کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

شہ اور مات

افروز سیدہ


 ناخدا بے خود فضا خاموش ساکت موجِ آب!

اور  ہم ساحل سے تھوڑی دور پہ ڈوبا کئے

مختصر یہ ہے ہماری داستان زندگی

اک سکون دل کی خاطر عمر بھر تڑ پا کئے!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آگے چلنے کے لئے اس کے پاس کوئی مہرہ نہیں بچا تھا وہ روئی نہیں اپنی ہمت اور  ذہانت سے کام لیتے ہوئے غور کیا کہ آج گر اس نے یہ شادی کسی طرح رکو ابھی دی توکل کیا ہو گا کل کسی اور  طریقہ سے وہ شادی کرے گا ہو سکتا ہے تب وہ اس کے قریب بھی نہ رہے دوسری کا ہو کر کہیں کھو جائے کیا تقسیم شدہ مرد مخلص اور  انصاف پسند ہو سکتا ہے جبکہ وہ۔۔۔۔۔۔ !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 سرما کی انتہائی سرد رات تھی کمرہ ایر کنڈیشنڈ بنا ہوا تھا لیکن اس کی نس نس میں جیسے چنگاریاں سی بھر گئی تھیں۔  اسے اپنا وجود ایک بڑے خلا ء کے درمیان جھو لتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔  چاروں طرف سنا ٹا اور  ایک لا زوال ویر انی سی چھائی ہوئی تھی۔  آج تقدیر نے اپنا وہ فیصلہ سنادیا تھا جس کا اسے ڈر لگا ہوا تھا۔  اسے وہ تمام دلنشیں صحبتیں مسرت کے نشے میں ڈوبی ہوئی شا میں اور محبت کی خوشبو سے مہکتی راتیں یاد آ رہی تھیں جب شاہ زیب اور وہ ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے تھے آنکھوں میں ہر دم قوس قزح کے رنگ لہراتے رہتے۔  چار سال پہلے وہشاہ زیب کی دلہن بن کر اس گھر میں آئی تھی اس کی ماں کو گزرے ہوئے چند مہینے ہوئے تھے والد جلد از جلد اس کا گھر بسا کر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جانا چاہتے تھے۔  اس نے BA پاس کر لیا تھا چھو ٹی بہن اور بھائی کی تعلیم جاری تھی۔  شاہ زیب اپنی ماں کا اکلوتا لاڈ لا بیٹا تھا*BA کرنے کے بعد اپنا بزنس شروع کر چکا تھا۔  اب ماں کو بہو لا نے کی جلدی تھی وہ اپنی بھا نجی صفیہ کو بہو بنا نا چاہتی تھیں لیکن یونیورسٹی کے پہلے ہی سال وہ نازیہ کی نظروں کے تیر سے گھائل ہو چکا تھا۔  اور ماں سے کہہ دیا تھا کہ وہ شادی کرے گا تو صرف ناز یہ سے ورنہ کسی سے نہیں کرے گا ماں کو حامی بھرنی پڑی۔ اس طرح نازیہ اُس کی دلہن بن کر آ گئی سسرال میں قدم رکھتے ہی اس نے گھر کی ذمہ داری یوں سنبھاللی جیسے وہ ہمیشہ سے اسی گھر میں رہتی آئی ہو۔  

