کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

مکافات عمل

افروز سیدہ


دل کا وہ حال ہوا  ہے غم دوراں کے تلے

جیسے اک لاش چٹانوں میں دبا دی جائے

تم بھی مجرم ہو فقط میں ہی گنہ گار نہیں

میں یہ کہتا ہوں کہ دونوں کوسزادی جائے

کیا عزت دار مرد ایسے ہی ہوتے ہیں جو اپنی نو بیاہتا جوان بیوی کو چھوڑ کر ہزاروں میل دور چلے جاتے ہیں اور بر سوں صورت نہیں دکھاتے کیا ایک عزت دار مرد کے دل میں اولا دکی بھی محبت نہیں ہوتی؟کوئی عورت کہاں تک حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر سکتی ہے ؟ ایک افلاس زدہ بیمار ماحول میں کوئی کب تک زندگی گزارسکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ایک دن مجھے نرم گرم گدے پر لیٹنے کا موقع مل گیا دل کی آرزو پوری ہو گئی تھی برسات کی ٹھنڈی ہوائیں اور  سردی جانے کہاں چلی گئی تھی بہت مزا آ رہا تھا میں فریدہ بی بی کے ساتھ چمٹ کر لیٹ گئی تھی ان کے صاف ستھرے کپڑوں میں سے بھینی بھینی خوشبو آ رہی تھی ان کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے میں کہیں کھو گئی تھی کاش ہمارا بھی ایسا گھر ہوتا ایسا ہی نرم گرم بستر ہوتا جا نے کیوں کچھ لوگ بہت پیسے والے ہو تے ہیں اور کچھ ہماری طرح غریب کیوں ہو تے ہیں میرا کچا ذہن ان باتوں کو سمجھنے سے قاصر تھا۔

میری ماں محلے کے تین چار گھروں میں کام کر کے اپنا اور  اپنے خاندان کا پیٹ پال رہی تھی خاندان ہم تین نفوس پر مشتمل تھا ماں مجھے پیار سے نگینہ کہتی تھی اور ایک بڑا بھائی تھا شبیر ، دن بھر کام کرتے کرتے میرے ہاتھ پاؤں درد کرتے تھے ماں بھی بہت محنت کرتی تھی چار گھروں میں جھاڑو برتن پونچھا کرتی اور  کپڑے دھوتی تھی اس کے تمام کاموں کو نپٹانے میں ، میں اس کی پوری مدد کرتی تھی ان گھروں سے ہمیں جو کھانا ملتا وہ ہم سب کے دو وقت کے لئے کافی ہو جاتا تھا۔  لیکن ہمارا گھر بس نام کا گھر تھا۔  مٹی کی بو سیدہ دیواروں کا ایک کمرہ جس پر ٹوٹے ہوئے اسبسطاس کی چھت تھی بر سات کا پانی کمرے میں بھر جاتا تو میں اور  میرا بھائی برتنوں میں پانی بھر بھر  کر باہر پھینکتے رہتے اور  رات یو نہی گزر جاتی ان دنوں ماں بیمار ہو جاتی تب مجھے اکیلے ہی کام پر جانا پڑتا ورنہ ہمیں بھو کے رہنا پڑتا تنخواہ لگ کٹ جاتی۔  مجھے بارش کا موسم بہت اچھا لگتا تھا دن بھر پانی میں اچھلتی کودتی تمام کام کرتی رہتی تھی۔  فریدہ بی بی کے لوگ بہت اچھے تھے مجھے بہت پیار کرتے میرے کام کو پسند کرتے تھے میں انھیں کے دیئے ہوئے کپڑے اور  سینڈل پہنتی تھی میری بستی کی لڑکیاں ان چیزوں کو دیکھ کر جلتی تھیں دو ایک سہیلیاں مجھے دیکھ خوش ہوتیں اور کہتیں ’’نگینہ تو ان کپڑوں میں شہزادی لگتی ہے تو اتنی خوب صورت کیوں ہے ؟ بستی کا ہر لڑکا تجھے اپنی دلہن بنانا چاہتا ہے۔  ہم سے تو کوئی بات بھی نہیں کرتا ’’چھوٹے بڑوں سے اپنی تعریف سن کر میں پھولی نہ سماتی ماں اور  دوسرے لوگ بھی میری تعریف کرتے نہ تھکتے تھے۔  اور میں سوچاکرتی کہ میں فریدہ بی بی سے زیادہ خوب صورت ہوں تو میرے پاس زیور، کپڑے اچھا گھر  اور کار نہیں ہے نرم گرم گدے والابستر اور  اچھے  کھلو نے کیوں نہیں ہیں اس دن مجھے نرم گرم گدے والی مسہری پر لیٹنے کا موقع مل گیا میں صرف ایک گھر میں کام کر کے فریدہ بی بی کے گھر آ گئی تھی ان کی امی نہیں تھیں اس لیے ان کے ساتھ  ان کے بستر پر لیٹ گئی تھی تب ہی انھوں نے کہا کہ میرے کپڑوں سے گندی بو آ رہی ہے میں سیدھے ان کے باتھ روم میں گھس گئی خوشبودار صابن مل مل کر خوب نہا یا ان کے کپڑے مانگ کر پہنے پاؤ ڈر اور لپ سٹک لگائی آئینے میں اپنا سراپا دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گئی بہت دیر تک یوں ہی اپنے آپ کو دیکھتی رہی کچھ دیر بعد اپنے وہی میلے کچیلے کپڑے پہن لئے جلدی جلدی کام پورا کر کے گھر بھاگی ماں اور بھائی میرے انتظار میں بھوکے بیٹھے تھے۔  کھانا کھانے کے بعد میں نے ماں سے پوچھا۔  ’’ماں کچھ لوگوں کے پاس ڈھیرساری اچھی اچھی چیزیں ، بنگلہ اور  کار کیوں ہوتے ہیں ہمارے پاس نہ گھر ہے نہ گھر کا سا مان ہے نہ ہی ہم دو وقت پیٹ بھر کر روٹی کھا سکتے ہیں ایسا کیوں ہے ماں ؟‘‘

