کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

سَراب

افروز سیدہ


وہ جو آرزوؤں کے خواب تھے ، وہ سراب تھے وہ خیال تھے

سردشت ایک بھی گل نہ تھا،جسے آنسوؤں سے سنوارتے

تھا جو ایک لمحہ وصال کا ،وہ ریاض تھا کئی سال کا

وہی ایک پل میں گزر گیا، جسے عمر گزری پکارتے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’رُبا!یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے ؟ تم نے قرآن مجید حفظ کیا ہے۔ کیا تمہیں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ دین کی پابندی نہ کی جائے تو بڑا گناہ ہوتا ہے۔ دولت کے پیچھے اپنی عاقبت خراب کر رہی ہو۔۔۔  رُبا!انسانی خواہشات کا کوئی انت نہیں ہے۔ خواہشات ایک ایسے درخت کی مانند ہیں جس کی ہزاروں شاخیں ہوتی ہیں اور  اس پر لگنے والے پھل کا نام ہوس ہے۔ جس سے کبھی پیٹ نہیں بھر سکتا۔ ‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس دن دوپہر سے ہلکی بارش کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ شام ہوتے ہوتے گہرے سیاہ بادلوں نے آسمان کو ڈھک لیا۔ بارشوں کا بھیگا بھیگا موسم بہت بھلا معلوم ہوتا ہے۔ میں بادلوں کی آنکھ مچولی سے محظوظ ہو رہی تھی کہ کال بیل کی آواز نے بری طرح چونکا دیا۔ اس وقت کون اسکتا ہے ؟ سوچتی ہوئی اٹھی۔ دروازہ کھولا تو گیٹ پر دو خواتین کھڑی نظر آئیں وہ برساتی پہنے ہاتھوں میں چھتریاں لی ہوئی تھیں۔ چہرے صاف نظر نہیں آ رہے تھے۔ ایک دبلی پتلی ، گوری چٹی اور  دوسری سانولی رنگ کی تھی۔ میں نے پوچھا کیا بات ہے ؟آپ لوگ۔۔۔۔ ‘‘

’’جی ہم انجمن بیوگان و یتیم یسیر ،کی ارکان ہیں اور  چندہ کے لئے آئی ہیں ‘‘۔ مجھے اس وقت ان کا آنا اچھا نہ لگا میں نے کہا ’’آپ لوگوں نے اس وقت کیوں تکلیف کی بہتر ہوتا کہ دن میں آ جاتیں خیر ٹھہریں میں ابھی آتی ہوں ‘‘نہ چاہتے ہوئے بھی جانے کیوں انہیں کچھ نہ کچھ دے دینا مناسب سمجھا۔ الماری سے کچھ رقم لے کر آگے بڑھی۔ سانولی لڑکی نے میرے قریب آ کر ہاتھ بڑھایا اور  شکریہ کہتے ہوئے رقم لے لی۔ دوسری جو گیٹ کے پاس ہی ٹھہری رہی چھتری کو چہرے سے اتنا قریب تھام رکھا تھا جیسے چہرہ چھپانا چاہتی ہو اور  وہ چہرہ مجھے جانا پہچانا سالگا تھا۔ میں نے دماغ پر زور دیا کچھ یاد نہیں آ رہا تھا۔ وہ دونوں آگے بڑھ گئیں۔ میں اپنی سوچ میں کھڑی ہوئی تھی اچانک مجھے یاد آیا کہ اس چہرے کو تو میں اچھی طرح جانتی ہوں وہ مجھ سے بہت قریب رہ چکی ہے اسے تلاش بھی کیا تھا میرے گمان میں یہ بات نہیں تھی کہ وہ یوں اچانک میرے سامنے آ جائے گی اور  ملے بغیر چلی جائے گی۔ میں گیٹ کی طرف لپکی وہ میرے گھر سے دو مکان آگے ایک گیٹ کے سامنے کھڑی ہوئی تھیں مجھے دیکھ کر وہ تیزی کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔ میں نے آواز دی ’’سنئے!سنئے!ذرا ادھر آنا۔۔ رک جائیے ‘‘

سانولی لڑکی نے بھی اسے آواز دی وہ جھجکتی ہوئی رک گئی اور  میری طرف پشت کئے کھڑی رہی تب تک میں ان کے قریب پہنچ چکی تھی۔

