کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے

افروز سیدہ


میری روح کی ہر اک خواہش

میرے ٹوٹے جسم کی نس نس

ہاتھوں میں کشکول اٹھائے

تجھ سے تجھی کو مانگ رہی ہے

گر حالات کی گردش تم کو

اک لمحے کی مہلت دے دے

میری بکھری ذات کو صنم

اپنی قربت میں لے لینا

اپنی چاہت اپنی الفت

بے شک اپنے پاس ہی رکھنا

سانسوں کی یہ کچی ڈوری

ہو سکتا ہے ٹوٹ ہی جائے

روح سے میرے جسم کا رشتہ

ہو سکتا ہے ٹوٹ ہی جائے

جب مرجاؤں جانِ جاناں

میری قبر پر پھول چڑھانے

 تم چلے آنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔  تم چلے آنا۔۔۔۔۔۔

واجد! میں عمر کی اس سرحد میں قدم رکھ رہی ہوں جہاں پہنچ کر تنہائی کا شدید احساس ہوتا ہے۔ یہ موڑ عورت کی زندگی کا سنگینموڑ ہوتا ہے۔ ایک ایسے ساتھی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو ان تاریک راہوں پر اس کا ہاتھ تھام کر چل سکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنے بستر پر لیٹی وہ کروٹیں بدل رہی تھی۔  قریب ہی اس کی بیمار ماں بے سدھ سوئیہوئی تھی۔  پھر بھی روزی اپنے آپ کو تنہا محسوس کر رہی تھی۔  ٹیپ ریکارڈر پر درد میں ڈوبی ہوئی میوزک کمرے کی فضاء کو اور  بھی اداس کر رہی تھی۔  ماں کی خاطر اس نے وقت سے پہلے ریٹائر منٹ لے لیا تھا۔ وہ ایک اعلیٰ عہدہ پر فائز تھی بڑی مصروف  زندگی تھی۔  اس نے وا جد کو فون پر بتا دیا تھا کہ وہ لندن سے واپسا گئی ہے اور  اس کے لئے بیش بہا تحفے بھی لائی ہے۔  اسے صبح کا شدت سے انتظار تھا ایک ہفتہ بعد وا جد سے ملنے کی خوشی تھی لیکن دل جا نے کیوں ایک انجانے خوف کی گرفت میں تھا۔  روزی سونے کی کوشش کر رہی تھی۔  آنکھیں بند کئے ان لمحوں کو تلاش کر رہی تھی جو اس کی زندگی میں آئے ہی نہیں تھے۔  وہ شا دی کر کے اپنا گھر بسانا چاہتی تھی۔  ملازمت کے دوران ایسا کوئی ساتھی نہ ملا جو اس کے معیار پر پو را اترتا۔   یوں تو اسے بے شمار لوگ ملے لیکن ہر ایک کی نظر اس کے حسنو شباب پر دولت اور  شہرت پر تھی۔ زندگی بڑے ہی اضطراب میں گزر رہی تھی۔ پتہ ہی نہ چلا ماہو سال کب گزر گئے اور  ڈھلتی عمر کیدہلیز پر جو انی پڑی سسکنے لگی۔ ملازمت چھوڑنے کے بعد اس نے ایک گونہ سکون محسوس کیا جیسے صحرا کی خاک چھانتی ہوئی طویل مسافت طے کر کے آئی ہو۔  اسے تھکن کا احساس ہو رہا تھا کہ اچانک ایک دن پٹرول پمپ پر واجد سے ملاقات ہو گئی۔  وہ اس کی باغو بہار طبیعت اور  سحر انگیز شخصیت میں کھو گئی۔ وہ چند ماہ پیشتر ہندوستان سے امر یکہ آیا تھا۔  اسے پٹرول پمپ پر ملازمت مل گئی تھی۔  روزی نے محسوس کیا جیسے کڑی دھوپ میں چلتے ہوئے کسی گھنے درخت کی چھاؤں میں ا گئی ہو۔  زندگی نے ایک نئی کرو ٹلی روزی کی را ہوں میں گلاب بکھر گئے تھے  وہ کل وا جد سے صاف بات کر نا چاہتی تھی کہ وہ اس سے شا دی کرے گا یا نہیں ؟

دو سرے دن وا جد حسب وعدہ آ  گیا صحت اور  زندگی سے بھرپور مسکراتا چہرہ خوش اخلاق اور  خوش گفتار وا جد کو دیکھ کر وہ کھل اٹھی اور  پھر گفتگو کا سلسلہ چل نکلا رو زی کے اچانک سوال پر اس نے جو اب دیا:

