کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

طوفان کے بعد

افروز سیدہ


ڈھل چکا دن اور  تیری قبر پر

دیرسے بیٹھا ہوا ہوں سرنگوں

روح پر طاری ہے ایک پیہم سکوت

اب تو سازِغم نہ سازِجنوں

مستقل محسوس ہوتا ہے مجھے

جیسے تیرے ساتھ میں بھی دفن ہوں

۔۔۔۔۔۔  

شام کی خنک اور  اداس ہواسسکیاں لے رہی تھی سب لوگ جا چکے تھے۔

 شکیل قبر کے پاس بیٹھا بڑ بڑ ا رہا تھا ’’ماں ہمارے درمیان یہ مٹی کا ڈھیر کیوں آ گیا میں تمہیں دیکھ سکتا ہوں نہ چھوسکتا ہوں تم نے مجھ سے کہا تھا کہ میں تمہیں چھوڑ کر نہ جاؤں اور  تم مجھے اکیلا چھوڑ کر چلی گئیں۔ مجھے اپنوں کا پتہ ٹھکانہ بھی نہیں بتایا میں کیا کروں ،  ماں کہا جاؤں۔

وہ مٹی کو دونوں ہاتھوں سے الٹ پلٹ کرتا رہا ،  روتا رہا ،  مغموم شام تیزی کے ساتھ اپنے سیاہ پر پھیلا رہی تھی تب ہی موذن کی پرسوز آواز فضاء میں ابھری۔ اور  ایک سو گوار سا موسیقی ریز ارتعاش برپا کر گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

امجد سلطان نے آج پھر شکیل کو مارا تھا یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا جو امجد نے اسے بے دردی سے مارا تھا۔  وہ اکثر بات بے بات شکیل کو ڈا نٹتا جھڑ کتا پیٹتا رہتا تھا۔  کچھ دیر پہلے وہ بازو والے مکان کے سامنے کھڑی ایک خو بصورت کار کو دیکھ رہا تھا اسے کاروں سے جیسے عشق تھا بلیو کلر کی اس کار کو وہ گھوم گھوم کر دیکھ رہا تھا جس کی نرم نرم سیٹیں اور آئینہ کے سامنے جھو لتی ہوئی گڑ یا اسے دیوانہ بنا رہی تھی۔  امجد کہیں سے آ گیا اسے کھینچتا ہوا گھر میں لا یا اور پٹائی کر دی۔  غصہ میں جھلاتا شاید وہ باہر چلا گیا تھا اس لئے اس کی ماں اسے سمجھانے بیٹھ گئی تھی ’’شکیل بیٹے! تم سے کتنی بار کہا کہ تم ابو کی بات کا برا نہ ماننا وہ جو کچھ کہتے ہیں اس میں تمھاری بھلائی ہوتی ہے۔ ‘‘

’’امی جان میں نے بھی آپ سے کتنی بار کہا ہے انھیں میرا ابو نہ کہیں میں انھیں ابو نہیں مان سکتا اب میں چھوٹا بچہ نہیں ہوں پانچویں کلاس میں پڑھتا ہوں میں اپنے ابو کو بھولا نہیں ہوں شاید آپ کو یا د نہ ہو لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں دوسری کلاس میں فرسٹ آیا تھا تو ابو جانی کتنے خوش ہوئے تھے۔  ڈھیر ساری مٹھائی اور کھلو نے لائے تھے اور ہم دونوں کو باہر گھمانے لے گئے تھے اس دن ہم نے سر کس دیکھی اور خوب آئسکر یم بھی کھائی تھی میں کبھی بیمار ہو تاتو ابو کس قدر پریشان ہو جاتے۔  بار بار ڈاکٹر کے پاس لے جا تے اپنے ہاتھ سے دوا پلاتے وہ میرے ابو تھے۔۔۔  کہاں ہیں وہ ؟ مجھے یاد ہے کہ آپ ابو جانی سے بہت جھگڑا کیا کرتی تھیں ان کے کسی کام کا خیال نہیں رکھتی تھیں۔  نہ ان کی کوئی بات مانتی تھیں۔  میرے ابو جانی کہاں ہیں ؟ دادی امی اور چاچا کہاں ہیں ؟ ان کی گڑ یا جیسی لڑکی للی اور  فراز کہاں ہیں۔  امی مجھے ان کے پاس لے چلیں ورنہ میں یہاں سے چلا جاؤں گا‘‘۔  شکیل رونے لگا۔  اس نے گھر چھوڑ نے کی بات کہی تو اس کی ماں چلاّ اٹھی۔  

