کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کرب مسلسل

افروز سیدہ


زندگی جبر مسلسل کی طرح کا ٹی ہے

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یا د نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   

میں تم سے کہہ چکا ہوں بار بار مجھے ماں کے سلسلے میں نصیحتیں نہ کیا کرو ورنہ میری نفرت بڑھتی جائے گی میں صرف اتنا ہی جانتا ہوں اس نے ایک مرد سے علیٰحدہ ہو کر خود مرد بن کر جینے کی کوشش کی ہے اور  تم جانتے ہو اکیلی عورت پر کتنے مردوں کی نظر رہتی ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس دن بھی عامر اپنی سوچوں میں غرق اداس بیٹھا ہوا تھا کہ اختر آ گیا اس نے محسوس کیا کہ عامر آج کسی گہری سوچ میں ہے۔  

’’کیا بات ہے عامر طبیعت تو ٹھیک ہے ؟

’’طبیعت کو کیا ہو نا ہے یار میری قسمت  ہی خراب ہے ‘‘

’’یار تم سے کتنی بار کہہ چکا ہوں کہ ماں کی طرف سے دل کو میلا نہ رکھا کرو ماں اولاد کے لئے بہت بڑی نعمت ہے اس کی قدر کرو اسے سنبھال کر رکھو یہ کھو جائے تو اس جہاں میں اس جیسی ہستی کہیں نہیں ملے گی تم اب بچے نہیں ہو کالج کی دنیا میں قدم رکھ چکے ہو دیکھو ماں زندگی کی کڑ یل دھوپ میں گھنا سایہ ہوتی ہے وہ اولاد کے ہر درد کا مسیحا  ہوتی ہے اپنے ہاتھوں اسے کھو کر کچھ بھی نہ پا سکو گے ‘‘۔

’’میں کیا کروں اختر میرا دل جلتا رہتا ہے یہ سوچ سوچ کر کڑھتا رہتا ہوں کہ اگر ماں نے میرے باپ سے علیٰحدگی اختیار نہ کی ہوتی تو میں باپ کی چھتر چھا یا تلے کتنی آسودہ زندگی گزار رہا ہوتا ماں تو گھر کی چاردیواری میں جینے کا سلیقہ طریقہ سکھاتی ہے لیکن باپ انگلی پکڑ کر ایک وسیع دنیا کی سیر کراتا ہے اس دنیا کے نشیب فراز سے واقف کراتا ہے اپنے بچے کومردانگی کے معنی بتاتا ہے اور۔۔۔۔۔۔  ‘‘

’’اب بس بھی کرو جن بچوں کے باپ نہیں ہو تے کیا وہ مرد نہیں ہوتے ؟ کیا بن باپ  کے بچوں نے اپنا نام روشن نہیں کیا ؟ بڑے بڑے کارنامے انجام نہیں دئے ؟‘‘

’’اختر مجھے تمہاری بات سے اختلاف نہیں ہے لیکن تم نہیں جانتے کہ ماں نے میرے مقدر کے ساتھ کوئی سازش کر لی ہے دیکھو نا ہر وقت ان کاموں سے رو کتی ٹو کتی رہتی ہیں جن میں میری خوشی ہوتی ہے کہتی ہیں رات دیر تک گھر سے باہر نہ رہا کرو ’ جلدی سویا کرو ، صبح جلدی اٹھ جا ؤ دوستوں میں وقت نہ گزارو ہر لڑکی کو اپنی بہن سمجھا کرو ہر ہفتہ پکچر نہ دیکھا کرو میرا جینا دشوار کر دیا ہے کل پہلی بار سگریٹ کو منہ لگا یا تھا جانے انھیں کیسے پتہ چل گیا کہنے لگیں بیٹا مرد کو اللہ تعالیٰ نے ایک طاقتور مخلوق بنا کر پیدا کیا ہے وہ کمزور چیزوں کا سہارا نہیں لیا کرتے چائے ، پان،  سگریٹ اور  نشہ آور چیزیں انسان کو کمزور بنا دیتی ہیں اور  کمزور مرد ایک خاندان کو صحیح طور پر نہیں سنبھال سکتا جبکہ ایک قوم کو سنبھالنے کی ذمہ داری اس کے مضبوط کندھوں پر ہوتی ہے وغیرہ ‘‘عامر نے جزبز ہوتے ہوئے کہا ’’آنٹی نے جو کچھ کہا بالکل ٹھیک کہا ہے چلو اب گھر چلیں دیر ہو گئی ہے ‘‘

