کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

وقت کی کروٹ

افروز سیدہ


صبا نے پھر در زنداں پہ آ کے دستک دی

سحر قریب ہے دل سے کہو نہ گھبرائے!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاداب اسے اپنی جانب آتا ہوا دیکھ کر بیرونی دروازہ کی طرف لپکی دوسرے ہی لمحہ وہ دولت خان کی بانہوں میں تھی جو اسے دبوچتے ہوئے اناپ شناپ بک رہا تھا۔  شاداب دعائیں مانگ رہی تھی میرے مالک آج تو ہی مجھے بچا سکتا ہے تو اپنے بندوں کی التجاسنتا ہے۔ دلوں کا حال جانتا ہے۔ اپنی قدرت کا کرشمہ بتا دے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ا سکا ذہن ہمیشہ عجیب و غریب خیالات میں الجھا رہتا انجانے غم گمنام اندیشے ، بے نام و سو سے۔  ان دیکھے خنجر اسے زخمی کرتے رہتے وہ جس جہاں میں رہتی تھی وہاں اندھیروں کا راج تھا امید کی کرنوں کا گزر نہیں تھا اسے محسوس ہوتا کہ آنکھوں میں کھارے آنسوؤں کا ایک سمندر چھپا ہے جو بہہ جا نے کو بے قرار ہے۔  

چار سال پہلے شا داب کے سر سے سائبان ہٹ گیا تھا  تیتیس سالہ نوجوان کی بیوہ زندگی کی خار دار را ہوں پر چلچلاتی دھوپ میں اپنے بکھرے و جو دکو سمیٹے تنہا کھڑی تھی اس کے والد نے اپنی زند گی میں بہت کوشش کی کہ اس کا گھر دو بارہ بسا دیں لیکن کوئی نیک بندہ اس ایک لڑکی کی ماں کو قبول کرنے تیار ہی نہ ہوا تھا۔  آج اس کی بیٹی مہتاب نے اعلی نشانات سے انٹر پاس کیا تھا وہ بہت خوش تھی لیکن افسر دہ اور  فکر مند بھی تھی اس کی سوچوں میں ڈوبی ہوئی آنکھوں نے چہرے کو اور  بھی پر کشش بنا دیا ہوا تھا۔  وہ تھی بھی خو بصورت اسے دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ ایک سترہ سالہ لڑکی کی ماں ہے مہتاب ماں سے زیادہ حسین تھی اور  یہی حسن ماں بیٹی کے لئے و بال جان بن گیا تھا۔  شا داب کے والد نے اس کے نام پر ایک بڑی رقم بینک میں جمع کر وادی تھی اسیر قم سے اس نے روزگار کا  ذریعہ نکال لیا تھا مہتاب نے انٹر کے ساتھ کمپیوٹر کے کو رسس بھی کئے تھے۔  اس لئے شاداب نے اس کی خواہش پر کمپیوٹر اور  ٹا ئپ را ئٹنگ انسٹیٹوٹ کھول لیا تھا لیکن محلے کے آوارہ لڑکوں نے ان کا جینا حرام کر دیا۔  اگر وہ پو لس میں شکایت درج کراتیں یا کسی سے کچھ کہتیں تو ان ہی کو نشان ملامت بنا یا جا تا،  چند بزرگ لوگوں کے ذریعہ انھیں تنبیہ کی جاتی تو چند دن کے لئے سب ادھر ادھر ہو جا تے پھر اسی چال پر آ جاتے زندگی کی سنگلا خ چٹانوں میں جینے کا راستہ بنانا مشکل معلوم ہو رہا تھاکسی نے مشورہ دیا کہ وہ سیٹھ دولت خاں کی مدد لیں وہی ان غنڈوں کو سبق سکھائیں گے ایک دن ہمت کر کے دونوں  دولت خاں کے محل نما مکان پر گئیں چوکیدار نے آنے کا مقصد پو چھا پھر سیٹھ کو اطلاع دی گئی انھیں اندر آنے کی اجازت مل گئی دولت نے ماں بیٹی کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا وہ سلام کر کے کھڑی ہوئی تھیں اور  سیٹھ کی تیز نظریں جیسے انکے جسم میں چھید کر رہی  تھیں چند لمحوں بعد جب دولت کو ہوش آیا تو اس نے دونوں کو بیٹھنے کے لئے کہا اور  آنے کا مقصد پوچھا شاداب کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔  مہتاب نے ہمت کر کے بتا یا کے محلے کے چند آوارہ لڑکے انھیں چھیڑ تے اور  نت نئی شرارتیں کرتے ہیں وہ عاجز آ چکی ہیں سیٹھ دو لت خاں نے کہامیرے ہو تے ہوئے محلے کے لڑکوں کی یہ ہمت ؟میں کل ہی ان سے بات کروں گا کیا تم پڑھ رہی ہو ؟ ‘‘دولت نے مہتاب سے پوچھا ’’جی میں نے انٹر کر لیا ہے اور  اب لڑکیوں کے لئے ٹائپ اور  کمپیوٹر انسٹیٹیوٹ چلاتی ہوں ‘‘۔ ’’یہ تو اچھی بات ہے کل تم میرے کچھ کاغِذات ٹائپ کر کے لا دینا جو بھی معاوضہ ہو گا دیدیا جائے گا‘‘مہتاب نے ماں کی جا نب دیکھا اور  خا موش ہو گئی۔  وہ دونوں دو بارہ اُس جگہ جا نا نہیں چاہتی تھیں کوئی انجا نا سا خوف انھیں روک رہا تھا دوسرے دن شا داب نے ہمت کر کے کہا کہ وہ اکیلی ہی جا کر کاغذات لے آئے گی بیٹی نے روکا لیکن شاداب اسے اپنے ساتھ لے جانا نہیں چاہتی وہ جب وہاں پہنچی تو چوکیدار نے اسے روکا نہیں لیکن اس کی آنکھیں کچھ کہہ رہی تھیں شاداب نے اس کے چہرہ کی طرف نہیں دیکھا اور  اندر چلی گئی۔  آخر وہی ہوا جس کا اسے ڈر تھا۔

