کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

آگ

ایم مبین


وہ ابھی ابھی اس آگ میں  جھلسنے  سے  بچا تھا جو لوگوں  کے  کہنے  کے  مطابق اس نے  لگائی تھی۔

سڑک سے  گزرتے  ہوئے  اچانک کسی نے  اسے  پہچان لی تھا۔

’’ارے  یہ تو وہی انسپکٹر باوسکر ہے  ‘‘

’کون انسپکٹر باوسکر ؟ وہی ناجس نے  پانچ دلت نوجوانوں  کا خون کیا ہے

’ہاں  ہاں  وہی باوسکر‘‘

’مارو سالے  کو !بچ کر نہ جانے  پائے۔ آج موقع ہاتھ آیا ہے  اسے  چھوڑ نا نہیں  چاہئے۔ ‘‘

’’ارے  لوگو! ہمارا دشمن ‘ہماری ذات کا دشمن ہمارے  معصوم نوجوانوں  کے  خون سے  اپنی پیاس بجھانے  والا وہ خونی درندہ انسپکٹر باوسکر یہ رہا۔ یہ بچ کر نہ جانے  پائے۔ مارو اسے  مارو اسے۔۔۔

کوئی گلا پھاڑ پھاڑ کر چیخ رہا تھا۔

اور اس کی آواز سن کر بھیڑ جمع ہو رہی تھی۔

دھیرے  دھیرے  وہ بھیڑ کے  نرغے  میں  گھرتا جا رہا تھا۔

اس نے  عافیت اسی سمجھی تھی کہ وہ وہاں  سے  بھاگ نکلے۔ لیکن بھاگنے  کے  سارے  راستے  بند ہو چکے  تھے۔ ہر راستے  پر آٹھ دس آدمی راستہ روکے  مٹھیاں  بھینچے  کھڑے  تھے۔

’’مارو سالے  کو۔۔۔۔ مارو۔۔۔۔۔ ‘‘

کوئی چیخا اور اس پر پتھروں  کی بارش ہونے  لگی۔

ایک پتھر آ کر اس کے  سر سے  ٹکرایا اور اسے  ساری دنیا گھومتی دکھائی دی۔ اس نے  اپنا سر پکڑ لیا۔ وہ اپنا توازن برقرار نہیں  رکھ سکا اور موٹر سا یکل سے  گر گیا۔

اس کا پیر موٹر سائیکل کے  نیچے  دب گیا تھا۔ بڑی مشکل سے  اس نے  اپنا پیر موٹر سائیکل کے  نیچے  سے  نکالا اور کسی طرح اٹھ کھڑا ہوا۔

اس کے  اٹھ کھڑے  ہونے  کی کی دیر تھی کہ اچانک مجمع اس پر ٹوٹ پڑا اور جس طرح دل میں  آتا اس طرح سے  اس کی پٹائی کرنے  لگا۔ لاتیں،گھونسے  نہ صرف اس کے  جسم پر بلکہ چہرے  پر بھی برس رہے  تھے   آج تک اس نے  سینکڑوں  مجرموں  کے  جسم پر لاتیں  گھونسے  برسائے  تھے  لیکن انھیں  کھانے  کا یہ اس کا پہلا موقع تھا۔ جسم کے  جس حصے  پر لات یا گھونسہ پڑتا وہاں  سے  درد کی ایک لہر اٹھتی اور سارے  جسم کو جھنجھوڑ دیتی اس کے  منہ سے  درد میں  ڈوبی ایک کراہ نکلتی اس کی کراہ کو سن کر مجمع اور زیادہ جو ش اور غصے  میں  آ جاتا۔

’’مارو !زندہ نہ بچنے  پائے۔ اسی بے  دردی سے  اس نے  ہمارے  جوانوں  کی جان لی ہے۔ ‘‘

اس کے  پاس اس کی سروس پستول بھی نہیں  تھی اس معاملے  کے  بعد سب سے  پہلے  محکمہ جاتی کاروائی کے  تحت اس سے  اسکی پستول واپس لے  لی گئی تھی۔ اگر اس کے  پاس پستول ہوتی تو اس کے  سہارے  وہ اپنی جان بچا سکتا تھا۔ اگر وہ پستول نکال کر ایک فائر بھی ہوا میں  کر دیتا تو اتنا بڑا مجمع سر پر پیر رکھ کر بھاگ کھڑا ہوتا۔

