کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

تار یک را ہوں کے مسا فر

افروز سیدہ


ز ما نہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار یار ہو گا

سکوت تھا پردہ دار جس کا وہ راز اب آشکار ہو گا

گزر گیا وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والے

بنے گا سا را جہاں مئے خانہ ہر کوئی بادہ خوار ہو گا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’واہ رضیہ بیگم! تم نے اور  تمہاری لاڈلی نے خاندان کا نام خوب روشن کیا ہے تم لوگوں نے ہمیں سر اٹھا کر چلنے کے قابل نہیں رکھا۔ کیا اس چڑ یا کے پر تمہیں نظر نہیں آئے ؟اڑ نے سے پہلے اس کے پر کیوں نہ کاٹ دئیے ؟کیا باہر سے آنے والی رقم کافی نہیں تھی جو بیٹی کو کمانے کیلئے بھیج دیا ؟ دین کی اور  دنیا کی عدالت میں تمہیں جواب دینا پڑے گا۔ بتاؤ تم نے یہ قدم کیوں اٹھایا جو سیدھے جہنم کی طرف لے جانے والا ہے جواب دو!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس دن ثمینہ کے پیروں میں جیسے پہئے لگ گئے تھے۔  وہ بنا پروں کے اڑتی پھر رہی تھی اس نے میڑ ک کا امتحان فرسٹ ڈیویثرن میں پاس کیا تھا اسی خو شی میں جشن منا یا جا رہا تھا۔  آسمانی رنگ کا نیا سوٹ سونے کی خوبصورت چین اور  بالیاں پہنی ہوئی ثمینہ کا سونے جیسا رنگ دمک اٹھا تھا۔

ثمینہ کا تعلق ایک قد امت پسند اوسط گھرانے سے تھا بچے بڑے سبھی دین کے پا بند تھے۔  گھر میں T.Vتھا لیکن بڑے بزرگ صرف خبریں سن لیا کر تے تھے۔  بچوں کوT.Vکھولنے کی اجازت نہیں تھی۔  لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم دلا نے سے گریز کیا جاتا تھا چونکہ ثمینہ بچپن ہی سے  شو خ و شریر اور  بے حد ذہین تھی اس کے والد کا خیال تھا کہ وہ جہاں تک پڑھنا چاہے پڑھائیں گے بدلتے حٍا لات اور  بڑھتی ضروریات کے تحت انھوں نے دیار غیر جا کر رو پیہ کما نے کا ارادہ کیا چند مہینوں کی کوشش کے بعد سعودی عرب کی ایک کمپنی میں ملازمت مل گئی ثمینہ کے پاس ہو نے کی خو شی میں تقریب کے اہتمام کے لئے انھوں نے معقول رقم اور  کچھ تحفے بھیجے تھے۔  

