کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

گمشدہ منزل

افروز سیدہ


تیری یادوں کے چراغوں کا اجالا ہے یہاں

ورنہ دنیا میں اندھیروں کے سوا کچھ بھی نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ضروری تو نہیں کہ انسان کسی چیز کی خواہش کرے اور  وہ چیز اسے حاصل ہو جائے زندگی میں آرزوؤں اور  تمناؤں کا خون ہوتا رہا ہے! لوگ پھر بھی زندہ رہتے ہیں ایسی خواہش کے دکھ کو دل میں کیوں بسائیں جس کا  پورا ہونا ممکن نہ ہو؟

  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کا دل شام ہی سے جانے کیوں بیٹھا جا رہا تھا دھڑکنیں کبھی تیز ہو جاتیں کبھی مدھم پڑ جاتیں اختلاج کی سی کیفیت تھی اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے کیوں ہو رہا ہے اب تو اسے کوئی فکر پریشانی بھی نہیں تھی وہ دن کب کے گزر گئے تھے جب وہ حیران پریشان رہا کرتی تھی دو بیٹوں اور  ایک بیٹی کی پیدائش کے بعد اس کا شوہر فالج کا شکار ہو کر اپاہج ہو گیا تھا ملازمت جاتی رہی۔  بچے چھوٹے تھے اور  کوئی ذریعہ آمدنی نہیں تھا چند دن تک رشتے داروں نے مدد کی لیکن کسی کی وقتی مدد زندگی بھر کا سہارا تو نہیں بن سکتی۔۔۔  رفیعہ کے لئے زندگی ایک چیلنج ایک امتحان بن گئی تقدیر کی ستم ظریفی سے کوئی گلہ نہیں تھا وہ ایک با ہمت دل اور  پر اعتماد دماغ کی حامل عورت تھی۔  گرائجویشن کے بعد ٹائپ اور شارٹ ہینڈ کا اعلی امتحان پاس کیا تھا اسے ایک  بسکٹ فیکٹری میں معقول تنخواہ پر اکاؤنٹنٹ کم سوپروائزر کی نوکری مل گئی جلد ہی اس نے ایک جنرل اسٹورکھول کر شوہر کو بیٹھا دیا۔

ہمہ اقسام کے  بسکٹ اپنی فیکٹری سے خرید  کر اس نے دوکان پر رکھے ایک لڑکے کو بھی ملازم رکھ لیا۔  فیکٹری سے نکل کروہ کمپیوٹر سیکھنے جانے لگی۔  اسکول سے آنے کے بعد بچے گھر اور  دوکان سنبھالنے لگے زندگی سکون سے گزرتی رہی۔  چند سال کی محنت کے بعد رفیعہ نے ایک کمپیوٹر انسٹیٹیوٹ کھول لیا جہاں لڑکیوں اور خواتین کو کمپیوٹر کے علاوہ مختلف ٹکنیکل کو رسس کرانے کا انتظام تھا۔  مہینے میں ایک دن گھر پر دینی اجتماع ہوتا تھا جہاں امیر غریب سبھی خواتین جمع ہوتی تھیں اور  چندہ کے طور پر بساط بھر رقم جمع کرتی تھیں جمع شدہ رقم سے سال میں ایک بار کسی مستحق ضرورت مند کی مدد بھی کی جاتی تھی۔  محلے میں رفیعہ کا ایک مقام بن گیا تھا وہ وقت بھی آ گیا کہ بچوں کی تعلیم مکمل ہو گئی بڑے لڑکے کی شادی کر دی وہ بیرون ملک اپنی بیوی کے ساتھ چلا گیا چھوٹے لڑکے کو اچھی کمپنی میں ملازمت مل گئی پھر رفیعہ نے بڑے اہتمام کے ساتھ بیٹی کے ہاتھ پیلے کئے اور  سسرال روانہ کیا جس کے چند دن بعد ہی رفیعہ کے شوہر نے رخت سفر باندھا اور  اسے اکیلا چھوڑ سوئے عدم روانہ ہو گیا زندگی کے ان تمام تیزرفتارسالوں میں رفیعہ اسقدرمصروف رہی کہ کبھی اپنے آپ پرتو جہ نہیں دی اسے تو بچوں کی تعلیم ، بیمار شوہر کی خدمت اور  غریبوں کی مدد کے سواکچھ یاد نہیں تھا اس نے اپنے لطیف احساسات اور جذبات کو تھپک تھپک کرسلادیا اور حالات سے سمجھوتہ کر لیا تھا وہ کبھی بیمار ہوئی نہ کسی نے اس کی طرف توجہ کی تھی آج جیسے اعصابی تھکن نے اسے نڈھال کر دیا تھا تنہابسترپر لیٹی ہوئی گزرے دنوں کا محاسبہ کر رہی تھی کہ دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگیں ہاتھ پاؤں میں لرزہ سامحسوس کر رہی تھی اس کا لڑکا رات دیر گئے گھر آتا اور  اپنے کمرے میں چلا جاتا تنہا رہنے والی ماں سے بات کرنا گھر جلدی آنا وہ ضروری نہیں سمجھتا تھا جیسے وہ ماں نہیں کونے میں پڑی ہوئی کوئی مشین تھی۔  بڑ ا لڑکا کبھی عید بقرعید پر بات کر لیا کرتا تھا اور  بیٹی تو سسرال کی ہو بیٹھی تھی۔