’’نہیں شکیل!تم مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤ گے تم چلے گئے تو میں مر جاؤں گی میں تمھارے ابو جانی سے جھگڑ اکر کے تمھیں اپنے ساتھ لائی ہوں یہ سچ ہے کہ ہم دونوں میں بہت جھگڑا ہوا کرتا تھا کیوں کہ وہ بہت پڑھے لکھے ہیں انجینیر ہیں ان کے اپنے کچھ اصول تھے جن کی وہ سختی سے پا بندی کیا کرتے میں ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھی میرے والدین نے مجھے تعلیم بھی زیادہ نہیں دلائی تھی لیکن تمہاری دادی امی اور  ابو جانی کو بتایا گیا تھا کہ میں بہت پڑھی لکھی ہوں سچ تو یہ ہے کہ اردو انگریزی تو دور کی بات ہے مجھے تو قرآن شریف تک ٹھیک سے پڑھنا نہیں آتا۔  تمہارے ابو نے مجھے پڑھانے کی بہت کوشش کی لیکن میں بد نصیب کوڑھ مغز کچھ بھی نہ سیکھ سکی میری سو تیلی ماں نے پکا ناسینابھی نہیں سکھایا سب مجھ سے بیزار تھے جیسے ہی تمھارے امتحان ختم ہوئے تمہارے ابو نے مجھے تمھارے نانا کے گھر لا کر چھوڑ دیا اور  میں نے ان سے جھگڑ اکر کے تمہیں اپنے ساتھ رکھ لیا پھر میری ماں کے کہنے پر بابا جان نے اس شخص کو تمہارا ابو بنا دیا۔  آج میں زندگی کی ایک ایسی ایک کتاب ہوں جس  کے ہر ورق پر سیاہی پوت دی گئی ہو یہ زندگی میرے لئے ایک روگ بن گئی ہے میں وہ بدنصیب عورت ہوں جو نہ سسرال میں کسی کا پیار پا سکی نہ شو ہر کا دل جیت سکی نہ ہی تمھیں وہ پیار دے سکی جو ایک ماں دیتی ہے لیکن تم مجھے چھو ڑ کر نہیں جا سکتے میں بہت اکیلی ہو جاؤں گی میں انھیں سمجھاؤں گی کہ وہ تم سے بھی پیار کریں ٹھیک ہے ؟ ‘‘شکیل نے اپنے آنسو پونچھ لئے اور  اثبات میں سرہلادیا۔  

شکیل کی وجہ سے ان دونوں میں اکثر جھگڑے ہو نے لگے تھے۔  کسی دن امجد دیکھ لیتا کہ شکیل پڑھنے لکھنے میں منہمک ہے تو اس دن اس کی خیر نہ ہوتی وہ گلا پھاڑ کر چلا تا’’کس کے پلّے کو اپنے ساتھ لائی ہو جو بیٹھا بیٹھا مفت کی روٹیاں توڑ تا رہتا ہے تم سے کہا تھا کہ گھر کا ہر کام اس سے لیا کرو یہاں مفت کا کھانا نہیں ملے گا۔  ‘‘

اس دن سے شکیل نے امجد کی موجودگی میں کبھی کتاب نہیں کھولی۔  ایک دن کسی بات پر اس نے شکیل کی ماں کو بہت مارا اور  اس کا سر دیوارسے ٹکرا دیا وہ چیخ مارکر ایسے گری کہ پھر نہ اٹھ سکی۔  شکیل سکتے کے عالم میں کھڑ اسب دیکھ رہا تھا ماں کے گرتے ہی وہ جھپٹ کر آیا اور ا س سے لپٹ کر ’’امی جان!امی جان!‘‘چلّا نے لگا تب ہی امجد نے اسے بے تحاشہ  پیٹنا شروع کیا تو وہ دھاڑیں مار کر رونے لگا محلے کے لوگ جمع ہو گئے کسی نے شکیل کو سنبھالا کسی نے امجد کو قابو کیا۔  شام ہو تے ہو تے کچھ اور لوگ جمع ہو گئے سب نے مل کر شکیل کی ماں کو سپرد خاک کر دیا۔

