کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

رانگ نمبر

افروز سیدہ


یہ بولتے ہوئے لمحے یہ ڈولتی ہوئی شام

ترے جمال کے صدقے ترے وصال کے نام

بھٹک رہے ہیں خواب پریشاں کی طرح کب سے

یہ جی میں ہے کہ تری آنکھوں میں کریں بسر ہم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ؟

’’محترمہ!میں تو اس جہاں کی تلاش میں ہوں جہاں خوبصورتی کی کوکھ سے بد صورتی نہ پیدا ہوتی ہو جہاں مذہب کے نام پر جھگڑے نہ ہوتے ہوں۔ جہاں بڑی بڑی ڈگریاں ہاتھوں میں لئے نوجوان نوکری کی تلاش میں نہ گھومتے ہوں۔ جہاں بدبو دار جھونپڑ یوں میں رنگین خواب نہ دیکھے جاتے ہوں اور  جہاں لڑکوں اور  لڑکیوں کے رشتے رنگ وروپ  یا دولت کی بنیاد پر طئے نہ ہوتے ہوں۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’ابھی چند منٹ پہلے آپ نے فون کیا تو میں نے بتا یا تھا کہ ملیحہ نام کی کوئی لڑکی یہاں نہیں رہتی آپ نے دوبارہ میرا فون کیوں ملایا؟‘‘بلال نے حیرت سے پوچھا ’’جی معافی چاہتی ہوں پتہ نہیں دوبارہ آپ ہی کا نمبر کیونکر مل گیا‘‘یقین کریں مجھے آپ کا نمبر معلوم ہی نہیں ہے دراصل میرے گھر والے شادی کی تقریب میں گئے ہوئے ہیں اور  میں اکیلی بور ہو رہی تھی سوچا کہ اپنی دوست ملیحہ سے کچھ دیر بات کر لوں میں نے اسی کا نمبر ڈائل کیا تھا سمجھ میں نہیں آیا کہ دوسری بار بھی آپ کا نمبر کیوں کر مل گیا‘‘دوسری طرف سے مٹھاس میں ڈوبی ہوئی آواز آئی ’’اب تو آپ سمجھ گئیں نا کہ یہ ملیحہ کا فون نہیں ہے بہتر ہو گا آپ فون رکھ دیں اگر میرے بجائے کسی چور لٹیرے کے فون سے ربط ہو جاتا اور  آپ اسی طرح بتا دیتیں کہ آپ گھر پر اکیلی ہیں تو جانتی ہیں کیا ہوتا ؟‘‘بلال نے نرمی سے کہا ’’ویسے  آپ اکیلی ہیں تو اس میں بور ہو نے کی کیا بات ہے آپ عبادت میں یاکسی کتاب کے مطالعہ میں وقت گزار سکتی تھیں ‘‘۔  ’’جی! آپ کا مشورہ سرآنکھوں پر!میں فون تو رکھ دوں گی لیکن آپ سے requestکروں گی کہ پلیز آپ اپنا نمبر دے دیں!‘‘’’کیوں کیوں ؟ آپ میرا نمبر کیوں لینا چاہتی ہیں ؟‘‘’’میں سچ بتا دوں گی آپ کوئی غلط مطلب نہ لیں دراصل میں اچھی آواز کی گرویدہ ہوں آپ کی آواز بے حد پر کشش اور  سوزمیں ڈوبی ہوئی ہے کیا آپ رنجیدہ ہیں ؟‘‘

’’ذرہ نوازی شکر یہ!محترمہ زندگی رنجو غم ہی سے تو عبادت ہے اگر غم نہ ہو تو خو شی کی قدر کیسے ہو گی ؟ آپ کو اپنا نمبر دے تو دوں لیکن خدارا ملنے کی خواہش نہ کر بیٹھئے گا‘‘’’آپ کی بات سن کر مجھے حیرانی ہوئی کیونکہ اس زمانے میں کوئی آدمی اتنا شریف شاید نہیں ہو گا کہ ایک عورت ملنا چاہے تو مرد انکار کر دے!ویسے آپ کی مصروفیت کیا ہے ؟ ‘‘’’میں سائیکالوجی میں ایم فل کر رہا ہوں ’ آپ کو ملنے سے منع کر رہا ہوں تو آپ نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ میں شریف آدمی ہوں ؟‘‘

