کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

شام غم کی قسم

افروز سیدہ


یہ بے کسی کے اندھیرے ذرا تو ڈھلنے دے

بجھا نہ دے مرے دل کا چراغ جلنے دے

نہ سن سکے تو یہیں ختم ذکر غم کر دوں

جو سن سکے تو میری داستاں چلنے دے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم کیا جانو ان دو سالوں میں ، میں کیا سے کیا ہو گئی ہوں موم کی طرح پگھل رہی ہوں ٹوٹ پھو ٹ کر بکھر رہی ہوں صدیوں کی تنہائی کا کرب جھیلتے ہوئے میرا ہر جذبہ ہر احساس مجروح ہو چکا ہے روحانی اضطراب پر قابو پانے کے لئے میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور  لب سی لئے تھے لیکن آج یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے میرے زخم کا ہر ٹانکا ٹوٹ گیا ہے۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔  OOO۔۔۔۔۔۔  

شام کا دھند لکا گہرا ہوتا جا رہا تھا پرندے اپنے اپنے بسیروں کی طرف محو پرواز تھے راحیلہ اپنے کمرے میں اکیلی بیٹھی ہوئی دور خلاؤں میں گھور رہی تھی۔  اس کے ہاتھ میں ظفر کا خط تھا اس نے لکھا تھا کہ وہ اگلے ماہ عید پر آ رہا ہے پچھلے دو سال سے وہ یہی بات لکھتا رہا ہے۔  سمندر پار جا نے والے کیا جانیں کہ ایک بر ہن ان کی یادوں کے الاؤ میں کس طرح ایک کچی لکڑی کی مانند جلتی رہتی ہے وہ آسمان کی طرف ٹکٹکی باندھے گھور رہی تھی۔  کالی گھٹائیں امنڈ امنڈ کر آ رہی تھیں جسیے ابھی برس پڑیں گی۔  آج پھر کسی نے طلعت محمود کی مشہور زمانہ غزل کی دھن با نسری پر چھیڑ دی تھی ’’شام غم کی قسم آج غمگیں ہیں ہم آ بھی جا آ بھی جا آج میرے صنم۔ ‘‘بھیگا بھیگا موسم ، ظفر کی یاد اور  درد میں ڈوبی ہوئی بانسری کی دھن!وہ نڈھال ہوئی جا رہی تھی۔  شادی کے صرف ایک ماہ بعد وہ سعودی چلا گیا اور  وعدہ کیا تھا کہ ایک سال بعد لوٹ آئے گا لیکن تین سال گزر جانے پر بھی وہ نہیں آیا تھا۔  

راحیلہ کی ماں اس کی شادی کے لئے کس قدر پریشان تھی۔  پاس پڑ وس کی عورتیں ، رشتے دار اور  سہیلیاں اپنے اپنے بیٹوں یا بھا ئیوں کے لئے راحیلہ کو بے حد پسند کرتی تھیں۔  کھلتا ہوا چمپئی رنگ ، ستواں ناک ، بڑی بڑی غلافی آنکھیں ، موتیوں جسیے دانت اور  سروجسیاقد۔  مرمریں جسم کا ہر زاویہ دلکش تھا۔  راحیلہ ایک ہی نظر میں ہر کسی کو بھا جاتی لیکن انکے ہاں گھوڑے جوڑے کے نام پر دینے کیلئے نو ٹوں کے انبار نہیں تھے اور  نہ ہی نئے ماحول اور خیالات کے مطابق جہیز تھا اس لئے راحیلہ کی ماں اس بات کوپسند نہیں کرتی تھی کہ شادی کے چند دن بعد ہی دولہاسات سمندر پار کولہو کے بیل کی طرح پسنے چلا جائے اور  نئی نویلی دلہن سونی سیج سجائے بے دردسناٹوں کی آغوش میں پڑی سسکتی رہے پھر آپ ہی سوچتی کہ چلو باہر جانے سے روٹی کا تو سہاراملا ورنہ یہاں ملازمت کب ملتی اور  مل بھی جاتی تو کسی معمولی عہدہ پر کام کرنا پڑتا اور  آمدنی بندھی ٹکی ہوتی۔  