 شام کی خنک اور اداس ہوائیں سسکیاں لے رہی تھی سب لوگ جا چکے ہے شکیل قبر کے پاس بیٹھا بڑ بڑ ا رہا تھا

’’ماں ہمارے در میان یہ مٹی کا ڈھیر کیوں آ گیا کہ میں تمھیں دیکھ سکتا ہوں نہ چھو سکتا ہوں تم نے مجھ سے کہا تھامیں تمھیں چھو ڑ کر نہ جاؤں اور  تم مجھے اکیلا چھوڑ کر چلی گئیں۔  وہ شخص تو مجھے روز مارے گا پھر مجھے کون سمجھائے گا۔  کھانا کون کھلائے گا ؟ مجھے اپنوں کا پتہ ٹھکانہ بھی نہیں  بتا یا!میں کیا کروں ماں کہاں جاؤں۔۔۔  ‘‘

وہ مٹی کو دونوں ہاتھوں سے الٹ پلٹ کرتا رہا روتا رہا۔  مغموم شام تیزی کے ساتھ اپنے سیاہ پر پھیلا رہی تھی تب ہی موذن کی پر سوزآواز فضا میں ابھری شکیل سست قدموں کے ساتھ گھر کی طرف چل پڑ ا۔  گھر تو اپنوں کی موجودگی سے گھر ہوتا ہے وہاں تو میرا اپنا کوئی نہیں ہے پھر بھی اسی ٹھکا نے پر مجبوراً جا نا ہے۔  اب کیا ہو گا؟گھر پہنچا تو پڑ وس کی فریدہ آنٹی نے اسے سینے سے لگا کر تسلی دی تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو نے لگا۔  امجد کے کہنے پر فر یدہ نے اسے پکو ان سکھایا۔  گھر کے کام سے فارغ ہو کر وہ اکثر قبر ستان چلا جاتا ماں کی قبر کے پاس بیٹھا باتیں کرتا ’’ماں تم مجھے کس کے سہارے چھوڑ گئیں میں سب کام اکیلا کرتا ہوں رات کو ہاتھ پاؤں بہت درد کرتے ہیں ماں۔  تین دن پہلے اس شخص نے تمھارے البم سے تمام تصویریں نکال کر جلا دیں ایک تصویر میں نے چھپا لی ہے اس میں میرے ابو جانی ’ دادی امی ، چاچا، چاچی، فر از میں اور  للی ہیں میں نے اسے اپنے سوٹ کیس کے چور خانے میں چھپا دیا ہے سنو ماں!میں نے پانچویں کلاس پاس کر لی ہے لیکن کوئی خوش ہو نے والا نہیں ہے سینے سے لگا کر شاباشی دینے والا کوئی نہیں ماں!ہاں ایک بات بتانی تو بھول ہی گیا کہ اب وہ شخص مجھے نہیں مارتا وہ تو ایک عورت کے ساتھ باتیں کرتا اور  ہنستارہتا ہے وہ اب اسی گھر میں رہتی ہے وہ کہتا ہے میں اسے امی پکاروں اب تمھیں بتاؤ میں اسے امی کیسے پکار سکتا ہوں وہ مجھ سے سیدھے منہ بات نہیں کرتی ہر وقت کام کرواتی ہے اپنے کپڑے بھی مجھ سے دھلواتی ہے کل عید تھی نا بہت کام تھا اس لئے تم سے ملنے نہ اس کا۔  کسی نے مجھے نئے کپڑے نہیں بنائے نہ وہ شخص مجھے اپنے ساتھ نماز کے لئے لے گیا ’’اس نے روتے ہوئے قبر پر سر ٹیک دیا جیسے وہ ماں کی نرم گرم گو دہو۔  

ایک دن وہ گھر چھوڑ کر چلا گیا۔  اس دن اس کے ہاتھ سے دودھ کا گرم بگونا چھوٹ گیا تھا۔  سارا دودھ فرش پر پھیل گیا وہ یوں سہماکھڑ ا رہا جیسے دو دھ کا بگونا نہیں بلکہ کوئی قیمتی گلدان گر کر چور چور ہو گیا ہو پہلے امجد نے دو طمانچے ر سیدکئے پھر نئی عورت نے بید کی چھڑی سے اس کے جسم پر نقش و نگار بنا دئیے۔  آدھی رات کے قریب وہ اپنے سوٹ کیس کو سینے سے لگائے نکل کھڑا ہوا۔  ماں کے دئے ہوئے کچھ پیسے سنبھال کر رکھے تھے اس نے حیدرآباد کا ٹکٹ لیا اور  ٹرین میں بیٹھ گیا۔ وقت دبے پاؤں گزر گیا۔  

