کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

افروز سیدہ


غریبی توڑ دیتی ہے جو رشتہ خاص ہوتا ہے

پرائے بھی اپنے ہوتے ہیں جب پیسہ پاس ہوتا ہے

                 ۔۔۔۔۔۔                   

’’ابو!آپ جانتے ہیں میں نادرہ سے محبت کرتا ہوں ، میں نازیہ سے شادی کیسے کر سکتا ہوں ‘‘۔  ’’عادل بے و قو فی کی باتیں مت کرو آج  نازیہ پچاس سا ٹھ لا کھ کی ما لک ہے نادرہ کو سمجھا منا کر نازیہ سے شادی کر لو چند دن بعد ہم اسے پا گل ثابت کر کے پا گل خانہ بھیج دیں گے عیش و آرام کی زندگی گزارنے کے لئے محبت سے زیادہ دولت کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔  ‘‘

۔۔۔۔۔۔

ٹرین اپنی پوری رفتار کے ساتھ رواں دواں تھی۔  میں سونے کی کوشش کر رہی تھی لیکن نیند میری آنکھوں سے کو سوں دور تھی۔  ایم ایس سی فائنل کے امتحان قریب تھے میں تیاری میں تھی اور  اعلی نشانات سے پاس ہو نا چاہتی تھی میں چند دن قبل جب ماں سے ملنے گئی تھی تب بتا دیا تھا کہ ایک ماہ بعد وہ ان کے پاس آ جائے گی یا ملازمت ملنے کی صورت شہر ہی میں رہے گی اور  ماں کو اس کے ساتھ رہنا ہو گا پھر انھوں نے اچانک ٹیلی گرام دے کر کیوں بلوایا ہے وہ بیمار بھی نہیں تھی پھر۔۔۔   بار بار ٹیلی گرام دے کر کیوں بلوایا ؟۔۔۔  میں بار بار ٹیلی گرام پڑھتی رہی اس میں سوائے ایک لائن کے اور  کچھ نہیں تھا کہ ’’فوراً گاؤں پہنچو‘‘صبح پانچ بجے جیسے ہی ٹرین نے گاؤں کے پلیٹ فا رم کو چھو امیں بھا گتی ہوئی اسٹیشن سے با ہر نکلی اور  ایک ٹا نگے والے سے کہا کہ مجھے جلد از جلد حویلی پہنچا دے ماں نے مجھے دیکھا فوراً اپنے کمرے میں آئی انھوں نے سرگوشی میں کہا’’تم جلدی سے منہ ہاتھ دھو لو ناشتے کے بعد ضروری بات کرنی ہے ‘‘ماں کا

راز دارانہ لہجہ مجھے حیران کر گیا میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔ ’’ماں کچھ تو بتا ؤ بات کیا ہے مجھے اس طرح کیوں بلوا یا ہے ؟‘‘

’’تم ذرا فارغ ہو لو اطمینان سے بات کروں گی‘‘

آدھ گھنٹہ بعد ماں کہہ رہی تھی ’’ناز یہ میں نے تمہیں بتا یا تھا کہ تمہارے والد تمہاری دادی کی بیماری  کی وجہ سے دوسرے گاؤں میں رہتے ہیں۔  اور  مجھے ان کے ماموں کی خد مت کے لئے اس حویلی میں رہنے کہا ہے۔  تم بچپن سے یہی بات مجھ سے سنتی آ رہی ہو پند رہ سال گزر گئے۔  اس دوران تم نے بار بار  ضد کی کہ تمہیں ابو سے ملواؤں لیکن میں کچھ کہہ کر ٹال جاتی اور  تمہیں پڑھائی کے لئے شہر بھیج دیا تم اپنی اپنی پڑھائی میں سب کچھ بھول گئیں تمہیں کبھی کسی خط میں لکھ دیتی کہ تمہارے ابو آئے تھے تمہیں یاد کر رہے تھے وغیرہ۔  لیکن نازیہ وہ سب جھو ٹ تھا ایک ڈرا مہ تھا جو میں گز شتہ پند رہ سال سے اپنی زندگی کے اسٹیج پر کھیل رہی تھی اب اس کے ختم ہو نے کا وقت آ گیا ہے۔  آج تمہیں سب کچھ بتا نا ضروری ہے تا کہ مستقبل میں تمہیں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے تم اب دنیا کے سیاہو سفید سے واقف ہو اب ہمیں سوچ سمجھ کرکام کرنا ہے۔  ‘‘