’’روزی میں نے تمہیں پہلے بھی سمجھایا تھا کہ میں ایک اچھے دو ست کی حیثیت سے تمہارا ساتھ دے سکتا ہوں لیکن تم سے شادی نہیں کر سکتا مانتا ہوں کہ تم اپنا مذہب چھوڑنے کیلئے تیار ہو لیکن میری اپنی مجبوریاں ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ میری طرف سے تمہیں کوئی تکلیف پہنچے۔ ‘‘

’’واجد میں اپنا مذہب ہی نہیں چھوڑ رہی ہوں بلکہ کروڑوں کی جائیداد، بینک بیلنس اور  اپنی باقی زندگی تمہارے نام کر دینا چاہتی ہوں تمہیں بتا چکی ہوں کہ سوائے بیمار ماں کے میرا کوئی نہیں ہے۔  رشتے داروں اور  دوستوں نے مجھے خوب لوٹا۔  میں سچے پیار اور  محبت کے لئے ترستی تڑپتی رہی ہوں تم سے ملنے کے بعد میں نے اسلامک لٹریچر پڑھا سمجھا اور  دل سے مسلمان ہو نا چاہتی ہوں۔ تم جیسے مرد کا ساتھ چاہتی ہوں کیا میرے لئے تمہارے دل میں کوئی جگہ نہیں ہے ؟ کیا تم اپنی بیوی کو طلاق دے کر مجھ سے شادی نہیں کر سکتے ؟ اگر امر یکہ میں دو شاد یوں کی ممانعت نہ ہوتی تو میں تمہیں ایسا قدم اٹھا نے کیلئے مجبور نہ کرتی۔  تمہاری بیوی اور  بچوں کے لئے اتنا کچھ دینے کے لئے تیار ہوں جتنا کہ تم بر سوں امر یکہ میں محنت کر کے نہیں کما سکتے۔ ‘‘

’’روزی میں تمہارے جذباتو احساسات کی قدر کرتا ہوں تم دل سے مسلمان ہو نا چاہتی ہو میرے لئے خو شی کی بات ہے لیکن خزانہ کے لئے خاندان کی قربانی میں نہیں دے سکتا۔ جن کی خاطر رو پیہ کما نے امریکہ آیا ہوں وہی میرے نہ رہیں گے تو میں دولت کا کیا کروں گا ؟ ہم ہندو ستانی آج بھی رشتوں کا پاسو لحاظ رکھتے ہیں ‘‘۔  ’’میں تم سے روحانی محبت کرتی ہوں جو ایک نور ہے ایسا چراغ ہے جسے کوئی آندھی بجھا نہیں سکتی۔  شاید تم میری زندگی میں آنے والے تھے اس لئے میں آج تک تنہا رہی ویسے میری ملازمت میں شادی کی ممانعت تھی۔  واجدمیں عمر کی اس سرحد میں داخل ہو رہی ہوں جہاں پہنچ کر تنہائی کا احساس شدیدہوجاتا ہے۔  یہ موڑ ایک عورت کی زند گی کا سنگین مو ڑ ہوتا ہے۔  ایک ایسے ساتھی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جوان تار یک را ہوں پر ہاتھ تھام کر چل سکے کیا تم میرا ساتھ نہیں دو گے ؟ تمہارے در پر سجدہ ریز ہو نے والی محبت اور  دولت کو کیوں ٹھکرا رہے ہو؟ کیوں ؟ روزی کا گلا رندھ گیا۔

’’روزی ڈیر!تم زند گی کے خار دار را ستوں پر چل کر آئی ہو تم ایک با ہمت عظیم خاتون ہو میں تمہاری عزت کرتا ہوں لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ‘‘

’’یہ لیکن ویکن چھوڑو! سنو واجد! اب میں تمہیں وہ بات بتا دینا ضروری سمجھتی ہوں جو بتا نا نہیں چاہتی تھی۔  کیا تم سننا چاہو گے کہ آج میں کیسی کشمکش میں مبتلا ہوں ؟

’’ہاں!روزی بتا ؤ تمہیں کیا پریشانی ہے ؟ کیسی الجھن ہے ؟‘‘

’’تم جانتے ہو میری ماں بیمار ہے لیکن یہ نہیں جانتے کہ بیماری کیا ہے ؟‘‘

 ’’وہ الزا ئمر کی مریض ہے تمہیں یہ جان کر تعجب ہو گا کہ دنیا میں ابھی تک اس کا علاج دریافت نہیں ہو سکا‘‘۔  ’’میں سمجھا نہیں یہ کیسا مرض ہے کیا تم وضاحت کرو گی؟‘‘

