کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

اندھیرے اجالے

افروز سیدہ


جو چمن کو آئے بہار دے جو گلوں کے رخ کو نکھار دے

جو قدم خزاؤں کے روک دے اسی باغباں کی تلاش ہے

مرا ضبطِ غم ، مری الجھنیں ، مری آرزو ، مری چاہتیں

میں کسے سناؤں یہ داستاں مجھے راز داں کی تلاش ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 کیا غریب کے بچوں کو پڑھنے کا حق نہیں ہوتا کیا اسے اپنے باپ دادا کی طرح ان پڑھ رہنا چاہئیے۔  محرومیوں اور مجبوریوں کو سینے سے لگائے زندگی گزار دینا چاہئیے ؟وہ سوچتا رہا اس کی پلکیں بھیگتی رہیں اگر وہ اعلی تعلیم حاصل نہ کر سکا اعلی افسرنہ بن سکاتو ہارون کی بہن پروین کا ہاتھ کیونکر مانگ سکتا ہے وہ تو ملے بغیر ایک دن بھی نہیں رہ سکتے کاش انسان کی تقدیر اس کی مٹھی میں ہوتی۔  اسے اچھے کالج میں داخلہ لینا ہی ہو گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک شخص بہت تیز رفتاری سے بھا گتا ہوا آیا اور  لیدر کا چھوٹا ساپرس اس کے ہاتھ میں تھما کر کہا ’بھا گو،۔  عارف نے پوچھا: یہ کیا ہے ؟

سوال مت کرو، بھاگ جا ؤ۔  کل اسی جگہ آ جانا تمہارا بہت فائدہ ہو گا ‘‘ کہتا ہوا وہ ایک گلی میں مڑ کر غائب ہو گیا عارف نے ادھر ادھر نظر دوڑا ئی تو دیکھا پولس کے دو جوان بھا گتے ہوئے آ رہے تھے انھیں دیکھ کر عارف سرپٹ بھا گا۔  بھاگتا ہوا جانے کتنی دور نکل گیا پسینے میں شرابور ہو چکا تھا سانسیں بے ترتیب ہو رہی تھیں اسی وقت اس کے دوست ہارون نے اسے روک لیا کہا ’’عارف! رکو! رکو! کہاں بھاگے جا رہے ہو کیا تیز بھاگنے کی مشق کر رہے ہو ؟

’’ذرا۔۔۔  ذرا۔۔۔  ٹھیرو بتاتا ہوں ‘‘اس نے چاروں طرف نظر دوڑا ئی ایسا کوئی شخص نظر نہیں آیا جو اس کا پیچھا کر رہا ہو اس نے سانسوں پر قابو پاتے ہوئے کہا:

’’دیکھو کسی بھاگتے ہوئے آدمی نے میرے ہاتھ میں یہ پرس تھما یا اور  غائب ہو گیا شاید پولس اس کے پیچھے تھی میں کچھ سوچے سمجھے بغیر بھاگنے لگا! یہ میں کہاں نکل آیا ؟

’’تم میرے گھر کے سامنے ہو چلو اندر بیٹھ کر بات کرتے ہیں ‘‘

عارف نے پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا: ’’دیکھوتواس پرس میں کیا ہے یہ بھا گنے والے کا ہے یاکسی کا اڑا لیا ہے ؟

’’ارے اس میں تو کافی رقم ہے تمام سوسوکے نوٹ ہیں ‘‘ہارون نے کہا ’’میں ایسا کرتا ہوں کل اُسی مقام پرجا کر ٹھیر جاتا ہوں۔  

ہو سکتا ہے وہ آ جائے اس نے کہا تھا کہ میرا بہت فائدہ ہو گا‘‘دوسرے دن عارف اسی وقت اور اسی مقام پر گھنٹہ آدھ گھنٹہ ٹھیر کرواپس چلا گیا۔  دو تین دن تک وہ جاتا اور ٹھیرتا رہا۔  پھر اس نے ہارون سے کہا ’’یار کیا کریں وہ تو نہیں آیا ہو سکتا ہے وہ پکڑا  گیا ہو حوالات میں بند ہو!