’’کیا ٹھیک کہا خود انھوں نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی ہمیں اپنی ذمہ داریاں بتا نے  چلی ہیں ‘‘۔

عامر تھکا ہا را گھر آیا کتا بیں پٹکنے کے انداز میں رکھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا کپڑے بدل کر آیا تو ماں نے کہا

’’بہت دیر کر دی بیٹا میں نے تمہارے انتظار میں ابھی تک کھا نا نہیں کھا یا چلو منہ ہاتھ دھو کر آ جاؤ میں کھا نا لگاتی ہوں ‘‘۔

ماں کے میٹھے سے نرم لہجے نے عامر کے غصہ کی آگ کو ٹھنڈا ضرور کیا لیکن وہ روٹھا روٹھا سا تھا۔  وہ سوچ رہا تھا’’یہ ماں بھی عجیب شئے ہے غصہ کی آگ میں تپا ہوا فولادی مرد بھی اس کی محبت کی آنچ سے موم کی طرح پگھلنے لگتا ہے پھر میری ماں تو برسوں سے میرے لئے محنت مشقت کر رہی ہے تن تنہا زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے اور  پیشانی پر بل تک نہیں اسے اداس یا کسی الجھن میں گرفتار کبھی نہیں دیکھا آہنی مر د کے بارے میں سنا تھا لیکن یہ تو آہنی عورت ہے ‘‘اسے ماں سے جلن ہو نے لگی لوگ کتنے بیوقوف ہیں اس عورت کی تعریف کرتے ہیں جس نے اپنی ازدواجی زندگی کو شطرنج کی بساط سمجھا تھا جب تک جی چاہا کھیلا اور  دل بھر گیاتوبساط ہی الٹ دی جیسے کوئی کھلنڈرا بچہ پرانے کھلونوں کو پھینک دیتا ہے۔  ماں ایک بد سلیقہ عورت ہے جس نے زندگی کو سلیقہ سے نہیں جیا ایک بے درد عورت ہے جس نے ایک بچے کو اس کے باپ سے جدا کر دیا۔  عامر کے ذہن میں ٹو ٹ پھوٹ ہوتی رہتی جلتا کڑھتا رہتا۔ وقت یونہی آگے بڑھتا رہا۔  آخر وہ وقت آ گیا جب ماں کی محبتوں اور نصیحتوں کی چھاؤں میں عامر نے *CAکا امتحان اعلی نشانات سے پاس کر لیا ماں نے محلے بھر میں مٹھائی با نٹی اور  دلہن کی تلاش شروع کر دی۔  عامر شہر کی مشہور کمپنی میں با وقار عہدہ پر فائز ہو گیا۔  

نئی زند گی کی شروعات پر سب سے پہلے اختر نے اسے مبارک باد دیتے ہوئے کہا

’’کیا تم اب بھی ماں سے بد ظن ہو خدا کا شکر کرو جس نے تمہیں ایسی ماں دی کہ اپنا آپ تج کر تمہیں اس مقام پر پہنچا یا ‘‘اختر نے مسکراتے ہوئے کہا

’’میں نہیں سمجھتا کہ انھوں نے مجھ پر کوئی احسان کیا ہے یہ تو ہر ماں با پ کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اولا دکی ہر طرح کی ذمہ داری اٹھاتے ہوئے انھیں ایک اچھا مستقبل دیں ورنہ۔۔۔۔۔۔  ‘‘

’’ایسا نہ کہو عامر آخر تم سمجھتے کیوں نہیں ماں جو نو مہینے تک اپنا خون پلا کر بچے کا بوجھ اٹھاتی ہے اس کا بدلہ نو جنم لے کر بھی نہیں چکا سکتے ماں کے دودھ کے ایک ایک قطرہ کا ہم پر احسان ہوتا ہے کیا دو سال تک پیئے ہوئے دودھ کا حساب لگا سکتے ہو ؟‘‘

’’میں نے کہا نا۔۔۔۔۔۔  وہ اولاد کے لئے سب کچھ کرنے پر مجبور ہیں قدرت نے انھیں پا بند کیا ہے ‘‘

’’اسی قدرت نے کیا اولا دکو پابند نہیں کیا ہے ؟‘‘

’’اختر میں تم سے کہہ چکا ہوں۔  بار بار مجھے ماں کے سلسلے میں نصیحتیں نہ کیا کرو ورنہ میری نفرت بڑھتی جائے گی میں صرف اتنا ہی جانتا ہوں اس نے ایک مرد سے علیٰحدہ ہو کر خود مرد بن کر جینے کی کوشش کی ہے اور  تم جانتے ہو اکیلی عورت پر کتنے مردوں کی نظر رہتی ہے کچھ