آج اس کا دل چاہ رہا تھا کوئی اس کے قریب بیٹھے اس کا حال پوچھے تسلی اور  محبت کے د وبول سننے کی خواہش نے اسے بے چین کر دیا جن بچوں کے لئے وہ اپنی تمام خوشیوں اور  خواہشات کو تیاگ کر زندگی بھر شیشے کی کرچیوں پر چلتی رہی تھی ان کی نظر میں آج وہ کیا تھی؟!ا سکا دل بیٹھا جا رہا تھا چہرہ پر کرب کی چادرسی تنی ہوئی تھی جیسے ماضی کے جزیروں سے کوئی اسے آواز دے رہا ہو دماغ کے کینوس پر ایک دھندلی سی تصویر ابھر آئی یہ!؟ یہ ؟!یہ چہرہ!یہ مجھے کیوں یاد آ رہا ہے ؟ نہیں یہ سوال ہی غلط ہے!اس چہرہ کو میں بھولا ہی کب تھا ؟

یہ ہمہ وقت میری نظروں کے سامنے میرے ساتھ ساتھ رہا ہے ہاں میں ایک شادی شدہ مشرقی عورت تین بچوں کی ماں ہوتے ہوئے اس گناہ کی مرتکب ہوئی ہوں کچھ کام انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتے کچھ یادیں ذہن سے کبھی فراموش نہیں ہوتیں نا سوربن کر رستی رہتی ہیں۔  یادوں کی بازگشت اسے پریشان کرتی رہی ہے کیا میں نے کچھ کھو دیا ہے ؟

نہیں!میں نے جو چاہا پایا ہی کب تھا جو کھونے کا سوال پیدا ہوتا اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ دوڑ کر جائے اور شکیب احمد کے قدموں پر اپنا سر رکھ دے جو آج تک اپنے وعدہ پر قائم تھا کہ وہ کبھی۔۔۔۔۔۔  ہاں اس رات کی مہک کو وہ کیسے بھول سکتی ہے جو اس کی ساری زندگی پر محیط ہو گئی تھی اس رات اس کی جگری دوست رخسانہ کی شادی تھی مہمان آہستہ آہستہ رخصت ہو رہے تھے اابجے جلوہ کی رسم ادا ہو رہی تھی قریبی رشتے دار جمع تھے لڑکیاں دلہن کو اور  ایک دوسرے کو ستا رہی تھیں کچھ دور کھڑے لڑکے ان کے دبے دبے قہقہوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے ان ہی لڑکوں کے بیچ وہ دشمن جان و دل شکیب بھی تھے اس کی طرف ٹکٹکی باندھے یوں دیکھ رہے تھے جیسے وہاں ان دونوں کے سواکوئی نہ ہو دونوں ایک دوسرے کو گم صم کھڑے گھورے جا رہے تھے آنکھیں وفور شوق سے دمک رہی تھیں نظریں جیسے کہہ رہی تھیں تم ہی تو ہو جس کی مجھے تلاش تھی دونوں کے ہونٹوں پر طمانیت بھری مسکراہٹ تھی۔  دوسرے دن شکیب نے اپنی ماں کو رفیعہ کے گھر بھیج دیا۔  رفیعہ کی ماں نے خاطر مدارات کے بعد معذرت کرتے ہوئے بتا یا کہ اس کیخالہ زاد بہن نے اپنے بیٹے کے لئے بچپن ہی میں رفیعہ کو مانگ لیا تھا اور ا سکی شادی کی تیاری ہو رہی ہے شکیب کی ماں اداس دل لئے لوٹ گئیں۔  شکیب نے رخسانہ کے پیر پکڑ لئے اور کہا کہ وہ صرف ایک بارکسی طرح رفیعہ سے ملا دے۔  رخسانہ کے منت سماجت کرنے اور اپنی دوستی کا ، خدا کا واسطہ دینے پر وہ دھڑ کتے دل کو سنبھالتی شکیب سے ملنے گئی دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے مافیہاسے بے خبر بیٹھے رہے زبانیں گنگ تھیں اور  نظریں جیسے زبان بن گئی تھیں چاہتے تھے کہ وقت کی رفتار تھم جائے اچانک شکیب نے رفیعہ کے ٹھنڈے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر کہا:

’’رفیعہ کیا تم اپنی شادی سے انکار نہیں کر سکتیں ؟ رفیعہ نے بھیگی بھیگی پلکیں اٹھا کر شکیب کی طرف دیکھا

’’شکیب یہ ضروری نہیں کہ انسان کسی چیز کی خواہش کرے اور  وہ اسے حاصل ہو جائے زندگی میں آرزوؤں اور  تمناؤں کا خون ہوتا رہا ہے!لوگ پھر بھی زندہ رہتے ہیں!بیٹیاں صدیوں سے ماں باپ کے حکم کی پابند رہی ہیں ماں باپ کا مان رکھتی ہیں!شکیب!ماں باپ کی خوشیوں کی لاش پر میں اپنی چاہتوں کا محل تعمیر کرنا نہیں چاہتی!‘‘

’’رفیعہ میرا کیا ہو گا ؟ تم سے ہمیشہ کی دوری میں برداشت نہ کر سکوں گا‘‘

’’یوں سمجھیں کہ تقدیر نے ہمیں ایک دوسرے کے لئے نہیں بنایا آپ ہاؤ زسرجن شپ کر لیں میں آپ کو اچھے مسیحاکے روپ میں دیکھنے ایک دن ضرور آؤں گی آپ مجھے بھولنے کی کوشش کریں ‘‘رفیعہ کی آنکھیں کب سے جھرنے بہا رہی تھیں اسے پتہ ہی نہ چلا تکیہ بھیگ گیا تھا۔  اس کا دل شکیب سے ملنے کے لئے مچل اٹھا تھا!کون ہے وہ ؟احساس کا یہ نازک رشتہ اسقدر مضبوط کیوں ہے جو آج تک ٹوٹ نہ پایا۔  رخسانہ نے بتا یا تھا کہ شکیب نے ابھی تک شادی نہیں کی ہے وہ آج بھی اپنے وعدہ پر قائم ہے کیوں ؟

رات کا پچھلا پہر تھا اسے ابھی تک نیند نہیں آئی تھی۔  اس نے چھوٹے لڑکے کی شادی طئے کر دی تھی جو عنقریب ہونے والی تھی تیاری تقریباً  ہو چکی تھی جو کام رہ گئے تھے وہ بڑے بیٹے اور  بہو کے حوالے کر دئے تھے وہ باہر سے آنے ہی والے تھے اس خیال نے اسے ہمیشہ پریشان رکھا کہ جسطرح بڑے بیٹے نے اپنی دنیا بہت دور بسالی ہے اسی طرح چھوٹا بھی اس سے دور ہو جائے گا حالانکہ وہ بچوں کو اپنی خوشی سے اپنی زندگی جینے کی آزادی دینا بھی چاہتی تھی لیکن آنے والے دنوں کی تنہائیوں کے تصور سے وہ لرز بھی جاتی تھی۔  اسے صبح کا بے چینی سے انتظار تھا رات کے سوگوارلمحے آہستہ آہستہ سرکتے جا رہے تھے وہ مضطرب سی کروٹیں بدلتی رہی۔  صبح ہو گئی اس کے دل کی حالت قدرے سنبھل گئی تھی معمول کے کام نپٹائے پھر آئینے میں اپنے سراپاکو غور سے دیکھا کتنی بدل گئی تھی وہ اپنے آپ پر نظر ڈالنے کی فرصت ہی کب ملی تھی آج دیکھا تو جسم بھاری بھر کم لگ رہا تھا سرمیں چاندی کے بے شمار بال جگمگ کر رہے تھے ہاتھ پاؤں بھدے اور میلے ہو گئے تھے نیم گرم پانی سے نہانے کے بعد وہ نکھرسی گئی تھی پسند یدہ آسمانی ساڑی نکالی یہ رنگ شکیب کو بھی پسند تھا۔  

