کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

درد کادارو

ڈاکٹر محمد اویس قرنی


ڈاکٹر صاحب ! اگر آپ کے پاس اس درد کا کوئی علاج نہیں ہے تو آپ مجھے نشے کی یہ گولیاں کیوں دے رہے ہیں ؟ پتہ نہیں آپ مجھے فریب دے رہے ہیں یا اپنے آپ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں ڈاکٹر صاحب ! مجھے شعور کی سطح پر اس درد کو محسوس کرنے دیجئے کیونکہ میں نے آج تک دوسروں کے درد کو محسوس کرنے کی محض اداکاری، بھونڈی حرکتیں یا صاف کہیں تو صرف کرتب دکھائے ہیں۔
آپ یہ گولیاں دے کر سمجھتے ہیں کہ مجھے آرام ملے گا لیکن یہ آپ کی خو ش فہمی ہے ایک نفسیاتی معالج کے بارے میں میرا خیال تھا کہ اس کے پاس بہت ساری گھتیوں کو سلجھانے کا ہنر ہوگا لیکن آپ کی ساری باتیں میرے سر کے اوپر سے گزر رہی ہیں، آپ تو یہ بھی جانتے ہونگے کہ مجھ جیسے مریض بہت ساری چیزیں شعور نہیں بلکہ لا شعور کی سطح پر محسوس کرتے ہیں اور یہ تو مجھے ابھی معلوم ہو اکہ آپ میری کہانیاں اپنی زمانۂ طالبعلمی سے پڑھتے آئے ہیں ۔
تو میں یہ بھی بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ ساری کہانیاں ایسے لمحات کی دین ہیں جب میں ماورائے شعور زندگی کا عرفان حاصل کرنے کی کو شش کرتا تھا لیکن شعو رمیں آتے ہی مصلحت کے ہاتھوں اپنا قلم روک لیتا تھا، شعور کا یہ سپاہی میرے لڑکپن سے اپنا سو نٹا لئے میرے ذہن اور میرے ادراک کے دروازے پر پہرا دیتا رہا ہے قبل اس کے کہ کائنات کے کسی چھپے ہوئے خزانے کی کنجی میرے ہاتھ لگتی یہ سپاہی آگے بڑھ کر میری نگاہوں کو اس منظر میں بھٹکا دیتا جو صر ف سامنے دکھائی دیتا ہے جو سب کو یکسا ں نظر آتا ہے اور جس نے گویا میری تلاش کا راستہ روکا ہو ا ہے ، آپ کی یہ گولیاں کھا کر میں بے مزہ تو نہیں ہو تا لیکن میں صرف اپنے بارے میں آپ کی خام خیالی یا آپ کے بارے میں آپ کی غلط فہمی دور کرانا چاہتا ہوں ۔۔۔ آپ ہی نے تو ایک دن کہاتھا کہ کچھ درد ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وقت بھی جن کا مرہم نہیں ہو سکتا ۔ پھر کیوں ہم دونوں اس درد کے دوا بننے کا انتظار کریں ۔ میں جانتا ہوں کہ قدرت نے انسان کو اذیت اور مشقت میں پیدا کیا ہے ممکن ہے آپ میرے خیالات کو کوئی اور رمعنی دیں لیکن آپ شاید سوچ بھی نہیں سکتے کہ اپنی پیدائش کے وقت میں صرف اسلئے رویا تھا کہ مجھ سے میری ماں کی اذیت دیکھی نہ گئی ۔
ڈاکٹرصاحب! آپ بہت ضد کرتے ہیں دوائی دینے میں ۔۔۔۔ سمجھا کریں کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا ۔۔۔۔۔
آ پ کا یہ خیال کہ میں ایک ٹیڑھی سمت میں چل نکلا ہوں درست ہوگا لیکن یہ اس لاشعور کی کارستانیاں ہی تو ہیں جس نے مجھے تخلیق کے کرب اور بخیے ادھیڑتے درد سے آشنا کیاہے ۔ اگر میں غلطی پر ہوں تو آ پ ہی بتائیے کہ آپ خو اس وقت کیوں روئے تھے ۔
