کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

پشیمان آرزو

افروز سیدہ


میری درماندہ جوانی کی تمناؤں کے

مضمحل خواب کی تعبیر بتا دے مجھ کو

تیرے دامن میں گلستاں بھی ہیں ویرانے بھی

میرا حاصل! مری تقدیر بتا دے مجھ کو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

’’تم جوان ہو زمانہ برا ہے عورت کے دو ہی سائبان ہوتے ہیں ایک تو باپ کا اور  دوسرا شوہر کا، جب یہ دونوں سہارے نہ رہے تو بہتر ہو گا کسی شریف بندے کو زندگی کا ساتھی بنا لو ورنہ یہ زمانہ جینے نہیں دے گا‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اپنے بیوٹی پارلرسے فرح تھکی ہوئی آئی تھی وہ آج کچھ مضطرب اور  مضمحل تھی گزشتہ سال اسی مہینے آج ہی کی تاریخ اس کی شادی ہوئی تھی۔  خواب اور  حقیقت کی سنگلاخ چٹان پر بیٹھی اس رات کے فیصلے کے بارے میں سوچ رہی تھی وہ رات اس کی سہاگ رات تھی جوہر لڑکی کی زندگی میں ایک بار آتی ہے اور  بڑی سج دھج اور  آن بان کے ساتھ آتی ہے جس کا ذکر زندگی کی کتاب میں سنہری حرفوں میں لکھا جاتا ہے۔  شب عروسی کے عطر بیز  خوشگوار لمحے دلہا اور  دلہن کی زندگی کا اثاثہ ہوتے ہیں جسے بنیادبنا کروہ اپنے خوابوں کا محل تعمیر کرتے ہیں اور  اس محل میں ایک ساتھ جینے اور  مرنے کی قسمیں کھائی جاتی ہیں لیکن فرح کی شب عروسی دل اور  دماغ کے لئے میدان کا ر زار بن گئی تھی۔  

شادی اس کی مرضی کے خلاف ہوئی تھی۔  اس کی اولین خواہش تھی کہ ہمسفر اعلی تعلیم یافتہ اور  ڈیشنگ پر سنالٹی کا مالک ہو اسے کا لے رنگ کے مرد دبلے پتلے اچھے نہیں لگتے تھے اس کے والدین اور  بھائی نے یہ کہہ کر چپ کرا دیا تھا کہ رنگ کم ہے تو کیا ہوا آخر کو وہ انجینئر ہے دولت اس کے گھر کی باندی ہو گی جہاں بھی پاؤں مارے گا سوکھی زمین سے چشمہ ابل پڑے گا اس نے روہانسی آواز میں جواب دیا تھا ’’کیا صرف انجنئیر ہی اپنے خاندان کو اچھی زندگی دے سکتا ہے کیا باقی سب مرد اپنے بیوی بچوں کو ننگا بھو کا رکھتے ہیں ؟ اس کی دو سری خواہش تھی کہ دلہاکسی بند کا رمیں پھو لوں سے ڈھکا چھپا نہ آئے بلکہ سفید براق گھوڑے پر سوار کمر میں تلوار لگائے ہلکے پھلکے پھول پہنے ہو کہ دیکھنے والے اسے دیکھ کر مرعوب ہو جائیں اس نے جب سے ہوش سنبھالا تھا تب ہی سے اپنے خوابوں کے شہزادہ کا یہی تصور اپنی پلکوں پہ سجار کھا تھا۔  بھائی بہنوں نے کہا کہ پرانے زمانے میں دلہا گھوڑے پر آیا کرتے تھے آج نئی کاروں کی سج دھج ہی اور  ہوتی ہے۔  جب دلہا نے آہستہ سے اس کا گھونگھٹ الٹا تو اسی لمحہ اس نے بھی ادھ کھلی آنکھوں سے دلہا کو دیکھا کس قدر کرب انگیز تھا وہ لمحہ جوا سکے سینے میں بر چھی بن کر اتر گیا اور  ساری زندگی پر محیط ہو گیا اس نے سنا تھا کہ دلہا کا رنگ کم ہے لیکن یہاں تو صرف دوسفید آنکھیں اور  دانت نظر آ رہے تھے اس چہرے کے ساتھ زندگی کیسے بسر ہو گی زندگی تو بسر کرنے کے لئے ہوتی ہے گزارنے کے لئے نہیں!ا سکے خوابوں کا محل ٹوٹ کر بکھر گیا تھا اس نے آہستہ سے آنکھیں بند کر لیں اور  کہا ’’آپ پسند نہیں آئے ‘‘دلہن کا یہ پہلا جملہ پہلی رات! دلہا حیرت زدہ رہ گیا اپنی انا کو مجروح ہوتے برداشت نہ کر سکا اور  اینٹ کا جواب پتھر سے دیا ’’مجھے بھی تم بالکل پسند نہیں آئیں میں تم سے شادی کے لئے راضی ہی نہیں تھا تمہارے والدین کی لچھے دار باتوں اور  دولت کی چمک دمک نے میرے والدین کی عقل کو ماؤف کر دیا میرے انکار پر ماں نے دودھ نہ بخشنے کی دھمکی دے دی اس طرح میں پا بہ زنجیر کر دیا گیا لیکن اس زنجیر کو تو ڑ نا میرے لئے مشکل نہیں ہے ‘‘کہتا ہوا وہ کمرے سے باہر نکل گیا جشن طرب و مسرت ما یوسی کے کربو اذیت میں بدل گیا سہاگ کی ادھ کھلی کلیاں مرجھانے لگیں۔  کچھ دیر بعد دو تین خواتین دندناتی ہوئی آئیں اور  برس پڑیں ’’واہ کیا تربیت کی ہے والدین نے کہ سسرال میں آئے ہوئے دو گھنٹے نہیں گزرے اپنے مجازی خدا کو ایسی واہیات باتیں سنادیں ‘‘؟!چار حروف کیا پڑھ لکھ گئی کہ اپنے آپ کو افلاطون سمجھ لیا ایسی کیا حور پری ہو کہ ہمارے بچے کے عیب نکال لئے تم جیسی آوارہ اور  بد چلن لڑکیاں ہی اپنے ماں باپ کا نام ڈبوتی ہیں کوئی اور  پسند تھا تو یہاں بیاہ کر کیوں آ گئی ؟ بھاگ جاتی اسی کے ساتھ! دفع ہو جا یہاں سے ‘‘۔۔۔  

