کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

اور ہم غبار دیکھتے رہے

افروز سیدہ


رات کا ماجرا کس سے پوچھوں شمیم

کیا بیتی بزم پر تیرے اٹھ جانے کے بعد

لذت سجدہ     سنگِ در       کیا    کہیں

ہوش ہی کب رہا سر جھکا دینے کے بعد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منجمد جذبات میں ہلچل سی ہو رہی تھی جیسے ساکت پانی میں کسی نے کنکری پھینک دی ہو رات بستر پر لیٹی وہ کروٹیں بدلتی رہی خوش حال ،  خوش اخلاق اور  خوش شکل باس اس کے مشام جاں میں اترتا رہا دل چپکے چپکے سرگوشی کر رہا تھا۔ تو یک ننھی چڑ یا ہے تیرے نازک پروں میں قوت پرواز کب تک رہیگی۔  شکاری رحم دل ہے اس کی اسیر ہو جا اسی میں تیری عافیت اور  پرسکون عاقبت بھی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سال کی آخری رات تھی اور  محفل پورے شباب پر تھی ہر کوئی اپنے رنگ میں مست دبے خود تھا۔ شائستہ حیرت سے سب کچھ دیکھ رہی تھی ایسی محفل میں شریک ہو نے کا یہ پہلا موقع تھا وہ نہیں جانتی تھی کہ تعلیم یافتہ دولتمند لوگ شراب کے نشہ میں چور ہو کر نئے سال کا استقبال اس طرح کرتے ہیں۔  نت نئے ڈیزائن کے قیمتی ملبوسات زیب تن کئے بیوٹی پارلر سے میک اپ کر وائی خواتین ایسے معلوم ہو رہی تھیں جیسے وہ ایک دوسرے کو مات دینے کی ٹھان کر آئی ہوں۔  شائستہ سوچ رہی تھی آخر باس نے اس محفل میں اسے کیوں مد عو کیا۔  ویسے اسٹاف کی دو سری خواتین بھی مو جود تھیں ورنہ وہ زیادہ دیر اس جگہ نہیں ٹھہر سکتی تھی۔  اپنے باس کو دیکھ کر اسے تعجب ہوا تھا کہ اعلی تعلیم یافتہ با وقار باس شراب پی کر بے خودی میں قہقہے لگا رہے تھے وہ ان کی بہت عزت کرتی تھی لیکن انھیں اس رنگ میں دیکھ کر مایوس اور  اداس ہو گئی۔  وہ سوچ رہی تھی کیا فرق ہے اس کے مرحوم شوہر اور  باس میں ؟ وہ سستی شراب پی کر گھر آتا الٹی سیدھی بحث تکرار کے بعد نڈھال ہو کر سورہتا اسی شراب نے ایک دن اس کی جان لے لی۔  اور  باس اعلی قسم کی شراب پی کر جانے کو نسا غم بھلانے کی کوشش کرتے ہیں۔  محفل کے شورسے بے خبر شائستہ سوچوں کے دھارے میں بہہ رہی تھی۔۔۔  وہ ایک متوسط گھرانے کی پروردہ تھی متوسط طبقہ ایسا ہوتا ہے جیسے ہوا میں کوئی معلق چیز!اس طبقہ کو اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کیلئے زندگی کے دکھوں اور تکلیفوں کے ساتھ بڑی جدوجہد کرنی پڑتی ہے یہاں زندگی ایک روگ ہوتی ہے روٹی کپڑے مکان کا روگ، نا کام آرزوؤں اور  نامرادیوں کا روگ۔  اس نے انٹرپاس کیا تھا ملازمت کر کے والدین کا سہارا بننا چاہتی تھی کہ اچانک ماموں کے لائے ہوئے ایک رشتے کیلئے والد نے ہاں کر دی اور بلا تحقیق اسے ایک اجنبی کے حوالے کر دیا وہ انکار بھی نہ کر سکی کیوں کہ والد اپنی گرتی ہوئی صحت سے مایوس ہو چکے تھے اور  جلد از جلد بیٹی کی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جانا چاہتے تھے۔  شائستہ نے مقدر کے ساتھ سمجھو تہ کر لیا اور  اس شخص کو راہ راست پر لا نے کی کوشش کر کے تھک گئی انجام وہی ہوا جو ہو نا تھا شوہر کے بعد والد بھی چل بسے زندگی کے اس مو ڑ پر وہ تنہا کھڑی شمع کی لو کی طرح لرز رہی تھی لیکن وہ بو کھلائی نہیں جوان اور  خوبصورت تھی پڑھی لکھی اور  ذہین تھی زندگی کا سفرتنہا طے کرنے کی ہمت رکھتی تھی لیکن وہ ماں کیلئے فکر مند تھی اور ماں اس کے لئے پریشان تھی اور سوچتی رہتی کہ کوئی تو ان کا غم با نٹنے کے لئے آئے گا خون کے رشتے سہارا دیں گے زخموں پر ہمدردی کا مر ہم رکھیں گے تسلی دے کر ہمت بندھائیں گے لیکن شائستہ نے محسوس کر لیا کہ سب چہرے بدل چکے ہیں تمام کردار ریت کے نشانوں کی طرح مٹ گئے ہیں لہجے تندو تیز ہو گئے ہیں انھیں دیکھ کر دروازے بند کر لئے جاتے ہیں وہ اس دنیا کی حقیقت کا مکر وہ چہرہ پہچاننے لگی تھی۔  بڑی بھاگ دوڑ کے بعد اسے ایک آفس میں ملازمت مل گئی۔  جانے کیوں باس اس پر مہربان تھے معقول تنخواہ پر اس کا تقرر کر لیا تھا۔  سوچ میں ڈوبی ہوئی غم نا ک اور  نمناک آنکھوں والے باس اسے اچھے لگے تھے۔

