کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

زندگی کے رنگ

افروز سیدہ


اہل ہوس کیا ساتھ نبھاتے سخت کٹھن تھی منزل منزل

عشق تو آخر عشق ہی ٹھہرا راہیں ڈھونڈیں مشکل مشکل

تم سے چھٹ کر سب کچھ پایا لیکن دل کا چین نہ پایا

دیکھ پھرے ہم جادہ جادہ ڈھونڈ پھرے ہم منزل منزل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

تم نے طلاق نامہ بھیج دیا۔ میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ طلاق نامہ ہاتھ میں لئے یوں بیٹھی رہ گئی جیسے کسی معصوم کے ہاتھ سے اس کامن پسند کھلونا ٹوٹ گیا ہو۔ دولت مند اور  ملازم عورت کا بھوت تم پر سوارہو چکا تھا تمہاری آنکھوں پر خود غرضی کے پردے پڑ گئے تھے جبکہ اولاد کے لئے ماں باپ اپنا آپ تج دیتے ہیں۔ شطرنج کی بازی تم نے جیت لی۔ حالانکہ دو طاقتور مہرے میرے بھی ہاتھ میں تھے۔ مہر معاف کر کے اور  بچوں کی ذمہ داری اپنے سرلے کر میں نے غلط چال چلی۔ ایک غیر ذمہ دار اور  سرکش مرد کو بخش دیا۔ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی بھول تھی۔ جو میری اور  بچوں کی زندگی پر محیط ہو گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

اداس اور  یخ بستہ راتیں کاٹے نہیں کٹتیں۔ رات کی بڑھتی سیاہی کے ساتھ جانے کیوں ہر درد سوا ہونے لگتا ہے۔ رات اس ماں کے لئے تڑ پ بن جاتی جس کے بیٹے  سات سمندر پار غم روزگار کو سینہ میں دبائے پردیس کی خاک چھان رہے ہوتے ہیں۔ رات ایک بیوہ کے لئے ناگن تو کبھی سہاگن کے لئے کانٹوں کی سیج اور  کسی مطلقہ کے لئے پچھتاوے کا الاؤ بن جاتی ہے۔ رات کسی بیمار کے لئے آہ اور  یتیم یسیر کے لئے اک دعا ء بن جاتی ہے۔ خوشی کے لمحوں کا تعاقب کرتے ہوئے زندگی کبھی کبھی ساکن ہو جاتی ہے اور  یہ خوشیوں کی دولت بانٹنے سے بڑھتی ہے لیکن غم کی دولت سمیٹ کر چھپا کر رکھنے والی ہوتی ہے۔ اپنے غموں اور  اداسیوں کو پردوں میں چھپانے کا ہنر مجھے آ گیا تھا۔ آنسوؤں کے سمندر خشک ہو چکے تھے میں پتھر بن چکی تھی۔ اب مجھے ٹوٹنے پھوٹنے کا ڈر نہیں تھا۔ مرد پیٹ بھر روٹی اور  تن بھر کپڑے کے لئے عورت کو بار بار توڑتا پھوڑتا اور  پامال کرتا ہے۔ اک معاشی اور  سماجی تحفظ کے عوض با ر بار سولی پر ٹنگاتا ہے مجھے ایسی روٹی اور  کپڑے کی ضرورت نہیں تھی۔ بار بار سولی پر جھولنا مجھے منظور نہ تھا ماں سمجھایا کرتیں ’’مرد ذات ایسی ہی ہوتی ہے دو بچے ہو چکے ہیں جلد ہی اپنے آپ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا لیکن صبر کا دامن میرے ہاتھ سے اس وقت چھوٹ گیا جب تمہارے پاس ٹیوشن کے لئے آنے والی فیشن ایبل اور  آزاد ماحول کی لڑکیوں سے تمہارے معاشقے عروج پر آ گئے اور  پھر جہاں تم ٹیچر تھے اسی اسکول کی ایک ٹیچر سے تم نے زندگی بھر کا ناطہ جوڑ نے کی ٹھان لی شاید امیر باپ کی لڑکی تھی۔ مجھے بھی اپنے خاندان، تعلیم اور  حسن و جمال پر ناز تھا اپنے ہی زعم میں اکڑتی مائیکے جانے کی ٹھان لی۔ تم نے میرا راستہ روک لیا اور  شرط رکھی کہ خلع نامہ پر دستخط کرنے کی صورت میں بچوں کو اپنے ساتھ لے جا سکتی ہوں بصورت دیگر مہر کے ساتھ طلاق لوں اور  بچوں کو چھوڑ دوں۔ بچوں کو سوتیلی ماں کے حوالے کیسے کر دیتی۔ میں نے خلع نامے پر دستخط کر دئیے اور  چلی آئی۔ پھر خط و کتابت چلی۔ میں نے اپنی شرط منوانا چاہی کہ ہم تینوں سے اگر محبت ہے تو تمہیں ہمارے مقام پر آ کر رہنا ہو گا۔ میری عمر کا جذباتی پن اور  تمہاری شرارت نے مجھے مجبور کر دیا تھا میں اپنی ضد پر قائم رہی۔ تمہیں اپنا ارادہ اور مقام چھوڑ نا منظور نہ تھا۔ تم نے وکیل کے ذریعہ نوٹس بھیجی کہ میں کسی شرط کے بغیر تمہارے پاس چلی آؤں ورنہ اگلی ڈاک سے طلا ق نامہ بھیج دیا جائے گا اور  لکھا تھا کہ میں اپنا تمام سامان ، زیور کپڑے اپنے ساتھ لے گئی ہوں جبکہ اپنا ایک ایک تنکا تمہارے پاس چھوڑا ئی تھی۔ میں نے ناراضگی میں نوٹس کا جواب نہیں دیا۔ تم نے مجھے اپنے زعم کے خول سے باہر آنے کا موقع نہیں دیا۔ اپنی ضد پر تھی ناراض تھی تو سمجھایا تک نہیں۔ تمہارے بچوں کی ماں تھی اچھے برے دن ہم نے ساتھ گزارے تھے۔  

