیں تھی۔ وہ خوشنما سبز رات زینت نے تھام لی اور آرام سے ہسپتال کے بیڈ پر ویک اینڈ گزارنے کو دراز ہو گئی۔