کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کشمکش

افروز سیدہ


عرصہ سے ان کے نقش قدم کی تلاش ہے

سجدے میں سر جھکائے زمانے گزر گئے

آتے تو رہتے ہیں وہ خیالوں میں رات دن

لیکن خود ان کو آئے زمانے گزر گئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

 وہ ملازمت کیلئے انڈیا سے امریکہ آیا تھا۔  ہم نے خوشیوں سے بھرے بہت سارے دن  ایک ساتھ گزارے تھے لیکن میرے محبوب نے مجھ سے کوئی خوبصورت وعدہ نہیں کیا میری محبت کا محل صرف میں نے تعمیر کیا تھا۔ یہ نہیں جانتی تھی کہ میرا محبوب اسے آباد کرے گا یا نہیں ؟

۔۔۔  ٭۔۔۔  ٭۔۔۔  

اتوار کا دن تھا موسم سر ما کی خوشگوار صبح تھی۔  انجم نے مہر کو بتا یا کہ مس مارگر یٹ امر یکہ سے انڈیا پہنچ گئی ہے اور انھیں جلد از جلد اس کے پاس پہنچنا ہے۔  ’’یہ مارگر یٹ کون ہے جس کی تم دیو انی ہو ؟ انجم میری سمجھ میں نہیں آیا کہ تم سعودی کی اچھی خاصی ملازمت چھو ڑ کر کیوں چلی آئیں اور  یہ(Boutique) کیوں کھول لیا جس کا تمہیں تجربہ ہی نہیں ہے ‘‘مہر نے کہا

’’میری تو دیرینہ آرزو تھی کہ اعلی پیما نے پر سیونگ سنٹر کھولوں اور  اس کے ساتھ ہی اپنا ایک بتیک بھی ہو یہ خواہش اس وقت پوری ہو گئی جب مس مارگریٹ سعودی آئیں اور  ایک چھوٹے سے حادثہ میں زخمی ہونے کے بعد ہمارے دوا خانہ میں شریک رہیں وہ میری خد مت سے بہت خوش ہوئیں مجھے بڑے انعام اکرام سے نوازا میرے گھریلو حالات کے بارے میں جان کر دکھی ہوئیں کہ میں اپنے معذور شوہر اور  بچوں کو چھوڑ کر یہاں ملازمت کر رہی ہوں اس نے بتایا کہ اسے انڈیا اور  انڈیا کے لوگ اچھے معلوم ہو تے ہیں وہ بہت جلد اپنا کاروبار  انڈیا میں شروع کرنا چاہتی ہے جب میں چھٹی پر انڈیا آئی اسوقت وہ بھی امر یکہ سے آ گئی اور  ایک معقول سر مایہ سے سنٹر اور  بتیک کھول دیا اور  میرے حوالے کر دیا رہی تجر بہ کی بات توہر کام کا  تجربہ ، وقت اور محنت سے خود بخود حاصل ہو جاتا ہے ‘‘انجم نے مہر کو بتا یا ’’تم نے بڑی ہمت کا کام کیا ہے ویسے کتنی آمدنی ہو جاتی ہے کیا مارگریٹ تمہیں تنخواہ دیتی ہے ؟

’’معقول آمدنی ہو جاتی ہے ہم دونوں پا رٹنر ہیں اور  آمدنی میں برابر کے حصہ دار ہیں ایک بات بتاؤں یہ مارگر یٹ جو ہے امریکہ کی امیر ترین عورت ہے اس کی دولت کا کوئی حساب نہیں ہے یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ اسے انڈیا کیوں پسند ہے اس نے یہاں کاروبار کیوں شروع کیا شاید میں نے تمہیں نہیں بتایا کہ اس نے یہاں ایک اولڈ ہوم بھی قائم کیا ہے اور بتیک سنٹر سے ملنے والا منافع اولڈ ہوم پر خرچ کر دیتی ہے ‘‘

’’اس نے یہ بہت اچھا کام کیا ہے ہمارے ہاں اس کی سخت ضرورت تھی یہاں جو او لڈ ہوم ہیں وہاں ( شریک ہونے والوں کو ) بھاری اخراجات برداشت کرنے پڑ تے ہیں ‘‘

’’یہاں اخراجات برائے نام دینا پڑ تے ہیں اور ہر فرد کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ان بوڑھے لوگوں کی حالت دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے پتہ نہیں لوگوں کا خون اس قدر سفید کیوں ہو گیا ہے ماں باپ اپنے چار ،  چھ بچوں کو خون جگر پلا تے اور  پال پوس کر بڑا کرتے ہیں اپنے پیروں پر کھڑا کرتے ہیں دن رات ان کی کامیابی اور ترقی کی دعائیں کرتے نہیں تھکتے پھر یہی بچے ایک مقام پر پہنچ کر والدین سے دور ہو جاتے ہیں اپنی اپنی زندگی کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر انھیں بھول جاتے ہیں ‘‘انجم نے کہا