’’تو پھر یہ ہو سکتا ہے کہ آپ شا دی شدہ ہوں گے بیوی سے ڈرتے ہوں گے ہے ، نا یہی بات؟‘‘

’’آپ باتیں بڑی دلچسپ کر لیتی ہیں کیا آپ پڑھتی ہیں ؟‘‘’’میں نے اسی سال بی اے کیا ہے۔  آپ نے میری باتوں کی تعریف کی شکریہ!میرے سوال کا جواب نہیں دیا؟‘‘’’آپ نے دوسوال کئے ہیں میں ملنا کیوں نہیں چاہتا دوسرے میں شادی شدہ ہوں یا نہیں ‘‘؟

’’میرے دوسرے سوال کا جواب شاید مل گیا ہے کہ آپ شادی شدہ نہیں ہیں کیونکہ ابھی آپ کی تعلیم جاری ہے ’سائیکالوجی میرا بھی پسندیدہ سبجیکٹ رہا ہے یہ بتائیں کہ آپ ملنا کیوں نہیں چاہتے ؟‘‘’’ا سکی کوئی خاص وجہ نہیں ہے امتحان قریب ہیں تیاری کرنی ہے ‘‘

’ ’ہم کبھی کبھی فون پر بات تو کر سکتے ہیں نا ؟پلیز آپ اپنا نمبر بتا دیں ورنہ بھول کر فون رکھ دیا تو زندگی میں کبھی بات نہ ہو سکے گی‘‘اس وقت کسی اجنبی مرد سے اس طرح بات کر نا کوئی اچھی بات نہیں ہے نا ؟’’آپ نے بڑی خشک طبعیت پائی ہے اتنا بھی نہیں پوچھا کہ میرا نام کیا ہے پھر کب بات کروں گی ویسے کیا آپ کا نام پو چھ سکتی ہوں ؟‘‘

’’میرا نام بلال ہے  بلال احمد ’آپ کا نام میں نے پو چھنا ہی نہیں چاہا کسی غلط نمبر ملا نے والے کا نام نمبر وغیرہ پو چھنا ضروری تو نہیں جبکہ دوسری طرف کوئی لڑکی ہو تو یہ اور  بھی معیوب بات ہو گی‘‘’’آپ بڑے منطقی ہیں آپ کو تو وکیل بننا چاہئے تھا اتنی دیر تک بات کرنے کے بعد کیا  ہم ایک دو سرے کے دوست نہیں بن گئے ؟ آپ خو اہ مخواہ اپنی شرافت کا سکہ بٹھا نے لگے!’’محترمہ آپ نے غلط سمجھا میں کوئی سکہ و کہ نہیں بٹھا رہا ہوں دراصل میں عورتوں سے دوستی کرنے کا قائل نہیں ہوں اور  آپ وجہ پوچھیں گی تو میں نہیں بتاؤں گا اب میں یہ سلسلہ گفتگو بند کر نا چاہتا ہوں کام بہت ہے اور  وقت کم ہے تعجب ہے میں نے آپ سے اتنی باتیں کیسے کر لیں ؟ آپ کا تو ٹائم پاس ہو گیا نا؟‘‘