’’میرا خیال غلط نہیں ہے تو آپ رُباب ہیں نا؟ ا‘‘س نے اثبات میں سر کو جنبش دی۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا وہ نظریں نیچی کئے کھڑی رہی۔ اس کی ساتھی ہم دونوں کو تعجب سے دیکھ رہی تھی۔ ’’تم کہاں تھیں رُباب؟میں نے تمہیں کتنا تلاش کیا۔ کہیں پتہ نہ چل سکا اور  آج تمہیں اس حالت میں دیکھ کر میں نہ صرف حیر ان ہوں بلکہ پریشان ہوں یہ کیا حالت ہو گئی ہے تمہاری؟ آؤ کچھ دیر بیٹھو نا میں تمہارے بارے میں جاننے کے لئے بے چین ہوں ‘‘

’’باجی!میں ایک دو دن بعد آ جاؤں گی فی الوقت بہت مصروف ہوں ویسے میری داستانِبربادی سن کر آپ کیا کریں گی ؟‘‘

’’نہیں رُبا!میں سننا چاہتی ہوں تمہیں وعدہ کرنا ہو گا کہ تم کل ضرور آؤ گی۔ جب تک تم نہ آؤ گی میں اذیت میں مبتلا رہوں گی!تم آؤ گی نا ؟ مجھے تمہارا فون نمبر ہو تو دے دو پلیز ‘‘رُباب نے فون نمبر دیا اور  کل آنے کا وعدہ کر کے چلی گئی۔ میں ڈرائنگ روم میں بیٹھی ماضی کی کتاب کے اوراق الٹ رہی تھی۔

چند سال پہلے جب میں بی۔ اے فائنل کر رہی تھی رُباب اپنے خاندان کے ساتھ ہمارے پڑ وس میں رہا کرتی تھی یہ دو بہنیں تھیں ایک چھوٹا بھائی تھا۔ اس کے والد کا جنرل اسٹور خوب چلتا تھا بچے اچھے اسکول میں پڑھ رہے تھے۔ رُباب قرآن مجید حفظ کر رہی تھی۔ وہ بے حد شوخ و شریر تھی۔ ہرکس وناکس سے بہت جلد گھل مل جاتی تھی۔ پرکشش چہرہ اور  باغ و بہار شخصیت کا ہر کوئی گرویدہ تھا۔ اس کے والد کے اچانک انتقال کے بعد وہ لوگ پریشان ہو گئے ان ہی دنوں T.V والوں کی طرف سے کچھ لوگ اسکول آئے تھے کسی سیرئیل کے لئے لڑکے اور  لڑکیوں کی ضرورت تھی کچھ بچوں کا سلکشن ہوا جن میں رُباب بھی شامل تھی۔ گھر آ کر خوشی خوشی ماں کو سب بتایا اور کہا اب ان کی پریشانیاں جلد ہی ختم ہو جائیں گی کیونکہ اسے T.Vسے معقول معاوضہ ملا کرے گا۔ جب ماں بیٹی نے مجھے یہ بات بتائی تو میں نے منع کیا اور  انہیں سمجھایا کہ یہ سب کیوں ٹھیک نہیں ہے لیکن۔۔۔۔ وہ انجان بن گئے۔ شوٹنگ کے پہلے دن رُباب نے مجھے ساتھ چلنے کے لئے کہا چونکہ یہ سب مجھے اچھا نہیں لگ رہا تھا اس لئے میں نے ٹالنا چاہا لیکن وہ بضد تھی اس کے ماں کے مجبور کرنے پر میں نے ایک بار جانا منظور کر لیا۔

وہ اکٹوبر کی ایک سہانی صبح تھی موسم خوشگوار تھا۔ شوٹنگ کے لئے کسی دور دراز مقام پر جانا تھا ڈائرکٹر کے گھر پر اسٹوڈیو کی ویان ٹھہری ہوئی تھی سب بچے اپنے اپنے گھروں سے آ کر جمع ہو رہے تھے کچھ بچوں کے ساتھ ان کے بڑے بھی تھے نو بجے ویان روانہ ہوئی سبھی خوش گپیوں میں مصروف تھے رُباب کی شوخی و شرارت عود کر آ گئی تھی کچھ دور اطراف کے پہاڑوں پر روئی کے گالوں جیسے بادل اتر رہے تھے ویان ہرے بھرے میدانوں سے گزر رہی تھی۔ میں کھڑ کی سے لگی ہوئی سیٹ پر بیٹھی باہر کے منظر سے لطف اندوز ہو رہی تھی میری آنکھوں میں جیسے سورہ رحمن کی آیتیں اتر رہی تھی۔

فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنْ

تقریباً ایک گھنٹہ بعد ہم اسٹوڈیو پہنچے۔ شام تک پروڈکشن کا عملہ اور  آرٹسٹ بچے مصروف رہے۔ یہ سلسلہ چل نکلا۔ اس دوران میں بھی دو چار مرتبہ رُباب کے ساتھ چلی گئی وہاں آرٹسٹ لڑکیوں کو دیکھا جو نت نئے ڈیزائین کے کپڑوں میں ملبوس تھیں جینز پینٹ اور  بغیر آستین کے ٹاپس بلکہ مختصر سے ٹاپس پہنی ہوئی آدم کے بیٹوں کو دعوتِ نظارہ دے رہی تھیں رُباب نے بھی اپنا آپ بدل لیا تھا لمبے گھنے بال کٹوا لئے شلوار سوٹ ڈوپٹہ چھوڑ کر جینز اور  نہایت مختصر ٹا پس پہننے لگی تھی۔ شوخ و شریر تو تھی اب نڈر اور  بے باک ہو گئی تھی میٹرک کے بعد آگے پڑھنے اور  کام بند کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

اس نے مجھے ایک دن بتا یا کہ ڈائرکٹر کے ایک دوست کمال احمد جو اکثر شوٹنگ دیکھنے آیا کرتے ہیں اس پر بہت مہربان ہیں وہ چار کپڑوں کے شورومس اور  باغات کے مالک ہیں اور  یہ کہ وہ اس سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے پوچھا اتنے دولت مند ہوتے ہوئے کیا انہوں نے اب تک شادی نہیں کی ؟

’’باجی!وہ تین لڑکیوں کے باپ ہیں اور  اب ایک لڑکے کی آرزو میں دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں بیٹے کی تمنا نے انہیں دیوانہ بنا رکھا ہے باجی!وہ مجھ سے پیار کرتے ہیں مجھے بھی بہت اچھے لگتے ہیں ہائے اتنی بڑی سی کار میں بیٹھے ہوئے کتنے شاندار لگتے ہیں ‘‘

’’رُبا!یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے ؟ تم نے قرآن مجید حفظ کیا ہے۔ کیا تمہیں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ دین کی پابندی نہ کی جائے تو بڑا گناہ ہوتا ہے۔ دولت کے پیچھے اپنی عاقبت خراب کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔  رُبا!انسانی خواہشات کا کوئی انت نہیں ہے۔ خواہشات ایک ایسے درخت کی مانند ہیں جس کی ہزاروں شاخیں ہوتی ہیں اور  اس پر لگنے والے پھل کا نام ہوس ہے۔ جس سے کبھی پیٹ نہیں بھر سکتا۔ آگے تمہاری مرضی۔۔۔ ‘‘

’’باجی!آپ نے تو اتنی ساری کتابیں پڑھی ہیں کیا یہ نہیں جانتیں کہ آج کی سب سے بڑی طاقت پیسہ ہے یہ دنیا پیسے کو سلام کرتی ہے جس کے پاس پیسہ نہ ہو لوگ اس کے سلام کا جواب دینا بھی پسند نہیں کرتے۔ آپ جانتی ہیں کہ میں ہمیشہ ایک پُر آسائش زندگی کے خواب دیکھتی رہی ہوں بنگلہ ، موٹر ، نوکر چاکر۔۔۔۔ میری کمزوریاں مجھے بہت دور لے جا چکی ہیں اب میرا لوٹنا مشکل ہے ‘‘

’’تم کرنا کیا چاہتی ہو ؟‘‘

’’میں کمال احمد سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔ میں نے انہیں بیٹے کی خوشی دے دی تو وہ مجھے بنگلہ اور  بڑی سی نئی کار اور  بہت کچھ مجھے دیں گے کار تو شادی پر دینے کا وعدہ ہے ‘‘