عید کا دن ا گیا ہر سال کی طرح ظفر کو نہ آنا تھا نہ آیا چاروں طرف خوشیاں بکھری پڑی تھیں لیکن راحیلہ کے دل پر ادا سیوں کا راج تھا۔  وہ کسی کام سے بڑے بھیا کے کمرے میں گئی تو دیکھا کہ بھائی اپنے مہندی رچے ہاتھوں سے بھیا کو شیر خر ما پلا رہی ہیں پھر وہ سرمہ دانی دینے کیلئے چھوٹے بھیا کے کمرے میں گئی تو دیکھا وہ بھابی کے بالوں میں پھولوں کا خوبصورت گجرا لگا رہے تھے راحیلہ پر نظر پڑی تواس کے ہاتھ میں دو گجرے تھما دئیے۔  راحیلہ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں وہ تیزی کے ساتھ پلٹی اور  اپنے کمرے میں آ کر بیٹھ گئی اس کے بیڈ پر ظفر کا خط اور  عید کارڈ پڑے اس کا منہ چڑا رہے تھے۔  اس نے الماری سے لیٹر پیڈ نکالا اور  بیٹھ گئی اس کا قلم تیزی سے چل رہا تھا۔  

’’تم کیا جا نو ان دو سالوں میں ، میں کیا سے کیا ہو گئی ہوں موم کی طرح پگھل رہی ہوں ٹوٹ پھوٹ کر بکھر رہی ہوں صدیوں کی تنہائی کا کرب جھیلتے ہوئے میرا ہر جذبہ ہر احساس مجروح ہو چکا ہے روحانی اضطراب پر قابو پانے کے لئے میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور  لب سی لئے تھے لیکن آج یوں محسوس رہا ہے جسیے میرے زخم کا ہر ٹانکا ٹوٹ گیا ہے شادی ایک معاہدہ ہے جس کے بعد ہر جوان لڑکی محبت اور  خوشیوں سے بھری زندگی کا تصور لئے اپنے دیوتا کے من مندر میں قدم رکھتی ہے۔  تم سے شادی کے بعد میں نے بھی نیلے آسمانوں کی تمام تروسعتوں کو اپنی بانہوں سمیٹ لینا چاہا تھا۔  تمہاری دی ہوئی لمحاتی رفاقت کو میں نے دائمی سہارا سمجھ لیا اور  زمین پر جنت بسانے کی آرزو لئے بیٹھی تھی۔  میرے خوابوں خیالوں کی تمام رنگینیاں تمہارے وجود میں مجسم ہو گئی تھیں۔  لیکن آج میری روح کے اندر ویرانی کا راج ہے آج دنیا میری نظر میں ایک تاریک قفس بن گئی ہے ہر شئے اجنبی سی لگ رہی ہے اور  میں ان اجنبی چہروں کے درمیان معلق اور  مصلوب ہو کر رہ گئی ہوں میں کیا کروں۔۔۔۔۔۔  

راحیلہ کو بانسری کی آواز نے چونکا دیا کم بخت نے عید کا دن بھی نہیں چھوڑ ابانسری رو رہی تھی ’’شام غم کی قسم آج تنہا ہیں ہم‘‘ وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی بالکنی میں آ گئی پہلی بار بانسری بجا نے والے کو دیکھ رہی تھی وہ آنکھیں بند کئے اپنی ہی دھن میں مست تھا۔  جسیے کوئی پجارن اپنے دیوتا کی پو جا میں مگن ہو۔  اسے کیا دکھ تھا اس کے من مندر کی دیوی کون ہو گی کہاں ہو گی وہ بانسری پر صرف یہی دھن کیوں بجاتا ہے آج وہ بھی اسی دھن کو جی بھر کر سننا چاہتی تھی۔  اس کے اندر کہیں ٹوٹ پھوٹ سی ہونے لگی اچانک اس کے دل نے سر گو شی کی یہ تو نے بڑی بوڑھیوں جیسا حلیہ کیوں بنا رکھا ہے تجھے جس نے بھلا دیا تو بھی اسے بھلا دے زندگی ایک بار ملتی ہے اور  زندگی میں جوانی ایک ہی بار آتی ہے۔  ہر کسی کو اپنی زندگی اور  جوانی پر اختیار ہے کہ وہ ان پھولوں کی ہر پتی سے مسرتو شادمانی کا امرت رس نچوڑ لے سوچ کیا رہی ہے ؟