جیا لوں نے ماں کے لئے شادی کے پیغام بھی بھیجے تھے اور  آج بھی بھیجتے ہوں گے تم بتاؤ کیا

او لا دکو یہ منظور ہو گا کہ اس کی ماں کسی نئے آدمی کو اس کا باپ بنا دے ؟‘‘ ’’اگر وہ شادی کر لتیں تو میں اس آدمی کو جان ہی سے مار دیتا‘‘

’’اچھا ٹھیک ہے غصہ تھو ک دو چلو باہر کہیں گھوم آتے ہیں ‘‘دوسرے  دن اتوار تھا ماں نے شادی کی بات چھیڑ دی عامر نے کہا ’’آپ اس معاملے میں فکر نہ کریں نہ جلدی کریں شادی مجھے کرنی ہے میں اب عاقل اور  بالغ ہوں خود لڑکی پسند کروں گا اس سے ملوں گا اور  مطمئن ہو نے کے بعد ہی شادی کروں گا ‘‘اس نے اپنی ہی کمپنی کی ایک لٹرکی کو پسند کیا اور  ماں نے نہ چاہتے ہوئے بھی اسی لڑکی سے شادی کر دی وہ کسی ملازم پیشہ لڑکی سے بیٹے کا بیاہ کرنا نہیں چاہتی تھی۔  ماں کی خواہش کو نظر انداز کر کے عامر خوش تھا بمشکل دو چار مہینے گزرے ہو ں گے کہ اس کی بیگم نے اپنا محل الگ بسا نے کا  ارادہ ظاہر کیا جسے عملی جامہ پہنا نے میں عامر نے دیر نہیں کی اس نے یہ سوچنا تک گوارا نہیں کیا کہ اب اس کی ماں کو ایک سہارے کی ضرورت ہے وہ آہنی عورت تھی بیٹے بہو کو رخصت کرتے ہوئے انھیں محسوس نہ ہو نے دیا کہ اس کے دل میں کیسی ٹو ٹ پھوٹ ہو رہی ہے اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیتی ہوئی بازی آج ہار گئی ہے اس نے ایک زخمی سی مسکرہٹ کے ساتھ کہا۔

’’عامر تمہارے سامنے زندگی کا ایک و سیع صحرا ہے جو تمہیں میرے سہارے کے بغیر  عبور کرنا ہے اس کے سر د و گرم سے نبرد آزما ہو نا ہے مجھے امید ہے تم سلیقہ کے ساتھ زندگیگزارو گے میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔ جا ؤ تمہیں اللہ کی نگہبانی  میں  دیتی ہوں ‘‘

 عامر سوچر ہا تھا کہ وہ ماں کو دو بارہ دشکست دے ر ہا ہے اب وہ اسے رو کنے کی کوشش کرے گی گڑ گڑ ائے گی لیکن وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ آج بھی اس کے ماتھے پر کوئی شکن تھی نہ لہجہلرزیدہ تھا وہ پو چھے بنا نہ رہ سکا۔ ’’ماں میرے جانے سے تمہیں کوئی دکھ تو نہیں نا ؟‘‘

’’نہیں بیٹا میں خود غرض ماں نہیں ہوں کہ اپنے سکھ کی خاطر او لا دکی خوشیوں کو پا مال کر دوں۔  میں ایک ملازم پیشہ عورت ہوں آج تک اپنے آپ کو بہلائے رکھا تھا عمر کا ایک بڑا حصہ گزر چکا ہے باقی بھی گزر ہی جائے گا، تم خوش رہو بس جا ؤ اللہ تمہارا نگہبان ہے ‘‘عامر کو اس آہنی عورت سے جلن سی ہو رہی تھی اسنے محسوس کیا جیسے ماں نے اس کے منہ پر  طما نچہ مار دیا ہو۔  