’’رُبا!تمہیں جاننا چاہئیے کہ فرش سے ایک ہیں جست میں عرش پر پہنچنے کی کوشش منہ کے بل گرا دیتی ہے اور  خوابوں کے شیش محل کرچیوں میں بدل جاتے ہیں میں تمہیں یہ مشورہ ہرگز نہیں دوں گی کہ تم۔۔۔۔ میری بات پوری ہونے سے پہلے وہ منہ پھلائے چلی گئی اور  ہمارے ہاں آنا جانا چھوڑ دیا۔ میرا فائنل ائیر تھا میں اپنی پڑھائی میں مصروف تھی دو چار ماہ بعد مجھے معلوم ہوا کہ رُباب اپنے خاندان کے ساتھ کسی اور  جگہ چلی گئی ہے۔ چار پانچ سال بعد پچھلے واقعات کسی فلم کی ریل کی طرح میرے دماغ میں گھوم رہے تھے۔ رُبا کو دیکھ کر میں پہچان نہ سکی تھی دوسرے دن وہ حسب وعدہ آ گئی۔ کچھ دیر خاموش بیٹھی ہوئی میرے ڈیکوریٹڈ ڈرائنگ روم کا جائزہ لیتی رہی پھرT.V پر رکھے ہوئے فوٹو فریم پر نظریں مرکوز کر دیں جس میں میرے دونوں بچوں کی تصویر لگی تھی اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے میں نے پُر تکلف چائے کی ٹرے رکھتے ہوئے پوچھا

’’کیا بات ہے رُبا ب!تم رو کیوں رہی ہو؟‘‘

’’کچھ نہیں باجی!بس!یونہی کچھ یاد آ گیا تھا ‘‘اس نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔

’’اب تم مجھے بتاؤ تم کہاں تھیں ؟ کیا کرتی رہیں ؟ تمہاری یہ حالت کیوں ہو گئی ؟‘‘

’’آپ کو یاد ہو گا کہ کمال احمد مجھ سے شادی کرنا چاہتے تھے اور۔۔۔۔ ‘‘

’’ہاں مجھے یا دہے میں نے مخالفت کی تھی اس کے بعد تم نے ہمارے ہاں آنا چھوڑ دیا تھا‘‘

’’کمال احمد نے حسب وعدہ میرے نام پر میری پسندیدہ کار لے لی اور  مجھے دلہن بنا کر لے گئے قدرت مجھ پر مہربان تھی وقت میرا تھا مجھے وہ سب کچھ مل گیا تھا جس کی مجھے خواہش تھی۔ شادی کے دوسرے ہی مہینے کمال کو خوش خبری سنائی کہ ہمارے ہاں مہمان آنے والا ہے انہوں نے کہا مہمان کیوں میرا شہزادہ میرا ولی عہد کہو۔ اب میں ایک سجے سجائے بنگلے کے خواب دیکھنے لگی لیکن مجھے خود پتہ نہیں تھا کہ لڑکا ہو گا یا لڑکی!کمال نے میری ناز برداری شروع کر دی تھی دو نوکر ہمہ وقت میری خدمت میں اور  گھومنے کے لئے کار لئے ڈرائیور موجود رہتا تھا۔ میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا میں نے فوراًScanning کروائی تو معلوم ہوا کہ ایک نہیں دو بیٹے ہیں میری خوشیوں کی انتہا نہ رہی میں بنا پروں ہوا میں اڑ رہی تھی میں اپنے آپ کو فاتح عالم سمجھ رہی تھی ہر بات چٹکی بجاتے کمال سے منوا لیتی تھی انہوں نے ڈاکٹر سے بات کی اور  بنگلہ میرے نام لکھ دیا امی اور بہن بھائی بھی پھولے نہیں سما رہے تھے کمال انہیں ہر ماہ دس ہزار بھیج دیا کرتے تھے دنیا میرے لئے جنت سے کم نہیں تھی وہ دن بھی آ گیا کہ کمال ایک ساتھ دو بیٹوں کے باپ بن گئے انکے خوابوں کی تعبیر ان کے سامنے تھی وہ چہار دانگ عالم میں اعلان کرنا چاہتے تھے کہ انہیں دو آنکھیں مل گئیں ہیں لیکن مصلحتاً وہ ایسا نہ کر سکے ان سے رہا نہ گیا تو چھلے کے جشن پر اپنی بڑی بیٹی شاہانہ کو راز دار بنا کر لے آئے وہ اپنے پھول جیسے دو بھائیوں کو دیکھ کر کھل اٹھی مجھ سے مل کر بھی خوش ہوئی دوسرے دن وہ اپنی چھوٹی بہن رخسانہ کے ساتھ آئی اس کے ہاتھ میں ٹفن کیرئیر تھا رنگت اڑی ہوئی تھی وہ دونوں رو رہی تھیں میرے پوچھنے پر بتا یا کہ ’’صبح ممی اور  پپا میں بہت جھگڑا ہوا ممی کہہ رہی تھیں کہ وہ آپ کو اور  دونوں بچوں کو زندہ نہیں چھوڑیں گی تب ہی پپا کے سینہ میں درد ہوا ماموں جان اور  دوسرے لوگ مل کر انہیں ہاسپٹل لے گئے ہیں ہاسپٹل گھر کے قریب ہی ہے ہم دونوں ٹفن لے جانے کے بہانے نکل کر آپ کے پاس آ گئیں ہیں اب کیا ہو گا آنٹی ؟‘‘