’’جی ہاں وقت تو گزر گیا میرے گھر کے لوگ آتے ہی ہوں گے میں پھر بات کروں گی میرا نام فردوس ہے بھول نہ جائے گا‘‘بلال احمد تین بہن بھا ئیوں میں سب سے چھو ٹا تھا بھائی اور  بہن اس سے نفرت کرتے تھے کیونکہ اس کے پیدا ہو نے کے چند دن بعد ہی ماں کا انتقال ہو گیا تھا خاندان کے لوگ کہتے تھے اس نے ماں کو کھا لیا۔  والد نے اسے ایک آیا کے حوالے کر دیا جب وہ دس سال کا تھا تب والد نے اس کے بھائی اور  بہن کی شادیکر دی اور  خود ایک نئی ماں لے آئے۔  اسی دوران اس کی آیا جواسے بے حد پیار کرتی تھی چل بسی نئی ماں کے کہنے پر والد نے اسے بورڈنگ میں شریک کرا دیا اسے یہاں بھی نفرت ہی ملی سب اس کے کا لے رنگ کا مذاق اڑاتے لیکن دل ہی دل میں اس سے مرعوب تھے کیونکہ وہ بلا کا ذہین تھا ہر امتحان میں فرسٹ ڈیویژن سے پاس ہوتا یا  میرٹ میں پاس ہوتا گزرے برسوں نے اسے عمر سے کہیں زیادہ سنجیدہ بنا دیا تھا کرشن چندر کے علا وہ شیلے ’ کیٹں ’ با ئرن اور  شکسپیر کو بھی اس نے پڑھ لیا تھا۔  اس سے کچھ دیر گفتگو کرنے والے معلومات کا ایک ذخیرہ سمیٹ لے جا تے۔  گر ائجو یشن کرنے تک وہ ایک اعلی مصور بن گیا وہ اچھا گلوکار بھی تھا والد نے اس کی شادی کرنی چاہی لیکن جہاں بھی اس کا پیام جاتا انکار  کاجو اب ملتا کیونکہ رنگ کے علا وہ اس کا ناک نقشہ بھی کسی نے پسند نہیں کیا تھا آج کی لڑکیوں کوT.Vسیر ئیلس کے ہیرو زجیسے شوہر چاہئے اور  داڑھی والے تو بالکل نہیں چاہئے خواہ وہ پیکرِ نیکی و شرافت کیوں نہ ہوں ان لڑکیوں کی زندگی کی کسو ٹی پر پو رے اتر تے ہی نہیں دو سال کی تگو دو کے بعد والد نے ہاتھ اٹھا لیا اب وہ ایک فلیٹ کر ائے پر لیکر تنہا زندگی گزار رہا تھا چاہنے اور  چاہے جانے کی حسرت دل میں چھپائے وہ آدم بیزار ہو گیا تھا اسے پیار تھا تو اپنی مصوری سے اور  کتابیں اس کی رفیق خاص تھیں تنہائی کے عذاب کو خوش اسلو بی کے ساتھ جھیل رہا تھا دل زیادہ اداس ہوتا تو سوزو گداز میں ڈوبے ہوئے کچھ اشعار دل سے نکل آتے کبھی کبھی شدید خواہش بے چین کر دیتی کہ کاش اس کا اپنا بھی خاندان ہوتا حساس دل رکھنے والی معمولی شکلو صورت کی سہی ’ ایک بیوی دکھ درد کی ساتھی ہوتی اور  بچوں کے معصوم شرارتی قہقہے اس کے گھر کی رونقوں میں رنگ بھر تے وہ بچوں کی اعلی پیما نے پر پر ورش کر نا چاہتا تھا انھیں ہر فن مولا بنانا چاہتا تھا بس وہ کا لے نہ ہوں یہ اس کی دعاء تھی وہ اٹھ کر آئینے کے سا منے جا کھڑا ہوتا اور  پھر اپنی پینٹنگس کی دنیا میں کھو جاتا۔  آج زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی نے اسقدر خلو ص اور  پیار سے بات کی تھی جیسے صدیوں کی شناسائی ہو جیسے اسی لبو لہجہ کا انتظار رہا ہو اس کے جذبات میں ہلچل سی مچی ہوئی تھی جیسے پر سکوت سمندر میں کوئی مسلسل کنکر یاں پھینک رہا ہو وہ پلکیں موندے بیٹھا تھا کہ فون کی گھنٹی بج اٹھی اس نے لپک کر فون اٹھا لیا۔

