کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

نا مراد

افروز سیدہ


خموش ہو کے جو گویا ہو وہ تکلم ہوں

سکوں کے بھیس میں اک اضطراب ہوں

اداس نغمہ ہوں روٹھا ہوا ترنم ہوں

شکستہ ساز ہوں ٹوٹا ہوا رباب ہوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوید کو جاوید پر غصہ آتا تھا کہ وہ ماں کو سمجھاتا کیوں نہیں اس سے تو سوتیلا باپ اچھا تھا ماں کی قربت تھی نئے باپ کے بچوں سے بچی کھچی محبت بھی مل جاتی تھی اگر میرا ہی باپ سیدھا ہوتا تو میری زندگی کا یہ حشر نہ ہوتا نوید کے اندر کا آتش فشاں پھٹ پڑ ا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔       

اسپتال کے زچگی وارڈ میں ایک حسینو جمیل کمسن دوشیزہ ایک خوبصورت و صحت مند بچے کو پہلو میں لئے یوں بے سدھ لیٹی ہوئی تھی جیسے طویل و بے معنی سفر سے تھک کر آئی ہو۔  اس کے چہرے پر کسی خوشی و امید کا سا یہ تک نہیں تھا۔  کچھ دیر پہلے وہ  درد زہ کی کربناک منزل سے گزری تھی اس راستے پر کوئی اس کے ٹھنڈے ہاتھوں کو تھام کر تسلی دینے والا نہیں تھا درد نے اسے ایسے گھیر لیا تھا کہ حواس ساتھ چھوڑ نے لگے تھے۔  بچے کے مسلسل رونے پر نرس جلدی سے آئی اور  اسے تھپتھپا کر پو چھا کہ وہ بچے کو دودھ کیوں نہیں پلا رہی ہے لڑکی نے دوسری طرف کروٹ لے لی جیسے بچے سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔  نرس نے اسے پھر مخاطب کیا ’’اے تمہیں کیا تکلیف ہے بابا کو کیوں رلا رہی ہو ؟کیا تمہارے ساتھ کوئی نہیں ہے اس کا پپا کدھر ہے ‘‘نرس نے بچے کو ہاتھوں پر جھلا تے ہوئے پوچھا ’’انوشہ‘‘اُسے کیا جواب دیتی کہ اس کا پپا کون ہے اور  کوئی بھی اس کے ساتھ کیوں نہیں ہے ؟انوشہ اپنے بچے کے رونے پر تڑپ اٹھی تھی۔  وہ یہی سوچ کر رو رہی تھی کہ جس طرح بچے کی محبت میں وہ تڑ پ رہی ہے ایسی تڑ پ اس کی ماں کے دل میں اس کے لئے کیوں نہیں تھی ماں کو اس کی ذرا بھی پروا نہیں تھی وہ تو اس سے جلتی تھی ‘‘ماں جو اس کائنات کی بنیاد ہے مقدس ہستی ہے دنیا کی ہر چیزسے بلند ترین ہے۔  اور  اس کا دل موم کا ایک ٹکڑ ا ہے جو مامتا کی آنچ پر پگھلتا رہتا ہے پھر اس کی ماں ایسی کیوں ہے جس نے اس کے باپ سے علیحدگی اختیار کر لی اور  سوتیلے باپ کو اس کے سرپر مسلط کر دیا۔  ویسے ماں ہے تو ایک حسین ترین عورت لیکن اس کا دل حسین نہیں ہے شاید حسین عورتیں اپنی ناز برداری کروانا چاہتی ہیں اس کا باپ سرکاری ملازم اس کے بس میں نہیں تھا۔  سوتیلا باپ تو بے حد امیر آدمی تھا گھر پر دو تین کاریں اور نوکر چاکر سبھی کچھ تھا وہ انوشہ کو اچھے اسکول میں پڑھا رہا تھا۔  اس کی ہر ضرورت پوری کرتا تھا۔  لیکن ماں کو یہ سب اچھا نہیں لگتا تھا۔  اور  جس دن انٹر کا نتیجہ نکلا اس دن تو اس نے اپنے دل کی بھڑ اس نکال لی۔  انوشہ نے فرسٹ ڈیویثرن میں انٹرپاس کیا تھا سوتیلے باپ نے ایک خو بصورت لاکٹ تحفہ دیا ماں سے دیکھا نہ گیا اس نے وہ چین انوشہ کے ہاتھ سے چھین لی اور اسے اپنے کمرے میں چلے جا نے کہا۔  جب باپ نے اسے سمجھا نے کی کوشش کی تو وہ اس پر برس پڑی۔