 شائستہ اپنی لامتناہی سوچوں کے حصارسے اس وقت باہر نکلی جب گھڑ یال نے بارہ کا گجر سنایا چند سکنڈ کے لئے لائٹ آف ہوئی اور  کھل گئی ساتھ ہی تالیوں اور  قہقہوں کا ایک شور بپا ہوا کچھ دیر بعد محفل بر خو است ہو گئی۔  شائستہ رات بھر بے کل سی رہی ذہن کچی لکڑی کی طرح سلکتا رہا دو سرے دن وہ آفس میں بجھی بجھی سی تھی اس کی خاموشی کو صفی احمد نے محسوس کیا اپنے کمرے میں بلوایا چند لمحے اسے غور سے دیکھنے کے بعد گو یا ہوئے!

’’کیا بات ہے تم آج اداس سی لگ رہی ہو طبیعت کیسی ہے ؟ والدہ کیسی ہیں ؟کیا تھک گئی ہو؟‘‘

جی۔ جی کوئی خاص بات نہیں ہے والدہ بھی ٹھیک ہیں ‘‘’’کچھ تو ہے جس کی وجہ سے تم پریشان معلوم ہو رہی ہو۔  تم ایسا کرو آفس ٹا ئم کے بعد مجھ سے ملو کچھ بات کرنی ہے ‘‘۔  ’’جی بہتر‘‘ وہ کچھ سوچتی ہوئی باہر آ گئی۔  

آفس کے سبھی لوگ جا چکے تھے شائستہ صفی احمد کے کمرے میں گئی وہ سگریٹ منہ میں دبائے ڈائری کی ورق گردانی کر رہے تھے شائستہ سرجھکائے بیٹھی تھی۔ باس نے ڈائری بند کی اور  اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ ’’شائستہ بغیر کسی تمہید کے کہنا چاہتا ہوں کہ میں تھیں پسند کرنے لگا ہوں تمھیں اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں ،  کیا میرا ساتھ دو گی؟‘‘شائستہ حیرت زدہ سی صفی کی طرف دیکھ رہی تھی بمشکل اس نے کہا۔ ’’سر یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں آپ شادی شدہ مر داور  دو بچوں کے باپ ہیں آپ اپنی آسودہ زندگی میں پر سکون ہیں مجھ نا چیز کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کا کیا مطلب ہے میں سمجھی نہیں ؟ ‘‘’’تم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ دو لت  اور آسائش کسی انسان کو سکون دے سکتے ہیں ؟ میں اپنی زندگی کا رونا تمھارے آگے رونا نہیں چاہتا صرف اتنا کہوں گا کہ میں اپنے موجو دہ حالات سے مطمئن نہیں ہوں میری بیوی اسری کو اپنے گھر اور  بچوں کی فکر ہے نہ میری پر واہ اپنی سہیلیوں کلب اور پارٹیوں کی رنگین دنیا میں کھوئی ہوئی ہے اسے یاد نہیں کہ وہ کسی کی بیوی اور  دو بچوں کی ماں بھی ہے مجھے سکون کی تلاش ہے بس‘‘’’سر میں اوسط گھرانے کی پلی ہوئی ایک بیوہ ہوں میرا شوہر شرابی تھا خوب پیتا تھا اور ایک دن شراب اسے پی گئی۔  سر!آپ بھی تو شراب کے رسیا ہیں۔  ویسے میں آپ کے لائق نہیں ہوں۔ ‘‘