ضمیر کے کسی کونے سے آواز آئی ’’نہیں نہیں! میں تجھے آزاد ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا مجھے تیری نگہبانی کے لئے پیدا کیا گیا ہے ‘‘۔

دل کہتا ’’کب تک تنہائی کے اس لق و دق صحرا میں بھٹکتا رہوں کب تک فراق کی ان خاردار جھاڑ یوں سے الجھتا رہوں ؟ ضمیر نے کہا’’اس راستے پر چلنے کے لئے کیوں مچل رہا ہے جس پر چل کر راہی منزلوں سے بھٹک کر دور کہیں اندھیروں میں کھو جا تے ہیں اپنے جسم کے قفس میں قید تو ایک مشرقی۔۔۔۔۔۔   ایک مشرقی روح ہے تو کسی کی امانت ہے عزت اور  شرافت کے دار پر چڑھ جا آپ اپنا گلہ گھونٹ لے کہ یہی ایک شریف لڑکی کا شیوہ ہے ‘‘عقل اور  دل کی جنگ کے درمیان راحیلہ کی روح کے سناٹے  چیخ پڑے وہ دوڑتی ہوئی اپنے کمرے میں گئی دروازے اور  کھڑ کیاں بند کئے اور  اپنی شادی کا البم لیکر بیٹھ گئی وہ تصویریں دیکھتی رہی اس کی آنکھوں سے جھرنے بہہ رہے تھے وہ روتے روتے ہنس پڑی اور  ہنستے ہنستے رونے لگی پھر اچانک چلا اٹھی ظفر تم کہاں ہو ؟ کہاں ہو ظفر ؟ ظفر!وہ دروازہ کھول کر باہر نکلی اور  چلاتی ہوئی پورے گھر میں اسے تلاش کر رہی تھی گھر کے لوگ حیران پریشان اس کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔  کسی نے پو چھا کہاں دیکھا ہے تم نے ظفر کو ؟‘‘وہ ابھی ابھی میرے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے کیا آپ لوگوں نے نہیں دیکھا ؟ کہاں چلے گئے وہ ؟

راحیلہ کی سوجی ہوئی آنکھوں سے وحشت سی برس رہی تھی ظفر کی بہن نے اسے پکڑ کر جھنجھوڑا اور  کہا ظفر آیا ہی کب تھا ؟ کیا دیوانی ہو گئی ہو ؟ دیوانی ؟ ’’ہاں میں دیو انی ہو گئی ہوں پاگل ہو گئی ہوں مجھے مارو جلا دو سنگسار کر دو!ظفر کہاں ہو میرے سامنے آؤ اتنے تو سنگ دل نہ بنو تم نے مجھے محبت کے جذبہ سے آشنا کیا اور  میں نے تمہیں اپنا مسجو دبنا لیا تمہاری محبت کے سائے میں جینا چاہتی تھی گھونٹ گھونٹ کر زندگی کا امرت رس پینا چاہتی تھی۔  تم نے مجھے تشنہ لب چھو ڑ دیا میرے وجود میں چنگا ریا بھر دیں جدائی کے ریگستان میں تنہا چھوڑ دیا اب میں کہاں جاؤں ؟ تمہیں کہاں ڈھونڈوں ؟آ بھی جاؤ ظفر آ جاؤ نا!‘‘وہ ہذیانی انداز میں چلا رہی تھی اور  بانسری کی دھن اس کی آواز میں مد غم ہو رہی تھی۔  شام غم کی قسم آج تنہا ہیں ہم آ بھی جا آ بھی  جا آج میرے صنم!!

*****