وقت تیزی کے ساتھ آگے بڑھ گیا سات سال گزر گئے ،عامر دو بچوں کا باپ بن گیا تھا ہر سال گر ما کی چھٹیوں میں وہ چند دن ماں کے پاس گزارتا پھر سب کسی تفریحی مقام پر چلے جاتے انھیں اپنے کام سے فرصت ہی نہیں ملتی تھی بچے بھی انکے پیار سے محروم تھے دادی کے پاس آتے تو واپس جانا نہیں چاہتے۔ انھیں و ہاں وہ پیار ملتا جس کے وہ طلب گار تھے حقدار تھے وہاں سے آنے کے بعد بڑا لڑکا کئی دن تک چڑچڑ ا اور  روٹھا ہوا رہتا تھا۔  وہ اکثر باپ سے پو چھتا کہ ’’ہم دادی کے پاس کیوں نہیں رہتے وہ اکیلی رہتی ہیں ‘‘۔  باپ سے خاطر خواہ جو اب نہ پا کر کہتا ’’جب میں بڑا ہو جاؤں گا تو میں بھی آپ کے ساتھ نہیں ر ہوں گا‘‘۔  عامر اور  اس کی بیوی ایک دوسرے کی صورت دیکھتے اور  خا موش ہو جاتے۔  دراصل اب انھیں ایک اپنے آدمی کی سخت ضرورت محسوس ہو رہی تھی جو انکے گھر اور  بچوں کی دیکھ بھال کر سکے بچے نو کروں کے سہا رے پل رہے تھے اور  بگڑ رہے تھے لیکن عامر ماں کے آگے جھکنا نہیں چاہتا تھا ایک چھٹی کے دن وہ بچوں کے کمرے میں گیا تو دیکھا انکے کمرے میں جا بجا ٹی وی گائیڈ سے لی ہوئی تصویریں بکھری پڑی تھیں کچھ دیواروں اور کچھ ان کی الماری پر چسپاں تھیں کپڑے اور  کتابیں ادھر ادھر پڑی تھیں اور  دونوں بھائی بہن ٹی وی کے سا منے بیٹھے قہقہے لگا رہے تھے۔  عامر سرسے پاؤں تک لرز گیا اس کی ماں نے کبھی ٹی وی گھر میں رکھا ہی نہیں تھا ٹی وی گائیڈ یا اور  کوئی میگزین گھر میں آنے کا سو ال ہی نہ تھا اس نے اپنے بچپن میں ایسی گندی تصویریں نہیں دیکھی تھیں گھر میں کتنا سکون تھا کتنے سلیقے کی زندگی تھی ماں کا پیار درو دیوار سے ٹپکتا تھا اور  ایک یہ زندگی ہے کہ۔۔۔  وہ نادرہ پر چلا نے لگا۔

’’تم کتنی پھو ہڑ اور  غیر ذمہ دار عورت ہو تمہیں بچوں کا خیال ہے نہ میرا لحاظ ہے کبھی تم  نے بچوں کا کمرہ دیکھا ہے کہ وہ کیسا ہے اور  بچے کیا کر تے رہتے ہیں ؟ تم پڑھی لکھی ہو لیکن جاہلوں سے بد تر ہو ملازمت کر رہی ہو تو کیا مجھ احسان کر رہی ہو ؟

’’عامر زیادہ اونچی آواز میں نہ بو لو، ملازمت کروانے کی خواہش تمہاری تھی میری نہیں!جب تم بھی ملا زم ہو اور  میں بھی ،تو پھر بچوں کی ذمہ داری صرف مجھ پرہی کیوں  ڈالتے ہو ان پر نظر رکھنا تمہارا بھی تو کام ہے ‘‘۔ ’’میں تمہاری بکو اس سننا نہیں چاہتا آج تک جو ہوا سو ہوا اب ہم ماں کے پاس جا کر رہیں گے زندگی کا قرینہ ان سے سیکھو تمہاری ماں نے تو تمہیں کچھ نہیں سکھا یا نا ؟‘‘

’’شاید تم خود اپنی ماں سے الگ ہو نا چاہتے تھے میں نے تو صرف ارادہ ظاہر کیا تھا اور  تم فوراً دور ہو گئے اب تم وہاں رہنا چاہتے ہو تو مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے ؟‘‘

جب عامر ماں کے پاس گیا تو دیکھا وہ سخت بیمار تھی انتہائی کمز ور ہو گئی تھی عامر کو اپنے سامنے پا کر اس کی آنکھوں میں جگنو سے چمکنے لگے جلدی سے اٹھنے کی کوشش کی لیکن وہیں ڈھیر

 ہو گئی عامر نے سہا را دے کر اٹھا یا اور  تکئے لگا کر بٹھا دیا۔ ’’ماں تم نے یہ کیا حالت بنا لی ہے تمہیں کیا ہو ا،کب سے بیمار ہو مجھے اطلاع دینے کی ضرورت نہیں سمجھی۔۔۔  ‘‘’’آخر کیا وجہ ہے ؟ مجھے آواز تو دی ہوتی میں بھا گا چلا آتا کیا تم ناراض ہو ماں ؟‘‘’’نہیں بیٹا مائیں بچوں سے کیسے ناراض ہو سکتی ہیں وہ تو بچوں کی خو شی میں خوش ہوتی ہیں۔ اسلام وعلیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔۔۔  میرا رواں رواں تمہیں ہر پل دعائیں دیتا ہے ‘‘’’تمہاری یہ حالت کیوں کر ہوئی۔ کیا ہوا ہے بتا ؤ نا ؟‘‘