میں جانتا ہوں کہ آپ نے شعور کی حالت میں جو کتابیں یاد کرتے کرتے اپنے ذہن پہ لارکھی ہیں ان ہی میں سے کوئی نکتہ اٹھا کر مجھے قائل کرنے کیلئے پیش کریں گے، میں وہ بھی مان لو ں گا لیکن یہ جو اتنے ڈھیر سارے درد اوپر تلے ادھر ادھر بکھرے پڑے ہیں کیا یہ تصویر ہمیں نہیں بتاتی کہ یہ ساری کہانی ہی اجزائے پریشاں کو ملا کر بنائی گئی ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ موت ان اجزا کے پریشاں ہونے کا نام نہیں بلکہ ۔۔۔۔۔ او رموت سے یاد آیا ۔۔۔۔ سنتے آئے ہیں کہ اس کا ذائقہ ہرکسی کو چکھنا ہے ۔۔۔۔ مجھ سے پہلے کتنے ہی لو گ اس ذائقے کو چکھنے کی دھن میں گزر گئے پھر آپ اس قدر تیز اور نشیلی چیزیں دے کر مجھے اس ذائقے سے کیوں محروم رکھنا چاہتے ہیں ۔
ڈاکٹر صاحب ! میرے خوابوں کا ایک لمحہ رات کے پچھلے پہر وقت کے سمندر سے الگ ہوگیاتھا ۔ میں سوچتاہوں کہ اگر اس طرح وقت کا کوئی لمحہ میرے خواب میں تبدیل ہوجائے تو یہ درد کم از کم پل بھر کیلئے ہی سہی کسی شاعر کے حسین سپنے کا روپ دھار سکتا ہے۔ میں نے رات کے اندھیروں کو اوڑھا ضرور ہے لیکن ان ہی اندھیروں میں خود کو رسوا ہونے سے بھی بچایا ہے یہ الگ با ت ہے کہ اس اندھیر ے کی چادر اب مجھے چھوڑنے والی نہیں پر خواب تو میں نے ہمیشہ اُجالوں کے دیکھے ہیں ۔۔۔۔۔ مگر ایک سچ یہ بھی ہے کہ میرے دن کے سپنوں کو انہی اندھیر وں نے ڈھانپ رکھا ہے ۔
*اوہ! مجھے تو یا د ہی نہیں رہا۔۔۔۔۔۔۔ اچھا ہوا آپ نے اندھیرے کا احساس دلایا۔۔۔۔۔۔ نہیں تو آج بھی گھر جاتے ہوئے دیر ہو جاتی یہ گولیاں او رسیر پ رکھیں اور ضرورت پڑنے پر استعمال میں لائیں ۔ 
ڈاکٹر صاحب! آپ یہ چیزیں اس قد ر لاپرواہی سے کیوں دے رہے ہیں ۔۔۔۔ یہ دوائیاں دیتے دیتے اب تک تو آپ کو اندازہ ہو چکا ہو گا کہ مجھے کتنا افاقہ ہوا ہے ؟اور آ پ اس دل کی کتنی رفو گری کر سکیں گے ؟
ابھی تک تو آپ یہ نہیں بتا سکے کہ میں اس کیفیت میں کیوں مبتلاہو ں ؟ اور کیا یہاں آنے والے سبھی لوگ اسی بخار میں تپ رہے ہیں؟ اگر یہ درد صرف میری نسوں میں بہہ رہاہے تو لہو دوسروں کی آنکھوں سے کیوں رس رہا ہے ؟
آ پ اکثر کہا کرتے ہیں کہ کوئی کام کرتے ہوئے اگر کسی پر اس قسم کا درد طاری ہوجائے تو وہ کہانی لکھنا تو دو رکی بات ہے بول بھی نہیں پائے گا لیکن میرے اکثر دوست کہتے ہیں کہ لکھتے وقت اگر Painنہ لیا جائے تو خیال کبھی بھی معجز بیانی کی حدوں کو نہیں چھو سکتا ۔
*"اچھاتو آج آپ گو یا اسی وجہ سے دوالینے کی بجائے تہیہ طوفان کئے بیٹھے ہیں "
نہیں ڈاکٹرصاحب ! آج میں آپ کو ایک سچ بتانے آیا ہوں کہ آپ کی دوا سے میر ے کئی پرانے زخم ہرے ہو جاتے ہیں کئی سوئے ہوئے درد پھر سے جاگ اٹھتے ہیں ، ڈاکٹر صاحب میں اپنے درد کو توپی سکتا ہو ں لیکن اس دوا کو مزید پینا میر ے بس میں نہیں ہے۔اور مجھے پینے پر آمادہ کرکے آ پ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ؟