’’ماں ہمیں کیا کرنا ہے ؟جلدی سے پوری بات بتاؤ نا‘‘

’’ا پنی بے چینی پر قابو رکھو اور  سنو۔  کئی سال پہلے تمہارے باپ نے مجھ پر ظلم کے پہاڑ توڑے تھے وہ ایک غیر مذہب عورت کے چکر میں اپنے خاندان سے منہ موڑ کر کہیں لا پتہہو گئے تمہارے چا چا اور  چا چی نے مجھ پر گندے اور  غلط الزامات لگا کر دادی کو بد ظن کر دیا۔  اسی بہانے انھوں نے مجھے گھر سے نکال دیا۔  تمہیں سینے سے لگائے میں در در کی خاک چھانتی رہی۔  اپنی زندگی میرے لئے اندھیری رات بن گئی اور  راستوں پر شیشے کی کرچیاں بکھری ہوئی تھیں اور مجھے چلنا تھا تمہارے لئے جینا تھا اگر تمہارا ساتھ نہ ہوتا تو میں اسی وقت اپنے آپ کو ختم کر لیتی۔  میں نے گاؤں چھوڑ دیا اور  یہاں ایک چھوٹے  سے اسکول میں ملازمت کرنے لگی گز ارہ مشکل سے ہوتا تھا اس لئے تمہیں یتیم خانہ میں شریک کرا دیا ایک دن میں تم سے مل کرواپس ہو رہی تھی راستے میں ندی کنارے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو پہیوں والی کرسی پر بیٹھا سمندرکی بیکراں فضاؤں میں کہیں کھو یا ہوا تھا۔  میں ایک طرف بیٹھی ہوئی انھیں غور سے دیکھ رہی تھی اُن کے پیروں پر قیمتی شال پڑی ہوئی تھی شاید وہ پیروں سے معذور تھے۔  ریت پر بھا گتے دوڑ تے بچوں کو دیکھ کر تمہاری جدائی مجھ پر شاق گزر رہی تھی میری آنکھوں سے گرم گرم پانی بہہ نکلا تب ہی اس بھلے مانس نے اپنے ڈرائیور کے ذریعہ مجھے بلوایا میں آنسو پونچھتی  ان کے قریب  گئی انھوں نے شفقت بھرے لہجہ میں کہا۔

’’بیٹی کیا بات ہے کچھ پریشان معلوم ہو رہی ہو مجھے بتا ؤ شاید میں تمہاری مدد کر سکوں ‘‘  میں  اپنے آنسوؤں پر قا بو پا نے کی کوشش کر رہی تھی انھوں نے پھر کہا  ’’تمہیں کسی طرح کی مدد کی ضرورت ہو تو بتا ؤ یہ میرا کارڈ ہے تم کسی بھی وقت میرے گھر پر اسکتی ہو ‘‘۔۔۔  ان کے شفقت بھرے انداز نے میری ہمت بندھائی میں دوسرے دن انکے دیئے ہوئے پتہ  پر پہنچ گئی اپنے بارے میں مختصراً بتا یا۔۔۔  انھوں نے پو چھا 

’’تم نے اپنا کیا نام بتا یا تھا ؟‘‘

’’جی نصیبہ‘‘

’’ہاں نصیبہ مجھے ایک ایسے ساتھی کی ضرورت ہے جو ہمہ وقت میرے ساتھ رہے میری طبعیت کے لحاظ سے میرا کام کرے دراصل میں بچپن ہی سے ایک چڑچڑ ا اور ضدی انسان رہا ہوں کیونکہ میں نے اپنے والدین کو ہمیشہ ایک دوسرے سے جھگڑ تے دیکھا ہے میری ماں ایک دولت مند گھرا نے کی ان پڑھ عورت تھی اپنی انا کی سیج پر بیٹھی ہوئی عورت اچھی بیوی نہیں بن سکتی اور  مرد ایک عورت کے غصہ اور  جہالت کو کب تک بر داشت کرتا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں میں علیٰحدگی ہو گئی ہمارے چھوٹے  سے خاندان کا شیرازہ بکھر گیا والد نے دو سری شادی کر لی اور  مجھے بورڈ نگ ہاؤ زمیں شر یک کرا دیا پھر کسی نے مجھے پلٹ کر نہیں دیکھا دوسرے بچوں اور  انکے والدین کو دیکھ کر میرے اندر ٹو ٹ  پھوٹ ہوتی رہتی اور  میرا چڑ چڑ اپن بڑھ جاتا۔