حیدر آباد آئے ہوئے شکیل کو دس سال ہو گئے لیکن اسے اپنوں کی شکل نظر نہیں آئی تھی وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ لوگ کس مقام پر رہتے ہیں۔  زندگی جیسے ایک طویل سنسان رہ گزر بن گئی تھی نہ کوئی ساتھی نہ سنگھی نہ کوئی راہبر نہ منزل کا نشاں۔  حیدر آباد آنے کے چند دن بعد ہی اسے ایک کپڑے کی مل میں کام مل گیا تھا اس کے بھولے چہرے اور  صاف گوئی نے مل مالک فخر الدین کا دل موہ لیا تھا۔  شکیل نے انھیں بتایا کہ اس کے والد ماں کو چھوڑ کر کہیں چلے گئے اور  سوتیلے باپ نے ماں کی جان لے لی اس لئے وہ گھر چھوڑ کر بھاگ نکلا۔

 فخرالدین نیک دل اور  خداترس انسان تھے انھوں نے شکیل کی ہر طرح سے مدد کی اس نے کام کرتے ہوئے پڑھائی شروع کر دی تھی بی کام پاس کرنے کے بعد ایم بی اے کر رہا تھا۔  ایمانداری محنت اور  سینیریٹی کے لحاظ سے وہ آج مل کا منیجر اور  فخرالدین کادست راست تھا۔  انھوں نے پہلی بار اپنے کسی قریبی رشتے دار کی سالگرہ پر اسے بطور خاص مدعو کیا تھا۔ تقریب میں شرکت کے لئے اس نے ایک قیمتی سوٹ سلوایا اور  ایک بیش قیمت تحفہ بھی لے لیا تھا۔  فخرالدین کے ساتھ ان کی اسٹیم گاڑی سے اترتا ہوا وہ ان کے بیٹے جیسا لگ رہا تھا کئی نگاہیں اس پر مرکوز تھیں سرو جیسا قد گورا رنگ سوز میں ڈوبی ہوئی مخمور آنکھیں اور  چہرہ تعلیم کے نو رسے دمکتا ہوا۔  جیسے عرش سے اترا ہوا کوئی فرشتہ۔  وہ یوسف ثانی نہیں تھا۔ لیکن اسے دیکھ کر حسین دوشیزاؤں کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو رہی تھیں وہ آپس میں کھسرپھسر کر رہی تھیں شکیل کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ وہ سب اسی کے بارے میں بات کر رہی تھیں اس نے نظریں جھکا لیں جیسے اطراف کے ماحول سے بے خبر ہو۔  آج پہلی باراسے اپنی شخصیت کی اہمیت کا احساس ہوا وہ دل ہی دل میں خوش تھا ہو نٹوں سے پھوٹتی ہوئی خفیف سی مسکراہٹ کو دبا رہا تھا جو لوگ شکیل کو نہیں جانتے تھے انھیں فخرالدین  بتا رہے تھے کہ یہ ان کا منہ بو لا بیٹا ہے اور ان کی مل کا کرتا دھرتا وہی ہے ممنونیت بھری مسکراہٹ شکیل کے ہو نٹوں پر رقصاں تھی اچانک اسے محسوس ہوا کہ ایک گوری چٹی تیکھے نقوش اور بھرے بھرے جسم والی لڑکی ٹکٹکی باندھے والہانہ انداز میں اسے دیکھ رہی ہے۔  جیسے یادداشت کے سمندر میں کوئی کھویا ہوا موتی تلاش کر رہی ہو۔  جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو۔  وہ آگے بڑھ کر کچھ پو چھ بھی تو نہیں سکتا تھا اسے کیا حق تھا کہ وہ کسی اجنبی لڑکی سے کوئی بات کرتا وہ تو فخرالدین کا ملازم تھا۔  کچھ دیر بعد وہ وہاں نظر نہیں آئی جہاں سوچ میں ڈوبی ہوئی بیٹھی تھی۔  شکیل کی نظریں اسے تلاش کر رہی تھیں وہ دور ایک کو نے میں کھڑی اسی کی طرف دیکھتی ہوئی نظر آ گئی سحر زدہ سا اسے دیکھتا رہا جیسے وہ کہہ رہی ہو۔  

