کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ناک

نعیمہ ضیاءالدین


نفرت و محبت دونوں سینے کی گہری تہوں میں نیچے ہی نیچے برہنہ مگر بے چہرہ چھپی رہتی ہیں۔ اوپری سطح پر مصلحت کے خوش رنگ کنول، دریافت کے کانٹے کو اندر کی تہہ تک اترنے کا راستہ ہی نہیں دیتے کہ معلوم ہو سکے ان نچلے تہہ دار پانیوں کا رنگ کیسا ہے۔ تا وقت یہ کہ ایک مخصوص وقت میں غوطہ خوری کے اسباب مہیا نہ ہوں۔ جو اس روز اچانک ہو گئے.... جب وہ دونوں بہت دیر سے گاڑی میں گھوم رہی تھیں۔

’’یہ تم کیا کر رہی ہو؟‘‘

افشیں نے چوتھی بار فرح کو ایک ہی راستے پر گاڑی بڑھاتے دیکھ کر بے زاری سے استفسار کیا۔

’’مجھے کتاب واپس کرنا ہے بھئی.... بس پانچ منٹ کا کام ہے.... جانا آنا سمجھو....‘‘

فرح کی نگاہیں فرینکفرسٹ کی مرکزی لائبریری کی اونچی عمارت پر مرکوز تھیں۔ اسے توقع تھی کہ ضرور کوئی نہ کوئی گاڑی اطراف کی سڑکوں سے نکلے گی اور وہ وہاں چند منٹ کے لیے اپنے گاڑی ٹھہرا سکے گی.... افشیں نے کلائی اٹھا کر گھڑی پر وقت دیکھا....

’’پچیس منٹ ہو گئے ہیں کوچہ گردی کرتے کرتے.... کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ تم پارک ہاؤس چلی جاتیں۔ ‘‘

’’پارک ہاؤس۔ ‘‘ فرح نے نفی میں سرکو جنبش دی.... تم اِدھر پہلی بار آئی ہو، اس لیے نہیں جانتیں۔ پارک ہاؤس سے آنے میں ہی دس منٹ لگ جائیں گے اور خرچہ الگ ہو گا.... جب کہ کام تو پانچ منٹ کا بھی نہیں ....‘‘ پھر یکایک ایک نئے خیال نے اس کے ذہن میں جگہ بنائی....

’’ارے ہاں .... اتنی دیر سے میں یہاں مین روڈ پر گھوم رہی ہوں اور پچھلی سڑک کا خیال ہی نہیں آیا....‘‘

سٹیرنگ وہیل گھما کر وہ گاڑی کو موڑتے ہوئے عقبی جانب چلی آئی۔ کونے پر چند برس قبل ایک نئی طرز کا جدید پر تعیش ’’ہارٹ سینٹر‘‘ تعمیر ہوا تھا۔ موڑ کاٹتے ہی گاڑیوں کا ہجوم نہ ہونے کے برابر رہ گیا تھا۔ رہائشی افراد ہی کی گاڑیاں زیادہ تر سڑکوں پر پارک کی گئی تھیں۔ یہ علاقہ کشادہ مثلث نما تھا۔ جو شام کے رات کے تبدیل ہوتے وقت زیادہ تر ویران نظر آ رہا تھا۔ فرح نے عجلت میں گاڑی ایک خالی جگہ پر لگائی اور ذیلی راستے سے لائبریری کی جانب نکلتے ہوئے مڑ کر افشیں کو دیکھا۔ جو اس کے ساتھ بڑھنے کی بجائے وہیں گاڑی کا دروازہ بند کر کے رکی کھڑی ایک ٹک کہیں متوجہ تھی۔

’’افشیں....!‘‘ فرح نے اسے آواز دی۔ جلدی آؤ۔ ہمیں پہلے ہی دیر ہو چکی ہے۔ ‘‘ تب وہ مرے مرے قدموں سے قریب آتے آتے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔

’’یہ .... یہ .... یہ .... کیا ہے ؟‘‘

فرح نے اس کی نظر کا تعاقب کیا اور پھر سر جھکاتے ہوئے دوبارہ اپنے راستے پر قدم اٹھانے لگی....

 

گہری شام میں مثلث نما علاقے کے اس دوسرے کو نے پر شیشے کی اک دیوار عقب میں گھوم گئی تھی۔ اور اس وسیع شو روم کی دیوار کے پیچھے طاقتور لال قمقموں تلے عورتیں سجی تھیں.... اونچے سٹولوں پر چینی نژاد، سیاہ فام، سفید چکنی جلد والی عورتیں۔ جن کے بالائی دھڑ برہنہ تھے....