یہ سن کر میرے اوسان خطا ہو گئے یہ سب کچھ ایک دن معلوم ہونا تھا لیکن اتنی جلدی اور  اس قدر گمبھیر حالات ہو جائیں گے میں نے سوچابھی نہیں تھا میرے ہاتھ پاؤں میں لرزہ سا ہو رہا تھا میں نے اپنے آپ کوسنبھالتے ہوئے کہا ’’تم لوگ پریشان نہ ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا تم یہیں ٹھہرو میں بینک سے پیسے لے کر ابھی آتی ہوں ‘‘ڈرائیور اور  دونوں نوکر غریبوں کو کھانے کے پیکٹ بانٹنے کے لئے گئے ہوئے تھے میں نے گھر کو لاک کیا اور  روڈکراس کر کے بینک میں گھس گئی۔ ATM سے رقم نکال کر واپس آنے تک بمشکل پندرہ منٹ کا وقت ہوا ہو گا میں جیسے ہی دروازہ کھول کر اندر گئی دو پہلوان ٹائپ آدمی میرے دونوں جانب آ کر کھڑے ہو گئے ایک کے ہاتھ میں پستول تھا دوسرے کے پاس چمکتا ہوا تیز دھاری دار چاقو تھا انہوں نے کہا چلّانے کی کوشش کی تو جان سے ہاتھ دھو نا پڑے گا اور کہا کہ بچوں کو لے کر ان کے ساتھ چلنا ہو گا مجھے اپنا خون رگوں میں منجمد ہوتا محسوس ہوا میں نے کمرے میں اِدھر اُدھر نظر گھمائی تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ شاہانہ رخسانہ اور  دونوں بچے غائب تھے سانپ کی پھنکار میں ایک نے کہا ’’کہاں ہیں بچے ؟ہم سے چالاکی کرتی ہے ؟بتا بچوں کو کہاں چھپا کر آئی ہے ؟‘‘

میں پاگلوں کی طرح انہیں گھر کے کونے کونے میں ڈھونڈنے لگی میری چیخیں نکل رہی تھیں میں نے روتے ہوئے کہا کہ انہیں گھر میں بند کر کے بینک سے پیسے لانے گئی تھی انہوں نے میری بات کا یقین نہیں کیا میرے منہ میں کپڑا ٹھونس کر ہاتھ پیر باندھ دئیے کہا کہ جب تک بچے نہیں مل جاتے تب تک وہ مجھے اپنی قید میں رکھیں گے خوف اور  صدمے کے مارے میں بے ہوش ہو گئی نہیں معلوم کب تک بے ہوش رہی جب ہوش آیا تو دیکھا میں کسی کے بیڈ پر تھی میرے قریب کرسی پر ایک بوڑھی عورت بھونڈے میک اپ اور  زرق برق کپڑوں میں بیٹھی ہوئی تھی میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ میں بمبئی میں ہوں اور  اس نے مجھے پچاس ہزار میں خرید ا ہے میں نے روتے ہوئے اپنے بچوں کے بارے میں پوچھا تو اس نے لاعلمی کا اظہار کیا اور  یہ سن کر حیران ہوئی کہ میں دو بچوں کی ماں ہوں باجی ان دنوں مجھے معلوم ہوا کہ جیتے جی موت کا سامنا کیسے کیا جاتا ہے ؟ میں تصویر حیرت بنی رُباب کی باتیں سنتی رہی وہ ذرا خاموش ہوئی تو میں نے اٹھ کر رُباب کو پانی دیا اور  چائے بنا لائی ہم دونوں خاموشی کے ساتھ چائے پیتی رہیں پھر وہ کہنے لگی مجھے جلد ہی اس گندی دنیاسے باہر نکلنے کا موقع مل گیا تین سال سے اپنے بچوں اور  کمال کی تلاش میں گلی گلی کوچہ کوچہ بھٹک رہی ہوں سڑکوں کی دھول پھانک رہی ہوں مجھے شاہانہ رخسانہ بھی نہیں ملیں اپنے گھر کو دور سے دیکھتی ہوں جہاں کچھ اجنبی لوگ نظر آتے وہاں جا کر کچھ بھی پوچھتے ہوئے خوف آتا ہے کہیں وہ سب۔۔۔۔۔