’’سا ٹھ (60 ) سال سے زائد عمر والے مر داور  عورتیں اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔  انسان کا حافظہ آہستہ آہستہ کمزور ہو نے لگتا ہے وہ ہر بات بھولتا جاتا ہے جب مرض بڑھ جاتا ہے تو وہ اپنے قریبی رشتے داروں کو تک پہچاننے سے قاصر ہوتا ہے۔  یہاں تک کہ ایک دن اپنے آپ کو بھی بھول جاتا ہے۔ میری ماں الزائمر کیمریضہ ہے ڈاکٹروں نے بتا یا ہے کہ یہ موروثی بھی ہو سکتی ہے شا ید اسی لئے میں بھی اس مرض میں مبتلا ہو رہی ہوں۔ اکثر اپنے اہم اور  ضروری کام بھول جاتی ہوں۔  ابڈ اکٹروں نے فیصلہ کیا ہے کہ زہر کا انجکشن دیکر ماں کی زند گی کا خاتمہ کر دیں کیونکہ میں خود زیادہ عرصہ تک ان کی دیکھ بھال نہیں کر سکوں گی دوا خانوں میں ایسے مریضوں کے مر نے کا انتظار نہیں کیا جا تا۔  شا ید ایک دن میرا بھی یہی حشر ہو گا۔  تم جانتے ہو میں بے اندازہ دولت کی ما لک ہوں میری موت کے بعد یہ سب کچھ گورنمنٹ کا ہو جائے گا میں اُس حالت کو پہنچنے سے پہلے چاہتی ہوں کہ اپنا سب کچھ تمہارے حوالے کر دوں اب فیصلہ تم پر چھوڑتی ہوں۔ ‘‘

’’روزی یہ سب کچھ جان کر مجھے حیرانی ہو ئی۔  میری دلی ہمدردی تمہارے لئے بڑھ گئی ہے۔  اگر میں نے تم سے شا دی کر بھی لی تو تمہاری گورنمنٹ میرا کیا حشر کرے گی ،  کیا اس شادی کا سیدھا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ میں نے دولت کی خاطر یہ قدم اٹھا یا ؟ تمہاری مجبوری کا نا جائز فائدہ اٹھا یا تب میری الجھن کتنی بڑھ جائے گی ؟‘‘

روزی خالی خالی آنکھوں سے وا جد کو دیکھ رہی تھی اس کے چہرہ پر التجا تھی۔ بے بسی تھی وہ سوچتے ہوئے گو یا ہو ئی’’سنو! ہم ایک کام کر سکتے ہیں تم اپنے بیوی بچوں کو یہاں بلوا لو۔  بچوں کی تعلیم تو اچھی ہو جائے گی پھر ملازمت بھی مل جائے گی اس طرح تم میرے قریب تو رہ سکتے ہو میں سب کا تمام خرچ اٹھا نے کے لئے تیار ہوں۔ ‘‘

ایک دن واجد کی بیوی اور  بچے امر یکہ پہنچ گئے دو تین مہینے سیر تفریح میں گزر گئے۔  وا جد اور  اس کی فیملی بہت خوش تھی۔ روزی مطمئن سی ہو گئی تھی وا جد سے اس کی قربت اور  بے تکلفی نے اس کی بیوی کو کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا اس نے اپنی طرف سے خلع نا مہ وا جد کو دے دیا اور  وہ سب ہندوستان واپس چلے گئے۔  چند ماہ بعد ہی ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ ہوا۔ پھر وہاں مسلمانوں کی کایا ہی پلٹ گئی بے حساب لوگ اپنے اپنے وطن لو ٹ گئے جن میں واجد بھی تھا۔  آج روزی گورنمنٹ کی طرف سے دوا خانہ میں شریک ہے الزائمر کے مرض نے اسے پوری طرح  اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔  اسے وا جد کے سوا کچھ بھی یاد نہیں ہے کبھی یاد داشت عود کر آتی ہے تو اپنے تیمار داروں سے پوچھتی ہے واجد کہاں گیا ہے ؟کتنی دیر میں آئے گا؟ اسے جلدی آنے کو کہو۔ میں اس کا انتظار کر رہی ہوں۔ واجد! واجد! جلدی آؤ نا! ‘‘۔  کچھ دیر بعد اس پر غنودگی چھا جاتی ہے۔ شا ید انجکشن کے اثر سے نیند کی آغوش میں چلی جاتی ہے۔  لیکن اس کیاد ھ کھلی آنکھیں کہتی ہیں کہ انھیں کسی کا انتظار ہے۔  

*****