’’اسلام علیکمBilal Here ‘‘’’و علیکم اسلام مجھے یقین تھا کہ فون آپ ہی اٹھائیں گے ‘‘آپ نے بہت دنوں بعد فون کیا کہئے کیا حال ہے ؟’’او!یعنی کہ آپ میرے فون کے انتظار میں دن گن رہے تھے ؟‘‘’’جی نہیں یہ بات نہیں ہے ‘‘’ ’ بلال سٹپٹا گیا بات یہ ہے کہ میرے دوست احباب اور  رشتے دار نہیں کے برابر ہیں کوئی فون کر لیتا ہے تو اچھا لگتا ہے آپ تو اچھی باتیں کرتی ہیں ‘‘’ ’ بلال نے بات بنائی آپ کے گھر میں اور  بھی تو لوگ ہوں گے ؟ ’’میں اکیلا رہتا ہوں اور  کوئی نہیں ہے ‘‘’’آپ کے والدین بھائی بہن کیا کوئی نہیں ہے ؟‘‘

’’وقت کی گردش کے ہاتھوں لٹے ہوئے انسان کا ساتھی صرف گزرے لمحوں کا عذاب ہوتا ہے بس‘‘’’آپ بیرون ملک کیوں نہیں چلے جا تے ؟‘‘

’’محترمہ!میں تو اس جہان کی تلاش میں ہوں جہاں خوبصورتی کی کوکھ سے بد صورتی نہ پیدا ہوتی ہو جہاں مذہب کے نام پر جھگڑے نہ ہوتے ہوں ’ جہاں بڑی بڑ ی ڈگریاں ہاتھ میں لئے نوجوان نوکری کی تلاش میں نہ گھومتے ہوں جہاں بدبو دار جھونپڑوں میں رنگین خواب نہ دیکھے جا تے ہوں اور  جہاں لڑکوں اور  لڑکیوں کے رشتے رنگ و روپ یا دولت کی بنیاد پر طئے نہ ہوتے ہوں ‘‘’’آپ توP.H.Dکرنے سے پہلے فلا سفر بن گئے ہیں معافی چاہتی ہوں میں نے آپ کو تکلیف دی ’ اچھا یہ بتائیں پڑھنے کے علا وہ آپ کی اور  کیا مصروفیت ہے ؟‘‘

’’مصوری اور  مطالعہ میرے محبوب ترین مشغلے ہیں ‘‘’’خوب!یہ تو بڑی اچھی بات ہے ‘‘کیا اچھی بات ہے ؟

’’یہی کہ آپ مصور ہیں مجھے مصوری بہت پسندہے خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو‘‘۔  

’’دنیا میں ہزاروں لوگوں کی یہHobbiesہوں گی اور  یہ مل بیٹھنے کی بات آپ نے کیا کہہ دی ؟‘‘’’بلال صاحب دوانسانوں کے خیالات میں ہم آہنگی ہو تو دوستی خوب نبھتی ہے اب تو آپ سے ملنے کی خواہش کچھ سوا ہو گئی ہے کہئے آپ سے کب ملاقات ہو سکتی ہے ؟‘‘’’فردوس صاحبہ دو اجنبی اور  مخالف جنس کا ملنا جلنا ٹھیک نہیں ہے یہی بہت ہے کہ ہم فون پر بات کر لیتے ہیں ‘‘

’’یہ بڑی عجیب بات ہے کہ آپ اس قدر تعلیم یافتہ اور نئے زمانے کی پیداوار ہوتے ہوئے خیالات اتنے پرانے رکھتے ہیں میری سمجھ میں نہیں آیا کہ ایسا کیوں ہے ؟‘‘

’’کیا روشن خیال وہی لوگ ہو تے ہیں جو آزادی کی مالا گلے میں ڈالے گلی گلیگھومتے ہیں کیا آزادی کا یہ مطلب ہے کہ مرد وزن بلا جھجک جب چاہیں جہاں چاہیں ملا کریں بی بی کیا آپ اخبار نہیں پڑھتیں ؟ اگر پڑھتی ہیں تو آپ کو بے شمار مثالیں ملی ہوں گی کہ یہ آزادی ہمیں کہاں لے جا رہی ہے اور  کیسے کیسے واقعات ہمارے سامنے آ رہے ہیں کیا کیا تماشے ہو رہے ہیں ‘‘