پیسے کی ریل پیل نے اپنا رنگ دکھا یا نئے زمانے کی نئی چیزیں گھر کو زینت بخش رہی تھیں۔  خاندان کے لوگ اس تبدیلی کو دیکھ کر انگشت بدند اں تھے۔  دو سرے دن ثمینہ کی سہیلیفا خرہ کی کا میا بی پر اس کے گھر دعوت تھی۔  جس میں شر کت کے لئے ثمینہ کو مشکل سے اجازت ملی۔  ماں نے جلدی لو ٹ آنے کی تاکید کی۔  اپنے چھوٹے  بھائی کو ساتھ لئے جب اس نے فاخرہ کے گھر میں قدم رکھا تو دیکھا ہر طرف رنگ و نور بکھرا ہوا ہے۔  مہکتی چہکتی خوشبو میں نہائی لڑکیوں اور  قہقہے لگا تے خوش لباس لڑکوں کو دیکھ کر وہ الٹے پاؤں واپس جا نا چاہتی تھی کہ فا خرہ نے اسے دیکھ لیا اور  ہاتھ پکڑ کر ہال میں لے آئی۔  گھر وا لوں سے تعارف کے بعد شر مائی لجائی سی ایک بازو کرسی پر بیٹھ گئی اس کی ہم جماعت کچھ لڑکیاں اس کے قریب آ کر بیٹھ گئیں اور  کچھ فا خرہ کی کزنس تھیں جو بات بات پر ہنس رہی تھیں۔ کچھ تو فلموں پر تبصرہ کر رہی تھیں کچھT.Vسیرئیلس پر بحث کر رہی تھیں کوئی کسی کے کپڑوں کی تعریف میں رطب اللسان تھی  ان سب کے در میان ثمینہ اپنے آپ کو ہونق سمجھ رہی تھی۔ جو نہ فلموں کے بارے میں جانتی تھی نہ  T.Vسیرئیلس کے با رے میں معلومات رکھتی تھی۔  اس کے سا منے ایک میز پر رکھے -T.V پر کوئی پروگرام چل رہا تھا۔  ثمینہ حیران سی۔  T.Vپر بدلتے مناظر سے لطف اندوز ہو رہی تھی اور  سوچ رہی تھی ہمارے گھر وا لے عجیب ہیں جو اتنی اچھی تفریح سے ہمیں محروم رکھا۔  بھا گتے کھیلتے بچے کبھی چینل بدل دیتے تو کچھ اور  دلچسپ مناظر نظر آتے تھے۔  وہT.V-دیکھنے میں محو تھی تب ہی فا خرہ ایک خو برو نو جو ان کا ہاتھ پکڑے اس کی طرف آتی نظر آئی وہ سیاہ سوٹ میں ملبوس خاصہ اسمارٹ لگ رہا تھا۔  ثمینہ کے قریب آ کرفا خرہ نے نو جو ان کا تعارف کراتے ہوئے کہا ’’ثمینہ ان سے ملو یہ میرے پیارے بھیا سہیل ہیں ‘‘’’اور  ڈگمگاتی کشتیوں کے سا حل ہیں ‘‘۔  سہیل نے جیسے جملہ پو را کیا۔  اور  مسکرا تے ہوئے قدرے جھک کر ثمینہ کی طرف ہاتھ بڑھا یا۔  ثمینہ نے اس کے چہرے کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے غیر ارادی طور پر اپنا ہاتھ بڑھا دیا۔  سہیل نے ہاتھ تھام لیا فا خرہ کھلکھلا کر ہنس پڑی ثمینہ نے گھبرا کر ہاتھ کھینچ لیا اور  خجالت میں ڈوبی مسکراہٹ کے ساتھ گر دن جھکا لی۔  اس کے تن بدن میں جیسے بجلی کے قمقمے روشن ہو گئے اس کے ہاتھ پر چیونٹیاں سی رینگ رہی تھیں۔  اچانک ایک اجنبی کے ہاتھ کا لمس پا کر اس کا دل دھڑ کنے لگا-سا نسیں بے ترتیب ہو رہی تھیں -ا سکا چہرہ بھیگ سا گیا۔  پر تکلف کھا نے کے بعد فاخرہ نے ثمینہ کو اس کے گھر چھوڑ دیا۔ کار میں بیٹھی ہوئی ثمینہ محسوس کر رہی تھی جیسے وہ ہواؤں میں اڑی جا رہی تھی وہ تخیلات کی دنیا میں کھو گئی۔  تخیلات!جو اسے بچپن سے بے قرار کئے ہوئے تھے جو آسمان کی آخری حدوں کو چھو لینا چاہتے تھے۔  رات بستر پر لیٹی تو اسے نیند نہیں آ رہی تھی۔ رہ  رہ کرT.V-کے منظر آنکھوں میں گھوم رہے تھے اور  ہاتھ پر چیونٹیاں سی رینگتی محسوس ہو رہی تھیں۔  آدھی رات گزر چکی تھی گھر کے افراد گہری نیند میں تھے۔  ثمینہ ڈرتے ڈرتے اٹھی اور  T.Vکا بٹن آن کر دیا۔  چینل بدل بدل کر دیکھتی رہی۔ جا نے کب تک اور  کیا کچھ دیکھتی رہی پھر یہ اس کا معمول بن گیا۔  وہ چاہتی تھی کہ چھٹیاں جلدی سے گزر جائیں اور  کالج میں اس کا داخلہ ہو جائے۔   وا لد نے آگے پڑھنے کی اجازت دے دی تھی دونوں بھائیوں کو نینی تال کے اسکول میں شر یک کرا دیا گیا تھا۔  

کالج میں داخلے کا دن ثمینہ کی زند گی کا خوشگوار ترین دن تھا کالج کا نکھرا نکھرا رنگین ماحول اسے اچھا لگا۔  نت نئے فیشن کے کپڑے زیب تن کئے ہنستی مسکراتی بے فکر سی لڑکیوں کو دیکھ کر اس کا دل کیف و سر ور میں ڈوب گیا۔ شعور نے کئی چھلا نگیں لگائیں تخیلات نے اڑ ان بھری اور  زند گی میلوں آگے نکل گئی۔  خوف اور  جھجک اس کے دل سے غائب ہو چکے تھے۔  نئے زمانے کی لڑکیوں کے ساتھ وہ گھل مل گئی۔  ماں سے اجازت لے کر کبھی چوری چھپے انکے ساتھ پکچرز جانے لگی کالج سے جلدی نکل کر یہ لڑکیاں چوکیدار کے ہاتھ پر پچیس پچاس روپئے رکھ دیتیں اور  انٹر نیٹ سنٹر کی طرف چلی جاتیں جہاں گھنٹوں گزار کر گھر جاتیں اور  دیر سے آنے کی کوئی نہ کوئی وجہ بتا دیتیں۔  جب کبھی کچھ لڑکیاں اپنے اپنے بو ائے فر ینڈس کے ساتھ انٹرنیٹ سنٹر کے کیبن میں گھس جاتیں تب باقی لڑکیاں اپنے گھر کی راہ لیتیں۔  ثمینہ سوچتی رہ جاتی آخر یہ بوائے فرینڈس کیسے اور  کہاں سے مل جا تے ہیں۔  ایک دن ثمینہ بس سے اتر کر اپنے گھر جا رہی تھی کہ را ستے میں سہیل مل گیا۔ وہ نظریں جھکائے آگے بڑھ جا نا چاہتی تھی لیکن سہیل راستہ روکے کھڑا تھا۔  