’’کچھ نہیں بس ذرا بخار آ رہا تھا۔  چیک اپ کروایا تو معلوم ہوا ملیریا ہو گیا ہے ‘‘۔  عامر اپنے آپ شرمندہ اور ملول سا  تھا لیکن اسے غصہ بھی تھا کہ اس حالت میں بھی ماں نے اس کا سہارالینا گوارا نہ کیا تھا۔  وہ رات میں ماں کے سرہانے بیٹھا کسی کتاب کی ورق گردانی کر رہا تھا کہ اسے کتاب میں ایک لفافہ ملا جس پر اسی کا نام لکھا ہوا تھا شاید وہ پو سٹ کروانا بھول گئی تھی۔  عامر نے لفافہ چاک کیا لکھا تھا 

جانِ مادر عامر جان!!تم سلامت رہو ہزار برس ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار (آمین ثم آمین)

جان! میں سمجھتی ہوں تم آج تک مجھ سے اس لئے خفا رہے ہو کہ میں نے تمہارے والد سے علیٰحدگی اختیار کر لی تھی میں تمہاری الجھن دور کر کے آج اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لینا چاہتی ہوں شاید تم یقین نہیں کرو گے کہ تمہاری  تائی نے ہم پر بہت ظلم ڈھائے تھے وہ تمہارے والد کی خالہ زاد بہن بھی تھی اکلوتی تھی۔  وہ لوگ بہت دولتمند تھے تمہاری دادیاور انکے بچے یعنی تمہارے تایا والد اور  پھو پی سب انکے احسان تلے دبے ہوئے تھے تائی معمولی شکلو صورت کی تھی اس لئے کہیں شادی ہو نہیں پا رہی تھی تمہارے تا یا نے زبر دستی ان سے شادی کر لی وہ انھیں پسند نہیں تھی اس نے آتے ہی گھر والوں پر اپنی حکومت چلانا شروع کر دی کسی کی مجال نہیں تھی کہ اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام کرتا اس کے برخلاف میری خوبصورتی ہی میری بد نصیبی کا باعث بن گئی۔  وہ مجھ سے حسد ہی نہیں نفرت بھی کرتی تھیں۔ میں ان کی نظر میں ہمیشہ کھٹکتی رہی اس لئے مجھے نیچا دکھا نے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتی تھیں مجھے اذیت پہنچا کر انھیں ذہنی سکون ملتا تھا۔ انھوں نے ایک دن اپنے زیورات کی چوری کا مجھ پر الزام لگا دیا جنھیں میری الماری میں چھپا کر تلاشی لی اور  سب کے سامنے بر آمد کر کے بتا یا اس واقعہ کے بعد میرا اس گھر میں ر ہنا ممکن نہ تھا میں ما ئیکے چلی آئی عرصہ دراز گزر گیا تمہارے والد یا اور  کسی نے بھی ہماری خبر نہ لی۔  تمہاری دادی کے انتقال کے فوری بعد تائی نے اپنی ایک سہیلی سے والد کی شادی کروا دی اور  میں نے خلع لے لیا۔  اس کے بعد جینے کی خواہش نہیں تھی لیکن تمہاری خاطر زندگی سے نا طہ قائم رکھنا  پڑا۔ ایک اہم بات تمہیں بتا دوں کہ تمہاری ایک بہن شاذیہ ہے جو تم سے سال بھر کی بڑی ہے ان لوگوں نے اسے زبر دستی اپنے پاس رکھ لیا ہے۔  شاید اس کی شادی ہو گئی ہو۔  اب تم سمجھدار ہو گئے ہو میرے بعد تم اس کا خیال رکھنا، پتہ نہیں میرے اور  تمہارے لئے اس کے دل میں کوئی جگہ ہے یا نہیں۔ میں سمجھتی ہوں اب تمہارا دل  صاف ہو گیا ہو گا اور  تم اپنی ماں کو معاف کر دو گے ‘‘۔  بیٹے۔ تمہارے اور  تمہاری پیاری دلھن اور  پیارے پیارے بچوں کیلئے میری دعائیں اور  نیک توقعات ہمیشہ ہمیشہ میرے مرنے کے بعد بھی برقرار رہیں گی۔

انشاء اللہ فی امان اللہ۔

                                                                                                              تمہاری گنہگار ماں

٭٭٭٭٭