’’ہاں شائستہ میں پیتا ہوں۔  جب انسان کی زندگی میں کوئی خوشی نہ ہو کوئی اسے پو چھنے والا اس کا اپنا نہ ہو تو وہ کیا کرے اس شخص کے دل کا حال تم نہیں جان سکتیں جس نے اپنی بیوی کو ہر طرح کا سکھ اور  خوشی دینے کے باوجود سکون کا ایک پل بھی نہ پا سکا ہو بیوی شوہر کے ہی دو ست کے ساتھ عاشقی کرنے لگے اس کی آنکھوں میں دھول جھونکنے لگے تو اس سے زیادہ بے عزتی و بے سکونی اور  کیا ہو سکتی ہے ؟ رہی تمھاری بات تو میں یہی کہوں گا کہ تم جیسی سلجھی ہوئی ذہین اور سنجیدہ لڑکی گھر کو جنت کا نمو نہ بنا سکتی ہے یہ تمھاری بد قسمتی ہے کہ کسی نے تمھاری قدر نہیں کی۔  اب تم آفس کے کام سے واقف ہو چکی ہو میں نے دیکھا ہے تم بڑے سلیقہ سے بات کرتی ہو تمھیں گفتگو کرنے کا فن آتا ہے یہ سب کو نہیں آتا۔  میں نے بارہا اپنی بیوی کو سمجھایا ہے کہ وہ گھر اور  دفتر کے معاملات میں میرا ساتھ دے میرے قدم سے قدم ملا کر چلے لیکن اس کے شوق اس کی سوچ اس کی دنیا ہی الگ ہے۔  ‘‘

سربرانہ مانیں تو ایک بات پوچھوں ؟

 ’’ہاں ہاں پوچھو‘‘

’’آپ کے وہ کون سے دو ست ہیں جن سے میڈم قریب ہو گئی ہیں جہاں تک میری عقل کام کرتی ہے میں کہوں گی کہ کوئی شریف عورت اس طرح مرد کو دھوکہ نہیں دے سکتی۔  ہو سکتا ہے آپ کو غلط فہمی ہوئی ہو‘‘’’نہیں شائستہ کوئی مرد غلط فہمی میں مبتلا ہو کر بیوی پر الزام نہیں لگاتا تم رشید سے واقف ہو جو اکثرآفس آتا ہے اور گہری نظروں سے تمھیں غورسے دیکھتا ہے وہ میرے گھر بھی آتا ہے تقریباً ہر روز اسریٰ سے فون پر بات کرتا ہے ‘‘’’بیوی سے فون پر بات کر نا تو عاشقی کا ثبوت نہیں ہے سریقیناً آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ ‘‘’’وہ اکثر میری غیر موجود گی میں بھی آتا ہے اور فون پر بھی ایسے وقت بات کرتا ہے جب میں گھر پر نہیں ہوتا مجھے چوکیدارسے سب کچھ معلوم ہوتا ہے۔  اب تم بتاؤ تمھارا کیا خیال ہے کیا میں امید رکھوں کہ تم میری پیش کش کو رد نہیں کرو گی ؟ ویسے آج کی اس ملاقات کی یادگار یہ انگوٹھی قبول کرو خاص تمھارے لئے خریدی ہے۔  ‘‘

چھوٹا ساہیراجڑی ہوئی خوبصورت انگوٹھی شائستہ کی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی دل دھڑ ک رہا  تھا منزل کا روشن مینار اس کے سامنے تھا ماضی کی محرومیاں کچو کے لگا رہی تھیں آرزوؤں کی کہکشاں تصور میں بکھر رہی تھی زندگی کو ہر  چیز کی ضرورت ہوتی ہے روٹی کپڑا مکان اور  محبت خواہ وہ جھوٹی ہی کیوں نہ ہو۔  شا ئستہ نے سنبھل کر کہا ’’سرمجھے سوچنے کے لئے کچھ وقت دیں ‘‘