شاہ زیب دن بھر کی محنت کے بعد تھکا ہارا جب گھر آتا نازیہ کی سیاہ زلفوں میں اپنا منہ چھپا کر سکون محسوس کرتا دنیا جہاں کو بھول جا تا۔  اپنے کمرے میں آنے سے پہلے ماں کے پاس دس پندرہ منٹ بیٹھنا اس کا معمول تھا اور ماں کے لاڈ لے کی ناز برداری کرنا نازیہ کا معمول تھا۔  ہفتہ کی رات وہ خاص اہتمام کرتی اپنے آپ کو اس کی را ہوں میں بچھا دیتی اس کی من پسند ڈشس بنانے کے بعد گلاب کے پانی سے بہت دیر تک غسل کرتی اس کی پسند کے کپڑے پہنتی پرفیوم چھڑ کتی۔  شاہ زیب کو بھی ہفتہ کے دن کا بے چینی سے انتظار رہتا وہ صبح سے ہی کاموں کو جلد از جلد نپٹانے کی کوشش کرتا اور وقتِ معمول سے پہلے ہی گھر پہنچ جاتا، نکھری ستھری کلی کی طرح کھلی کھلی سی عورت آنکھوں کی راہ مرد کے دل میں اتر جاتی ہے ،  یوں نازیہ شر اب دو آتشہ بن کر شاہ زیب کے اعصاب پر چھا گئی تھی۔  تین سال بعد اس کا سحر آج بھی پہلی رات جیساپر اسرار تھا دلفریب تھا۔  وہ آج بھی اس کے لیے گلا ب کی ادھ کھلی کلی تھی جس کی مسحو رکن مہک سے اس کی زندگی کے شب و روز معطر تھے۔  ہر وقت سرشاری اور مستی کا عالم تھا۔  وہ چاندنی تھی جو اس کے وجود کا احاطہ کیے ہوئے تھی۔  تین سال کیسے گزر گئے پتہ ہی نہ چل سکا۔  

ایک دن نازیہ نے دیکھا شاہ زیب پڑ وس والے بچوں کو گھر لے آیا ہے۔  سر خ وسفیدگول مٹول سے بچے نازیہ کو بہت پیارے لگے۔  شاہ زیب ان کے ساتھ کھیل ر ہا تھا۔  شاہ زیب کی ماں بھی انھیں دیکھ کر پھولی نہیں سما رہی تھیں اچانک نازیہ کو اپنے دل میں کا نٹا سا چبھتا ہو امحسوس ہو ااس کے چہرے پر تاریک سا یہ سا آ کر گزر گیا۔  اسے اپنی محرومیوں کا احساس ہو اوہ اپنے آپ کو مجرم سمجھنے لگی اس کی ماں نہیں تھی جسے وہ اپنی الجھن بتا سکتی بہن بھائی اس سے چھوٹے تھے۔  والد سے دبے الفاظ میں اپنی الجھن بتائی دعا کرنے کو کہا اپنے طور پر علاج بھی کر وایا دعا اور دوا کے سہارے آسو یاس کے در میان ایک سال اور  گزر گیا۔  اس دو ران ماں بیٹے میں اکثر بات چیت ہوتی رہتی۔  شاہ زیب اس سے کھنچاکھنچاسارہنے لگا تھا نازیہ مقدور بھر کوشش کرتی کہ وہ اسے زیادہ سے زیادہ خوش رکھ سکے اسے اپنی محبت کے ساغر  نت نئے انداز سے پلا تے نہ تھکتی اس کے اشاروں پر نا چتی رہتی وہ اکثر آدھی رات کو اسے جگاتا کبھی پانی مانگتا کبھی چائے کی فرمائش کرتا کبھی نیند اچٹ جانے پر دو دو گھنٹے اس کے ساتھ چیسChessکھیلتا رہتا اور  مات دے کر خوش ہوتا۔  نازیہ خوشی خوشی اس کی ہر فرمائش پوری کرتی اور  پیشانی پر بل تک نہیں آتا۔  صبح اسے بنا سنوار کر رخصت کرتی اور  کچھ دیر کے لیے سوجاتی گیارہ بارہ بجے اٹھ کر اپنی روٹی کی فکر کرتی۔  سال بھر پہلے ساس نے اس کا ہانڈی چولہا الگ کر دیا تھا۔  اب ہر آئے گئے سے اس نے بلند آواز میں کہنا شروع کر دیا تھا۔  

’’میری بہومنحوس ہے جانے کون سی بری گھڑی تھی جب میں اسے بہو بنا لائی۔  دن چڑھے تک سوتی ہے نہ کبھی نماز نہ قرآن ایسوں کو ہی اللہ نامراد رکھتا ہے۔  ان کی جھولی ہمیشہ خالی رہتی ہے۔  ‘‘