لیکن اس کی جان کے  لالے  پڑے  ہوئے  تھے۔ اور اس نے  وہاں  سے  بھاگنے  میں  ہی اپنی عافیت سمجھی۔

بڑی مشکل سے  پوری طاقت لگا کر وہ مجمع کو چیر کر مجمع سے  باہر نکلا اور اپنے  جسم کی ساری طاقت جمع کر کے  بھاگ کھڑا ہوا۔

پورا مجمع اس کے  پیچھے  تھا اور وہ جان بچانے  کیلئے  بے  تحاشہ بھاگ رہا تھا۔

پتہ نہیں  کس طرح گشت کرتی ایک پولس جیپ وہاں  آ گئی۔ اور پولس والے  مجمع کے  سامنے  دیوار بن کر کھڑے  ہو گئے  اور انھوں  نے  مجمع کی طرف بندوقیں  تان دیں۔

مجمع پولس والوں  کی ذہنیت اچھی طرح سمجھتا تھا۔ اب اگر مجمع میں  سے  کسی نے  بھی کوئی حرکت کی تو کئی لاشیں  گر جائیں  گی۔ یہ سوچ کر مجمع پیچھے  ہٹا۔

اسے  جیپ میں  ڈال کر اسپتال لے  جایا گیا۔ اور اس کا علاج کیا جانے  لگا اس کے  جسم پر یوں  تو معمولی زخم دکھائی دے  رہے  تھے  لیکن اس کا سارا جسم درد سے  دہکتا ہوا انگارا بنا ہوا تھا۔

مجمع نے  اسے  بالکل اسی انداز میں  مارا تھا جس انداز میں  مجرموں  کو مارتا تھا۔

مار تو کاری لگے  اور زخم کہیں  بھی نہ آئے۔

اس کے  جسم پر صرف سر پر پتھر لگنے  سے  چوٹ آئی تھی۔ وہی نشان صاف دکھائی دے  رہا تھا۔ باقی پورے  جسم پر ہلکی ہلکی خراشیں  تھیں۔ مجمع نے  اس کے  جسم کی ہڈیوں  کو نشانہ بنایا تھا جس کے  زخم دکھائی نہیں  دے  رہے  تھے  جبکہ پور اجسم درد سے  دہکتا ہوا انگارہ بنا ہوا تھا۔ ہنگامہ صرف اسے  مارنے  پر ختم نہیں  ہو ا تھا۔

اس کے  بچ کر جانے  کے  بعد مجمع نے  آس پاس کی دکانوں  پر پتھراؤ کیا تھا۔ انہیں  لوٹا تھا اور آگ لگائی تھی۔ اس کی موٹر سائیکل کو بھی آگ لگا کر پھونک دیا گیا تھا۔

دوسری خبروں  کی طرح یہ خبر بھی میڈیا کے  لیے  بہت بڑی خبر تھی۔ کچھ دیر کے  بعد میڈیا کے  لوگوں  نے  اس اسپتال پر دھاوا بول دیا جس اسپتال میں  وہ زیر علاج تھا۔

’انسپکٹر باوسکر ! لوگوں  نے  آپ پر حملہ کیوں  کیا؟

’’کیا یہ ا س واقعہ کا رد عمل تو نہیں  جس واقعہ میں  آپ نے  پانچ دلت نوجوانوں  کو موت کے  گھاٹ اتار دیا تھا  ؟‘‘

’’اس واقعہ کو لیکر نہ صرف پوری ریاست بلکہ سارے  ملک میں  ہنگامہ اور تشدد پھوٹ پڑا ہے  کیا آپ مانتے  ہیں  یہ سب آپ کی وجہ سے  ہو رہا ہے   ؟‘‘

’’کہیں  ایسا تو نہیں  آپ نے  اپنے  کو بے  قصور اور معصوم ظاہر کرنے  کی لئے  آپ نے  خود اپنے  اوپر یہ حملہ کروایا ہو؟‘‘