’’کیا تم اپنی والدہ اور  بہن بھائی سے نہیں ملیں ؟‘‘

’’پہلے اسی گھر پر گئی تھی وہ لوگ گھر خالی کر کے کہاں چلے گئے کسی کو نہیں معلوم!آج میں بالکل اکیلی ہو گئی ہوں باجی بالکل اکیلی میرا سب کچھ لٹ گیا ہے ‘‘وہ پھو ٹ پھوٹ کر رو رہی تھی میں نے اسے سینے سے لگا لیا اور  پوچھا

’’رُباب!اگر تمہارے بچے مل جائیں تو کیا کرو گی ؟‘‘

’’میں پھر سے جی اٹھوں گی باجی مجھے نئی زندگی مل جائے گی کیا تم جانتی ہو وہ کہاں ہیں کیسے ہیں مجھے جلد بتائیے نا وہ کہاں ہیں ؟‘‘

’’رُباب!واقعی یہ دنیا ایک اسٹیج ہے یہاں ہر روز نئے ڈرامے دیکھنے کو ملتے ہیں ہم سب بھی کسی نہ کسی ڈرامہ کے کردار ہیں اوپر والا بڑے عجیب کھیل کھلاتا ہے ‘‘میں سوچ رہی تھی کہ بات کہاں سے شروع کروں۔

’’بچوں کے بارے میں آپ کیا جانتی ہیں بتائیں نا!انہیں پانے کے لئے میں اپنی جان پر کھیل جاؤں گی‘‘

’’یہ بتاؤ اگر کسی عورت نے ان بچوں کو اپنی اولاد کی طرح پالا ہے اور  وہ تمہیں نہ دینا چاہے تو تم۔۔۔۔ ‘‘

’’باجی!میں اس عورت کی زندگی بھر غلامی کروں گی اس کے قدموں میں گر کر ان کی بھیک مانگوں گی وہ جو کہے گی کروں گی!معلوم ہوتا ہے کہ آپ ان کے بارے میں اچھی طرح جانتی ہیں کیسے باجی ؟ کیا جانتی ہیں کچھ تو بتائیں ‘‘

’’رُباب سنو! اس دن شاہانہ اور  رخسانہ دونوں بچوں کو لے کر بھاگی جا رہی تھیں میں اپنی کار سے اتر کر گیٹ کی طرف بڑھ رہی تھی کہ ان پر نظر پڑی وہ بری طرح ہانپ رہی تھیں اور  بچے بے تحاشہ رو رہے تھے میں نے ڈرائیور کی مدد سے انہیں روک لیا اور  اندر لے آئی میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ وہ بچے ان کے بھائی ہیں ان کے ماموں اپنے دوست کے ساتھ انہیں مارنے کے لئے آئے تھے ان کے بار بار بیل بجانے پر شاہانہ نے کی ہولKey Hole سے دیکھا اور  دونوں بہنیں دونوں بچوں کو لے کر کھڑ کی کے راستے بھاگ نکلی ہیں دونوں نے اپنے یہی نام بتائے تھے وہ روتے ہوئے التجا کر رہی تھیں کہ میں ان بچوں کو چھپا لوں ان کی باتیں میری سمجھ سے باہر تھیں اور  وہ سمجھانے سے قاصر تھیں اس وقت میرے ذہن میں صرف ایک بات آئی کہ بچے خطرے میں ہیں اور  انہیں بچانا میرا فرض ہے میں انہیں لے کر تیزی کے ساتھ اپنے بیڈ روم میں لے گئی انہیں لٹا کر باہر آئی تو دونوں لڑکیاں غائب تھیں شام کو میرے شوہر علیم آئے تو میں نے ساری رو داد سنائی وہ مجھ پر بہت بگڑے کہ میں نے انہیں گھر میں رکھ کر مجرمانہ حرکت کی ہے۔

ہم بچوں کے ساتھ سیدھے پولیس اسٹیشن گئے واقعہ صاف صاف بیان کر دیا اور  خواہش ظاہر کی کہ جب تک ان کا کوئی رشتہ دار نہیں آتا تب تک ہم انہیں اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں گھنٹوں کی بھاگ دوڑ کے بعد کاغذی کاروائی کے بعد ہم انہیں اپنے گھر لے آئے اب وہ اسکول بھی جانے لگے ہیں۔

میری بات ختم ہونے سے پہلے رُباب نے میرے پیروں پر اپنا سر رکھ دیا۔

 

*****