وہ کیسے کہتی کہ ان ہی کے لاڈ لے کو خوش رکھنے کے لئے وہ اپنا آپ بھلا بیٹھی ہے اس کی خوشی کیلئے راتوں کو جاگتی ہے۔  ہر دوسرے تیسرے دن ایک ہی بات سنتے سنتے وہ حوصلہ ہارنے لگی تھی۔  دعا اور  دوا سے تھک کرکسی معجزہ کی امید میں جی رہی تھی۔  امید جو موہوم تھی اور  شوہر مرد تھا دونوں ہی اعتبار کے قابل نہیں تھے وہ بے بس تھی اسے محسوس ہوتا جیسے وہ ایک دیا ہو جو تیزو تند آندھیوں کے رخ پر رکھ دیا گیا ہو۔  وہ اندرسے ٹوٹ رہی تھی۔  ان ہی دنوں اس کے بھائی نے آ کر بتایا کہ اس کے والد پر فالج کا حملہ ہوا ہے طبیعت بہت خراب ہے وہ چھوٹی بہن کی شادی جلد از جلد کرنے کے لئے بضد ہیں اور  بتایا کہ کچھ دنوں سے ایک سلسلۂ پیامچل رہا تھا حالات کے پیش نظر لڑکے والے بھی تیار ہیں بس نازیہ کا انتظار ہے۔  وہ بے حدفکر مند ہو گئی شاہ زیب کا شدت سے انتظار کر رہی تھی وہ آیا تو اس نے بتا یا۔  

’’شاہ جی!بابا کی طبیعت خراب ہے فالج کا حملہ ہوا ہے اور  وہ ناظمہ کی شادی جلد از جلد کر دینا چاہتے ہیں اگر آپ کو فرصت ہو تو دونوں اکٹھے چلتے ہیں۔  ‘‘نازیہ نے التجا آمیز لہجے میں کہا دکھ اور  پریشانی اس کے چہرے سے عیاں تھی شاہ زیب نے رکھائی سے کہا۔  

’’ٹھیک ہے تم خود ہو آؤ ، اگر ضرورت ہو تو مجھے فون کر دینا۔  ویسے میں صبح آفس جاتے ہوئے آ جاؤں گا۔  ‘‘

یہ پہلا موقع تھا جب نازیہ رات شاہ زیب کے قریب نہ تھی وہ علی الصبح جاگ گیا ماں نے ناشتہ کرایا اور  گویا ہوئی

’’شاہ زیب برسوں بعد آج صبح جلدی جاگے ہو ، تم نے راتوں کو جاگ جاگ کر کیا حالت بنا لی ہے ؟‘‘

’’کیا ہوا ماں میں تو بھلا چنگا ہوں ‘‘

’’تیری اس سونی زندگی نے مجھے رو گی بنا دیا ہے بیٹا!تم کیا جانو اولاد کے دکھ سے ماں کتنی دکھی ہو جاتی ہے ‘‘

’’تم نے یہ کیسے سمجھ لیا ماں کہ میں دکھی ہوں میں تو بہت خوش رہتا ہوں ‘‘

’’ہائے کیا خوش رہتے ہو بچے کے بغیر بھی کوئی زندگی ہے ؟ ادھوری عورت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہو بچے زندگی میں بہار بن کر آتے ہیں ان کے معصوم قہقہے رگوں میں نیا خون پیدا کرتے ہیں ان کے وجود سے زند گی کا حسن نکھر آتا ہے ‘‘

آج ماں نے شاہ زیب سے کھل کر بات کی اور  کچھ اس اندازسے رو دھو کر پریشان کر دیا کہ وہ سوچ میں پڑ گیا کچھ دیر بعد کہا

’’امی اس دنیا میں ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو اولاد کی خوشی پانے سے محروم ہیں کیا وہ زندہ نہیں ہیں ؟