’کیا جن لوگوں  نے  آپ پر حملہ کیا وہ دلت کمیونسٹی سے  تعلق رکھتے  تھے ؟

چار پانچ دنوں  سے  وہ میڈیا کا سامنا کر کے  اسی طرح کے  ان کے  اوٹ پٹانگ سوالوں  کا سامنا کر کے  ان کے  جوابات دینے،اپنی صاف کر نے  کی کوشش کر رہا تھا۔

آ ج جبکہ اس پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا،اس کی جان لینے  کی کوشش کی گئی تھی تب بھی میڈیا کو اس سے  کوئی ہمدردی نہ تھی وہ اسے  عوام کے  سامنے  پانچ دلت نوجوانوں  کے  قاتل کے  طور پر پیش کر نا چاہتے  تھے 

اس خبر کے  ظاہر ہوتے  ہی سچ مچ پورے  علاقے  کیا پوری ریاست میں  تشدد پھو ٹ پڑا تھا۔

پوری ریاست میں  اس واقعہ کی مذمت میں  مورچے  نکالے  گئے  تھے  پر تشدد مظاہرے  کئے  گئے  تھے  سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ بسوں  کو آگ لگائی گئی تھی۔ پولس اسٹیشنوں  پر حملے  کر کے  انھیں  پھونکا گیا تھا اور پولس والوں  کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس واقعہ کی وجہ سے  سر کار اور پوری سرکاری مشنری ہل گئی تھی۔

اپوزیشن کیا حکمراں  پارٹی کو بھی خود اس واقعہ کی مذمت کرتے  ہوئے  خاطیوں  کے  خلاف کاروائی کرنے  کا مطالبہ کرنا پڑا تھا۔

لیکن معاملہ صرف یہاں  تک ہی محدود نہیں  تھا۔ اور ریاست کے  کسی نہ کسی شہر میں  کسی نہ کسی دلت تنظیم کی جانب سے  بند کا اعلان کیا جاتا اور  جو تشدد کا رخ اختیار کر لیتا اس شہر میں  لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال بگڑ جاتی۔

ہنگاموں  میں  اور چار پانچ لوگوں  کی موتیں  ہو گئی تھیں۔

ہنگاموں  کے  دوران کئی ٹرینوں  اور لوکل ٹرینوں  کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

مرکزی وزراء سے  لیکر بڑی بڑی سیاسی پارٹیوں  کے  بڑے  بڑے  وزراء تک اس مقام کا دور ہ کر چکے  تھے  جہاں  وہ واقعہ پیش آیا تھا۔

ہر کسی کا دورے  کے  بعد ایک ہی بیان تھا۔

’’یہ پولس کی بربریت کی انتہا ہے  معصوموں  کا خون بہانا پولس کے  چہرے  پر ایک بد نما دا غ ہے۔ تمام خاطیوں  کے  خلاف فوراً کاروائی کر کے  انھیں  سخت سے  سخت سزا دینا ہی انصاف کا تقاضہ ہے۔ لیکن بڑے  شرم کی بات ہے  ریاستی حکومت نے  خاطیوں  کے  خلاف ابھی تک کوئی قدم نہیں  اٹھایا ہے۔ ‘‘

اس کے  اور اس کے  ساتھیوں  کے  خلاف کیا کاروائی کرے  پولس محکمہ کی بھی سمجھ میں  نہیں  آ رہا تھا۔

وہ اوپر سے  آئے  ہوئے  احکامات کی تعمیل کرتے  ہوئے  احکامات کے  مطابق کار وائی کر رہے  تھے۔

سب سے  پہلے  ان لوگوں سے  ان کے  سرکاری ہتھیار چھین لئے  گئے۔

پھر ان کو سختی سے  رخصت پر روانہ کر دیا گیا۔

اس معاملے  کی چھان بین کرنے  کیلئے  ان کے  خلاف محکمہ جاتی انکوائری کی کاروائی شروع کی گئی۔

لوگوں  اور لیڈروں  کے  دباؤ میں  آ کر حکومت نے  ایک کمیشن کے  ذریعے  سارے  معاملے  کی انکوائری کا حکم دے  دیا۔

لیکن ساری باتیں  اپنی جگہ تھیں۔

پوری ریاست میں  جو آگ لگی تھی وہ بجھنے  کا نام ہی نہیں  لیتی تھی۔ کبھی کسی شہر میں  آگ کی لپٹیں  اٹھتیں  تو کبھی کوئی قصبہ اس کی لپٹ میں  آتا۔

