کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بیٹا ایک کہانی سنو

ایم مبین


بہت پرانی کتاب تھی۔

بچوں  کی کہانیوں  کی کتاب !کتاب میں  شامل کہانیاں  اتنی دلچسپ تھیں  کہ وہ ایک دو تین کہانیاں  پڑھتا گیا۔

ہر کہانی کو پڑھنے  کے  بعد اس پر غور کرتا۔ اس کہانی میں  کردار سازی کے  پہلو تلاش کرتا۔ اس میں  نصیحت کا عنصر تلاش کرتا۔ دونوں  چیزیں  تلاش کرنے  کی کوئی ضرورت نہیں  تھی۔ دونوں  ان میں  موجود تھے۔ اور دلچسپی تو جیسے  کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ قارئین اگر پہلی سطر پڑھتے  تو پوری کہانی پڑھے  بنا چین نہیں  پائے۔

تین کہانیاں  پڑھ لینے  کو بعد اسے  اپنی بیوقوفی پر ہنسی آئی۔

’’وہ بے  وقوف بچوں  کی کہانیاں  پڑھ رہا ہے ؟ کیا اس کی عمر بچوں  کی کہانیاں  پڑھنے  کی ہے ؟اب وہ بچوں  کی کہانیاں  پڑھنے  کی عمر میں  نہیں  بچوں  کو کہانیاں  سنانے  کی عمر میں  قدم رکھ چکا ہے۔ ‘‘

’’بچوں  کو کہانیاں  سنانے  کی عمر؟ ‘‘اپنی ہی سوچی بات پر وہ پھر کسی گہری سوچ میں  ڈوب گیا۔

’سچ مچ یہ میری بچوں  کو کہانیاں  سنانے  کی عمر ہے۔ اس عمر میں  میرے  والد، دادا، چاچا، نانا، نانی،دادی، چاچی اماں  وغیرہ مجھے  کہانیاں  سنا تے  تھے۔ جب میں  بچہ تھا۔ میرے  پاس کہانیوں  کا خزانہ ہے  یہ کہانیاں  میں  نے  بچپن میں  اپنے  والد، دادا، دادی، نانی س چاچا وغیرہ سے  سنی تھیں۔ اس عمر تک ہزاروں  کتابیں  پڑھیں۔ ان کتابوں  میں  ایسی کئی کہانیاں  تھیں  جو میرے  ذہن پر نقش ہو کر وہ گئی۔ جو مجھے  یاد ہے۔ میں  وہ کہانیاں  بچوں  کو سنانا چاہتا ہوں۔ چاہتا ہوں  کہ بچے  میرے  پاس آئے  اور مجھ سے  کہانی سنانے  کی فرمائش کرے۔ جس طرح بچپن میں  وہ اپنے  بز رگوں  سے  کہانیاں  سنانے  کی فرمائش کر تھا ضد کرتا تھا۔ ‘‘

اور ان سے  ایک کے  بعد ایک کئی کہانیاں  سنتا جاتا تھا۔ یہاں  تک کہ ان کی کہانیوں  کا ذخیرہ ختم ہو جا تا تھا۔ لیکن میری کہانیاں  سننے  کی پیاس نہیں  بجھتی تھی۔۔

 لیکن زمانہ بدل گیا ہے۔

جب وہ اپنے  بزرگوں  سے  کہانی نہ سن پاتا تھا تو وہ انسے  ناراض ہو جتا تھا۔ روٹھ جاتا تھا۔ اور غصے  میں  اپنی ناراضگی ا ظہار کر نے  کے  لئے  رونے  لگتا تھا۔

اسے  روتا دیکھ کر ہرکسی کا دل پسیج جاتا تھا۔ اور وہ اسے  پیار سے  اپنے  قریب کر تے  ہوئے  کہتے  تھے۔

’نہیں  میرے  بچے  ناراض کیوں  ہوتے  ہو! تم کہانی سننا چاہتے  ہونا۔ تو لو ! میں  ابھی تمھیں  کہانی سناتا ہوں۔ ‘‘