’’میں دیکھ رہی ہوں دن بہ دن تمہاری مہربانیاں اس لڑکی پر بڑھتی جا رہی ہیں آخر بات کیا ہے ؟‘‘

’’کیا تم باپ بیٹی کے رشتہ پر شک کر ہی ہو کیا یہ میری بیٹی نہیں ہے ؟‘‘’’ہاں رہنے دو میں خوب سمجھتی ہوں سگے باپ نے پلٹ کر نہیں پوچھا اور  تمہارے دل سے اس کے لئے محبت کے سوتے پھوٹ رہے ہیں۔۔۔۔۔ ‘‘انوشہ حیرت زدہ سی کھڑی سب کچھ سنتی رہی پھر اپنے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر لیا۔  پوری رات اس نے آنکھوں میں کا ٹ دی اور ایک فیصلے کے تحت کچھ کپڑے ،کتابیں اور  اپنا جیب خرچ بچا کر جمع کی ہوئی رقم سوٹ کیس میں رکھ لی سورج کی پہلی کرن نمودار ہو نے سے پہلے گھرسے نکل گئی۔  سیدھے ریلوے اسٹیشن گئی ٹکٹ لیا اور  ٹرین میں سوار ہو گئی دوپہر ڈھل رہی تھی اس نے ٹرین سے اتر کر آٹو لیا اور  اپنی دوست کے گھر کا پتہ بتا یا کچھ ہی دور گئی تھی کہ اسے ایک درگاہ نظر آئی جا نے کس خیال کے تحت اس نے آٹو کو وہیں پر رکوایا اور اتر پڑی  درگاہ میں کچھ لوگ سورہے تھے کچھ عبادت میں مصروف تھے وہ بھی ایک کونے میں بیٹھ گئی۔  اس کا ذہن عجیب و غریب خیالات میں الجھا ہوا تھا انجانا خوف دل پر چھا رہا تھا وہ کہاں جائے کیا کرے اس کا دماغ کام نہیں کر رہا تھا زندگی کے ان معصوم سترہ سالوں میں اس نے کبھی سکھ کا سانس نہیں لیا تھا جب سے ہوش سنبھالا تھا اپنی ماں کو باپ کے ساتھ جھگڑ تے دیکھا تھا اور  اب وہ سوتیلے باپ کے دل پر حکومت اور  اپنی بیٹی سے نفرت کر رہی تھی انہی سوچوں میں دن گزر گیا رات نے اپنے سیاہ پر پھیلانے شروع کر دئے غصہ میں اس نے گھر تو چھوڑ دیا اب دل کو ایک نہ معلوم سا دھڑ کا لگا ہوا تھا وہ ماں کے ہو تے ہوئے اس کی شفقت سے محروم تھی اپنے آپ کو تنہا محسوس کر رہی تھی وہ گھٹنوں میں منہ چھپائے رو رہی تھی۔  اس کے بازو بیٹھی ہوئی ایک ادھیڑ عمر عورت اسے بہت دیر سے دیکھ رہی تھی جیسے اس کی نگرانی کر رہی ہو اس نے انوشہ کو روتے دیکھا تو قریب کھسک آئی اور بڑی ملائمت سے محبت بھرے لہجہ میں پوچھا ’’کیا بات ہے بیتی بہت پریشان معلوم ہو رہی ہو کیا اکیلی آئی ہو ؟‘‘’’ہاں میں گھر چھوڑ کر اکیلی آئی ہوں ماں نے بہت غصہ کیا تھا‘‘ ’’ارے!غصہ کیا تو کیا ہوا چھوٹوں کی غلطی پر بڑے تو غصہ کرتے ہی ہیں ماں ہے کوئی دشمن تو نہیں نا چلو میں تمہیں گھر پہونچا دوں ‘‘’’نہیں میں گھر نہیں جاؤں گی ماں دشمن ہے میں صبح سویرے نکل گئی تھی اب گھر جاؤں گی تو ماں جان کولے لے گی میں نہیں جاؤں گی ‘‘’’صبح کی نکلی ہوئی ہو تو کچھ کھایا پیا بھی ہے یا نہیں ؟