’’تم سمجھتے کیوں نہیں دوسروں میں اور  تم میں بہت فرق ہے تم میری اکلوتی اولاد ہو تمھارا نام لیوا بھی تو کوئی ہونا چاہیے۔  صفیہ آج تک تمہارے نام پر بیٹھی ہے تمھاری خالہ میرے ایک اشارے کی منتظر ہے کیا تم مجھے پوتا پوتی کی خوشی دیکھنے نہیں دو گے انھیں گود کھلا نے کی آرزو میں برسوں گزار دیے ہیں اور  کب تک صبر کروں ؟ کیا تمھیں بچوں کی آرزو نہیں ہے کیا تمھیں اپنے بڑھا پے کا سہارا نہیں چاہیئے ؟‘‘

’’امی مجھے سونچنے کے لئے وقت دیجئے۔  ‘‘شاہ زیب نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا۔  

’’اس میں وقت لے کرسوچنے کی کیا بات ہے ایک بانجھ عورت کے ساتھ زندگی کا سفر کیسے پورا کرو گے ؟ قدرت نے عورت کو تخلیق کی صلاحیت دی ہے اور  تخلیق کے مراحل سے گزرنے کے بعد ہی عورت مکمل ہوتی ہے زندگی میں نیا حسن و نکھار پیدا ہوتا ہے۔  ‘‘

’’ٹھیک ہے میری امی آپ کو جلد ہی جواب دوں گا‘‘

’’مجھے شام تک جواب چاہئے ورنہ میں اپنی بہن کے پاس چلی جاؤں گی پھر تم اپنی رانی کے ساتھ رنگ رلیاں منا تے رہنا۔  ‘‘شاہ زیب دن بھر آفس میں سوچتا رہا آخر اس نے فیصلہ کر لیا کہ ماں سچ ہی کہتی ہیں بچوں کے بغیر زندگی کتنی پھیکی پھیکی سی ہے اس کے وہ دوست جن کی شادیاں اس کی شادی سے کچھ پہلے یا کچھ بعد ہوئی تھیں سب دو دو تین تین بچوں کے باپ تھے۔  وہ تو نازیہ کے حسنو جوانی کے نشہ میں اس قدر مد ہوش تھا۔  کہ اسے بچوں کی کمی کا احساس ہی نہ ہو سکا تھا۔  ان ہی سوچوں نے اسے اداس کر دیا۔  وہ نازیہ کے والد کو دیکھنے نہ جا سکا۔  وہ نازیہ جس نے زندگی کے چارسال اس کی خدمت اور  خوشیوں کی نذر کر دئے تھے اپنی ایک کمزوری ایک محرومی کے باعث وہ شرمندہ سی رہتی شاہ زیب جہاں پاؤں رکھتا وہاں وہ اپنا سر رکھ دیتی تھی۔  آج اس کا کیا صلہ ملا ؟ وہ اس کے بیمار باپ کو دیکھنے کے لئے چند قدم چل کر نہ اس کا۔  دن بھر وہ انتظار کرتی رہی لیکن وہ تو ماں کے سامنے بیٹھا اپنے مستقبل کا پروگرام بنا رہا تھا تصورات کی دنیا میں بچوں سے کھیل رہا تھا۔

نازیہ نے بہن کی شادی تک والد کے گھر رہنے کی اجازت مانگی تو اس نے بخوشی اجازت دے دی اپنی سونی راتوں کا ذکر تک نہیں کیا نہ ہی اسے جلدی واپس آنے کہا تھا۔  نازیہ کچھ سوچ کر فکر مند ہو گئی تھی لیکن باپ کی تیمار داری اور  بہن کی شادی کی تیاری میں اس قدر مصروف ہو گئی تھی کہ اسے زیادہ کچھ سوچنے کا وقت ہی نہ مل سکا۔  وہ اپنے والد کے گھر رہنے کے دوران ہی اس بات کو محسوس کر چکی تھی کہ شاہ زیب راتوں کو دیر سے گھر آنے لگا تھا دوستوں کے ساتھ کہیں خوش گپیوں میں مگن رہتا کبھی کسی کے ساتھ پکچر چلا جاتا چار سالوں میں اس نے پیچھے پلٹ کر دیکھا ہی نہیں تھا کہ زمانے کتنا بدل گیا ہے وقت بہت آگے نکل چکا ہے۔  وقت نے رک جانے والوں کا کب انتظار کیا ہے نئی دنیا اسے بھلی لگی تھی۔  

