کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

صدیوں نے سزا پائی

افروز سیدہ


ہر طرف بکھری ہوئی ہیں خواہشوں کی کرچیاں

شام کی دہلیز پر اب رات کا منتظر ہوں میں

ہر طرف ٹوٹے پڑے ہیں خواہشوں کے آئینے

پھر بھی طالبؔوقت کے احساس کا نشتر ہوں میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

اس پر غنود گی سی طاری ہونے لگی تھی آواز ڈوب رہی تھی وہ لیٹ گئی تب ہی ڈاکو نے کچی دیوار میں نقب لگا دی ایک نا دان نے اپنا قیمتی موتی انجانے میں گنوا دیا وہ انمول تحفہ جو ہر لڑکی شب عروسی اپنے دولہا کو پیش کرتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

اکٹو بر کا مہینہ ختم ہو رہا تھا۔  سردی آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی مو سم خوشگوار ہو گیا تھا اور  صبیحہ کے چہرے پر نیا نکھار آ رہا تھا تیرہواں سال ابھی شروع ہوا تھا۔  اس کے جسم پر گل بوٹے  اگ آئے آنکھوں میں ستارے جھلمل کر رہے تھے گال سیب جیسے ہو رہے تھے ہو نٹوں سے انگور کا رس ٹپکنے کو تھا نئے ارمان جاگ رہے تھے۔ آرزوئیں انگڑائیاں لے رہی تھیں۔  بات بات پر مسکراہٹوں کے پھول گراتی صبیحہ عمر کی اس سر حد میں داخل ہو رہی تھی جہاں پہنچ کر عام طور پر لڑکیاں صحیح راستے کا تعین نہیں کر پاتیں نہیں جانتیں کہ اس راہ پر پھول ہیں یا کانٹے کھائی یا چڑھائی! اس بات کا بھی اندازہ نہیں لگا سکتیں کہ راہبر کون ہے اور  کون رہزن ہے۔  صبیحہ میڑ ک کی طالبہ تھی پڑھائی میں اس کا دل نہیں لگتا تھا لنچ ٹائم میں اپنی دوست اسریٰ سے  گپ بازی میں مصروف تھی ’’اسریٰ جانتی ہو آج کیا ہوا ؟

’’کیا ہوا بھئی بڑی خوش نظر آ رہی ہو!

ہمارے ڈرائیور شابی نے دو لڑکوں کی پٹائی کر دی دو تین دن سے وہ لڑکے اپنی کار میں ہمارا پیچھا کرتے ہوئے اسکول تک آ رہے تھے آج شابی نے ان کی کار کو روک لیا اور      انھیں با ہر کھینچ کر بہت مارا وہ بالکل فلمی ہیرو جیسا لگ رہا تھا بہت مزا آیا ‘‘تم اپنے ڈرائیور کی اتنی تعریف کر رہی ہو ؟ میں نہیں مانتی کہ اسے تم سے اسقدر ہمدردی ہو گی کہ وہ اپنی جان کا خطرہ مول لے!اپنے ہی جیسے کسی ڈرائیور کو پٹی پڑھا دی ہو گی کہ وہ تمہاری کار کا پیچھا کرے اور  اس کی مار پٹائی بھی بر داشت کر لے جا نے اسے کتنی رقم دی ہو گی اور  خود تمہاری نظر میں ہیرو بن گیا ایسا بھی تو فلموں میں ہی ہوتا ہے نا ؟

’’ہاں ہوتا توہے لیکن۔۔۔۔۔۔  

’’صبیحہ تم یہ فلموں اور  ٹی وی سیر ئیلس کا چکر چھوڑو اور امتحان کی تیاری شروع کر دو‘‘

’’تم تو بالکل دادی جان کی طرح نصیحتیں کرنے لگتی ہو کبھی تم بھی فلم اور  ٹی وی کا مزہ لے کر دیکھو نا ‘‘صبیحہ نے شوخی سے کہا ’’میری سمجھ میں نہیں آیا کہ تمہارے ممی پا پا نے تمہیں فلم اور ٹی وی دیکھنے کی اجازت کیسے دے رکھی ہے ؟‘‘