’’ارے بھئی کرنا کیا ہے رقم تم نے چرائی تو نہیں ہے اسے اوپر والے کی دین سمجھ کرکام میں لالو‘‘

’’ہاں میرے بھی دل میں یہ خیال آیا تھا تم تو جانتے ہو میرے ابو اسکول کی فیس بھی برابر نہیں دیتے تین مہینے سے میں نے فیس نہیں دی ہے اپنی کلاس کا اچھا اسٹوڈنٹ ہوں نا اس لئے سربہت نرمی سے پیش آتے ہیں سال ختم ہونے چار مہینے باقی ہیں امتحان کی فیس بھی دینا ہے آخر مجھے میٹرک پاس کرنا ہے ماں کی دوا بھی ختم ہو گئی ہے ‘‘

’’تمہارے ابوفیس کیوں نہیں دیتے ؟

’’تم جانتے ہو وہ ایک کرانہ دوکان پر کام کرتے ہیں روزانہ -50 60روپئے ملتے ہیں آدھی رقم وہ خود اپنے لئے خرچ کرتے ہیں باقی پیسوں میں گھر چلنا ہی مشکل ہے فیس کہاں سے دیں گے!؟

’’تم ایسا کرو ان پیسوں سے اپنا کام چلا لو جب تم کمانے کے قابل ہو جاؤ توکسی غریب کو اتنی ہی رقم دے دینا حساب برابر ہو جائے گا  چلو اب زیادہ نہ سوچواسے اوپر والے کی مددسمجھو ‘‘

عارف نے میرٹ میں امتحان پاس کیا گولڈ مڈل حاصل کیا وہ بہت خوش تھا لیکن آگے کی پڑھائی اور فیس کی فکر نے اسے اداس کر دیا تھا۔  رات بستر پر لیٹا ہوا سوچوں میں گم تھا اسے بچپن ہی سے اچھے اسکول میں پڑھنے کی خواہش تھی وہ تو پوری نہ ہو سکی تھی اب وہ  اچھے کالج میں داخلہ لینا چاہتا تھا جو ممکن نظر نہیں آ رہا تھا اس نے مختلف کالجوں کے چکر لگائے اور مایوس ہو گیا یہ اجلے نکھرے سے لوگ جو قوم کی خدمت کا بیڑا اٹھائے لمبی چوڑی تقریریں کرتے ہیں اندر سے کتنے مکروہ اور لالچی ہوتے ہیں انھوں نے ایک ہونہار طالب علم کی بھی پرواہ نہیں کی! اس نے محلے کے کارپوریڑ سے مل کر اپنی مجبور یاں بتائیں اس نے بھی 25ہزارکا مطالبہ کیا عارف کے دل میں آیا کہ وہ بھی کسی کا پرس اڑا لے کسی بینک میں ڈاکہ ڈال دے یا پھر کسی بڑے گھر میں گھس کر چوری کرے رات کا سناٹا کتنا عجیب ہوتا ہے کوئی آہٹ کوئی آواز نہیں پھر بھی لگتا ہے بے نام بے ہنگم سی آوازیں دماغ پر ہتھوڑے برسا رہی ہیں اس کا ذہن برے برے خیالات کی آماجگاہ بنا ہوا تھا والدسے کوئی امید نہیں تھی وہ تو معمول کے مطابق 11بجے شراب کے نشہ میں چور گھر آتا ماں سے جھگڑا کرتا اکثر مار پیٹ بھی ہوتی پھر وہ سوجاتا اسے اپنے اکلوتے بیٹے اور  بیوی کی پرواہ نہیں تھی کاش ہارون کے والد کی طرح اس کے والد بھی کوئی آفیسر ہوتے اچھا گھر اچھا اسکول اسے بھی میسر ہوتا کیا غریب کے بچوں کو پڑھنے کا حق نہیں ہوتا کیا اسے اپنے باپ دادا کی طرح ان پڑھ رہنا چاہئیے ؟ محرومیوں اور مجبوریوں کو سینے سے لگائے زندگی گزار دینا چاہئیے ؟وہ سوچتا رہا اس کی پلکیں بھیگتی رہیں اگر وہ اعلی تعلیم حاصل نہ کر سکا اعلی افسرنہ بن سکاتو ہارون کی بہن پروین کا ہاتھ کیونکر مانگ سکتا ہے وہ تو ملے بغیر ایک دن بھی نہیں رہ سکتے کاش انسان کی تقدیر اس کی مٹھی میں ہوتی۔  اسے اچھے کالج میں داخلہ لینا ہی ہو گا۔  