’’بیٹا سب لوگ بہت بڑی پڑھائی کر کے بہت ساروپیہ کماتے ہیں اور اسی پیسے سے سب کچھ خرید تے ہیں ‘‘۔

’’میں بھی پڑھوں گی ماں پڑھ لکھ کرپیسہ کماؤں گی مجھے بھی اسکول میں شریک کرا دو نا ماں ‘‘۔

’’تجھے پڑھا نے میں پیسہ کہاں سے لاؤں گی اور تو پڑھنے جائے گی تو کام کیسے ہو گا ؟‘‘

’’ماں تم دو گھروں میں کام کر لینا باقی دو گھروں کا میں اسکول سے آ کر کر لوں گی میں ضرور پڑھوں گی ماں!ورنہ کام بھی نہیں کروں گی۔۔ ہاں ‘‘

دوسرے دن فریدہ بی بی کی امی کے پیروں کو چھو کر،  ہم نے انھیں راضی کر لیا مجھے اسکول میں شریک کرا دیا تھا اسکول کی دنیا دیکھ کر میں دنگ رہ گئی ایک ہی جیسے صاف ستھرے کپڑے ساکس اور جوتے پہنی نکھری نکھرسی لڑکیاں مجھے بہت اچھی لگیں میرے پاس تو اچھے کپڑے تھے نہ جوتے لیکن میرے پاس اچھا بیگ اور  کتا بیں تھیں۔  میں نے دل لگا کر پڑھائی شروع کر دی۔  ہر سال امتیازی نمبروں سے پاس ہوتی رہی اکثر لڑکیاں مجھ سے جلتی تھیں لیکن میری ٹیچرس میری ماں اور  مجھے پڑھا نے والے مجھ سے خوش تھے مڈل کلاس میں آتے ہی میرا تعلیمی وظیفہ مقرر ہو گیا تھا۔  جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے تک مجھے اپنے حسن و شباب پر غرور پیدا ہو چکا تھا میٹرک پاس کرنے سے پہلے میرے لئے رشتے آنے شروع ہو گئے لیکن میں کسی کو خاطر میں نہ لاتی تھی میں نے ماں سے کہہ دیا کہ ’’تعلیم مکمل کرنے تک مجھے شادی نہیں کرنی ہے مجھے بہت آگے جانا ہے ایک آسودہ زندگی حاصل کرنے کے لئے بہت کچھ کرنا ہے ہم کب تک محرومیوں کے ساتھ گزارا کرتے رہیں گے دو وقت کی روٹی کے لئے تم کب تک برتن مانجھتی رہو گی ہم کب تک غربت اور افلاس کی چکی میں پستے رہیں گے میں جتنی حسین ہوں اتنی ہی حسین اپنی زندگی بنا نا چاہتی ہوں ‘‘۔