’’ان کی بات چھوڑو انھیں ہماری طرف دیکھنے کی فرصت ہی کہاں ہے پا پا اپنے کاروبار میں حیران ،ممی اپنی سہلیوں ، پارٹیوں یا پھر رشتے داروں میں مصروف اور  عامر بھائی کو اپنے دوستوں سے فرصت نہیں میں ٹی وی اور  انٹر نیٹ سے اپنی دل بہلائی کر لیتی ہوں تو کیا برا کرتی ہوں ؟ ‘‘صبیحہ رو ہانسی ہو رہی تھی۔

 ’’اب تم اس مصروفیت کو ختم کرو امتحان سر پر ہے یہ ہمارا میٹرک کا سال ہے نا ہمیں پاس ہونا ہی ہے اور  آگے پڑھنا ہے ‘‘

 ’’مجھے کہاں پڑھنا ہے ہمارے خاندان میں لڑکیوں کو میٹر ک کے آگے نہیں پڑھایا جاتا امتحان میں پاس ہوں یا فیل بس شادی کر دی جاتی ہے میری تعلیم سے کسے خوش ہونا ہے ابو نے تو کبھی ہماری رپورٹ دیکھی نہ تعلیمی حالت پر غور کیا ، اور  امی میری تعلیم کی طرف کیا توجہ دیتیں وہ تو ہمارے کھانے پینے کا تک خیال نہیں رکھتیں بس نوکروں نے جو پکا دیا جب دے دیا کھا لئے بس!صبیحہ کے لہجہ میں اداسی گھل رہی تھی ’’تم تو جانتی ہو نا کہ آج مسلمان ہر میدان میں کیوں پیچھے ہیں محض تعلیم کی کمی نے ترقی اور  خوش حالی کے دروازے ہم پر بند کر دئے ہیں ، تمہاری باتوں میں آج لنچ نہیں لے سکے چلو کلاس کی طرف چلتے ہیں ٹائم ہو گیا ہے۔ ‘‘

 ظفر بیگ کا تعلق اوسط گھرانے سے تھا برسوں اگر بتی کے کارخانہ میں بطور لیبر کام کیا تھا دس سال پہلے اپنا الگ کاروبار شروع کیا بہت کم عرصہ میں وہ ایک بنگلے اور  کار کے مالک بن چکے تھے۔  اپنے لڑکے عامر اور  لڑکی صبیحہ سے بہت پیار کرتے تھے بچوں کی ہر فرمائش پوری کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔  پیسے کی پر واہ نہ تھی۔  سونے چا ندی کی چمک نے ان کی بیگم صفیہ کی آنکھوں کو چکا چوند ھ کر دیا وہ پچھلا وقت بھول گئی جب صبح سے شام تک گھر کے سارے کام نپٹا کر تھک جاتی تھی۔  آج دو نوکرانیاں گھر کا کام سنبھال رہی تھیں اور  صفیہ اپنی تفریحات میں مشغول رہتی اسے یہ احساس ہی نہیں تھا کہ آج الکٹرانک میڈیا کس طرح بچوں سے ان کا بچپن اور  معصومیت چھین رہا ہے ماں کو پتہ ہی نہ چلا کہ کار کے پیچھے آنے والے دو لڑکوں کو مار کر ان کا ڈرائیور بیٹی کی نظروں میں ہیرو بن چکا ہے اس کے وجود پر چھا گیا ہے۔  ایک دن اسکول جلدی چھوٹ جانے پر شہاب الدین نے صبیحہ سے پو چھا ’’صبیحہ بی بی آپ نے میرے گھر کے بارے میں پو چھا تھا کیا آج آپ کو اپنا گھر بتا دوں ؟ صبیحہ نے خوش ہو کر کہا ’’ہاں ہاں چلو بتادو‘‘کسی سلم ایریا میں اس نے ایک کمرہ کرائے پر لیا ہوا تھا جس سے ملحق چھوٹا ساکچن وغیرہ تھے قفل کھول کر صبیحہ کو بٹھایا اور  اس کے لئے چائے  بسکٹ لے آیا۔ صبیحہ نے مزے لیکر بسکٹ کھاتے ہوئے پوچھا ’’شابی تم ہمیشہ اداس رہتے ہو کیا پرابلم ہے ؟نہ کبھی کوئی بات کرتے ہو نہ ہنستے بولتے ہو ؟