’’ہاں انجم عمر رسیدہ لوگوں کی زندگی کا یہی المیہ ہے کہ وہ جوانی میں اپنا پیار اولاد پر لٹا تے ہیں اور  بوڑھے ہونے کے بعد اسی اولا دکی محبت اور خلوص کی ایک نظر کے لئے تڑ پتے ہیں ان کی آنکھیں کسی چاہنے والے کے انتظار میں فرش راہ بن جاتی ہیں ‘‘باتوں میں راستہ کب طئے ہو گیا پتہ ہی نہ چلا دونوں اولڈ ہوم پہنچ گئیں۔  مہر اولڈ ہوم کی وسیع و عریض خوبصورت عمارت کو دلچسپی اور  حیرانی سے دیکھ رہی تھی۔  گیٹ میں داخل ہو تے ہی محسوس ہوا جیسے کسی محل میں آ گئے ہیں کمپا ؤنڈ ہرے بھرے بیل بو ٹوں سے سجا ہوا تھا عمارت کے تمام کمرے کشا دہ ، صاف شفاف چمکدار اور ہوا دار تھے۔  کمروں کی تعداد بیس بائیس رہی ہو گی جس میں ایک آفس روم اور  ایک ڈسپنسری کے لئے مخصوص تھے۔  فرسٹ فلور پر مارگریٹ کا کمرہ تھا جہاں ضرورت کا ہر  سامان مو جود تھا انٹر کام کے ذریعہ ہر کمرے سے اور باہر آنے والوں سے رابطہ کیا جاتا تھا۔  انجم اور مہر کو زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا ۔  مارگریٹ کو مہر نے دیکھا تو دیکھتی رہ گئی گلاب جیسا سرخ وسفید چہرہ ، ذہا نت کے نور سے چمکتی مسکراتی آنکھیں ، ہلکے گلا بی رنگ کا لباس زیب تن کئے چاق و چوبند مارگر یٹ اسے بہت اچھی لگی ایک صحت مند اور  پر خلو ص مسکراہٹ کے ساتھ اس نے دونوں کو خوش آمد ید کہا انجم نے دیکھا کہ اس کے مسکراتے چہرہ پر اداسی کی لکیر تھی مارگریٹ کے ’’ہیلو‘‘ کہنے پر وہ چونک سی گئی اور جلدی سے مہر کا تعارف کرواتے ہوئے کہا۔

’’یہ میری بچپن کی دوست ہے ایک سیونگ سنٹر اور  ایک اسکول بھی چلاتی ہے آپ سے ملنے کی خواہشمند تھی اس لئے میں ساتھ لے آئی ‘‘کچھ ہی دیر میں پر تکلف چائے آ گئی چائے کے بعد تینوں اولڈ ہوم کے مکینوں سے ملاقات کے لئے نکل گئے مارگریٹ کا معمول تھا کہ وہ جس دن آتی اسی دن نئے شریک ہونے والوں کا رجسٹر دیکھتی ان سب سے ملتی۔  سب اس کا احترام کرتے اس سے مل کر بے حد خوش ہوتے اور  دعائیں دیتے۔  ان لوگوں میں تعلیم یافتہ اور  ان پڑھ بھی تھے جو اعلی اور اوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے ان میں مردو خواتین کی تعداد تقریباً برابر تھی کچھ تو بے حد ضعیف اور  کمزور تھے اور کچھ بیمار اور معذور تھے یہ سب اپنوں کے ستائے ہوئے وقت کے پچھاڑے اور  سماج کے ٹھکرائے ہوئے قسمت کے مارے لوگ تھے کسی مرد کی بیوی نے بے وفائی کی تھی تو کسی عورت کے شوہر نے اولاد نہ پیدا کرنے کے جرم میں دوسری شادی کر کے اسے بے سہارا کر دیا کوئی میاں بیوی اپنی اولاد کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوئے اپنے ہی گھر میں اجنبی بن گئے تھے اور  کسی کی اولاد نے انھیں گھر سے بے گھر کر دیا تھا سب سے مختصراً انٹر ویو لیتے ہوئے دو تین گھنٹے گزر گئے اس دوران انجم غور کرتی رہی کہ مارگریٹ بات کرتے ہوئے کبھی کبھی کھوسی جاتی اداس ہو جاتی اور  ادھر ادھر دیکھنے لگتی ہے جیسے کسی کو کھوج رہی ہو کھوئی کھوئی سی مارگریٹ کی شخصیت پر اسرارسی لگتی اس نے سوچا کہ وہ مارگریٹ سے ضرور بات کرے گی اس کے دل کا درد جاننے کی کوشش کرے گی۔