نازیہ گھر آتے ہی صفائی میں مصروف ہو گئی پکوان کیا ، شاہ زیب کے کپڑے پریس گئے جوتوں کو پا لش کر کے چمکا یا اور  پھر خودسج سنورکر سراپا انتظار بن گئی وہ حسب معمول رات بارہ بجے کے بعد ہی گھر آیا کھا نا دوستوں کے ساتھ کھا چکا تھا کمرے میں قدم رکھا تو نازیہ کو دیکھ کر ٹھٹک گیا نازیہ تھی یا قیامت تھی وہ بھول گیا کہ اپنے مستقبل کے پروگرام کو قطعیت دے چکا تھا اپنے آپ کو چاندنی کے حصار میں قید کر لیا۔  نازیہ نے بھی پیار محبت کی ایسی بارش کی کہشاہ زیب کا رواں رواں بھیک گیا لیکن اس نے صاف صاف محسوس کیا کہ تین ہفتوں بعد ملنے پر بھی اس کے اندر وہ گرم جوشی اور  بے خودی نہ تھی جواس کی طبیعت کا خاصہ تھی حالانکہ آج نازیہ نے جنوں سا مانی کے سارے محاذ کھول دیئے تھے۔  

شاہ زیب صبح جاگا تو سوچوں کے سمندر میں غرق تھا۔  سوچ رہا تھا کہ نازیہ کو اپنے پروگرام  کے بارے میں کس طرح بتائے اور نازیہ اسی کی طرف سے کچھ سننے کی منتظر تھی وہ چور نظروں سے دیکھتی ہوئی اپنے کام میں مصروف تھی۔  ناشتے کے بعد شاہ زیب کو چائے کی چسکیاں لیتا ہوا اطمینان سے بیٹھا دیکھا تو وہ چونک گئی وہ کسی بم کے پھٹنے کا انتظار کر رہی تھی۔  کہ شاہ زیب نے اسے بیٹھنے کے لئے کہا اور  مخاطب ہوا۔  

’’نازیہ میں نے دوسری شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے میں سمجھتا ہوں تمھیں کوئی اعتراض نہ ہو گا ؟‘‘

 نازیہ کو آج معلوم ہوا کہ مرد کی رات اور  صبح میں کتنا فرق ہوتا ہے۔  

’’یہ میں کیا سن رہی ہوں شاہ جی ؟ تم مجھ سے مذاق تو نہیں کر رہے ہو نا ؟‘‘اس نے بمشکل مسکراتے ہوئے کہا۔  

’’نہیں میں مذاق نہیں کر رہا ہوں میں نے تمھیں کبھی کوئی تکلیف نہیں دی تھی لیکن یہ قدم اٹھا نا میرے لئے ضروری ہو گیا تھا گو کہ تم نے بھی میری ہر خواہش کا خیال رکھا لیکن میری وہ خواہش پوری کرنا تمھارے بس میں نہیں جس کا میں نے کبھی اظہار نہیں کیا وہ کیا ہے تم بھی اچھی طرح جانتی ہو۔  اس لئے تمھیں تکلیف نہیں ہونی چاہئے۔  ‘‘شاہ زیب کے لہجے میں اجنبیت تھی۔  

’’شاہ جی!کیا میری چاہتوں اور  خدمتوں میں کوئی کمی رہ گئی تھی جس کا یہ صلہ دیا ہے میں چند دن کے لئے تمھاری نظروں سے کیا دور ہوئی تم نے مجھے دل سے ہی دور کر دیا اور  دوسری شادی کا پروگرام بنا بیٹھے ؟ میں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میرے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ ہو گا ‘‘۔