ماں مجھے حیرانی سے دیکھتی اور چڑ کر کہتی ’’تو پڑھ لکھ کر بہت باتیں بنانا سیکھ گئی ہے جھونپڑی میں رہ کر محلوں کے خواب دیکھنے لگی ہے تجھے اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ہمیں خواب دیکھنے کا کوئی حق نہیں ہے تو اپنی حدسے آگے نکلتی جا رہی ہے۔۔۔  اچھا نہیں ہو گا۔ ‘‘

’’کیوں ماں ایک دن تم ہی نے تو کہا تھا ناکہ لوگ پڑھ لکھ کرپیسہ کماتے اور شاہی زندگی گزارتے ہیں پھر میں پڑھ لکھ کر شاہی زندگی کے خواب کیوں نہیں دیکھ سکتی ؟میں تو خوب صورت بھی ہوں کیا مجھے خوب صورت زندگی نہیں مل سکتی ؟ کیا کوئی دولت مند لڑکا مجھ سے شادی نہیں کر سکتا ؟‘‘

’’ہم جھونپڑی میں رہنے والوں کی لڑکی کو محلوں کا شہزادہ کیوں بیاہ کر لے جائے گا ہمیں اپنے برابر والوں میں رشتہ کرنا چاہیئے!دیکھ شرفو آٹو والے کے رشتے کو ٹھکرا کر تو پچھتائے گی اس کا ذاتی آٹو ہے ذاتی مکان ہے پھر وہ تجھے پسند بھی کرتا ہے ہر عید بقر عید پر ہم سب کے لئے اپنی سکت سے زیادہ کپڑے وغیرہ لا کر دیتا ہے اور کیا چاہیے تجھے ؟‘‘

’’ماں!تم یہ کیا کہہ رہی ہو ؟ مجھے پڑھا لکھا کر ایک آٹو والے کے ہاتھ میں میرا ہاتھ دے دو گی؟ میری تعلیم میرا حسن کیا ایک آٹو والے کیلئے ہے تم دیکھ لینا کوئی بنگلے اور کار والا ہی مجھے بیاہ کر لے جائے گا ابھی مجھے شادی وادی نہیں کرنی ہے بس اب آگے کچھ نہ کہنا ہاں ‘‘میں نے اپنا دو ٹوک فیصلہ سنا دیا۔  

میٹرک کے امتحان ہو گئے ہمیشہ کی طرح میں اچھے نمبروں سے پاس ہو گئی فریدہبی بی بھی پاس ہو گئیں ان کا رشتہ طئے ہو چکا تھا لڑکے والوں نے امتحان کے فوری بعد رخصتی کرانے کہہ دیا تھا مجھے ان لوگوں نے ایک ہفتہ پہلے سے اپنے گھر میں رکھ لیا قریبی رشتے دار جمع ہو گئے باہر سے بھی کچھ لوگ آ گئے تھے بڑا ہنگامہ تھا۔  تمام عورتیں اور لڑکیاں ایک سے بڑھ کر ایک زیورات ، اعلی قسم کے سوٹ اور  ساڑ یوں میں ملبوس ہنستی بو لتی بہت خوش تھیں ان سب کو میں آنٹی یا آپا کہہ کر پکارتی مجھ سے چھوٹوں کو ان کے نام سے بلاتی تھی صرف فریدہ کو میں فریدہ بی بی کہتی تھی انھوں نے مجھے اپنے چار چھ پرانے سوٹ دے دئے اور دو نئے سوٹ سلوائے تھے جو بہت بھاری ہیں۔  کاش ہمارے گھر پر بھی ایسی خوشیاں نچھاور ہوتیں دھوم دھڑ اکا ہوتا میں ان ہی خیالوں میں کام نپٹاتی ادھر ادھر بھاگ دوڑ کر رہی تھی۔  پان کی کشتی جلدی جلدی لے جاتے ہوئے میں کسی سے ٹکرا گئی نظر اٹھا کر دیکھا تو دیکھتی رہ گئی مردانہ وجاہت کا دلکش نمونہ!یہ نظروں کا تصادم تھا یا دلوں کا ٹکراؤ!کون ہے یہ جو مجھے اپنی رگ جاں سے قریب محسوس ہو رہا ہے جیسے میری روح اسے صد یوں سے جانتی پہچانتی ہو!میرے دل کی دھڑکنوں سے صدا آ  رہی تھی ہاں تم وہی تو ہو جسے میں اپنے خوابوں میں دیکھتی رہی ہوں ، ہاں تم وہی شہزادہ ہو جو مجھے شاہی زندگی دے سکتا ہے جس کی میں برسوں سے آرزو کرتی رہی ہوں تم وہی ہو وہی تو ہوا ن کے ہونٹوں پر شریر مسکراہٹ کھیل رہی تھی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پو چھا ’’آپ کی تعریف ؟ ‘‘میری زبان جیسے گنگ ہو گئی تھی میں وہاں سے بھا گی پلٹ کر بھی نہیں دیکھا کہ میں پتھر کی نہ بن جاؤں!کچن میں آ کر دم لیا۔  فریدہ بی بی نے مجھے کہیں سے دیکھ لیا اور جلدی سے آ کر پو چھا ’’کیا ہوا نگینہ اتنی گھبرائی ہو کیوں ہو؟‘‘

