کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

حلال نشہ

نعیمہ ضیاءالدین


ارشد کو وطن چھوڑے کوئی خاص عرصہ نہیں ہوا تھا۔ مغربی ماحول اس کے لیے نیا تھا۔ یہ زندگی ڈسپلن، سہولتیں، قاعدے، قرینے اور خاموش قسم کا با ادب با ملاحظہ طرز والا ماحول اسے اندر سے سہما سہما جاتا۔ وہ گاؤںکا باشندہ تھا۔ کھلی، آزاد فضاؤںکا پنچھی۔ جہاز سے باہر قدم رکھتے ہی اسے یوں محسوس ہوا تھا کہ اس کا بیتا ہوا بچپن یک دم پھر سے لوٹ آیا ہے اور سہم کر اس کے سینے میں خاموشی سے بیٹھ گیا ہے۔ چچیرے بھائی صابر الٰہی کے ہاں قیام کے دوران ڈرا ہوا، خوف زدہ بچہ اپنی گھبراہٹ ترک کرنے پر قطعاً آمادہ نہیں ہوتا تھا۔ ارشد اسے لاکھ سمجھاتا، پچکارتا اور مناتا رہتا۔ لیکن جہاں کوئی معمولی سی خلافِ معمول جنبش ہوئی نہیں کہ وہ بدک کر جست لگاتے ہوئے اس کے سینے میں پہنچتا اور خوف کی سیڑھی کے پائیدان پر چڑھ بیٹھتا۔ ارشد گھبرا کر ہمیشہ اس بچے کو رام کرنے میں لگ جاتا تھا۔ اس روز انھیں صابر کے والد حشمت الٰہی کی عیادت کے لیے ہسپتال جانا تھا۔ ان کا ہر نیا کا آپریشن ہوا تھا۔ وزٹنگ ٹائم میں صابر نے ارشد کو ساتھ لے کر ہسپتال کا رخ کیا۔ چمکیلے فرش والے اجلے برآمد ے میں قدم بڑھاتے ارشد کو واضح طور سے محسوس ہو رہا تھا کہ ایک جوان العمر ارشد کے بجائے صابر کی ہمراہی میں وہی خوف زدہ ننتھا پینڈو بچہ چلا جا رہا ہے۔ ان کے گاؤںمیں مریض کے ساتھ سارا پنڈ اٹھ کر چل دیتا تھا۔ مریض اپنی چار پائی پر شفا خانے کے برآمدے یا احاطے میں لگے کسی گھنے درخت کے سائے میں لیٹا رہتا۔ ارد گرد دیکھوں کے علاوہ گاؤںوالے، عزیز و اقارب اور دوست احباب بھی بھٹکتے پھرتے۔ یہ سوکت، نہ اطمینان و تسلی کا عنصر، نہ توجہ اور نہ علاج معالجے کے آثار۔ بس اللہ کے آسرے پر پڑھے ہیں سو پڑے ہیں۔ دوپہر ڈھل گئی اور باری نہ لگ سکی تو بات اگلے دن پرٹل گئی سمجھو اور کھانے پینے کے فکر میں اٹھ کر چل نکلو۔ پر یہ پتا نہیں کیسا شفا خانہ تھا۔ براق، چمکیلا، خاموش اور با رعب۔ ارشد کو لگا کہ وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے یا پھر کوئی فلم جہاں اک پر اسرار سکوت دکھایا جارہا ہے جو کسی حیرت انگیز منظر کے انشکاف کا ابتدائیہ ہے۔ ابھی تیز میوزک بج اٹھے گا اور اصل انکشاف روبرو لایا جائے گا۔ دونوں شاید ماحول کے سکوت میں گم خاموشی کی انگلی تھامے ہوئے تھے۔ اور شاید در پردہ کسی میوزک ہی کے منتظر تھے کہ یکایک قریبی لفٹ کا دروازہ غڑاپ سے کھل گیا اور ایک عجیب سی موسیقی برآمد ہو کر فضاؤںمیں گھلنے لگی مگر وہ منظر ابھی سامنے نہیں آیا تھا۔ ابھی دونوں بے آواز اور آہستہ قدموں کے ساتھ بڑھ رہے تھے ایک طویل کا ریڈور میں جس کا چمکیلا فرش آئنے کی سی آب و تاب لیے تھا۔ کاریڈور کے ایک طرف فراخ فرانسیسی طرز کے کشادہ دریچے اور ان کی سلوں پر تازہ گل دستوں اور انڈور پودوں کی دلنواز مہک تھی تو دوسری جانب مریضوں کے کمروں میں کھلنے والے دروازوں کا سلسلہ تھا۔ ارشد نے چور نظروں سے ہر سمت دیکھا۔