ہزاروں دنوں کی طرح اس دن بھی سورج طلوع ہوا تھا لیکن کتنا اداس تھا وہ دن ، جیسے رات کوئی بھیانک طوفان آیا تھا اور  اپنے ساتھ سب کچھ بہا لے گیا۔  رات وہ سجی سنوری دلہن تھی صبح اس کے چہرہ پر ایک بیوہ کی سی اداسی تھی آنکھیں ویران ہونٹ خشک اور  اجڑی ہوئی مانگ۔  وہ اپنے فیصلے پر نا دم نہیں تھی۔  آخر لڑکیوں کو بھی تو اپنا جیون ساتھی پسند کرنے کا حق ہے ، آج لڑکے والے سوسولڑکیاں دیکھ کر ایک کا بھی انتخاب نہیں کرتے کیا ان کے بیٹوں میں سرخاب کے پر لگے ہوتے ہیں ؟ لڑکی پسند کرنے ، ہمہ اقسام کا سامان مانگنے سونا چاندی بنگلہ گاڑی مانگنے کا حق انھیں کس نے دیا ؟ کیا ہمارے اپنے جذبات نہیں ہیں کیا ہمارے سینوں میں حساس دل نہیں ہے ؟ کیا ہم اعلی تعلیم یافتہ نہیں ہیں ؟

اسی طرح وہ اپنے بھائی بہنوں سے الجھ پڑتی دل برداشتہ والدین سمجھا تے کہ کوئی ماں باپ اپنی اولاد کا برا نہیں چاہتے پال پوس کراسے گڑھے میں نہیں دھکیلتے لڑکیوں کا کام ہے کہ اپنے مقدر پر شا کر رہیں اور  زندگی کے ساتھ سمجھوتہ کریں لیکن تم نے پہلا قدم ہی غلط اٹھایا اور  ساری بسا ط ہی الٹ دی اس زمانے میں لڑکی کی شادی ہو نا ہی ایک مسئلہ ہے کسی مطلقہ کی دوسری شادی اور  بھی بڑ امسئلہ ہے!تم نے ہمیں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رکھا اب کیا کریں ؟

’’آپ لوگ کب تک زمانے سے ڈرتے ڈراتے رہیں گے کیا زمانہ صرف ہمارے پیچھے پڑ ا ہے اوروں کو دیکھیں اپنی زندگی میں کسقد رمست و بے خود ہیں ‘‘ماں نے سمجھا یا ’’کوئی بھی مست و بے خود نہیں ہوتا ہر ایک کا اپنا دکھ الگ الگ ہوتا ہے اعلی ظرف اور سمجھدار لڑکیاں اپنے دکھوں کو ہنس کر جھیلتی ہیں ‘‘

ماں نے جیسے تیسے دوسری بیٹی کی شادی کر دی ورنہ فرح کی طلاق کی خبر عام ہونے پر سارہ کی شادی ہونا مشکل ہوتی۔  