’’ایسی بھی کیا جلدی ہے یوں چلی جا رہی ہو جیسے جان پہچان ہی نہیں ہے۔ ‘‘

’’جی میں جانتی ہوں آپ سہیل صاحب ہیں لیکن را ستے میں کسی لڑکی کو اس طرح روک لینا کہاں کی شرافت ہے ؟‘‘

’’آپ کالج میں پڑھتی ہیں اور  اس قدر فرسودہ خیالات رکھتی ہیں ذرا دیکھئے تو دنیا کدھر جا رہی ہے ؟‘‘

’’کیا کالج میں پڑھنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ نئے خیالات رکھیں ؟‘‘

’’محترمہ وقت کے ساتھ چلنا ہی وقت کا تقاضہ ہے۔ ‘‘سہیل نے مسکراتے ہوئے کہا ’’یہ پرانا لبادہ اتار دو اور  زمانے کے ساتھ چلو۔ ‘‘اس کی مسکراہٹ میں اسرار کی ایک گرہ سی تھی جسے ثمینہ کوئی نام نہ دے سکی اس کے لا شعور سے ایک سر سراتا خیال اس کی سا نسوں کو زیرو زبر کر ر ہا تھا اس نے قا بو پا تے ہوئے کہا۔

’’میں آپ کے خیال سے متفق نہیں ہوں ویسے اس سلسلے میں فا خرہ سے ضرور بات کروں گی خدا حافظ۔ ‘‘کہتے ہوئے ثمینہ آگے بڑھ گئی۔  

دو سرے دن اس نے فا خرہ سے اس ملاقات کا ذکر کیا تو فا خرہ نے بتا یا کہ اس کے چا چاT.V-کے لئے اشتہاری فلمیں بناتے ہیں اور  سہیل نے ثمینہ کے بارے میں چا چا کو بتایا تھا شاید وہ اسی سلسلے میں کچھ کہنا چاہتا تھا۔  ثمینہ کچھ سوچتی ہوئی خاموش ہو گئی۔ پندرہ اگست کے دن کالج میں فنکشن تھا طالبات کے والدین نے بھی شر کت کی تھی ایک خوبصورت ڈرامہ اسٹیج کیا گیا تھا جس کی ہیروئن ثمینہ تھی۔  فا خرہ کے چاچا اور  سہیل بھی فنکشن میں موجود تھے چاچا نے ثمینہ کو اور  اس کے کام کو بہت پسند کیا اور  ایک دن فاخرہ کے ساتھ اس کے گھر پہنچ گئے ماں سے ملاقات کی اور  ثمینہ کو اپنی نئی اشتہاری فلم میں لینے کی اجازت چاہی۔  انھوں نے سختی سے منع کر دیا چاچا وا پس چلے گئے لیکن ثمینہ کے تخیلات نے اڑان بھری اس نے پہلے تو پیار سے ماں کو راضی کرنے کی کوشش کی جب وہ نہیں مانیں تو ضد پر اتر آئی۔ ماں نے کہہ دیا کہ والد سے اجازت لینے کے بعد ہی کچھ کہے گی۔  ثمینہ نے سختی سے منع کیا اور  بھوک ہڑتال کر دی آخر ماں کو اجازت دینی پڑ ی۔ لا ڈلی بیٹی تھی کچھ کر بیٹھتی تو سا را الزام ان ہی پر آتا۔  ثمینہ کالج کے بعد فاخرہ کے ساتھ چلی جاتی اور  وہاں سے کبھی سہیل کے ساتھ کبھی فا خرہ کے ساتھ شو ٹنگ پر چلی جاتی صابن کے اشتہار کی فلم تھی اور  اسے نیم عریاں لباس پہننا تھا پہلے تو وہ بہت شرمائی لجائی انکار کیا لیکن اس کی آنکھوں میں بسے سنہرے سپنوں نے زیادہ سوچنے کی مہلت نہیں دی۔ اور  فلم مکمل ہو گئی۔  وہ اپنے آپ کو فاتح زمانہ سمجھنے لگی کیونکہ اس کی فلم بے حد مشہورو مقبول ہوئی اسے نئی آفرز ملنے لگیں وہ جیسے تخت طاؤس پر بیٹھی بے خود سی ہو گئی۔ ماں سے کیا ہوا وعدہ بھول گئی کہ صرف ایک بار پہلی اور  آخری بار فلم میں کام کرے گی۔  وہ اب سہیل کے علا وہ اور  لوگوں کے ساتھ بھی دیکھی جا رہی تھی خاندان کے کچھ لوگوں نے جب اس کے نئے رنگ روپ کو دیکھا تو آگ بگولہ ہو گئے اس کے گھر آ کرماں سے کہا’’وا ہ رضیہ بیگم! تم نے اور  تمہاری لا ڈلی بیٹی نے خاندان کا نام خوب روشن کیا ہے تم لوگوں نے ہمیں سر اٹھا کر چلنے کے قا بل نہیں رکھا۔  کیا اُس چڑ یا کے پر تمہیں نظر نہیں آئے ؟ اڑ نے سے پہلے اس کے پر کیوں نہ کاٹ دئے ؟ کیا باہر سے آنے والی رقم کافی نہیں تھی جو بیٹی کو کمانے کے لئے بھیج دیا ؟ دین کی اور  دنیا کی عدالت میں تمہیں جو اب دینا پڑے گا۔  بتاؤ تم نے یہ قدم کیوں اٹھا یا جو سیدھے جہنم کی طرف لے جانے والا ہے جواب دو!! ‘‘