’’یہ ریڈ لائٹ ایریا ہے....‘‘ فرح شکستہ لہجے میں بولی۔ ’’ عورتوں کا پرانا کاروبار .... جرمنی میں تو یہ بطور ’’جاب‘‘ کے رجسٹرڈ ہے۔ ‘‘

’’تب .... تت.... تم پہلے بھی یہ جگہیں دیکھ چکی ہو....؟‘‘ افشیں نے ابتدائی دھچکے پر قابو حاصل کر لیا تھا۔

’’ہاں .... ‘‘ فرح نے اثبات میں سرہلایا.... ہر شریف عورت کی طرح مجھے بھی کراہت اور گھن کا ایسا ہی جھٹکا لگا تھا....‘‘

’’تو تم انھیں پہلے سے جانتی ہو....؟‘‘

’’ہاں اس وقت سے جب یونیورسٹی میں میرے ساتھ پڑھنے والی ایک لڑکی نے مجھے بتایا کہ وہ چھٹیوں میں پارٹ ٹائم جاب کرتی تھی.... جانتی ہو وہ جاب کیا تھا....؟‘‘

’’یہاں آتی ہو گی....‘‘

’’ہاں.... یہی جاب تھا اس کا پتہ ہے، اس انکشاف کے ساتھ ہی وہ مانوس اور جانی پہچانی لڑکی یکایک میرے لیے ایسی مخلوق ہو گئی جس سے ناقابل برداشت سڑانڈ اٹھ رہی ہو.... مجھے اپنے اس ہاتھ سے گھن آنے لگی جو اس لڑکی نے تھام رکھا تھا.... اگر وہ فوراً ہی چھوڑ نہ دیتی تو شاید مجھے قے ہو جاتی۔ ’’اس قسم‘‘ کے ہر شخص سے مجھے گھن آتی ہے....‘‘

واپسی پر دونوں کے سر جھکے ہوئے تھے۔ خاموشی سے گاڑی نکال کر مثلث نما سے جاتے جاتے افشیں نے مدھم سی سرگوشی کی....

’’کالی اپنی جگہ سے غائب ہے....‘‘

’’تمہارے اندر کسی تماش بین کی سی آنکھ ہے....‘‘ فرح دھیرے سے مسکرائی.... حالاں کہ یہ تو مردوں کا خمیر ہوا کرتا ہے....‘‘

’’در اصل پہلا تاثر ہے نا‘‘ افشیں کی آواز میں اداسی اور بے چارگی کا امتزاج پایا جاتا تھا ’’سنسنی خیز کہہ لویا لرزہ خیز....‘‘

گاڑی ہارٹ سینٹر کی قرمزی رنگت والی عمارت کے سگنل پر رک گئی۔ افشیں نے ایک نظر عقب میں ڈالی۔

’’ویسے یہ ہارٹ سینٹر بنانے والے جو کوئی بھی ہوں گے، ستم ظریف بلا کے ہیں۔ کیسا علاقہ منتخب کیا ہے۔ ادھر اُدھر کے دونوں کونے دل کے بہلانے کی خاطر مخصوص ہیں....‘‘

گاڑی مرکزی شاہراہ سے عظیم اوپر اہاؤسپر نکل کر فرنکفرٹ ریلوے اسٹیشن کی جانب بڑھنے لگی۔ کائزر سڑا سے پراسی طرح سے ایشیائیوں کا ہجوم تھا.... ساڑھیوں اور برقعوں میں ملبوس خواتین .... زیورات، مٹھائی اور گروسری کی دوکانوں میں اندر باہر آتی جاتی تھیں.... سڑک پر بتی سرخ ہو گئی تھی۔ لوگ تیزی سے زیبرا کراسنگ عبور کرنے لگے۔ ان ہی میں سے بجلی کی طرح کوند کر ایک چہرہ نگاہ میں لہرایا.... بہت مدھم اور مریل سرگوشی میں افشیں نے سرموڑ کر فرح دیکھتے ہوئے کہا۔

’’پرویز ہے نا یہ ....‘‘

یوں جیسے خود کو مخاطب کر رہی ہو۔ ‘‘

’’ہو .... ں....‘‘

اس سے بھی زیادہ مرے مرے لہجے میں فرح نے تائید کی.... اشارہ سبز ہوتے ہی وہ تیزی سے گاڑی بڑھا کر نکلتی چلی گئی....

یونیورسٹی ہال میں اس شام رقص و موسیقی کا ایک پروگرام منعقد ہو رہا تھا.... دونوں اپنے ٹکٹ دکھا کر اندر آ گئیں اور نشستوں کے نمبر ڈھونڈنے لگیں۔

دائیں ہاتھ والی قطار میں تیسرے نمبر پرویز بیٹھا ہے۔ مڑ کر نہ دیکھنا....‘‘

افشیں نے فرح کے کان میں جھک کر اطلاع بہم پہنچائی۔

’’تمھارے اندر چھٹی حس کی جگہ شاید کیمرہ لگا ہوا ہے....‘‘

فرح کی آواز میں بدمزگی کا عنصر نمایاں تھا’’ جو ہر وقت ’’زوم‘‘ کئے رہتا ہے....’’ وہاں تم نے اتنی دور سے دیکھ لیا کہ کالی لگ گئی ہے.... سگنل پر لوگوں کی بھیڑ میں تمھیں پرویز نظر آگیا.... اور یہاں پھر سے آتے ہی اسے ڈھونڈ نکالا۔