’’افوہ!آپ تو ہمارے مولویوں کی زبان بولنے لگے جوسال دو سال میں کسی نہ کسی مغربی ملک کا دورہ کرتے ہیں چھوٹی بڑی مسجدوں یا کھلے میدانوں میں وعظ بیان کرتے ہیں یہ لوگ صرف مسلمانوں کوہی اسلام کی باتیں بتاتے ہیں مغربی ممالک کو ہمارے لئے بڑا خطرہ بتا تے ہیں دین کے ان رہنماؤں نے کبھی عیسا ئیوں ’ یہودیوں اور  دیگر مذاہب کے لوگوں کو اسلام کی طرف لا نے کی کوشش نہیں کی لمبی چوڑی تقریریں کر کے ہزاروں لاکھوں  ڈالر یا پونڈ چندہ جمع کرتے ہیں اور  خدا جا نے اسے کس مصرف میں لاتے ہیں کسی نے بوسنیا،  کوسوؤ، چیچنیا اور  افریقہ وغیرہ جا نے کی کوشش نہیں کی وہاں مسلم قوم کی کیا حالت ہے کسی نے جاننے کی ضرورت نہیں سمجھی کیوں ؟دور کیوں جائیں خود اپنے ہی ملک میں مسلمان کیا صحیح راستے پر ہیں ؟کیا دین کے رہنماؤں کا یہی کام ہے ؟ علمائے دین ہی دین کے پا سباں نہیں ہیں تو ہم دنیا دار لوگ دین دار کیسے بن سکتے ہیں ؟کوئی صحیح رہنما نہیں ہے تو ہم کیوں کر صحیح راستے سے منزل مقصود پر پہنچ سکتے ہیں ؟‘‘

’’واہ بھئی آپ نے اتنی لمبی چوڑی تقریر کر ڈالی!آپ کو تو لیڈر بننا چاہئے تھا یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ دینی رجحان تو رکھتی ہیں لیکن ‘‘۔۔۔  ’’اب یہ بتائیں آپ کب مل رہے ہیں مجھے آپ سے ملنا ہے بس!آپ کے روبرو بیٹھ کر ڈھیرساری باتیں کرنی ہیں ‘‘’ ’ دیکھئے ملنے کے معاملے میں ضد نہ کریں ورنہ آپ کومایوسی ہو گی‘‘’ ’ کیسی ما یوسی میں سمجھی نہیں ؟‘‘

’’میں پھر کبھی سمجھا دوں گا اب ہمیں فون رکھنا چاہئے آج کا فی طویل گفتگو رہی‘‘’’آپ جب تک ملیں گے نہیں میں آپ کو یونہی بور کرتی رہوں گی‘‘

 ’’آپ جسے بور کرنا کہہ رہی ہیں یہ بو ریت میرے لئے عین راحت ومسرت ہے اچھا خدا حافظ اپنا خیال رکھئے مجھے آپ کے فون کا انتظار رہیگا‘‘