’’جی۔۔۔۔۔۔  جی۔۔۔۔۔۔  وہ گورے لمبے سے۔۔۔۔۔۔  ‘‘

’’ہاں ہاں وہ خرم بھائی ہیں امریکہ سے آئے ہیں وہاں کے مشہورو مقبول ڈاکٹر ہیں انھوں نے تم سے کیا کہہ دیا ؟‘‘

اب میں کیا بتاتی کہ کچھ بھی نہ کہتے ہوئے انھوں نے کیا کچھ کہہ دیا تھا ایک نشہ سا میری رگ رگ میں اتر رہا تھا میں نے سنبھل کر کہا۔  

’’جی کچھ نہیں۔  کچھ بھی تو نہیں کہا‘‘ جانے وہ کیوں مسکرائیں اور چلی گئیں ‘‘۔

فریدہ بی بی کی شادی کے بعد ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا شادی کے کام سے تھک کر ماں گھر ہی پر تھی میں اکیلی کام پر آ رہی تھی اکثر گھر دیرسے پہنچتی ماں یہی سمجھے ہوئی تھی کہ شادی کا گھر ہے کام بہت ہو گا اس لئے دیر ہو جاتی ہے ہماری ہر شام باہر گزرنے لگی تھی نرم گدوں والی خوشبو میں نہائی ہوئی لمبی سی کار میں بیٹھنے کے بعد میرا رواں رواں جھوم اٹھتا کبھی پکچر کبھی پارک کبھی کسی بڑے سے ہوٹل میں بیٹھے رہتے۔  امریکہ واپس جانے سے پہلے وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتے تھے انھوں نے میری ماں کو راضی کر لیا پھر بھی ماں مجھے سمجھاتی رہی لیکن خرم کا جادو میرے سرچڑھ کر بول رہا تھا ماں کی کسی بات پر میں نے دھیان نہیں دیا۔  خرم نے پہلے ایک مکان کرائے پر لے لیا۔  اور ضرورت کا سا مان بھی لے آئے میرے لئے زیور کپڑے اور نرم گدوں والی مسہری بھی لائی گئی انھوں نے اپنی ماں کو کیوں کر راضی کیا میں نہیں جانتی بس ہمارے گھر میں خاموشی کے ساتھ نکاح ہو گیا اور میں ان کے محل نما مکان میں پہنچا دی گئی۔  اس رات انہوں نے مجھے کوئی ٹھنڈی ٹھنڈی کڑوی سی چیز پلا دی مجھے ابکائی سی آئی لیکن انھوں نے اپنی محبت کا واسط دیا اور بتا یا کہ شادی کی رات سب دولہا دلہن یہی چیز پی کرمست و بے خود ہو جاتے ہیں۔  میں نے زبردستی پیلی اور کچھ دیر بعد خوابوں کے ہنڈولے پر بیٹھی اور ہی دنیا کی سیر کر رہی تھی پلک جھپکتے ایک مہینہ گزر گیا خرم چلے گئے وعدہ کر گئے کہ مجھے بہت جلد امریکہ بلوا لیں گے۔  