تم اتنی دور سے چل کر میرے قریب آئے

اب آؤ پاس ہی بیٹھو تھکن مجھے دے دو

یہ کیسی بے چینی ہے جس میں سکون کی چاشنی بھی گھلی ہوئی ہے جیسے دل آگہی دے رہا ہو کہ یہی ہے تیری منزل تجھے آج تک اسی کی تلاش تھی آگے بڑھ اس کا ہاتھ تھام لے اور  اپنی منزل کے آگے دو زانو ہو جا۔  یہ میں کیا سوچنے لگا؟ وہ امیر باپ کی نور نظر محلوں کی شہزادی!اور  میں ایک یتیم یسیرادنیٰ ’ غلام،اس کا دمکتا ہوا چہر جیسے بجھ سا گیا۔  وہ جلد از جلد گھر لوٹ جا نا چاہتا تھا لیکن سالگرہ کا ہنگامہ عروج پر تھا۔  تالیوں کے شور میں اسی جان محفل کو پھول پہنائے گئے اور کیک کاٹا گیا فخر الدین نے آگے بڑھ کر سب سے پہلے مبارک باد دی اور بتایا کہ جلیل احمد کی لڑکی لبنیٰ آج اپنی زندگی کی سولہویں بہار کا استقبال کر رہی ہے۔  پر تکلف کھانا ہوا کچھ دیر بعد تقریب اختتام کو پہنچی۔  

رات بھر شکیل کرو ٹیں بدلتا رہا سوچتا رہا اس کا دل کیوں اس لڑکی کی طرف کھینچا جا رہا ہے جسے جانتا پہچانتا ہی نہیں وہ جیسے نس نس میں سمائی جا رہی تھی پہلی نظر میں وہ اپنی سی لگی تھی اسے دیکھ کر روح ٹھٹک گئی تھی جیسے کسی بھٹکے ہوئے پرندے کو اچانک اپنا نشمین نظر آ جائے۔  کون ہے یہ ؟ پہلی بار اسے اپنے دل میں ایک درد سا محسوس ہو رہا تھا ایسا درد جس میں ایک بے نام سی لذت بھی شامل تھی میٹھی میٹھی کسک تھی۔  پتہ نہیں زندگی میں ایسا کیوں ہوتا ہے ہم جسے چاہتے ہیں اسے حاصل نہیں کر سکتے اور  جو حاصل نہیں ہو سکتا دل اسی کے لئے تڑ پتا ہے مچلتا ہے۔  نیند کا پتہ نہیں تھا۔  رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی وہ بستر سے اٹھا اور  مصلی بچھا کر سجدہ ریز ہو گیا۔  کہتے ہیں محبت انسان کو خدا سے قریب کر دیتی ہے۔  جانے وہ کب تک اپنے پروردگار کے آگے گڑ گڑ اتا رہا۔  صبح وہ دیر سے اٹھا مل پر جانے میں بھی دیر ہو گئی۔  فخر الدین پہلے سے موجود تھے اسے آتا دیکھ کر مسکر ائے اور کہا۔  میرا اندازہ تھا تم دیر سے آؤ گے ویسے آج گھر پر آرام کر لیتے تو بہتر تھا ’ رات شاید ٹھیک سے سوئے نہیں ؟ شکیل کے ہو نٹوں پر مسکراہٹ تھی اس نے سرجھکا لیا وہ کیسے بتاتا کہ رات اس پر کتنی بھاری گزری اور  کیوں بھاری گزری ہے۔  اسی وقت فون کی گھنٹی بج اٹھی غیر ارادی طور پر اس نے جھپٹ کر فون اٹھا لیا دو سری طرف سے مردانہ آواز آئی۔

’’ہیلو!کیا آپ فخر ماما سے بات کرائیں گے ؟ میں جلیل بات کر رہا ہوں ‘‘ر یسیور فخرالدین کی طرف بڑھاتے ہوئے شکیل نے کہا ’’جلیل صاحب کا فون ہے ‘‘۔ ’’ہاں بھئی کہو کیا بات ہے کیا آج سائٹ پر نہیں گے ‘‘؟نہیں ماما کل کی تھکان نہیں اتری ابھی گھر ہی پر ہوں آپ کی طبیعت کیسی ہے ؟ ’’بس ٹھیک ہوں۔  کہو کیا کوئی خاص بات ہے ؟‘‘

