کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

فیصلے کی رات

افروز سیدہ


ناخدا بے خود فضا خاموش ساکت موج آب

اور  ہم ساحل سے تھوڑی دور پر ڈوبا کئے

مختصر یہ ہے ہماری داستان زندگی

ایک سکون دل کی خاطر عمر بھر تڑ پا کئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہتے ہیں کہ ہر انسان کی زندگی میں کچھ پر کیف سے لمحات ضرور آتے ہیں جن کے سرور و لذت کو وہ اپنے وجود کے اندر جذب کر لینا چاہتا ہے۔  تم میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے مجھ سے مخاطب تھے یہ سب کچھ مجھے اچھا  معلوم ہو رہا تھا دل چاہتا تھا کہ وقت کی رفتار تھم جائے میں تمہیں دیکھتی رہوں تمہیں سنتی رہوں اچانک ہی تمہاری پر سوز نگاہوں کی تپش سے میرے اختیاری جبر کا بت پگھلنے لگا خرد نے کسی کو نے سے آواز دی ہوش میں آ تجھے یہ جنوں زیب نہیں دیتا اسی وقت تم نے۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سفینہ کی نظر جسیے ہی رفیق پر پڑی وہ دروازے کی اوٹ میں ہو گئی پھر جھک کر دیکھا۔  ہاں وہی ہیں لیکن کتنے بدل گئے ہیں کنپٹیوں پر سفید بال چمک رہے ہیں آنکھوں میں وہی سوز ہو نٹوں پر وہی اداس سی مسکراہٹ اور  چال میں وہی آن بان۔

رفیق کو وہ پچھلے دس برسوں میں کوشش کے باوجود لمحہ بھر کے لئے بھی نہ بھلا سکی تھی آج سفینہ نے اپنی بیٹی اسماء کی سالگرہ اعلی پیمانے پر منا نے کا اہتمام کیا تھا کیونکہ اسی سال اس نے میٹر ک درجہ اول میں پاس کیا تھا۔  سفینہ کے بار بار منع کرنے کے باوجود تقریب کا ساراخرچ اور  انتظام اس کے اسکول کے ڈائرکٹر حسن جاوید نے اپنے ذمہ لے رکھا تھا وہ ان کے اسکول میں پر نسپال تھی۔  آج اس تقریب میں رفیق کو دیکھنے کے بعد اس کی حالت عجیب سی ہو رہی تھی۔  وہی رفیق جسے پہلی بار دیکھتے ہی سفینہ کی خرد کے کو اڑ اپنے آپ بند ہو گئے اور وہ دیوانگی کے ساتھ گیٹ میں داخل ہوئے وہ صدر دروازہ کے قریب پہنچ گئے تھے۔  سفینہ جو مہمانوں کا استقبال کر رہی تھی تیزی کے ساتھ اپنے بیڈ روم میں چلی آئی اور  دروازہ بند کر لیا۔  یادوں کے ہجوم نے اسے گھیر لیا۔

اسٹینو ٹا ئپسٹ کے انٹر ویو کے لئے جب میں تمہارے ڈیٹکٹیوآفس میں آئی تو کچھ مرد و خواتین وہاں پہلے سے موجود تھے میرا نمبر آخری تھا نام پکارنے پر جب میں اندر آئی تو دیکھا کہ ایک میز کے دونوں سروں پر دو آفیسرز اور  درمیان میں تم بیٹھے ہوئے تھے میں چند لمحوں کے لئے تمہاری پر کشش شخصیت میں کھو گئی۔  سحر زدہ سی ہو گئی جسیے صدیوں سے مجھے تمہاری ہی تلاش تھی کتنی معصومیت تھی تمہارے چہرے پر تم مجھے ایسے دیکھ رہے تھے جسیے کوئی کمسن بچہ اپنے من پسند کھلو نے کو دیکھتا ہو۔  تمہاری آنکھوں میں ایک سوز اور  ہونٹوں پر سوگوارسی مسکراہٹ تھی۔  میں تمہارے سوالوں کے جواب کھوئے کھوئے انداز میں دیتی رہی تم نے پو چھا ’’آپ نے کہاں تک تعلیم پائی ہے ؟ ’’جی میں نے بی۔  اے کیا ہے  ‘‘’’پہلے بھی کہیں کام کیا ہے ؟ ’’جی ہاں میں ٹیچر ہوں ‘‘’’موجو دہ ملازمت کیوں چھوڑ نا چاہتی ہیں ؟‘‘میں خاموش رہی ’’آپ کیا تنخواہ چاہتی ہیں ؟ ‘‘’’یہ تو وقت اور  کام پر منحصر ہے ؟ ‘‘’’کیا آپ کو جا سوسی کے کام سے دلچسپی ہے ؟‘‘

