کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے

افروز سیدہ


ہزار حملے کرے وقت ہم پہ بڑھ چڑھ کے

ہمیں بھی آتا ہے دکھ کی پناہ میں رہنا

اس لئے تو کوئی منزل مراد نہیں

مقدروں میں لکھا ہو گا راہ میں رہنا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

اب میری سمجھ میں آ رہا ہے کہ تعلیم کتنی مقدس چیز ہے یہ عورت کو ایک نیا جنم ایک نئی دنیا دے سکتی ہے اس زندگی کوسنوارسکتی ہے آج میں زندگی کے سنگین موڑ پر’ کھڑی تمہاری ہدایتوں اور دعاؤں کو یاد کر رہی ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

اس کے ارمانوں اور  آرزوؤں کا شیش محل آج زمین بوس ہو گیا تھا جس کی کرچیوں پر بیٹھی زارا سوچ رہی تھی کیا اب انہی کرچیوں پر چلتے ہوئے زندگی کا سفر پورا کرنا پڑے گا  کیا ماموں نے اپنے آوارہ بیٹے سے چاقو کی نوک پرنکاح کر کے میری تقدیرکا فیصلہ کر دیا ہے ؟ ’’نہیں ماں ایسا نہیں ہو سکتا!‘‘زارا اپنی ماں کی تصویرسے مخاطب تھی ’’ماں تم مجھے اس کا رزارحیات میں اکیلا چھوڑ گئیں اور خود ابدی نیند کی آغوش میں پناہ لے لی۔  کہتے ہیں کہ مرنے والے تمام جھگڑوں اور  فکروں سے نجات پالیتے ہیں! قیامت تک کے لئے سکھ کی نیند سوجاتے ہیں لیکن میں نے کتابوں میں پڑھا ہے کہ مرنے کے بعد سزا ء اور  جزا کا حساب کتاب شروع ہو جاتا ہے نئے عذابوں کا سلسلہ قیامت تک چلتا رہتا ہے پتہ نہیں ماں تم کس حال میں ہو یہاں دنیا میں کونسا قہر تھا جو تمہارے شوہر اور  سسرالی لوگوں نے نہیں توڑا ! لیکن کب تک حالات کا مقابلہ کرتیں ؟ عورت ازل ہی سے کمزور ہے نا تم بھی کمزور تھیں بیماریوں کا شکار ہو گئیں لیکن مجھے ہمت سے جینے کا سبق پڑھاتی رہیں اور اعلی تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کیا کرتیں تم نے کہا تھا کہ عورت کا سکھ روٹی کپڑا اور مکان میں ہے عورت کو صابر و شاکر ہونا چاہئے میں پوچھتی ہوں ماں کیا ایک آوارہ ،جاہل بے روزگار شوہر کے ساتھ زندگی گزارنا بھی عورت کے فرائض میں داخل ہے ؟