’’صابر.... یہاں کا فرش.... کیسا چمکیلا ہے۔ صاف شفاف۔ میں تو پاؤںرکھتے ہوئے بھی ہچکچاتا ہوں۔ ‘‘

’’وہ کیوں....؟‘‘ صابر نے اسے گردن گھما کر دیکھنے کی کوشش کی اور بے نیازی سے شانے جھٹک دے۔

’’یہ ان کا فرض ہے کہ ماحول ستھرا رکھیں....‘‘

’’اچھا....‘‘ ارشد نے بے دھیانی کے ساتھ سر اثبات میں ہلایا.... اسے صابر کے جملے کی کوئی خاص سمجھ نہیں آسکی تھی۔ وہ کچھ دیر کے لیے گہری خاموشی میں ڈوب گیا۔ دونوں آگے بڑھتے رہے۔ ارشد نے چلتے چلتے صابر کو ایک نظر دیکھا اور سرگوشی میں پوچھنے لگا....

’’چچا جان کو گھر جانے کی چھٹی کب ملے گی۔ ‘‘

’’چھٹی....‘‘ صابر نے دبا داب سا قہقہہ لگایا.... ’’ارے بھئی وہ عیش کر رہے ہیں عیش....‘‘

’’کیا مطلب....؟‘‘ ارشد تعجب آمیز نظروں سے صابر کو دیکھنے لگا۔

’’تم نرے گھامڑ ہو....‘‘ صاحر نے اسے شانے پر ٹہوکا دیا....’’نئے نئے آئے ہو نا.... اس لیے ذرا اپنے ارد گرد نگاہ ڈالو....‘‘ معنی خیز نظروں سے اس نے ماحول کا جائزہ لیا.... ’’کیسی اعلیٰ درجے کی صفائی ہے.... سکون، نگہداشت، نظم دیکھ بھال، اوپر سے حسین خدمت گار، عمدہ خوراک.... ہم اسے عیش کہتے ہیں عیش....

ارشد پھر کچھ نہ سمجھتے ہوئے خاموشی کے خول میں چھپ گیا۔ اسی لمحے قریبی لفٹ کا دروازہ کھلا اور سکوت کے پس منظر کا اگلا منظر روبرو آگیا۔ دونوں رک گئے اور قریبی دیوار سے جا لگے۔ دو میل (Male) نرس ایک بیڈ دھکیلتے ہوئے برآمد ہوئے تھے۔ بیڈ سے لگے اسٹینڈ میں خون، گلوکوز اور الابلا کی بوتلیں لٹکی ہوئی تھیں، جو بستر کے متحرک ہونے کے باعث عجیب طرح کی نوحہ خوانی میں مصروف تھیں۔ بستر کا مریض بے ہوشی کی نیند میں ڈوبا تھا۔ متحرک موسیقی منظر میں اپنا کردار ادا کرتی ہوئی آگے بڑھنے لگی۔ ارشد نے اپنے عقب میں دیوار کو تھام لیا۔

 

’’آپریشن ہوا ہے....‘‘ ایک خوف زدہ سی سرگوشی اس کے لبوں سے پھوٹی.... اور اندر کا سہما سہما بچہ سینے سے جا لگا.... پھر وہیں جیسے دل پکڑ کر بیٹھ رہا....

صابر نے اطمینان سے اپنی جگہ چھوڑتے ہوئے مریض کے بیڈ کو دور جاتے دیکھا اور اس کی پیروی میں قدم بڑھا کر ارشد سے سوال کیا....’’ آج کیا دن ہے....‘‘؟

’’دن....‘‘ ارشد سوچنے لگا.... ’’پیر ہے....‘‘

’’بالکل ....‘‘ صابر نے تائید میں سرہلایا۔ ’’پیر ہی ہونا چاہیے.... در اصل یہاں ہر پیر اور جمعرات کو بکرے کٹتے ہیں....‘‘

’’بکرے ....‘‘ ارشد نے تعجب سے دہرایا۔ اب وہ دھیمی رفتار سے چلتے ہوئے کوریڈور کے آخری کونے تک پہنچ گئے تھے....