شش و پنج کے سمندرمیں غلطاں وہ چپ چپ سی اٹھ کر چلی گئی منجمد جذبات میں ہلچل سی ہو رہی تھی جیسے ساکت پانی میں کسی نے کنکری پھینک دی ہو۔  رات بسترپر لیٹی وہ کروٹیں بدلتی رہی۔  خوش حال خوش اخلاق خوش شکل باس اس کے مشام جاں میں اترتا رہا۔  دل چپکے چپکے سرگوشی کر رہا تھا کہ تو ایک ننھی سی چڑ یا ہے نازک پروں میں قوت پرواز کب تک رہے گی شکاری رحم دل ہے اس کی اسیر ہو جا۔  اسی میں تیری عافیت ہے اور پر سکون عاقبت بھی ہے۔  صبح وہ نہا دھوکر ہلکی پھلکی ہو گئی۔  آفس جلدی چلی گئی۔  اتفاقا صفی احمد بھی جلدی آ گئے تھے۔ شائستہ غیر ارادی طور پر صفی کے کمرے میں چلی گئی اس سے نگاہ ملتے ہی نظریں آپ ہی آپ جھک گئیں ہو نٹوں پر دبی دبی سی مسکراہٹ تھی اسے دیکھتے ہی صفی احمد نے کہا۔  ’’تو فیصلہ کر لیا تم نے ‘‘وہ کچھ کہنے کے لئے اندر گئی تھی اچانک سوال پر شرما کر باہر آ گئی اس کا دل دھڑ ک رہا تھا توبہ کتنے چا لا ک ہیں چہرے کی کتاب کیسے پڑھ لیتے ہیں۔۔۔  صفی نے اسے آواز دی وہ پھر اندر گئی اور  جلدی سے کر سی پر بیٹھ گئی۔ ’’کچھ کہنا چاہتی ہو ؟‘‘

’’جی کوئی خاص بات نہیں ہے آپ سے بس ایک وعدہ لینا تھا۔  ‘‘

’’کیساوعدہ جلدی بتاؤ؟‘‘

’’یہ کہ آپ۔۔۔  آج سے۔۔۔  شراب۔۔۔  نہیں پئیں گے!‘‘

’’تو تم نے ابھی سے پابندیاں لگانا شروع کر دیں ؟‘‘

’’جی یہ پابندی نہیں ہے بلکہ آپ کی صحت اور  مستقبل کی حفاظت کے لئے ایک وعدہ لے رہی ہوں آپ کی جان اکیلے آپ کی نہیں ہے نا۔  ‘‘

’’ٹھیک ہے آج آخری بار پیوں گادوستوں نے پہلے سے پرو گرام دے رکھا ہے خود میں نے کہہ دیا تھا کہ یہ آخری پروگرام ہو گا۔  ‘‘

’’ٹھیک ہے بس اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ اگر آپ کو کچھ ہو گیا تو اس دولت جائیداد اور  اولاد کا کیا ہو گا؟‘‘

اور  باس نے مسکر اکر اس کے ہاتھ اپنے گرم ہاتھوں میں لے لئے اور تر نم کے ساتھ ایک خوبصورت شعر پڑھا۔

اے دوست ذرا اور  قریبِ رگ جاں ہو

کیا جا نے کہاں تک شب ہجراں کا دھواں ہو

دوسرے دن صبح وہ ٹائم پر آفس پہنچی تو ایک سرا سمیگی کا عالم تھا چوکیدار کے علاوہ اسٹاف کے سبھی ممبرس کی پلکیں بھیگی ہوئی تھیں ٹائپسٹ نندا نے جلدی سے آگے بڑھ کر شائستہ سے کہا کہ ’’باس اب ہمارے بیچ نہیں رہے وہ کبھی نہ آنے کیلئے ہم سے بہت دور چلے گئے ہیں۔  چلو ہم سب ان کے گھر جا رہے ہیں۔ ‘‘شائستہ کو سکتہ سا ہو گیا وہ خالی خالی آنکھوں سے سب کے چہرے دیکھ رہی تھی تب ہی جہاں کھڑی تھی وہیں گر گئی۔  کچھ لوگ اسے اسپتال لے گئے تین دن تک اسے غش آتے رہے چوتھے دن وہ ہوش میں آئی ٹا ئپسٹ نند ااسے دیکھنے آئی تھی شائستہ کے پو چھنے پر اس نے بتا یا کہ اس رات باس اپنے دوستوں کے پاس سے گھر آ رہے تھے کہ روڈ ڈوائڈرسے ان کی کار ٹکر آ گئی اور آن دی اسپاٹ ان کی ڈیتھ ہو گئی۔  شائستہ کو یاد آیا کہ وہ اپنا آخری پروگرام  اٹنڈ کرنے گئے تھے وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی اور پھر بے ہوش ہو گئی۔  پندرہ دن بعد وہ کچھ نارمل ہوئی ڈسچارج ہو کر گھر آئی ماں پریشان تھی اس کی خاطر اپنے آپ کو سنبھالا۔  دوسرے دن آفس گئی تو دیکھی کہ صفی احمد کی کر سی پر ان کا دو ست رشید بیٹھا تھا شائستہ کو دیکھ کر کھڑا ہو گیا۔  