’نہیں  سننی ہے  مجھے  کہانی۔ ‘‘غصے  سے  روتا وہ چیخ اٹھتا تھا۔

’’نہیں  بیٹے  اس طرح ضد نہیں  کرتے۔ ہاں  تو سنو کہانی۔۔ ‘‘

اور اس کے  بزرگ کہانی شروع کر دیتے  تھے۔ اور کہانی کی پہلی سطر کے  ساتھ ہی اس کا غصہ غائب ہو جا تھا اور وہ ہمہ تب گوش ہو کر کہانی سننے  لگتا تھا۔

ان کہانیوں  میں  ایسا جادو تھا کہ ان کو بار بار سننے  کو دل چاہتا تھا۔

اس کے  بزرگ اسے  جو بھی کہانیاں  سناتے  تھے  وہ تمام کہانیاں اس نے  پہلے  سے  سن رکھی ہوتی تھی۔۔ اسے  یاد ہوتی تھی۔

لیکن پھر بھی اس کا دل ان کہانیوں  کو سننے  کو بار بار چاہتا تھا۔

اور وہ اپنے  بزرگوں  سے  فرمائش کر کے  کہانیاں  سنتا تھا۔

’لال پری اور لنگڑے  دیو کی کہانی سنائیے۔

’کسان کے  سات بیٹوں  کی کہانی سنائیے !

لالچی لکڑہارے  کی کہانی سنائیے !

          لیکن آج جب وہ کہانیاں  سنانے  کی عمر میں  داخل ہو چکا تھا تو کوئی بھی اس سے  کہانی سننے  کو تیار نہیں  تھا۔ نہ تو اس کا بیٹا اس سے  کہانی کی فرمائش کر تا تھا نہ اس کے  بھائی کے  بچے،نہ پڑوسیوں، محلے  کے  بچوں  نے  کبھی اس سے  کوئی کہانی سنانے  کی فرمائش کی تھی۔۔

ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے  اس زمانے  کے  بچوں  کو کہانیاں  سننے  میں  کوئی دلچسپی نہیں  ہے۔

رات میں  سو تے  وقت وہ اپنی ماؤں  سے  نہ تو کہانیاں  سنانے  کی فرمائش کرتے  ہیں  اور نہ ہی لوریاں  سنانے  کی۔ مائیں  جیسے  لوریاں  بھول گئی ہیں۔ اور یہ بھی بھول گئی ہے  بچپن میں  ان کی مائیں  انھیں  لوریاں  گا کر سلایا کرتی تھیں۔ اور وہ سب لوریاں  انھیں  یاد ہو گئے ی تھیں  اپنے  بچوں  کو سلانے  کے  لیے  کیونکہ یہ سرمایہ تو سینہ در سینہ منتقل ہو تا ہے۔۔

لیکن ان کو اپنے  بچوں  کو لوریاں  سنانے  کی نوبت ہی نہیں  آتی ہے۔

بچے  ٹی وی پر یا میوزک سسٹم پر پاپ راک کے  بے  ہنگم گانے  سنتے  انھیں  گنگناتے  خود ہی سو جاتے  ہیں۔

اس کے  اندر سینکڑوں  کہانیاں  ہیں  وہ کہانیاں  باہر آنے  کے  لئے  مچل رہی ہیں  اس کا ذہن ان کہانیوں  کو سنانے  کے  لیے  الفاظ کا انتخاب کر چکا ہے۔

اس کا گلا ان الفاظ کی ادائیگی کے  لئے  آواز اورسروں  کا انتخاب کر چکا ہے۔ اس کے  ہونٹ ان کہانیوں کے  الفاظ کو بیان کر نے  کے  لیے  کونسی شکلیں  ہونٹوں  کو دی جائیں  اس طے  کر چکے  ہیں۔

لیکن پھر بھی کوئی بھی کہانی اس کے  اندر سے  باہر نہیں  آتی ہے۔

ابھی کل کی بات ہے  اسنے  اپنے  ۸سالہ بیٹے  سے  کہا۔

’بیٹا آؤ تمھیں  ایک کہانی سناتا ہوں۔

’کہانی! یہ کیا ہوتی ہے  ڈیڈی۔

’تم کہانی نہیں  جانتے ؟

’’نہیں  ڈیڈی !‘‘

ارے  وہی جو تمھاری کتابوں  میں  ہوتی ہے۔ لالچی کتا، خرگوش اور شیر،بندر اور مگر مچھ۔۔۔ ‘‘