’’جی ہاں بہت ہے ‘‘’’آپ کے شوہر کیا کرتے ہیں ؟ ‘‘’’وہ گزر چکے ہیں وہ زمیندار تھے ‘‘’’کتنے بچے ہیں ؟‘‘’’ایک لڑکی ہے ‘‘’’والدین ہیں ؟‘‘’’جی نہیں۔  میں اپنے سوتیلے بھائی اور  بھابی کے ساتھ رہتی ہوں ‘‘’’ٹھیک ہے آپ باہر بیٹھیں ‘‘ایک گھنٹہ انتظار کے بعد تم نے مجھے اپو ائنٹ منٹ لیٹر دید یا وہ ایک گھنٹہ میری ساری زندگی پر محیط ہو گیا۔  رات کے پچھلے پہر ہی سے میں آفس آنے کی تیاری شروع کر دیتی اور  سب سے پہلے پہنچ جاتی۔  تم وقت کے بڑے پابند تھے صفائی تمہیں بہت پسند تھی۔  کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ میں سارے آفس کی صفائی اپنے ہاتھ سے کر دیتی آہستہ آہستہ میں نے آفس کا حلیہ بدل کر رکھ دیا لیکن تم نے یہ سب کچھ پسند کیا تھا یا نہیں اس بات کا مجھے اندازہ نہ ہو سکا کیونکہ کام سے ہٹ کر تم کسی سے کوئی بات نہ کرتے تھے۔  کسی نے تمہیں مسکراتے بھی نہیں دیکھا تھا صبح ٹائم پر آفس آ جاتے اور  شام ہونے پرہی اپنے کمرے سے باہر نکلتے تمہاری شخصیت مجھے شرلاک ہو مزکی طرح پر اسرارسی لگتی  میں تمہیں دیکھنے کی منظر رہتی صبح اور شام کا انتظار صرف تمہیں دیکھنے کیلئے کرتی رہتی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ مجھے کیا ہو رہا ہے یہ کو نساجذ بہ ہے جس نے مجھے ہر چیز سے بے نیاز کر دیا ہے دید کی طلب کے اس جذبے کا نام کیا ہے اور اس کا انجام کیا ہے ؟ میری بے تاب نظروں کا راز اگر طشت از بام ہو جائے تو کیا ہو گا میں نے تو اپنے جذبات واحساسات کے خزانے کو ایک کال کوٹھڑی میں بند کر دیا تھا۔  تم ایک افسانوی شہزادے کی مانند میری ویران دنیا میں کہاں سے آ گئے اور اس کال کوٹھڑی پر کیوں دستک دے رہے ہو جسے مقفل کر کے میں نے اس کی کنجی بھی کسی سمندر میں پھینک دی ہے۔  میری زندگی کا چاند تو گہنا گیا میں نے اجالوں کی تمنا ہی چھوڑ دی تھی پھر یہ رنگ و نور کی کہکشاں سی میری را ہوں میں کیوں بکھر رہی ہے میں تو ایک خالی سیپ کی مانند ہوں ایک تیس سالہ بیوہ جس کے سامنے اس کی ایک لڑکی کا مستقبل بھی ہے۔  میری ذراسی لغزش بد نامی و رسوائی کے گہری کھائی میں ڈھکیل سکتی ہے۔  بار ہا سوچا کہ استعفی دیدوں اس ارادہ کو عملی جامہ پہنا نے کی کوشش میں دو دو دن غیر حاضر ہو جاتی لیکن تیسرے دن بے تاب و بے حال دوڑی چلی آتی۔  دن گزر رہے تھے چند ماہ بعد تم نے مجھے جاسوسی کے کیس دینا شروع کئے مجھے اپنے کمرے میں بٹھا کرکیس سمجھا تے۔  جب تک تمہارے سامنے بیٹھی رہتی کان تمہارے الفاظ پر اور  نظر تمہارے چہرے پر مرکوز رہتی میں کیس کو خوش اسلوبی کے ساتھ سلجھاتی رہی اور خود الجھتی چلی گئی تم میرے کام سے مطمئن معلوم ہوتے تھے ایک انجانا سا اطمینان مجھے بھی محسوس ہوتا تھا وہ دن مجھے آج بھی یاد ہے جسیے کل ہی کی بات ہوآسمان پر گھٹائیں چھا رہی تھیں ماحول پر ایک سکوت ساطاری تھا ایسا سکوت جو کبھی کبھی کسی طوفان کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوتا ہے۔  شام کے چار بج چکے تھے ایک اہم کیس کے سلسلہ میں تم نے مجھے بلایا اور  آفس ٹائم کے بعد اپنے ساتھ چلنے کہا۔  تمہاری قربت کے خیال ہی سے میرے دل کی دھڑکنیں بے قابوسی ہو رہی تھیں۔  میرے اندر سلگتی آگ کی حرارت کو اگر تم نے محسوس کر لیا تو کیا ہو گا۔  