 بورڈنگ میں محبت اور  ہمدردی نام کی چیز نہیں تھی کوئی میرا اپنا نہیں تھا میں اپنے آپ کو تنہا پا کر کڑھتا رہتا۔  کہتے ہیں کہ وقت زخموں پر مر ہم رکھ دیتا ہے مجھے بھی شاید صبر آ گیا میں اپنی پڑھائی میں لگ گیا۔  وقت گز رتا رہا۔  پتہ نہیں  پھر کب سے والد نے آنا جاتا شروع کیا میری تعلیم ختم ہو گئی وہ مجھے گھر لے آئے و ہاں معلوم ہوا کہ سو تیلی ماں مر چکی ہے میں نے والد کا بزنس سنبھال لیا کچھ  عرصہ بعد انھوں نے زبردستی میری شادی کر دی میں شادی کرنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ مجھے عورت ذات سے نفرت ہو چکی تھی میں اپنی بیوی کو وہ پیار نہ دے سکا جس کی وہ حقدار تھی۔  پیار کے لئے ترسا ہوا ایک انسان کسی کو کیا پیار دے سکتا ہے۔  وہ بچوں کو لیکر امریکہ چلی گئی اب میں کوئی شادی کرنا نہیں چاہتا بس ایک ایسی سمجھدار عورت کو اپنے گھر میں رکھنا چاہتا ہوں جو میرے لئے اچھا کھانا پکائے میرا ہر کام اپنے ہاتھ سے کرے گھر کی ہر چیز پر نظر رکھے اور  میرے غصہ کو خندہ پیشانی سے بر داشت کر سکے میں معقول معاوضہ دینے کے لئے تیار ہوں ، مجھے دو دن میں تمہارا جو اب چاہئے ‘‘ میں نے جواب دیا ’’میں آپ کی خدمت کے لئے تیار ہوں ‘‘۔  جبار صاحب نے سب سے پہلے تمہیں اچھے اسکول میں شریک کروایا اسکول کے ہا سٹل میں تم بہت خوش تھیں میں بھی دلو جان سے جبار صاحب کی خدمت میں لگ گئی انکے ابرو کے اشارے پر اپنا سر تسلیم خم کر دیتی۔  اس طرح اس حویلی میں پند رہ سال  گزر گئے میرے بارے میں صرف بشیرا آپا جانتی تھیں کہ میں کہاں ہوں کیا کرتی ہوں کل بشیرا آپا کا خط آیا تھا معلوم ہوا کہ تمہاری دادی کا انتقال ہو گیا ہے  انھوں نے اپنی آدھی جائیداد تمہارے چچا عباس علی کے نام اور  آدھی تمہارے نام کر دی ہے معلوم ہوا کہ عباس علی یہاں و کیل کے ساتھ آ رہے ہیں تمہارے ماموں بھی ان حالات سے واقف ہیں گاؤں سے ان کی چٹھی آئی تھی وہ بھی آنے والے ہیں ‘‘

امی خاموش ہوئیں تو میں نے کہا ’’امی آپ نے ماموں کو منع کیوں نہیں کیا اب ہم سے ملنے کی کیا ضرورت ہے ہمارے بُرے دِن ختم ہو نے والے ہیں جب ہم پریشان حال تھے کسی نے پلٹ کر نہیں دیکھا ‘‘ماں نے کوئی جواب نہیں دیا۔  تب ہی جبار صاحب  کے ڈرائیور رفیق انکل کے لڑکے سکندرنے آ کر بتایا کہ جبار صاحب نے ماں کو بلوایا ہے اس نے مجھے دیکھتے ہی کہا۔