لمبی رخصت پر روانہ کیے  جانے  کے  بعد اس نے  اپنے  آپ کو اپنے  گھر تک محدود کر دیا تھا۔

گھر پر ملنے  والوں  کا تانتا بندھا رہتا تھا۔

جو بھی آتا اس سے  ایک ہی بات کہتا تھا۔

’’تم نے  ایسا کیوں  کیا ؟تم اپنی حدوں  کو تجاوز کر گئے۔ معصوم لوگوں  کا خون بہانے  کی کیا ضرورت تھی۔ معصوموں  کا خون تو رنگ لائے  گا ہی۔ آج تمہاری وجہ سے  پور ی ریاست میں  آگ لگی ہوئی ہے۔ ‘‘

وہ کس طرح اپنی صفا ئی پیش کر ے  اس کی سمجھ میں  نہیں  آتا تھا۔

اسے  صفائی پیش کرنے  کی کوئی ضرورت بھی نہیں  تھی۔

سارے  معاملے  ثبوت اور شواہد اس کے  خلاف تھے۔

 اس کی گولیوں  سے   ۵  نوجوانوں  کی موت ہوئی تھی اور کئی زخمی ہوئے  تھے۔ لوگ اس واقعے  کا تعلق جلیان والا باغ سے  جوڑ رہے  تھے  جہاں  جنرل ڈائر نے  معصوم آزادی کے  متوالوں  پر گولیاں  چلائی تھیں۔

اور وہاں  پر پولس نے  ایک سیاسی پارٹی کی میٹنگ میں  حصہ لے  رہے  معصوم لوگوں  پر گولیاں  چلائی تھی۔ ‘‘

اب وہ لاکھ گلے  پھاڑ پھا ڑ کر کہتا۔

’’وہاں  کسی سیاسی پارٹی کے  ورکروں کی میٹنگ نہیں  ہو رہی تھی‘‘

’’وہ شراب کشید کرنے  کا ایک نا جائز اڈا تھا۔ اس شراب کشید کرنے  کے  اس اڈے  پر چھاپا مارا تھا وہاں  پر اس پر اور اس کے  ساتھیوں  پر حملہ کیا گیا تھا اس لیے  انھوں  نے  اپنی حفاظت کے  لئے  شراب کشید کر نے  کا نا جائز کا م کر نے  والے  ان لوگوں  پر گولیاں  چلائی تھیں  جنہوں  نے  ان پر قاتلانہ حملہ کر کے  ان جان لینے  کی کوشش کی تھی۔ ‘‘

لیکن کوئی بھی اس کی بات پر یقین کر نے  کیلئے  تیار نہیں  تھا۔ اور تیار ہوتا بھی کیسے۔ ؟

پولس یا تحقیقاتی ٹیم کو اس مقام سے  شراب کشید کرنے  کے  لیے  استعمال ہونے  والا کوئی پھوٹا برتن بھی نہیں  ملا تھا اور نہ ہی شراب کشید کرنے  یا تیا ر کرنے  کے  لئے  کام آنے  والی کئی چیزوں  کا کوئی حصہ۔

وہ صاحب راؤ کے  کھیت کا ایک حصہ تھا۔

اور صاحب راؤ ایک سیاسی جماعت کا سر گرم رکن تھا۔ بھلا اس کے  کھیت میں  کس طرح شراب کشید کرنے  کا اڈا چل سکتا ہے۔ ؟ہو سکتا ہے  !