’’آپریشن بھئی.... ہم اسے بکرے کٹنا کہتے ہیں....‘‘صابر بیزاری سے بولا....’’ابھی ادھر بیٹھیں گے نا.... ابا جان کے پاس تو قطار میں بستر آتے جائیں گے....

کٹے پھٹے مریضوں کے .... پیر اور جمعرات کو سرجن لوگ آپریشن کرتے ہیں.... اور بندوں کو کاٹ کاٹ کر ادھر اُدھر ارسال کرتے جاتے ہیں....‘‘

’’مفت میں....‘‘ بے ساختہ ارشد کے لبوں سے تعجب خیز لہجے میں ادا ہوا....

’’اور کیا.... ہمارے پاس ادھر یہ جو ہے.... کھل جا سم سم.... ‘‘ صابر نے بٹوا کھول کر ایک ننھا سا چمکیلا کارڈ نکالا....’’ یہ ہے علاج معالجے کی چابی .... یہاں کی حکومت سب کو یہ چابی عطا کرتی ہے....‘‘

دونوں ایک کمرے میں داخل ہو گئے۔ فراخ اور روشن کمرے میں تین مریضوں کے بستر لگے تھے۔ حشمت الٰہی ان میں سے ایک پر لیٹے تھے اور مسکرانے لگے۔

’’ یہ کیا ہے بھئی....؟ انھوں نے صابر کے ہاتھ میں انشورنس کارڈ کو دیکھ کر پوچھا....

’’کیا کوئی پرابلم ہو گئی....؟‘‘

’’نہیں ابا.... پرابلم کیسی.... یہ تو میں ارشد کو دکھا رہا تھا....‘‘ صابر نے کارڈ واپس پرس میں رکھ لیا.... کہ یہاں پر ہم اسے کھل جا سم سم کہتے ہیں.... او علاج کا دروازہ کھل جاتا ہے....‘‘

’’ہاں بھئی.... ‘‘حشمت الٰہی افسردہ سے ہو گئے....‘‘ پرانی بات ہے۔ پر میرے لیے آج بھی ویسی ہی ہے.... میرے والد کا انتقال ایک ہسپتال کے برآمدے میں ہو گیا تھا....‘‘

’’برآمدے میں....؟‘‘ دونوں لڑکوں نے بیک وقت دہرایا۔ وہ بستر کے قریب موجود نشستوں پر بیٹھ گئے تھے....

’’ہاں بیٹا.... انھیں دل کا دورہ پڑا تھا.... ہسپتال میں کوئی بیڈ خالی نہ تھا.... ہم نے برآمدے میں ہی انھیں گدّے کے اوپر لٹا دیا.... نہ آکسیجن .... نہ دوا دارو.... بلکہ ابھی تو متعلقہ ڈاکٹر بھی پہنچ نہ پایا تھا میرے والد نے بڑے بھائی کے ہاتھوں میں دم توڑ دیا.... سب گریہ و زاری کرنے لگے پھر وہیں برآمدے ہی سے ان کی میت اٹھا کر گھر لے آئے.... جانتے ہو کیا ہوا تھا.... ہمارے بعد آنے والے مریض کے لواحقین ہمارے والد کی موت پر مطمئن نظر آئے.... کیوں کہ انھیں برآمد میں ہی سہی ایک جگہ تو میسر آ گئی تھی۔ بس وقت وقت کی بات ہے.... ہمارے پاس کمرے کا دروازہ کھلوانے اور ڈاکٹر کی توجہ حاصل کرنے کو یہ چابی ہی نہیں تھی۔ میرا مطلب ہے.... انشورنس کارڈ....‘‘

ہاں ابا....‘‘ صابر نے اثبات میں سر ہلایا....’’ اُدھر تو اب بھی کسی کے پاس یہ چابی نہیں ہے۔ کیوں کہ وہاں اس کا رواج ہی نہیں.... رواج کی بھی بڑی بات ہوتی ہے.... جو ہر ایک کا اپنا اپنا ہوتا ہے.... یہاں سب کے لیے یہی رواج ہے.... مقامی ہو یا مہاجر.... ادھر سب برابر ہیں....‘‘

’’چاچا ....!‘‘ گھر کب تک آنے کا ارادہ ہے....؟‘‘ ارشد نے دریافت کیا....’’ میرا مطلب ہے چھٹی کب دیں گے....‘‘