‘‘’’نہیں میں یہیں پر سوجاؤں گی‘‘ ’’یہاں سونا تمہارے لئے مناسب نہیں ہے میرا گھر قریب ہی ہے میرے ساتھ چلو وہیں کچھ کھا پی کر سوجاناصبح گھر جا نے کے بارے میں سوچناچلو رات ہو گئی ہے ’’ اس عورت کی ہمدردی نے انوشہ کی ہمت بندھائی اور  وہ اس کے ساتھ چلی گئی ابھی رات کے آٹھ ہی بجے تھے وہ بھوک اور  نیندسے بے حال تھی اس نے پیٹ بھرکر کھانا کھایا اور  لیٹتے ہی سو گئی دوسرے دن اس نے دیکھا کہ گھر میں اس عورت کا جو ان بیٹا بھی ہے جو اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا،  جیسے بن مانگے کوئی لذیذ پھل اس کے دامن میں آ گرا ہو۔ ماں نے بتایا کہ وہ مقامی کالج میں بی کام کر رہا تھا۔  انوشہ نے بھی آگے تعلیم جاری رکھنے کا ارادہ کیا اس عورت نے جب اسے گھر واپس جا نے کہا تو اس نے انکار  کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہیں رہ کر اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہے۔  وہ یہاں رہتے ہوئے ان دونوں سے مانوس و مطمئن سی ہو گئی تھی لیکن ماحول کی یکسانیت سے وہ اکتا گئی تھی ماں کے کہنے پر وہ نہ چاہتے ہوئے بھی جاوید کے ساتھ شہر گھومنے چلی گئی شام تک وہ مختلف مقامات کی سیر کرتے رہے ایک اچھے ہوٹل میں ڈنر لیا اسی دوران جا وید نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر کہا کہ وہ اس کی محبت میں گرفتار ہو چکا ہے اور  اب اس کا جو بھی قدم اٹھے گا اس کی خوشی اور  بھلائی کے لئے اٹھے گا۔  انوشہ کو یہ سب کچھ عجیب لگ رہا تھا لیکن ایک انجانی خوشی کے احساس سے مسر ور تھی۔  دونوں نے ایک اسٹوڈیومیں فوٹو لی اور واپس آئے۔  وہ تھک گئی تھی جلد ہی سو گئی۔  رات کے پچھلے پہر اس کی آنکھ کھل گئی اس نے محسوس کیا کہ کوئی اس سے چمٹا ہوا ہے وہ آنکھیں پھاڑے ادھر دیکھنے کی کوشش کر رہی ہاتھ نے اس کا منہ دبا دیا۔۔۔   آج اس نے اپنا گوہر آبدار جا وید کے ہاتھوں لُٹا دیا وہ اسے تسلیاں دیتا رہا ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھاتا رہا صبح وہ لٹی لٹی بکھری ہوئی نڈھال بیٹھی ہوئی تھی جا وید کی ماں کے پوچھنے پر اس نے بتا یا کہ وہ تھک گئی تھی نیند برابر نہیں آئی جا وید کے جا نے کی بعد وہ اپنی دوست کے گھر جانے نکل گئی راستہ بھر وہ روتی اور  سوچتی رہی کہ پہلے ہی ممتاز کے گھر چلی جاتی تو یہ دن دیکھنا نہ پڑتا وہ اس سے لپٹ کر زار و قطار روتی رہی پھر اپنے لٹنے کی داستان سنائی۔  ممتاز نے انوشہ کو تسلی دی۔  ’’انو جو ہو گیا سو ہو گیا تمہیں اپنا گھر نہیں چھو ڑ نا چاہئے تھا ماں آخر ماں ہوتی ہے تم حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر لیتیں تو بہتر تھا‘‘ ’’حالات سے سمجھوتہ کر نا ممکن نہیں تھا ماں مجھے ایک منٹ کے لئے بھی اپنی نظروں کے سامنے نہیں دیکھ سکتی تھی اگر والد کا پتہ معلوم ہوتا تو انکے ہاں چلی جاتی پتہ نہیں وہ کہاں ہیں تم فی الحال آرام کرو پھر کہیں ملازمت کے لئے کوشش کریں گے تم بے حد حسین ہو کمپیوٹر میں ماہر ہو ملازمت ملنے میں دیر نہیں لگے گی میں اپنی امی سے بات کروں گی تمہیں اپنے ساتھ رکھنے راضی کروں گی‘‘ انوشہ کو ایک کمپیوٹر انسٹیوٹ میں لڑکیوں کو سکھا نے کے لئے ایک ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ پر رکھ لیا گیا لیکن اس کی قسمت کی گردش ختم ہو نے کی بجائے یہاں سے شروع ہوئی اسے پتہ چلا کہ اس کا پیٹ پھولتا جا رہا ہے ہر وقت متلی اور  چکر سی رہتی ہے۔  ممتاز نے اپنی ماں کو بتا یا تو انھوں نے انو کو فوراً چلتا کرنے کہا لیکن ممتاز نے منت سماجت کی کہ وہ اس حالت میں کہاں جائے گی اور  کیا کرے گی وہ اس وقت قابل رحم ہے اس نے ماں کو درگاہ میں ملنے والی عورت اور اس رات کا واقعہ بتا دیا تو ماں کچھ سوچتی ہوئی خاموش ہو گئی وقت جیسے تیسے گزر گیا آج وہ اسپتال میں اکیلی پڑی ہوئی بیتے دنوں کو یاد کر رہی تھی نرس بچے کو اس کے پہلو میں کب سلا کر چلی گئی اسے پتہ نہ چلا۔  ممتاز کے گھر میں باہر کا کمرہ اسے کر ائے پر دید یا گیا تھا وہ وہیں رہنے لگی تین ماہ کی رخصت کے دن پو رے ہو چکے تھے اس نے پھر سے کمپیوٹرسنٹر جا نا شروع کر دیا اس کی غیر حاضری میں دوچار نئے اڈمیشن ہوئے تھے جن میں ایک مسنر داور تھی وہ انوشہ کی شخصیت اور  حسن بے مثال سے اتنی متاثر ہوئی کہ اس سے دوستی کر لی اور اُسے بتا یا کہ اس کے چا چا کی گفٹ انیڈ ناولٹیز کی بڑی دو کان ہے وہاں اُسے معقول تنخواہ پر سیلزگرل کا کام مل سکتا ہے دوسرے دن وہ مسنر داور  کے ساتھ اس کے چاچا کی دوکان پر گئی انھوں نے انوشہ کے حسن بلا خیزکو دیکھا تو دیکھتے رہ گئے انھیں ایسی ہی کسی سیلزگرل کی تلاش تھی اسے تین ہزار مشاہرہ پر رکھ لیا گیا انوشہ تین گنا تنخواہ کی بات سن کر پھولے نہیں سما رہی تھی پھر دیکھنے والوں نے دیکھا کہ اس دوکان پر گا ہکوں کاتانتا بندھ گیا تھا۔  دوسرے ہی مہینے انوشہ کی تنخواہ میں اضافہ کر دیا گیا وہ خوش تھی اس نے بچے کی دیکھ بھال کے لئے آیا کا بھی انتظام کر لیا وہ بڑی حد تک مطمئن تھی لیکن ایک جوان عورت کو جینے کے لئے اور  بھی کچھ چاہئے روٹی ، کپڑ ا اور مکان کے علاوہ محبت کرنے والا کوئی اپنا!!جس کی رفاقت میں ذہنی وجسمانی آسودگی مل سکے۔ اس کی پرسوزاداس آنکھیں ہمیشہ دور خلاؤں میں گھورتی رہتیں امید کی کرن نظر نہیں آتی ہزاروں کے ہجوم میں اپنے آپ کو تنہا پا کر دل پر ایک انجا نا خوف چھا یا رہتا راستہ خاردار اور  منزل دور زندگی کا سفر کیسے طئے ہو ؟!۔  