دوسرے دن انجم نے بو تیک جلدی کھول دیا مارگریٹ نے امر یکہ سے جو کپڑے لائے تھے انھیں شو کیس میں سیٹ کرنا تھا۔  وہ ابھی کام سے فارغ ہوئی ہی تھی کہ مارگریٹ حسب وعدہ آ گئی۔  وہی اداسی کی لکیر لیا ہوا مسکر اتا چہرہ کھوئی سی آنکھیں۔  انجم نے دوکان کے حسا بات پیش کئے اسی دوران ایک خو بصورت دبلی پتلی سی لڑکی دوکان میں داخل ہوئی وہ ایک آسمانی رنگ کے مردانہ ٹی شرٹ کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی جس کے ایک سائڈ میں خوبصورت گلا ب پینٹ کیا ہوا تھا انجم نے ایک تجربہ کار دوکاندار کی طرح اس ٹی شرٹ کی خوبیاں بتائیں پھر بھی اس کی قیمت معلوم ہو نے پر لڑکی خاموش ہو گئی تب مارگر یٹ نے کہا ’’بے بی میں سمجھ گئی تم نے اپنے بھائی یا بوائے فرینڈ کے لئے اس ٹی شرٹ کوپسند کیا ہے تمہاری پسند بہت اعلی ہے تم نے جس کے لئے یہ پسند کیا  ہے کیا اسے بھی یہ رنگ پسند ہے ؟

لڑکی نے شرما تے ہوئے اثبات میں سر کو جنبش دی مارگر یٹ نے کہا ’’میں سمجھ گئی تم اپنے فرینڈ کو تحفہ دینا چاہتی ہو تمہارا فرینڈ بہت نیک ،با وفا اور  روحانیت پسند ہے وہ ملنساراور با اخلاق ہو نے کے علا وہ با مقصد زندگی گزار نے والا اور  حقیقت پسند لڑکا ہے آسمانی رنگ پسند کرنے والے بڑی خوبیوں کے ما لک ہو تے ہیں چاہنے اور چاہے جانے کے خواہش مند بھی ہوتے ہیں۔  ’’آنٹی آپ نے بالکل ٹھیک کہا میں حیران ہوں آپ نے یہ سب کیسے کہہ دیا‘‘

’’میں تمہارے بارے میں بتاؤں تم نے یہ جو گلا بی کپڑے پہنے ہوئے ہیں تم پر بہت جچ بھی رہے ہیں ظاہر ہے یہ رنگ تمہارا پسندیدہ ہے اس کو پسند کرنے والے اعلی کردار ملنسار خدمت گزار اور  حساس طبعیت کے مالک ہوتے ہیں تم دونوں اپنی زندگی میں کامیاب اور  خوش رہو گے میں یہ ٹی شرٹ تمہیں تحفہ دیتی ہوں لے لو ‘‘لڑکی نے خوشی کے مارے مارگر یٹ کے ہاتھ کو چوم لیا اور  شکریہ ادا کرتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے شرٹ کو تھام لیا۔  انجم حیرت و اشتیاق سے مار گریٹ کی باتیں سن رہی تھی اس کی تجربہ کار نظر اور  معلومات پر دل ہی دل میں داد دے رہی تھی اور  یہ سوچ کر خوش ہو رہی تھی کہ اس لڑکی کی طرف سے اسے بے شمار گا ہک مل سکتے ہیں۔  مارگر یٹ کا خوشگوار موڈ دیکھتے ہوئے انجم نے محتا ط انداز میں بات شروع کی اس وقت کو وہ گنوانا نہیں چاہتی تھی۔  ’’مس مارگر یٹ میں آپ کے تجربہ اور  معلومات پر حیران ہوں آپ کی ذاتی زندگی کے بارے میں کچھ پو چھنا چاہتی ہوں برا تو نہیں مانیں گی ؟

’’کیا بات ہے آج تم میرا انٹر ویو کیوں لینا چاہتی ہو ؟‘‘مارگر یٹ نے خوش دلی سے مسکراکر الٹا انجم سے سوال کر دیا۔

’’میں نے محسوس کیا ہے کہ آپ کچھ بے چین اور  اداس رہتی ہیں آپ کو کیا تکلیف ہے کیا میں آپ کی کچھ مدد کر سکتی ہوں ؟‘‘

’’انجم غم اور  خوشی تا دم حیات انسان کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں یہ تو کوئی خاص بات نہیں ہے نا ؟ اور  کیا پو چھنا چاہتی ہو ؟’’آپ نے شادی کیوں نہیں کی ؟

’’میرے ڈِپار ٹمنٹ میں میری پوسٹ والوں کو شادی کی اجازت نہیں تھی بس اس لئے نہیں کی‘‘