’لیکن ڈیڈی وہ کہانیاں  کہاں ہیں۔۔ وہ تو اسباق ہیں۔۔ ‘‘

 بیٹے  کی بات سن کر وہ پریشان ہو گیا۔ اب اسے  وہ کس طرح بتائے  کہ کہانی کیا ہوتی ہے۔

’’ٹھیک ہے  بیٹے  ! اگر وہ اسباق ہیں  تو ایک نیا سبق ہی سن لو۔۔ ‘‘

’نو ڈیڈی نہیں۔۔ بیٹا ہاتھ جوڑ کر بولا ’’مجھے  پہلے  ہی اسکول میں  اتنی کتابیں  اور اسباق پڑھنے  پڑھتے  ہیں  کہ مجھ میں  ایک اور سبق سننے  کی طاقت نہیں  ہے۔ ‘‘

اور وہ ایک لمحہ بھی اسکے  سامنے  نہیں  رکا بھاگ کھڑا ہوا۔

اس کے  اندر سے  جو کہانی باہر نکلنے  کے  لئے  بیتاب تھی اسے  اپنے  ہاتھوں  سے  اس کا گلا گھونٹنا پڑا۔

کئی بار وہ اپنے  بیٹے  کو کہانی سنانے  کی اس طرح کی کوشش کر چکا تھا۔

’ڈیڈی! آپ نے  ٹی وی پر دیکھا۔ سند باد کی کہانی دلچسپ موڑ پر پہونچ گئی ہے۔ ‘‘اس دن بیٹے  نے  اس سے  کہا تھا۔

’سند باد کی کہانی تو مجھ اچھی طرح یاد ہے۔ بچپن میں  میرے  دادا مجھے  یہ کہانی سنایا کرتے  تھے۔ پھر جب میں  اسکول جانے  لگا تو میں  نے  یہ پوری کہانی ’’الف لیلہ‘‘ میں  پڑھی تھی۔ الف لیلہ بڑی دلچسپ کتاب ہے۔ اس میں  ہزاروں  دلچسپ کہانیاں  شامل ہیں۔۔ ‘‘

’’تو ڈیڈی بتائیے  نا! کیا سند باد جادوگرنی کو ختم کر دے  گا؟ اس کے  بیٹے  نے  اس سے  پوچھا۔

’’سند باد کی کہانی میں  جادو گرنی۔۔۔ اسے  حیرت ہوئی لیکن مجھے  جو سند باد کی کہانی یاد ہے۔ میں  نے  جو سند باد کی کہانی پڑھی اس میں  تو کسی جادوگرنی کا ذکر نہیں  ہے ؟‘‘

’’لیکن ٹی وی پر تو جو سند باد کی کہانی بتائی جا رہی ہے  وہ ایک جادو گرنی کے  گرد گھومتی ہے۔ ‘‘

’’ٹی وی کی کہانی اور الف لیلہ کی کہانی ایک دوسرے  سے  جدا ہیں۔۔۔ ‘‘

’’مجھے  تو ٹی وی والا سند باد پسند ہے۔۔ ‘‘بیٹا بولا۔۔ ’’مجھے  کتاب میں  کہانی پڑھنے  یا کہانی سننے  میں  مزہ نہیں  آتا ہے۔ جو کچھ کہانی میں  بیان کیا جاتا ہے  اسے  سوچ کر تصور کی آنکھ سے  دیکھنا پڑتا ہے۔ لیکن ٹی وی تو ہر چیز اس طرح پیش کی جاتی ہے  جیسے  سارے  واقعات آنکھوں  کے  سامنے  ہو رہے  ہیں۔

بیٹے  کی بات سن کر وہ بے  بسی سے  اس کی طرف دیکھنے  لگا۔

وہ یہ طے  کر نہیں  پا رہا تھا کہ کتابوں  میں  شائع دلچسپ کہانیوں  پڑھ کر دل بہلانا مفید ہے  یا۔ ٹی وی کے  رنگین پر دے  پر خوبصورت مناظر، دلکش موسیقی اور دل کو لبھانے  والے  چہروں کی اداکاری کے  ذریعے  پیش کی جانے  والی کہانی دیکھنا۔

بیٹا اس کی ماں  پڑوس کی ایک دو عورتیں  دیر رات تک ٹی وی کے  سیریل دیکھتے  رہتے  ہیں۔ اور وہ بیزار سا اپنے  کمرے  میں  جلد سوجاتا ہے  یا کتابیں  اخبارات پڑھ کر اپنا وقت کاٹتا ہے۔