دولت خاں ہاتھ میں گلاس تھا مے بیٹھا ہوا تھا سا منے میز پر شراب کی بو تل رکھی تھی۔  شاداب کو دیکھتے ہی اس کی با چھیں کھل گئیں اس نے کہا’’آؤ آؤ!میں جانتا تھا تم ضرور آؤ گی ‘‘اس کے بے تکلفانہ انداز اور  لب و لہجہ نے شاداب کو سہما دیا اس کے ہاتھ پاؤں منجمد سے ہو نے لگے چہرہ پر پسینہ کی بوندیں ابھر آئیں ’جائے ر فتن نہ پائے ما ندن، والا معاملہ تھا اس کا دماغ ماؤف ہو رہا تھا ریٹر ھ کی ہڈی میں سر دسی لہر سننا رہی تھی دولت کی آواز نے اسے چونکا دیا۔

’’گھبراؤ نہیں اطمنیان سے بیٹھو میں تمہیں ہر روز کام دیا کروں گا معقول معاوضہ بھی دیا کروں گا بس تم اسی طرح ہر روز آیا کرنا‘‘شاداب کھڑی ہو گئی سرد ہو تے ہاتھوں سے چہرہ کا پسینہ صاف کرتے ہوئے بمشکل کہا ’’میں اب چلتی ہوں مجھے کام نہیں چاہئے معافی چاہتی ہوں ‘‘دولت خاں کے چہرہ پر وحشیانہ مسکراہٹ تھی شاداب کی طرف لڑکھڑاتے قدموں سے بڑھتے ہوئے کہا