نئے گاہکوں میں ایک فوجی کیپٹن بھی تھا جو کچھ نہ کچھ خریدنے کے لئے ہر  روز دوکان پر آنے لگا تھا اور جب تک وہ دوکان میں رہتا تب تک انوشہ اس کی نظروں کے حصار میں ہوتی وہ اپنے حسن جہاں سوز کی کر شمہ سازیوں سے بے خبر اپنے کام میں مصروف رہتی۔  لیکن ایسا بھی نہیں تھا کہ اس نے کیپٹن کو نظر انداز کیا ہو خوبرو خوش کلام اور  با وقار کیپٹن رضوان پہلے ہی دن آنکھوں کے راستے اس کے دل میں اتر چکا تھا اور  ایک دن رضوان نے شادی کا ارادہ ظاہر کر دیا یہ جانتے ہوئے کہ انوشہ ایک بچے کی ماں ہے اس نے ایک بات کی وضاحت کر دی کہ وہ انوشہ کے بچے کو اپنا نام نہیں دے گا انوشہ کو یہ بات ناگوار گزری لیکن اس نے سوچاکہ زندگی گزارنے کے لئے ایک مضبوط سہا رے کی ضرورت ہے رضوان جیسا تعلیم یافتہ اور  ذی حیثیت پاسباں ہر عورت کے نصیب میں تو نہیں ہوتا خوش بختی اس کے درپردستک دے رہی تھی خوبصورت خواب آنکھوں میں جھوم رہے تھے دلکش تمنائیں دل میں انگڑائیاں لے رہی تھیں انوشہ نے اپنی سوراخ زدہ کشتی رضوان کے سہارے سمندر میں ڈال دی دونوں نے کو رٹ میریج کر لی بہت سارا وقت جیسے پر لگا کر اڑ گیا انوشہ رضوان کے دو بچوں کی ماں بن گئی  نو ید بھی بڑا ہو گیا اور  اچھی طرح سمجھنے لگا تھا کہ رضوان اس سے محبت کیوں نہیں کرتا کیونکہ وہ اس کا باپ نہیں تھا اس کا باپ تو وہ ہے جو ماں کے ساتھ فو ٹو میں ہے۔  وہ اپنے چھوٹے بہن بھائی سے جلنے لگا تھا کیونکہ انوشہ رضوان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اس کے بچوں کا بہت خیال رکھتی تھی نوید اپنے دل کی بھڑ اس نکالنے کیلئے ان بچوں کو مارتا پیٹتا اور  نت نئی شرارتیں کر کے ماں کو جلاتا رہتا۔  اسکول میں بچوں کی چیزیں چرانا انکے ٹفن کھا لینا یا پھینک دینا اور  مار پٹائی کرنا اس کا معمول بن گیا تھا ماں کو بلوا کر اس کی شکایت کی جاتی تو انوشہ پیارسے اسے سمجھاتی لیکن وہ ماں کی بات کو خاطر میں نہ لاتا اسکول میں اس پر سختی کی جانے لگی تو وہ کئی کئی دن غیر حاضر رہنے لگا محلے کے آوارہ لڑکوں کے ساتھ دوستی ہو گئی اور وہ انکے ساتھ دوکانوں اور  مکانوں میں چوری کرنے لگا۔  رضوان کے پاس اس کی شکایتیں آنے لگیں اب نوید کو سمجھانایا رضوان کی سزاسے بچانا انوشہ کے اختیار میں نہ رہا۔  وہ نہیں جانتی تھی کہ اس محروم محبت کا دماغ ایک آتش فشاں بن چکا تھا۔  اس نے رضوان کو ڈرتے ڈرتے مشورہ دیا کہ وہ نوید کوکسی بورڈنگ میں شریک کرا دے گھر کے سکون اور عزت کی خاطر اس نے انوشہ کا مشورہ قبول کر لیا لیکن نوید اس کے لئے ہر گز تیار نہ ہوا۔  کئی دن تک سوچنے کے بعد انوشہ نے ایک فیصلہ کیا وہ نوید کوساتھ لے کر اس کے باپ جا وید کے گھر گئی اتفاق سے وہ گھر پر اکیلا مل گیا سالوں بعد دونوں کاسا منا ہوا تھا رسمی سی گفتگو کے بعد انوشہ نے نوید کا ہاتھ جاوید کے ہاتھ میں دے دیا لیکن جاوید نے اسے اپنا بیٹا ماننے سے انکار کر دیا اور  بتایا کہ اب وہ ایک شادی شدہ مرد ہے اور  اپنے بیوی بچوں کے ساتھ سکون کی زندگی گزار رہا ہے انوشہ کے پیروں سے زمین کھسک گئی اس کی لا کھ کوشش اور  یقین دلانے کے باوجود وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔  نوید جو دونوں کی گفتگو بغور سن رہا تھا اچانک جاوید کے پیروں سے لپٹ کر رونے لگا ’’ابو مجھے اپنے پاس رکھ لو ماں اور  نئے ابو مجھے ہمیشہ مارتے اور  جھڑ کتے رہتے ہیں میں اب کبھی یہاں سے نہیں جاؤں گا مجھے اپنے پاس رہنے دوابو آپ میرے ابو ہو میں آپ کا بیٹا ہوں ‘ وہ بلک بلک کر رو رہا تھا لیکن جا وید جیسے پتھر کا بن گیا تھا اس نے جھٹکے سے نوید کو الگ کر دیا اور  انوشہ کو فوراً چلے جا نے کہا۔  