’’ماما کہنا یہ تھا کہ ہم لوگ آپ کے منہ بولے بیٹے کے بارے میں کچھ جاننا چاہتے ہیں وہ کون؟ ہے کہاں سے آیا ہے ؟اس کے والدین کہاں ہیں ؟ کیوں کیا بات ہے ؟کیا ہوا ؟

’’ماما دراصل ہم نے اسے لبنیٰ کے لئے پسند کیا ہے اور  اس کے بارے میں تفصیل جاننا چاہتے ہیں ‘‘۔  

’’بھئی بات یہ ہے کہ پچھلے دس سالوں میں شکیل کی روئداد میں نے بھی نہیں پوچھی اس نے صرف اتنابتایا تھا کہ وہ بنگلورسے آیا ہے اس کی ماں کے انتقال کے بعد سوتیلے باپ اور  سو تیلی ماں نے بے حدوحساب ظلم ڈھائے اور  وہ گھر چھوڑ کر نکل گیا مزید تفصیل میں پوچھ کربتاؤں گا۔  ؟

شکیل کا دل بے تحاشہ اچھلنے لگا آخر جلیل احمد میرے بارے میں کیوں پوچھ رہے تھے انھوں نے کل والی چوری تو نہیں پکڑلی۔  کیا میری ملازمت میری منزل مجھ سے چھینلی جائے گی ؟ شکیل کھڑ اکھڑ اپسینے میں نہا رہا تھا۔  فخر الدین فون رکھ کر اس کیطرف پلٹے تو اس کی غیر ہوتی ہوئی حا لت کو دیکھ کر پریشان ہو گئے۔  اسے اپنے کیبن میں لے گئے پانی پلایا اور  سکون سے بیٹھنے کہا ان کے ہو نٹوں پر مسکر اہٹ کھیل رہی تھی شکیل کی ڈھارس بند ھی وہ سر جھکائے بیٹھا رہا۔  فخرالدین گویا ہوئے۔  

’’شکیل تمھیں یہ جان کر مسرت ہو گی کہ جلیل احمد اور  ان کی بیگم نے تمھیں ان کی بیٹی کے لئے پسند کیا ہے وہ تمھارے بارے میں تفصیلات جاننا چاہتے ہیں شکیل حیرت سے منہ کھولے فخر الدین کے ایک ایک لفظ کو غور سے سن رہا تھا اسے اپنی سماعت پر یقین نہیں ار ہا تھا حیرانی اور  شادمانی کے ملے جلے جذبات اس کے چہرے سے عیاں تھے اس نے بتا یا کہ وہ اپنے بارے میں صرف اتنا جانتا ہے کہ اس کے والد انجینیر ہیں وہ ماں سے خوش نہیں تھے اس لئے انھیں طلاق دے دی اور انکے والد کے گھر بھیج دیا والد نے کسی شخص سے ان کا نکاح کر وا دیا جس کے ظلم سہتے ہوئے ماں مر گئی سوتیلے باپ نے دو سری شادی کر لی ان دونوں نے اس کے سر پر ظلم کے پہاڑ توڑے با لآخر وہ گھر سے بھاگ نکلا۔  ’’تمہارے والد کا کیا نام ہے ؟

’’ان کا نام جمیل احمد ہے وہ انجینئر ہیں جا نے وہ کہاں ہیں میں پچھلے دس سال سے ان سب کو کھوج رہا ہوں میری بہت پیاری سی دادی تھیں جو مجھ پر ہزار خوشیاں نچھاور کرتی تھیں وہ میرے دل سے کبھی دور نہیں ہوئیں میرے چاچا چاچی اور ان کے دو بچے بھی تھے ایک لڑکا اور  ایک گڑ یا جیسی لڑکی تھی۔  میں آپ کو ان کی تصویر بتا سکتا ہوں جو آج بھی میرے سوٹ کیس کے چور خانے میں محفوظ ہے شاید آپ نے انھیں کہیں دیکھا ہو میں اپنے کمرے تک جا کر ابھی آتا ہوں۔۔۔۔  

وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اپنے کمرے کی طرف گیا اور  دوڑتا ہوا واپس آیا اور  فخرالدین کے ہاتھ میں تصویر دے دی جسے وہ غور سے دیکھ رہے تھے اور ان کی آنکھ سے آنسو رواں تھے۔ ؟ شکیل حیرت سے انھیں دیکھ رہا تھا فخر الدین نے بتا یا کہ شکیل کی دادی ان کی اکلوتی بہن ہیں جنھوں نے اپنے پو تے کی یاد میں رو رو کر اپنی بینائی کھو دی ہے خاندان کے لوگوں نے آپریشن کیلئے مجبور کیا تو ہمیشہ ایک ہی جو اب دیا کہ جب شکیل آ جائے تو بتا دینا میں اسی دن آپریشن کر والوں گی اور سب سے پہلے اسی کا چہرہ دیکھوں گی۔  میں نہیں جانتا تھا کہ تم ہی وہ شکیل ہو

وہ ایک جھٹکے سے اٹھے اور  شکیل کو سینے سے لگا کر رونے لگے پھر اپنی آواز پر قا بو پاتے ہوئے کہا۔  

’’جب تمہاری ماں نے کو رٹ کے ذریعہ تمھیں حاصل کیا اور  اپنے ساتھ لیکر چلی گئی تو انھوں نے دنیا سے کنارا کر لیا چلو میں تمہیں ان سب سے ملاؤں جو تمہاری یاد کو سینے سے لگائے تمھارے انتظار میں جی رہے ہیں تم میری بہن کی آنکھوں کے نور دل کے سرور ہو میں کہہ نہیں سکتا کہ وہ تمھاری آمد کی خو شی کو کیسے سہار سکیں گی فراز اور  لبنی بھی تمہیں نہیں بھولے تم لبنیٰ کو للی پکارا کرتے تھے اس لئے سالگرہ کے دن  تم لبنیٰ کا نام سن کر چونک گئے تھے کہتے ہیں کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے میں نے محسوس کیا تھا کہ تم اور لبنیٰ ایک دو سرے کو غور سے دیکھ رہے تھے۔  چلو شکیل ایک لمحہ بھی ضائع کئے بغیر ہمیں جلیل کے گھر  چلنا چاہئے۔ ‘‘شکیل حیرت زدہ بیٹھا سب کچھ سنر ہا تھا۔  ’’کیا سوچ رہے ہو آج اوپر والے کو تم پر رحم آ گیا ہے وہ تمام خوشیاں تمھیں لو ٹا رہا ہے اس نے کہا ہے لا تقنطوا من رحمۃ اﷲ چلو چلتے ہیں ‘‘۔ ’’ہاں انکل!کیا میرے ابو جانی بھی وہاں ہوں گے ؟‘‘نہیں وہ اپنی دو سری بیوی کے ساتھ امر یکہ میں ہیں وہ ایک تعلم یافتہ اور  نیک عورت ہے انھیں گئے ہوئے سات سال ہو گئے ہیں وہ عنقریب آنے والے ہیں :

شکیل فخر الدین کے ساتھ ایسے چل رہا تھا جیسے اس پر مسمریزم کر دیا گیا ہو جب وہ دونوں جلیل منزل پہنچے تو فخر الدین کے گلے سے مارے خوشی کے آواز نہیں نکل رہی تھی وفور جذبات سے ان کا گلہ رندھ گیا تھا ہو نٹوں پر مسکراہٹ  آنکھوں میں نمی لئے وہ پھنسی پھنسی آواز میں بہن کو پکار رہے تھے۔  ’’آپا بیگم!دیکھئے میں آپ کی آنکھوں کی روشنی لے آیا ہوں جلدی آؤ۔ سب لوگ جلدی آؤ۔ ‘‘

گھر کے سب افراد دوڑے ہوئے آئے فخر الدین نے شکیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ‘‘جلیل دیکھو یہ شکیل ہے جمیل کا بیٹا شکیل دیکھو دیکھو۔  لبنیٰ دادی کا ہاتھ تھا مے چلی آ رہی تھی اور  شکیل دادی امی کہتا ہوا ان کے قدموں سے لپٹ گیا نو کر چاکر بھی جمع ہو گئے بھیگی پلکوں سے اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔  فراز اور  لبنی اپنے بڑوں کو سنبھال رہے تھے۔  

خوشیوں اور طمانیت کی اس معراج پر زندگی جیسے تھم گئی تھی وقت ٹھہر سا گیا تھا۔  

*****