’’چھٹی....‘‘حشمت الٰہی نے ابھی جواب دینے کو لب کھولے ہی تھے کہ دو نرسیں اندر داخل ہوئیں اوبستر چادر تکئے وغیرہ تبدیل کرنے لگیں.... حشمت الٰہی بیڈ سے اتر کر کونے میں رکھی کرسی پر جا بیٹھے.... اطمینان سے نشست حاصل کرنے کے بعد انھوں نے لڑکوں کو دیکھا اور ہلکا سا قہقہہ لگایا۔ ’’بھئی چھٹی ہی چھٹی ہے .... وہ تو میں روز ہی کوئی شکایت سنانے بیٹھ جاتا ہوں.... وہی بڑھاپے کے عوارض.... ورنہ ہر نیا کا آپریشن تو معمولی سی بات ہے.... دو ایک روز فارغ کر دیتے ہیں۔ ‘‘

’’شکایت ....‘‘ ارشد نے حیرت سے دہرایا اور چچا کو دیکھنے لگا....’’ آپ گھر کی بجائے یہاں رہنا پسند کرتے ہیں .... وہ کیوں کیا منظور بھائی اور نرگس بھابھی سے کوئی رنجش یا گلہ شکوہ ہے۔ ‘‘

منظور الٰہی، صابر الٰہی کا بڑا بھائی اور حشمت الٰہی کا فرزند ارجمند تھا .... حشمت الٰہی اپنی شریک حیات سمیت بہو بیٹے کے اوپر والے پورشن میں بطور کرایہ دار مقیم تھے.... وطن میں ارشد نے ساس، سسر کے ایسے ہی شکایت بھرے مسئلے سن رکھے تھے.... وہ یہی سوچ کر چچا سے دریافت کر رہا تھا.... لیکن حشمت الٰہی طمانیت سے مسکرا دیے۔

’’ایسا کوئی مسئلہ .... نہیں .... الحمد للہ .... میرا بیٹا، بہو .... اور دوسرے سب بچے خوشحال ہیں۔ ہم اپنے گھر میں اور وہ الگ اپنے مکان میں راضی خوشی ہیں.... وہ مکان بھی تو پتر منظور الٰہی نے خرید لیا ہے....‘‘

’’اچھا....‘‘ ارشد نے تفہیمی انداز سے سر ہلایا....’’ تو آپ بھائی منظور کے کرایہ دار ہیں....‘‘

’’نا....‘‘ حشمت الٰہی نے شہادت والی انگلی اٹھا کر اسے ٹوکا اور داڑھی میں چار انگلیوں سے کنگھی کر کے اسے ترتیب دینے لگے۔ پھر سرک  کر قدرے آگے کی سمت جھکا لیا۔ اب کے ان کا لہجہ سرگوشی کا حامل تھا۔ حالاں کہ کمرے میں ان دونوں لڑکوں کے علاوہ ان کی زبان جاننے والا دوسرا کوئی نہ تھا پھر بھی.... حشمت الٰہی راز داری سے گویا ہوئے ’’بیٹے منظور کو یہ مشورہ میں نے ہی دیا تھا.... بات یہ ہے کہ ہمیں سوشل سے اتنا ہی کرایہ مل جاتا ہے جتنی کہ ماہوار قسط اس مکان کی نکلتی تھی۔ بیٹھے بٹھائے جائیداد بھی بن گئی اور خرچ بھی دمڑی کا نہ ہوا....‘‘

ارشد گہری سوچ میں ڈوب گیا اور بے دھیانی سے سر ہلاتا رہا۔ صابر اور حشمت الٰہی گھریلو امور پر تبادلہ خیال کر رہے تھے کہ ارشد نے سر اٹھایا اور ان کی گفتگو میں مداخلت کر دی....

’’چچا قسطوں میں تو چیز کا نرخ بڑھ جاتا ہے.... سود لگتا ہے نا.... تو آپ نے مکان یکمشت کیوں نہ خرید لیا.... ساری عمر آپ نے عرب ممالک میں ملازمت کی۔ وہ رقم جمع ہی رکھی ہو گی....‘‘

’’یہ بھی بھلی کہی....‘‘ حشمت الٰہی نے اس کی نا سمجھی پر یوں دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں....’’ رہے نا پینڈو کے پینڈو.... یورپ آ کر بھی عقل نہ آئی.... ‘‘ چند ثانیے خاموشی سے مسکراتے رہنے کے بعد ان کے چہرے کا زاویہ تبدیل ہونے لگا۔

’’ارے بھائی جب ان ہی کے مال سے جائیداد بنائی جاسکتی ہے.... تو کیا ہماری عقل گھاس چرنے گئی ہے جو اپنی عمر بھر کی کمائی ضائع کرتے پھریں....‘‘ حشمت الٰہی کا رخِ پر نور باقاعدہ پر جلال ہوتا دکھائی دیا....