دن مہینوں میں اور  مہینے بر سوں میں ڈھل گئے خرم نے مجھے امر یکہ نہیں بلوا یا۔  میری بیٹی تین سال کی ہو گئی اس کے بارے میں کبھی کبھی خط لکھ دیا کرتے تھے امریکہ بلوانے کے بارے میں کبھی میں نے خط لکھا تواس کا کوئی جواب نہیں آیا۔  میں زندگی کی یکسانیت سے اکتا گئی تھی ماں مر چکی تھی اور بھائی جانے کہاں چلا گیا تھا۔  بیمار ساس کی خدمت کرنا اور ان کی جلی کٹی سُننّا میرے لئے دوہی کام تھے۔  بچی کوا سکول لے جانے اور  لانے کے لئے باہر نکلا کرتی تھی۔  گھر سے قریب ہی ایک خاتون کا بیوٹی پارلر تھا اکثر آتے جاتے وہ مجھے دیکھ کر مسکرایا کرتی تھیں۔  ایک دن بچی کے بال بنوانے کے لئے میں وہاں گئی تو پارلر کی مالکہ نشاط نے پو چھا۔  ’’کیا تم وہی ہو جسے تین چار سال پہلے ایک صاحب نے یہاں لایا تھا اس دن تمہاری شادی تھی اور  میں نے سنگھارکیا تھا وہ صاحب امریکہ سے آئے ہوئے تھے ؟‘‘

’’جی ہاں تین چار سال پہلے میری شادی ہوئی تھی اور امریکہ سے آئے ہوئے ڈاکٹر خرم میرے شوہرہیں آپ نے خوب پہچانا ‘‘۔

’’بھئی تم بہت بدل گئی ہو تمہارے گالوں کی سرخیاں اور  آنکھوں کی شوخیاں سب ماند پڑ چکی ہیں کیا بات ہے ؟‘‘

’’جی وہ شادی کے ایک ماہ بعد امریکہ چلے گئے اور آج تک نہیں لوٹے شوہر جو دل کے قریب ہوتا روح میں سما یا ہوتا،  نئے نویلے جذبوں کا پا سبان ہوتا ہے وہ اچانک ہزاروں میل دور چلا جائے تو آپ اندازہ کر سکتی ہیں کہ۔۔۔۔۔۔  ‘‘۔

’’یہ تو بہت برا ہوا شا ید اسی سوچ اور فکر نے تمہاری یہ حالت بنا دی ہے بھئی انسان کو زندگی ایک بار ملتی ہے اور زندگی میں جوانی کا موسم ایک ہی بار آتا ہے اسے یوں ضائع کر دیا جائے تو پھر جینے کا مقصد کیا رہا ؟‘‘۔

’’آپ ہی بتائیں میں کیا کر سکتی ہوں اس دنیا میں سوائے ساس کے اور کوئی نہیں ہے کسے اپنا دکھ بتاؤں ؟‘‘۔

’’تم مجھے اپنی بہن سمجھو اپنے دکھ اور کوئی بھی تکلیف ہو مجھے بتا دیا کرو بہتر ہو گا کہ تم ہر  روز یہاں آیا کرو میرا اور تمہارا وقت اچھا گزرے گا ‘‘نشاط کی محبت آمیزتسلی کی باتیں سن کر میری پلکیں بھیگ گئیں ’’لیکن نشاط باجی میں ساس صاحبہ کو کیا بتاؤں گی وہ تو مجھ پر کڑی نظر رکھتی ہیں ؟‘‘

’’دیکھو نگینہ میں تمہاری ساس سے مل سکتی ہوں تم بتا دینا کہ میں تمہاری ٹیچر تھی اور  اب تم مجھ سے انگلش وغیرہ پڑھنے کے لئے میرے گھر یا پا رلر جایا کرو گی ‘‘۔