آپ کو کیا بتاؤں بی بی جی آپ بہت چھوٹی ہیں میری اداسی کی وجہ جان کر کیا کریں گی ؟

میں اتنی بھی چھو ٹی نہیں ہوں کہ کسی کے دکھ درد کو سمجھ نہ سکوں بتاؤ نا کیا بات ہے ؟ صبیحہ نے ضد کی۔

’’کیا آپ کو معلوم ہے میں ایک گاؤں کا رہنے والا ہوں موہن سنگھ کی لاری پر ڈرائیور تھا میں اور  میری ماں ایک چھوٹی سے مکان میں رہتے تھے۔  ہمارے پڑ وس میں ایک خوبصورت لڑکی تھی ہم دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے تھے لیکن وہ ایک شہری بابو سے بیاہ دی گئی کچھ دن بعد ماں بھی مجھے ہمیشہ کے لئے چھوڑ گئی میرا کہیں دل نہیں لگتا تھا گاؤں سے کیا زندگی سے بیزار ہو چکا تھا۔  میرا ایک جگری دوست زبردستی مجھے شہر لایا اور  مالک سے بات کر کے مجھے آپ کے ہاں کام پر لگا دیا‘‘

’’اب تو تم خوش ہو نا ؟ یہاں کسی لڑکی سے شادی کر لو سب ٹھیک ہو جائے گا ‘‘بات کرتے ہوئے صبیحہ کی زبان لڑکھڑا رہی تھی جیسے وہ نیند میں ہو۔  ’’مجھ غریب سے شادی کون کرے گا؟ شہاب الدین کے چہرہ پر مظلومیت سی چھا گئی اس کی نظریں صبیحہ کے چہرہ پر مرکوز تھیں