’’پاک ملک کی پاک کمائی.... ان فرنگیوں کو دے ڈالیں.... استغفراللہ....‘‘ انھوں نے انگلیوں سے کان کی لو کو چھوا.... دونوں نرسیں تبدیل کر کے حشمت الٰہی کے قریب آئیں اور کامل نگہداشت و احترام سے انھیں واپس لے گئیں.... حشمت الٰہی پھر سے بستر پر جا  دراز ہوئے اور تسلی و فروخت کی طویل سانس لے کر سلسلہ کلام جوڑتے ہوئے گویا ہوئے....

’’اب یہی دیکھ لو.... ہر نیا کی تکلیف ہمیں کئی برس سے تھی۔ مگر آپریشن کی نوبت نہ آسکی.... وہاں ایگریمنٹ کے دوران چھٹی ملنی قدرے دشوار ہوتی ہے۔ پھر واپس اپنے وطن جاؤ.... اپنی گرہ سے مال خرچ کر کے آپریشن کرواؤ.... اس پر بھی ایسی سہولتوں کا فقدان .... نہ دوا کا یقین کہ اصلی ہو گی یا نقلی.... نہ جراحت کا اعتماد .... ایگریمنٹ ختم ہونے والا تھا.... ہم نے یہی مناسب سمجھا کہ یورپ جا کر ہی آپریشن کروائیں گے.... سو .... آ گئے.... ارے ہم پر ہی کیا موقوف .... اور بھی جس جس کو کوئی مرض تھا.... ریٹائرمنٹ لے کر ادھر چلا آیا۔ اسائلم کا کیس کیا.... مکان، خوراک مفت حاصل کی.... پھر یہ سادہ لوح لوگ ہیں.... ان کی سادگی سے ہم نے فائدہ نہ اٹھایا تو ہماری اپنی بے عقلی ہو گی....‘‘

’’لیکن چچا.... آپ نے اتنا عرصہ مرض دبائے رکھا.... یہ بھی تو کوئی دانشمندی نہ تھی....آخر انسان کماتا کس لیے ہے.... اپنی جان کو سہولت دینے کے لیے....‘‘ ارشد نے اپنی محبت جتانا چاہی تھی کہ اسے کچھ اور بھی یاد آگیا....

’’میں نے تو سن رکھا ہے چچا کہ عرب ملکوں میں کسی غیر ملکی کو جائیداد وغیرہ خریدنے کا حق نہیں دیا جاتا....‘‘

’’یہ تم نے بجا کہا برخوردار ....!‘‘ حشمت الٰہی نے زیر لب کوئی آیت تلاوت فرمائی.... کرتے کی جیب میں ہاتھ ڈال کر تسبیح برآمد کی اور گھمانے لگے.... کچھ دیر یونہی خلا میں دیکھتے رہنے کے بعد انھوں نے نگاہ کا دائرہ بیٹے اور بھتیجے پر مرکوز کیا....

’’یہ سب بھی تو اسی پاک کمائی کی برکات ہیں کہ اللہ جل شانہ نے اپنے کرم سے اس پاک سرزمین کے رزق میں ہمارا حصہ بھی لکھ دیا تھا....پھر برادر ممالک کی بھی مہربانی ہے کہ وہ ہمیں روزی کمانے کی اجازت بخش دیتے ہیں۔ جائیداد خریدنے کا حق نہ بھی عطا کریں.... وہاں تو محض سانس لینا بھی برکت اور ثواب کا باعث ہوتا ہے.... میرے عزیز۔ ‘‘

حشمت الٰہی نے جملہ ادا کر کے وفور جذبات میں آنکھوں اور ہونٹوں کو انگلیوں سے چھو لیا۔

’’ہاں یہ تو ہے....‘‘ ارشد بھی فوراً تاثر کے اس نرغے میں گھر گیا.... صابر جو اتنی دیر سے خاموش بیٹھا تھا یکایک بول اٹھا....