’’ارے نازیہ!تم ؟ یہاں ؟ اچانک کیسے آنا ہوا ؟

’’امی نے ٹیلی گرام دے کر بلوایا ہے کچھ ضروری کام ہے ‘‘وہ امی کے ساتھ ہی چلا گیا ہم بچپن ہی سے ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے وہ بھی بوائز ہاسٹل میں ہے پتہ نہیں کیوں وہ اپنا سالگتا ہے۔  امی حواس باختہ سی آئیں اور  بتایا کہ جبار صا حب کی طبعیت بگڑ گئی  ہے اور  انھیں  ہا سپٹل لے جا رہے ہیں۔  ہم سب ہی ان کے ساتھ گئے رات آنکھوں میں کٹ گئی  دوسرے دن شام میں ان کی حالت قدرے سنبھلی تو وکیل کو بلوا کر وصیت نامہ تیار کروایا دو دن بعد حالت پھر بگڑ گئی ڈاکٹر نے بتا یا کہ ان کے دماغ پر فا لج کا اٹیک ہوا ہے ڈاکٹروں نے انکے ٹھیک ہو نے کی امید نہیں دلائی۔ ماں کے آنسو خشک ہی نہ ہوتے تھے یا تو وہ جبار صاحب کے قریب بیٹھی رہتیں یا پھر دعا عبا دت میں مشغول رہتیں لیکن معلوم ہوا کہ انسان کی زندگی اور  موت کے بیچ ایک ایسا موڑ بھی آتا ہے جہاں دوا اور دعا ء دونوں بے اثر ہو جا تے ہیں شام   ڈھلنے سے پہلے جبار صاحب کی میت کو گھر لایا گیا اور  فجر کے ساتھ ہی سپرد خاک کر دیا۔  دوچار دن بعد چاچا عباس علی اور  ان کا لڑکا وکیل کے ساتھ آئے اور  دادی کا وصیت نامہ اور  زمین کے کاغذات ہمارے حوالے کئے۔ چاچا نے امی سے کہا ’’بھا بی مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔ ‘‘

’’جی کہئے ‘‘چاچا نے رفیق انکل اور  سکندر کی طرف دیکھا ماں نے کہا ’’یہ میرے بھائی جیسے ہیں میرا کوئی کام اور  کوئی بات ان سے چھپی نہیں ہے ‘‘تب چاچا گو یا ہوئے۔

’’بھابی کہنا یہ ہے کہ گاؤں میں زمینوں کی قیمت گر رہی ہے تم وہاں رہ کر کھیتی باڑی تو کر نہیں سکتیں بہتر ہو گا کہ اسے فروخت کر دو اور  شہر میں ایک مکان لے لو‘‘۔  ’’گاؤں کے حالات آپ بہتر جانتے ہیں ‘‘۔  ’’ٹھیک ہے۔ ’’تم اس مختا ر نامہ پر دستخط کر دو جیسے ہی زمین کے اچھے دام آئیں گے میں تمہیں اطلاع کر دوں گا دوسری بات یہ کہنی ہے کہ میں ناز یہ کو اپنی بہوبنا نا چاہتا ہوں اسطر ح ہمارے بگڑے ہوئے ہوئے تعلقات بحال ہو سکتے ہیں تمہارا کیا خیال ہے ؟‘‘ماں نے جواب دیا ’’بھائی صاحب میرے بھائی آ جائیں تو ان سے بھی مشورہ کر لوں تب آپ کو بتاؤں گی ‘‘۔۔۔  

چاچا کی باتیں سن کر میرے دل میں ٹوٹ پھوٹ سی ہونے لگی ان کا  لڑکا مجھے ایک آنکھ نہیں بھا یا تھا۔  چاچا نے کہا ’’بھا بی تمہیں اپنی زمین اور  بیٹی کے معاملے میں کسی سے مشورہ کرنے کی کیا ضرورت ہے میں دو دن سے اپنا کام چھو ڑ کر یہاں ٹھیرا ہوا ہوں مختار نامہدے دو تو چلا جاؤں پھر کبھی آؤں گا‘‘

’’ز مین کا مختار نامہ آپ کودے سکتی ہوں لیکن بیٹی پنچ کی ہوتی ہے اور  میں پہلے نازیہ سے بات کروں گی ‘‘ماں نے مختار نامہ پر دستخط کر دئے۔  چاچا فوراً چلے گئے۔  میں نے کہا

’’امی آپ نے چاچا کی بات کیوں مان لی سوچنے کے لئے وقت لیا ہوتا اور  یہ چاچا اور  ماموں کے دل میں ہمارے لئے محبت کے سو تے کیوں پھوٹ رہے  ہیں۔ ‘‘

