کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

پیاسی شبنم

افروز سیدہ


ہمارے بعد اس محفل میں افسانے بیان ہوں گے

بہاریں ہم کو ڈھونڈیں گی نہ جانے ہم کہاں ہوں گے

نہ ہم ہوں گے نہ تم ہو گے نہ غم ہو گا مگر پھر بھی

ہزاروں منزلیں ہوں گی ہزاروں کارواں ہوں گے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کل عماد کی روانگی تھی ،  دونوں ایک دوسرے کی قربت میں وقت گزارنا چاہتے تھے ،  دن رات کی بانہوں میں سمٹ گیا ،  ہزاروں راتوں کا حسن وہ ایک رات میں سمودینا چاہتے تھے کہ یہ رات ان کے پیار کی گواہ رہے دونوں کے دل سے ایک ہی دعا نکل رہی تھی کہ اے خدا تیری قدرت کے صدقے اس رات کی سحر نہ کرنا رات کے گزرتے ہی میرا حبیب مجھ سے جدا ہو جائے گا لیکن سحر تو ہونا ہی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خوب صورت ایر ہو سٹس دو تین بار اس کے سامنے آئی اور  شائستہ لہجے میں اس کی کسی ضرورت کے بارے میں دریافت کیا لیکن عماد نے احساس تشکر کے ساتھ انکار میں سرہلا دیا اور  وہ مسکراہٹ کے پھول بکھیرتی ہوئی چلی گئی۔  چار پانچ گھنٹے قبل اپنی ماں کے زانوں پر سر رکھے وہ انھیں تسلیاں دے رہا تھا۔  بے روزگاری سے بیزار اپنے ہی وطن میں اپنے مستقبل سے مایوس وہ دیار غیر کی طرف نکل پڑ ا تھا۔ روٹی دنیا کی ایک زبردست حقیقت ہے اس روٹی کے لئے انسان کیا کچھ نہیں کرتاسچ تو یہ ہے کہ اس دنیا کا سارا کاروبار روٹی ہی کے اطراف گھوم رہا ہے۔  ماں گزشتہ پچیس سال سے ہمیں اپنی محنت کی کھلاتی رہی ہیں ، عماد سوچوں کے عمیق سمندر میں غرق تھا اتنے سالوں میں باپ نے کبھی پلٹ کر نہیں پوچھا۔  اپنوں سے امی نے کوئی آس رکھی نہیں انھیں اس بات سے کوئی واسطہ نہیں تھا کہ دونوں ماموں خو بصورت بنگلوں اور قیمتی کاروں کے مالک تھے دولت ان کے گھرکی باندی تھی۔ انھیں کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ اپنے عیش و آرام کا ذرا سا حصہ اپنی بہن کے نام لکھ دیتے۔  خدا کی اس تقسیم پر ہم نے قناعت کر لی تھی ماں نے کبھی کسی کے آگے اپنی کم مائیگی کا رونا نہیں رویا۔  کروڑوں متوسط لوگوں میں سے ہم بھی تھے کبھی اچھا کھا لیا کبھی برا،  کبھی اچھا پہن لیا کبھی برا،  کبھی ہنس لئے کبھی رو لئے۔  محرومیوں پر کڑھتے اور  خوبصورت امیدوں پر جیتے ہم دونوں بھائی زندگی کے ساتھ چل پڑے اور  آج جوان ہو کر اپنی ماں کو آسودہ زندگی دینے کے قابل ہو گئے ہیں پہلے ہم ایک چھوٹا ساگھر بنائیں گے اور  ماں اپنے پوتوں پوتیوں کے ساتھ۔۔۔   پلین نے ایک ہلکاساجھٹکا لیا عماد ماضی کے حصارسے نکل آیا گھڑی پر نظر ڈالی اسے جہاز پر سوار ہوئے تین گھنٹے ہو رہے تھے زمین سے جو نہی  جہاز کا رابطہ ٹوٹا عماد اپنی ماں کی جھرنے بہاتی سرخ سرخ آنکھوں کو یاد کر کے بے چین ہو رہا تھا۔  گزرے ہوئے دنوں کی تکلیف وہ یا دوں میں الجھ گیا تھا جہاز کے جھٹکوں نے خیالات کا تسلسل تو ڑ دیا۔  معاً اعلان ہوا کہ منزل مقصود قریب ہے سب اپنی اپنی پیٹیاں باندھ لیں مستقبل کے سہانے سپنوں کے کیف وسرور میں جھومتا ہوا وہ ایر پورٹ پر اترا تو اس کے دوست نظر آ گئے جو اسے لینے آئے تھے ان کے ساتھ ایک سانولی سلونی سی دلکش خدوخال والی لڑکی بھی نظر آئی جو لبوں پر خفیف سی مسکراہٹ لئے اشتیاق بھری نظروں سے عماد کو گھورے جا رہی تھی جیسے اس کی آنکھوں کو عماد ہی کا انتظار تھا۔  عماد کو اپنے و جود کے اندر ایک انجانی سی آتشیں لہر سرسراتی محسوس ہوئی وہ ایک ایک کر کے اپنے دو ستوں سے بغل گیر ہو نے لگا اور  سیاہ آنکھوں والی اس لڑکی پر ایک گہری نظر ڈالتے ہوئے اس نے ہیلو کہا۔  اس نے بھی ایک دلا ویزسی مسکراہٹ کے ساتھ ہیلو سے ہی جو اب دیا اور  گھنی پلکیں جھکا لیں۔  اسے یوں محسوس ہوا جیسے ان پلکوں نے اسے اپنے اندر سمیٹ لیا ہو۔  اظہر نے تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ یہ مس صبا ہیں اور  انھیں کے ساتھ دوا خانہ میں کام کرتی ہیں دو دن گزرے تھے کہ عماد کو تیز بخار نے دبوچ لیا۔  ماں کی جدائی ؛ سفر کی تکان اور بدلے ہوئے گرم خشک موسم کا اثر تھا کہ وہ نڈھال ہو گیا۔ سسٹر صبا ہاتھ میں واٹر بیگ لئے تیز تیز قدم اٹھاتی عماد کے روم کی طرف جا رہی تھی جہاں وہ اپنے دو سرے تین ساتھیوں کے ساتھ مقیم تھا۔  راستے میں سسٹرنسیم مل گئی اور پوچھا : یہ واٹر بیگ کس کے لئے لے جا رہی ہو ؟‘‘