بلال احمد کا دل عجیب انداز میں دھڑ ک رہا تھا دل کی ویران اور  بنجر زمین پر کونپلیں پھوٹ رہی تھیں کیا ان کونپلوں پر پھول بھی کھلیں گے ؟ یہ پھول کس کے نام کے ہوں گے ؟ کیا فردوس بہار بن کر اس کے ویرانے میں قدم رکھ سکتی ہے ؟ اگر ایسا یہ نہ ہو سکا تو کیا ہو گا وہ سوچ رہا تھا اسے فردوس کے فون کا انتظار کیوں رہتا ہے یہ کو نسا جذبہ تھا جو اسے بے چین و بیقرار کئے ہوئے تھا دل میں ایک انجانی کسک کرو ٹیں لے رہی تھی۔  بہت سارے دن یونہی گزر گئے۔  ایک دن فردوس نے ضد کی کہ وہ بلال سے فوراً ملنا چاہتی ہے کوئی ضروری بات کہنی تھی بلال نے فون پر بتا نے کو کہا لیکن وہ انکار کرتی رہی آخر بلال نے سوچا کہ چلو اس دشمن جاں سے مل ہی لیں گے جس نے دن کا چین راتوں کی نیند حرام کر رکھی ہے اگر کچھ بات بنتی ہے تو بنائیں گے ورنہ یہی پہلی ملاقات آخری بھی ہو سکتی ہے۔  دونوں نے مقام اور وقت کا تعین کیا ہوٹل ’’شان باغ‘‘ٹھیک پانچ بجے فردوس نے اپنی پہچان کے لئے بتا یا کہ اس کے ہاتھ میں سا حرکی ’’تلخیاں ‘‘۔  ہو گی بلال نے ہو ٹل پہنچ کر دیکھا فر دوس ہال کے آخری سرے پر بیٹھی تھی اسے دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا پر کشش نا ک نقشہ پتلے گلابی ہونٹ جن پر خفیف سی مسکراہٹ تھی جو اس کی دلی کیفیت کی غمازی کر رہی تھی۔  بلال احساس کمتری میں مبتلا ہو گیا وہ تذبذب میں تھا کہ اتنی پیاری سی لڑکی سے ملے یا نہ ملے اگر ملتا ہے تو دوستی کا یہ شیشے جیسا نازک رشتہ ٹوٹ سکتا ہے اس کے کا لے ر نگ کے باعث وہ نفرت کر بیٹھی تو کیا ہو گا ؟ نہیں ملنا ہے تو اس کی ناراضگی کیا رنگ دکھائے گی ؟ وہ ان ہی خیالوں میں الجھ رہا تھا کہ اچانک ایک اوباش قسم کا لڑکا فردوس کے ٹیبل کی طرف بڑھا اور کچھ کہتے ہوئے نہایت بد تمیزی سے اس کے ہاتھ سے کتا ب لیکر دیکھنے لگا فردوس کھڑی ہو گئی اور  ڈانٹتے ہوئے اس کے ہاتھ سے کتاب چھین لی بلال تیزی کے ساتھ وہاں پہنچا اور  اس لڑکے کا گریبان پکڑ لیا دونوں میں ہا تھا پائی شروع ہو گئی کچھ اور  لڑکے بھی بلال پر ٹوٹ پڑے گٹھے ہوئے جسم اور قد آور کا لے سے بلال کو بے جگری سے لڑتے ہوئے فردوس حیرانی سے دیکھ رہی تھی اسی دو ران میز الٹ گئی جو فر دوس کے پاؤں پر گر پڑی اس نے ایک چیخ ماری اور  گر گئی مجمع پیچھے ہٹنے لگا بلال نے میزکوسیدھا کیا فردوس کے پاؤں سے خون بہہ رہا  تھا وہ بے ہوش ہو چکی تھی بلال نے اسے اپنی بانہوں پر اٹھا لیا اور تیزی سے باہر کی جا نب جا نے لگا کسی نے اپنی کار میں بیٹھنے کو کہا فر دوس کو قریبی دوا خانہ پہنچا دیا گیا اس کے بیگ میں تلاش کرنے پر چھو ٹی سی ڈائری مل گئی پہلے صفحہ پر اس کا نام اور  نمبر مل گئے گھر پر فون کیا اس کے گھر والے آدھے گھنٹے کے اندر پہنچ گئے بلال نے