بیوی ٹی وی سیریل کی اداکاراؤں  کے  ملبوسات کو غور سے  دیکھ کر ان کے  ڈیزائن اپنی کاپی میں  نقل کرتی ہے  اور دوسرے  دن پڑوس کی عورتوں  سے  ان ملبوسات ان کی قیمت ان کے  میٹریل وغیرہ پر زور دار بحث کر تی ہے۔

اور لڑکا اکثر ایم ٹی وی یا چینل وی جیسے  میوزک چینل لگا کر ان کے  بے  ہنگم دھنوں  پر تھرکتا رہتا ہے۔

کبھی کار ٹون کے  چینل دیکھ کر کارٹون کے  کردار پوکے  مان وغیرہ سے  کھیلتا ہے  تو کبھی اس سے  کارٹون کے  کھلونے  بے  بیلٹ لانے  کے  لئے  ضد کرتا ہے۔ اور ان کھلونوں  کے  مل جانے  کے  بعد پڑوس کے  بچوں کے  ساتھ اسی انداز میں  وہ ان کھلونوں  کے  ساتھ کھیلتا ہے  جس انداز میں  کارٹون چینل کے  کارٹون سیریل میں  بتا یا گیا ہے۔

وہ چاہتا ہے  کہ اس کا بیٹا ڈسکوری چینل دیکھے۔ نیشنل جوگرافک چینل باقاعدگی سے  دیکھے  لیکن چینل سرچ کرتے  ہوئے  جب بھی ٹی وی کے  پردے  پر یہ چینل ابھر تے  ہیں  وہ تیزی سے  آگے  بڑھ جاتا ہے۔

ہاں  وہ ڈبلیو ڈبلیو ایف باقاعدگی سے  دیکھتا ہے۔

اکثر اس پروگرام کے  لئے  ماں  اور بیٹے  میں  جنگ ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ٹین اسپورٹس یا کسی اور چینل پر جب بھی یہ پروگرام آ رہا ہو تا ہے  اسی وقت دیگر چینلس پر خواتین کے  لیے  بھی دلچسپ پروگرام آ رہے  ہوتے  ہیں۔ اس کی بیوی اور گھر میں  جمع دوسری عورتیں  ان پروگرام کو دیکھنا چاہتی ہیں  لیکن بیٹا ڈبلیو ڈبلیو ایف دیکھنے  کے  لے  ضد کر تا ہے۔

اور اس بات پر ماں  بیٹے  میں  جنگ ہو جاتی ہے  اور ماں  بیٹے  کو دو تین تھپڑ جڑ دیتی ہے۔

آخر میں  دونوں  میں  سمجھوتہ اس بات پر ہوتا ہے  کہ بریک کے  دوران بیٹا ڈبلیو ڈبلیو ایف دیکھے  گا اور عورتیں  سیریل۔۔

اس نے  اپنے  بیٹے  کو اکثر اپنے  ساتھیوں  کے  ساتھ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے  پہلوانوں  کے  اسٹائل میں  لڑتے  دیکھا ہے۔

وہ کسی پر ہاتھ بھی ان پہلوانوں  کے  انداز میں  اٹھاتا تھا۔ یہاں  تک اس نے  اکثر دیکھا تھا اس کا بیٹا پلنگ کے  تکیے  کے  ساتھ ریسلنگ کر رہا ہے۔

وہ تکیوں  کو کسی مد مقابل پہلوان کی طرح پکڑ کر اس کے  ساتھ مد مقابل پہلوان کی طرح حرکتیں  کر تا۔ تکیے  کو بار بار زمین پر یا پلنگ پر پٹکتا ہے  او ڈبلیو ڈبلیو ایف کے  پہلوانوں  کی طرح منہ سے  آوازیں  نکالتا ہے  اور کبھی کبھی تو عجیب و غریب الفاظ اور آواز میں  ڈبلیو ڈبلیو ایف کے  کامینٹیٹروں  کی طرح کامینٹری کرنے  لگتا ہے  پھر بھلا اسے  کہانیوں  میں  کیا دلچسپی ہو سکتی ہے۔ ایک دو بار اس نے  بچے  میں  پڑھنے  کا شوق جگانے  کے  لیے  ٹی وی کے  کرداروں  پر مبنی کامکس لا کر دیں۔