اس نے اپنا مسئلہ ہارون کے سامنے رکھ دیا اس کے والد ایک اعلی پولس آفیسر اور نیک انسان تھے۔  ہارون نے اسے اپنے پاپا سے ملایا انھوں نے اچھے کالج میں داخلہ دلانے کا وعدہ کیا۔  عارف نے کہا

’’انکل آپ کا یہ احسان میں عمر بھر نہیں اتار سکوں گا ‘‘

’’نہیں بیٹا اس میں احسان کی کیا بات ہے انسان کوانسان کی مدد کرنا چاہئے کسی کی ڈوبتی کشتی کو بچانا اور پار لگانا انسانی فریضہ ہے تم جیسے ہونہار بچوں کی قوم کو ضرورت ہے اگر ایک متمول بندہ کم از کم ایک بچے کو اعلی تعلیم دلا سکے تو ہزاروں بچے اپنے خاندان کے کفیل بن سکتے ہیں اور  مجھے یقین ہے تم بھی کسی کی مدد کرو گے بس میرا احسان اتر جائے گا ‘‘’’انکل میں سمجھا نہیں ؟ عارف نے کہا

’’میں بتاتا ہوں تمہیں کیا کرنا ہے ، جب کبھی تم قابل بن جاؤ اور تقدیر تمہیں موقع دے تو تم بھی کسی مظلوم یامستحق کی ڈوبتی کشتی کواسی طرح پار لگا دینا سمجھ گئے ‘‘ہارون کے والد نے عارف کے سرپر ہاتھ رکھ کر کہا

’’جی!انکل آپ نے بہت اچھی بات بتائی ہے میں یہ بات یاد رکھوں گا ‘‘

شہر کے ایک مشہور کالج میں عارف کو داخلہ مل گیا۔  لیکن چند ہی ماہ بعد ہارون کے والد کا تبادلہ ہو گیا کچھ عرصہ تک فون یا خطوط کا سلسلہ رہا پھر بند ہو گیا۔ عارف کی زندگی میں خلاء ساپیدا ہو گیا کہتے ہیں وقت ہر زخم کا مرہم ہوتا ہے ماہ وسال پر لگا کر اُڑ گئے کڑی محنت اور  آزمائشوں کے دور سے گزر کر عارف نے M.Sc. M.Ed.کر لیا۔ اس کا باپ شراب پی پی کر بیمار ہو گیا اس کے سینے اور پیٹ میں درد رہنے لگا تھا کپڑے سیتے سیتے ماں کی کمر کمان بن چکی تھی  ان ہی دنوں عارف کو اسی کے کالج میں معقول تنخواہ پر ملازمت مل گئی ماں باپ کی اور  خوداس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا اس دن اس نے باپ سے وعدہ لیا کہ وہ آج سے شراب نہیں پئے گا اور  ماں سے وعدہ لیا کہ وہ اب کپڑے نہیں سئے گی۔  اس دن اسے ہارون اور پروین کی یاد بہت ستا رہی تھی وہ دونوں بھی ڈگری کر چکے ہوں گے کاش ہم سب ایک دوسرے کی خوشی میں شامل ہوتے جانے وہ سب کہاں ہوں گے کب ملیں گے ؟ رات پھر وہ ٹھیک سے سوبھی نہ سکا۔  صبح جلدی اٹھ گیا کیونکہ اس کے والدین کو دوا خانہ لے جانا تھا ڈاکٹر سے اپوائنٹ منٹ لینے کے لئے وہ چلا گیا۔  دوا خانہ میں اچانک اس کی ملاقات ہارون سے ہو گئی وہ نہیں جانتا تھا جنھیں یاد کرتا ہوا رات بے چین تھا صبح ان سے ملاقات ہو جائے گی وہ مارے خوشی کے ہارون سے لپٹ گیا ہارون بھی اسی گرم جوشی سے ملا لیکن اس کی پلکیں بھیگی ہوئی تھیں چہرہ سے بیمارسالگ رہا تھا دونوں ہاسپٹل کے احاطہ میں ایک طرف بیٹھ گئے ہارون نے بتایا کہ پروین کوB.T ہو گیا ہے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اگلے دو تین ماہ اس کے لئے خطرناک ہیں وہ رو پڑا ’’عارف میری بہن کیا ہمیشہ کے لئے بچھڑ جائے گی میں یہ کیسے برداشت کر سکوں گا بتاؤ عارف میں کیا کروں ؟ عارف کو یہ سن کر سکتہ سا ہو گیا چند لمحوں بعد اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے کہا:

’’ہارون   B۔ T  کا مرض تو ختم ہو چکا ہے کبھی کسی کو ہو جاتا ہے تو اس کا علاج بھی ہے اتنے پریشان نہ ہو میرے بھائی سب ٹھیک ہو جائے گا چلو مجھے اس کے پاس لے چلو‘‘ پروین نے عارف کو دیکھا تو دیکھتی رہ گئی جیسے کہہ رہی ہو کیا چاہنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں دیکھو تمہاری جدائی میں میری کیا حالت ہو گئی ہے!!؟

عارف کی بھی آنکھیں جیسے کہہ رہی تھیں میں بھی زمانے سے خفا تھا اپنے آپ سے خفا تھا لیکن اب تم مل گئی ہو چلو ماضی کی صعوبتوں کو بھول جائیں عارف اس کے قریب بیٹھا تسلی آمیز باتیں کرتا رہا بہت دیر بعد وہ اور ہارون جانے کے لئے اٹھے تو والدہ نے کہا کہ وہ ہر روز آیا کرے آج پروین بہت خوش ہے خدا اُسے ایساہی خوش رکھے۔  عارف تو چاہتا ہی تھا کہ وہ ہر روز پروین کے سامنے بیٹھا اس سے باتیں کرتا رہے اس نے وعدہ کیا کہ وہ ہر روز آیا کرے گا۔  واپسی پر ہارون نے کہا کہ ’’پروین کی صحت قدرے سنبھل جائے تو اس کی شادی کر دی جائے گی ہم سب اسے دلہن بنی دیکھنا چاہتے ہیں سوال یہ ہے کہ اس حالت میں اس سے شادی کون کرے گا ؟

اچانک عارف کو ہارون کے پاپا کی وہ بات یاد آ گئی جسے یاد رکھنے کا اس نے وعدہ کیا تھا کہ ’’تم قابل بن جاؤ اور تقدیر تمہیں موقع دے تو تم بھی کسی مظلوم یامستحق کی ڈوبتی کشتی کو پار لگا دینا ‘‘عارف کو خاموش پا کر ہارون نے حیرت سے پوچھا ’’کیا بات ہے عارف تم اس طرح کیوں خاموش ہو گئے ؟

’’میں سوچ رہا تھا کہ کیا میں انکل اور آنٹی کی خواہش کو پورا کرنے کی جرات کر سکتا ہوں ؟ گو کہ آج میں تعلیم یافتہ کہلا سکتا ہوں با وقار عہدہ پر فائز ہوں لیکن طبقاتی فرق تو جوں کاتوں رہے گا پھر بھی میں۔  

’’کیا کہہ رہے ہو عارف!تمہارے سامنے اس بات کا اظہار اس لئے نہیں کیا کہ تم اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کر دو؟! اور یہ طبقاتی فرق کے کیا معنی ہیں ؟ عارف نے کہا ’’اس میں قربانی کی تو کوئی بات نہیں ہے وہ انسان ہی کیا جودوسرے کے کام نہ اس کے ؟ اگر میں تم سب کو تھوڑی سی خوشی دے سکوں تو یہ میری خوش قسمتی ہو گی شاید تم مجھے اس قابل نہیں سمجھتے ہے نا؟ ’’ہارون نے اسے گلے لگا لیا۔  

اگلے تین مہینوں میں پروین کی صحت کافی حد تک سنبھل گئی تھی آنکھوں میں چمک آ گئی اور گالوں پر گلاب سے کھل گئے تھے۔  سیٹی ٹوریم سے وہ گھر آ گئی آسمان سے جیسے رنگ و نور کی بارش ہو رہی تھی اور پروین جیسے ستاروں کے جھرمٹ میں پھولوں پر چلتی ہوئی پالکی میں بیٹھ رہی تھی عارف اور پروین ہنی مون منا نے کے لئے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے۔

*****