کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کاغذ کی کشتی

افروز سیدہ


’’یہ دو لت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو

بھلے چھین لو مجھ سے میری جو انی

مگر مجھکو لو ٹا دو وہ بچپن کا سا ون

 وہ کاغذ کی کشتی وہ با رش کا  پانی‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کا  ایک بجر ہا تھا سارہ اپنے نرم گرم بستر پر لیٹی کرو ٹیں بدل رہی تھی سلیم سے دوری اور  تنہائی کے ناگ ابھی سے پھن اٹھائے نظر آ رہے تھے دل میں انجانو سو سے جاگر ہے تھے مرد ہر جائی ہو تے ہیں خود غرض اور  سنگدل ہو تے ہیں اس کے اندر شکوک کے الا ؤ سلگنے لگے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

اسے تیسرے دن تھوڑا سا سکون ملا طبعیت ٹھہرسی گئی وہ تین دن سے اذیت کے الا ؤ میں سلگ رہی تھی یہ سوچ سوچ کر مر رہی تھی کہ وہ مر کیوں نہ گئی دل بند کیوں نہ ہو گیا دم گھٹ جا نا چاہئے تھا تین دن سے جہنم کا ایندھن بنی ہوئی تھی وہ اتنی قا بل نفرت نہیں تھی وہ تو اپنے بڑے اور  چھوٹوں کی آنکھوں کا نور دل کا سرورتھی پھر اس کی  تقدیر کیوں اتنی بد شکل اور  بد نما بن کراس کے سامنے آئی تھی۔  اس کے روم روم میں کا نٹے سے چبھ رہے تھے وہ تو ایک ہی رات میں محبتوں کا ایک سمندر پار کر آئی تھی پھر اس کی کشتی کنارے پر کیوں ڈوب گئی جن کی تقدیر میں ڈوبنا ہوتا ہے شا ید وہ کنارے پر بھی ڈوب جاتے ہیں۔  کیا ہر انسان کی زندگی میں کوئی موڑا یسا بھی آتا ہے جہاں زندگی ہمیشہ کیلئے ٹھہرسی جاتی ہے یا ہمیشہ کے لئے رواں دواں ہو جاتی ہے لیکن اس کی زند گی کا یہ کیسا مو ڑ تھا جہاں آ کراسے کوئی را ستہ سجھائی نہ دے رہا تھا چاروں طرف اندھیرا تھا۔  دو ہی مہینے پہلے وہ دلہن بنی تھی۔  ماہ رمضان قریب الختم تھا سارہ کی ہو نے والی ساس نے فون پر بتا یا تھا کہ وہ جمعہ کے دن عیدی لے کر آ رہی ہیں گھر کا رنگ و روغن تیزی کے ساتھ مکمل ہوا تھا سارہؔاور  زار ؔا گھر کی صفائی اور  سجاوٹ میں مصروف تھیں عید کے فوری بعد سارا کی شادی تھی ساس سسر اور  نندیں عیدی لیکر آئیں ڈھیرسارے مغزیات ، سوئیاں ، بے حساب مٹھائی کے ڈبے اور  نہایت قیمتی اور  خوش رنگ شلوار سوٹ وغیرہ۔  سا رہ اور  اس کی ماں بہن پھولی نہیں سما رہی تھیں۔  پر تکلف کھا نا ہوا ، ہنستے ہنسا تے تقریب اختتام کو پہنچی۔  مہمان رخصت ہو رہے تھے۔  تب ہی سارہ اور  اس کی سہیلی ناہید نے اسے گھیر لیا ’’بڑی خوش نصیب ہو کہ بنا کوشش و تلاش اچھا لڑکا مل گیا دیکھنے میں تو حضرت بڑے ہی اسمارٹ اور ہینڈسم ہیں لیکن۔۔۔  سارہ ایک بات بتاؤں اسمارٹ لڑکوں پر تو مجھے بھروسہ ہی نہیں آتا جانے کتنی تتلیاں ان کے اطراف گھومتی ہونگی اور ‘‘۔۔۔  ’’ناہید تم آخر اتنی شکی مزاج کیوں ہو شادی کی بنیا دتو محبت اور  اعتماد پر رکھی جاتی ہے ابتدا شک سے ہو گی تو زندگی دشوار ہو جائے گی۔ ‘‘