راؤ صاحب نے  اپنے  بیان میں  کہا تھا۔ ’پولس اپنے  گھناؤنے  جرم پر پردہ ڈالنے  کے  لئے  یہ کہانی گڑھ رہی ہے  کہ اس جگہ نا جائز شراب کشید کی جاتی تھی۔ اور جن کو انھوں  نے  موت کے  گھاٹ اتا را ہے  وہ نا جائز شراب کشید کر نے  کا کام کرتے  تھے۔ اور کیونکہ یہ کام میرے  کھیت میں  ہوتا تھا اس لئے  میر ا تعلق اس نا جائز شراب کشید کرنے  کے  اڈے  سے  ہے۔ یہ مجھے  بد نا م کرنے  کی سازش ہے۔ میرے  سیاسی رسوخ کو زک پہونچانے  کے  لئے  تیا ر کیا گیا گھناؤنا منصوبہ !اصلیت تو یہ ہے  گاؤں  کے  ایک دلت پارٹی سے  تعلق رکھنے  والے  کچھ نوجوان اپنی پارٹی کی میٹنگ لینا چاہتے  تھے  اس کے  لئے  میں  نے  وہ جگہ ان کو دی تھی ان کی میٹنگ وہاں  جاری تھی کہ پولس آئی اور وہ ان پر جانوروں کی طرح ٹوٹ پڑی اور ان پر گولیوں  کی بوچھار کر کے  معصوموں  کے  خون سے  ہولی کھیلنے  لگی۔ آخر خاک اور خون کے  ا س کھیل میں  پانچ معصوم نوجوان مارے  گئے  اور پولس کی گولیوں  کا شکار کئی نوجوان آج بھی اسپتال میں  زیر علاج ہیں۔

لیکن معاملہ بالکل اس کے  برعکس تھا یہ صرف وہ جانتا تھا اور پولس کے  چند اعلیٰ عہد داران۔

صاحب راؤ بھلے  ہی سفید پوش بن کر پھرتا ہو اس کا ایک سیاسی پارٹی سے  تعلق ہو۔ اس سیاسی پارٹی میں  اس کا بہت اثر و رسوخ ہو۔

اصل میں  وہ نا جائز شراب کشید کر نے  کا غیر قانونی نا جائز دھندہ کر تا تھا۔

صاحب راؤ کا نا جائز شراب کا کاروبار اتنا بڑھ گیا تھا کہ وہ اپنی غیر قانونی شراب پورے  ضلع میں  سپلائی کرنے  لگا تھا۔

پولس نے  جہاں  جہاں  بھی نا جائز شراب فروخت کرنے  والوں  پر چھاپہ مار کر شراب ضبط کی اور شراب فروخت کرنے  والوں کو گرفتار کیا تھا۔

ان سے  پوچھ تاچھ پر انھوں  نے  یہی جواب دیا تھا کہ یہ شراب انھیں  صاحب راؤ کے  آدمی سپلائی کرتے  ہیں۔

لیکن ان کے  پاس نہ تو صاحب راؤ کے  خلاف کوئی ثبوت تھے  اور نہ ہی وہ صاحب راؤ جیسے  رسوخ والے  آدمی پر اس معاملے  میں  ملوث ہونے  کے  جرم میں  ہاتھ ڈالنے  کی ہمت کر سکتے  تھے۔

آخر کیا کیا جائے ؟اس معاملے  میں  کئی میٹنگیں  ہوئیں۔

ایسے  وقت میں  وہ آگے  آیا اور اسنے  اپنی خدمات پیش کیں۔

مجھے  اجازت دی جائے  کہ میں  اپنے  ساتھیوں  کے  ساتھ      صاحب راؤ کے  شراب کشید کرنے  کے  اڈے  پر چھاپہ ماروں  اور اسے  تمام ثبوتوں کے  ساتھ رنگے  ہاتھوں  گرفتار کروں۔

اسے  اس کاروائی کی اجازت دے  دی گئی۔

اس نے  اپنے  مخبروں کے  ذریعے  سب پتا لگایا تھا کہ صاحب راؤ کی شراب کشید کرنے  کی نا جائز بھٹی کہاں  پر ہے۔ وہاں  کتنے  لوگ کام کرتے  ہیں  ؟انکے  نام کیا کیا ہیں  ؟وہ کہاں  کے  رہنے  والے  ہیں ؟وہاں  کیا کیا سامان ہے ؟چھاپے  میں  انہیں  کیا کیا ثبوت اور سامان مل سکتے  ہیں۔

صاحب راؤ کے  نا جائز شراب کشید کرنے  کے  اڈے  پر انہیں  اسی صورت حال کا سامنا کرنا جس صورت حال کا سامنا انھیں  اس طرح کے  چھاپوں  کے  دوران کرنا پڑتا۔

چھاپہ مارنے  پر شراب کشید کرنے  کا کام کرنے  والے  یا تو بھاگ کھڑے  ہو تے  یا پھر پولس پر حملہ کر دیتے  تھے۔