’’ا بھی آئے ابھی بیٹھے ابھی دامن سنبھا لا

تمہاری جاؤں جاؤں نے ہمارا دم نکالا ‘‘  

شا داب اسے اپنی جانب آتا ہوا دیکھ کر بیرونی دروازہ کی طرف لپکی لیکن دوسرے ہی لمحے وہ دو لت خاں کی بانہوں میں تھی جواسے دبوچتے ہوئے انا پ شناپ بک رہا تھا شاداب دعائیں ما نگ رہی تھی’’میرے مالک آج تو ہی مجھے بچا سکتا ہے تو اپنے بندوں کی التجا سنتا ہے دلوں کا حال جانتا ہے اپنی قدرت کا کر شمہ بتا دے مجھے شیطان کے پنجے سے چھڑا لے بتا دے کہ تو آسمانوں میں ہے اور  سب کچھ دیکھ رہا ہے ‘‘۔  اسی وقت گیٹ کھلنے کی آواز کے ساتھ ہی کسی گاڑی کے پہیوں میں بر یک لگا نے کی آواز آئی دولت نے ایک جھٹکے سے شاداب کو الگ کیا اور  دروازے کی جا نب دیکھنے لگا نشہ ہرن ہو چکا تھا ایک لحیم شحیم سانوے رنگ کی عورت نہایت قیمتی لباس زیب تن کئے دندناتی اندر داخل ہوئی اس کے پیچھے انیسں بیسں سال کا ایک لڑکا بھی تھا ’’او ہو یہاں عیش کے سامان سجائے بیٹھے ہو مجھ سے کہا تھا کہ کام بہت ہے مزید چند دن یہاں ٹھیر نا پڑے گا! تو یہ کام ہو رہا ہے ہاں ؟‘‘ ’’نا درہ میری بات تو سنو!مجھے کچھ کاغذات ٹائپ کروانے تھے و ہی دینے کے لئے اس عورت کو یہاں بلوایا تھا محلے کی غریب عورت سمجھ کر اسے کام دینا چاہا تھا لیکن یہ تو یہاں چوری کی نیت سے آئی تھی یہ دیکھو! میرا سونے کا لائٹر اور  گھڑی لے کر بھاگ رہی تھی کہ میں نے پکڑ لیا ‘‘۔  شا داب شیطان کے چنگل سے چھوٹ گئی تھی اسے ما لک حقیقی پر پیار آ گیا وہ رو پڑی اس الزام سے بھی وہی بری کرے گا اس نے آگے بڑھ کرنا درہ کے پاؤں پکڑ لئے اور کہا

’’آپ یقین کریں بیگم صاحبہ یہ صاحب مجھ پر جھوٹا الزام لگا رہے ہیں کام دینے کے بہانے یہاں بلوا کر مجھے بے عزت کیا ہے یہ مجھے زبردستی روک رہے تھے اسی دوران لائٹر اور  گھڑی یہاں گر گئے آپ خود صحیح حالات کا اندازہ کر سکتی ہیں ان صاحب کی حالت دیکھ کر میں اسی وقت لوٹ جانا چاہتی تھی مگر ‘‘۔  نا درہ نے آؤ دیکھا نہ تا ؤ دولت خاں پر  گھونسوں کی بارش شروع کر دی ’’تم نے جس گھر کو عیاشی کا اڈہ بنایا ہے وہ میرا ہے یا تمہارے باپ کا میرے باپ نے تمہیں فرش سے اٹھا کر عرش پر بٹھا دیا اور  تم اپنی اوقات بھول گئے ؟ ہمیں بے وقوف بناتے رہے کئی دن سے تمہارے بارے میں سن رہی تھی اور  آج رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اب تمہیں میرے باپ کی عدالت سے سزا ہو گی تب تک نہ تم یہاں سے باہر جاؤ گے نہ کوئی اندر آئے گا ‘‘نا درہ نے باہر آ  کر دروازہ بند کر دیا۔  شاداب کے دماغ میں اتھل پتھل ہو رہی تھی کہ مردوں کی اس دنیا میں مردوں کے بنائے ہوئے قا نون مرد ہی کیوں تو ڑ تے ہیں اور  کبھی کبھی عورت کے ہاتھوں سزا پا تے ہیں ایسے احسان فرا موش شوہر کو سزا ملنی ہی چاہئے۔  نا درہ شا داب کا ہاتھ پکڑے اسے کھسیٹتی ہوئی دوسرے کمرے میں لے جا رہی تھی تب ہی مہتاب آ گئی ماں کی واپسی میں دیر ہو جانے پر وہ گھبرائی ہوئی آئی تھی۔  یہاں آنے کے بعد اسے سمجھ میں نہیں آیا کہ ہوا کیا ہے ؟ اس نے آگے بڑھ کرنا درہ کا ہاتھ پکڑ لیا ’’آپ میری ماں کو کہاں لے جا رہی ہیں انھوں نے کیا کیا ہے آپ مجھے بتائیں کیا ہوا ہے ؟‘‘

’’اچھا تم ان کی لڑکی ہو ادھر آؤ ہم اس کمرے میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں ‘‘نادرہ کی ہمدردی پا کر ماں بیٹی نے اپنے تمام حالات بتا دئے تب نادرہ نے سمجھا یا’’دیکھو شاداب تم جوان ہو خوبصورت ہو اور  ایک جوان و حسین بیٹی کی ماں ہو تم کب تک یونہی تنہا ان حالات کا مقابلہ کرو گی بہتر ہو گا کہ کسی شریف آدمی کو سہارا بنا کر زندگی گزار لو ‘‘۔