’’نا بابا!میں تو آنکھیں بند کر کے کسی اجنبی پر بھروسہ کرنے کی قائل نہیں ہوں ویسے سلیم درانی سے ر شتہ کیسے ہوا ان کا فیملی بیک گراؤنڈ کیا ہے ؟ ان کے بارے میں اچھی طرح چھان بین کر لی گئی ہے یا نہیں ؟ دیار غیر میں بسنے والوں کا بھرو سہ کیا ؟ مر دتو ہر جائی ہو تے ہیں دل کسی کو دیتے ہیں تو شادی کسی اور  سے کرتے ہیں ‘‘’’نا ہید کچھ میری بھی سنو گی یا اپنی کہے جاؤ گی ؟ سنو!سلیم درانی میری امی کی بچپن کی سہیلی کے بیٹے ہیں شا ید اسی لئے امی نے چھان بین کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی خاندانی لوگ ہیں بے حساب زمین جائیداد کے مالک ہیں وہ ایک مشہورو معروف کمپنی میں کمپیوٹر انجینئر ہیں اور ان کی تنخواہ بھی معقول ہے ‘‘۔  

’’یہ سب تو ٹھیک ہے کیا تم ان کے نیچر سے واقف ہو؟کس ٹائپ کے آدمی ہیں ان کی عادات و اطوار کیا ہیں ان کی پسند نا پسند کیا ہے اور  ان کے دوست کس قماش کے ہیں ؟ ایک اجنبی کے ساتھ زندگی کا سفر کیسے طئے ہو گا ؟‘‘

’’وہ یوں ہو گا کہ میں ان کے قدم سے قدم ملا کر چلوں گی وہ رات کو اگر دن کہیں تو میں بھی دن ہی کہوں گی میری آنکھوں نے کبھی کسی کو اپنے خوابوں میں نہیں بسا یا میں نے اپنے جذبات کو بے آبرو نہیں کیا اور  مجھے اپنے بڑوں پر بھروسہ ہے ‘‘۔

’’کیا تم نے انھیں دیکھا ہے ؟ یا صرف تصویر پر اکتفا کر لیا ؟‘‘

’’بات یہ ہے ناہید، ہمارے سامنے والا مکان اُن لوگوں نے خریدا اور  جس دن شفٹ ہوئے اسی دن امی اور  آنٹی نے ایک دوسرے کو دیکھتے ہی پہچان لیا امی نے بڑے اہتمام کے ساتھ ان کی دعوت کی جب آنٹی نے مجھے دیکھا تو بہت خوش ہوئیں اور  اپنے بیٹے کے لئے مجھے ما نگ لیا۔  ہمیں ایک دوسرے کو دیکھنے کا موقع ہی کہاں ملا ؟‘‘

’’کیا سلیم صاحب نے بھی اپنی ماں کی پسند کے آگے سر تسلیم خم کر لیا ہے ؟‘‘

’’ہاں! اس تعلق سے امی نے کہا بھی تھا کہ ان کا بیٹا بھی مجھے دیکھ لے تو بہتر ہو گا لیکن انھوں نے صاف کہہ دیا کہ اس کی کیا مجال جو میری پسند کے خلاف جائے ،امی مسکرا کر خاموش ہو گئیں شا ید دل ہی دل میں اپنے ہو نے والے داماد کی شر افت اور  فرمانبرداری پر خوش تھیں۔  ‘‘