’’پر ابا .... ہم اکیلے تو وہاں نہیں جاتے ہیں.... غیر مسلموں کی تعداد تو ہم سے کہیں زیادہ ہے....‘‘

ارشد کو بھی یاد آگیا.... کیوں کہ نوکری کے حصول کی خاطر اس نے سفارشات خانوں اور ایجنٹوں کے بڑے دھکے کھائے تھے وہ بھی اپنی معلومات چچا کے گوش گزار کرنا چاہتا تھا کہ برآمدے سے ایک نو آپریشن شدہ بیڈ گزرتا دکھائی دیا.... خون، گلوکوز وغیرہ کی بوتلیں اب بھی وہی میوزک الاپ رہی تھیں.... بے ہوش مریض کے کسی قدر سفید ہوتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر ارشد خود بھی اندر سینے میں بیٹھے بچے کی مانند سہم گیا.... لیکن جلد ہی اس کی توجہ حشمت الٰہی نے اپنی جانب مبذول کروا لی۔

’’یہی تو....‘‘ وہ صاحر سے مخاطب تھے.... ’’اسلام کی یہی فراخ دلی اور خوبی ہے کہ وہ غیر مسلموں کو بھی رزق مہیا کرتا آیا ہے.... ماشاءاللہ.... سبحان اللہ.... ‘‘ ارشد خاموش بیٹھا چچا کی جملہ دینی معلومات سے متاثر ہوتا رہا۔ اتنے میں صابر نے کلائی اٹھا کر گھڑی پر وقت دیکھا.... اور اس سے کہنے لگا۔

’’ارشد اٹھو.... چلتے ہیں.... ‘‘ خاموشی کے پانی میں اس نے آواز کا کنکر پھینک دیا تھا.... ارشد اپنے تاثرات کے بھنور سے باہر آگیا....

’’کیا ابھی....؟‘‘ اس نے سر اٹھا کر صابر سے دریافت کیا....

’’ہاں .... ملاقات کا وقت صبح میں ساڑھے دس سے ساڑھے گیارہ تک کا ہوتا ہے.... باتوں میں وقت کا دھیان ہی نہیں رہا.... بارہ بج چکے ہیں....‘‘

ارشد اٹھ کھڑا ہوا.... چلتے چلتے اس نے چچا سے ہاتھ ملایا.... اور بزرگوں کے بتائے ہوئے فارمولے کے تحت آخری جملہ ادا کیا....

’’ویسے تو آپ ٹھیک ٹھاک ہیں نا.... کوئی تکلیف.... یا شکایت مرض کے بارے میں تو اب نہیں رہی....‘‘

’’ارے نہیں.... کیسی تکلیف ....‘‘ حشمت الٰہی بستر پر اٹھ کر بیٹھ گئے.... اور تکیئے سے پشت نکالی....