’’آؤ شائستہ آؤ میں پچھلے پندرہ دن سے شدت کے ساتھ تمھارا انتظار کر رہا تھا تم سے کچھ بات کرنے کے لئے بے چین تھا۔  ‘‘

شائستہ کی آنکھوں سے غیر ارادی طور پر آنسو رواں تھے وہ ایک کر سی پر بیٹھ گئی۔  رشید نے کہا۔  

’’شائستہ آج میں تمھیں اپنے ایک راز میں شامل کر کے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہوں۔ ‘‘

’’کیساراز رشید صاحب!اور  آپ نے اپنے راز میں مجھے شامل کرنے کا ارادہ کیوں کیا ہے ؟‘‘

’’اس لئے کہ اس کا تعلق تم سے بھی ہے۔  شائستہ میں تمھارا اور  اسریٰ کا گنہ گار ہوں ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔ ‘‘’’رشید صاحب صاف صاف بتائیے بات کیا ہے آپ پہیلیاں کس لئے بجھا رہے ہیں ؟‘‘

’’تمھیں معلوم ہے صفی میرا دوست تھا بزنس پارٹنر بھی تھا اس کے خاندان کے لوگ مجھے اپنے ہی خاندان کا ایک فرد مانتے تھے اس لئے اکثراس کے گھر بھی جا یا کرتا تھا۔  تم یہ بھی جانتی ہو کہ اسریٰ کبھی کبھی اچانک آفس آ جاتی تھی۔  تمھارے تقرر کے بعد جب وہ آفس آئی اور  تمھیں دیکھا تواسی دن سے شک میں پڑ گئی اس نے مجھے تم پر اور  صفی پر نظر رکھنے کے لئے کہا میں رفتہ رفتہ تم لوگوں کے تعلقات سے واقف ہو گیا اور  اسریٰ کو بھی واقف کرتا رہا۔  وہ صفی کو جلا نے کی خاطر اپنا وقت زیادہ تر باہر کلب اور  پارٹیوں میں گزارنے لگی تھی میری رپورٹس سن کر صفی سے متنفر ہوتی جا رہی تھی میں یہی چاہتا تھا کہ دونوں کے بیچ نفرتوں کے پہاڑ کھڑے ہو جائیں دراصل میری نیت خراب ہو گئی تھی میں کالج کے زمانے سے ہی اسریٰ کو اپنا لینا چاہتا تھا لیکن صفی کے بیچ میں آ جانے سے ایسا نہ ہو سکا۔  ‘‘

رشید کچھ دیر کے لئے رک گیا میز پر رکھے ہوئے باٹل سے گلاس میں پانی لے کر پیا اس دوران وہ شائستہ کے چہرے کا بغور جائزہ لے رہا تھا جو بے حس و حرکت بیٹھی رشید کے چہرے پر نظریں لگائے ہوئے تھی۔  ’’تم سن رہی ہو نا؟‘‘

’’جس رات صفی کی کار حادثہ کا شکار ہوئی اس رات میں اس کے دوست ساجدکے گھر پہونچا۔ دو چاردوست پینے پلا نے کی محفل سجائے مصروف تھے موقع دیکھ کر میں نے صفی کی کار کے بر یک کھول دیے اور  پھر وہی ہوا جو میں چاہتا تھا لیکن آج اس کے بیوی بچوں کی اور  تمھاری حالت مجھ سے دیکھی نہیں جاتی میرے دل پر ایک بوجھ سا تھا اب میں اسری سے بھی معافی مانگنے جا رہا ہوں پہلے تم مجھے معاف کر دو تاکہ۔۔۔  ‘‘

رشید کا جملہ ختم ہونے سے پہلے شائستہ ایک جھٹکے سے اٹھی میز پر رکھا ہوا پانی کا باٹل اٹھایا اور  اس کے سرپردے مارا اور  وہ ہذیانی انداز میں چلا رہی تھی۔

’’کمینے خودغرض انسان تو حیوان سے بدتر ہے تو نے صفی کو مار ڈالا ایک فرشتے کا قتل کر دیا تجھے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے میں تجھے  جینے نہیں دوں گی۔۔۔  ‘‘

 رشید کے سرسے خون کا فوارہ بہہ رہا تھا وہ سر پر دستی رکھے تیزی کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گیا شائستہ ہاتھ میں باٹل لئے ہوئے اس کی طرف لپکی اور  لڑکھڑا کر گر گئی۔

 

OOOOO