دو ہفتوں بعد تم نے طلاق نامہ بھیج دیا۔ میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ طلاق نامہ ہاتھ میں لئے یوں بیٹھی رہ گئی جیسے کسی معصوم کے ہاتھ سے اس کامن پسند کھلونا گر کر ٹوٹ گیا ہو۔ دولت مند اور  ملازم عورت کا بھوت تم پر سوارہو چکا تھا تمہاری آنکھوں پر خود غرضی کے پردے پڑ گئے تھے جبکہ اولاد کے لئے ماں باپ اپنا آپ تج دیتے ہیں۔ شطرنج کی بازی تم نے جیت لی۔ حالانکہ دو طاقتور مہرے میرے بھی ہاتھ میں تھے۔ مہر معاف کر کے اور  بچوں کی ذمہ داری اپنے سرلے کر میں نے غلط چال چلی۔ ایک غیر ذمہ دار اور  سرکش مرد کو بخش دیا۔ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی بھول تھی۔ جو میری اور  بچوں کی زندگی پر محیط ہو گئی۔

طلاق نامے کو پڑھ کر میری نبضیں چھوٹ گئیں سانسیں ساکت ہو گئیں میرا خون خشک ہو گیا اور  میں انیمیاAnemea کی مریض ہو گئی۔ تم لوگ عورت کو ایک حقیر چیز سمجھتے ہو اس کی ایک رات کی قیمت لگا تے ہو اور  وہ بھی ادا کرنا گوارہ نہیں ہوتا۔ ہر لڑکی کے ماں باپ زندگی بھر کی محنت اور  کمائی کا بڑا حصہ بیٹی کی شادی پر خرچ کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی سسرال میں خوش رہ سکے لیکن اکثر ایسا ہوتا نہیں ہے۔ ماں باپ بھی اپنی نادانی اور  نا تجربہ کاری کے باعث بے جوڑ شادی کر دیتے ہیں اور  یہ کہہ کر دامن بچا لیتے ہیں کہ تمہاری قسمت میں یہی کچھ تھا ہم کیا کریں۔ میرے سامنے میرے بچوں کامستقبل تھا اور  منہ زور جوانی تھی۔ کوئی معاشی تحفظ بھی نہیں تھا تم تصور نہیں کر سکتے کہ زندگی شیشے کی کرچیوں پر ننگے پاؤں چلنے سے زیادہ اذیت ناک تھی ایک عذاب کا دریا تھا جسے پار کرنا تھا بن پتوار کی ناؤ کو طوفان کے حوالے کر کے ملاح کنارے جا کھڑا ہوا تھا۔ زندگی اماوس کی اندھیری رات بن گئی۔ دور تک اجالے کی کرن نہیں تھی۔ زہر میں بجھے نشتر چبھوتی تنہائی تھی۔ ایک دن خبر ملی کہ تم اسی ٹیچر کا ہاتھ تھام کر نئے راستے پر قدم رکھ چکے ہو اور  اس عورت نے یہ شرط رکھی تھی کہ پہلی بیوی اور  بچوں کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ نا ہو گا ایک عورت نے دوسری عورت کا بسا بسا یا گھر اجاڑ دیا اور  تم کو اپنے پھول سے معصوم بچوں پر رحم آیا نہ پیار!ایک عورت اور  اس کی دولت کو گلے لگانے کی خاطر تم نے اپنے بیوی بچوں کے گلے میں پھانسی کا پھندا ڈال دیا۔ ہاں یہ دنیا مردوں کی ہے یہاں مردوں کی حکومت ،مردوں کا قانون چلتا ہے وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں طلاق نامہ جس دن آیا اس دن تم سے شدید نفرت کا احساس جاگا تھا کہ ایسے بے وفا اور  بزدل وسنگدل مرد پر زندگی کے پانچ سال ضائع کر دئیے۔ تم نے یہ نہیں سوچاکہ عورت کے سر پر شوہر کاسائبان اور  بچوں کے سر پر باپ کا دستِ شفقت نہ ہو تو وہ لا وارث اشیا ء کے زمرہ میں آ جاتے ہیں۔ تمہیں تو یہ بھی گوارا نہ تھا کہ میرے کپڑوں پر بھی کسی مرد کی نظر پڑ جائے پھر تم نے یہ کیسے گوارا کر لیا کہ مجھ کو بچوں سمیت ہمیشہ کے لئے چھوڑ دو کس کے سہارے ، زندگی کیسے گزرے گی ، نہیں سوچا۔۔۔