ہلکا سامیک اپ کر کے بالوں کا جوڑا بنا لیا پھر اپنے سراپے کا جائزہ لیا تو کانی فرق محسوس کیا اسے دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس نے کرب و بے چینی میں جاگ کر رات گزاری ہے۔  لیکن یہ کیا ؟!اسے چکرسی محسوس ہونے لگی وہ سنبھلتے سنبھلتے گر گئی۔۔۔  دوسرے دن اسے ہوش آیا اس کے بیڈ کے قریب دونوں بیٹے بیٹی اور  بہو کھڑے ہوئے تھے وہ پھٹی پھٹی اجنبی نگاہوں سے انھیں دیکھ رہی تھی جیسے انھیں پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو۔  ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ اسے ڈاکٹر شکیب احمد کے ہاں لے جائیں وہ سنٹیرنیورولاجسٹ ہیں۔  

ڈاکٹر شکیب کا نام سن کر رفیعہ نے دونوں آنکھیں کھول دیں اس کی آنکھیں سرخ انگارہ سی تھیں جنھیں پھر موند لیا۔  اس نے بڑے بیٹے کی آواز سنی کہہ رہا تھا ’’جانے انھیں کیا ہوا اچھی بھلی تھیں اگر یہی حال رہا تو مشکل ہو گی میں تمہاری شادی کے سلسلے میں آیا تھا وہاں بچوں کے اسکول کھلنے والے ہیں مجھے جلدی واپس جانا ہے ‘‘چھوٹے نے کہا’’ہاں بھائی جان میری ملازمت بھی پرمنینٹ ہونے والی ہے میرا رخصت لینا مناسب نہیں ہے شادی کیلئے مشکل سے منظور ہوئی ہے اگر ماں کو دوا خانہ میں شریک کرنے کی نوبت آئی تو شازیہ انکے ساتھ رہیگی کیا خیال ہے ؟

شازیہ نے فوراً جواب دیا ’’کیا آپ لوگ میرے گھر کے حالات سے واقف نہیں ہیں میں بھلاکیسے رہ سکتی ہوں میرے بچے بھی تو اسکول جاتے ہیں بہتر ہو گا کہ ہم کسی قریبی رشتے دار کی تلاش کریں جس پر کوئی ذمہ داری نہ ہودوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ معقول تنخواہ پرکسی ملازمہ کو رکھ لیا جائے ‘‘سب خاموش تھے رفیعہ سب کی باتیں غور سے سن رہی تھی ان کے الفاظ بجلی بن کر اس کے دل پر گرے تھے دل کی دھڑکنیں جیسے اک لحظہ کے لئے رک گئی تھیں وہ ساکت و جامد ہو گئی جیسے اس کی روح نکل رہی ہو اس کی ریاضت و عبادت سب اکارت گئیں کسی نے اس کے دامن کو رواداری کے چند پھولوں کا بھی مستحق نہیں سمجھا وہ دامن جسے پھیلا کروہ ہمیشہ ان سب کی خوشیوں اور کامیابیوں کی دعائیں مانگا کرتی تھی آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہو گئے جنھیں چھپانے کے لئے اس نے ایک چیخ مارکر دوسری طرف کروٹ بدل لی سب نے یہی سمجھا کہ اب اس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے اسے ڈاکٹر شکیب احمد کے پاس لے جایا گیا۔  وہ موجود نہیں تھے۔  

رفیعہ کو اسٹریچرسے اتار کر ایک بیڈ پر لٹا دیا گیا دونوں بھائی قریبی ہوٹل میں جا بیٹھے شازیہ اکیلی بیٹھی ہوئی تھی اسے نیند لگ گئی۔  کچھ ہی دیر بعد شکیب آ گئے آتے ہی رفیعہ کی کیس شیٹ دیکھنے لگے رفیعہ دوسری طرف منہ کئے لیٹی تھی کیس شیٹ میں نام پڑھ کراسے پکارا تو وہ ایک جھٹکے سے پلٹی دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو دیکھتے رہ گئے!شکیب ؟ وہی چہرہ وہی بولتی آنکھیں وہی  

’’رفیعہ!رفیعہ!یہ تم۔۔۔  کیا ہوا تمہیں ؟تمہاری یہ حالت کب سے ہے ؟

رفیعہ نے شکیب کا ہاتھ پکڑ لیا اور آنکھیں بند کر لیں ’’میں خواب تو نہیں دیکھ رہی ہوں تم میرے سامنے ہو مجھ سے مخاطب ہو کیا یہ حقیقت ہے ؟