’’عماد بہت تیز بخار میں متبلا ہیں ان ہی کے لئے لے حا رہی ہوں ؛؛

’’چلو میں بھی دیکھ لیتی ہوں ‘‘نسیم نے کہا

عماد بیڈ پر لیٹا ہوا بہت کمزور دکھائی دے رہا تھا صبا اور  نسیم بیڈ کے قریب بیٹھ گئیں ،  صبا متفکر نظر آ رہی تھی۔

’’صبا! ایک اجنبی کا اتنا خیال اتنی خدمت کیا بات ؟! کوئی گڑ بڑ تو نہیں ؟‘‘نسیم نے صبا کی طرف شوخ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا ’’نسیم۔۔۔   یوں تو اپنا پیشہ ہی ایسا ہے ناکہ ہمیں ہر مریض کا خیال رکھنا چاہئیے پھر عماد تو  اپنے اسٹاف سے ہے۔  پتہ نہیں کیا بات ہے وہ جب سے آئے ہیں ایسا لگتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔  ‘‘

’’پانی۔۔۔  پانی۔۔۔  ‘‘عماد کی آواز میں نقاہت تھی وہ نیم بے ہوشی کے عا لم میں پانی مانگ رہا تھا۔  صبا نے چمچے سے اسے پانی پلایا۔  عماد کے صحت یاب ہونے تک صبا اس کی خدمت میں لگی رہی اور  عماد قطرہ قطرہ اس کی بانہوں میں پگھلتا رہا۔  اس کی محبت میں اس قدر ڈوب گیا کہ اس کی ہر سوچ صبا سے شروع ہو جاتی اور  اسی پر ختم ہو جاتی وہ جلد از جلد صبا کے بارے میں اپنی ماں کو تفصیلی خط لکھ دینا چاہتا تھا وہ اپنی سوچوں میں گم سگریٹ سے شغل کر رہا تھا کہ صبا آ گئی اور  اس کے ہاتھ سے سگریٹ لیکر پھینکتے ہوئے کہا۔ ’’تم آج پھر سگریٹ کا پیکٹ لے بیٹھے!کیا آج پھر سوچوں کا دو رہ پڑ گیا ہے ؟‘‘’’ہاں سوچ رہا ہوں تم نے مجھے کیاسے کیا کر دیا ہے تمھارے سوا مجھے سب کچھ بھول گیا ہے دو مہینے ہو گئے امی جان کو خط نہیں لکھا آج ان کی بہت یاد آ رہی ہے بھائی کو دوبئی گئے ہوئے سات ماہ ہو گئے جا نے ماں کتنا اکیلا پن محسوس کرتی ہوں گی۔  صباسچ بتانا تمھاری شخصیت میں یہ کیا جادو ہے کہ۔۔۔  ‘‘’’بس بس ‘‘صبا نے اس کے ہو نٹوں پر اپنی انگلیاں رکھ دیں عماد نے اس کے ہاتھ کو تھام لیا اور اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا صبا نشہ بن کر اس کی رگ رگ میں اتر رہی تھی ’’عماد کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ تم اتنے اداس کیوں رہتے ہوں ؟کیا مجھے نہیں بتاؤ گے ؟اپنے دکھ کسی کو سنانے سے دل ہلکا ہو جاتا ہے بتاؤ نا کیاسوچ رہے ہو؟‘‘’’کچھ نہیں صبا کوئی خاص بات نہیں ہے بتایا تو تھا کہ میری ایک ماں ہے اور  ایک بھائی اور  بہن کو خالہ نے اپنے پاس رکھ لیا ہے تقدیر شاید ہم سے روٹھی ہوئی ہے بھائی کہیں تو بہن کہیں ماں کہیں اور میں کہیں سب ایک دوسرے کی یا دمنی جلتے سلگتے رہتے ہیں۔  میں اکثرسوچتا ہوں کہ یہ بے جوڑ شادیاں ہوتی کیوں ہیں کہ ایک ون میاں بیوی میں علیٰحدگی ہو جاتی ہے اولاد تباہی کا سامنا کرتی اور  زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔  میرے ہی والدین کو دیکھ لور پانچ سال تک ایک دوسرے کے ساتھ رہے لیکن ایک دوسرے کو سمجھ نہ پائے والد نے دوسری شادی کر لی اور ماں نے خلع لے لی مہر کے عوض ہم بچوں کو مانگ لیا تب ہی سے محرومیاں ہمارا مقدر بن گئی ہیں مستقبل کی آسودگی اور  کامیابیاں منجمد اندھیروں میں ڈھل گئیں ہم نے ہمت نہیں ہاری خوداعتمادی کا دامن نہ چھوڑ اجیسے تیسے پڑھ لکھ لیا اور  اب ہم دونوں بھائی کچھ نہ کچھ کمانے کے قابل ہو گئے ہیں لیکن پھر بھی۔۔۔  ‘‘۔