’’آپ کی زندگی کا کوئی ساتھی نہیں ہے آپ کو تنہائی کا احساس ہوتا ہو گا نا ؟‘‘

’’ہاں یہ احساس تواب ہونے لگا ہے کیونکہ دوست احباب رشتے داروں نے مجھے بہت لوٹا دوستی اور  خلوص کی آڑ میں مجھے دھوکہ دیتے رہے اسی لئے تومیں نے اس نئے مقام پر اپنے آپ کو مصروف کر لیا ہے دکھی لوگوں کو دیکھ کر مجھے اپنا دکھ کم محسوس ہوتا ہے اور  انھیں خوشی دے کر مجھے خوشی ہوتی ہے ‘‘

’’آپ کا کوئی خاص دوست نہیں ہے ؟ کوئی ہمدرد؟‘‘

مارگریٹ نے ایک سردآہ بھری اور  خاموش ہو گئی۔  

’’مس مارگریٹ معافی چاہتی ہوں آپ کو میری بات سے تکلیف پہنچی ہے ‘‘

’’نہیں یہ بات نہیں ہے میں اس کے بارے میں سوچ رہی تھی جو میرا نہ تھا لیکن میں اس کی ہو چکی تھی وہ انڈیا سے ملازمت کے لئے امریکہ آیا تھا ہم نے خوشیوں سے بھرے بہت سارے دن ایک ساتھ گز ارے تھے لیکن میرے محبوب نے مجھ سے کوئی خوبصورت وعدہ نہیں کیا میری محبت کا محل صرف میں نے تعمیر کیا تھا یہ نہیں جانتی تھی کہ میرا محبوب اسے آباد کرے گا یا نہیں ؟

’’وہ جب اچانک مجھ سے دور ہو گیا تو مجھے محسوس ہواجیسے میری کوئی قیمتی شئے کھو گئی ہے۔ اکیلے پن کے احساس نے مجھے گھیر لیا۔۔۔  ‘‘مارگریٹ چند لمحوں کے تو قف کے بعد پھر گو یا ہوئی ’’مجھے سمجھ میں آ گیا تھا کہ لوگ خوشی میں کیسے دیوانے ہو جاتے ہیں اور حسرتوں کے ہجوم اور  نا امیدی کے اندھیروں میں کیسے پاگل ہو جاتے ہیں میں نے اپنے آپ کو سنبھال  لیا انڈیا میں اس کے بیوی بچے موجود تھے وہ ان کا وفا دار تھا اپنی بے لوث محبت اور  کروڑوں کی دولت سے بھی میں اسے جیت نہ سکی وہ چاہتا تو مجھے دھوکہ دے سکتا تھا لیکن وہ لالچی نہیں تھا بڑا معصوم تھا ، اس کا دل آئینے کے طرح شفاف تھا میں اسی کی تلاش میں یہاں آئی ہوں اپنے دل کا خالی کشکول لئے اس کی گلیوں میں گھوم رہی ہوں وہ ڈائری کھو گئی ہے جس میں اس کا پتہ اور  فون نمبر تھا میری معصوم محبت کوئی عام سی محبت نہیں تھی کہ اس پر اثر ہی نہ ہوتا میرے جذبے سچے تھے مجھے امید ہے وہ مجھے پھر ایک بار ملے گا جب ملے گا تو یہ اولڈ ہوم اور  تمام بزنس میں جان کے حوالے کر دوں گی ‘‘مارگر یٹ کی آواز بھرا گئی۔

’’کیا اُن کا نام جان تھا ؟‘‘

’’نہیں۔  اس کا نام جاوید تھا۔  میں نے اسے یہ نام پیار سے دیا تھا‘‘

’’جاوید۔۔۔  جاوید۔۔۔  ‘‘انجم جیسے کچھ سوچ میں پڑ گئی پھر پو چھا؟

’’میڈم کیا آپ کے پاس ان کی کوئی تصویر ہے اگر ہے تو مجھے بتائیں شاید وہ کبھی میری نظر میں آ جائیں ‘‘

’’ہاں اس کی تصویر ہمیشہ میرے بیگ میں موجود رہتی ہے۔  لو دیکھو!

انجم نے جاوید کی تصویر دیکھی تو ساکت ہو گئی گویا اس کے وجود پر منوں وزنی چٹان گر پڑی ہو۔  اور  اس چٹان کے بوجھ تلے پاش پاش ہوتی ہوئی ،  اس کی ٹوٹتی بکھرتی سانسوں کے ساتھ زخمی دماغ محض ایک ہی نقطے پر مرکوز ہو چکا ہو۔

’’جا۔۔۔  و۔۔۔  وید!!جا۔۔۔  وید‘‘اس کا خاوند۔۔۔  جاوید اور  وہ ایک اذیت ناک کشمکش ہیں ڈوب سی گئی۔

یہ تو خوداس کا شوہر ہے وہ اذیت ناک کشمکش میں مبتلا ہو گئی۔  

 

*****