کہ اس طرح اس میں  پڑھنے  کا شوق جاگے  گا۔ پارو پاس گرلز، اسپائڈرمیں  پوپائی وغیرہ کے  کرداروں  پر جو بھی کامکس کی کتاب ملی وہ لے  آیا اور لا کر اسنے  بیٹے  کو دیا۔

’’دیکھو بیٹا میں  نے  تمھارے  پسندیدہ کارٹون کے  کرداروں  پر مبنی کامکس لائی ہیں۔ انھیں  پڑھو تمھیں  بڑا مزہ آئے  گا۔۔‘‘

اسے  پورا یقین تھا جب اس کا بیٹا یہ کامکس پڑھے  گا تو اس میں  پڑھنے  کا شوق جاگے  گا اور اس کے  پاس جو ڈھیر ساری کتابیں  ہیں  ایک دن وہ ان کتابوں  کے  ڈھیر میں  اپنی پسند کی کتابیں  تلاش کرے گا اور انھیں  پڑھے  گا۔ اور اس کی ان کتابوں  فین بن جائے  گا۔۔

 

لیکن ایسا کچھ بھی نہیں  ہوا تھا۔

بیٹا مشکل سے  ایک آدھ کامکس کی کتاب پوری پڑھ پایا تھا۔

اس نے  جب بیٹے  سے  پوچھا تھا۔

’بیٹا!میری لائی ہوئی کامکس کی کتابیں  پڑھیں  ؟‘‘

نہیں  ڈیڈ!

’مگر کیوں۔۔ ؟

’بہت بور کام ہے۔ ان بور کتابوں  کو پڑھنا بہت بور کام ہے۔ اس سے  تو اچھا ہے  ٹی وی پر ان کرداروں  پر مبنی سیریل اور کارٹون فلمیں  دیکھی جائے۔۔۔

اسے  اس بات کا بہت دکھ ہوتا تھا کہ اس کے  بچے  کو پڑھنے  میں  دلچسپی نہیں  ہے۔

لیکن جب وہ اپنے  بیٹے  کے  روز کے  معمولات کو دیکھتا تو اسے  محسوس ہوتا بچے  پر پڑھائی اتنا بوجھ ہے  کہ وہ دوسری کتابیں  پڑھنے  کے  لیے  وقت ہی نہیں  نکال پاتا ہے۔

سویرے  اسکول جاتا ہے  دوپہر میں  دو جگہ ٹیوشن،کھیلنے  کے  لئے  اسے  مشکل سے  ایک گھنٹہ مل پاتا ہے۔ پھر ہوم ورک کرنے  میں  لگ جاتا ہے۔ اور باقی تھوڑا سا وقت مل گیا تو اس میں  ٹی وی نہیں  دیکھے  گا تو کیا کریگا۔ ؟

اس کے  پاس پڑھنے  کے  لئے  وقت کہاں  ہے۔

یہی کیا کم تھا کہ پڑوسی کمپیوٹر لے  آیا۔

اب اس کے  بیٹے  کا زیادہ تو وقت پڑوسی کے  کمپیوٹر پر گزرنے  لگا۔

وہ پڑوس کے  لڑکے  کے  ساتھ کمپیوٹر گیم کھیلنے  لگا۔

وہ کمپیوٹر پر گیم کھیلنے  میں  اتنا کھو جاتا تھا کہ اسے  کسی بھی بات کی سدھ نہیں  ہوتی تھی۔ نہ کھانے  کی نہ پینے  کی اور نہ کسے  اور بات کی۔

کمپیوٹر سے  اٹھانے  پر وہ اٹھانے  والے  کے  ساتھ جھگڑا کرنے  لگتا یا پھر آ کر اس سے  ضد کرنے  لگتا۔

’ڈیڈی مجھے  بھی کمپیوٹر لا کر دیجئے  نا۔۔۔ ‘‘

کمپیوٹر خریدنے  کے  وہ بھی خلاف نہیں  تھا۔ اسے  کمپیوٹر گھر لانے  میں  کوئی اعتراض نہیں  تھا۔ لیکن بیوی اس کے  بے  حد خلاف تھی۔