سر سری واقعہ بتا دیا فر دوس کا انگوٹھا ٹوٹ کر الگ ہو گیا تھا جو صرف جلد کے ساتھ جھول ر ہا تھا اس کا آپریشن فوراً کیا گیا اسے کئی دن دوا خانہ میں رہنا پڑا بلال ہر روز اس کے گھر فون کر کے کیفیت لیتا رہا گھر والے اس کی ہمدردی اور  فکر مندی سے بے حد متاثر تھے فر دوس کو بتا یا کہ کسی مشتاق نامی لڑکے نے اسے دوا خانہ پہنچا یا اور  ہر روز اس کی کیفیت لیتا ہے۔  بلال نے اپنا نام مشتاق بتا یا تھا فر دوس کو یاد آیا کہ آوارہ لڑکا جب اس سے الجھ رہا تھا تب ہی ایک کا لا کلوٹا اونچے قد کا لڑکا قیمتی کپڑوں میں ملبوس اچانک کہیں سے آ گیا اور  تین چار غنڈوں کی پٹائی کرنے لگا جیسے کسی ہندی فلم کا منظر تھا اور  وہ محظوظ ہو رہی تھی کہ میز اس کے پاؤں پر گر پڑی تھی شاید یہ اسی لڑکے کا ذکر ہے فردوس ڈسچا رج ہو کر گھر آئی اور  بلال کا نمبر ملا یا ہمیشہ کی طرح بلال نے فون اٹھایا ’’اسلام علیکم بلال ہئیر!‘‘بلال نے دھڑ کتے دل سے کہا ’’آپ جیسے جھوٹے اور  دھوکے باز شخص کو میں نے دوست جا نا یہ میری نا دانی تھی میں نے یہ کہنے کے لئے فون ملا یا کہ آپ آئندہ کبھی کسی سے دوستی نہ کریں ورنہ اس کی بھی ٹانگ ٹوٹ جائے گی‘‘بلال نے فر دوس کی ناراضگی سے بچنے کیلئے جھوٹ کا سہارا لیا ’’فردوس صاحبہ آپ نے تصویر کا ایک ہی رخ دیکھا اور  بدگمان ہو گئیں نہ آنے کی وجہ تو پوچھی ہوتی! میں متعینہ مقام پر پہنچنے کے لئے گھرسے چلا تو راستے میں ایک اسکوٹر نے ٹکر دے دی اور میں کئی دن تک گھر ہی پر پڑا آپ کے فون کا انتظار کرتا رہا آسمانی سلطانی کوئی آفت انسان کو کسی وقت بھی گھیر سکتی ہے آپ نے مجھے اپنا نمبر تو نہیں دیا تھا کہ میں اطلاع کرتا کل سے میری طبعیت سنبھلی ہے آپ بتائیں کیسی ہیں بہت دن بعد فون کیا کس کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہے ؟ ‘‘بلال نے انجان بنتے ہوئے پوچھا فردوس نے مختصر اسا را واقعہ بتا نے کے بعد کہا’’میں سوچ میں ہوں کہ وہ فرشتہ صفت کون تھا اور  تعجب تو یہ ہے کہ وہ ہر روز میری کیفیت لیتا رہا ‘‘فرد وس صاحبہ یہ میرے نصیب کی بات ہے کہ انجانے میں آپ کو میری طرف سے انتہائی تکلیف اٹھانی پڑی میں شرمندہ ہوں کہ آپ کے کسی کام نہ اس کا ملاقات کی آرزو دل ہی میں رہ گئی ویسے آپ کم از کم اب تو بتا دیں وہ کونسی ضروری بات تھی جو آپ مجھے سنانا چاہتی تھیں ؟وہ سنانا شاید اب ضروری نہیں ہے دراصل والدین میری شا دی کی بات چلا رہے تھے مجھے کسی اجنبی کے گلے کا ہار بننا گوارا نہ تھا سومیں آپ کا عندیہ لینا چاہتی تھی اور  اب وہ بات باقی نہیں رہی کیونکہ میں لنگڑی ہو چکی ہوں اس پوزیشن میں لڑکے والے خود انکار  کر دیں گے ’’یہ تو بہت اچھا ہو ا۔  کہ۔۔۔۔۔۔  ‘‘بلال کے منہ سے بے اختیار نکل گیا ’’جی کیا اچھا ہو ا؟‘‘