’’ہاں یہ بات تو میری سمجھ میں آ گئی کب چلیں گی آپ ؟‘‘،’’ابھی چلتے ہیں چلو‘‘

نشاط باجی کو امی جان نے بڑے غورسے دیکھا اور میں نے ان کے چہرے پر ناگواری کے سائے لہراتے دیکھے پتہ نہیں وہ کیا سوچ رہی تھیں بہر حال ہفتے میں دو تین بار مجھے نشاط باجی کے پاس جانے کی اجازت مل گئی۔  اس دن سے میں اپنا زیادہ وقت نشاط کے ہاں گزارنے لگی نشاط کی صحبت نے میری دنیا بدل کر رکھ دی ایک دن اس نے مجھ سے کہا ’’نگینہ!شوہر تو عورت کی ذات کا ایک حصہ ہوتا ہے اس حصہ کو الگ کر دیا جائے تو عورت مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے اس کی زندگی میں ایک خلا ء ساپیدا ہو جاتا ہے تم نے شوہر سے دور اتنے سال کیسے گزار لیے ؟ بھئی زندگی میں حرارت اور تپش نہ ہو تو جینے سے دل اکتا جاتا ہے کیا تمہارا دل نہیں چاہتا کہ تمھیں چاہا جائے سراہا جائے تم ایسی محفلوں میں جاؤ جہاں تمہاری پذیرائی ہو۔  تمہاری سیج کو سونی کر جانے والے کی یاد کو سینے سے لگائے جوانی کے دن کیوں ضائع کر رہی ہو ؟ آنکھیں کھول کر دیکھو دنیا میں کیا نہیں ہے۔ اگر تم چاہو تو میں تمہیں ایسے مقام پر لے جا سکتی ہوں جہاں صرف خوشیاں ہیں قہقہے ہیں رنگ و نور کی بارشیں ہیں ‘‘میں ان کی صورت دیکھتی رہ گئی۔  اور  ایک دن انھوں نے مجھے بڑی محنت اور پیار سے تیار کیا ایک بیش قیمت خوب صورت لباس مجھے پہنا یا جب آئینے میں اپنا سراپا دیکھا تو میں خود کونہ پہچان پائی آج پھر غرورحسن سے میری گردن اکڑ گئی نشاط نے مجھے ہر زاویہ سے دیکھا اور  میرا ما تھا چوم لیا پھر مجھ پر خوشبو کی بارش کر دی ایک ہاتھ پھیلائے قدرے جھک کر مجھے چلنے کا اشارہ کیا جیسے میں کوئی شہزادی ہوں۔  میں مسکرا کر اٹھلاتی ہوئی ان کے ساتھ چل پڑی۔  میں پہلی بار کلب گئی تھی رنگ و نور اور خوشبوؤں کی محفل میں ہنستے مسکراتے مردو خواتین سلیقے کے میک اپ قیمتی زیورات اور دیدہ زیب کپڑوں میں ملبوس بڑے سے ہال میں پھیلے ہوئے تھے سگریٹ اور مختلف مشروبات کی ملی جلی خوشبو چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی موسیقی کی مدھم آواز فضاء میں نشہ گھول رہی تھی مجھے نشاط کے ساتھ آتا ہوا دیکھ کربے شمار نظریں ہماری طرف اٹھ گئیں مرد مجھے للچائی ہوئی تعریفی نظروں سے دیکھ رہے تھے عورتوں کی آنکھوں میں حسد اور جلن کی چنگاریاں ناچ رہی تھیں۔  ایک طرف سے ایک وجیہ و شکیل خوبرو سا نو جوان ہماری طرف تیزی کے ساتھ آتا ہوا نظر آیا قریب آنے پر قدرے جھک کرسلام کیا اور گو یا ہوا ’’آہا ہا!آپ ہی ہیں وہ چہرہ چمن میخانہ بدن واقعی نشاط نے آپ کی تعریف غلط نہیں کی تھی مجھے دلاور کہتے ہیں ‘‘جی ہاں نشاط باجی نے آپ کے بارے میں بتا یا تھا ‘‘’’آئیے ہم اس طرف چل کر بیٹھتے ہیں ‘‘دلاور نے کہا ’’وہ ہمیں ہال کے اس حصے میں لے گیا جہاں لوگ کچھ کم تھے۔  سنیکس اور آئسکریم منگوائی گئی ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں دلا ور نے کہا ’’زندگی کا یہ روپ آپ کوکیسا لگا ؟ ‘‘دلا ور صاحب! میں زندگی کی یکسا نیت سے اکتا گئی تھی اس محفل میں آپ لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر اپنے آپ ہلگا پھلکا محسوس کر رہی ہوں مہکتی فضاؤں میں اڑ نے لگی ہوں ‘‘