’’ناز یہ تم ٹھیک کہتی ہو میں نے سمجھا کہ یہ لوگ اپنے کئے پر شرمندہ ہوں گے اور  عارفبھائی تو میرا اپنا خون ہے ‘‘ماموں آ گئے۔  برسوں بعد بہن بھائی ملے بڑی دیر تک گلے شکوے ہوتے رہے۔  پھر ماں نے تمام واقعات تفصیل سے بتائے تو مختار نامہ کی بات پر وہ بگڑ گئے ‘‘’’نصیبہ مختار نامہ دے کر تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے جن لوگوں نے تمہارے ساتھ کبھی اچھا سلوک نہیں کیا ان کے دل میں آج اچانک بھائی کی بیوی اور  اولا دکی محبت جاگ اٹھی ؟ تم نے یہ کیسے مان لیا کہ زمین فروخت کر کے ایک خطیر رقم تمہارے ہاتھ پر رکھ دیں گے ؟ رہی نازیہ کی بات تو تم خود سوچو شہر کی پڑھی لکھی لڑکی کیا گاؤں میں زندگی گزار سکتی ہے ؟ا سکے لئے میرے بیٹے عادل سے زیادہ منا سب کون ہو سکتا ہے ؟‘‘ماں کے چہرے سے معلوم ہو رہا تھا کہ وہ بڑی کشمکش میں ہیں۔  تب معلوم ہوا کہ جبار صاحب کے وکیل آئے ہیں۔  رسمی سی گفتگو کے بعد وکیل نے جو کچھ کہا وہ سن کر ہم سب حیران رہ گئے انھوں نے بتا یا کہ جبار صاحب نے میری اور  سکندر کے تعلیمی اخراجات کے لئے بیسں بیسں لا کھ بنک میں رکھا دیئے باقاعدہ دینی و عصری تعلیم کے لئے و قف کرتے ہوئے  ٹر سٹ قائم کر دیا ہے وصیت نامہ کی روسے ہمیں جلد از جلد حویلی کو چھو ڑ نا ہے۔  ہم سب گم صم بیٹھے ہوئے وکیل کی طرف حیرت سے تک رہے تھے۔

ماموں نے کہا ’’چلو نصیبہ تم دونوں میرے ساتھ رہو گی میں تمہیں اپنے گھر لے جاؤں گا۔ ‘‘

’’بھائی جان اب میں ایک الگ مکان لے کر ناز یہ کے ساتھ شہر میں رہوں گی  میں رفیق بھائی کا ساتھ چھو ڑ نا نہیں چاہتی وہ برسوں میرے زخموں پر مر ہم رکھتے رہے ہمت اور  تسلی دیتے رہے ہیں ‘‘

’’تم چاہو تو انھیں بھی اپنے ساتھ رکھ سکتی ہو ہما را مکان بہت  بڑ ا ہے ہم آدھا مکان تم سب کو دے دیں گے  ‘‘جانے کیوں ماموں کی باتیں میرے دل میں کھٹک رہی تھیں۔  امی نے رفیق انکل سے پوچھا  تو وہ بخوشی راضی ہو گئے۔  میں نے دیکھا ان کی پلکیں بھیگ گئی تھیں ان کی رضا مندی سے مجھے سکون سا محسوس ہوا۔  ماموں نے کہا ’’نصیبہ تم اپنا مختار نا مہ واپسلے لو تم کہو تو میں عادل کو گاؤں بھیج دوں وہ کسی طرح لے آئے گا ‘‘جیسی آپ کی مرضی ماں نے کہا ہم سب شہر منتقل ہو گئے پُر فضا ء مقام پر کشادہ مکان تھا۔  امتحان شروع ہو نے میں ایک ہفتہ باقی تھا میں نے تیاری  میں دن رات ایک کر دئے اسی دوران تقریباً ً دو بجے لیٹنے کی تیاری کر رہی تھی کہ ماموں کے کمرے سے سر گوشی کے انداز میں غصہ کی آواز آ رہی تھی۔  میرے دل میں تجسس پیدا ہوا شاید میری چھٹی حس کا اشا رہ تھا کہ میں نے ان کے دروازے  کے قریب جا کر کان لگا دئے عادل کہہ رہا تھا۔

’’ابو آپ جانتے ہیں میں نادرہ سے محبت کرتا ہوں بچپن سے ہمارا رشتہ طئے ہے میں نازیہ سے شادی کیسے کر سکتا ہوں ؟‘‘