فرح کو طلاق لئے ہوئے دس سال گزر چکے تھے وہ اپنی عمر کے تیسرے دہے میں تھی والدین نے بہت کوشش کی اس کی دوبارہ شادی کر دیں لیکن کوئی ڈھنگ کا لڑکا نہیں ملا کبھی کسی اچھے خاندان کے اچھے لڑکے کا رشتہ آتا تو ان کا مطالبہ صرف کنواری لڑکی کا ہوتا یا پھر اعلی عہدہ پر فائز ملازم یا کم از کم ٹیچر کا خواہش مند ہوتا یا پھر کسی کو سعودی یا امریکہ کا ویزا چاہئے تھا فکر و تردد اور  اپنے پرائے کے طعنوں نے والدین کی صحت کو دیمک بن کر چاٹ لیا بھا ئیوں نے تنگ آ کر اپنا اپنا گھر بسا لیا فرح بھاوجوں کی نظر میں ذلیل و خوار ہو گئی اسی غم کو سینے سے لگائے والدین چل بسے۔  بھا ئیوں نے آنکھیں پھیر لیں رشتے داروں نے بھی دوری اختیار کر لی شوہر والی عورتیں اپنے شوہروں پر نظر رکھنے لگیں۔ پڑ وس والی آنٹی نے ہمدردی جتا تے ہوئے کہتیں ’’تم جوان ہو زمانہ برا ہے عورت کے دو ہی سائبان ہو تے ہیں ایک تو باپ کا دوسرا شوہر کا جب یہ دونوں سہارے نہ رہے تو بہتر ہو گا کہ کسی شریف بندے کو زندگی کا ساتھی بنا لو ورنہ یہ زمانہ جینے نہیں دے گا ‘‘پھر وہی زمانے کی بات! زمانے سے ٹکر لینے کے لئے وہ والدین سے ملی ہوئی کچھ رقم بینک سے نکال کر اُس گھر اور  شہر کو خیر باد کہہ دیا جہاں اس کی آرزوئیں حسرتوں میں بدل گئی تھیں جہاں خوابوں کے ادھ کھلے گلابوں کو نوچ کر پھینک دیا گیا تھا اپنوں سے بہت دور ایک نئی بستی بسا نے وہ نا معلوم منزل کی طرف چل پڑی وہ نہیں جانتی تھی کہ اس عمر میں آفتیں ارد گرد منڈلاتی رہتی ہیں اور  قدم قدم چہرے دھوکہ دے جا تے ہیں۔  اس نے ’’فرح بیوٹی پارلر ‘‘کے نام سے شاندار بیوٹی پارلر کھول لیا جہاں اعلیٰ اور  جدید قسم کے ملبوسات کا دیدہ زیب کلکشن بھی رکھا۔ بہت کم عرصہ میں اس کا بیوٹی پارلر خاصو عام کی توجہ کا مرکز بن گیا۔  آزادی خود مختاری اور  پیسے کی ریل پیل نے اسے مست بے و خود بنا دیا آج اچانک کہیں سے اس کی بہن سارہ آ گئی ’’آپا تم نے یہ کیا کیا؟ زندگی کو کھلونا بنا دیا کیوں ؟ تم نے یہ راستہ کیوں اختیار کیا؟ بیوٹی پارلر اور  بو تیک کی حد تک ٹھیک تھا لیکن تم نے اشتہاری فلموں میں بھی کام کر نا شروع کر دیا خاندان کی عزت کا تو پاس لحاظ کیا ہوتا‘‘

’’خاندان ؟ خاندان نے مجھے کیا دیا ہے ؟ اب میں زندگی کو کھلو نا بنا کر کھیلنا چاہتی ہوں ہر دور ہر زمانے میں عورتوں کی زندگی کو کھلونا ہی تو بنا یا گیا ہے زندگی کے بازار میں اسے خریدا اور  بیچا گیا ہے اور  جب دل چاہا توڑ دیا گیا! مرد جب تک اور  جس طرح چاہتے ہیں عورت سے فائدہ اٹھا تے ہیں اور  پھر کسی انجانے مو ڑ پر بھٹکنے کے لئے چھوڑ جاتے ہیں ہم سے ہمارے حقوق کے ہتھیار چھین کر ہمیں نہتا کر دیتے ہیں اخلاقی ضابطوں ،  شرعی بندشوں اور  معاشرتی بندھنوں نے ہمیشہ عورت ہی کو جکڑے رکھا پھر کیوں نہ ہم اپنی زندگی سے کھل کر کھیلیں گھٹ گھٹ کر کیوں مریں ؟ بولو ؟جواب دو؟’’آپا ہوش کے ناخن لو تم بڑی ہو میں تم سے کوئی بحث کر نا نہیں چاہتی صرف اتنا کہنا ہے کہ اب بھی تم اپنا گھر بسا سکتی ہو کسی بھلے آدمی کا ہاتھ تھام کر سکون کے ساتھ زندگی گزارو تم معاشرہ سے ٹکر نہیں لے سکتیں تم ایک دن جیت کر بھی ہار جاؤ گی‘‘

’’کیا میں نے گھر بسا نا نہیں چاہا تھا ؟ مجھے تھامنے کے لئے کتنے ہاتھ میری طرف بڑھے کتنے تھے بتاؤ؟ میں نے زہر کا پیالہ منہ سے لگا لیا ہے جو عورت گھر کی چار دیواری پھاند کر زمانے سے لڑنے کے لئے باہر نکل جاتی ہے اسے اس بات کی پرواہ نہیں رہتی کہ راستے میں راہبر ملے گا یا رہزن! نفع و نقصان کا فر ق بھول جاتی اور  زندگی سودے بازی میں گزر جاتی ہے! مجھے میرے حال پر چھوڑ دو میں ڈالی سے گرا ہوا پھول ہوں جواب کبھی ڈال سے نہیں جڑ سکتا‘‘سارہ اس سے لپٹ کر رونے لگی۔

*****