ماں بیٹے دل بر داشتہ روتے ہوئے واپس ہو گئے۔  انوشہ نے رضوان سے کہا کہ وہ کسی طرح نوید کو بورڈ نگ میں شریک کر ادے۔  وہ جاوید سے مل کر آنے کے بعد اور  بھی چڑ چڑا ہو گیا تھا پھر بھی ماں کے سمجھانے اور  رضوان کے سختی کرنے پروہ بورڈنگ کے لئے آمادہ ہو گیا۔  نئی جگہ نیا ماحول اور  نئے دوستوں میں وہ کھوسا گیا لیکن محبت کرنے والی ٹیچر س،  پھلوں ’ پھولوں اور  کھلونوں سے  لدے ہوئے آنے والے دوسرے لڑکوں کے والدین کو دیکھ کر وہ بکھر جاتا اس کے اندر کا مخفی آتش فشاں پھوٹ پڑتا۔  تو ڑ پھوڑ مار پٹائی اور  جھگڑے شروع ہو جاتے سزاکے طور پر اسے بھی مار پڑتی اور  جرمانے عائد ہو تے ماں چوری چھپے جرمانے بھرتی رہی وقت گزرتا رہا۔  اور  ایک دن معلوم ہوا کہ نوید بور ڈنگ سے بڑی رقم کی چوری کر کے بھاگ گیا رضوان کے ہاں نوٹس بھیجی گئی۔  نوید سیدھے جا وید کے گھر گیا رقم اس کے حوالے کر دی اور اسے اپنے پاس رکھ لینے کی التجا کرتا رہا۔  جاوید نے کچھ دیر سوچنے کے بعد اسے رہنے کی اجازت دے دی۔  نوید نے سکون کا سانس لیا ہی تھا کہ سوتیلی ماں نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا وہ نوید کے وجود کو اپنے گھر میں برداشت نہیں کر رہی تھی۔  نوید سے نوکروں جیسا سلو ک کر نا اس پر جھوٹے الزام لگا نا اور  سزاکے طور پر کھا نا پانی بند کر دینا روز کا معمول تھا۔  نوید کو جا وید پر غصہ آتا کہ وہ ماں کوسمجھاتا کیوں نہیں اس سے تو سو تیلا باپ اچھا تھا ماں کی قربت تھی نئے باپ کے بچوں سے بچی کھچی محبت بھی مل جاتی تھی اگر میرا ہی باپ سیدھا ہوتا تو میری زندگی کا یہ حشر نہ ہوتا۔  نوید کے اندر کا آتش فشاں پھٹ پڑ ااس نے موقع پا کر باپ کی سو پ فیکٹری میں آگ لگا دی جو شہر کی جانی مانی فیکٹری تھی لاکھوں کا نقصان ہوا نوید بہت خوش تھا۔  ماں نے ساراغصہ نوید پر نکالا کہ اس منحوس کی وجہ سے نحوست اور  پریشانیوں نے ہمارے گھر کا راستہ دیکھ لیا ہے اس کو فوراً یہاں سے دفع کیا جائے۔  نوید کا دل بھی اچاٹ ہو چکا تھا باپ سے کچھ پیسے مانگے اس نے دینے سے انکار کر دیا نوید خالی ہاتھ نکل پڑ ا۔  پرانے دوستوں سے مل کر پرانی روش اختیار کر لی۔  دن بھر ہو ٹل میں کام کرتا اور  رات چوری کرنے میں گزارتا اب وہ چھوٹی موٹی چوریوں کو بچوں کا کھیل سمجھنے لگا تھا کیونکہ وہ اب بچہ نہیں رہا تھا وہ اسکوٹروں اور  کاروں کو صاف اڑا لے جاتا پولس کو اس کی طرف سے معقول آمدنی تھی۔  ایک ہائی وے پر رات کے اندھیرے میں نوید اور ا سکے ساتھیوں نے ایک کا رکو روکا جس میں ایک عورت اور ایک مرد سفر کر رہے تھے مرد خاصہ تگڑا اور  طاقتور تھا مشکل سے قابو میں آیا جسے ان لوگوں نے ایک درخت سے باندھ دیا اور  نقد رقم چھین لی عورت کو بھی دو سرے درخت سے باندھ دیا اور  ان کی کار لے کر نکل گئے۔  دوسرے دن کے اخبار میں اس ڈکیتی کے بارے میں نوید نے پڑھا کہ جن لوگوں کو رات انھوں نے لو ٹا تھا وہ کیپٹن رضوان اور  اس کی بیوی انوشہ تھی جو درخت سے بندھی ہوئی دم توڑ چکی تھی جسے دل کا دورہ پڑا اور  اس کی موت کا باعث دِل کا دورہ تھا۔  ’’اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے!!‘‘

*****