’’نازیہ میں نے تمھیں دل سے دور نہیں کیا نہ زندگی سے دور کرنا چاہتا ہوں میں تمھیں ہمیشہ اپنے ساتھ رکھوں گا لیکن صرف چاہتوں کے سہارے تو زندگی نہیں گزر سکتی ایک بچہ نہ ہونے کی خلش ہمارے بیچ خلیج بن گئی ہے اور  میں اس خلیج کو پا ٹنا چاہتا ہوں کیا تمھیں میری اولاد کو پا کر خوشی نہیں ہو گی اگر وہ دوسری کے بطن سے پیدا ہو تو کیا ہوا میرا بچہ کیا تمھارا نہیں ہو گا مجھے امید ہے تم اس خلیج کو پاٹنے میں میرا ساتھ دو گی‘‘

واہ تمھاری سادگی کی داد دینی پڑے گی میرے گلے پر چھری پھیر نے کے لئے میری ہی رضا مانگتے ہو۔  میری قبر میرے ہاتھوں کھدواؤ گے۔  اور  اس پر چراغاں کرو گے ؟

’’نازیہ تم اچھی طرح جانتی ہو میں تمھاری خاطر اپنی ماں کو آج تک ٹا لتا آیا ہوں تمھاری چاہت میں کھو کر ماں کے دل کو دکھاتا رہا ہوں ایسا نہ ہو کہ ہمیں ان کی بدعا لگ جائے اور  ہم کہیں کے نہ رہیں۔  انھوں نے اور  میں نے آج تک صبر کیا دل بڑا کیا اب فراخ دلی سے کام لیتے ہوئے تمھیں میرا ساتھ دینا ہو گا یہ بھی تمھاری محبت کا ایک ثبوت ہو گا ایک دو بچے ہونے کے بعد تمھیں خود احساس ہو جائے گا کہ تمھارا احتجاج نا واجبی تھا میں نے امی کو زبان دے دی ہے انھوں نے تیاری بھی کر لی ہے۔ ‘‘

نازیہ گم صم تھی شاہ زیب نے کہا ’’دیکھو نازیہ انسان کو وقت کے ساتھ چلنا چاہئے۔  پرانی باتیں بھول جاؤ اب تمھارے احتجاج سے ہمارا فیصلہ نہیں بدلے گا سوچ لو۔  تم پڑھی لکھی ہو زمانے کے نشیب و فراز دیکھ رہی ہو وسیع القلبی سے کام لینے میں ہی تمھاری بھلائی ہے یہی کیا کم ہے کہ میں تمھیں اپنی زندگی سے الگ نہیں کر رہا ہوں تم کل بارات کے ساتھ چلو گی اور  نئی دلہن کو اپنے گھر لاؤ گی ‘‘۔

نازیہ کو مات ہو چکی تھی آگے چلنے کے لئے اس کے پاس کوئی مہرہ نہیں بچا تھا۔  وہ روئی نہیں بلکہ اپنی ہمت اور  ذہانت سے کام لیتے ہوئے غور کیا کہ آج اگر اس نے یہ شادی کسی طرحرکوا بھی دی توکل کیا ہو گا کل کسی اور  طریقہ سے وہ شادی کرے گا ہو سکتا ہے تب وہ اس کے قریب بھی نہ رہے دوسری کا ہو  کر کہیں کھو جائے ایسی صورت میں وہ اسے مکمل طور پر کھودے گی کیا تقسیم شدہ مرد مخلص اور  انصاف پسند ہو سکتا ہے۔  جبکہ وہ نظروں سے دور اور  گھر سے بھی دور ہو قدرت کے فیصلے کے ساتھ انسان کو سمجھوتہ کرناپڑتا ہے اس نے بھی سمجھوتہ کر لیا اور  کل کے آنے والے آندھی طوفان کیلئے اپنے آپ کو تیار کرنے کی کوشش کرنے لگی۔  