یہی کہ آپ کسی اجنبی کے گلے کا ہار بننے سے بچ گئیں ؟فر دوس خاموش تھی ’’میں نے آپ سے کچھ پوچھا ہے ؟!آپ نے چپ سادھ لی ؟ ‘‘’’بلال صاحب۔  میں آپ کے دکھوں کو سمیٹنا چاہتی تھی آپ کی تمام تر محرومیوں اور  نا تمام آرزوؤں کو سینے سے لگا لینا چاہتی تھی آپ کو اداسیوں کے دیا رسے نکال کر تنہا ئیوں کے حصار کو تو ڑ دینا چاہتی تھی اور  آپ کے قدم سے قدم ملا کر زندگی کا سفر پورا کر نا چاہتی اور  آپ کے ساتھ قدم ملا کر زندگی کا سفر پورا کر نا چاہتی تھی لیکن اب۔  اب تو خود میں ایک شئے نا کا رہ بن گئی ہوں ‘‘فر دوس کا گلا رندھ گیا۔

’’فردوس آپ نے یہ کیا کہہ دیا میں خود آپ کے قابل نہیں ہوں آپ نے ابھی ابھی جو کچھ کہا ہے یہ میرے لئے بہت کا فی ہے میں اپنی باقی زندگی اس احساس کے ساتھ گزار سکتا ہوں کہ میرے لئے کسی کے دل میں تھوڑی سی جگہ ہے کوئی مجھے اپنا سمجھتا ہے میں ہرگز آپ جیسی لڑکی کے لائق نہیں ہوں آپ کے والدین جہاں آپ کی شادی کرنا چاہیں بخوشی کر لیں اسی میں آپ کی بھلائی ہے ‘‘۔  

’’ہاں میں سمجھ رہی ہوں اس انکساری اور مشورہ کی آڑ میں آپ خود کو بچا نا چاہتے ہیں ایک لنگڑی سے شادی کر نا حماقت ہی تو ہو گی‘‘۔ ’’خداراایسا نہ کہیں فردوس اب آپ کے آگے حقیقت کا انکشاف کر نا ضروری ہو گیا ہے سچ تو یہ ہے کہ میرا رنگ بہت کا لا ہے میرا رشتہ میرے رنگ و روپ کی وجہ سے آج تک کہیں طئے نہ پا سکا اس لئے آپ میرا خیال چھوڑ دیں ‘‘۔  بلال کی آواز بھّرا گئی’’بلال صاحب مزید کچھ کہوں تو آپ یہی سوچیں گے کہ ایک بلا خوامخواہ گلے پڑ نا چاہتی ہے حقیقت یہ ہے کہ انسان کی قدرو قیمت اس کے رنگ و روپ سے نہیں ہوتی یہ تو ظاہری اور  عارضی ہو تے ہیں کسی بھی خو بصورت انسان کی قدر نہیں ہوتی جب تک کہ اس کا کردار خو بصورت نہ ہو با کردار انسان کسی بھی دل میں اعلیٰ و ارفع مقام بنا سکتا ہے اب میں کبھی آپ کو ڈسٹرب نہیں کروں گی‘‘فردوس نے فون رکھ دیا۔  بلال ریسیور کو ہاتھ میں لئے گھور رہا تھا کہ جو کچھ اس نے سنا اسی فون پر سنا تھا یا کوئی خواب تھا۔  ایک تشنۂ آرزو کا خواب!! اس بات چیت کے دو دن بعد فردوس کے والدین بلال کے گھر آئے وہ اپنی معذور بیٹی کے لئے خوشیوں کی بھیک ما نگ رہے تھے بلال حیران تھا بار بار یہی کہتا رہا کہ وہ قطعی ان کی بیٹی کے لائق نہیں ہے لیکن ان بزرگوں کی تڑپ اور  اصرار پراسے ہاں کرنی پڑی لیکن شرط یہ رکھی کہ پہلے فر دوس کی رضا مندی لے لی جائے انھوں نے بتایا کہ وہ کسی بھی اعلی تعلیم یافتہ لڑکے سے شادی کرنے تیا رہے۔  ایک ہفتہ بعد فر دوس نے اپنی شادی کے رقعے دیکھے جن میں دولہا کا نام تھا۔

بلال احمد ایم اے ایم فل (سائیکالوجی)

*****