’’جی میرے والد نے بہت کوشش کی تھی لیکن ایک لڑکی کے ساتھ مجھے قبول کرنے کوئی تیار نہ تھا اب تو بیٹی بھی بڑی ہو گئی ہے میں اس کی شادی کے لئے فکر مند ہوں میرے پاس اتنی سکت نہیں ہے کہ میں اسے دلہن بنا کر عزت کے ساتھ رخصت کر سکوں اور  اس دور میں تو لڑکے والے اپنے لڑکوں کو سکوں میں تول رہے ہیں اب آپ ہی بتائیں میں کیا کروں ‘‘

نادرہ:۔ ’’شاداب اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت روٹی ہے اور  پیٹ بھر روٹی کھانے کے لئے پیسے کی ضرورت ہے اور  پیسہ کمانے کے لئے محنت اور  ذہانت کی ضرورت ہے آج روٹی کپڑے کے لئے ایک مرد کی غلامی ضروری نہیں ہے آج کی عورت بہت کچھ کر سکتی ہے اور  کر رہی ہے عزت کے ساتھ پیہ کما رہی ہے بس ذراسی ہمت کرنی ہو گی زندگی ایک بار ملتی ہے اس خوبصورت زندگی کو رو کر گزار نا کفران نعمت ہو گا ہر انسان کی زندگی میں اچھے اور  برے دن ضرور آتے ہی‘‘’’آپ جیسا کہیں میں ویسا ہی کرنے کے لئے تیار ہوں ‘‘شاداب نے پر یقین لہجے میں کہا۔

’’ٹھیک ہے تم اب اپنے گھر جا ؤ میں کل تمہارے گھر پر ملوں گی اور  آگے کیا کرنا ہے بتاؤں گی۔ ‘‘عامر تشکر بھری نگاہوں سے ماں کی طرف دیکھ رہا تھا پھر شاداب اور  مہتاب کی طرف دیکھ کر مسکرایا جیسے کہہ رہا ہو ’’کتنی اچھی ہے نا میری ماں ؟‘‘

وہ دونوں ایک نیا عزم لئے کھڑی ہو گئیں جیسے انھیں اپنی منزل کا پتہ مل گیا ہو! نادرہ نے انھیں گھر پر چھوڑ ا اور  چلی گئی دوسرے دن وہ مژدۂ جانفزاء بن کر آئی۔  آج وہ بہت اچھے موڈ میں تھی شاداب اور  مہتاب کو اپنے سامنے بٹھا یا اور  گو یا ہوئی میں تم دونوں کے لئے ایک اچھی اسکیم لائی ہوں اب تمہیں اپنی ہمت ’ محنت اور  ذہانت سے کام لینا ہو گا تم دونوں پڑھی لکھی ہو ایک اسکول قائم کر لو اس کے ساتھ کمپیوٹر اور  ٹائپ رائٹنگ انسٹیٹو ٹ بھی ہو گا پیسہ میں لگاؤں گی اور  گا ہے ما ہے تم سے ملتی اور  تمہاری رہنمائی کرتی رہوں گی کیا خیال ہے مہتاب نے مارے خوشی کے تالیاں بجاتے ہوئے کہا۔  