’’آپ نے کتنے ماہ سال برباد کئے ہیں کچھ انداز.ہ ہے آپ کو؟‘‘

’’یوں سمجھئے میں اپنے آپ سے انتقام لیتی رہی ماں نے بہت سمجھا یا تھا کہ میں خرم سے شادی نہ کروں لیکن آج میری سمجھ میں آ رہا ہے کہ انھوں نے کیوں سختی کے ساتھ منع کیا تھا ، دراصل مرد ہی عورت کی سب سے بڑی طاقت ہے اگر مرد کا ساتھ نہ ہو تو عورت اپنے آپ کو بے حد کمزور سمجھنے لگتی ہے اور میں اپنے بکھرے بکھرے کمزورو جود کوسنبھا لے تنہائی کا زہر پیتی رہی ہوں ‘‘

’’یہ جینا بھی کوئی جینا ہے انسانوں کی اس بستی میں آپ فرشتوں جیسی زندگی بسر کرنا چاہتی ہیں نا ممکن!!بالکل نا ممکن بات ہے۔  آج سے آپ ہر روز کلب آئیں گی اور آج سے اپنے آپ کو تنہا یا  کمزور نہیں سمجھیں گی ہم جو آپ کے ساتھ ہیں ،  کہئے منظور ؟ ‘‘دلا ور کے ہونٹوں پر عجیب سی مسکراہٹ تھی میں نے مسکرا کر سر جھکا لیا گھڑی پر نظر ڈالی اور  نشاط سے چلنے کے لئے کہا رات بھر جانے کیوں میں دلاور  کے بارے میں سوچتی رہی اور  فیصلہ کر لیا کہ اب اپنی زندگی کا ڈھنگ بدل کر جیؤں گی اپنے آپ کو خوش رکھوں گی اور  کسی کی پرواہ نہیں کروں گی۔  چند دن تک تو میں اور نشاط ساتھ ہی جایا کرتے تھے اور واپسی میں دلا ور ہمیں چمچماتی کار میں اپنے اپنے گھر چھوڑ دیا کرتا تھا پھر یوں ہونے لگا کہ ہم اکیلے ملنے لگے اور  یہ ملاقاتیں اتنی بڑھیں کہ ہم ایک دن بھی ایک دوسرے سے ملے بغیر نہ رہتے میں اکثر گھر دیرسے آنے گلی ساس صاحبہ کا رویہ بدل گیا تھا انھوں نے مجھے وارننگ دی ’’تم ایک عزت دار اور مشہور ڈاکٹر کی بیوی اور اس گھر کی بہو ہو یہاں رہنا ہو تو شریف عورتوں کی طرح سے رہو ورنہ جہاں سے آئی ہو وہیں چلی جاؤ ‘‘۔

’’آج میں آپ سے پوچھتی ہوں کہ عزت دار مرد کیا ایسے ہی ہوتے ہیں جو اپنی نو بیاہتا جوان بیوی کو چھوڑ کر ہزاروں میل دور چلے جاتے ہیں اور برسوں صورت نہیں دکھاتے ؟ کیا ایک عزت دار مرد کے دل میں ادلا دکی بھی محبت نہیں ہوتی ؟ کوئی عورت کہاں تک حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر سکتی ہے ؟ ایک افلاس زدہ بیمار ماحول میں کوئی کب تک زندگی گزارسکتا ہے ؟ میں اس جہنم میں کب تک در و دیوار کو تکتی بیٹھی رہوں کب تک تنہائی کا بوجھ ڈھوتی رہوں کچھ وقت گھر سے باہر گزار لیا تو کسی کا کیا بگڑتا ہے؟‘‘

’’آخر آ گئی نا اپنی اصلیت پر کتے کو کھیر نہیں پچتی! اسی لئے اس نا مر ادسے کہا تھا کہ رشتہ برابر والوں میں ہو نا چاہئے لیکن دو کوڑی کی جادو گرنی کا جادو سر پر سوار تھا۔  تم جیسی آفت کی پر کالا بھولے بھالے مردوں کو گھیرنے میں ماہر ہوتی ہیں میں آخری بار کہے دیتی ہوں تم نے آوارہ گر دی نہیں چھوڑی تو انجام اچھا نہیں ہو گا ‘‘۔