’’بڑی راحت ہے یہاں.... ڈاکٹر میری ٹوٹی پھوٹی زبان کو بھی گہرے غور سے سنتے ہیں.... جب تک سناتے رہو.... بستر سے ہلتے نہیں.... بڑی مسکین قوم ہے.... زبان کے کہے کو سچ مان لیتی ہے اور فکر مندی کے ساتھ مزید معائنہ جات میں جٹ جاتی ہے۔ اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنی پاک سر زمین پر ہماری خدمت کا کیسا اجر عطا فرمایا ہے.... یہاں ان فرنگیوں کی دھرتی پر ہر چیز ہمارے نصیب میں بالکل مفت لکھ دی.... ہماری رہائش، خوراک، علاج مفت، بچوں کے روزگار، ان کے بچوں کی تعلیم، طبی امداد.... سب کچھ مفت.... بڑا کرم کیا ہے میرے مولا نے.... سب اس سرزمین پر خدمت کرنے کی برکات اور اجر ہے۔ ‘‘ وہ ٹھنڈی آہ بھر کر خاموشی سے ہو رہے۔ گویا کسی پریشان سوچ میں غلطاں ہوں.... ارشد رک گیا اور فکر مندی سے آگے بڑھ کر جھکتے ہوئے ان کے قریب ہو گیا.... حشمت الٰہی چند ثانیے خاموش رہ کر خلاء میں دیکھتے رہے۔ باہر کوریڈور میں کچھ آوازیں بیدار ہونے لگی تھیں۔ ایک دل ربا سی ہلچل، جو میٹھی میٹھی سرگوشیوں کی مہک اندر کمروں کی فضاء میں ہولے ہولے اتارتی چلی جا رہی تھی.... کائنات کے سب سے دلکش نغمے کی اچھوتی راگنی.... کہ جس کی زبان نہیں ہوا کرتی لیکن ہر جاندار اس بے زبانی کا مطیع اور جاں نثار رہتا ہے.... برآمدے میں کھلنے والے دروازے کے عین سامنے ایک بڑی الماری نما آہنی ٹرالی آن کر رُکی تھی جس کے متعدد خانے تھے اور ہر خانہ طعام کی طشتریوں سے بھر ا تھا۔ مستعد لڑکیاں ہسپتال کے مخصوص یونیفارم میں ملبوس اشتہا انگیز مہک دیتے خوان تقسیم کرنے آ گئی تھیں۔ مریض اپنے اپنے بستر پر بیدار اور ہوشیار ہو کر بیٹھنے لگے۔ ایک خوش مزاج، خوش اطوار اور خوش شکل نرس نے حشمت الٰہی کی قریبی ٹرالی درست کی اور نہایت سلیقے سے کھانا چن دیا۔ بیرونی سرخ رنگ کی قاب اتارے جانے کے بعد بھاپ دیتا ہوا طعام یوں برآمد ہوا گویا یہ من و سلویٰ سیدھا آسمانوں سے اترا ہو.... گوشت کا نرم و گداز بڑا سا پارچہ، سجا سجایا سلاد، دہی چاول اور سوئیٹ ڈش، دیکھنے والوں کی زبان پر لعاب کے بلبلے ڈبکیاں مارنے لگے....

حشمت الٰہی نے اُٹھ کر بیٹھتے ہوئے کامل توجہ، اطمینان اور فرحت سے طعام کی جملہ نعمتیں ملاحظہ کیں اور پھر پوری ذمہ داری سے ہر شے درست کر کے رخصت ہوتی ہوئی نرس کو اپنے عقیدے کے راسخ اور سپریئریٹی کی نمائندگی کرنے والی آواز میں تحکم پیدا کر کے پکارا.... نرس الٹے قدموں واپس ہوئی اور ان کے نزدیک آ گئی۔

’’یہ ....یہ ....‘‘ یہ گوشت کیسا ہے؟ کون سا ہے....؟ تمھیں میری وضاحت کاتو علم ہے نا؟‘‘

’’بالکل جناب....‘‘ وہ تسلی آمیز لہجے میں کہنے لگی....‘‘ آپ کے کھانے کی چٹ علیحدہ ہوتی ہے۔ اس پر ’’مسلم‘‘ درج ہوتا ہے....‘‘

’’اپنے برادر ملکوں میں کم از کم یہ خدشہ نہیں ہوتا پر یہاں دھڑکا سا لگا رہتا ہے....‘‘

’’کیسا دھڑکا....؟‘‘ ارشد نے کھانے کی زیارت سے منہ میں چلے آنے والے پانی کے گھونٹ کو حلق سے نیچے اتارا....‘‘

’’بھئی.... یہ لوگ آخر کو ہیں تو بے علم قوم.... انھیں پاک، پلید کا فرق ہی نہیں معلوم.... کہیں کھانے میں اس خبیث کی ملاوٹ نہ کر دیں.... خود تو کم بخت سور کھاتے ہیں.... ہمیں لازم ہے کہ انھیں تنبیہ کرتے رہیں.... ویسے ہے تو فرض شناس قوم.... پھر بھی احتیاط اچھی ہے.... پوچھ لینا چاہیے۔ ‘‘ حشمت الہی نے لطف کی انتہا کو پہنچتے ہوئے چمچہ منہ میں رکھا....اور گویا ہوئے.... ’’واہ.... واہ.... سبحان اللہ ایک ہی حلال نشہ اتارا ہے میرے ربِّ کریم نے....‘‘ ان کی آنکھیں مند گئی تھیں.... قریب کھڑے ارشد کے اندر بیٹھے معصوم بچے نے ندیدے پن سے اس کے ہونٹوں تک پانی بھر دیا.... بمشکل اس نے چہرہ گھمایا.... اور صابر کی ہمراہی میں خدا حافظ کہتے ہوئے بیرونی دروازے کی طرف قدم بڑھا دیے۔

٭٭٭