’’آنٹی یہ میری دیرینہ خواہش تھی کہ میں اچھے پیمانے پر اسکول چلاؤں آپ نے میری پسند کا کام دیا ہے اب دیکھئے ہم دونوں مل کر کیا کرتے ہیں ‘‘بہت جلد انھوں نے اپنے محلے سے بہت دور شاندار پیمانے پرا سکول قائم کر لیا اور  زندگی کی دوڑ میں شا مل ہو گئیں نادرہ اور  عامر اکثر اسکول آ جا تے اور  ان دونوں کی کار کر دگی سے محظوظ و مطمئن ہو تے  اسی دوران مہتاب اور  عامر ایک دوسرے کے قریب آ گئے ایک دن اچانک نادرہ نے بتا یا کہ عامر اعلیٰ تعلیم حا صل کرنے کے لئے اپنے ماموں کے پاس امر یکہ جا رہا ہے وہ بھی اس کے ساتھ جا رہی ہے ہو سکتا ہے جلدی واپس آ جائے یا دیر بھی ہو سکتی ہے دو تین سال کے عرصہ میں شاداب کے اسکول کا شمار شہر کے اچھے اسکولس میں ہو نے لگا ماں اور  بیٹی نے محنت اور  لگن سے اپنا ایک مقام بنا لیا اب نہ صرف بیٹی کے لئے بلکہ ماں کے لئے بھی اعلی خاندان کے رشتے آنے لگے لیکن شاداب نادرہ کے صلاح مشورہ کے بغیر کوئی قدم اٹھا نا نہیں چاہتی تھی۔  اس نے کسی کو کوئی جواب نہیں دیا وہ نادرہ سے بات کرنا چاہتی تھی لیکن فون کی لائن نہیں مل رہی تھی دو چار دن یونہی گزر گئے۔  اچانک نادرہ کا فون آ گیا شاداب نے لپک کر فون اٹھا لیا نادرہ کہہ رہی تھی ’’شاداب تم اور  مہتاب چھٹیاں شروع ہوتے ہی یہاں آ جاؤ میرے سامنے کچھ مسائل ایسے ہیں جن کا حل تمہاری مدد سے نکالنا چاہتی ہوں ویسے چھٹیاں ہونے میں کتنے دن باقی ہیں ‘‘نادرہ نے ایک ہی سانس میں کہہ دیا۔  ’’جی یہی کوئی ہفتہ دس دن باقی ہیں ‘‘میں خود آپ سے اپنے مسائل کے سلسلے بات کرنا چاہتی تھی تین دن سے کوشش میں تھی لائن نہیں لگ رہی تھی لیکن آپ کچھ پریشان سی معلوم ہو رہی ہیں کیا بات ہے مجھے بتائیں نا ’’بات بے حد اہم اور  خاص ہے یہاں آ جاؤ تب ہی بتاؤں گی ویسے پریشانی کی بات نہیں ہے بس تمہارا شدت سے انتظار ہے میں نے ویزا اور  ٹکٹ کا انتظام کر دیا ہے بس تم چھٹیوں کے حساب سے سیٹ ریزروReserve کروا لینا، اچھا خدا حافظ اپنی صحت کا خیال رکھنا مہتاب کو پیار لینا‘‘شاداب اور مہتاب امریکہ کیلئے روانہ ہو گئیں زندگی میں پہلی بار ہوائی سفر پر نکلی تھیں۔  طیارے میں بیٹھے ہوئے بار بار ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر یقین کرنا چاہتی تھیں کہ وہ خواب میں نہیں بلکہ حقیقت میں پلین میں بیٹھی ہیں کئی گھنٹوں کی مسافت طئے کرنے کے بعد وہ اپنے خوابوں کے شہر شکاگو پہنچ گئیں۔  نادرہ انھیں لینے آئی تھی دو دن آرام لینے کے بعد وہ تازہ دم اور شگفتہ ہو گئی تھیں امریکہ کی آب و ہوا نے انکے حسن کو توبہ شکن بنا دیا تھا تیسرے دن نا درہ انھیں شہر گھمانے لے گئی اور  راستے میں ڈھیر ساری باتیں ہوتی رہیں ایک ایک مشہور جگہ دکھاتی رہی باتوں باتوں میں نادرہ نے بتایا کہ ’’چھ ماہ قبل اس کی بھاوج کا اچانک انتقال ہو گیا ہے اور  یہ کہ وہ شاداب کو اپنی بھاوج کی جگہ پر دیکھنا چاہتی ہے اور  مہتاب کو اپنی بہو بنانا چاہتی ہے ‘‘۔  شاداب کو یوں محسوس ہوا جیسے وہ دنیا کے سب سے اونچے مینار پر کھڑی ہو اس کا دل بری طرح دھڑ ک رہا تھا زبان لڑکھڑا رہی تھی اور  لڑکھڑاتی زبان دلی کیفیت کے اظہار کے لئے صحیح الفاظ ادا نہیں کر سکتی اسے اپنی سماعت پر یقین نہیں آیا۔  اس نے اضطراری کیفیت میں نا درہ کے ہاتھ کو تھام لیا آج وہ اس منزل پر تھی جہاں پہنچ کر کوئی آرزو کوئی تمنا نہیں رہ گئی تھی حیرت اور  مسرت اس کی ڈبڈبائی آنکھوں سے عیاں تھی۔

*****