رضیہ بیگم کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ان کا سر چکرا رہا تھا اعصاب شل ہوئے جا رہے تھے انھوں نے کر سی کا سہارا لیا اور  بیٹھ گئیں۔ جا نے وہ کب تک یوں ہی بیٹھی رہیں شام اتر آئی تھی کمرے میں اندھیرا پھیل گیا تھا اور  یہ اندھیرا ان کی خوشیوں کے اجالے پر چھا گیا  رات دیر گئے ثمینہ گھر آئی تو اسے دیکھتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں ثمینہ کے پو چھنے پر کہا ’’کیا اسی دن کے لئے تمہیں خدا سے مانگا تھا کہ تم آؤ اور  خاندان کی عزت کو خاک میں ملا دو تم نے میرا کہا نہیں ما نا آج دنیا ہم پر تھوک رہی ہے میں تمہارے ابو کو کیا جواب دوں گی انھیں مجھ پر پورا بھروسہ تھا اور  تم نے مجھے کہیں کا نہ رکھا میں کیا کروں ؟ ‘‘’’بتا ؤ میں کیا کروں ؟‘‘

ثمینہ نے ڈھٹائی سے کہا ’’امی دنیا والوں کا کیا ہے ان کا تو کام ہی  یہی ہے کہ کسی نہ کسی کو کچھ نہ کچھ کہتے رہیں درا صل یہ لوگ کسی کی عزت ،شہرت اور  دولت کو دیکھ نہیں سکتے۔ جل جل کر پھپھولے پھوڑ تے رہتے ہیں ان کی پر وا کریں گے تو جینا دشوار ہو جائے گا آپ خوامخواہ ہلکان ہو رہی ہیں میں نے ایسا کیا کر دیا ؟‘‘

اسی وقت فون کی گھنٹی بجنے لگی ثمینہ نے فون اٹھا یا وا لد کا فون تھا انھوں نے بتا یا کہ وہ کل انڈیا آ رہے ہیں ثمینہ نے ماں کو بتایا تو ان پر لرزہ طاری ہو گیا۔  

ثمینہ کے والد ڈیڑھ ماہ کی چھٹی پر آ رہے تھے ان کی شا پنگ مکمل ہو گئی تھی وہ پیکنگ میں مصروف تھے اور  خوشی خوشی اپنے دوست کو خر یدی ہوئی تمام چیزیں دکھا رہے تھے T.Vچل رہا تھا ان کے دو ست نے کہا:

’’آج کل انڈیا چینل پر ایکadفلم میں نئی سا حرہ بجلیاں گرا رہی ہے ، غضب کی لڑکی ہے کیا تم نے دیکھی ہے ؟‘‘ثمینہ کے والد نے نفی میں سر ہلا یا۔  دو ست نے کہا ’’بڑی انمول چیز ہے ذرا غور سے دیکھنا۔ تمہاری بوڑھی ر گوں  میں تازہ خون گردش کرنے لگے گا۔ فلم ابھی آتی ہی ہو گی۔  ثمینہ کے والد نے فلم دیکھی تو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتے رہ گئے۔ انھوں نے سرسراتی آواز میں کہا۔ ’’ثمینہ! میری ثمینہ۔  ان کی آنکھیں پتھرا گئیں اور  لب سا کت ہو گئے۔

*****