’’میں تمہارے لئے کوشش کروں گی امی سے کہوں گی کہ۔۔۔۔۔۔  باتیں کرتے ہوئے صبیحہ نے سارے بسکٹ کھا لئے اور  چائے پیتے ہوئے اس پر غنو دگی سی طاری ہو نے لگی تھی آواز ڈوب رہی تھی وہ لیٹ گئی تب ہی ڈا کو نے کچی دیوار میں نقب لگا دی۔  ایک نا دان نے اپنا قیمتی موتی انجانے میں گنوا دیا وہ انمول تحفہ جو ہر لڑکی شب عروسی میں اپنے دولہا کو پیش کرتی ہے صبیحہ کی دوشیزگی کی کتاب کا پہلا ورق میلا ہو گیا نیم بے ہو شی کے عالم میں وہ ایک نئی دنیا کی سیر کر رہی تھی۔  بے لگام جوانی سودوزیاں سے بے خبر کر انجام سے لا پرواہ ایک انجانی شاہراہ پر دوڑتی چلی جا رہی تھی وہ اکثر و بیشتر آخری ایک دوپیریڈس چھو ڑ کر شہاب کے ساتھ چلی جاتی اور  پھر اپنے ٹائم پر گھر پہنچ جاتی چہرہ کا رنگ نکھر گیا تھا جسم بھر ابھرا لگ رہا تھا پاؤں تھے کہ زمین پر نہیں پڑ تے تھے چڑھتی عمر کے لحاظ سے کسی نے اس بات کو اہمیت نہیں دی وقت دبے پاؤں گزر گیا امتحان شروع ہوئے لیکن صبیحہ اور ہی پڑھائی میں مصروف تھی لہذا فیل ہو گئی خاندانی دستور کے مطابق والدین کو اس کی شادی کی فکر ہوئی دولت مند گھر انہ تھا رشتوں کی لا ئن لگ گئی۔  خاندان کے اور باہر کے لڑکوں کے رشتے آنے لگے جو بھی لوگ اسے دیکھنے آتے اپنی پسند کا اظہار کر دیتے لیکن دوبارہ ادھر سے کوئی پہل نہ ہوتی اور  بات وہیں پر ختم ہو جاتی۔  چھ ماہ گزر گئے کئی رشتے آئے لوگوں نے صبیحہ کو پسند بھی کیا لیکن کہیں بات نہ بن سکی۔  ظفر بیگ اور  صفیہ بیگم حیران تھے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ لڑکے والے ایک بار آ کر دوبارہ کیوں نہیں آتے عامر بھی فکر مند ہو گیا اس نے رشتے کے لئے اخبار میں اشتہار دے دیا۔  کئی رشتے آئے باپ بیٹے نے مل کر چند ایک کا انتخاب کیا ایک لڑکے والوں کو اپنے گھر آنے کی دعوت دے دی تین چار معتبر خواتین کا رسے اتر کر اندر چلی گئیں ظفر بیگ اور  عامر کو معلوم ہوا کہ نو شہ کے چھوٹے بھائی بھی آئے ہیں تو دونوں نے انھیں ڈرائنیگ روم میں بٹھا لیا دوران گفتگو معلوم ہوا کہ نو شہ کے والد مرحوم انکے بچپن کے دوست تھے عامر اور  راشد بھی دوستانہ انداز میں باتیں کرتے رہے خواتین نے لڑکی کو پسند کیا اور  دوبارہ آنے کا کہہ کر رخصت ہوئیں کئی دن گزر گئے لیکن ان کی طرف سے کوئی پیغام نہ ملا ادھر سب تشویش میں مبتلا ہو گئے عامر نے کہا کہ وہ خود راشد سے بات کرے گا کہ حقیقت کیا ہے راشد نے بتا یا کہ لڑکی دیکھنے کے دوسرے ہی دن کسی لڑکی نے فون کر کے بتایا کہ وہ اس لڑکی کی سہیلی ہے جسے ہم نے پسند کر لیا تھا اس نے بتایا کہ وہ لڑکی کسی اور  کو پسند کرتی ہے لہذا ہم اسے اپنی بہو بنا نے کا ارادہ ترک کر دیں۔  عامر حیران سا راشد کی طرف دیکھ رہا تھا اس کا چہرہ غصہ اور  پشیمانی سے سرخ ہو رہا تھا وہ معذرت کرتا ہوا واپس ہو گیا گھر آ کراس نے پچھلے دو چار لڑکے والوں کے فون نمبر لئے اور  فون پر پو چھا کہ آپ رشتہ تو نہیں کر رہے ہیں لیکن اتنا بتا دیں کہ لڑکی کو پسند کرنے کے باوجود انجان کیوں ہو گئے کسی نے وہی بات بتائی جو راشد نے بتائی تھی کسی نے بتایا کہ ایک لڑکے نے فون کر کے بتایا کہ وہ اس لڑکی سے محبت کرتا ہے اور  لڑکی بھی اسے چاہتی ہے لہذا کوئی ان کے بیچ آنے کی کوشش نہ کرے سب کی باتیں سن کر عامر پیچو تاب کھاتا رہا اس کے تن بدن میں آگ سی لگی ہوئی تھی دل دماغ کو قابو میں رکھتے ہوئے صورت حال سے نپٹنے پر غور کر رہا تھا۔