’اس گھر میں  کمپیوٹر نہیں  آئے  گا۔ اگر گھر میں  کمپیوٹر آ گیا رو یہ لڑکا پڑھنا لکھنا چھوڑ کر رات دن کمپیوٹر گیمس کھیلنے  میں  مصروف رہے  گا۔ اس کی پڑھائی کا نقصان ہو گا۔۔ ‘‘

اس لیے  کمپیوٹر گھر تو نہیں  آ سکا لیکن اسے  محسو س ہوا گھر میں  کمپیوٹر کے  بجائے  اس سے  خطرناک ایک چیز آ گئی ہے۔

 اس کا سیل فون۔

 اس کے  پاس ایک اچھا موبائل فون تھا۔ وہ جب بھی گھر آتا تھا اور اس کا بیٹا گھر میں  ہوتا تھا۔ تو جھپٹ کر اس کا موبائل لیتا تھا اوراس کے  موبائل میں  گیمس کھیلنے  لگتا تھا۔ اس کے  موبائل میں  کتنے  گیم ہیں۔ اور ان کو کس طرح کھیلا جاتا ہے  اسے  اس بات کا علم نہیں  تھا لیکن اسے  اس بات کا علم تھا اس کا بیٹا آئے  دن موبائل سروس دینے  والوں  کی ویب سائٹ یا دیگر ویب سائٹ سے  نئے  گیم ڈاؤن لوڈ کر کے  انھیں  کھیلتا تھا جس کی وجہ سے  اکثر اسکے  سیل فون کا بیلنس کم ہو جاتا تھا۔

ان کی بڑی عجیب زندگی تھی۔

ایک چھت کے  نیچے  وہ رہتے  تھے۔ لیکن ہر کسی کی الگ دنیا تھی۔

وہ ایک دوسرے  کے  لیے  لازم و ملزوم تھے  لیکن ان کے  خیالات کہیں  بھی ایک دوسرے  سے  نہیں  ملتے  تھے۔

بیٹے  کی اپنی الگ دنیا تھی۔ وہ جو حرکتیں  اور باتیں  کرتا تھا اسے  وہ ایک آنکھ نہیں  بھاتی تھیں۔

بیوی کی الگ دنیا تھی۔ ٹی وی کے  سیریل، کپڑے،زیورات سیر سپاٹا سہیلیاں  وغیرہ۔

اور اس کی ایک الگ دنیا تھی۔

اصول، آدرش، روایتوں،علم ریاضت کی دنیا۔

ان کا بیوی اور بیٹے  کی زندگی میں  کوئی مقام نہیں  تھا۔

لیکن پھر بھی وہ ایک گھر میں  ایک چھت کے  نیچے  جی رہے  تھے۔

سمجھوتے  کر کر کے، یا ایک دوسرے  سے  بالکل لاتعلق سے  ہو کر ایک دوسرے  کے  جذبات، احساسات، خیالات کو بنا سمجھے۔

وہ جب بھی بیٹے  سے  کہتا۔

’’بیٹا ایک کہانی سنو۔ ‘‘

بیٹا جواب دیتا تھا۔

’ڈیڈی میرے  پاس کہانی سننے  کے  لیے  وقت نہیں  ہے۔ مجھے  کہانی سننے  میں  کوئی دلچسپی نہیں  ہے۔۔ مجھے  کہانی سننے  میں  مزہ نہیں  آتا ہے۔۔۔ ‘‘

تو اسے  محسوس ہو تا جس کام میں  اس کے  بیٹے  کو کوئی دلچسپی نہیں  ہے۔ اسے  اس پر وہ کام کرنے  کے  لیے  زور ڈالنا نہیں  چاہئے۔

کہانی دکھانے  کا کام ٹی وی، ویڈیو، کمپیوٹر،موبائل کر رہے  ہیں۔ تو انھیں  اپنا کام کرنے  دینا چاہئے  آ ج کے  دور میں  جب وہ دادا، دادی، نانا، نانی،،چاچا، چاچی بن گئے  ہیں  اور بچوں  کو کہانیاں  سنانے  کے  بجائے  دکھا رہے  ہیں۔

تواسے، اس جیسے  انسانوں  کو بزرگ بننے  کی کیا ضرورت ؟

بزرگوں  کا کام شاید مشینوں  کو سونپا جا چکا ہے۔

***