’’عادل بے و قو فی کی باتیں مت کرو آج ناز یہ 50۔  60لاکھ کی مالک ہے نا درہ کو سمجھا منا کرنازیہ سے شادی کر لو چند دن بعد ہم اسے پاگل ثابت کر کے پا گل خانہ بھیج دیں گے وہ سب تم مجھ پر چھو ڑ دو عیش و آرام کی زندگی گزارنے کے لئے محبت سے زیادہ دولت کی ضرورت ہوتی ہے تم اپنے دماغ سے کام لے کر دونوں چیزیں اپنے قبضے میں کر لو۔ سمجھ میں کچھ آ رہا ہے ؟‘‘

’’ابو آپ کا فلسفہ میری سمجھ میں تو آ رہا ہے لیکن عملاً یہ ایک دشوار مر حلہ ہے ‘‘۔  ’’میں نے کہا نا تم سب مجھ پر چھو ڑ دو۔  پہلے تم عباس علی سے وہ مختار نا مہ کسی طرح حاصل کر لو پھر ہم گاؤں کی زمین کا حساب کتا ب کریں گے ‘‘’’ٹھیک ہے جیسے آپ کی مر ضی‘‘

ان دونوں کی گفتگو سن کر میرے ہاتھ پاؤں لرز نے لگے میں پسینے میں نہائی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بھا گی اور  بستر میں دبک گئی۔۔۔   صبح نو بجے ماں نے جگا یا میں بستر پر بیٹھی سوچ رہی تھی کہ رات جو کچھ سنا وہ خواب تھا یا حقیقت ؟ میں پوری طرح بیدار ہو چکی تھی ماں کو سب کچھ سنا دیا وہ گم صم بیٹھی سب کچھ سنتی رہیں مجھے خاموش پا کر کہا ’’معلوم ہوتا ہے ابھی کچھ آزمائش باقی ہے ہم بہت جلد اس گھر کو چھو ڑ دیں گے۔ ‘‘

امتحان کی فکر کھائے جا رہی تھی اور  پڑھائی میں میرا دل نہیں لگ رہا تھا۔  شام ڈھلتے ہی ایک انجانا ساخوف طاری ہو جاتا۔  ماں کے بیڈ کے قریب اپنا بیڈ لگا کر پڑھنے کی کوشش کرتی رہی شاید سکندر بھی اپنے کمرے میں پڑھ رہا تھا۔  میری نظر اچانک گیٹ کی طرف اُٹھ گئی ایک سا یہ سا لپکتا  نظر آیا پھر دھم  سے کسی کے کودنے کی آواز آئی کودنے والے کے ہاتھ میں شاید بریف کیس تھا وہ ماموں کے کمرے کی طرف بھا گا پھر دروازہ بند ہونے کی آواز آئی تب ہی کسی گاڑی کے بریک چر چرائے گیٹ کھلا اور  کچھ کانسٹیبل اور  پولیس انسپکٹرگھس آئے وہ کسی کو تلاش کر رہے تھے گڑ بڑ اور  شور کی وجہ سے سب ہی جاگ گئے ہم نے باہر نکل کر پو چھا ’’کیا بات ہے ؟ آپ لوگ کسے تلاش کر رہے ہیں ؟‘‘’’ابھی ابھی عادل نامی شخص اسی گھر میں گھسا ہے کہاں ہے وہ ؟‘‘

’’کیا کیا ہے اس نے۔ یہ اسی کا گھر ہے ‘‘میرا دل اچھل رہا تھا ’’گاؤں میں عباس علی کا قتل کر کے وہ بھاگ نکلا ہے ہم اسی کو تلاش کر رہے ہیں کہاں ہے وہ جلدی بتاؤ ورنہ تم سب کی خیر نہیں ؟’’وہ اس طرف ان کا کمرہ ہے شاید وہ اپنے کمرے میں ہو۔ ‘‘

سب اس طرف دوڑ گئے اور  کمرے کا دروازہ پیٹنے لگے پھر دھکے مارکر اسے تو ڑ دیا۔  ماموں اور  عادل اندر مو جود تھے۔  

’’تم میں عادل کون ہے ؟ عباس علی نے دم تو ڑ نے سے پہلے اس کا نام اور  پتہ بتا یا ہے ‘‘انسپکٹر نے دونوں کی طرف گھورتے ہوئے کہا عادل نے آگے بڑھ کر کہا ‘‘میں ہوں عادل ‘‘انسپکٹر نے اس کے ہاتھ میں ہتھکڑی لگا دی اور  ماموں کو بھی ساتھ چلنے کہا ماموں نے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر رکھے اور  چکرا کر گر پڑے۔  

٭٭٭٭٭