 اس دن صبیحہ اپنی سہیلی اسریٰ کی سالگرہ میں شرکت کے لئے ضد کر رہی تھی۔  کئی دن پہلے اس کے باہر آنے جانے پر پا بندی لگا دی گئی تھی۔  ماں نے بمشکل اجازت دی اور  ایک گھنٹہ میں واپس آنے کی تاکید کر دی۔  ڈیڑھ گھنٹہ گزر جانے پر ماں نے عامر کو سہیلی کے گھر بھیجا۔  شہاب الدین کے گھر کی طرف سے وہ گزر رہا تھا کہ اپنی کا رکو وہاں دیکھ کر ٹھٹک گیا وہ سوچ رہا تھا کہ شہاب خود گاڑی لیکراسریٰ کے ہاں نہیں گیا اس لئے صبیحہ کے آنے میں دیر ہو گئی ابھی وہ کسی نتیجہ پر نہیں پہنچا وہ شہاب کو فورا وہاں بھیجنا چاہتا تھا اسی وقت صبیحہ شہاب کے گھر سے نکل کر اپنی کا رکی طرف جاتی نظر آئی وہ کار میں بیٹھ گئی اور  سیاہ آئینے چڑھا لئے عامر حیران کھڑا دور سے دیکھ رہا تھا غصہ کے مارے اس کے جسم پر لرزہ طاری تھا ایک جھٹکے سے اپنی بائیک اسٹارٹ کی اور  ہوا کے دوش پر سوار گھر پہونچا وہ پور ٹیکو میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا تھا اس کے ہاتھ میں لوہے کی ہتھوڑی تھی وہ بے حد مفطر ب تھا جیسے ہی کار پور ٹیکو میں رکی صبیحہ ہنستی کھلکھلاتی گاڑی سے اتر کر آ رہی تھی کہ عامر نے پو چھا ’’کہاں سے آ رہی ہو ؟ ’’جی میں اسری کے گھر سے آ رہی ہوں ‘‘’’جھوٹ بکتی ہے ؟ میری آنکھوں میں دھول جھونکتی ہے ؟‘‘عامر کھڑا ہوا حلق پھاڑے چلاّ رہا تھا صبیحہ اس کے تیور دیکھ کر اندر بھاگ گئی شہاب بھی تیزی کے ساتھ پلٹ کر گیٹ کی جانب بڑھ رہا تھا عامر لپک کرا سکے پیچھے بھا گا اور  ہتھوڑی کا بھر پور دار اس کے سرپر کر دیا شہاب درد کی شدت سے تیور اکر گر پڑ اا سکے گرتے ہی عامر نے مسلسل کئی وار کئے چیخ و پکار کی آواز سن کر گھر کے لوگ باہر آ گئے تھے ظفر بیگ بھی مو جود تھے لیکن عامر کو روکنے کی ہمت کسی نے نہیں کی سب کھڑے دیکھ رہے تھے شہاب کے سرسے خون بہہ رہا تھا اور  جسم ساکت تھا۔  عامر ہتھوڑی پھینک کر اندر چلا گیا گھبراہٹ میں صبیحہ نے پولس کو فون کر دیا تھا کچھ ہی دیر میں پولس آ گئی صورت حال کا جائزہ لے کر سب کا بیان قلم بند کیا۔  عامر پر قتل کا مقدمہ چلا اور  چودہ سال کی قید با مشقت ہو گئی ظفر بیگ کا پیسہ اور  تمام کوششیں رائے گاں ہو گئیں وہ عدالت کا فیصلہ سن کر تھکے ہارے لرزیدہ قدموں سے گھر آئے اور  بمشکل بتا یا کہ عامر کو چودہ سال کی قید با مشقت ہو گئی۔

 تب ہی صبیحہ نے ایک چیخ ماری اور  ماں سے لپٹ گئی ’’ماں مجھے مار ڈالو مجھے ختم کر دو میرے اس نا پاک و جود کو مٹا دو سارا قصور میرا ہے میں بھٹک گئی تھی ماں اور  تم نے بھی تو میرے بہکتے قدموں کو نہیں دیکھا!ماں باپ بیٹی کی عزت و نا موس کے امین ہوتے ہیں نا ؟ پر ائے دھن کی دلو جان سے حفاظت کرتے ہیں نا؟تم نے مجھے وہ نصیحتیں نہیں کیں جو صد یوں سے ہر ماں اپنی بیٹی کو کرتی رہی ہے دنیا کے نشیب و فراز اور  سرد و گرم سے واقف کراتی رہتی ہے اپنی نئے زمانے کے تقاضوں سے روشناس کراتی ہے میرا نازک سابلوریں گلدان چُور چُور ہو گیا ماں اور  تمہیں پتہ بھی نہ چلا؟ میری سلگتی جوانی نے سب کچھ جلاد،  یا سب کچھ ماں سب کچھ‘‘

صبیحہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔

 کر سی پر بیٹھے ہوئے ظفر بیگ کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی روح جسم کے پنجرہ سے نکل کر پرواز کر چکی تھی۔  ہمدردی کے بہانے دونوں ماموؤں نے بزنس سنبھال لیا تھا اور  چند ہی دنوں میں ہر چیز پر قبضہ کر لیا۔  ماں بیٹی کو در در کی خاک چھاننے کے لئے گھر سے بے گھر کر دیا اور  زندگی کا نٹوں بھری ایک طویل رہ گز ربن گئی۔  

*****