’’ہاں رفیعہ یہ حقیقت ہے آنکھیں کھولو نا ‘‘میری طرف دیکھو‘‘

’’شکیب!میں نے تم سے کہا تھا نا تمہیں مسیحاکے روپ میں دیکھنے کے لئے ایک دن ضرور آؤں گی تم سے ملنے کی شدیدخواہش نے کئی دن سے بے چین کر رکھا تھا میں آنے کی تیاری کر رہی تھی کہ طبعیت بگڑ گئی شاید بیمار بن کر اپنے مسیحاکے پاس آنا تھا‘‘

رفیعہ نے آنکھیں بند کر لیں تب ہی بچے آ گئے شازیہ بھی جاگ گئی بیٹوں کے پوچھنے پر ڈاکٹر شکیب نے بتا یا کہ ’’نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے زیادہ خوشی یا رنج وفکرسے دماغ متاثر ہوتا ہے بہت سے امراض جن میں لوگ مبتلا ہیں دماغی دباؤ کا نتیجہ ہیں پشیمانی ، مایوسی ، بے اعتمادی و بے اعتنائی اپنوں کی بے مروتی اور چاہنے اور  چاہنے جانے کی خواہش اگر پوری نہ ہوئی ہو تو یہ سب انسانی دل و دماغ اور  جسم کو مجروح کر دیتے کمزور بنا دیتے ہیں میں نے ان کی کیس شیٹ دیکھی ہے دوائیں بھی لکھ دی ہیں علاج میں وقت لگے گا فی وقت انھیں دوا خانہ میں رکھنا ہو گا‘‘

’’ٹھیک ہے ڈاکٹر ہم آپ کی تعریف سن کر آئے ہیں آپ علاج شروع کر دیں اور ان کی دیکھ بھال کے لئے ایک نرس مقرر کر دیں ‘‘بڑے لڑکے نے کچھ رقم ڈاکٹر کے حوالے کی اور سب چلے گئے۔  ’’بتاؤ روفی تمہیں کیا دُکھ ہے میں تمہارے تمام دکھ سمیٹ لوں گا۔  تمہاری شادی کے بعد میں امریکہ چلا گیا تھا وہاں کی رنگین فضاؤں میں بھی تمہیں بھلانے کی کوشش میں ناکام رہا اور  وطن واپس چلا آیا۔ آنے کے بعد معلوم ہوا کہ تمہارے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے کیا بچے تمہارا خیال نہیں رکھتے ؟‘‘

’’اب انھیں میری ضرورت نہیں ہے آج اس حقیقت کا انکشاف ہوا ہے کہ میری اس حالت کا انھیں کوئی دکھ کوئی احساس نہیں ہے اور  جہاں احساس نہیں ہوتا وہاں کوئی رشتہ باقی نہیں رہ جاتا آج میں اپنے آپ کو تنہامحسوس کر رہی ہوں ‘‘

’’روفی میں تمہارے ساتھ ہوں تم سے ملنے کی آرزو میں جیتا رہا ہوں تمہاری پکار ہی مجھے ہزاروں میل دورسے کھینچ لائی ہے کیا تم اب بھی۔۔۔‘‘

’’شکیب میں پہلے والی رفیعہ نہیں ہوں کیا تم میرے چہرہ پر عمر کے سائے نہیں دیکھ رہے ہو؟ میں ایک ٹمٹماتا چراغ ہوں ‘‘

’’رفیعہ تم آج بھی میرے لئے وہی ہو جس کی چاہت میرے دل میں تازہ ہے آؤ ہم دونوں مل کر گزرے لمحوں کو آواز دیں اپنے ماضی میں لوٹ کر حقیقی مسرتوں کو حاصل کر لیں میں تمہیں کہیں نہ جانے دوں گا اب تم میری ہو صرف میری!

’’شکیب!شکیب۔۔۔  میرے مسیحا!رفیعہ زار و قطار رو رہی تھی

’’اب کسی بات کا غم نہ کرو ہم ایک دوسرے کے قدم سے قدم ملا کر زندگی کا باقی سفرپورا کریں گے میں بہت جلد تمہیں سوئٹنرر لینڈ لے جاؤں گا وہاں تمہاری صحت بہت اچھی ہو جائے گی تم نے آج تک سب کی خدمت کی ہے اب میں تمہاری خدمت کروں گا ‘‘رفیعہ شکیب کے چہرہ کو تکے جا رہی تھی اعتماد اور  طمانیت کا نور چہرہ پر جھلک رہا تھا دوسرے دن ڈاکٹر شکیب نے ہیرے کی خوبصورت سی انگوٹھی رفیعہ کی انگلی میں پہنا دی۔   

*****