اپنے احساسات و خیالات سے میں تمہیں آگاہ کرنا نہیں چاہتی تھی۔  مجھے تم سے محبت تھی بس ، روحانی محبت ، جسے میں ایک طرفہ ہی رکھنا چاہتی تھی۔  اکیلی فنا ہو جانا چاہتی تھی کیونکہ اس فنا میں مجھے اپنی بقا نظر آتی تھی۔  نہ چاہتے ہوئے بھی میں کانپتی لرزتی تمہاری گاڑی میں بیٹھ گئی راستہ بھر ہم نے کوئی بات نہیں کی۔  تم مجھے اپنے اس گھر میں لے گئے جو زیر تعمیر تھا تمہارا چوکیدار حیرانی سے دیکھ رہا تھا تم نے بتایا کہ مزدوروں کی نگرانی کے بہانے وہاں ٹھیر کرسامنے والے گھر کی مالکہ کی حرکات و سکنات پر نظر رکھوں جو ایک ہیلت کیئر سنٹر چلا رہی تھی جہاں مردو خواتین کا تانتا بندھا رہتا۔  اس کا شوہر ملک سے باہر ملازمت کرتا تھا۔  تم نے چوکیدار کو ناشتہ اور  چائے لانے کہا۔  پہلی بار تم نے کام سے ہٹ کر کوئی بات کی تھی۔  میرا دل اچھلنے لگا۔

کہتے ہیں کہ ہر انسان کی زندگی میں کچھ پر کیف سے لمحات ضرور آتے ہیں جن کے سرورولذت کو وہ اپنے وجود کے اندر جذب کر لینا چاہتا ہے تم میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے مجھ سے مخاطب تھے یہ سب کچھ مجھے اچھا معلوم ہو رہا تھا۔  دل چاہتا تھا کہ وقت کی رفتار تھم جائے میں تمہیں دیکھتی رہوں تمہیں سنتی رہوں۔  اچانک ہی تمہاری پر سوز نگاہوں کی تپش سے میرے اختیاری جبر کا بت پگھلنے لگا خرد نے کسی کونے سے آواز ادی ہوش میں ا!! تجھے یہ جنون زیب نہیں دیتا۔  اسی وقت تم نے میرے ہاتھ کو اپنے مضبوط اور  تپتے ہوئے ہاتھ کی گرفت میں لے لیا جس کی تپش میرے وجود کے اندر اتر نے لگی۔  تم نے میری کال کوٹھڑی کے قفل کو کھول دیا۔  میں نے تمہیں معصوم شہزادہ سمجھا تھا اپنی سجدہ گاہ میں تمہیں بٹھا لیا تھا میں اپنے جنون کے سہارے مقام آگہی کو پا لینا چاہتی تھی۔  تم نے یہ کیا کر دیا ؟ محبت کی موم بتی کو پگھلا کر قطروں میں بہا د یا! تم بھی عام مردوں کی طرح نکلے میرے بھرم کو پا مال کر دیا! اب کیا ہو گا ؟ میں کیا کروں! تم سے لمحہ بھر کی فرقت برداشت نہیں کر سکتی اور تم مجھے عمر بھر کی رفاقت دے نہیں سکتے۔  کیونکہ تم ایک شادی شدہ مرد ہو۔  ایک کنبہ کے سرپر ست ہو۔