’’بھئی تم جانو اور  آنٹی جانیں یہ تمہاری خوش نصیبی ہے کہ درد سری کے بغیر اچھا لڑکا مل گیا اور  تحقیقات کی بھاگ دوڑ سے بھی بچ گئے ورنہ اس زمانے میں کوئی لڑکی کسی لڑکے کی ماں بہنوں کو پسند آنا ایک مسئلہ ہے ہر کسی کو خوب سے خوب تر کی تلاش ہے لڑکی پسند آنے کے بعد لڑکے کی دریافت بھی بڑا مرحلہ ہے کہیں بھول چوک ہو جائے تو زندگی کے لالے پڑ جا تے ہیں۔  اچھا اب میں چلتی ہوں کافی دیر ہو گئی ہے ، خدا حافظ۔  ‘‘ناہید کو رخصت کرنے کے بعد سارہ بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ سسرال سے آئی چیزیں دیکھنے بیٹھ گئی سب کچھ ٹھیک تھا اسے سرخ مخملیں ڈبے میں رکھی ہوئی چین بہت پسند آئی جس میں ہیرے کا پنیڈنٹ اپنی شعاعیں بکھیر رہا تھا۔  شادی کی تیار یاں مکمل ہو چکی تھیں عید کے چار دن بعد خوشیوں اور  آنسوؤں کے بیچ سارہ کو رخصت کیا گیا۔  

نئی زندگی کی پہلی صبح جواس کے اپنے گھر میں ہوئی تھی اسے بے حد روشن ، مقدس اور  معطر سی لگی۔  نندوں نے پر تکلف ناشتہ دیا اور  چھیڑ چھا ڑ کرتی رہیں۔  ساس واری نیاری جا رہی تھیں اور  سلیم بھی خوش تھا۔  بہنوں نے پو چھا ’’بھیا سچ بتائیں ہمارا انتخاب کیسا رہا ؟‘‘

’’بھئی تمہارے انتخاب کے تو قائل ہو گئے لیکن یہ بتا ؤ کیا ہم کسی سے کم ہیں ؟ ‘‘سلیم نے کنکھیوں سے سارہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا سب نے زوردار قہقہہ لگا یا سارہ نے مسکر اکر گردن جھکا لی جیسے وہ اپنی قسمت پر بھی نا زاں ہو۔  کئی دن تک دعوتوں کا سلسلہ چلتا رہا پند رہ دن پلک جھپکتے گزر گئے سلیم کی چھٹی ختم ہونے میں ایک دن باقی رہ گیا۔  وہ شام ہی سے اپنے دوستوں سے ملنے چلا گیا تھا۔  رات کا ایک بج رہا تھا سا رہ اپنے نرم گرم بسترپر لیٹی کرو ٹیں بدل رہی تھی۔  سلیم سے دوری اور  تنہائی کے ناگ ابھی سے پھن اٹھائے نظر آ رہے تھے دل میں انجانو سوسے جاگ رہے تھے گو کہ سلیم نے بڑے پیار سے وعدہ کیا تھا کہ اسے بہت جلد اپنے پاس بلوا لے گا وہاں پہنچتے ہی ویزا کی کوشش شروع کر دے گا۔  اسے ناہید کی باتیں یاد رہی تھیں   مرد ہر جائی ہوتے ہیں خود غرض اور  سنگدل ہوتے ہیں۔  اس کے اندر شکوک کے الا ؤ سلگنے لگے اگر سلیم نے ویزا نہیں بھیجا تو کیا ہو گا ؟ ناہید مذاق اڑائے گی! یہاں حالات کیسے ہوں گے دنیا کے سمندر میں زندگی کی ناؤ کیا تنہا کنارے لگا سکے گی ؟ آرام و آسائش دولتو ثروت سب مل کر بھی آسو دگی نہیں دے سکتے ایک تشنگی ہمیشہ باقی رہے گی۔  وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اس کی پلکیں بھیک رہی تھیں آنکھوں میں جلن سی ہو رہی تھی تب ہی ہلکا سا کھٹکا ہوا ور  سلیم اندر آ گیا سارہ خالی خالی آنکھوں سے سلیم کو دیکھ رہی تھی وہ اس کے قریب بیٹھا چہرہ کو تک رہا تھا جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو سارہ کے ہو نٹوں پر پھیکا سا تبسم تھا جیسے دور کہیں پہاڑوں پراداسی کی برف گر رہی ہو دوسرے دن سلیم چلا گیا حسبو عدہ دو دن بعد فون کیا خیرو عافیت پو چھی۔ سا رہ کے دل میں جو وسوسے تھے صابن کے جھاگ کی طرح غائب ہو گئے اس یقین نے سرشار کر دیا کہ سلیم ہرجائی نہیں ہے اس کے اندیشے غلط تھے وہ ہر ہفتہ فون کرتا تسلی دلاسے دیتا رہا دو مہینے گزر گئے اسی دوران سلیم کی ماں دل کا شد ید دورہ پڑ نے سے انتقال کر گئیں بہت دن بعد سلیم کا فون آیا وہ اداس تھا اس نے زیادہ بات نہیں کی۔ اتنا بتایا کہ وہ ایک اہم خط بھیج رہا ہے صبح پو سٹ مین کا انتظار کرے۔  سارہ تاروں بھری مسکراتی چھت کے نیچے لیٹی چاند کو تک رہی تھی چاند کے دیس میں خوابوں کا محل سجا رہی تھی ساری رات آنکھوں میں کٹ گئی سپیدۂ سحر نمو دار ہو ادر پہ نظر دل میں بے قراری لئے وہ ہمہ تن منتظر تھی دن کے گیا رہ بجے کال بیل کی چنگھاڑ نے اسے چونکا دیا بیل بجا نے ولا پو سٹ مین تھا اس کی دستخط لینے کے بعد پو سٹ میں نے ایک رجسٹرڈ لفافہ سارہ کے ہاتھ میں تھما دیا اس نے کپکپا تے ہاتھوں سے لفافہ چاک کیا۔  اسے اپنے پیروں تلے زلزلہ سا محسوس ہوا سانسیں بے ترتیب ہو رہی تھیں جیسے گھنے جنگل سے تنہا گزر رہی ہو۔  سلیم کی طرف سے بھیجا گیا طلاق نامہ اس کا منہ چڑھا رہا تھا۔  ساتھ ہی ایک خط اور  ایک ڈرافٹ بھی تھا وہ جہاں کھڑی تھی وہیں بیٹھ گئی اور  خط پڑھنے لگی:

ڈیر سارہ!

یہ لکھتے ہوئے میں دکھ محسوس کر رہا ہوں کہ ویزے کے بجائے تمہیں طلاق نامہ بھیج رہا ہوں۔  میں ایک شادی شدہ مرد اور  دو بچوں کا باپ ہوں۔  جب میری والدہ نے تمہیں میرے لئے پسند کیا تو میں انکار  نہ کر سکا کیوں کہ گز شتہ چار سال سے میں انھیں ٹا لتا رہا تھا وہ دل کی مریضہ تھیں اس دفعہ میرے انکار پر کچھ بھی ہو سکتا تھا اس لئے میری ہمت نہیں ہوئی یہ میری بدقسمتی ہے کہ میری طرف سے ملنی والی خوشی کو بھی ان کا دل سہارنہ سکا اور  وہ چل بسیں میں نے اپنی بیوی کو تمام باتوں سے آگاہ کیا اور  تمہیں ساتھ رکھنے کہا تواس نے صاف انکار کر دیا اگر وہ کوئی سخت قدم اٹھاتی تو بچوں کے لئے مشکل کھڑی ہو جاتی اس لئے مجھے مجبور اًیہ قدم اٹھا نا پڑا ۔  میں نے پانچ لاکھ کا ڈرافٹ بھیجا ہے تم اپنی زندگی کا ہمسفر تلاش کر لینا کبھی زندگی کے کسی مو ڑ پر میری مدد کی ضرورت ہو تو تکلف نہ کر نا امید ہے تم مجھے معاف کر دو گی۔  خدا حافظ

سارہ کے دل میں ایک تلاطم بر پا تھا۔  یہ مرد جو افضل ترین مخلوق ہے عورت پر فوقیت رکھتا ہے شادی کے بعد ایک عورت اسے اپنا مجازی خدا مان لیتی ہے اپنی عبادت ریاضت اور  اپنی جنت مان لیتی ہے زندگی کی کشتی کانا خدا بنا کرپتواراس کے مضبوط ہاتھوں میں تھما کر بے خود و بے خوف ہو جاتی ہے تب نا خدا خود کشتی کو ڈبو دے تو پھر صد یوں بھٹکنے پر بھی ساحل نہیں ملتا۔  

*****