’’میری آنکھوں کے دونوں کیمروں میں تجسس کے طاقتور لینسز لگے ہیں....‘‘

’’اچھا اب چپ چاپ بیٹھ جاؤ.... وہ دیکھو سیما کپور ہار مونیم سنبھال چکی ہے....‘‘

’’یہ وہی سیما کپور ہے نا جسے تم گھر پر لائی تھیں.... کھانے پر بلوایا تھا شاید.... میں ان دنوں پاکستان گئی ہوئی تھی....‘‘

’’میں نے نہیں اسے پرویز نے انوائٹ کیا تھا ڈنر پر.... اور بس خبردار اگر ایک لفظ بھی اب منہ سے نکالا تو .... لوگ ہمیں گھور نے لگے ہیں....‘‘

رقص و سنگیت ختم ہوتے ہوتے رات کے دو بج گئے.... فرح نے ڈرائیونگ نشست اب افشیں کو سونپ دی تھی.... یہ کہتے ہوئے....

’’تم نے مجھے شوفر سمجھ رکھا ہے.... اور خود مزے سے بیٹھی ہو....‘‘

وہ برا مانے بغیر ادھر چلی آئی۔

’’لو میں بن جاتی ہوں شوفر.... لیکن میرے جینز میں گیت سنگیت سے لطف اندوز ہونے کا ذوق شوق نہیں پایا جاتا.... یہ تو تمھارا اور پرویز کا مشترکہ مشغلہ تھا....‘‘

فرح نے اس بات پر کوئی تبصرہ یا ردِّ عمل ظاہر نہیں کیا.... بدستور نشست کی پشت سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھی رہی....

’’ اے کیا سوگئیں....‘‘ افشیں بلند آواز میں پکاری ’’خبردار ڈرائیور کے ساتھی کو سونا منع ہے....‘‘

’’تو میں کب سورہی ہوں.... مسلسل تمھاری بک بک سنے جا رہی ہوں....‘‘

’’بک بک .... بہت اچھے .... میری باتیں بک بک لگتی ہیں۔ ٹھیک ہے میں نے تو پہلے ہی اعتراف کر لیا ہے کہ یہ موسیقی وغیرہ کا ذوق مجھ میں نہیں.... پرویز تمھارا ساتھ دے سکتا تھا ان مشاغل میں....‘‘

بات بڑھانے سے پہلے وہ تذبذب میں مبتلا رہی۔ آخر کار بول اُٹھی....

’’سنو آج یہ راز بھی بتا ہی دو کہ تم نے پرویز سے منگنی کیوں توڑ ڈالی....‘‘

فرح نشست پر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی.... اسے یوں لگا کہ دونوں ایک دوسرے کو محسوس کر سکتی ہیں۔ ماحول نے ان پر اپنی مخصوص گرفت واضح کر دی تھی۔

’’جاننا چاہتی ہو....‘‘ وہ سنجیدہ آواز میں افشیں سے مخاطب ہوئی ’’تو سنو.... کیوں کہ آج تم اسے سمجھ بھی سکوگی....۔ ‘‘

فرح کی آنکھیں اندرونی آتشیں طیش سے گہری سرخ دکھائی دیں۔

’’ اس سنگیت کے ذوق اور اسی گلوکارہ کی وجہ سے میں نے منگنی توڑ دی....‘‘

’’کیا مطلب ....؟‘‘

افشیں کچھ نہ سمجھتے ہوئے بولی.... ’’پرویز موسیقی کا رسیا ہے.... تمھیں معلوم ہی تھا.... تھوڑا بہت تماش بین قسم کا مرد ہے.... یہ بھی تم جانتی تھیں.... اور سچ پوچھو تو ہر مرد تھوڑا بہت تماش بین تو ہوتا ہی ہے....‘‘

’’اس رات ہم اس کی محفل سے لوٹ رہے تھے.... ‘‘ فرح نے جیسے افشیں کی کوئی بات سمجھی یا سنی ہی نہ تھی۔ وہ اپنے اندر کے تہہ دار پانیوں میں اتر چکی تھی.... اور اسی غوطہ خوری کے عالم میں بولتی چلی گئی....

’’اس روز میں نے واپسی پر گاڑی میں سیما کپور کی باتیں شروع کر دیں.... اس کی شخصیت اور گائیکی کی تعریف کرنے لگی تو جانتی ہو پرویز نے کیا کہا....؟‘‘

’’کیا....؟‘‘

’’خالص بے دھیانی کے عالم میں کہنے لگا.... چھوڑ و یار.... گندی عورت ہے .... بستر پر لیٹے لیٹے رات کو چادر سے ناک صاف کر لیتی ہے........‘‘