اس وقت میں نے خاموش ہی رہنا منا سب سمجھا دوسرے دن دلا ور اور نشاط کو اپنی الجھن بتا دی دلاور  نے کہا کہ وہ مجھے اپنے ذاتی فلیٹ میں رکھے گا جسے کرائے داروں نے حال ہی میں خالی کیا ہے میرے دل کو سکون سامل گیا اس رات کا فی دیر ہو گئی تھی دلاور مجھے گھر پر چھوڑ کر چلا گیا بارہا بیل بجانے پربھی دروازہ نہیں کھولا گیا پھر میں نے بیل پر ہاتھ رکھا تواس وقت تک نہیں ہٹا یا جب تک کہ دروازہ نہیں کھلا جیسے ہی دروازہ کھلا میں لڑکھڑاتے قدموں سے اندر داخل ہوئی میرے ہاتھ میں شراب کی بو تل تھی اور میں آج کچھ زیادہ ہی سرور میں تھی میں نے کہا ’’آپ کو خیال نہیں آتا کہ ایک عورت باہر کھڑی بیل بجا رہی ہے اور  آپ دروازہ کھولنے تیار نہیں ؟ ‘‘’’تم اس وقت یہاں کیوں آئی ہو جہاں سے آئی ہو وہیں پر رات گزار لیتیں ‘‘

’’آپ میرے ساتھ زیادہ بک بک نہ کریں ورنہ اچھا نہ ہو گا‘‘

’’میرے ساتھ زبان لڑاتی ہے ؟ مجھے دھمکی دیتی ہے تیری یہ مجال ؟ ابھی نکل جا یہاں سے دفع ہو جا‘‘

ان آوازوں سے میری بچی بھی جاگ گئی تھی وہ چلا چلا کر رو رہی تھی میں نے آؤ دیکھا نہتا ؤ شراب کا شیشہ ساس کے سر پر دے مارا انھوں نے ایک چیخ ماری اور  لڑکھڑا کر گریں اور ساکت ہو گئیں محلے والے جمع ہو گئے تھے ساس کے سرسے خون بہہ رہا تھا میرا نشہ ہرن ہو چکا تھا اسی وقت سب نے مل کر مجھے تھا نے پہنچا دیا صبح ڈیوٹی پر متعین انسپکٹر کی منت سماجت کر کے میں نے کسیطر ح دلا ور سے فون پر بات کی تمام واقعہ سنا یا اور میری طرف سے وکیل کھڑا کرنے کہا دلا ور نے جواب دیا

’’میں ایک عزت دار شہری ہوں اور شریف لوگ تم جیسی بازاری عورتوں کے لئے تھانے اور  عدالت کے چکر نہیں لگاتے شوہر والی اور  ایک بچی کی ماں ہوتے ہوئے تم نے غیروں کے ساتھ گل چھرے اڑ ائے ہیں۔  اولا دکی محبت ہے نہ شوہر کی عزت و ناموس کا لحاظ تم کسی کی وفادار نہیں ہو تم رحم کے قا بل نہیں ہو تمھیں جتنی بھی کڑی سزادی جائے کم ہے آئندہ مجھے فون کرنے کی کوشش نہ کرنا ‘‘دلا ور نے فون پٹخ دیا میری آنکھوں کے آگے اندھیر اچھا گیا زبان گنگ ہو گئی۔  خرم باہر سے آ گئے تھے مجھ پر مقدمہ چلا یا گیا۔  میرا کوئی وکیل نہیں تھا۔  میری بیٹی خود چشم دید گواہ تھی اسی کی گواہی اور  بیان پر مجھے چودہ سال کی قید با مشقت ہو گئی۔  آج میں جیل کی سلا خوں کے پیچھے بیٹھی اپنی زندگی کے دن گن رہی ہوں۔  

دل کا وہ حال ہوا  ہے غم دوراں کے تلے

جیسے اک لاش چٹانوں میں دبا دی جائے

تم بھی مجرم ہو فقط میں ہی گنہ گار نہیں

میں یہ کہتا ہوں کہ دونوں کو سزادی جائے

٭٭٭٭