اب میری سمجھ میں آ رہا ہے کہ تعلیم کتنی مقدس چیز ہے یہ عورت کو ایک نیا جنم ایک نئی دنیا دے سکتی ہے اس زندگی کوسنوارسکتی ہے آج میں زندگی کے سنگین موڑ پر کھڑی تمہاری ہدایتوں اور دعاؤں کو یاد کر رہی ہوں تم ایک دور اندیش ماں تھیں نانا کی طرف سے ملی ہوئی دس لاکھ کی رقم تم نے میرے بینک اکاؤنٹ میں ڈال دی دونوں بھائی بیرون ملک دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹ رہے تھے تمہاری خواہش کے مطابق میں انجنیرنگ کے آخری سال کو پورا کرنے میں جٹی ہوئی تھی کہ تم بنا کچھ کہے سنے ہمارے بیچ سے اٹھ گئیں میری ڈگری بھی نہیں دیکھی، تم نے بیٹوں کا بھی انتظار نہیں کیا، شاید تم جانتی تھیں کہ وہ تمہاری قبر کو مٹی دینے نہیں آئیں گے تمہارے وجود کی چھتر چھایا کیا ہٹی حالات کی دھوپ مجھے جھلسانے لگی تم کیا گئیں ماں مجھ پر قیامت ٹوٹ پڑی پھوپی اپنے نیم پاگل بیٹے سے میرا بیاہ رچانا چاہتی تھیں تاکہ ان کا گھر سنبھالنے کے لئے ایک ملازمہ اور بیٹے کو کھیلنے کے لئے ایک کھلونا مل جائے وہ  ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑ گئیں جو اب دینے کے لئے میں نے دو چار دن کا وقت مانگا اور چاچی کے ہاں چلی آئی وہاں ایک نئی مصیبت میرے انتظار میں تھی چاچاسعودی سے آئے ہوئے تھے انکے ساتھ ان کی کمپنی کا باس بھی تھا جو یہاں شادی کی غرض سے آیا تھا چاچی اس سے میرا نکاح کروانا اور منہ مانگی رقم وصول کرنا چاہتی تھیں میں کسی طرح وہاں سے بھاگ نکلی اور ماموں کے پاس آ گئی انھیں پھوپی اور چاچی کے ارادوں سے آگاہ کیا ماموں نے مجھے ہمت و دلاسہ تو دیا لیکن دوسرے ہی دن میری گردن پر چھری رکھ کر اپنے آوارہ بے روزگار بیٹے سے میرا نکاح کروا دیا۔ میرے ارمانوں کا شیش محل زمین بوس ہو گیا ماں یہ کسی شادی تھی نہ بارات آئی نہ ڈولی سجی نہ سکھیوں نے ڈھولک پر بابل گیت گائے ماموں نے میری زندگی کشکول میں ایک کھوٹا سکہ ڈال کر کیا میری تقدیر کے فیصلہ کر دیا؟ ماں وہ لمحے میری زندگی کے اذیت ناک لمحے تھے جب مجھے قید کر کے اس کمرے میں ایک درندے کو چھوڑ دیا گیا تھا شراب کے نشہ میں وہ میرے اردگرد چکر لگاتا رہا پھر دھپ سے میرے قریب بیٹھ کر دست درازی کرنے لگا میں اپنے دکھ سے نڈھال تھی شراب کی بدبو اور ایک وحشی کی قربت نے میرا دماغ ماؤف کر دیا میں نے ایک زور کا طمانچہ اس کے منہ پردے مارا پھر اس نے مجھ پر لاتوں گھونسوں کی بارش کر دی اور کل سے اب تک مجھے کسی نے کھا نا بھی نہیں دیا نہ کسی نے پوچھا کہ میں کس حال میں ہوں یہ زندگی اماوس کی اندھیری رات لگ رہی ہے لیکن امید کا ایک دیا جھلملا رہا ہے۔ ‘‘رات کے بارہ بج چکے تھے زارا کمرے میں اکیلی بیٹھی ماں کی تصویر کے آگے آنسوبہا رہی تھی تب ہی عابد کی کار گیٹ میں داخل ہوئی اس نے ڈور کھول کرکسی کوسہارا دیتے ہوئے کا رسے اتارا وہ کوئی لڑکی تھی عابداسے تھامے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا دیکھنے سے معلوم ہو رہا تھا کہ لڑکی نشہ میں چورہے زارا بجلی کی سی سرعت اپنے کمرے سے باہر آئی اور عابد کے کمرے کا دروازہ بندکر کے مقفل کر دیا۔ کھڑ کی کے پاس جا کراسے مخاطب کیا ’’لڑکیوں کو پلا کر لانا اور  ان کی زندگی برباد کرنا بھی تمہارا محبوب مشغلہ ہے تمہارے چال چلن کی ایک اور خوبی سامنے آئی ہے بہت خوب! ‘‘ ’’کیا بک رہی ہو؟ یہ اپنی مرضی سے ہماری بانہوں میں چلی آتی ہیں لیکن میرے معاملات میں دخل دینے کی اجازت تمہیں کس نے دی ؟ دروازہ کیوں بند کیا ہے کھول دو! کیا کل کی مار بھول گئی ؟ ’’تم جیسے مردوں سے مقابلہ کرنے کی مجھ میں ہمت آ گئی ہے تمہیں یہاں سے آزادی تب ہی ملے گی جب تم مجھے آزاد کر دو گے ‘‘’’کیا مطلب ہے تمہارا ؟ ’’مطلب صاف ہے تم اس کمرہ سے تب ہی باہر آ سکتے ہو جب تم مجھے اپنے نکاح سے باہر کر دو گے یہ کاغذ لو اور اس پر لکھو کہ تم نے مجھے طلاق دی اگر معلوم ہو تو اپنے باپ کا نام بھی لکھنا اور میرے نام کے ساتھ میرے باپ کا نام بھی ہونا چاہے ’’‘‘تمہاری یہ جرات ؟ اگر میں طلاق نہ دوں تو ؟ ’’تومیں ابھی سارے محلے کو جگا دوں گی تمہارے اور  تمہارے باپ کے کرتوت بتاؤں گی میں پولس کی مدد بھی لے سکتی ہوں اور بہت کچھ کر سکتی ہوں وقت ضائع نہ کرو تمہاری محبوبہ اگر ہوش میں آ گئی تو اور بھی تماشہ ہو گا فوراً طلاق نامہ لکھ دو ورنہ ابھی شور مچاؤں گی ‘‘

عابد کو کھلے الفاظ میں طلاق نامہ لکھنا پڑا زارا نے اس طلاق نامہ کو کھڑ کی سے باہر پھینکنے کہا عابد نے دانت پیستے ہوئے زارا کے حکم کی تعمیل کی زارا نے اسے غور سے پڑھا اور دروازہ کھولنے کے بجائے کنجیاں عابد کے منہ پر پھینک  کر چلی گئی۔

 

*****