 دو سرے دن خاندان کے کچھ لوگ جمع ہو گئے تھے شاہ زیب اور  اس کی ماں خوش تھے 10بجے رات سب لوگ دلہن کولے کر گھر آ گئے۔  نازیہ نے اپنے ہاتھوں سے دلہن کی مسہری کو سجایا تھا گلاب کی پتیوں سے مسہری کی چادر پر شاہ زیب کا نام لکھا اس کی من پسند پر فیوم سے کمرے کو معطر کیا تاکہ نئی عورت کی آغوش میں سما کر بھی وہ اسے یاد کرتا رہے کچھ رسموں ریتوں کے بعد دلہن کو کمرے میں پہنچا دیا گیا نازیہ بھی سینے پر پتھر کی سِل رکھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔  اعتبار ہی نہیں آ ر ہا تھا کہ اس کا چاہنے والا شوہر اسی کے گھر میں دو سری عورت کے ساتھ رات گزارے گا۔  

وہ سرماکی انتہائی سردرات تھی لیکن اس کی نس نس میں چنگاریاں سی بھر گئی تھیں چاروں طرف سنا ٹا تھا اور  ایک لا زوال ویر انی سی چھائی ہوئی تھی۔  اسے ہر پل یہی آس تھی کہشاہ زیب خود با نہیں پھیلائے اسے پکارتا ہوا اس کے پاس آ جائے گا نیند تو آنکھوں سے کو سوں دور تھی ہلکی سی آواز پر بھی وہ چونک جاتی تھی۔  زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ دروازے پر زور کا کھٹکا ہوا نازیہ کا دل سینے کا خول توڑ کر باہر نکلنے کو تھا کھٹکے کے ساتھ ہی شاہ زیب نے اسے آواز دی تھی اس کا نام لے کر پکارا تھا۔  نازیہ فرط مسرت سے چلا اٹھی۔  

’’آ گئے شاہ زیب! مجھے یقین تھا تم آؤ گے۔  تم آؤ گے۔ تم میرے بغیر نہ رہ سکو گے آج کی شب میرے لئے انمول ہو گئی ہے میں اپنی جان دے کراس خوشی کی قیمت ادا کروں گی آ رہی ہوں شاہ جی تم میری طرف دو قدم آؤ گے تو میں تمھاری طرف سوقدم آؤں گی ‘‘اس کے جسم پر چیونٹیاں سی رینگ رہی تھیں اُسے تھوڑ اسابے چین کرنا چاہتی تھی اس لئے دوسرے کھٹکے پر دروازہ کھولا دیکھا تو شاہ زیب کے پیچھے اس کی ماں اور  خالہ کھڑی شعلہ بار آنکھوں سے تک رہی تھیں تینوں اندر آ گئے شاہ زیب نے کہا۔

’’نازیہ اس طلاق نامہ پر دستخط کر دو آج میں نے تمھیں طلاق دے دی ہے ‘‘نازیہ لرز گئی اپنے حواس مجتمع کر کے کہا ’’کیوں شاہ جی میں نے تمھاری رضا کے آگے اپنا سرتسلیم خم کر دیا تھا نا! تمھاری خواہش اور  فرمائش کوسر آنکھوں پر رکھ لیا تھا پھر یہ طلاق کیسی ؟ ساس نے دو قدم آگے بڑھ کر کہا

’’زیادہ باتیں نہ بناؤ خاموشی کے ساتھ دستخط کر دو کیوں کہ اس کی دلہن نے منہ دکھائی کا تحفہ تمھارا طلاق نامہ مانگا ہے اور  شاہ کی بھی یہی خواہش ہے ورنہ وہ اسے قریب نہ آنے دے گی‘‘شاہ اس کے سامنے ڈٹا کھڑا تھا نازیہ نے ساس کے ہاتھ سے قلم لے لیا۔  مات تواسے ہوہی چکی تھی دستخط کر کے اس نے زندگی کی بساط ہی الٹ دی۔  اس کے صبر کے بند ٹوٹ گئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔  

*****