والدین دوسری شادی کا کہتے تو میں بھڑ ک اٹھتی کہ ایک باپ ہی اپنے بچوں کو تحفظ نہ دے سکا تو دوسرے مرد سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ غیر کی اولاد کو اپنائے گا۔ والدین اور  بہن بھائیوں کے سلوک کو دیکھتے ہوئے میں نے ایک نئے عزم کے ساتھ کمر کسلی۔ زمانے کے ساتھ نبرد آزما ہونے کا حوصلہ پیدا کیا۔ ناکامی اور  محرومی کے غموں کو چھپا کر خوش رہنا سیکھ لیا اور  زندگی کے ساتھ چل پڑ ی۔ ان دنوں لوگ سعودی عرب کی طرف دوڑ لگا رہے تھے لیکن مامتا کے جذبوں سے مغلوب میں ایک ماں ہی رہی۔ سعودی جا کر دولت کمانے ، آسمان کی وسعتوں کو چھونے اور  کچھ کر دکھانے کے جذبوں پر مامتا کا جذبہ ہمیشہ غالب رہا۔ قوت پرواز مفلوج ہوتی رہی۔ آرزوؤں کی کہکشاں بکھرتی رہی۔ ہم تینوں سفاک اور  بے رحم دنیا کے بارودی اور  خون آلود گرد و غبار میں کھو گئے۔ تب احساس ہوا کہ یہ دنیا والے تم سے زیادہ سفاک و بے رحم ہیں۔ ہر کسی کے ہاتھ میں چھری ہے اور  ہر ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کے در پئے ہے۔ ہمیں کوئی سائبان نہیں ملا کہ جس کے سائے میں ہم سکون کی سانس لے سکتے۔ روتے ہنستے ، گرتے سنبھلتے ایک دوسرے کو سہارا دیتے زندگی کی اونچی نیچی پگڈنڈیوں پر چلے جا رہے تھے کہ آج پینتیس سال بعد اچانک تم آ گئے۔ تمہارے آنے کی امید ہی نہیں تھی۔ پتہ نہیں دعاؤں کی قبولیت کا وہ کونسا لمحہ تھا جو ان بچوں کو نہال کر گیا۔

تم اپنے بچوں اور  پوتے پوتیوں کے بیچ بیٹھے مسکرا رہے تھے۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے دور کہیں سنگلاخ چٹانوں کے بیچ سے کوئی چشمہ بہہ نکلا ہو۔ جیسے کھلے میدان کی چاندنی رات میں کہیں دور چاندی کی گھنٹیاں سی بج رہی ہوں۔ بچے حیران نظروں سے تمہیں دیکھ رہے تھے۔ ایک شخص جو ان کے لئے اجنبی ہوتے ہوئے اپنا سا لگ رہا تھا۔ دو تین بار تم نے مجھ پر بھی نظر ڈالی۔ تمہاری آنکھوں میں جیسے سوال تھا کہو کیسی گزری ؟میں کیا بتاتی کہ سوکھے پتے کی مانند اڑتی پھر رہی تھی۔ میرا حال کٹی پتنگ جیسا تھا جو آسمان کی بے کراں وسعتوں میں بھٹک رہی تھی۔ ایک معزز اور  اعلیٰ افسرکی بیوی ہونے کا اعزاز میرے نصیب میں نہیں تھا مجھے کہیں سے بھی کوئی صدا نہیں دی۔ شاید میں لوٹ آتی۔ آج تمہیں اپنے سامنے دیکھ کر اپنی آنکھوں پر اعتبار نہیں آ رہا تھا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی معصوم کا کھویا ہوا قیمتی کھلونا اچانک سر راہ مل گیا ہو جسے اٹھا کر جھاڑ پونچھ کر اپنے سامنے رکھ لیا ہو۔ دل چاہتا تھا کہ وقت کی رفتار تھم جائے گردش لیل و نہار ٹھہر جائے وقت پر کس کا بس چلا ہے۔ اس کا تو کام گزرنا ہے وہ گزر جاتا ہے اور  جاتے جاتے اچھی بری یادیں چھوڑ جاتا ہے۔ دو تین گھنٹے بیٹھ کر تم اٹھ گئے۔ بچوں اور  بہوؤں نے تمہیں روکا لیکن تم دو تین ماہ بعد آنے کا وعدہ کر کے چلے گئے۔ ہم سب دیکھتے رہ گئے۔ آج پہلی بار مجھے تھکن کا احساس ہواجیسے کوئی پرندہ تیز آندھیوں میں اڑتا ہوا زخمی ہو گیا ہو اور  کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہو۔

 

** * **