کیا آپ مجھے ٹرینکو لائزر دے کے اس منافقت سے دور لے جانا چاہتے ہیں جسے لو گ شعور کہتے ہیں اور جسکی وجہ سے ابھی تک میرا او ر آپ کا گریبان محفوظ ہے لیکن میں جاننا چاہتا ہوں کہ جب یہاں ہر گریباں چاک ہو چکا ہے تو پھر میرا اور آپ کا گریبان کیسے سلامت ہے ؟ جب یہاں ہر روز چینحتی چنگاڑتی موت کا رقص ہوتا ہے تو میں اور آپ محض تماشائی کیوں بنے ہوئے ہیں ؟ کیوں نہ اس رقص گا ہ کا حصہ بن جائیں کیوں نہ اپنی مجروح اناؤں اور کچلے مسلے جذبات کو اس بہتے ہوئے تیزاب کی دھارمیں ملاتے چلیں میں جانتا ہوں کہ یہ درد میری ہڈیوں کے گودے کوراکھ کردے گا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس ایک ہفتے میں میں اور بھی کالا ہو گیا ہو ں ۔ اور ہاں کل وہ بھی راستے میں ملی تھی ۔۔ بڑی حیرت تھی ان آنکھوں میں ۔۔
کہنے لگی ۔۔۔۔۔۔ اس ایک رات کی اذیت نے کیا سے کیا بنا ڈالا ۔۔۔ میں نے کہا یہ رات اس قدر طویل کیوں ہوگئی ؟ پر اب ایسا لگتا ہے جسے باہر کچھ نہیں ہے ، جیسے میرے اندرہی اندر ظلمات نے ڈیرا ڈال رکھاہے ۔۔۔۔۔ ابھی یہاں آنے سے پہلے اتفاق سے میر ی نظر آئینے پر پڑی اور خود سے ڈر کرہی ادھر کا رخ کیا ۔۔۔ لیکن اب آپ مجھے مزید تاریکیوں میں دھکیلنا چاہتے ہیں ، اور آپ کی یہ دوا ؟ مگر میں تو اس سے کہیں زیادہ کڑوی دارو پیتا آیا ہوں اس لئے کہ شعور کی منافقت میں جب مجھ سے رہانہیں جا تا، تو سچ بولنے سننے کیلئے کبھی کبھی ایسا بھی کرلیتاہوں ۔ آپ کی حیرت بتارہی ہے کہ آپ کو کبھی ان باتوں کا تجربہ نہیں ہو ا اور جب تجربہ نہیں ہوا تو پھر آپ مریضوں کو کیسے ٹریٹ کرتے ہیں ، کیا ابھی تک میری پرانی کہانیوں سے ہی ۔۔۔۔
یاد کیجئے جب میرے بھائی کا آپریشن ہو اتھا ، نشہ اترتے وقت اس نے کتنی کڑوی لیکن کس قدر سچی اور کھر ی زبان میں وہ سب کچھ بتا یا تھا جو اس کے من میں تھا ۔ جن لو گوں نے اس کے اندر نفرت کی کاشت کی تھی جن کا نام لینے سے وہ شعور کی دنیا کا باسی ہونے کی وجہ سے کتراتا تھا اس وقت سب کے سامنے ایک ایک کردار کا نام لے کر ہمیں ان کا اصل چہر ہ دکھا رہاتھا ۔
آپ یہ تو جانتے ہونگے کہ جو مجرم زیادہ سختی اور سرکشی دکھاتے ہیں ان کے ساتھیوں کے نام بھی کسی ایسے ہی لمحے میں اگلوائے جاتے ہیں توآپ اندازہ کریں کہ شعور کی منافقت ، جو ہر چہرے کی اصل حقیقت پر پردہ ڈال دیتی ہے، بہتر ہے یا بے خودی کا عرفان ، جس کو میں نے اپنے ہونے یانہ ہونے کا پیمانہ تصور کر لیا ہے ، اور جہاں ذات و زماں کے عکس ایک ہی نکتے پر مرکوز ہوکے اپنا جلو ہ دکھاتے ہیں ۔۔۔
ڈاکٹر صاحب! مجھے مت لگائیں یہ انجکشن ۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر صاحب ! آپ ۔۔۔۔۔آپ میرے احساسات کا مذاق اڑارہے ہیں 
آپ ایک بار ۔۔۔۔ بس ایک بار۔۔۔۔۔ اس درد کی وضاحت تو کریں ۔
درد؟
اور اگلے روز ڈاکٹر نے اپنی آخری رپورٹ دیتے ہوئے کہا Sorry آپ کا مریض سویرے کا انتظار نہ کرسکا ۔ وہ کل رات ہی۔۔۔۔۔۔ یہ ایک چٹھی انہوں نے جاتے جاتے لکھ چھوڑی ہے لیکن صاف طور پر پڑھا نہیں جارہا
آپ روشنی میں آئیں گے تو دکھائی دے گا۔۔ مجھے دے دیں 
ہاں یہاں لکھا ہے ۔۔
شاید بہت جلد یہیں کہیں ہماری ملاقات ہوگی کیونکہ میں ابھی مرا نہیں ہوں۔۔۔