صاحب راؤ کے  آدمیوں  نے  بھی چھاپہ مارنے  والی پولس کی پارٹی پر حملہ کر دیا۔

ایک آدمی نے  پولس والوں  کو اس بری طرح دبوچ لیا تھا کہ اگر فوراً کوئی کاروائی نہ کی گئی تو پولس والوں  کی جانیں  جا سکتی تھیں

کاروائی کو مؤثر بنانے  کے  لئے  اور اپنے  ساتھیوں  کی جان بچانے  کے  لئے  اس نے  گولی چلانے  کا حکم دے  دیا۔

اس کی پستول بھی گولیاں  اگلنے  لگیں۔

ا س کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو خطرہ پولس پارٹی کے  سروں پر چھا گیا تھا وہ ٹل گیا۔ حملہ کرنے  والے  یا تو بری طرح زخمی ہوئے  یا پھر بھاگ کھڑے  ہوئے۔

گولیوں  اور چیخوں کی آواز گاؤں  اور صاحب راؤ تک پہونچی۔ تھوڑی ہی دیر میں  پورا گاؤں  صاحب راؤ کے  کھیت پر جمع ہو گیا۔ ’انسپکٹر صاحب !یہ کیا ہو رہا ہے ؟

’تم یہاں  پر نا جائز شراب کشید کرتے  ہو۔ میں  تمہیں  تمھارے  ساتھیوں  کے  ساتھ گرفتار کر تا ہوں۔ ‘‘

وہ غرا کر بولا۔

’’کہاں  ہے  شراب کی بھٹی ؟شراب کشید کر نے  کا سامان؟انسپکٹر تم پاگل تو نہیں  ہو گئے ؟مجھ پر الزام لگا رہے  ہو۔۔ ان معصوم لوگوں  پر الزام لگا رہے  ہو کہ یہ یہاں  نا جائز شراب کشید کرنے  کا کام کرتے  ہیں۔ ارے  یہ معصوم تو یہاں  اپنی پارٹی کی میٹنگ لے  رہے  تھے  جن کو تم نے  اپنی گولیوں  کا نشانہ بنایا ہے۔ صاحب راؤ چلا کر بولا۔

صاحب راؤ کی بات سن کر وہ سناٹے  میں  آ گیا۔

اس نے  چاروں  طرف نظریں  دوڑائیں  تو اس کے  پیروں  تلے  زمین کھسک گئی۔

سچ مچ وہاں  ایسا کچھ بھی نہیں  تھا جس کی بنیاد پروہ ثابت کرتا کہ یہاں  شراب کشید کرنے  کا نا جا ئز کاروبار ہوتا ہے۔

اور آگ بھڑک اٹھی۔

میڈیا والوں  نے  گاؤں  پر حملہ بول دیا۔ ہر گاؤں  والے  اور صاحب راؤ نے  میڈیا والوں  کو پولس کے  ظلم کی کہانی سنائی۔

اور اس واقعہ کی مذمت میں  ساری ریاست سلگ اٹھی۔

اب پولس کس طرح لوگوں  کو یقین دلائے  کہ کیا معاملہ تھا۔ صاحب راؤ چال چل گیا تھا۔

اس کے  کسی مخبر نے  اسے  خبر دے  دی تھی کہ اس جگہ اسے  ثبوتوں  کے  ساتھ گرفتار کرنے  کے  لئے  پولس چھاپہ مارنے  والی ہے۔

اس نے  اس جگہ سے  اسکے  خلاف استعمال ہونے  والا آخری ثبوت بھی ہٹا دیا تھا۔

اور اپنے  آدمیوں  سے  کہہ دیا تھا کہ جیسے  ہی پولس آئے  ا ن پر حملہ کر دے۔

پولس کی گولیوں  سے  مرنے  والے  زیادہ تر دلت تھے۔ اور زخمی ہونے  والے  بھی دلت ہی تھے  جو صاحب راؤ کی شراب کی بھٹی میں  کام کرتے  تھے۔

صاحب راؤ نے  بڑی آسانی سے  اسے  دلتوں پر مظالم کا رخ دیکر آگ بھڑکا دی تھی۔ اور الزام اس  پر آیا تھا۔ اس نے  یہ آگ لگائی ہے۔                       

***